Al-Mutaffifin 83:16

Al-Mutaffifin · from ayah 16

83:16

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ ۟ؕثُمَّ اِنَّهُمۡ لَصَالُوا الۡجَحِيۡمِؕ

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then indeed, they will [enter and] burn in Hellfire.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:16

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان کو دوزخ میں داخل ہونا پڑے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بیشک وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں یقینا داخل ہونے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر یقینا وہ جہنم میں گرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ جہنم میں پڑنے والے بنیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر انہوں نے بہرحال داخل ہونا ہے دوزخ (کی اس دہکتی بھڑکتی آگ) میں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and then they shall enter Hell,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then they will have to enter the Hell.

— Muhammad Taqi Usmani

Then they will have to enter the Hell.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then verily, they will indeed enter the burning flame of Hell.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then lo! they verily will burn in hell,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then indeed, they will [enter and] burn in Hellfire.

— Saheeh International

They will suffer the heat of fire

— Muhammad Sarwar

Then most surely they shall enter the burning fire.

— Muhammad Habib Shakir

Then verily they will be roasted into the Scorch.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 83:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–17

انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–17

سورة الْمُطَفِّفِيْن 8 یعنی دیدار الہی کا جو شرف نیک لوگوں کو نصیب ہوگا اس سے یہ لوگ محروم رہیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، القیامہ، حاشیہ 17۔)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

(آیت) كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ، یعنی قیامت کے روز یہ کفار فجار اپنے رب کی زیارت سے محروم پس پردہ روک دیئے جاویں گے، یہ انکے اس عمل کی سزا ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں حق کو نہیں پہچاناتو اب اپنے رب کی زیارت کے قابل نہیں رہے۔ حضرت امام مالک ؒ اور شافعی ؒ نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین اور اولیا اللہ کو حق تعالیٰ کی زیارت ہوگی ورنہ پھر کفار کے محبوب رہنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوتا۔ فائدہ بعض اکابر علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت سے حق تعالیٰ کی محبت پر مجبور ہے اسی لئے دنیا کے عام کفار و مشرکین چاہے کتنے ہی کفر و شرک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

پھر وہ جہنم میں پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔ ’ثُمَّ‘ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات ان سے خاص اہتمام کے ساتھ کہی جائے گی اور مقصود اس سے ان کی تفضیح ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کی پورے شد و مد سے مخالفت کی اب اس کو دیکھ لو اور اس کا مزا چکھو!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–18

18۔ 1 عِلَیِئیْنُ ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–17

کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–18

9 یعنی ان بدمعاشوں کا اور نیکوں کا ایک انجام ہرگز نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ ثُمَّ اِنَّہُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ۔ } ”پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔“ اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مرحلہ دوزخ میں داخلے سے پہلے کا ہے ‘ یعنی دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جانے کا واقعہ میدانِ حشر میں ہی رونما ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

10 اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونے کی نعمت صرف اہل جنت کو حاصل ہوگی اور لذت و سرور کے لحاظ سے یہ نعمت جنت کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی اور جب اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا تو جنتی لوگ بس ادھر ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ جو لوگ روز آخرت کے منکر تھے انہیں یہ نعمت کبھی میسر نہ ہوسکے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

6۔ (اور یہ دیدار حق سے محجوبی بجائے خود ایک بہت بڑی سزا ہے، جس کا اندازہ کچھ اسی دن ہوگا) یہاں محجوبون مقدم ہے، اور داخلہ جہنم مؤخر ثم کے تحت میں اس سے عارفوں نے نکتہ یہ پیدا کیا ہے کہ اصل سزا دوزخ نہیں بلکہ دیدار الہی سے محرومی ہی ہے اور دوزخ محض اس کا نتیجہ ہے۔ ثم بعد کو نھم معجزبین عن ربھم الداخلون النار (مدارک) آیت سے یہ استنباط بھی کیا گیا ہے کہ مومنین کو رؤیت باری ہوگی ورنہ کافروں کے لیے بطور سزا اس نعمت سے محرومی کے کوئی معنی نہ تھے۔ قال الزجاج فی الایۃ دلیل علی ان ال مومنین یرون ربھم والالا یکون التخصیص مفیدا (مدارک) فلا یرونہ بخلاف ال مومنین (بیضاوی) قال الامام ابو عبداللہ الشافعی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم انھم لصالوا الجحیم . پھر دیدار سے محروم ہونے کے بعد وہ ضرور جحیم میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

ہرگز ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے روز جزا کو جھٹلانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یا یہ کہ گناہ پر گناہ کرنے سے قلب سیاہ ہوگیا اور وہی قلب کا زنگ آلود ہونا ہے۔ ان کے اعمال و اقوال کفریہ کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں یہ تکذیب کرنے والے تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کی زیات سے روک دیے جائیں گے پھر یہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–17

کلا انھم عن زبھم…: یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی ، ان کا یہ کہنا ہرگز درست نہیں، انہیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بکلہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے معجوب ہوں گے اور اہل ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بےمعنی ہوجاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا :(وجوہ یومئذ ناصرۃ، الی ربھا ناظرۃ) (القیامۃ : 22، 23)”کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ حقیقت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم انھم لصالوالجحیم۔ وہ اس میں رہیں گے اس سے باہر نہ نکلیں گے فرمایا، جب بھی ان کے چمڑے پک جائیں گے ہم ان کے چمڑے بدل دیں گے فرمایا، اور جب کبھی وہ آگ ٹھنڈی ہوگی ہم اس کو مزید بھڑکادیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے جحیم جہنم کا چوتھا دروازہ ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–17

17۔ عبدبن حمید نے ابو ملیکہ الزیادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا انہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون۔ ہرگز نہیں بیشک وہ اپنے رب سے اس دن روک دئیے جائیں گے کہ اس سے مراد ہے احسان جتانے والے تکبر اور غرور کرنے والے اور وہ جو لوگوں کے مال کھانے کے لیے جھوٹ قسمیں کھاتے ہیں واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ انهُمْ : پھر بیشک یہ لوگ ][ لَصَالُوا الْجَــحِيْمِ : یقینا گرنے والے ہیں جہنم میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–17

اس کے بعد فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (یعنی ہرگز نہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہ ہو) ﴿ بَلْٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ (بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے) برے اعمال میں کفر و شرک بھی ہے اور دیگر معاصی بھی ہیں اس زنگ کی وجہ سے حق بات کرنے اور حق سمجھنے سے بچتے ہیں اور عناد پر اصرار کرتے ہیں۔ گناہوں کا جو زنگ ہے وہ اہل ایمان کے قلوب کا بھی ناس کھود تیا ہے۔ حضرت اغر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب مومن بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے پس اگر توبہ و استغفار کرلیتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر توبہ و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–17

7:۔ ” کلا انہم “ کلا بمعنی حقا ہے۔ یقینا کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محجوب و محروم ہوں گے پھر ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا اور ان سے کہا جائیگا یہی ہے وہ جہنم جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–17

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِنَّہُمْ لَصَالُوا الْجَــحِيْمِ۝ 16 ۭ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–17

ترکیب ¦ کلا روع و زجر للمعتدی الاثیم وقال الحسن بمعنی حقا ماکانوا یکسبون والعائد محذوف ای یکسبونہ والجملۃ فاعل ‘ ران رین ریم و زنگ گرفتن ومنہ قولہ تعالیٰ بل ران الخ ای غلب وقیل ھو الذنب علی الذنب حتی یسود القلب (صراح) لمحجوبون خبر ان ‘ عن ربہم متعلق بہ یومئذ ظرف لہ ثم انہم ثم لتراخی الرتبۃ ھذا الذی الخ الجملۃ مفعول مالم یسمی فاعلہ لیقال۔ تفسیر ¦ ان حد سے بڑھنے والے گنہگاروں کے خیال کو باطل کرتا ہے۔ بقولہ کلا کہ جو تم سمجھے ہوئے ہو وہ ہرگز نہیں پھر ان کے اس انکار اور آیات کو پہلوں کی کہانیاں کہنے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال بل ران علیٰ قلوبہم ماکانو یکسبون کہ ان کے دلوں پر ان کے اعمالِ بد کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

ثُمَّ اِنَّھُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ ۔ ثُمَّ یُقَالُ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُـکَذِّبُوْنَ ۔ (المطففین : 16، 17) (پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ ) ان بدنصیبوں کا انجام یہ ان بدنصیبوں کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے، یعنی انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور جب وہ اپنی سزا کی شدت پر چیخ و پکار کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب کیوں چیختے ہو، یہی تو وہ چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ دونوں آیتوں میں ثُمَّ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات بطورخاص ان سے کہی جائے گی تاکہ ان کی سرعام رسوائی کا سامان ہو کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–17

فہم القرآن ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔ دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : ثُمَّ اِنَّھُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ (پھر وہ دوزخ میں داخل ہونگے) دیدار سے محرومی کے بعد آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–17

7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–17

(ثُمَّ اِنَّهُمْ ) پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقینا ( لَصَالُوا الْجَــحِيْمِ ) جہنم میں جھونکے جائیں گے پھر زجر وتوبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا (هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ) یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے۔ 1۔ جہنم کا عذاب۔ 2۔ زجر وتوبیخ اور ملامت کا عذاب۔ 3۔ اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہوگا۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے وہ تمام لذات سے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–17

(12) مکذبین کی تذلیل و تفضیح کے ایک منظر کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ان کو بہرحال دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، پھر وہاں پر ان سے کہا جائے گا کہ " یہی ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، اور تم لوگ حق کی دعوت کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہورہے تھے اس طرح ان لوگوں کے درد و الم میں مزید از مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ مارے حسرت و افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کہ کاش کہ ہم ایمان لائے ہوتے، ہم نے حق کو قبول کیا ہوتا، مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–20

ف 7 یعنی ایک دفتر ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور کام درج ہیں ضحاک مجاہد قتادہ اور دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ علیون سے مراد ساتواں آسمان ہے جہاں مومنوں کی روحیں لے جائی جاتی ہیں بعضے کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مقرب فرشتے ہیں کیونکہ اس کے لفظی معنی اوپر والے کے ہیں واللہ اعلم (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:16) ثم انھم لصالوا الحجیم : ثم حرف عطف ہے ماقبل سے ما بعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ خواہ یہ متاخر ہونا بالذات ہو یا باعتبار مرتبہ کے ہو یا وضع کے لحاظ سے۔ یہاں بلحاظ مرتبہ آیا ہے۔ پھر جہنم میں داخل ہوں گے (جو ان کے لئے دیدار الٰہی کی محرومی سے بڑھ کر عذاب ہوگا) صالوا صلی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ مضاف ہے اضافت کی وجہ سے نون جمع حذف ہوگیا ہے اصل میں صالون تھا۔ الجحیم مضاف الیہ۔ صالوا الجحیم : دوزخ میں داخل ہونے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–17

(ف 1) یعنی اس انکار وتکذیب کے انجام سے بےفکرنہ ہوں وہ وقت ضرورآنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ وتعالی کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بدبخت کافر خدا کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے اور یہ بدبخت کافر دوزخ میں جانے کے بعد طرح طرح کا ان پر عذاب ہوگا، اور ان کے قائل کرنے کے لیے گھڑی گھڑی ان سے فرشتے یہ کہیں گے کہ جس عذاب کے تم لوگ دنیا میں منکر تھے تو اب اس کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–16

ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–17

ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بھر بلا شبہ وہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے 16 ؎ ( صالوا) کی اصل ص ل ی ہے ص ل و نہیں ۔ اور اس مادہ کے بہت سے الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اس کے معنی ہیں گھسنے والے ، داخل ہونے والے صلی سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ۔ اضافت کے سبب نون جمع حذف ہوگا ہے ۔ اصل میں صالون تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ انجام کار ان کو جب رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے روک دیا جائے گا تو پھر ان کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور دوزخ پر لے جا کر ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا اور یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوگا نہ کہ ظلما ً دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (No! Indeed they will be screened off from their Lord on that Day...83:15). This will be their punishment for their failure to recognise Allah in the world. The unbelievers will remain deprived of seeing their Lord on the Day of Judgment, and a screen will fall between them and their Lord. Imams Shafi` i and Malik said that in this verse is a proof that the believers and friends of Allah will be able to see Him. Otherwise, the wording that the unbelievers will be screened off from their Lord on that Day will have no real sense. Special…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

8 That is, these people will remain deprived of the vision of Allah with which the righteous will be blessed. (For further explanation, see E.N. 17 of Al - Qiyamah) .

Read the full tafseer →