Al-Mutaffifin 83:14

Al-Mutaffifin · from ayah 14

83:14

كَلَّا بَلْ ٚ— رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ۟كَلَّا‌ بَلۡ ۜ رَانَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! Rather, the stain has covered their hearts of that which they were earning.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:14

ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز نہیں ! بلکہ جو عمل یہ کرتے رہے ہیں اس نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ایسا) ہرگز نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر ان اَعمالِ (بد) کا زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے (اس لیے آیتیں ان کے دل پر اثر نہیں کرتیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہر گز یہ بات نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی اپنی اس کمائی نے جو یہ کرتے رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزاء وسزا نہ ہو) اصل یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے کرتوتوں کا زنگ بیٹھ گیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ! بلکہ (اصل صورت حال یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو یہ جو اعمال بد کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

No indeed! The truth is that their hearts have become rusted on account of their evil deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No! But that which they used to commit has covered their hearts with rust.

— Muhammad Taqi Usmani

No! But that which they used to commit has covered their hearts with rust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! But on their hearts is the Ran (covering) which they used to earn.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but that which they have earned is rust upon their hearts.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! Rather, the stain has covered their hearts of that which they were earning.

— Saheeh International

They will never have faith. In fact, their hearts are stained from their deeds.

— Muhammad Sarwar

Nay! rather, what they used to do has become like rust upon their hearts.

— Muhammad Habib Shakir

By no means!' Aye! encrusted upon their hearts is that which they have been earning.

— Abdul Majid Daryabadi

By no means! but on their hearts is the stain of the (ill) which they do!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–17

انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُطَفِّفِيْن 7 یعنی جزا و سزا کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لیے جو بات سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے۔ اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم، ابن ابی حاتم، ابن حبان وغیرہ)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ، ران رین سے مشتق ہے جس کے معنے زنگ اور میل کے ہیں مطلب یہ ہے کہ انکے دلوں پر انکے گناہوں کا زنگ لگ گیا ہے اور جس طرح طرح زنگ لوہے کو کھا کر مٹی بنا دیتا ہے اسی طرح ان گناہوں کے زنگ نے ان کے دل کی اس صلاحیت کو ختم کردیا جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر اسنے توبہ کرلی اور اس پر نادم ہو کر آگے اپنے عمل کو درست کرلیا تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور دل اپنی اصلی حالت پر منور ہوجاتا ہے اور اگر اس نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تکذیب کی اصل علت: یہ قرآن نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان بددماغوں کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں۔ یہ ہیں تو حقائق جن کے حق میں آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے ناقابل انکار دلائل موجود ہیں لیکن ان کے اعمال کا زنگ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے کہ اب حق کی کوئی کرن ان کے اندر نفوذ ہی نہیں کرتی۔ ’مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘ سے ان کے اسی طرح کے اعمال کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر عدوان اور اثم کے تحت ہم کر چکے ہیں اور جن کے متعلق قرآن کی شہادت یہ ہے کہ جو ان کے مرتکب ہوتے ہیں وہ جزا و سزا کی تکذیب کا کوئی بہانہ ضرور ڈھونڈھتے ہیں۔ ’بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ‘ میں اس سنت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

(3) یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل ؑ امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔ (4) یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑگئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے " بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو وہ سیاہی دور کردی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ” ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے “۔ یعنی وہ جن گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں انہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے۔ اور جب کوئی شخص معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل زنگ پکڑ کر سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر ایک دبیز پردہ پڑجاتا ہے اور یہ دل نور سے چھپ جاتا ہے اور اس کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ احساس ہی ختم ہوجاتا ہے۔ امام ترمذی اور نسائی نے محمد ابن عملان سے انہوں نے قنقاع سے انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ہماری آیتوں میں کچھ شک وشبہ کا موقع نہیں۔ اصل یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت و مزاولت سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گئے ہیں۔ اس لئے حقائق صحیحہ کا انعکاس ان میں نہیں ہوتا۔ حدیث میں فرمایا کہ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔ اگر توبہ کرلی تو مٹ گیا ورنہ جوں جوں گناہ کرتا جائے گا وہ نقطہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گا۔ تاآنکہ قلب بالکل کالا سیاہ ہوجائے کہ حق و باطل کی تمیز باقی نہ رہے۔ یہ ہی حال ان مکذبین کا سمجھو کہ شرارتیں کرتے کرتے ان کے دل باکل مسخ ہوچکے ہیں۔ اسی لئے آیات اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ کَلَّا بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ } ”نہیں ! بلکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔“ اس ’ زنگ ‘ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے ‘ اس گناہ سے باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کے دل کا یہ داغ صاف ہوجاتا ہے ‘ لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ داغ بڑھتے جاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں۔“ مسند احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ گناہگار اہل ِایمان کے دلوں کے اندر ان کی روحوں کا ”نور“ تو موجود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 گناہ کرنے سے دل پر سیاہ نقطہ پڑنا :۔ اصل بات یہ نہیں کہ ہماری آیات میں کوئی شک و شبہ ہے یا ان میں تاثیر کی قوت نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ گناہ کر کرکے ان کے دل مسخ اور زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ ان میں حق و باطل کو پرکھنے کی تمیز ہی باقی نہیں رہ گئی۔ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے استغفار کرے اور توبہ کرلے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے۔ اور یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (جس سے ان کی استعداد ہی قبول حق کی فاسد ہوگئی ہے۔ اور اسی سے وہ انکار وتکذیب پر براہ عناد تلے رہتے ہیں۔ ) آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ آدمی اپنی اصل وسرشت سے متمرد ومنکر نہیں، بلکہ اس کے ارادی واختیاری اعمال ہی اس کے دل کو تاریک اور چشم بصیرت کو بےنور اور قبول حق سے دور کردیتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ظلمت قلب جس کا ذکر صوفیہ کے ہاں بکثرت آتا ہے اس کی سند اسی آیت میں ملتی ہے ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–36

کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی) ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . یہ تکذیب اور قول مذکور (اساطیر الاولین) سے بازداشت ہے۔ مقاتل نے کہا : کَلاَّ کا اس جگہ معنی ہے : لا یؤمنون۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔ بل . اس لفظ سے کلام سابق سے اعراض کر کے یہ بات بتائی ہے کہ ادراکِ حق اور باطل کی تمیز کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے (یعنی پہلے صرف یہ کہا گیا تھا کہ وہ یوم جزا کی تکذیب کرتے ہیں پھر کلاَّ کہہ کر ان کو اس تکذیب سے روکا گیا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ لوگ صرف تکذیب ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں پر بداعمالی کا زنگ چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے ادراکِ حق کی قابلیت ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے) ۔ ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون . رَیْنکا معنی ہے غلبہ۔ رَان الخمر علٰی قلبہٖ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

ہرگز ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے روز جزا کو جھٹلانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یا یہ کہ گناہ پر گناہ کرنے سے قلب سیاہ ہوگیا اور وہی قلب کا زنگ آلود ہونا ہے۔ ان کے اعمال و اقوال کفریہ کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں یہ تکذیب کرنے والے تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کی زیات سے روک دیے جائیں گے پھر یہ دوزخ میں داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

14(1) کلا بل ران علی قلوبھم…:”کلا“ ہرگز نہیں“ مطلب یہ ہے کہ اس جھٹلانے والے کے آیات کو جٹھلانے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں یا ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ ہے، بلکہ اس کی بد اعمالیاں سیاہ زنگ کی صورت میں اس کے دل پر غالب آچکی ہیں، اسے نہ حق حق نظر آتا ہے نہ باطل باطل۔ مستشرقین اور منکرین حدیث کی طرح پہلے منکرین کا بھی یہی حال تھا کہ اگر قرآن میں کوئی نئی بات آتی تو کہتے :(ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین) (القصص : 36)”ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں سنی ہی نہیں۔“ اور اگر وہ بات پہلی کتابوں میں موجود ہوتی تو کہتے یہ وہاں سے سرقہ کیا گیا ہے، یعنی ”اساطیر الاولین“ کہ یہ تو پہلوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

کلا بل ران۔۔ تا۔۔۔ تکذبون۔ کل بل ران، علی قلوبھم ماکانو ایکسبون۔ کلایہ ردع اور جھڑکنے کے لیے ہے یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں نہیں، حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی حقا ہے یعنی یقینا ان کے دلوں پر زنگ چڑھ چکا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ترمذی شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بندہ جب خطا کرتا ہے اس کے دل میں سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے بس وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

گناہ کی وجہ سے دل کا سیاہ ہونا 1۔ احمد وعبد بن حمید والحاکم والترمذی وصححہ والنسائی وابن اماجہ وابن جریر وابن حبان وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ اگ وہ توبہ کرلے اور باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ آیا تو وہ سیاہی زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے سارے دل پر چڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ زندگ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا آیت کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے کاموں سے ان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا بَلْ ۫ رَان عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ہرگز نہیں ! بلکہ چھا گیا ان کے دلوں پر ][ مَا كَانوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ جو یہ لوگ کماتے تھے ] ر ی ن (ض) رَیْنًا کسی کا کسی پر غالب آنا۔ چھا جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–17

اس کے بعد فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (یعنی ہرگز نہیں کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہ ہو) ﴿ بَلْٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 0014﴾ (بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے) برے اعمال میں کفر و شرک بھی ہے اور دیگر معاصی بھی ہیں اس زنگ کی وجہ سے حق بات کرنے اور حق سمجھنے سے بچتے ہیں اور عناد پر اصرار کرتے ہیں۔ گناہوں کا جو زنگ ہے وہ اہل ایمان کے قلوب کا بھی ناس کھود تیا ہے۔ حضرت اغر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب مومن بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے پس اگر توبہ و استغفار کرلیتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر توبہ و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” کلا بل “ یہ اس قول باطل سے ردع ہے۔ ان کو قرآن کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں۔ ” بل “ ما قبل سے ترقیی کے لیے ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کی بد اعمالیں، کفر و شرک اور فسق و فجور کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ چکا ہے اور ان میں حق بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–17

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا بَلْ۝ 0 ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝ 14 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–17

ترکیب ¦ کلا روع و زجر للمعتدی الاثیم وقال الحسن بمعنی حقا ماکانوا یکسبون والعائد محذوف ای یکسبونہ والجملۃ فاعل ‘ ران رین ریم و زنگ گرفتن ومنہ قولہ تعالیٰ بل ران الخ ای غلب وقیل ھو الذنب علی الذنب حتی یسود القلب (صراح) لمحجوبون خبر ان ‘ عن ربہم متعلق بہ یومئذ ظرف لہ ثم انہم ثم لتراخی الرتبۃ ھذا الذی الخ الجملۃ مفعول مالم یسمی فاعلہ لیقال۔ تفسیر ¦ ان حد سے بڑھنے والے گنہگاروں کے خیال کو باطل کرتا ہے۔ بقولہ کلا کہ جو تم سمجھے ہوئے ہو وہ ہرگز نہیں پھر ان کے اس انکار اور آیات کو پہلوں کی کہانیاں کہنے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال بل ران علیٰ قلوبہم ماکانو یکسبون کہ ان کے دلوں پر ان کے اعمالِ بد کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَلاَّ بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (المطففین : 14) (ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ) تکذیب کا اصل سبب رَانَ ، رین سے مشتق ہے۔ اس کے معنی زنگ اور میل کے ہیں۔ یعنی ان کے انکارِ قیامت کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس انکار کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ حدود کی پامالی، حق شکنی اور حق تلفی پر مبنی جن اعمال کے عادی ہوچکے ہیں اور انھیں چھوڑنے کا تصور بھی ان کے نزدیک تکلیف دہ ہے ان کے ان اعمال کا زنگ اور میل ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب حق کی کوئی بات ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–17

فہم القرآن ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔ دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ( ہرگز ایسا نہیں بلکہ ان کے اعمال کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے) کلاؔ حد سے بڑھنے والے گناہ گار کو اس بات پر دھمکایا گیا۔ بل ؔ اس میں ان کے قول کی نفی ہے۔ قراءت : بل پر حفص چھوٹا وقف یعنی سکتہ کرتے ہیں۔ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ان کے اعمال نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے یعنی وہ اعمال ان کے دلوں پر غالب آگئے یہاں تک کہ ان کے دل اس میں ڈوب گئے ما کانوا یکسبونؔ سے معاصی اور گناہ مراد ہیں۔ ران کے متعلق اقوال رین کیا ہے ؟ قول حسن (رح) : گناہ پر گناہ کرنے سے دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ قول ضحاک (رح) : الرین دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” کلا “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ایمان نہ لائیں گے۔ پھر استئناف کرتے ہوئے فرمایا ” بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ پس اگر توبہ کرے اور کھینچے اور استغفار کرے تو اپنے دل کو اس سے صاف (مانجھ) کردیا اور اگر گناہ زیادہ کیے تو نکتے زیادہ ہوں گے حتیٰ کہ اس کے دل پر غالب ہوجائیں گے۔ پس یہ ران ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ ” کلابل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “ اور ان کی اصل غلبہ ہے۔ کہا جاتا ہے ” رانت الخمر علی عقلہ ترین رینا وریونا “ جب شراب کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–17

7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–15

اس لیے فرمایا (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا) جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔ جو حق پر اور اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور کہنے لگا یہ تو (اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ) پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا کیونکہ اللہ تعلی نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) مکذبین کے دلوں کے زنگ کا ذکرو بیان، والعیاذ باللہ جل وعلا : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور مکذبین کی تکذیب کی اصل علت کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان کی اپنی کمائی کا "۔ اور دلوں کے اس زنگ نے ان کو ایسا تباہ و برباد کردیا ہے کہ یہ لوگ حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کی اہلیت و صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم تو اس سے اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے، پھر اگر اس نے سچی توبہ سے اس کو معاف کرالیا تو وہ داغ صاف ہوجاتا ہے ورنہ اس کی سیاہی بڑھتی اور پھیلتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی درصال وہ قرآن کو پچھیل لوگوں کی کہانیاں اس لئے بتاتے ہیں کہ وہ گناہ کرتے کرتے ان کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ ان کے دلوں کو زنگ لگ گیا ہے اب ان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ صحیح سوچیں اور معقو بات زبان پر لائیں۔ دلوں کو زنگ لگ جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ گناہ کرتے کرتے سیاہ ہوگئے۔ ان (زنگ) کی تفسیر حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت میں مرفوعاً مروی ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:14) کلا۔ ہر متعداثیم کے لئے حرف ردع و توبیخ ہے یعنی ہر معتداثم کو اس تکذیب سے اور اس قول (اساطیر الاولین) سے باز رہنے کے لئے سرزنش ہے ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بل : حرف اضراب ہے۔ یہاں پر اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے کہ ما سبق برائیاں تو ان میں ہیں ہی۔ لیکن مابعد کی برائیاں اس سے بھی بڑی کر ہیں ۔ یعنی یوم جزاء کی تکذیب اور آیات الٰہی کو اساطیر الاولین کہنا تو ان کے گناہ کے پلڑے میں تھا ہی اب اس سے بڑھ کر ایک اور بدتر گناہ ان کے میزان عمل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ان کے کردہ گناہوں سے ان کے دل زنگ آلود ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ظلمت و عصیاں کے تاریک گڑھوں میں گرتے ہوئے نیچے ہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–14

انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔ (ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–26

[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–16

ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) ہرگزایسا نہیں بلکہ ان کے قلوب پر ان کی ان اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے جو یہ کیا کرتے تھے - یعنی یہ بات نہیں کہ یہ قرآن بےسند اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں بلکہ ان بدبختوں نے جو گناہ کیے ہیں اور جو گناہ یہ کیا کرتے تھے اس نے زنگ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ پہلے گناہ کرنے پر ایک سیاہ نقط قلب پر پیدا ہوجاتا ہے اگر گنہگار توبہ کرلے تو وہ دور ہوجاتا ہے نہیں تو بڑھتے بڑھتے تمام دل سیاہ ہوجاتا ہے اور شاید بدبختی اور مریض کی یہ ابتدائی حالت ہے یہی حالات ہیں جو بڑھتے بڑھتے قبر تک پہنچ جاتے ہیں ہم نے اس کو مریض کی ابتدائی حالت سے تعبیر کیا ہے اور کئی مرتبے اس پر کافی بحث کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–17

ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا 14 ؎ ( ران) کا اصل مادہ ر د ن ہے جس کے معنی ہیں اس نے رنگ پکڑا ( ضرب) زین سے جس کے معنی زنگ آلودہ ہونے اور میل پکڑنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کا استعمال فقط ایک ہی بار اس جگہ ہوا ہے اور اس مادہ کا اور کوئی لفظ قرآن کریم میں شامل نہیں ہے۔ جب ایک کام باپ دادا سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور سب لوگ رواجا ً اور رسما ً اس کو کرتے ہیں تو اس کے متعلق کبھی کسی نے یہ کوشش نہیں کی ، اس کام کو دیکھیں ، اس پر غور کریں کہ آیا ایسا کرنا فی نفسہٖ اچھا کام ہے یا برا ؟ نہ ہی اس کی اس تحقیق کی ضرورت کبھی کسی نے محسوس کی اور پھر جب اس کلام کے خلاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

sins has destroyed their innate capacity to distinguish right from wrong. Sayyidna Abu Hurairah ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said: "Surely, when the servant commits a sin, a black dot appears on his heart. If he repents from it, his heart is polished clean. However, if he increases in the sin, the blackness continues to increase. That is the statement of Allah: كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم 'No! But that which they used to commit has covered their hearts with rust. [ 83:14] '." [ Baghawi, Ahmad, Tirmidhi, Nasai, Ibn Majah, Ibn Hibban and al-Hakim have recorded it, and Tirmidhi…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, they have no good reason for regarding the meting out of rewards and punishments as unreal. What has made them say this, is that their hearts have become rusty because of their sins; therefore, a thing which is thoroughly reasonable appears unreal and unreasonable to them. The explanation of this rust as given by the Holy Prophet (upon whom be peace) is as follows: "When a servant commits a sin, it marks a black stain on his heart. If he offers repentance, the stain is washed off, but if he persists in wrongdoing. it spreads over the whole heart." (Musnad Ahmad, Tirmidhi, Nasa'i,…

Read the full tafseer →