Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں
یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 2
قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس کا نام نفس مطمئنہ ہے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
نفس لوامہ کی تفسیر۔
حضرت ابن عباس اور حس بصری وغیرہ کی اس تفسیر پر نفس لوامہ کی قسم کھانا حق تعالیٰ کی طرف سے ایسے نفوس مومنہ کے اکرام وشرف کے اظہار کے لئے ہے جو خود اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے کوتاہی پر نادم ہوتے اور اپنے کو ملامت کرتے ہیں۔
نفس لوامہ اور مطمئنہ۔
اور نفس لوامہ کی اس تفسیر کے مطابق یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے لوامہ اور مطمئنہ دونوں نفسم متقی کے لقب ہیں۔
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ
اور حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت و فطرت کے اعتبار سے امارة بالسو ہوتا ہے یعنی انسان کو برے کاموں کی طرف بلانے اور اسمیں مبتلا کرنے کا داعی ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح…
Read the full tafseer →نفس لوامہ کی شہادت قیامت پر:
یہ دوسری قسم ہے اور اس کا مقسم علیہ بھی مذکور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقسم علیہ خود قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر نفس لوامہ کا وجود شاہد ہے کہ قیامت حق ہے۔ گویا اس دوسری قسم نے قسم ہی کے پیرایہ میں دعوے اور دلیل دونوں کی وضاحت کر دی اور اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ قیامت کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ اس کا عکس ہر انسان کے اپنے باطن کے اندر موجود ہے اور وہ اس کو دیکھتا بھی ہے اگرچہ اس کی تردید میں کتنی ہی دلیل بازیاں کرے۔
’نفس لوامہ‘ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا ؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1: ملامت کرنے والے نفس سے مراد انسان کا وہ ضمیر ہے جو اسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفس امارہ یعنی برائی پر مائل کرنے والا (دیکھئے : 53)۔ دوسرے نفس لوامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے : 27)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور برائی کے تقاضے اس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔
قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا…
Read the full tafseer →7 محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو " مطمئنہ " کہتے ہیں۔ (يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ 27 ڰ ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً 28ۚ ) 89 ۔ الفجر :28-27) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو نفس " امارہ " کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے۔ (وَمَآ اُبَرِّئُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2{ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔ } ”اور نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔“
نفس ِلوامہ ّکے لغوی معنی ہیں ملامت کرنے والا نفس۔ اس سے مراد انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرف عام میں ضمیر conscience کہتے ہیں۔ اس آیت میں نفس لوامہ یا انسانی ضمیر کو قیام قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انسانی نفس لوامہ یا ضمیر ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان ‘ کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا۔ ”میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے“ یا ”My conscience is biting me“ جیسے جملے دنیا بھر کے انسانوں کے ہاں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ اگر آپ کوئی غلط یا برا کام کریں تو اندر سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 نفس انسانی کی تین حالتیں :۔ نفس انسانی کی تین مختلف قسمیں یا حالتیں ہیں اور یہ سب قرآن کی مختلف آیات سے ثابت ہیں۔ نفس کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ عموماً بری باتوں کا ہی انسان کو حکم دیتا ہے۔ اس کا مطمح نظر صرف ذاتی مفادات کا حصول، اپنی بڑائی اور اپنی کبریائی کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا وہ دوسروں کے حقوق و مفادات کی پروا کیے بغیر خواہشات پیدا کرتا اور ان کو پورا کرنے کے لیے انسان کو اکساتا رہتا ہے۔ نفس کی ایسی حالت کو نفس امارۃ کہا گیا ہے (12: 53) پھر جب اس نفس کی کسی حد تک اصلاح ہوجاتی ہے تو اسے کوئی برا کام کرلینے کے بعد ایک طرح کی ندامت اور خفت کا احساس ہونے لگتا ہے تو نفس کی اس حالت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (آیت) ” لا “۔ قسم کے ساتھ تاکید معنی کے لئے آتا ہے۔ اور اس کا یہ استعمال کلام عرب میں عام ہے۔ ادخال لاالنافیۃ علی فعل القسم مستفیض فی کلامھم واشعارھم وفائدتھا توکیدالقسم (کشاف) لاقبل القسم لتاکید النفی (ابن کثیر) (آیت) ” بالنفس اللوامۃ “۔ نفس لوامہ یہ ہے کہ بندہ سے جب عمل خیر صادر ہو تو یہ اس پر جرح کر کر کے اس میں عیب نکالا کرے کہ اس میں اخلاص شامل نہ تھا، عمل میں فلاں جزء کیکمی رہ گئی، وقس علی ھذا اور جب معصیت سرزد ہوجائے تو اس پر بہت ہی نادم وسرنگوں ہو۔ الاشبہ بظاہر التنزیل انھا اللتی تلوم صاحبھا علی الخیر والشروتندم علی مافات (ابن کثیر) قرآن مجید میں نفس کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ :
حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔
یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…
Read the full tafseer →ولا اقسم بالنفس اللوامۃ . اس میں بھی لا زائد ہے صرف قسم کا مفہوم مراد ہے (نفی قسم مراد نہیں) قسم کا
جواب (جس امر کو قسم کھا کر ظاہر کیا گیا ہے) محذوف ہے۔ آئندہ کلام اس کا قرینہ ہے یعنی ضرور تمہارا حشر ہوگا ‘ ضرور تمہارا حساب ہوگا ‘ ضرور ہر شخص کو اس کے اچھے ‘ برے عمل کا بدلہ ملے گا۔
ابوبکر بن عیاش نے کہا : لا تاکید قسم کے لیے ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ فعل قسم پر لا تاکید قسم کے لیے لانا کلام عرب میں بکثرت ہے۔ میں کہتا ہوں فعل قسم پر نفی لانے میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آئندہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے ‘ وہ بالکل واضح ناقابل انکار ہے۔ قسم کھا کر مؤکد کرنے کی اس کو ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی کہ وہ ضرور ہوگی اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی خواہ نیک ہو یا گناہ گار جو کہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔
نیک انسان تو عذاب وثواب کا مشاہدہ کر کے کہے گا کاش میں اور نیکیاں کرتا اور بدکار کہے گا کاش میں گناہوں سے پاک صاف ہوتا۔
اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نفس نامہ ہے یا یہ کہ وہ نفس جو کہ گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے کو اس پر ملامت کرے یا یہ کہ اس سے نفس کافر اور فاجر مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) لا اقسم بیوم القیمۃ…:”القیمۃ“ ”قیام“ مصدر ہے ، کھڑا ہونا، تاء ”ایک دفعہ“ کا معنی ادا کرنے کے لئے ہے، یعنی آدمی کا ایک دفعہ کھڑا ہونا۔ یہاں یہ تنبیہ کے لئے لائی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع دفعتاً ہوگا۔ (راغب)”یوم القیامۃ“ کا معنی ہوگا ایک ہی دفعہ اٹھ کھڑے ہونے کا دن۔ ”اللوامۃ“”لام یلوم“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ملامت کرنے والا، جیسے ”علامۃ“ اور ”فھامۃ“ ہے۔
(2) ”لااقسم“ کا معنی یہ نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا، بلکہ ”لا“ الگ ہے اور ”قاسم“ الگ۔ معنی یہ ہے کہ نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ عرب کے ہاں یہ محاورہ عام ہے ”لا واللہ“ یعنی جب کوئی شخص انکار کر رہا ہو تو پہلے اس کے انکار کی…
Read the full tafseer →ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ اس میں قراء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم اٹھائی ہے اس کی تعظیم بیان کرنے کے لیے اور نفس کی قسم نہیں اٹھائی، ابن کثیر کی قرات کے مطابق پہلے کی قسم اٹھائی اور دوسری قسم نہیں اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ دوسرارد ہے اور نفس لوامہ سے قسم کی ابتداء ہے۔ ثعلبی نے کہا، صحیح یہ ہے کہ دونوں کے ساتھ اکٹھے قسم اٹھائی، نفس لوامہ سے مراد مومن کا نفس ہے، تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنی ذات کو ملامت کررہا ہوگا، وہ کہے گا میں نے اس سے کس چیز کا ارادہ کیا ؟ تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنے آپ کو عتاب کررہا ہوگا، یہ حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
نفس لوامہ کی تفسیر
7۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامۃ سے مراد ہے مذمت کیا ہوا۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت باالنفس اللوامۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ایسا نفس جو خیر اور شر دونوں پر ملامت کرتا ہے اور کہتا ہے اگر تو اس کو اس طرح اور اس طرح کرتا۔
9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد وہ نفس ہے جو اس پر نادم ہوتا ہے جو اس سے فوت ہوجائے اور اس پر ملامت کرتا ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد ہے وہ نفس جو اس پر ندامت کا اظہار کرتا…
Read the full tafseer →[وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ : اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں باربار ملامت کرنے والے نفس کی ]
نوٹ۔ 2: نفس لوامہ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا ہے۔ اور اس کے لیے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پانے والا ہے اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ رکھے گا وہ نامراد ہوگا۔ سورة الشمس میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے ” اور گواہ ہے نفس اور اس کی تشکیل۔ پس اس کو الہام کردی اس کی بدی اور نیکی۔ جس نے اس کو پاک رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
انسان قیامت کا انکار کرتا ہے تاکہ فسق و فجور میں لگا رہے، اسے اپنے اعمال کی خبر ہے اگرچہ بہانہ بازی کرے، قیامت کے دن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ ہو گی
یہاں سے سورة القیامہ شروع ہو رہی ہے اس میں قیامت کے احوال بیان فرمائے ہیں اور انسان کی موت کے وقت کی حالت بتائی ہے اور انسانوں کو آخرت کے لیے فکر مند ہونے کی تنبیہ فرمائی ہے۔
مشرکین وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ مردہ ہڈیوں میں جان کیسے پڑے گی ؟ اور ہڈیاں کیسے جمع کی جائیں گی اسی طرح ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ عدی بن ربیعہ ایک آدمی تھا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے محمد مجھے بتا دیجئے قیامت کب ہوگی کیسے ہوگی کیا کیا احوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے جو کلام عرب میں تاکید کے لیے آتا ہے جواب قسم محذوف ہے بقرینہ ما بعد ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری) ۔ یعنی تم ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور تم سے ضرور حساب لیا جائے گا۔ اس لیے قیامت کو مان لو اور اعراض نہ کرو۔ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں ثبوت قیامت پر دو قسمیں بطور شہادت پیش کی گئی ہیں۔ اول خود یوم قیامت کو قیامت پر بطور شاہد پیش فرمایا ہے۔ ہزاروں لاکھوں انسان قیامت کے ہول اور اس کے شدائد سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں تو آخر وہ کوئی چیز تو ہے ہی جس سے وہ خائف ہیں۔ تائید : ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ۔ تا۔ یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “ (نور رکوع…
Read the full tafseer →وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ 2 ۭ
نفس
الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لَآ اَقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ ۔ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ۔ (القیامۃ : 1، 2)
(نہیں، میں قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی۔ اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ )
قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال
قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال ایک خاص اسلوب ہے جس کی ہم اس سے پہلے متعدد مقامات پر وضاحت کرچکے ہیں۔ ” لا “ نہ یہاں زائد ہے اور نہ فعلِ قسم کا حصہ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ایک بات چل رہی ہے۔ متکلم اس کی تردید دلیل کے ساتھ کرنا چاہتا ہے لیکن دلیل دینے سے پہلے وہ ” لا “ کے استعمال سے اس بات کی نفی کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اس حد تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : انسان کی گمراہی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب آخرت کی جوابدہی سے لاپرواہ ہونا اور اس کا انکار کرنا ہے اس لیے سورة القیامہ کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ اس میں قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور ان کے دلائل کی تردید کی گئی ہے۔
قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور دلائل کی نفی کرنے کے لیے اس سورت کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن کی قسم ! جو لوگ قیامت قائم ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے عقیدہ اور دلائل میں جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر قیامت کی قسم اٹھائی ہے ظاہر ہے کہ اگر قیامت کا کوئی وجود نہیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی قسم اٹھانے کی…
Read the full tafseer →2 : وَلَآ اُقسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ جمہور کا مسلک ہے کہ یہ دوسری قسم ہے۔
قول حسن (رح) :
قیامت کی قسم اٹھائی اور نفس لوامہ کی قسم نہیں اٹھائی اس لئے کہ یہ مذمت والی صفت ہے اور قسم کی صورت میں مدح والی حالت ہے۔ یعنی وہ تقویٰ والا نفس جو تقویٰ میں کوتاہی پر اپنے کو ملامت کرتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ آدم (علیہ السلام) کا نفس ہے جو اپنے فعل پر ملامت کرتا رہا جس کی وجہ سے جنت سے نکلے تھے۔ قسم کا جواب محذوف ہے : ای لتبعثن کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے اس کی دلیل ایحسب الانسان ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔” لااقسم بیوم القیمۃ “ قو اس نے ابن کثیر (رح) سے ” لاقسم “ پڑھا ہے پہلا حرف بغیر الف کے ہمزہ سے پہلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ) اور نفس لوامہ کی قسم۔ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردد، اے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لوامہ) سے موسوم کیا گیا ہے نیز اس بنا پر اس کو لوامہ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کو تاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
3 نفس لوامہ کی قسم اور اس کا مطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ " یہ بھی اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ انسان کے اندر بھلے برے کی تمیز اور اچھائی برائی کا فرق بہرحال ہمیشہ موجود رہا ہے ‘ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا موقع اور وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس لوامہ یا بالفاظ دیگر انسانی ضمیر کی موجودگی بھی اسی بات کی متقاضی ہے کہ قیامت قائم ہو ‘ تاکہ انصاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے
تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →ف 12 چونکہ قیامت کے دن ہی اس ملامت کا ظہور ہوگا حتی کہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نیک لوگ بھی اپنے آپ کو ملامت کرینگے کہ کیوں نہ زیادہ نیکی حاصل کرلی اس لئے مجازاۃ کے وقوع پر ” نفس لوامۃ “ کی قسم کھا کر اس کو بطور شاہد پیش کیا ہے۔ (راز) اور یوم قیامت چونکہ مجازۃ کا ظرف ہوگا لہٰذا اس کا تعلق بھی ظاہر ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” آدمی کا جی اول کھیل اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو کہتے ہیں ” امارۃ بالسوء “ (سورۃ یوسف 53) پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھا تو باز آیا۔ کبھی اپنی خو پر دوڑ پڑا۔ پیچھے پھر آپ کو الاہنا دیا (ملامت کی) ویسا جی ہے لوامہ پھر جب پورا سنور گیا دل…
Read the full tafseer →(75:2) ولا اقسم بالنفس اللوامۃ : اور قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ النفس اللوامۃ موصوف و صفت۔ اللوامۃ، لام یلوم لوم (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مؤنث مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ملامت کرنے والی۔ النفس اللوامۃ سے کیا مراد ہے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) النفس اللوامۃ میں لام جنسی ہے ہر نفس مراد ہے (کافر ہو یا مؤمن) نیک یو یا بد۔ فراء نے کہا ہے کہ ہر شخص نیک ہو یا بد قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ اگر اس نے اچھے کام کئے ہوں گے تو نفس سے کہے گا۔ اس سے زیادہ تو نے نیکی کیوں نہیں کی ! اور بدی کی ہوگی تو کہے گا تو نے برے کام کیوں کئے ۔ (فرائ)
(2) اس سے کافر مراد ہے ہر کافر قیامت کے دن اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →نفس کی تشریح۔
(ف 1) محقیقین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں، اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت وفرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو مطمئنہ کہتے ہیں، یا ایتھا النفس المطمئنہ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ۔ اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات مین پھنس کر بدی کی طرف رغبت کی اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو نفس امارہ کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کی برائی کا حکم کرت ا ہے ، وما ابری نفسی ، ان النفس لامارۃ ، الامارحم ربی۔ یوسف رکوع 7) اور اگر کبھی عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
[2] یہاں جس بات پر روز قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے اس کو بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ روز قیامت کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے، اتنا ہی یقینی جتنا کہ انسان کا اپنا وجود۔ پورا نظام عالم گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ یہ ایک وقت عدم سے وجود میں آیا ہے اور ایک وقت ضرور ختم ہو کر رہے گا۔ دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ لوامہ کے معنی ملامت کرنے والے کے ہیں اور نفس لوامہ سے مراد وہ نفس انسانی ہے جو غلط کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة القیامہ
1: لا صرف ترئین واستہلال ہے ۔ قسم سے پہلے بطور افتتاح کے عام طور پر عربی لٹریچر میں آتا ہے ۔ اصرار لقیس کے ایک قصیدہ کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎
لاوابیک انتباہ انعامری
لایدعی انقوم انی افر
یوم قیامت اور نفس محاسبہ میں مناسبت یہ ہے ۔ کہ دراصل برے فعل پر نفس کی ملامت نفسیاتی نقطہ نگاہ سے ہلکی کسی عقوبت اور سزا ہے ۔ اور اس کو اگر پھیلا کر آپ دیکھئے اور ممثل شکل میں ملاحظہ کیجئے گا ۔ تویہی وہ نظام قیامت ہے ۔ جس کو قرآن حکیم پیش فرماتا ہے ۔ اور جو مشرکین مکہ کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ قرآن حکیم دراصل انسان کی توجہ کو خود اس کے باطن کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہنا چاہتا ہے ۔ کہ تم لوگ…
Read the full tafseer →(2) اورقسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہے (کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے)- یعنی کفار عام طور سے قیامت کا انکار کرتے ہیں اور ان کو قیامت کا یقین نہیں آتا اور یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب دینے کے قائل نہیں ہوتے اور گھبراتے ہیں اس لئے نہایت سختی سے اس کا انکار کرتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے شبہات پیش کرتے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ یہ اس بات سے اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہیں کہ وہ انسان کو اس کے مرے پیچھے زندہ نہیں کرسکتا حضرت حق تعالیٰ نے اس سورت میں قسم کھا کر ان کے تاکیدی انکار کر رد کیا ہے۔
چنانچہ پہلی قسم تو روز قیامت کی کھائی اور دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی چونکہ لوامہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ جواب قسم محذوف ہے، یعنی تم ضرور مبعوث ہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لا نفی کا فعل قسم میں تاکید کے واسطے ہوتا ہے ، تو معنی یہ ہیں کہ ۔۔۔
البتہ قسم کھاتا ہوں میں ، تو پھر (نہیں کیا میں قسم یاد کرتا ہوں قیامت کے دن کی) اس کی عظمت وہیبت اور اپنی شان قدرت کو ظاہر کرنے کے لیے (اور قسم ہے اس جان کی جو اپنی بیحد ملامت کرتی رہتی ہے ) ۔
اس سے نفس متقیہ مراد ہے کہ نفس مقصرہ تو تقصیر طاعت کے سبب سے ملامت کرتا ہے۔ یا۔۔۔ وہ نفس مقصود ہے جو اپنے کو ہمیشہ تقصیروں میں ملامت کیا کرتا ہے ، اگرچہ عبادتوں میں اس کی کوششیں اور محنتیں بہت ہوں۔ یا۔۔ نفس مطمئنہ مراد ہے جو نفس امارہ کو ہمیشہ ملامت کیا کرتا ہے۔ روایت ہے کہ عدی بن ربیعہ نے آنحضرت سے قیامت کا حال پوچھا۔ جب حضرت نے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Interpretation of Lawwarnah
Sayyidna Ibn ` Abbas, Hasan al-Basri and others have expressed the view that Allah has sworn an oath by the self-reproaching conscience in order to show honour for the believing souls who take account of their deeds, regret, and feel sorry for, their shortcomings and reproach themselves. Three kinds of Nafs
The foregoing interpretation of An-nafs-ul-lawwamah embraces An-nafs-ul-mutma` innah. The two terms are titles of a God-fearing
person.
In Sufi terminology, we come across the following concepts. The noble Sufis say that man in his nature goes through three…
Read the full tafseer →2 The Qur'an has mentioned three kinds of human self:
(1) Ammarah: the self that urges man to evil;
(2) Lawwamah: the self that feels repentant at doing wrong, thinking wrong and willing wrong and reproaches man for this; and the same is called Conscienc in modern terminology; and
(3) Mumta'innah: the self that feels full satisfaction at following the right path and abandoning the wrong path. Here. the thing for which. Allah has sworn an oath by the Resurrection (al- Qiyamah) and the self-reproaching Self, has not been mentioned, for the following sentence itself points it out. The oath has…
Read the full tafseer →