Al-Qiyaama 75:7

Al-Qiyaama · from ayah 7

75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۟ۙفَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُۙ

جب آنکھیں چندھیا جائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when vision is dazzled

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:7

جب آنکھیں چندھیا جائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب آنکھیں چوندھیا جائیں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو (اس کا جواب یہ ہے کہ) جب آنکھیں چندھیا جائیں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو جب (مارے دہشت و حیرت کے) خیرہ ہوجائیں گی ان کی نگاہیں

— مولانا اسحاق مدنی

سو جس روز آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس جب نگاہیں چندھیا جائیں گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب آنکھیں چندھیا جائیں

— محترمہ رفعت اعجاز

So, when the eyes will be dazzled,

— Muhammad Taqi Usmani

So, when the eyes will be dazzled,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, when Bariqa the sight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So when vision is dazzled

— Saheeh International

When the eye is bewildered,

— Muhammad Sarwar

So when the sight becomes dazed,

— Muhammad Habib Shakir

When, then, the sight shall be confounded.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْقِیٰمَة 7 اصل میں برق البصر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے لغوی معنی بجلی کی چمک سے آنکھوں کے چندھیا جانے کے ہیں۔ لیکن عربی محاورے میں یہ الفاظ اسی معنی کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ خوف زدگی، حیرت یا کسی اچانک حادثہ سے دو چار ہوجانے کی صورت میں اگر آدمی ہک دک رہ جائے اور اس کی نگاہ اس پریشان کن منظر کی طرف جم کر رہ جائے جو اس کو نظر آ رہا ہو تو اس کے لیے بھی یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اس مضمون کو قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار، " اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب آنکھیں پھٹی پھٹی رہ جائیں گی " (ابراہیم، 42)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۝ ۙوَخَسَفَ الْقَمَرُ ۝ ۙوَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یہ قیامت کے حالات کا بیان ہے برق بفتح البا و کسر را کے معنی آنکھ خیرہ ہوگی کہ دیکھ نہ سکیں۔ قیامت کے روز سب کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی، نگاہ جما کر کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں گی۔ خسف القمر خسوف سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی ختم ہو کر تاریکی ہوجانے کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ چاند بےنور ہوجائے گا۔ آگے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں یہ بتلایا کہ صرف چاند ہی بےنور نہیں ہوگا بلکہ آفتاب بھی بےنور ہوجائے گا جس کے متعلق دنیا کے فلاسفہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل روشنی آفتاب میں ہے۔ چاند کی روشنی بھی آفتاب کی شعاعوں سے مستفاد ہے۔ حق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟ قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–12

3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی حق تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 6{ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”وہ پوچھتا ہے : کب آئے گا قیامت کا دن ؟“ مشرکین مکہ حضور ﷺ سے یہ سوال طنزیہ طور پر پوچھتے تھے۔ اسی لیے اس کا جواب بھی بہت تیکھے انداز میں دیا گیا ہے۔ سوال و جواب کا یہی انداز اور اسلوب سورة الذاریات کی ان آیات میں بھی پایا جاتا ہے : { یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ - یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن ؟ جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے“۔ مذکورہ سوال کا جواب بھی بالکل اسی انداز میں دیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 یعنی جب نظام کائنات درہم برہم ہوگا تو کئی طرح کے دھماکے ہوں گے، گرج بھی پیدا ہوگی اور بجلی بھی جس سے انسان کی آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دہشت انگیز نظاروں کو دیکھ کر انسان کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–10

4۔ (اور یہ کلمہ انسان کی زبان پر کمال اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں آئے گا) قرآن مجید نے بکمال حکمت وبلاغت ادھر توجی ہی نہیں کی کہ وقوع قیامت کی صدی اور وقت اور تاریخ کی تعیین کی جائے۔ بلکہ عین اس وقت کی کیفیات کی تصویر پیش کردی کہ قیامت اس وقت آئے گی جب نظام کائنات یوں اور یوں درہم برہم ہوجائے گا اور انسان ہر طرف یوں بلبلایا ہوا بدحواس بھاگتا پھرتا ہوتا۔ (آیت) ” فاذا برق البصر “۔ آنکھوں پر یہ چکا چوند کی کیفیت اس وقت کے انتہائی ہیبت ناک منظروں سے طاری ہوجائے گی۔ (آیت) ” وخسف القمر “۔ چاند کی اس بےنوری کی تصریح میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں چاند ویوتا بہت بڑا دیوتا تھا۔ جس طرح مصر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–12

نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا برق البصر . برق بفتح راء (نافع) بکسر راء (جمہور) دونوں لفظ لغت میں آتے ہیں۔ قاموس میں ہے برق ‘ فرح اور نصر کی طرح ہے۔ برقًا اور بروًقا مصدر ہیں ‘ متحیر ہوگیا یا دہشت زدہ ہوگیا کہ دیکھ ہی نہ سکا۔ فراء اور خلیل نے کہا : برق بکسر راء کا معنی ہے متحیر ہوگیا ٗ گھبرا گیا۔ وہ عجیب چیزیں دیکھیں جن کی دنیا میں تکذیب کرتا تھا۔ بروق بصر اور تحیر نظر سے مراد کس وقت کی خیرگی ہے۔ بعض کا قول ہے کہ موت کے وقت کا تحیر مراد ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا بیان ہے کیونکہ اس کے بعد شمس و قمر کا اجتماع بیان کیا گیا ہے اور یہ اجتماع قیامت کے دن ہوگا لہٰذا بروق نظر سے بھی مراد وہی تحیر ہے جو قیامت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–9

(6۔ 9) یہ عدی بن ربیعہ بطور انکار کے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس وقت آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج و چاند دونوں ایک حالت کے ہوجائیں گے یعنی سیاہ بےنور ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاذا برق البصر :”برق البصر“ (س، ن)”برفا و بروفا“ آکھ کا حیرت سے کھلا رہ جانا یا دہشت زدہ ہو کر کچھ نہ دیکھ سکنا۔ (قاموس) ؓ عنہمانے قیامت کی تاریخ اور قیامت کے متعلق بتانے کے بجائے اس دن واقع ہونے والی چند چیزیں بیان فرما دیں۔ ”فاذا برق البصر“ یعنی قیامت کے دن کے عجیب و غریب حوادث و واقعات کو دیکھ کر آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جائیں گی اور خوف و دہشت کے مارے ان سے کچھ دکھائی نہ دے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولا تحسبن اللہ غافلاً عما یعمل الظلمون، انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار مھطعین مقنعی رء و سھم لایرتد الیھم طرفھم ، وافدتھم ھوآئ) (ابراہیم)”اور تو ہرگز خیال نہ کر کہ اللہ ان کاموں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاذا برق البصر۔۔ تا۔۔۔ واخر۔ فاذا برق البصر۔ نافع اور اہان نے عاصم نے برق پڑھا ہے اس کا معنی ہے زیادہ کھلنے کی وجہ سے آنکھ کا چمکنا تو اسے دیکھے گا وہ جھپکتی نہیں مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ موت کا وقت ہوگا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ قیامت کے روز ہوگا اس بارے میں کہا یہ اس سوال کا جواب ہے جو انسان نے اس سے سوال کیا گویا یہ قیامت کے دن ہوگا۔ جبکہ باقی قراء نے برق پڑھا ہے، معنی ہے وہ متحیر ہوگئی وہ نہ جھکی، یہ ابوعمر، زجاج اور دوسرے علماء نے کہا، ذورمہ نے کہا، فراء اور خلیل نے کہا، برق جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی گھبرانا، مبہوت ہونا اور حیران ہونا ہے عرب متحیر اور مبہوت انسان کے بارے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

28۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا برق البصر سے مراد ہے موت۔ 30۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا برق البصر یعنی آنکھ کی ٹکٹکی بندھ جائے گی اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ یعنی اس کی روشنی جاتی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ : تو جب چندھیا جائے گی آنکھ ] نوٹ 4: آیات۔ 7 تا 9 ۔ میں قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور چاند سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند ہی کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے، بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند زمین کی کشش سے چھوٹ کر نکل جائے اور سورج میں جاپڑے۔ ممکن ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–12

﴿فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ007 وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ008 وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ009﴾ (سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے) ۔ ﴿ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ0010﴾ (اس دن انسان کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) یعنی میں کہاں بھاگوں اور کیا کروں ﴿ كَلَّا لَا وَزَرَؕ0011﴾ (اللہ پاک کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہرگز بھی کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے) ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ0012﴾ (آج کے دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے) نہ بھاگنے کی جگہ ہے نہ بھاگنا فائدہ دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 5:۔ ” فاذا برق “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کے بعض احوال واہوال کا ذکر ہے۔ جب آنکھیں ہیبت اور شدت خوف سے حیران ہوجائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا۔ سورج اور چاند کو اکٹھا کردیا جائے گا دونوں بےنور ہوجائیں گے اور اکٹھے ہی مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اس دن انسان کہے گا آج کوئی بھاگنے کی جگہ ہے جہاں بھاگ کر پناہ لی جاسکے اور آج کے شدائد واہوال سے جان بچائی جاسکے ؟ قال ابن عباس و ابن مسعود جمع بینھما ای قرن بینھا فی طلوعہما من المغرب اسودین مکورین مظلمین الخ (قرطبی ج 19 ص 93) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۝ 7 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ برق البَرْقُ : لمعان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–10

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۔ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ ۔ (القیامۃ : 7 تا 10) (پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ تو اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں۔ ) قیامت کا منظرنامہ منکرینِ قیامت کا یہ مطالبہ کہ قیامت کب آئے گی، چونکہ سراسر ایک احمقانہ مطالبہ تھا اس لیے اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اگر یہ بتادیا جاتا کہ قیامت کے آنے میں ابھی صدیاں باقی ہیں تو کوئی اس کی تیاری کے لیے فکرمند نہ ہوتا۔ اور اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ اتنے عرصے کے بعد آرہی ہے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔ ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (پس جس وقت آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی) وہ گھبراہٹ سے حیران ہوگا۔ قراءت : مدنی نے شَخَصَ کے معنی میں لیا اور بَرَقَ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی، اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے 0 انما یوخرھم لیوم۔۔۔۔ تا۔۔۔ ھوآء۔ ابراہیم 42، 43) ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن دہشت کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے) ان کے دل ہوا ہورہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 وقوع قیامت کے کچھ احوال کا ذکر وبیان : سو وقوع قیامت سے متعلق کچھ احوال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب خیرہ ہوجائیں گی نگاہیں اس کی ہولناکی کی بنا پر کہ ان کے کفر و انکار کے علی الرغم وہ یوم عظیم اپنی تمام تر ہیبت ناکیوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود ہوگا ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : " تشخص فیہ الابصار " (ابراہیم :42) ۔ " کہ اس روز آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ قیامت کے دکھائے جانے کا ان لوگوں کا مطالبہ تو بالکل احمقانہ مطالبہ تھا۔ اس لئے اس سے تو یہاں تعرض نہیں فرمایا گیا ‘ البتہ اس کی بعض ہولناکیوں کا ذکر فرما دیا گیا کہ وہ جب آئے گا یہ اور یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–15

قیامت کا منظر تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75ـ:7) فاذا برق البصر :جواب کا ہے ۔ یہ آیت اور اگلی دو آیات انسان کے سوال ایان یوم القیمۃ کے جواب میں ہیں۔ برق ماضی واحد مذکر غائب برق (باب سمع) مصدر سے ، جس کے معنی نظر کے متحیر اور خیرہ ہونے کے ہیں۔ برق کے معنی بجلی کے ہیں اور اسی اعتبار سے اس کے معنی چمکنے کے آنے لگے لیکن جب آنکھ کے ساتھ اس کا استعمال ہو تو اس کے معنی خوف سے پتلیوں کے پھرنے اور نظر کے خیرہ ہونے کے آتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب نظر چندھیا جائے گی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–11

[4] یہ سوال استفسار کی غرض سے نہیں بلکہ استہزا و تمسخر کے طور پر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ف 1: یعنی قیامت کا انکار اس وجہ سے نہیں ہے ۔ کہ یہ عقل وفہم کے منافی ہے ۔ اور یہ بدیں وجہ اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے ۔ کہ دانش بینش کا یہ تقاضا ہے ۔ بلکہ کفرو انکار کے پس پردہ جو محرک کام کررہا ہے ۔ وہ فسق وفجور کا جذبہ ہے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ۔ کہ آئندہ زندگی میں بھی بلاتامل گناہوں کا ارتکاب کرتے چلے جائیں ۔ اور کوئی قوت ان کو اس جذبہ معصیت سے نہ روکے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–14

ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 5–9

(بلکہ) عدی اور اس جیسا ہر (انسان چاہتا ہے کہ بدی کرتا رہے اس کے آگے) یعنی وہ چیز جو اس کے سامنے ہے ، یعنی بعث اور حساب اس کے تعلق سے جھوٹ بولتا رہے ، کیوں (کہ) از راہ تمسخر (پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ تو جب آنکھ چوندھیا پڑی) یعنی پتھرا گئی (اور گہن میں پڑا چاند) یعنی تیرہ و تاریک ہوگیا (اور ملا دیا گیا سورج اور چاند) یعنی دونوں ہی بےنور کردیے گئے۔ المختصر۔۔۔ جب قیامت آئے گی تو نظام شمسی و قمری سب کے سب درہم برہم کردیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں قیامت کے وجود پر کسی کو شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

7 Literally, the words bariq al-basaru mean dazzling of the eyes by lightning, but in the Arabic idiom these words do not specifically carry this meaning only but are also used for man's being terror-stricken and amazed, or his being confounded on meeting with an accident suddenly and his eyes being dazed at some distressing sight before him. This subject has been expressed at another place in the Qur'an, thus; "AIlah is only deferring their case to the Day when the eyes shall stare with consternation." (Ibrahim: 42) .

Read the full tafseer →