Explained with ayahs 7–17
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْمُطَفِّفِيْن 6
یعنی وہ آیات جن میں روز جزا کی خبردی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ، مرقوم کے معنے اس جگہ مختوم کے ہیں۔ یعنی مہر لگی ہوئی۔ امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں، بلکہ اس سے پہلے جو کتب الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے، معنے یہ ہیں کہ کفار و فجار کے اعمالنامے مہر لگا کر محفوظ کردئے جاویں گے کہ ان میں کسی کمی بیشی اور تغیر کا امکان نہ رہے گا اور انکے محفوظ کرنے کی جگہ سجین ہے یہیں کفار کی ارواح کو جمع کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →یہ اس طرح کے مکذبین کے طریقۂ تکذیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ لوگ ایک واضح حقیقت کی تکذیب اپنے ضمیر کے بالکل خلاف کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی جگہ محض اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرت کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں: چلو ہٹو، سن لیا، اس میں ہے کیا، یہ تو محض اگلوں کے فسانے ہیں!
’اٰیٰتٌ‘ سے مراد وہ دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قیامت اور جزا و سزا کے حق میں ان کو قرآن کے ذریعہ سے سنائی گئیں۔ ان دلیلوں کا بیان پچھلی سورتوں میں بھی ہوا ہے اور آگے کی سورتوں میں بھی آ رہا ہے۔ ساتھ ہی ان میں ان قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
13۔ 1 یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم…
Read the full tafseer →6 یعنی قرآن اور نصیحت کی باتیں سن کر کہتا ہے ایسی باتیں، لوگ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ وہ ہی پرانی کہانیاں اور فرسودہ افسانے انہوں نے نقل کردیے۔ بھلا ہم ان نقلوں اور کہانیوں سے ڈرنے والے کہاں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 13{ اِذَا تُـتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“
یعنی یہ تو وہی باتیں ہیں جو پچھلے زمانے کے لوگوں سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔
Read the full tafseer →8 بالآخر اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب اسے اخروی عذاب وثواب سے متعلق اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے اجی چھوڑو ان باتوں کو۔ یہ تو وہی پرانی باتیں ہیں جنہیں سن سن کر ہمارے کان بھی پک گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
4۔ یعنی رسول کی تکذیب پر مصر اور دلیر تو وہی لوگ ہیں، جو فسق وفجور کی کثرت وشدت سے اپنی اخلاقی صلاحتیوں کو پہلے ہی برباد کرچکے ہیں۔ (آیت) ” قال اساطیر الاولین “۔ قرآن کے مکذبین ومنکرین میں بھی ایسے بہت سے گزرے ہیں اور اب بہت سے ایسے ہیں جو اس کی آیتوں اور ان کے مضامین کو سن کر بول اٹھتے ہیں کہ یہ بےسند اور بےبنیاد باتیں تو اگلے صحیفوں اور پرانے نوشتوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔ گویا حقانیت قرآں کے خلاف یہ بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کی بیان کی ہوئی بعض روایتیں کسی نہ کسی بگڑی ہوئی شکل میں پہلے ہی بیان ہوچکی ہیں ! عجب مسخ شدہ ذہینت منکرین قرآن کی ہر زمانہ میں رہی ہے۔ قرآن کوئی نئی تعلیم پیش کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
سجین کے معنی جیل یا قید خانہ کے ہیں، کتاب مرقوم میں اس کی تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجین سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں سزا پانے والے لوگوں کے اعمال نامے درج کئے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اذا تتلی علیہ ایاتنا قال اساطیر الاولین . جب اس کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو اپنی انتہائی نادانی اور
اعجاز قرآنی سے غافل ہونے کی وجہ سے یا اپنی غبادت اور دیدہ و دانستہ حق سے روگردانی کی وجہ سے کہتا ہے یہ تو گزشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی داستانیں ہیں۔ اساطیر جمع اسطور یا اسطار یا اسطر واحد بےترتیب ‘ غیر مر بوط باتیں۔ (قاموس)
صراح میں ہے اساطیر الاوّلین یعنی وہ باتیں جو گزشتہ لوگوں نے جھوٹ موٹ لکھ دی ہیں۔ اس جملہ سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ مکذب اس قدر حد سے بڑھ گیا ہے کہ عقلی و نقلی کوئی دلیل اس کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) جو کہ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حق سے گزرنے والا، دھوکا باز، فاجر ہو، جیسا کہ ولید بن مغیرہ جب اس کے سامنے قرآن مجید کے احکامات پڑھے جاتے ہیں تو وہ یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔”سجین“ ”سجن“ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ”السجین الدائم الشدید“ یعنی دائمی قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ”سجین“ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ”کتب مرقوم“ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و…
Read the full tafseer →اذاتتلی علیہ ایتنا قال اساطیرالاولین۔ عام قرات تتلی ہے ابوحیوۃ، ابوسماک، اشہب عقیلی، اور سلمی کی قرات اذا یتلی ہے، اساطیرالاولین سے مراد ان کی جھوٹی باتیں ہیں جن کو انہوں نے لکھا اور مزین کیا اس کا واحد اسطورۃ اور اسطارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
29۔ ابن المبارک نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سجین نیچے والی زمین ہے اور مرقوم سے مراد ہے لکھا ہوا۔ یعنی مرقوم سے مراد ہے۔ لکھی ہوئی کتاب۔
30۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب مرقوم سے مراد ہے کہ ان کیلیے شر لکھ دیا گیا۔
31۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لفی سجین سے مراد ہے کہ وہ بہت خسارہ پانے والے ہیں۔
32۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ فرشتہ بندے کے عمل کو لے کر بلندی کی طرف چڑھتا ہے وہ دکھائی دیتا ہے کہ ہاتھوں میں انتہائی فرحت ہے یہاں تک کہ وہ مقرر مقام تک پہنچ کر رک جاتا ہے…
Read the full tafseer →[اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا : جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اس کو ہماری آیتیں ][ قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : تو وہ کہتا ہے پہلے لوگوں کے افسانے ہیں ]
نوٹ۔ 5: آیت۔ 14 ۔ میں رَانَ کا لفظ رین سے مشتق ہے جس کے معنی زنگ اور میل کچیل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ لگ گیا ہے اور جس طرح زنگ لوہے کو کھا کر مٹی بنا دیتا ہے اسی طرح ان کے گناہوں کے زنگ نے ان کے دل کی اس صلاحیت کو ختم کردیا جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر اس نے توبہ کرلی تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور دل…
Read the full tafseer →﴿اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَؕ0013﴾ (جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بےسند باتیں اگلوں سے منقول چلی آتی ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔
حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
5:۔ ” ویل یومئذ “ زجر و تخویف۔ جس دن یہ دفتر اعمال پیش ہوگا یعنی (قیامت کے دن) اس دن جزاء و سزاء کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت و تباہی اور عذاب شدید ہوگا۔ ” وما یکذب بہ الخ “ یہ بھی سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی ہے کیونکہ وہاں مکذبین پر زجر تھا اور یہاں زجر کے علاوہ مکذبین کا بیان بھی ہے کہ تکذیب کس قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے ج وجہالت اور باپ دادا کی اندھی تقلید میں حد سے گذر چکا ہو اور شہوات نفسانیہ میں منہمک ہو کر ان کے نتائج بد سے غافل ہوچکا ہو۔ ” اذا تتلی علیہ الخ “ یہ شکوی ہے یہ برائی اور نفس پرستی میں اس قدر منہمک ہوتا ہے کہ خدا کی آیتوں میں ذرہ برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…
Read the full tafseer →اِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِ اٰيٰـتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 13
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب ¦ کلا الاکثرون علی انھا کلمۃ روع وتنبیہ ای لیس الامر ما زعمتم من انہ لاحساب ولا جزاء وقال ابو حاتم کلا ابتداء یتصل بما بعدہ علی معنی حقاوھو قول الحسن کتاب الفجار اسم ان لفی سجین خبرھا۔ وفی السجین قولان الاول وھو قول لجمہورانہ اسم علم علیٰ شیء معین فعلی ھذا فیہ اقوال عند الاکثر ھو الارض السابعۃ السفلی وھو قول ابن عباس وقیل جب 1 ؎ فی جہنم۔ والقول الثانی انہ مشتقف ہو فعیل من السجن بمعنی الجنس والتضیق کالفسیق من الفسق وھذا قول المبردد والزجاج وابی عبیدۃ وروہ الواحدی وقال صاحب الکشاف ان السجین فعیل من السجن ثم انہ ھھنا اسم علم منقول من وصف کحاتم وھو منصرف لانہ لیس فیہ الاسبب واحدوھو التعریف…
Read the full tafseer →اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (المطففین : 13)
(اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ )
مکذبین کا طریق تکذیب
قیامت اور روزجزاء چونکہ انسانی فطرت کی پکار اور اخلاقیات کا تقاضا ہے۔ اس لیے کوئی شخص بھی جو فطری سلامتی سے محروم نہیں ہوگیا اور اخلاق سے اس کا دامن بالکل خالی نہیں ہوگیا وہ قیامت کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس لیے جب بھی قرآن کریم کی وہ آیات جن میں قیامت اور روزجزاء کی خبر دی گئی ہے اور ان پر دلائل بھی دیئے گئے ہیں اور جن امتوں نے اس کا انکار کیا اور نتیجتاً اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مورد بنیں، ان کی تاریخ بیان کی جاتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔
دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…
Read the full tafseer →13 : اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جائیں تو یوں کہہ دیتا کہ یہ اگلوں کی بےسندباتیں منقول چلی آتی ہیں) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ اساطیر الاولین ؔ پہلے لوگوں کی باتیں۔ قول الزجاج (رح) : اساطیر اس کا واحد اسطورۃ ہے جیسے احدو ثۃ و احادیث بمعنی داستانیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 ۔” ویل یومئذ للمکذبین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اس لیے فرمایا (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا) جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔ جو حق پر اور اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور کہنے لگا یہ تو (اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ) پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا کیونکہ اللہ تعلی نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنہوں…
Read the full tafseer →(9) مکذبین کے طریقہ تکذیب کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مکذبین کے طریقہ تکذیب کی طرف اشارہ کے طور پر فرمایا گیا کہ " جو اللہ کی آیتوں کو پہلے لوگوں کے افسانے قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نہیں ہے مگر قصے کہانیاں اور افسانے پہلے لوگوں کی "۔ جن کو آسمانی وحی اور تنزیل کہہ کر پیش کیا جارہا ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں جو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں " چلو ہٹو " یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اور بس "۔ اس لئے ہم ان کو ماننے اور ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں، سو اس طرح ایسے لوگ پیغام حق و ہدایت کی اہمیت کو کم کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 4 یعنی من گھڑت قصے اور فرسودہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ اپنی جگہ بیٹھے بناتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(83:12) وما یکذب بہ الا کل معتد اثیم۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ یکذب مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تکذب (تفعیل) مصدر سے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یوم الدین ہے۔
الا کے متعلق علامہ سیوطی الاتقان فی علوم القران میں رقمطراز ہیں :۔ الرمانی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ الا کے وہ معنی جو اسے لازم ہیں یہ ہیں کہ وہ جس چیز کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے دوسری چیزوں کو چھوڑ کر اسی کا ہو رہتا ہے مثلاً اگر تم کہو کہ جاء فی القوم الا زیدا تو اس کلام میں تم نے زید کو نہ آنے کے ساتھ مخصوص کردیا ۔ اور اگر کہا جائے کہ ما جاء فی الا زید تو اس مثال میں زید ہی آنے کے لئے خاص ہوگیا۔
اسی طرح وما یکذب بہ الا کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔
(ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…
Read the full tafseer →(13) جب اس کے روبرو ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں تو کہنے لگے یہ اگلے لوگوں کے بےسند اور بےشروپاکہانیاں ہیں۔ یعنی جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ حد سے نکل جانیوالا گنہگار یوں کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے بےسند قصے اور بےشروپاکہانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔
Read the full tafseer →جب ہماری آیتیں اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کو لوگوں کی کہانیاں قرار دیتا ہے
13 ؎ وہ شخص جو قیامت کا منکر ہے اور قرآن کریم جیسی کتاب ہدایت کو ہدایت کی کتاب نہیں مانتا اور تسلیم کرتا اور اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کی رسالت کو عقیدۃ ً یا عملاً انکار کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب کی آیات کی تلاوت اس کے سامنے کی جاتی ہے تو وہ ان کو کیا قرار دے گا ؟ یہی کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو محمد ﷺ نے ادھر ادھر سے سن کر بیان کی ہیں ۔ محمد ﷺ کے پاس عجمیوں کے آنے کا الزام لگا کر کہ وہ آتے ہیں اور محمد ﷺ کو سکھا جاتے ہیں اور محمد ﷺ ان کو اپنی زبان میں ہمارے سامنے بیان کردیتا ہے۔ یہ اور اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ (A register inscribed!...83:9) The word marqum (translated above as 'inscribed' ) signifies here makhtum meaning 'sealed'. Imam Baghawi and Ibn Kathir say that this statement is not the interpretation of sijjin, but rather the explication of a phrase before that, namely:
كِتَابَ الْفُجَّارِ
'Indeed the record of deeds of the sinners is in sijjin. [ 83:7] '
It is a book inscribed and sealed. No one can add anything to it, nor can anyone remove anything from it, nor is any alteration possible in it. The place where it will be kept for safe-custody is called sijjin, and it…
Read the full tafseer →6 "Our Revelations": those verses in which news of the Day of Recompense has been given.
Read the full tafseer →