Al-Qiyaama 75:4

Al-Qiyaama · from ayah 4

75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ ۟بَلٰى قٰدِرِيۡنَ عَلٰٓى اَنۡ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٗ

ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Yes. [We are] Able [even] to proportion his fingertips.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:4

ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیوں نہیں ؟ جبکہ ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو ٹھیک ٹھیک بنادیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیوں نہیں! ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اُس کی اُنگلیوں کے ایک ایک جوڑ اور پوروں تک کو درست کر دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیوں نہیں ؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیوں نہیں۔ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ (پھر سے) اس کی انگلیوں کے پور پور تک درست بنادیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں، ہم جمع کریں گے اس طرح کہ اس کے پور پور کو ٹھیک کردیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیوں نہیں جب کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ پوری طرح برابر کردیں اس کے پور پور تک کو

— مولانا اسحاق مدنی

ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیوں نہیں ! ہم تو پوری طرح قادر ہیں اس پر بھی کہ ہم اس کی ایک ایک پور درست کردیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں ـگے

— محترمہ رفعت اعجاز

Yes indeed; We have the power to remould even his finger-tips.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Why (can We) not (do so) , while We are able to reset (even) his fingertips perfectly?

— Muhammad Taqi Usmani

Why (can We) not (do so) , while We are able to reset (even) his fingertips perfectly?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Yes, We are able to put together in perfect order the tips of his fingers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yea, verily. We are Able to restore his very fingers!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Yes. [We are] Able [even] to proportion his fingertips.

— Saheeh International

We certainly have the power to restore them even the very tips of their finger.

— Muhammad Sarwar

Yea! We are able to make complete his very fingertips

— Muhammad Habib Shakir

Yea! WE are Able to put together evenly his finger-tips.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, We are able to put together in perfect order the very tips of his fingers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 4 یعنی بڑی بڑی ہڈیوں کو جمع کر کے تمہارا ڈھانچہ پھر سے کھڑا کردینا تو درکنار، ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک کو پھر ویسا ہی بنادیں جیسی وہ پہلے تھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آگے منکرین قیامت کے اس عامیانہ شب کا جواب ہے مرنے کے بعد جب انسان مٹی ہوگیا اس کی ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوگئیں ان کو دوبارہ کیسے جمع کرکے زندہ کیا جائے گا۔ جس کے جواب میں فرمایا بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں تو اس پر تعجب ہے کہ میت کے ذرات منتشرہ اور بوسیدہ ہڈیوں کو جمع کیسے کیا جاوے گا اور ان میں دوبارہ حیات کیسے ڈالی جاوے گی۔ حالانکہ یہ بات پہلے ایک مرتبہ مشاہدہ میں آٰچکی ہے کہ ہر انسان کا وجود جو دنیا میں پلتا اور بڑھتا ہے وہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں خطوں کے اجزاء اور ذرات کا مرکب ہوتا ہے تو جس ذات قادر نے پہلی مرتبہ ساری دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 3–4

حقیقت سے فرار کے لیے منکرین قیامت کی سخن سازی: اگرچہ لفظ ’انسان‘ عام ہے لیکن روئے سخن قریش کے انہی منکرین قیامت کی طرف ہے جن کے شبہات پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں۔ ان سے اظہار بیزاری کے لیے بات عام لفظ سے فرما دی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لیے یہ شہادت تو ہر انسان کے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ لوگ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد ہم ان کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ چیز ان کو بعید از امکان نظر آئی ہے اور اس بنا پر وہ اپنے ضمیر کی شہادت کے خلاف قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہم ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: فرمایا جارہا ہے کہ ہڈیوں کو جمع کرلینا تو بہت معمولی بات ہے، اللہ تعالیٰ تو انسان کی انگلیوں کے ایک ایک پورے دوبارہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح دوبارہ بنانے پر قادر ہیں، جیسے وہ شروع میں تھے، انگلیوں کے پورے کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان پوروں میں جو باریک باریک لکیریں ہوتی ہیں، وہ ہر انسان کی دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے دنیا میں دستخط کے بجائے انگوٹھے کے نشان کو استعمال کیا جاتا ہے، ان لکیروں میں اتنا باریک باریک فرق ہوتا ہے کہ اربوں پدموں انسانوں کی انگلیوں کے اس فرق کو یاد رکھ کر پھر دوبارہ ویسی ہی لکیریں بنادینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بلی قدرین .................... بنانہ (75:4) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔ یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ہم تو انگلیوں کی پوریاں بھی درست کرسکتے ہیں اور پوریوں کی تخصیص شاید اس لیے کی کہ یہ اطراف بدن ہیں اور ہر چیز کے بننے کی تکمیل اس کے اطراف پر ہوتی ہے۔ چناچہ ہمارے محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ میری پور پور میں درد ہے۔ اس سے مراد تمام بدن ہوتا ہے۔ دوسرے پوریوں میں باوجود چھوٹی ہونے کے صنعت کی رعایت زیادہ اور عادۃً یہ زیادہ دشوار اور باریک کام ہے۔ لہذا جو اس پر قادر ہوگا وہ آسان پر بطریق اولیٰ قادر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ۔ } ”کیوں نہیں ! ہم تو پوری طرح قادر ہیں اس پر بھی کہ ہم اس کی ایک ایک پور درست کردیں۔“ یہاں پر بلٰیکے بعد لفظ کُنَّا محذوف ہے ‘ گویا تقدیر عبارت یوں ہے : بلٰی کُنَّا قَادِرِیْن …

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 یعنی انسان کی سوچ یہ ہے کہ ہم اس کے مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو کیونکر اکٹھا کرسکیں گے اور کیسے اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بڑی بڑی ہڈیاں تو دور کی بات ہے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کے ایک ایک پور کو مکمل کرکے اسے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پس اسے تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر جو رحم مادر میں ہوئی، غور کرلے تو بات اسے پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

2۔ (تو جو اس تک پر قادر ہے۔ اس کے لئے ہڈیوں کا اٹھا کھڑا کرنا اور ان میں جان ڈال دینا کیا مشکل ہے ! ) (آیت) ” الانسان “ اس سیاق میں انسان سے مراد ملحد، کافر ومنکر قیامت انسان ہے۔ اے الکافر المنکر للبعث (مدارک) یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” نسویہ بنانہ “۔ پورپور کو ترکیب دے دینے سے مراد جسم کی آخری اور نازک ترین ترکیبوں کا اعادہ ہے۔ ملحدوں کے انکار قیامت کی بنیاد اور کچھ نہیں، صرف اس حقیقت کا استبعاد تھا۔ آج کل کے مادیین اور کسی حد تک ” نیچریوں “ کی طرح اس سطحی عقل والوں کے نزدیک جو چیز بھی معمول عام سے، ہٹی ہو بس محال تھی ! قرآن نے اسی لئے جواب میں بار بار یہی پہلو اللہ کی قدرت کاملہ کے استحضار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–12

نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بلی . کیوں نہیں۔ یعنی اللہ ہڈیوں کو ضرور اکٹھا کر کے انسان کو زندہ کرے گا۔ قادرین . فاعل مقدر سے حال ہے اور اس سے مراد ہے مزید قدرت کا اظہار یعنی ایسی چیزوں پر قدرت کا اظہار جو انکاری چیزوں سے زیادہ اہم ہیں (یعنی ہڈیاں جمع کرنے پر تو خدا کو قدرت ہے ہی پورا پورا جوڑنے پر بھی اس کو قدرت حاصل ہے) جیسے کہا جاتا ہے کہ کیا تیرا خیال ہے کہ ہم کو تجھ پر قابو حاصل نہیں۔ ہم تجھ پر قابو رکھتے ہیں اور تجھ سے زیادہ طاقت والوں پر بھی ‘ آیت کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ ہم ہڈیاں جمع کریں گے ‘ ان کو اکٹھا کرنے پر ہم کو قدرت ہے اور علی ان نسوی بنانہ . اس کے پور پور جوڑنے پر بھی ہم قادر ہیں۔ بنان سے مراد ہیں انگلیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) کیا انسان یعنی عدی بن ربیع خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی پرانی ہڈیاں جمع کرنے پر قدرت نہیں رکھتے، ہم یقینا اس چیز پر قادر ہیں کیونکہ ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پوریوں کو جمع کردیں کہ اس کا ہاتھ اونٹ کے موزے یا جانور کے کھر کی طرح ہوجائے یا یہ کہ ہم اس کا ہاٹھ اونٹ کے موزے کی طرف کرنے پر قادر ہیں تو پھر ہم اس کی ہڈیوں کو کیوں جمع نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–4

(1) ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ…:”قدرین“ حال ہے، اس ہلے فعل محذوف ہے : ”ای بلی نجمعھا قادرین…“ ”یعنی کیوں نہیں ہم انہیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔“ (2) قیامت کے منکرین یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرات کی صورت میں بکھر جائیں تو انہیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود مع نہیں ہوسکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انہیں دوبارہ جمع نہیں کرسکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کرسکیں گے ؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ حضرت حسن بصری نے بلی پر وقف کیا پھر اگلے کلمہ سے ابتدا کی۔ سیبویہ نے کہا، اس کا معنی ہے ہم انہیں جمع کریں گے اس حال میں کہ قادر ہوں گے قادرین یہ فعل میں جو ضمیر مضمر ہے اور فاعل ہے اس سے حال ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی یہ ہے کیوں نہیں ہم قادر ہیں فراء نے کہا، قادرین کو نصب نقد اور نقوی فعل دے رہا ہے جو نجمع فعل سے سمجھا جارہا ہے یہ بھی کہا، تکریر کی وجہ سے نصب دینا بھی مناسب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بلی فلیحسبنا قادرین، ایک قول یہ کیا گیا ہے مضمر فعل کنا ہے معنی یہ ہوگا کہ ہم ابتدا میں ہی قادر تھے مشرکوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ ابن ابی عبلہ اور ابن سمیقع نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

12۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل قدرین علی ان نسوی بنانہ۔ اور ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور کو درست کردیں۔ یعنی ہم پوروں سے ایسی ہتھیلیاں بنادیں کہ اس میں انگلیاں نہ ہوں۔ 13۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت بلی قدرین علی ان نسوی بنانہ کے برے میں روایت کیا کہ ہم چاہتے تو اس کو اونٹ کے پاؤں کی طرح یا گدھے کے کھر کی طرح بنادیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو معتدل اور انتہائی حسین وجیل بنایا اے ابن آدم ! تجھے اس کے ساتھ قبض بھی کیا جاسکتا ہے اور تجھے اس کے ساتھ پھیلا یا بھی جاسکتا ہے۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلٰى: کیوں نہیں (ہم ضرور جمع کریں گے)] [قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي ان : قادر ہوتے ہوئے اس پر کہ ] [نُّسَوِّيَ بَنَانهٗ : ہم درست کردیں اس کی پور پورکو ] (ایت۔ 4) قٰدِرُوْنَ کے بجائے قٰدِرِیْنَ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس لیے بَلٰی کے بعد لَنَجْمَعَنَّ محذوف مانا جاتا ہے۔ اس طرح جملہ کا اصل مفہوم ہے کہ کیوں نہیں ! ہم لازماً جمع کریں گے قادر ہوتے ہوئے اس پر کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ 004﴾ (ہاں ہم اس پر ضرور قادر ہیں کہ ہم انسان کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں) ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع کرسکتے ہیں بلکہ اس کی جسمانی ساخت کو دوبارہ پاؤں سے لے کر سر تک اسی طرح بنا سکتے ہیں جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا انگلیوں کے پورے جو جسم میں چھوٹی چیزیں ہیں ان کو بھی حسب سابق ان کی جگہ لاسکتے ہیں۔ قال البغوی فی معالم التنزیل صفحہ 421: وقال الزجاج و ابن قتیبة : معناہ ظن الکافر انا لانقدر علٰی جمع عظامہ بلی نقدر علی ان بغیر اسلامیات علٰی صغرھا فنؤلف بینھا حتی نسوی البنان فمن قدر علی جمع صغار العظام فھو علی جمع کبارھا اقدر۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3:۔ ” ایحسب الانسان “ یہ سورت کا دعوی ہے اور منکرین قیامت پر زجر ہے۔ منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ اور مٹی میں مل کر معدوم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ جمع نہ کرسکیں گے اس لیے وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں، گویا حشر و نشر کو وہ ہماری قدرت سے بعید تصور کرتے ہیں۔ بلیٰ کے بعد نجمع مقدر ہے اور قادرین اس کے فاعل سے حال ہے۔ بنان، بنانۃ کی جمع ہے یعنی انگلیوں کی پوریں یا خود انگلیاں (روح) کیوں نہیں ہم ضرور ہڈیاں جمع کرلیں گے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کی پوریں بھی برابر کرلیں گے تو کیا اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو ہم استوار نہ کرسکیں گے ؟۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَہٗ۝ 4 قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان کوئی کام کرسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے قادرہونے کے معنی یہ ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ ۔ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 3، 4) (کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے۔ کیوں نہیں، ہم اس کے پور پور کو ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔ ) منکرین کا اعتراض اور اس کا جواب سابقہ دو آیتوں میں قسموں کی صورت میں جو دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں ان سے صرف دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ ایک یقینی امر ہے اور یہ قیامت کا پہلا مرحلہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ انسان چونکہ ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے اس کا منطقی اور فطری تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن ضرور آئے جہاں نیک اعمال کی جزاء ملے اور برے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔ ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : بَلٰی یہ نفی کے بعد ثبوت وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔ (یعنی کیوں نہیں ہم ان کو جمع کریں گے) قَادِرِیْنَ (کیوں نہیں ہم اس پر قادر ہیں) یہ نجمعؔ کی ضمیر سے حال ہے۔ ای نجمعھا قادرین علی جمعھا واعاد تھا کما کانت۔ ہم ان کو جمع کریں گے اس حال میں ان کے جمع کرنے نمبر 2 : قادرین لوٹانے پر پہلے کی طرح قادر ہیں۔ ان نسوی بنانہ ہم اس کے پوروں کو درست کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ (کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک درست کردیں) بنانہؔ سے انگلیاں مراد ہیں۔ بلا کم وکاست جیسا کہ دنیا میں تھیں۔ باوجود یکہ یہ چھوٹی سی ہیں۔ تو بڑی ہڈیوں کا خود سوچ لو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت مبارکہ کا شان نزول 3 ۔” ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ “ یہ عدی بن ربیعہ بنوزہرہ کے حلیف اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! تو مجھے میرے دو برے پڑوسیوں سے کافی ہوجا یعنی عدی اور اخنس کیونکہ عدی بن ربیعہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو کہا اے محمد ! (ﷺ ) مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں کب ہوگی ؟ اور اس کا امر اور حال کیسا ہوگا ؟ پس آپ (علیہ السلام) نے اس کو خبر دی تو اس نے کہا اگر میں آج کے دن معائنہ کرلوں تو آپ کی تصدیق نہ کروں گا اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائوں یا اللہ تعالیٰ ہڈیوں کو جمع کردیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ایحسب الانسان “ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–6

پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کردیا، پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (قال من یحی العظام وھی رمیم۔ یٰس۔ 78) کہنے لگا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ عطا کرے گا ؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریع سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 اللہ تعالیٰ کے کمال قدر کا ایک خاص مظہر حوالہ و ذکر : ایقاع قیامت کیلئے اللہ پاک کے کمال قدرت کے ایک خاص مظہر کے حوالہ و ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہاں کیوں نہیں ہم تو اس پر بھی قادر ہیں کہ جمع کردیں اس کے پورا کو تو انگلیوں کے پور جو کہ ہماری نہایت باریک اور پر حکمت کاریگری کا مظہر اور ایک عظیم الشان شاہکار ہیں ‘ ان کو بھی جب ہم ویسے ہی دوبارہ برابر بنا دینے پر قادر ہیں ‘ تو ان لوگوں کو پھر زندہ کرکے اٹھانے اور دوبارہ بنانے پر آخر ہم قادر کیوں نہ ہوں گے ؟ واضح رہے کہ انسانوں کے پوروں کی تخلیق و ترکیب قدرت کی ایک ایسی عظیم الشان صنعت و کاریگری ہے کہ عقل انسانی کو ورطہ حیرت میں ڈال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 13 اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں حشر و نشر اور جزا و سزا صرف روح کے ساتھ نہیں بلکہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوگی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہاں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:4) بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ کیوں نہیں ہم قدرت رکھتے ہیں کہ ہم اس کی پور پور درست کردیں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 3: 76) ۔ بلی حرف جواب ہے اور کلام مخاطب کی نفی اور اس کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) کلام استفہام سے خالی ہو۔ جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (2) یہ کلام استفہامی ہو۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کے جواب میں کوئی کہے بلی۔ خواہ توبیخی ہو جیسے آیت زیر غور۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ اور جواب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر میں قیامت کا دن دیکھ لوں جب بھی نہ مانوں، اور آپ پر ایمان نہ لاؤ، کیا اللہ بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کردے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور گلنے اور ریزہ ریزہ ہوکرمٹی میں ملنے اور ہواؤں کے ساتھ اڑدور دراز مقامات میں منتشر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کا جمع کرنا کافر ہماری قدرت سے باہر سمجھتا ہے ۔ یہ خیال فاسد اس کے دل میں کیوں آیا، اور اس نے کیوں نہیں جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–4

[2] یہاں جس بات پر روز قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے اس کو بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ روز قیامت کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے، اتنا ہی یقینی جتنا کہ انسان کا اپنا وجود۔ پورا نظام عالم گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ یہ ایک وقت عدم سے وجود میں آیا ہے اور ایک وقت ضرور ختم ہو کر رہے گا۔ دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ لوامہ کے معنی ملامت کرنے والے کے ہیں اور نفس لوامہ سے مراد وہ نفس انسانی ہے جو غلط کام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة القیامہ 1: لا صرف ترئین واستہلال ہے ۔ قسم سے پہلے بطور افتتاح کے عام طور پر عربی لٹریچر میں آتا ہے ۔ اصرار لقیس کے ایک قصیدہ کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎ لاوابیک انتباہ انعامری لایدعی انقوم انی افر یوم قیامت اور نفس محاسبہ میں مناسبت یہ ہے ۔ کہ دراصل برے فعل پر نفس کی ملامت نفسیاتی نقطہ نگاہ سے ہلکی کسی عقوبت اور سزا ہے ۔ اور اس کو اگر پھیلا کر آپ دیکھئے اور ممثل شکل میں ملاحظہ کیجئے گا ۔ تویہی وہ نظام قیامت ہے ۔ جس کو قرآن حکیم پیش فرماتا ہے ۔ اور جو مشرکین مکہ کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ قرآن حکیم دراصل انسان کی توجہ کو خود اس کے باطن کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہنا چاہتا ہے ۔ کہ تم لوگ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) بے شک ہم ضرورجمع کریں گے ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کے انگلیوں کی پور پور درست کردیں۔ یعنی انگلی کا پورا واجو چھوٹی سی چیز ہے اور ایک باریک باریک خطوط کی وجہ سے اس کی تیاری میں بڑی صنعت اور کاریگری کی ضرورت ہے جب حضرت حق تعالیٰ انگلیوں کے پور دے درست کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو اس کے لئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا لینا کون سا مشکل ہے عام طریقے سے پور پور بول کر تمام جسم بھی مراد لیتے ہیں کہا کرتے ہیں میں اس کی پور پور کا چوراکردوں گا یعنی تمام جسم کچل دوں گا تو گویا ہڈیوں کا جمع کرنا کیسا وہ تمام جسم کی ترتیب دینے پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 3–4

(کیا سمجھ رکھا ہے انسان نے کہ ہم نہ جمع کرسکیں گے اس کی ہڈیاں) جو پراگندہ ہوگئیں ؟ (کیوں نہیں 9 ہاں ہم جمع کریں گے اس کم فہم کو سمجھنا چاہیے کہ (ہم قدرت والے ہیں اس پر کہ ٹھیک کریں اس کے پور پور) یعنی چھوٹے اور لطیف ہونے کے باوجود اس کی انگلیوں کی پوریں اور سرے اکٹھا کرنے پر ہم قادر ہیں ، تو بڑی بڑی ہڈیوں کا اکٹھا کرنا کیا بات ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then an oft-repeated objection of the disbelievers is mentioned, that is, when they are dead and reduced to bones and dust, how will they be raised again to life. The following verse rebuts this objection, thus: بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ (Yes! We are able to reset [ even ] his fingertips perfectly... 75:4). Man is amazed and surprised and thinks that Allah is unable to gather his tiny particles that have been scattered and reassemble his decomposed bones and give him a new life. The verse effectively rebuts this objection by saying that this has happened once before.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 That is, "Not to speak of building up your skeleton once again by gathering together the major bones? We are able to make whole the most delicate parts of your body, even your finger tips, as they used to be before."

Read the full tafseer →