Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں
یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 6
یہ سوال استفسار کے طور پر نہیں بلکہ انکار اور استہزاء کے طور پر تھا۔ یعنی یہ پوچھنا نہیں چاہتے تھے کہ قیامت کس روز آئے گی، بلکہ مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ حضرت ! جس دن کی آپ خبر دے رہے ہیں آخر وہ آتے آتے رہ کہاں گیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ
لفظ امام فتح الہمزہ سامنے اور مستقبل کے معنی میں ہے اسلئے معنے آیت کے یہ ہوئے کہ کافر اور غافل انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ان مشاہدات میں غور نہیں کرتا کہ ماضی کے انکار پر نادم ہو کر اپنے مستقبل کو درست کرلے بلکہ مستقبل میں بھی وہ یہی چاہتا رہتا ہے کہ اپنے کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جما رہے۔
Read the full tafseer →ایک احمقانہ مطالبہ اور اس کا معتدل جواب:
یہ منکرین قیامت کی جسارت اور ڈھٹائی کا بیان ہے کہ باوجودیکہ خدا کا محتسب خود ان کے اندر ہی موجود ہے اور وہ اس کو محسوس بھی کر رہے ہیں لیکن جب ان کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قیامت کہاں ہے؟ وہ کب آئے گی! اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی! ہم اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو تھک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا، نہ آئی تو اب ہم ان ڈراوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔ جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ اس کو لا کر ہمیں دکھائیں تو ہم اس کا حق مانیں گے۔ محض زبانی دھونس سے ہم ماننے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →6۔ 1 یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہوجائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق و فجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
10 یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بےباکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا۔ جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے۔ بلکہ استہزاء و تعنت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 6{ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”وہ پوچھتا ہے : کب آئے گا قیامت کا دن ؟“
مشرکین مکہ حضور ﷺ سے یہ سوال طنزیہ طور پر پوچھتے تھے۔ اسی لیے اس کا جواب بھی بہت تیکھے انداز میں دیا گیا ہے۔ سوال و جواب کا یہی انداز اور اسلوب سورة الذاریات کی ان آیات میں بھی پایا جاتا ہے : { یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ - یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن ؟ جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے“۔ مذکورہ سوال کا جواب بھی بالکل اسی انداز میں دیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :
Read the full tafseer →5 یعنی انسان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ حقیقت کو سمجھنے کے باوجود یہ سوال کیے جاتا ہے کہ وہ دن آخر آئے گا کب ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
4۔ (اور یہ کلمہ انسان کی زبان پر کمال اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں آئے گا) قرآن مجید نے بکمال حکمت وبلاغت ادھر توجی ہی نہیں کی کہ وقوع قیامت کی صدی اور وقت اور تاریخ کی تعیین کی جائے۔ بلکہ عین اس وقت کی کیفیات کی تصویر پیش کردی کہ قیامت اس وقت آئے گی جب نظام کائنات یوں اور یوں درہم برہم ہوجائے گا اور انسان ہر طرف یوں بلبلایا ہوا بدحواس بھاگتا پھرتا ہوتا۔ (آیت) ” فاذا برق البصر “۔ آنکھوں پر یہ چکا چوند کی کیفیت اس وقت کے انتہائی ہیبت ناک منظروں سے طاری ہوجائے گی۔ (آیت) ” وخسف القمر “۔ چاند کی اس بےنوری کی تصریح میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں چاند ویوتا بہت بڑا دیوتا تھا۔ جس طرح مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ :
حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔
یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…
Read the full tafseer →یسئل . یہ سوال بطور استہزاء کے ہوتا ہے اور قیامت کو بعید از عقل قرار دیتے ہوئے وہ دریافت کرتا ہے۔
ایان یوم الیقمۃ . کب ہوگا قیامت کا دن ؟ یعنی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) یہ عدی بن ربیعہ بطور انکار کے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس وقت آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج و چاند دونوں ایک حالت کے ہوجائیں گے یعنی سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
بل یرید الانسان …:”لیفجر“ ”فجر فجوراً“ (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے اناکر کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلک ہہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لئے وہ تیاری کے لئے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لئے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہوگا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
بل یرید الانسان لیفجرامامہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو آنے والے معاملات یعنی دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کا انکار کرتا ہے یہی عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کی دلیل، یسئل ایان یوم القیامہ، ہے یعنی وہ سوال کرتا ہے وہ کب واقع ہوگی، وہ یہ بات انکار اور جھٹلانے کے انداز میں کرتا ہے وہ جھٹلانے پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوتا ہے، قتیبی اور دوسرے علماء نے جو ذکر کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ فجور جھٹلانا ہے ایک بدو نے حضرت عمر بن خطاب کا قصد کیا اس نے آپ کی خدمت میں اونٹ کے نقب (پہلو زخم) اور دبر (جانور کا زخم) کی شکایت کی اور یہ سوال کیا کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آئندہ بھی نافرمانی کرتا رہے۔ یعنی انسان مسلسل برائی کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔
21۔ ابن ابی حاتم وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ کافر ہیں جو حساب کو جھٹلاتا ہے۔
22۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد امید ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں گناہ کا عمل کرلوں پھر توبہ کرلوں گا۔
23۔ ابن ابی الدنیا فی ذم الام و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے…
Read the full tafseer →[يَسْــَٔـلُ اَيَّان يَوْمُ الْقِيٰمَةِ : وہ پوچھتا ہے کب ہوگا قیامت کا دن ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
﴿ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ005 يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ006﴾ (بلکہ انسان یوں چاہتا ہے کہ قیامت کی بات سن کر تسلیم نہ کرے اور آئندہ آنے والی زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے وہ قیامت کا دن واقع ہونے کا منکر ہے اور بطور انکار یوں پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا) یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ فسق و فجور میں جو ذرا سا مزا ہے اس کی وجہ سے قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے قیامت کو مانا تو اس کے لیے تیاری کرنی ہی پڑے گی۔ گناہوں کو چھوڑنا ہوگا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ خالق اور مالک نے جو چیز مقدر اور مقرر فرما دی ہے اور فیصلہ فرما دیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” بل یرید “ یہ ماقبل یعنی ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے بطور ترقی ہے۔ لیفجر ای لیکر و یکذب۔ امامہ ای ما یاتی امامہ۔ یعنی جو کچھ آگے آنے والا ہے مراد حساب کتاب اور جزاء وسزا ہے۔ یہ منکرین نہ صرف دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں، بلکہ حقیقت میں وہ جزاء و سزا کا انکار کرنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہے جو حشر و نشر کا اصل مقصد ہے۔ قال ابن عباس : یعنی الکافر یکذب بما مامہ من البعث والحساب وقالہ عبدالرحمن بن زید (قرطبی ج 19 ص 93) ۔ ” یسئل ایان یوم القیامۃ “ بطور استہزاء و تمسخر پوچھتا ہے۔ اجی ! وہ قیامت کب آئے گی جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَۃِ 6 ۭ
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →یَسْئَلُ اَ یَّانَ یَوْمُ الْقِیٰـمَۃِ ۔ (القیامۃ : 6)
(وہ پوچھتا ہے آخر قیامت کا دن کب ہوگا ؟ )
وہ اپنا اصل مرض چھپانے کے لیے طریق اعتراض کو چھوڑ کر استہزاء کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جو آپ ہمیں قیامت کے آنے کی خبر دیتے رہتے ہیں تو آخر وہ کب آئے گی ؟ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتی۔ ہم اس کے ڈراوے سنتے سنتے تو تھک گئے لیکن اس کو نہ آنا تھا اور نہ آئی۔ اب ہم ان ڈراو وں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔
قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔
” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…
Read the full tafseer →6 : یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ (پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا) یہ ضدی اور قیامت کو بعید ازقیاس خیال کرنے والے کا استفسار ہے۔
نحو : یہاں ایانؔ متی کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” بل یرید الانسان لیفجر امامہ “ فرماتے ہیں ابن آدم جاہل نہ ہو اس بات سے کہ اس کا رب اس کی ہڈیوں کو جمع کرنے پر قادر ہے لیکن وہ ارادہ کرتا ہے کہ اپنے آگے گناہ کرے یعنی وہ جب تک زندہ ہے اس میں قدم جاری رکھے نہ اس سے ہٹے اور نہ توبہ کرے۔ یہ مجاہد ، حسن، عکرمہ اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” لیفجر امامہ “ گناہ کا اقدام کرے اور توبہ کو موخر کرے۔ پس کہے عنقریب میں توبہ کروں گا۔
عنقریب میں عمل کروں گا حتیٰ کہ اس پر موت آئے اسے برے حال اور برے اعمال پر اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ امید سے کہتا ہے میں زندہ رہوں گا تو دنیا سے اتنا دوراتنا حاصل کروں گا اور موت کو یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کردیا، پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (قال من یحی العظام وھی رمیم۔ یٰس۔ 78) کہنے لگا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ عطا کرے گا ؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریع سے اس…
Read the full tafseer →7 منکر انسان کی حماقت و جسارت کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے منکر انسان کی حماقت و جسارت اور اس کی ڈھٹائی کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا منکر انسان پوچھتا ہے کہ آخر کب آئے گا قیامت کا وہ دن ؟۔ سو منکر لوگ استہزاء و تمسخر کے طور پر ایسے کہتے ہیں ‘ یہاں سے پھر وہی بات سامنے آتی ہے جو کہ اس سے پہلے بھی ہم کئی جگہ بیان کرچکے ہیں کہ قیامت کا انکار دراصل آدمی کو قطعی طور پر ایک لاپروا اور غیر ذمہ دار شخص بنا دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بجائے اس کے کہ انسان اس پر سنجیدگی سے غور کرے ‘ اور عمر رواں کی فرصت محدود میں آخرت کیلئے کمائی کی فکر کرے ‘ وہ الٹا ایسے لایعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے
تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1 یعنی جو اچھے برے اعمال کر کے اس نے بطور توشہ آخرت آگے بھیجے
Read the full tafseer →(75:6) یسئل ایان یوم القیمۃ۔ یہ اس کی دین کی پردہ دری کی ڈھٹائی کی تفسیر ہے۔ استہزاء پوچھتا ہے ایان یوم القیمۃ، ایان (کب) خبر مقدم ہے اور یوم القیامۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء مؤخر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(ف 1) یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل ونشانات غیر واضح ہیں بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہوکرفسق وفجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق وفجور میں اس قدر بےباکی اور بےخوفی اس سے نہ ہوسکے گی ، اسی لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا، جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے بلکہ استہزاء ولغت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
[4] یہ سوال استفسار کی غرض سے نہیں بلکہ استہزا و تمسخر کے طور پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 1: یعنی قیامت کا انکار اس وجہ سے نہیں ہے ۔ کہ یہ عقل وفہم کے منافی ہے ۔ اور یہ بدیں وجہ اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے ۔ کہ دانش بینش کا یہ تقاضا ہے ۔ بلکہ کفرو انکار کے پس پردہ جو محرک کام کررہا ہے ۔ وہ فسق وفجور کا جذبہ ہے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ۔ کہ آئندہ زندگی میں بھی بلاتامل گناہوں کا ارتکاب کرتے چلے جائیں ۔ اور کوئی قوت ان کو اس جذبہ معصیت سے نہ روکے ۔
Read the full tafseer →(6) پوچھتا اور دریافت کرتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا۔ یعنی بطور انکار و استہزاء دریافت کرتا ہے کہ قیامت کا صحیح وقت بتائو آگے جواب ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
(بلکہ) عدی اور اس جیسا ہر (انسان چاہتا ہے کہ بدی کرتا رہے اس کے آگے) یعنی وہ چیز جو اس کے سامنے ہے ، یعنی بعث اور حساب اس کے تعلق سے جھوٹ بولتا رہے ، کیوں (کہ) از راہ تمسخر (پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ تو جب آنکھ چوندھیا پڑی) یعنی پتھرا گئی (اور گہن میں پڑا چاند) یعنی تیرہ و تاریک ہوگیا (اور ملا دیا گیا سورج اور چاند) یعنی دونوں ہی بےنور کردیے گئے۔ المختصر۔۔۔ جب قیامت آئے گی تو نظام شمسی و قمری سب کے سب درہم برہم کردیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں قیامت کے وجود پر کسی کو شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ (But man wishes to go on violating Allah's injunctions [ even in future ] ahead of him...75:5). The word amam signifies 'ahead or future'. The verse purports to say that the unbeliever or the unmindful man does not ponder over the manifestations of Divine Omnipotence, so that he may regret his denial in the past and make amends for the future. In fact, he wishes to persist in his denial, polytheism and sins even in the future.
Read the full tafseer →6 This question was not put as a question but derisively and to deny Resurrection, That is, they did not want to ask when Resurrection would take place but asked mockingly: "What has happened to the day with which you are threatening us. When will it come?"
Read the full tafseer →