Al-Qiyaama 75:5

Al-Qiyaama · from ayah 5

75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗ ۟ۚبَلۡ يُرِيۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِيَفۡجُرَ اَمَامَهٗ‌ۚ‏

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But man desires to continue in sin.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:5

مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا یہ ہے کہ اپنی آگے کی زندگی میں بھی ڈھٹائی سے گناہ کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے آگے (کی زندگی میں) بھی گناہ کرتا رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے علی الرغم بداعمالیاں کرتا رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ انسان اپنے (ضمیر کے) آگے شرارت کرنا چاہتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر انسان دراصل چاہتا یہ ہے کہ وہ بدعملیاں کرتا رہے اپنی آئندہ زندگی میں

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ انسان تو یہی چاہتا ہے کہ آیندہ بھی فسق و فجور ہی کرتا رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ فسق و فجور آگے بھی جاری رکھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر انسان چاہتا ہے کہ ہمیشہ خود سری سے کام لے

— محترمہ رفعت اعجاز

But man desires to persist in his evil ways.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But man wishes to go on violating Allah‘s injunctions (even in future) ahead of him.

— Muhammad Taqi Usmani

But man wishes to go on violating Allah‘s injunctions (even in future) ahead of him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! Man desires to break out ahead of himself.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But man would fain deny what is before him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But man desires to continue in sin.

— Saheeh International

In fact, people want to have eternal life in this world.

— Muhammad Sarwar

Nay! man desires to give the lie to what is before him.

— Muhammad Habib Shakir

Aye! man desireth that he may sin before him.

— Abdul Majid Daryabadi

But man wishes to do wrong (even) in the time in front of him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 5 اس چھوٹے سے فقرے میں منکرین آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کردی گئی ہے۔ ان لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اور آخرت کو ناممکن سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بےنتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اسی طرح آئندہ بھی پھرتے رہیں۔ جو ظلم، جو بےایمانیاں، جو فسق و فجور، جو بد کرداریاں وہ اب تک کرتے رہے ہیں، آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے، اور یہ خیال کبھی ان کو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ لفظ امام فتح الہمزہ سامنے اور مستقبل کے معنی میں ہے اسلئے معنے آیت کے یہ ہوئے کہ کافر اور غافل انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے ان مشاہدات میں غور نہیں کرتا کہ ماضی کے انکار پر نادم ہو کر اپنے مستقبل کو درست کرلے بلکہ مستقبل میں بھی وہ یہی چاہتا رہتا ہے کہ اپنے کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جما رہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی قیامت کا انکار اس بنا پر کہ ہڈیوں کو جمع کرنا ان کو بعید از امکان نظر آتا ہے محض حقیقت سے فرار کے لیے سخن سازی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام بن چکے ہیں کہ ان کی پیروی میں وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے محتسب کے سامنے شرارت کرنا چاہتے ہیں جو کہیں دور نہیں بلکہ خود ان کے اندر ہی بیٹھا ہوا ہے۔ ان کی مثال اس چور کی ہے جو کوتوال کی موجودگی میں چوری کرے۔ ’اَمَامَہٗ‘ کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ انسان اپنی آگے کی زندگی میں برابر اپنے گناہوں پر جما رہنا چاتا ہے اس وجہ سے قیامت کے انکار کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن یہ مطلب لینے میں نہ نفس لوامہ کی شہادت سے اس کا کوئی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–12

3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

10 یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بےباکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا۔ جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے۔ بلکہ استہزاء و تعنت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ۔ } ”بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ فسق و فجور آگے بھی جاری رکھے۔“ انسانوں کے ہاں آخرت کے انکار کی سب سے بڑی اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی و بدی اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم کر کے عیش و عشرت کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ چناچہ حرام خوریاں چھوڑ کر راہ راست پر آنے کے مقابلے میں انہیں آخرت کا انکار کردینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ آخرت کے بارے میں انسان کا یہ رویہ ایسے ہی ہے جیسے ِ بلی ّکو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ لیکن جس طرح کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے سے بلی اپنا فیصلہ نہیں بدلتی اسی طرح ان کے انکار کردینے سے قیامت کے وقوع میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں سمجھتا کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرکے اپنی آزادانہ زندگی پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ اگر اس نے عقیدہ آخرت کو تسلیم کرلیا تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور نہایت پابند اور محتاط زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس کا آسان حل اس نے یہ سوچا کہ قیامت کا ہی انکار کردے۔ اور اس کی یہ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اور اپنے نفس کو اس فریب میں مبتلا کرلیتا ہے کہ بس اب خطرہ دور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور اس کی لذت پرستیوں میں کبھی فرق نہ پڑنے پائے) یعنی وہ چونکہ اپنے کو باز پرس سے دور رکھنا اور دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے قائل بھی ایسے عقیدہ کا نہیں ہوتا جس سے لذتوں سے دستبرداری لازم آتی ہو۔ یہی ایک ذہنیت قدیم وجدید ساری مادہ پرست قوموں میں مشترک رہی ہے۔ (آیت) ” لیفجر “۔ فجور سے یہاں مراد کافرانہ اعمال ہیں۔ واصل الفجور المیل وسمی الفاسق والکافر جاجر المیلہ عن الحق (معالم) اور اس سوال سے اس کی غرض جستجوئے حق اور استفسار محض نہیں ہوتی، بلکہ سوال طنز وتعریض کے ساتھ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–12

نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل یرید الانسان . بل عاطفہ ہے یَحْسَبُ پر عطف ہے۔ (استفہام کے تحت ہے) اس کو سوالیہ بھی کہا جاسکتا ہے اور تحقیقیہ بھی کیونکہ سابق سائل یا سوال سے اعراض (اور دوسری بات کو بیان کرنے کی طرف میلان ہونا) درست ہے (یعنی یہ دوسرا انسان پہلے انسان سے غیر ہوگا تو سائل اوّل سے اضراب ہوجائے گا اور اگر سائل وہی ہو مگر اس کے سوال سے اعراض ہو تو سوال سے اضراب اور دو سرے مسئلہ کا بیان ہوگا) ۔ لیفجر امامہ . مجاہد ‘ حسن بصری ‘ عکرمہ اور سدی نے اس طرح تفسیری معنی بیان کیے کہ ہر شخص واقف ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی ہڈیاں جوڑنے پر قادر ہے مگر وہ آنے والے زمانہ (یعنی قیامت) کا انکار کرنا چاہتا ہے اس لیے کفر پر قائم رہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بلکہ یہ چاہتا ہے کہ یہ فسق و فجور کرتا رہے اور توبہ میں تاخیر کرے یا یہ کہ اپنی آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–6

بل یرید الانسان …:”لیفجر“ ”فجر فجوراً“ (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے اناکر کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلک ہہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لئے وہ تیاری کے لئے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لئے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

بل یرید الانسان لیفجرامامہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو آنے والے معاملات یعنی دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کا انکار کرتا ہے یہی عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کی دلیل، یسئل ایان یوم القیامہ، ہے یعنی وہ سوال کرتا ہے وہ کب واقع ہوگی، وہ یہ بات انکار اور جھٹلانے کے انداز میں کرتا ہے وہ جھٹلانے پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوتا ہے، قتیبی اور دوسرے علماء نے جو ذکر کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ فجور جھٹلانا ہے ایک بدو نے حضرت عمر بن خطاب کا قصد کیا اس نے آپ کی خدمت میں اونٹ کے نقب (پہلو زخم) اور دبر (جانور کا زخم) کی شکایت کی اور یہ سوال کیا کہ انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آئندہ بھی نافرمانی کرتا رہے۔ یعنی انسان مسلسل برائی کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ 21۔ ابن ابی حاتم وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ کافر ہیں جو حساب کو جھٹلاتا ہے۔ 22۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد امید ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں گناہ کا عمل کرلوں پھر توبہ کرلوں گا۔ 23۔ ابن ابی الدنیا فی ذم الام و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلْ يُرِيْدُ الْانسَان : بلکہ چاہتا ہے انسان ] [لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ : کہ وہ اپنی مرضی چلائے اپنے آگے (آنے والے وقت میں بھی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

﴿ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ005 يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ006﴾ (بلکہ انسان یوں چاہتا ہے کہ قیامت کی بات سن کر تسلیم نہ کرے اور آئندہ آنے والی زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے وہ قیامت کا دن واقع ہونے کا منکر ہے اور بطور انکار یوں پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا) یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ فسق و فجور میں جو ذرا سا مزا ہے اس کی وجہ سے قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے قیامت کو مانا تو اس کے لیے تیاری کرنی ہی پڑے گی۔ گناہوں کو چھوڑنا ہوگا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ خالق اور مالک نے جو چیز مقدر اور مقرر فرما دی ہے اور فیصلہ فرما دیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4:۔ ” بل یرید “ یہ ماقبل یعنی ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے بطور ترقی ہے۔ لیفجر ای لیکر و یکذب۔ امامہ ای ما یاتی امامہ۔ یعنی جو کچھ آگے آنے والا ہے مراد حساب کتاب اور جزاء وسزا ہے۔ یہ منکرین نہ صرف دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں، بلکہ حقیقت میں وہ جزاء و سزا کا انکار کرنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہے جو حشر و نشر کا اصل مقصد ہے۔ قال ابن عباس : یعنی الکافر یکذب بما مامہ من البعث والحساب وقالہ عبدالرحمن بن زید (قرطبی ج 19 ص 93) ۔ ” یسئل ایان یوم القیامۃ “ بطور استہزاء و تمسخر پوچھتا ہے۔ اجی ! وہ قیامت کب آئے گی جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَہٗ۝ 5 ۚ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلْ یُرِیْدُالْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ ۔ (القیامۃ : 5) (بلکہ انسان چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بھی فسق و فجور کرتا رہے۔ ) منکرینِ قیامت کا اصل مرض منکرینِ قیامت کی طرف سے وقوع قیامت پر اعتراض کرنا اور اسے بعید از امکان قرار دینا محض اس بنا پر کہ ہزاروں سال میں مرنے والے لوگوں کی ہڈیاں جمع کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے، اس کا جواب دینے کے بعد فرمایا کہ منکرین کے اس طرح کے اعتراضات درحقیقت سخن سازی کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ ان سخن سازیوں کے پردے میں اپنا اصل مرض چھپانا چاہتے ہیں۔ وہ دراصل اپنی خواہشوں کے غلام بن چکے ہیں اور آخرت کے ماننے کی صورت میں وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں کچھ اخلاقی پابندیاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔ ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ (بلکہ بعض آدمی یوں چاہتا ہے) اس کا عطف ایحسبؔ پر ہے۔ پس اس قسم کے کلام کا استفہام ہونا درست ہے۔ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ (کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے) کہ وہ زمانہ مستقبل میں جرائم کرتا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” بلی قادرین “ یعنی ہم قادر ہیں صرف کے استقبال پر حال کی طرف۔ فرار (رح) فرماتے ہیں ” قادرین “ یہ نصب ہے خروج پر نجمع سے۔ جیسا کہ تو کلام میں کہتا ہے کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہم تجھ پر قادر نہیں ہیں ؟ کیوں نہیں ہم تو تجھ سے زیادہ طاقتور پر قادر ہیں۔ مراد یہ ہے کہ بلکہ ہم اس سے اکثر پر قادر ہیں۔ آیت کا مجاز ” بلی نقدر علی جمع عظامہ وعلی ماھواعظم من فلک “ اور وہ ” علی ان نسوی بنانہ “ اس کی انگلیوں کے پورے۔ پس ہم ان کے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیوں کو ایک چیز کی طرح کردیں۔ جیسے اونٹ کے پائوں اور گدھے کے کھر۔ پس ان سے بند کرنے، کھولنے اور لطیف اعمال کتابت ، سلائی وغیرہ کا نفع نہ اٹھا سکے گا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–6

پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کردیا، پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (قال من یحی العظام وھی رمیم۔ یٰس۔ 78) کہنے لگا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ عطا کرے گا ؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریع سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 منکروں کی بہانہ بازی اور سخن سازی کا ذکر وبیان : سو اس سے منکروں کی راہ حق و ہدایت سے فرار کیلئے بہانہ بازی اور سخن سازی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ راہ حق سے فرار کیلئے اس بہانہ بازی اور سخن سازی کی اصل وجہ اتباع ھوی کا روگ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پس کوئی حقیقی اشتباہ ان لوگوں کو نہیں ہے ‘ اور حقیقی اشتباہ ایک ایسی حقیقت بلکہ حقیقت کبریٰ کے بارے میں ہو ہی کیا سکتا ہے ‘ جو کہ عقل و نقل اور فطرت و عدل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسا منکر انسان دراصل یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں ہر قدغن و پابندی سے آزاد اور شتر بےمہار بن کر رہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی یہ کہتا ہے کہ ابھی کیا ہے گناہ کرتے رہو آگے چل کر توبہ کرل ینا۔ یہاں تک موت آجاتی ہے اور توبہ کی نوبت ہی نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:5) بل یرید الانسان لیفجرا مامہ : بل عاطفہ ہے اس کا عطف یحسب پر ہے (استفہام کے تحت ہے) اس کو سوالیہ بھی کہا جاسکتا ہے اور تحقیقہ بھی کیونکہ سابق سائل یا سوال سے اعراض (اور دوسری بات کو بیان کرنے کی طرف مائل ہونا) درست ہے (یعنی یہ دوسرا انسان پہلے انسان سے غیر ہوگا تو سائل اول سے اعراض ہوجا ائے گا : اور اگر سائل وہی ہو مگر اس کے سوال سے اضراب اور دوسرے مسئلہ کا بیان ہوگا) ۔ (تفسیر مظہری) لیفجر میں لام زائد ہے اور ان ناصبہ مقدرہ ہے ای ان یفجر : امامہ مضاف مضاف الیہ میں امام ظرف ہے۔ ای لیفجر فیما یستقبل۔ یفجر مضارع منصوب۔ واحد مذکر غائب فجور باب ضرب) مصدر۔ بعمنی دین کی پر وہ دری یعنی نافرمانی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 1) یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل ونشانات غیر واضح ہیں بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہوکرفسق وفجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق وفجور میں اس قدر بےباکی اور بےخوفی اس سے نہ ہوسکے گی ، اسی لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا، جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے بلکہ استہزاء ولغت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور دوبارہ زندہ کئے جانے کو محال جانتے ہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے دلائل غیر واضح ہیں بلکہ ان کے انکار کی اصلی وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں لیکن یہ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام بن چکے ہیں کہ وہ یہ پابندیاں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو فسق و فجور وہ اب تک کرتے رہے ہیں اپنی باقی زندگی میں بھی کرتے رہیں۔ اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب و کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو اس کی وجہ سے فسق و فجور سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس لئے ان کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ف 1: یعنی قیامت کا انکار اس وجہ سے نہیں ہے ۔ کہ یہ عقل وفہم کے منافی ہے ۔ اور یہ بدیں وجہ اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے ۔ کہ دانش بینش کا یہ تقاضا ہے ۔ بلکہ کفرو انکار کے پس پردہ جو محرک کام کررہا ہے ۔ وہ فسق وفجور کا جذبہ ہے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ۔ کہ آئندہ زندگی میں بھی بلاتامل گناہوں کا ارتکاب کرتے چلے جائیں ۔ اور کوئی قوت ان کو اس جذبہ معصیت سے نہ روکے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) بلکہ قیامت کے انکار کی غرض یہ ہے کہ انسان یوں چاہتا ہے کہ آئندہ زندگی میں بھی فجور اور ڈہٹائی کرتا رہے۔ یعنی قیامت کا اقرار اور روزجزا کا یقین بہت برائیوں سے روک دے گا اور انسان اس اعتقاد کا پابند ہوکر بہت سی باتوں کا پابند ہوجائے گا کیونکہ ہر جرم کے موقع پر قیامت کا اعتقاد مانع ہوگا اور یہ خیال اللہ تعالیٰ کے سامنے جاکر ایک دن حساب وکتاب دینا ہوگا ہر برائی اور ہر قسم کے فسق وفجور سے روکے گا اور انسان کی خواہش یہ ہے کہ جس طرح اب تک وہ گناہ آلودگی زندگی گزارتا رہا ہے اسی طرح آگے بھی گزارتا رہے اور آئندہ بھی ڈھٹائی کرتا رہے اس لئے قیامت کا یقین نہیں کرتا اور قیامت کا انکار کرتا ہے اور بطور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 5–9

(بلکہ) عدی اور اس جیسا ہر (انسان چاہتا ہے کہ بدی کرتا رہے اس کے آگے) یعنی وہ چیز جو اس کے سامنے ہے ، یعنی بعث اور حساب اس کے تعلق سے جھوٹ بولتا رہے ، کیوں (کہ) از راہ تمسخر (پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ تو جب آنکھ چوندھیا پڑی) یعنی پتھرا گئی (اور گہن میں پڑا چاند) یعنی تیرہ و تاریک ہوگیا (اور ملا دیا گیا سورج اور چاند) یعنی دونوں ہی بےنور کردیے گئے۔ المختصر۔۔۔ جب قیامت آئے گی تو نظام شمسی و قمری سب کے سب درہم برہم کردیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں قیامت کے وجود پر کسی کو شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ (But man wishes to go on violating Allah's injunctions [ even in future ] ahead of him...75:5). The word amam signifies 'ahead or future'. The verse purports to say that the unbeliever or the unmindful man does not ponder over the manifestations of Divine Omnipotence, so that he may regret his denial in the past and make amends for the future. In fact, he wishes to persist in his denial, polytheism and sins even in the future.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 In this brief sentence the real disease of the deniers of the Hereafter has been clearly diagnosed. What makes them deny the Hereafter is not, in fact, their regarding the Resurrection and Hereafter as impossible but they deny it because acceptance of the Hereafter inevitably imposes certain moral restrictions on them, which they detest. They desire that they should continue roaming in the world at will as they have been roaming before. They should have full freedom to go on committing whatever injustice, dishonesty, sin and wickedness that they have been committing before, and there should…

Read the full tafseer →