Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں
یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 3
اوپر کی دو دلیلیں، جو قسم کی صورت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ) ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور فطری تقاضے پورے نہیں ہو سکتے، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے کیونکہ انسان کے اندر ضمیر کی موجودگی اس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی کے بعد موت ممکن ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
نفس لوامہ کی تفسیر۔
حضرت ابن عباس اور حس بصری وغیرہ کی اس تفسیر پر نفس لوامہ کی قسم کھانا حق تعالیٰ کی طرف سے ایسے نفوس مومنہ کے اکرام وشرف کے اظہار کے لئے ہے جو خود اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے کوتاہی پر نادم ہوتے اور اپنے کو ملامت کرتے ہیں۔
نفس لوامہ اور مطمئنہ۔
اور نفس لوامہ کی اس تفسیر کے مطابق یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے لوامہ اور مطمئنہ دونوں نفسم متقی کے لقب ہیں۔
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ
اور حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت و فطرت کے اعتبار سے امارة بالسو ہوتا ہے یعنی انسان کو برے کاموں کی طرف بلانے اور اسمیں مبتلا کرنے کا داعی ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
حقیقت سے فرار کے لیے منکرین قیامت کی سخن سازی:
اگرچہ لفظ ’انسان‘ عام ہے لیکن روئے سخن قریش کے انہی منکرین قیامت کی طرف ہے جن کے شبہات پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں۔ ان سے اظہار بیزاری کے لیے بات عام لفظ سے فرما دی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لیے یہ شہادت تو ہر انسان کے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ لوگ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد ہم ان کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ چیز ان کو بعید از امکان نظر آئی ہے اور اس بنا پر وہ اپنے ضمیر کی شہادت کے خلاف قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہم ان کی…
Read the full tafseer →3۔ 1 یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالیٰ یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1: ملامت کرنے والے نفس سے مراد انسان کا وہ ضمیر ہے جو اسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفس امارہ یعنی برائی پر مائل کرنے والا (دیکھئے : 53)۔ دوسرے نفس لوامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے : 27)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور برائی کے تقاضے اس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی…
Read the full tafseer →ایحسب ........................ بنانہ (57 : 3۔ 4) ” کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ مشرکین مکہ اس شعوری خلجان میں مبتلا تھے کہ پرانی ہڈیوں کو کس طرح یکجا کرکے انسان بنادیا جائے گا جبکہ یہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوں اور زمین میں بکھر گئی ہوں ، کس طرح انسان کو بعینہ اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور یہ خلجان آج تک بعض دلوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید نہایت تاکید کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہوگا اور لازماً ہوگا۔
Read the full tafseer →8 یعنی یہ خیال ہے کہ ہڈیوں تک کا چورا ہوگیا اور ان کے ریزے مٹی وغیرہ کے ذرات میں جا ملے۔ بھلا اب کس طرح اکٹھے کر کے جوڑ دیے جائیں گے ؟ یہ چیز تو محال معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2{ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔ } ”اور نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔“
نفس ِلوامہ ّکے لغوی معنی ہیں ملامت کرنے والا نفس۔ اس سے مراد انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرف عام میں ضمیر conscience کہتے ہیں۔ اس آیت میں نفس لوامہ یا انسانی ضمیر کو قیام قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انسانی نفس لوامہ یا ضمیر ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان ‘ کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا۔ ”میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے“ یا ”My conscience is biting me“ جیسے جملے دنیا بھر کے انسانوں کے ہاں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ اگر آپ کوئی غلط یا برا کام کریں تو اندر سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 نفس انسانی کی تین حالتیں :۔ نفس انسانی کی تین مختلف قسمیں یا حالتیں ہیں اور یہ سب قرآن کی مختلف آیات سے ثابت ہیں۔ نفس کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ عموماً بری باتوں کا ہی انسان کو حکم دیتا ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف ذاتی مفادات کا حصول، اپنی بڑائی اور اپنی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا وہ دوسروں کے حقوق و مفادات کی پروا کیے بغیر خواہشات پیدا کرتا اور ان کو پورا کرنے کے لیے انسان کو اکساتا رہتا ہے۔ نفس کی ایسی حالت کو نفس امارۃ کہا گیا ہے (12: 53) پھر جب اس نفس کی کسی حد تک اصلاح ہوجاتی ہے تو اسے کوئی برا کام کرلینے کے بعد ایک طرح کی ندامت اور خفت کا احساس ہونے لگتا ہے تو نفس کی اس حالت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (تو جو اس تک پر قادر ہے۔ اس کے لئے ہڈیوں کا اٹھا کھڑا کرنا اور ان میں جان ڈال دینا کیا مشکل ہے ! ) (آیت) ” الانسان “ اس سیاق میں انسان سے مراد ملحد، کافر ومنکر قیامت انسان ہے۔ اے الکافر المنکر للبعث (مدارک) یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” نسویہ بنانہ “۔ پورپور کو ترکیب دے دینے سے مراد جسم کی آخری اور نازک ترین ترکیبوں کا اعادہ ہے۔ ملحدوں کے انکار قیامت کی بنیاد اور کچھ نہیں، صرف اس حقیقت کا استبعاد تھا۔ آج کل کے مادیین اور کسی حد تک ” نیچریوں “ کی طرح اس سطحی عقل والوں کے نزدیک جو چیز بھی معمول عام سے، ہٹی ہو بس محال تھی ! قرآن نے اسی لئے جواب میں بار بار یہی پہلو اللہ کی قدرت کاملہ کے استحضار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ :
حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔
یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…
Read the full tafseer →ایحسب الانسان . استفہام انکاری و توبیخی ہے۔ الانسان سے مراد ہے جنس انسان جس میں وہ شخص بھی داخل ہے جو منکر بعث و حشر تھا یا الف لام عہدی ہے اور کوئی معین شخص مراد ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی۔ عدی خاندان زہری کا حلیف اور اخنس بن شریق ثقفی کا داماد تھا۔ عدی اور اخنس ہی کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : الٰہی ! مجھے میرے برے ہمسائے سے محفوظ رکھ۔
بات یہ ہوئی کہ عدی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد ﷺ مجھے بتاؤ ‘ قیامت کب ہوگی ‘ اس کے کیا احوال ہوں گے ؟ حضور ﷺ نے اس کو قیامت کی کیفیت بتائی ‘ کہنے لگا : اگر میں قیامت کو دیکھ بھی لوں تب بھی تمہاری بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) کیا انسان یعنی عدی بن ربیع خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی پرانی ہڈیاں جمع کرنے پر قدرت نہیں رکھتے، ہم یقینا اس چیز پر قادر ہیں کیونکہ ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پوریوں کو جمع کردیں کہ اس کا ہاتھ اونٹ کے موزے یا جانور کے کھر کی طرح ہوجائے یا یہ کہ ہم اس کا ہاٹھ اونٹ کے موزے کی طرف کرنے پر قادر ہیں تو پھر ہم اس کی ہڈیوں کو کیوں جمع نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(1) ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ…:”قدرین“ حال ہے، اس ہلے فعل محذوف ہے : ”ای بلی نجمعھا قادرین…“ ”یعنی کیوں نہیں ہم انہیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔“
(2) قیامت کے منکرین یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرات کی صورت میں بکھر جائیں تو انہیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود مع نہیں ہوسکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انہیں دوبارہ جمع نہیں کرسکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کرسکیں گے ؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ…
Read the full tafseer →ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ۔ کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے اور اسے نئی صورت میں پیدا کردیں گے جب کہ وہ ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ زجاج نے کہا، یوم قیامت اور نفس لوامہ کی قسم اٹھائی جواب قسم یہ ہے، لیجمعن العظام للبعث۔ وہ دوبارہ اٹھانے کے لیے ہڈیوں کو ضرور جمع کرے گا۔ ضحاک نے کہا، جواب قسم محذوف ہے یعنی تمہیں ضرور دوبارہ اٹھایاجائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ایحسب الانسان، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو بعثت کا انکار کرتا ہے یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی کریم سے عرض کی مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے وہ کب واقع ہوگی اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
نفس لوامہ کی تفسیر
7۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامۃ سے مراد ہے مذمت کیا ہوا۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت باالنفس اللوامۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ایسا نفس جو خیر اور شر دونوں پر ملامت کرتا ہے اور کہتا ہے اگر تو اس کو اس طرح اور اس طرح کرتا۔
9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد وہ نفس ہے جو اس پر نادم ہوتا ہے جو اس سے فوت ہوجائے اور اس پر ملامت کرتا ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد ہے وہ نفس جو اس پر ندامت کا اظہار کرتا…
Read the full tafseer →[اَيَحْسَبُ الْانسَان اَلَنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ : کیا گمان کرتا ہے انسان کہ ہم ہرگز جمع نہیں کریں گے اس کی ہڈیوں کو ]
ترکیب : (آیت۔ 3) اَلَّنْ میں ہمزہ استفہام نہیں ہے۔ اگر یہ ہمزئہ استفہام ہوتا تو اَلَنْ آتا۔ لام پر تشدید بتارہی ہے کہ یہ دراصل اَنْ لَّنْ ہے اور اَنْ کا نون گرا ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس مقام پر اَنْ کے نون کو گرا کر لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے، ورنہ عام عربی میں اس کو اَنْ لَّنْ ہی لکھتے ہیں البتہ پڑھتے اَلَّنْ ہیں۔
نوٹ 3: آیات ۔ 3 ۔ 4 ۔ کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں اس پر تعجب ہے کہ مَیّت کے ذرات منتشرہ اور بوسیدہ ہڈیوں کو جمع کیسے کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ بات ایک مرتبہ مشاہدہ میں…
Read the full tafseer →﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ003﴾ (کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہرگز ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” ایحسب الانسان “ یہ سورت کا دعوی ہے اور منکرین قیامت پر زجر ہے۔ منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ اور مٹی میں مل کر معدوم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ جمع نہ کرسکیں گے اس لیے وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں، گویا حشر و نشر کو وہ ہماری قدرت سے بعید تصور کرتے ہیں۔ بلیٰ کے بعد نجمع مقدر ہے اور قادرین اس کے فاعل سے حال ہے۔ بنان، بنانۃ کی جمع ہے یعنی انگلیوں کی پوریں یا خود انگلیاں (روح) کیوں نہیں ہم ضرور ہڈیاں جمع کرلیں گے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کی پوریں بھی برابر کرلیں گے تو کیا اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو ہم استوار نہ کرسکیں گے ؟۔
Read the full tafseer →اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ 3 ۭ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ ۔ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَـہٗ ۔ (القیامۃ : 3، 4)
(کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے۔ کیوں نہیں، ہم اس کے پور پور کو ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔ )
منکرین کا اعتراض اور اس کا جواب
سابقہ دو آیتوں میں قسموں کی صورت میں جو دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں ان سے صرف دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ ایک یقینی امر ہے اور یہ قیامت کا پہلا مرحلہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ انسان چونکہ ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے اس کا منطقی اور فطری تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا دن ضرور آئے جہاں نیک اعمال کی جزاء ملے اور برے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔
قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔
” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور…
Read the full tafseer →3 : اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ (کیا انسان خیال کرتا ہے) کافر انسان جو کہ بعث بعد الموت کا منکر ہے۔ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ (کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے) ان کے منتشر ہوجانے اور مٹی کے ذرات میں ریزہ ریزہ ہو کر ملنے کے بعد۔
Read the full tafseer →2 ۔” ولا اقسم بالنفس اللوامۃ “ الف کے ساتھ اور اسی طرح عبدالرحمن اعرج نے پڑھا ہے اس معنی پر کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم کھائی ہے اور نفس لوامہ کی قسم نہیں کھائی اور صحیح یہ ہے کہ ان دونوں کی قسم کھائی ہے اور ” لا “ ان دونوں میں صلہ ہے یعنی میں روز قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔ ابوبکر بن عیاش (رح) فرماتے ہیں یہ قسم کی تاکید ہے جیسے تیرا قول ” لا واللہ “ اور فراء (رح) فرماتے ہیں لا مشرکین منکرین کے کلام کی تردید ہے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ” اقسم بیوم القیامۃ وبالنفس اللوامۃ “ اور مغیرہ بن شعبہ (رح) فرماتے ہیں وہ کہتے ہیں قیامت اور ان میں کسی کی قیامت اس کا مرجانا ہے اور علقمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کردیا، پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (قال من یحی العظام وھی رمیم۔ یٰس۔ 78) کہنے لگا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ عطا کرے گا ؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریع سے اس…
Read the full tafseer →4 منکرین قیامت کے استبعاد کا ذکر وبیان : سو منکرین قیامت کے استبعاد کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم جمع نہ کرسکیں گے اس کی ہڈیوں کو ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا " قال من یحی العظام وھی رمیم " (یٰسین :78) یعنی ایسا منکر انسان کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ان ہڈیوں کو جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟ کہ ان پر سینکڑوں ‘ ہزاروں ‘ لاکھوں برس گزر گئے ہوں گے اور وہ گل سڑ کر ختم ہوچکی ہوں گی ‘ جیسا کہ کفار کا کہنا تھا " من یحی العظام و ھی رمیم " سو ایسے منکر لوگوں سے اس سوال کے انداز میں فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے
تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 13 اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں حشر و نشر اور جزا و سزا صرف روح کے ساتھ نہیں بلکہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوگی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہاں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →(75:3) ایحسب الانسان۔ استفہام انکاری و توبیخی ہے۔ یحسب مضارع معروف واحد مذکر غائب حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ خیال کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے ، اس کو ایسا نہ کرنا چاہیے۔ الانسان : میں الف لام جنس کا ہے اس سے جنس انسان مراد ہے جس میں وہ شخص بھی داخل ہے جو منکر بعث و حشر تھا۔
یا الف لام عہدی ہے اور کوئی معین شخص مراد ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی۔ عدی خاندان زہرہ کا حلیف اور اخنس بن شریق ثقفی کا داماد تھا ۔ عدی اور اخنس کے سلسلہ میں ہی رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی۔ الٰہی مجھے میرے برے ہمسائے سے محفوظ رکھ۔
بات یہ ہوئی کہ عدی نے خدمت گرامی میں حاضر ہوکر عرض کی کہ اے محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر میں قیامت کا دن دیکھ لوں جب بھی نہ مانوں، اور آپ پر ایمان نہ لاؤ، کیا اللہ بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کردے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور گلنے اور ریزہ ریزہ ہوکرمٹی میں ملنے اور ہواؤں کے ساتھ اڑدور دراز مقامات میں منتشر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کا جمع کرنا کافر ہماری قدرت سے باہر سمجھتا ہے ۔ یہ خیال فاسد اس کے دل میں کیوں آیا، اور اس نے کیوں نہیں جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
[2] یہاں جس بات پر روز قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے اس کو بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ روز قیامت کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے، اتنا ہی یقینی جتنا کہ انسان کا اپنا وجود۔ پورا نظام عالم گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ یہ ایک وقت عدم سے وجود میں آیا ہے اور ایک وقت ضرور ختم ہو کر رہے گا۔ دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ لوامہ کے معنی ملامت کرنے والے کے ہیں اور نفس لوامہ سے مراد وہ نفس انسانی ہے جو غلط کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القیامہ
1: لا صرف ترئین واستہلال ہے ۔ قسم سے پہلے بطور افتتاح کے عام طور پر عربی لٹریچر میں آتا ہے ۔ اصرار لقیس کے ایک قصیدہ کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎
لاوابیک انتباہ انعامری
لایدعی انقوم انی افر
یوم قیامت اور نفس محاسبہ میں مناسبت یہ ہے ۔ کہ دراصل برے فعل پر نفس کی ملامت نفسیاتی نقطہ نگاہ سے ہلکی کسی عقوبت اور سزا ہے ۔ اور اس کو اگر پھیلا کر آپ دیکھئے اور ممثل شکل میں ملاحظہ کیجئے گا ۔ تویہی وہ نظام قیامت ہے ۔ جس کو قرآن حکیم پیش فرماتا ہے ۔ اور جو مشرکین مکہ کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ قرآن حکیم دراصل انسان کی توجہ کو خود اس کے باطن کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہنا چاہتا ہے ۔ کہ تم لوگ…
Read the full tafseer →(3) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو ہرگز جمع نہ کریں گے۔ یعنی جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئیں ان کا جمع کرنا اور اکٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کے بس کی بات نہیں اور خدا تعالیٰ ان کے جمع کرنے سے عاجز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 2۔ انسان سے مراد کافر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(کیا سمجھ رکھا ہے انسان نے کہ ہم نہ جمع کرسکیں گے اس کی ہڈیاں) جو پراگندہ ہوگئیں ؟ (کیوں نہیں 9 ہاں ہم جمع کریں گے اس کم فہم کو سمجھنا چاہیے کہ (ہم قدرت والے ہیں اس پر کہ ٹھیک کریں اس کے پور پور) یعنی چھوٹے اور لطیف ہونے کے باوجود اس کی انگلیوں کی پوریں اور سرے اکٹھا کرنے پر ہم قادر ہیں ، تو بڑی بڑی ہڈیوں کا اکٹھا کرنا کیا بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Interpretation of Lawwarnah
Sayyidna Ibn ` Abbas, Hasan al-Basri and others have expressed the view that Allah has sworn an oath by the self-reproaching conscience in order to show honour for the believing souls who take account of their deeds, regret, and feel sorry for, their shortcomings and reproach themselves. Three kinds of Nafs
The foregoing interpretation of An-nafs-ul-lawwamah embraces An-nafs-ul-mutma` innah. The two terms are titles of a God-fearing
person.
In Sufi terminology, we come across the following concepts. The noble Sufis say that man in his nature goes through three…
Read the full tafseer →3 The above two arguments, which have been presented in the form of the oaths, only prove two things. First, that the end of the world (i.e. the first stage of Resurrection) is a certainty; and second, that another life after death is necessary, for without it the logical and natural demands of man's being a moral being cannot be fulfilled; and this will certainly happen, for the existence of the Conscience in man testifies to it. Now, this third argument has been given to prove that life after death is possible. The people of Makkah who denied it, said again and again: "How can it be that…
Read the full tafseer →