Al-Qiyaama 75:1

75. Al-Qiyaamaالقيامة

The Resurrection · Meccan · 40 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ ۟ۙلَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ

ہم کو روز قیامت کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

I swear by the Day of Resurrection

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:1

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم کو روز قیامت کی قسم

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میں قسم کھاتا ہوں روزِ قیامت کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں قیامت کی دن کی قسم کھاتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں روز محشر کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

— مولانا اسحاق مدنی

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم کو روز قیامت کی قسم

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay, I swear by the Day of Resurrection;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I swear by the Day of Resurrection,

— Muhammad Taqi Usmani

I swear by the Day of Resurrection,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! I swear by the Day of Resurrection.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, I swear by the Day of Resurrection;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I swear by the Day of Resurrection

— Saheeh International

I swear by the Day of Resurrection

— Muhammad Sarwar

Nay! I swear by the day of resurrection.

— Muhammad Habib Shakir

I swear by the Day of Resurrection.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 1 کلام کی ابتدا نہیں سے کرنا خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید میں یہ سورة نازل ہوئی ہے اور آگے کا مضمون آپ ہی ظاہر کردیتا ہے کہ وہ بات قیامت اور آخرت کی زندگی کے بارے میں تھی جس کا اہل مکہ انکار کرر ہے تھے بلکہ ساتھ ساتھ مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ اس طرز بیان کو اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر آپ محض رسول کی صداقت کا اقرار کرنا چاہتے ہوں تو آپ کہیں گے " خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ لیکن اگر کچھ رسول کی صداقت کا انکار کر رہے ہوں تو آپ جواب میں اپنی بات یوں شروع کریں گے کہ " نہیں، خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی جو اپنے اوپر ملامت کرے (یعنی نیکی کرکے یہ کہے کہ میں نے کیا کیا ہے اس میں اخلاص نہ تھا، اس میں فلانی خرابی رہ گئی تھی اور گناہ ہوجاوے تو بہت ہی نادم ہو۔ کذافی الدر المنثور عن ابن عباس والحسن۔ پس اس معنی کے اعتبار سے یہ نفس مطمئنہ کو بھی شامل ہے اور جواب قسم مخدوف ہے یعنی تم ضرور مبعوث ہوگے، اور ان دونوں قسموں کا مناسب مقام ہونا ظاہر ہے قیامت کا تو اسلئے کہ وہ ظرف ہے حشر ونشرا اور نفس لوامہ کا اسلئے کہ ایسا نفس قیامت کی عملی تصدیق کرنے والا ہوتا ہے۔ آگے منکرین بعث پرر (ہے یعنی) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قسم سے پہلے ’لا‘ کے استعمال کی نوعیت: عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے کہ قسم سے پہلے جب اس طرح ’لا‘ آیا کرتا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس خیال کی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہوتی ہے! اس کی مثالیں جس طرح عربی زبان میں بکثرت موجود ہیں اسی طرح ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ آپ جس کسی شخص کی بات کی فوری تردید کرنی چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: نہیں، خدا کی قسم، اصل حقیقت یوں ہے۔ اس اسلوب قسم سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اتنی لغو ہے کہ وہ اس کی تردید میں اتنے توقف کا بھی روادار نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہونا عقل سے اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہوچکا ہے جس کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینا مرے پیچھے اٹھائے جاؤ گے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔ (تنبیہ) واضح ہو کہ دنیا میں کئی قسم کی چیزیں ہیں جن کی قسم لوگ کھاتے ہیں، اپنے معبود کی، کسی معظم و محترم ہستی کی، کسی مہتم بالشان چیز کی، کسی محبوب یا نادر شے کی، اس کی خوبی یا ندرت جتانے کے لیے، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں کی قسمت کی قسم کھائیے۔ پھر بلغاء یہ بھی رعایت کرتے ہیں کہ مقسم بہ مقسم علیہ کے مناسب ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ مقسم بہ کو مقسم علیہ کے لیے شاہد ہی گردانا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔“ لَا یہاں پر معترضین کے دلائل کی نفی کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ کہ تمہیں تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ناممکن نظرآ رہا ہے اور اس بنیاد پر تم لوگ وقوع قیامت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو ‘ مگر مجھے اس کے وقوع کے بارے میں اس قدر یقین ہے کہ میں اس کی قسم کھارہا ہوں۔ موقف کے موکد اور موقر ّہونے کے اعتبار سے یہ آیت سورة التغابن کی اس آیت سے گہری مشابہت رکھتی ہے : { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَـبَّـؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْط } آیت 7 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 قسم کھانے سے مقصد بعض دفعہ تو اپنی بات کو مؤکد بنانا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ قسم بطور شہادت یا شہادت کو مزید مؤکد بنانے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ اور ایسی چیز کی کھائی جاتی ہے جسے انسان بہرحال اپنی ذات سے بالاتر سمجھتا ہو۔ اور چونکہ انسان خود اشرف المخلوقات پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا ہم انسانوں کو یہی حکم ہے کہ اگر قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے تو صرف اللہ کی ذات کی یا اس کی صفات کی کھائی جائے۔ اس کے علاوہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک اور حرام ہے۔ لے کن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کو اہم سمجھتے ہوئے قسم اٹھانا چاہے بطور شہادت اور دلیل پیش کرکے قسم اٹھا سکتا ہے۔ مثلاً یہی قیامت کا دن جسے برپا کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (آیت) ” لا “۔ قسم کے ساتھ تاکید معنی کے لئے آتا ہے۔ اور اس کا یہ استعمال کلام عرب میں عام ہے۔ ادخال لاالنافیۃ علی فعل القسم مستفیض فی کلامھم واشعارھم وفائدتھا توکیدالقسم (کشاف) لاقبل القسم لتاکید النفی (ابن کثیر) (آیت) ” بالنفس اللوامۃ “۔ نفس لوامہ یہ ہے کہ بندہ سے جب عمل خیر صادر ہو تو یہ اس پر جرح کر کر کے اس میں عیب نکالا کرے کہ اس میں اخلاص شامل نہ تھا، عمل میں فلاں جزء کیکمی رہ گئی، وقس علی ھذا اور جب معصیت سرزد ہوجائے تو اس پر بہت ہی نادم وسرنگوں ہو۔ الاشبہ بظاہر التنزیل انھا اللتی تلوم صاحبھا علی الخیر والشروتندم علی مافات (ابن کثیر) قرآن مجید میں نفس کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (لا اقسم) میں لا زائدہ ہے، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور قسم کھاتا ہوں بہت ملامت کرنے والے نفس کی کہ جو خود کو ملامت کرے، باوجود یکہ وہ نیکی کرنے میں جدوجہد کرتا ہے، اور جواب قسم محذوف ہے، یعنی تم کو ضرور زندہ کیا جائے گا، (اس حذف پر) ایحسب الانسان الخ دلالت کرتا ہے، کیا یہ کافر انسان یہ سمجھتا ہے کہ بعث اور حیات کے لئے ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے ؟ کیوں نہیں ! ہم ان کو ضرور جمع کریں گے ہم ان کے جمع کرنے پر قادر ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں (بنان) انگلیاں، یعنی ہم اس کی ہڈیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا اقسم بیوم القیامۃ . قنبل اور بزی کی قراءت میں لَاُقْسِمُ آیا ہے۔ اس وقت لام تاکید کا اور اَقْسِمُ فعل قسم ہوگا۔ جمہور کی قراءت لَآ اُقْسِمُ سے لا زائد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی کہ وہ ضرور ہوگی اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی خواہ نیک ہو یا گناہ گار جو کہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ نیک انسان تو عذاب وثواب کا مشاہدہ کر کے کہے گا کاش میں اور نیکیاں کرتا اور بدکار کہے گا کاش میں گناہوں سے پاک صاف ہوتا۔ اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نفس نامہ ہے یا یہ کہ وہ نفس جو کہ گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے کو اس پر ملامت کرے یا یہ کہ اس سے نفس کافر اور فاجر مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

(1) لا اقسم بیوم القیمۃ…:”القیمۃ“ ”قیام“ مصدر ہے ، کھڑا ہونا، تاء ”ایک دفعہ“ کا معنی ادا کرنے کے لئے ہے، یعنی آدمی کا ایک دفعہ کھڑا ہونا۔ یہاں یہ تنبیہ کے لئے لائی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع دفعتاً ہوگا۔ (راغب)”یوم القیامۃ“ کا معنی ہوگا ایک ہی دفعہ اٹھ کھڑے ہونے کا دن۔ ”اللوامۃ“”لام یلوم“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ملامت کرنے والا، جیسے ”علامۃ“ اور ”فھامۃ“ ہے۔ (2) ”لااقسم“ کا معنی یہ نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا، بلکہ ”لا“ الگ ہے اور ”قاسم“ الگ۔ معنی یہ ہے کہ نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ عرب کے ہاں یہ محاورہ عام ہے ”لا واللہ“ یعنی جب کوئی شخص انکار کر رہا ہو تو پہلے اس کے انکار کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لا اقسم بیوم القیامۃ۔۔ تا۔۔۔ یوم القیامۃ لا اقسم بیوم القیامۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ لاصلہ ہے زائد ہے اور سورت کے آغاز میں اس کا آغاز جائز ہے، کیونکہ قرآن حکیم کا بعض، بعض سے متصل ہے، یہ کلام واحد کے حکم میں ہے، اس وجہ سے کسی چیز کا ذکر ایک سورت میں ہوتا اور اس کا جواب دوسری سورت میں ہوتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ الحجر) انہوں نے کہا : اے وہ جس پر ذکر نازل کیا گیا ہے، بیشک تو تو مجنون ہے اس کا جواب ایک اور سورت میں ہے، ماانت بنعمۃ ربک بمجنون۔ القلم) آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں، کلام کا معنی ہے میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قیامہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اور دوسرے لفظ میں آیت لا اقسم بیوم القیمۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة لا اقسم مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ہم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص قیامت کے دن کے بارے میں سوال کرتا تو اس کو چاہیے کہ سورة پڑھ لے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بیوم القیمۃ سے مراد ہے میں قسم کھاتا ہوں۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ : نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ] نوٹ۔ 1: یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس (ضمیر) کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے۔ جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ پوری کائنات کا نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ جتنا جتنا اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

انسان قیامت کا انکار کرتا ہے تاکہ فسق و فجور میں لگا رہے، اسے اپنے اعمال کی خبر ہے اگرچہ بہانہ بازی کرے، قیامت کے دن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ ہو گی یہاں سے سورة القیامہ شروع ہو رہی ہے اس میں قیامت کے احوال بیان فرمائے ہیں اور انسان کی موت کے وقت کی حالت بتائی ہے اور انسانوں کو آخرت کے لیے فکر مند ہونے کی تنبیہ فرمائی ہے۔ مشرکین وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ مردہ ہڈیوں میں جان کیسے پڑے گی ؟ اور ہڈیاں کیسے جمع کی جائیں گی اسی طرح ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ عدی بن ربیعہ ایک آدمی تھا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے محمد مجھے بتا دیجئے قیامت کب ہوگی کیسے ہوگی کیا کیا احوال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے جو کلام عرب میں تاکید کے لیے آتا ہے جواب قسم محذوف ہے بقرینہ ما بعد ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری) ۔ یعنی تم ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور تم سے ضرور حساب لیا جائے گا۔ اس لیے قیامت کو مان لو اور اعراض نہ کرو۔ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں ثبوت قیامت پر دو قسمیں بطور شہادت پیش کی گئی ہیں۔ اول خود یوم قیامت کو قیامت پر بطور شاہد پیش فرمایا ہے۔ ہزاروں لاکھوں انسان قیامت کے ہول اور اس کے شدائد سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں تو آخر وہ کوئی چیز تو ہے ہی جس سے وہ خائف ہیں۔ تائید : ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ۔ تا۔ یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “ (نور رکوع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَۃِ۝ 1 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

لَآ اَقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ ۔ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ۔ (القیامۃ : 1، 2) (نہیں، میں قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی۔ اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ ) قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال قسم سے پہلے ” لا “ کا استعمال ایک خاص اسلوب ہے جس کی ہم اس سے پہلے متعدد مقامات پر وضاحت کرچکے ہیں۔ ” لا “ نہ یہاں زائد ہے اور نہ فعلِ قسم کا حصہ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ایک بات چل رہی ہے۔ متکلم اس کی تردید دلیل کے ساتھ کرنا چاہتا ہے لیکن دلیل دینے سے پہلے وہ ” لا “ کے استعمال سے اس بات کی نفی کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اس حد تک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : انسان کی گمراہی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب آخرت کی جوابدہی سے لاپرواہ ہونا اور اس کا انکار کرنا ہے اس لیے سورة القیامہ کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ اس میں قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور ان کے دلائل کی تردید کی گئی ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور دلائل کی نفی کرنے کے لیے اس سورت کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن کی قسم ! جو لوگ قیامت قائم ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے عقیدہ اور دلائل میں جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر قیامت کی قسم اٹھائی ہے ظاہر ہے کہ اگر قیامت کا کوئی وجود نہیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی قسم اٹھانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور لا صلہ ہے جیسا اس قول میں لئلا یعلم ] الحدید : 29[ اور اس قول میں ہے : فی بئرلا حور سَرَی و مَا شعر۔ اور اس قول میں ہے تذکرت لیلٰی فاعترتنی صبابۃ : : وکاد ضمیر القلب لا یتقطع۔ اور جمہور کا یہی قول ہے۔ قول فراء : مشرکین نے بعث کا جو انکار کیا اس کی تردید کیلئے لائے گویا اس طرح کہا گیا معاملہ اس طرح نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو پھر فرمایا میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ ہے اس کی اصل لا قسم ہے جیسا ابن کثیر کی قراءت میں ہے اس صورت میں لام ابتدائیہ اور اقسم یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے یعنی لا نااقسم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (لآ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ۔ اسے صرف استفتاح اور مابعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا۔ لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا پھر اللہ کے حضور ان کو کھڑا کیا جائے گا اور وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

3 نفس لوامہ کی قسم اور اس کا مطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔ " یہ بھی اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ انسان کے اندر بھلے برے کی تمیز اور اچھائی برائی کا فرق بہرحال ہمیشہ موجود رہا ہے ‘ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا موقع اور وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس وقت آئے جب اور جہاں اس کو اس کی اچھائی کا پورا بدلہ اور برائی کی قرار واقعی سزا ملے ‘ وہی قیامت ہے ‘ انسان کے اندر نفس لوامہ یا بالفاظ دیگر انسانی ضمیر کی موجودگی بھی اسی بات کی متقاضی ہے کہ قیامت قائم ہو ‘ تاکہ انصاف کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قیامت کیسی ہوگی ؟ آخرت ضروری ہے تشریح : یہاں آخرت میں انسان کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو سچا اور پکا عمل ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دو ایسی حقیقتوں کی قسم کھا رہے ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پہلی حقیقت قیامت کی آمد ہے۔ ہم میں سے ہر پڑھا لکھا اور جاہل اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز کو ضرور ختم ہونا ہے پہلے لوگ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھ لیتے تھے کہ جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور اور جو چیز بھی بنی ہے یا بنائی گئی ہے وہ مٹے گی ضرور اسی مناسبت سے دنیا اللہ نے بنائی ہے تو یہ ختم بھی ضرور ہوگی۔ اور اب جب کہ علم و عرفان اپنے عروج پر ہے تو اب یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 مفسرینتقریباً اس پر متفق ہیں کہ یہاں لا زائدہ ہے اور کلام بلیغ میں ” لا “ ‘ کا زائدہ آنا شائع و ذائع ہے۔ دیکھیے سورة اعراف 12 و سورة الحدید : 29) شوکانی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:1) لا اقسم بیوم القیمۃ : لا زائدہ ہے اور کلام کو مزین و آراستہ کرنے اور مزین کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک کفار کے انکار قیامت کا رد ہے، عرب جب کہتے ہیں : لا واللہ لا افعل فلا رد لکلام قد مضی وفائدتھا توکید القسم فی الرد۔ یعنی لا سے پہلے کلام کا رد وابطال مقصود ہوتا ہے۔ اور بعد میں قسم اٹھائی جاتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ قسم مؤکد ہوجائے ۔ (ضیاء القرآن) اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر سے ، جس کے معنی قسم کھانا کے ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:38 بیوم القیامۃ : روز قیامت کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہوناعقل اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہوچکا ہے کہ جس کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں، اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینا مرے پیچھے اٹھائے جاؤ گے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] یعنی جو کچھ تم سمجھ رہے ہو وہ صحیح نہیں ہے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید کے لئے قسم کھائی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة القیامہ 1: لا صرف ترئین واستہلال ہے ۔ قسم سے پہلے بطور افتتاح کے عام طور پر عربی لٹریچر میں آتا ہے ۔ اصرار لقیس کے ایک قصیدہ کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎ لاوابیک انتباہ انعامری لایدعی انقوم انی افر یوم قیامت اور نفس محاسبہ میں مناسبت یہ ہے ۔ کہ دراصل برے فعل پر نفس کی ملامت نفسیاتی نقطہ نگاہ سے ہلکی کسی عقوبت اور سزا ہے ۔ اور اس کو اگر پھیلا کر آپ دیکھئے اور ممثل شکل میں ملاحظہ کیجئے گا ۔ تویہی وہ نظام قیامت ہے ۔ جس کو قرآن حکیم پیش فرماتا ہے ۔ اور جو مشرکین مکہ کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ قرآن حکیم دراصل انسان کی توجہ کو خود اس کے باطن کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہنا چاہتا ہے ۔ کہ تم لوگ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–2

لا نفی کا فعل قسم میں تاکید کے واسطے ہوتا ہے ، تو معنی یہ ہیں کہ ۔۔۔ البتہ قسم کھاتا ہوں میں ، تو پھر (نہیں کیا میں قسم یاد کرتا ہوں قیامت کے دن کی) اس کی عظمت وہیبت اور اپنی شان قدرت کو ظاہر کرنے کے لیے (اور قسم ہے اس جان کی جو اپنی بیحد ملامت کرتی رہتی ہے ) ۔ اس سے نفس متقیہ مراد ہے کہ نفس مقصرہ تو تقصیر طاعت کے سبب سے ملامت کرتا ہے۔ یا۔۔۔ وہ نفس مقصود ہے جو اپنے کو ہمیشہ تقصیروں میں ملامت کیا کرتا ہے ، اگرچہ عبادتوں میں اس کی کوششیں اور محنتیں بہت ہوں۔ یا۔۔ نفس مطمئنہ مراد ہے جو نفس امارہ کو ہمیشہ ملامت کیا کرتا ہے۔ روایت ہے کہ عدی بن ربیعہ نے آنحضرت سے قیامت کا حال پوچھا۔ جب حضرت نے اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (I swear by the Day of Resurrection, [ 1] and I swear by the self-reproaching conscience, (that Resurrection is a reality.)...75:1-2). The negative particle la 'nay' prefixed to the oath in this context has no meaning. When the object of oath is to refute the false thought of an opponent, this redundant negative particle is used before oath. This usage is commonplace in Arabic idiom. Such usage is sometimes employed in our language [ in Urdu ] as well [ as an answer to some objection or in repudiation of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 To begin the discourse with "Nay" by itself indicates that the Surah was sent down to refute some argument which was already in progress. The theme that follows shows that the argument was about Resurrection and life after death, which the people of Makkah were denying and also mocking at it at the same time. This can be understood by an example. If a person only wants to affirm the truth of the Messenger, he will say: "By God, the Messenger has come with the truth." But if some people might be denying the truth of the Messenger, he in response would rejoin, thus: ' Nay, by God, the…

Read the full tafseer →