Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُدَّثِّر 41
یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا، بلکہ ہر فعل اسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب خدا کی مشیت بندے کی مشیت سے مل جائے۔ یہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے جسے نہ سمجھنے سے انسانی فکر بکثرت ٹھوکریں کھاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے…
Read the full tafseer →(آیت) هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
اللہ تعالیٰ کا اہل تقویٰ ہونا بایں معنی ہے کہ صرف وہی اس کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے اور اہل مغفرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہی ایسی ذات ہے جو بڑے بڑے مجرم گناہگار کو اس کے سب گناہ جب چاہتے ہیں بخش دیتے ہیں اور کسی کا یہ حوصلہ نہیں ہوسکتا۔
تمت سورة المدثر بحمد اللہ یوم المجعة 52 رجب 1931
Read the full tafseer →ہدایت کے باب میں سنت الٰہی:
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے اور جو اس کتاب میں جگہ جگہ زیربحث آ چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر اور فواد کی صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں، جو فطرت کے نور کی قدر کرتے ہیں، جو آفاق و انفس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں اور ہر اس بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے کان کھلے رکھتے ہیں جو معقول ہو اگرچہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے کتنے ہی خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ وہ انہی کو ہدایت بخشتا ہے جو ہدایت کی قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ جو اس کی قدر نہیں کرتے ان کو…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی اس قرآن سے ہدایت اور نصیحت اسے ہی حاصل ہوگی جسے اللہ چاہے گا۔
56۔ 2 یعنی وہ اللہ ہی اس لائق ہے اس سے ڈرا جائے اور وہی معاف کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔ اس لئے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسکی نافرمانی سے بچا جائے تاکہ انسان اس کی مغفرت و رحمت کا سزاوار قرار پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
21: یعنی یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہر شخص کو الگ کتاب دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمیشہ کسی پیغمبر کے واسطے سے بھیجی جاتی ہے، کیونکہ اگر ہر شخص پر براہ راست کتاب بھیجی جائے تو اول تو ایمان بالغیب کا تصور ہی ختم ہوجائے تو سارے امتحان کی بنیاد ہے، دوسرے تنہا کتاب انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہوسکتی، جب تک پیغمبر کی شکل میں کوئی معلم ساتھ نہ ہو۔ وہی انسانوں کو کتاب کا صحیح مطلب سمجھاتا ہے، اور وہی اس پر عمل کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے، ورنہ ہر شخص کتاب کی من مانی تشریحات کر کے اس کا سارا مفہوم ہی خراب کرسکتا ہے۔
22: یعنی یہ بےسرو پا اعتراضات کسی حق طلبی کی وجہ سے نہیں کیے جا رہے ہیں، بلکہ ان کی اصل…
Read the full tafseer →ومایذکرون .................... المغفرة
اس کائنات میں جو چیز بھی واقع ہوتی ہے اللہ کے عظیم تر نظام مشیت میں بندھی ہوتی ہے۔ اللہ کے ارادے اور مشیت ہی کے رخ پر اور اس کے وسیع دائرے کے اندر واقعات چلتے ہیں۔ لہٰذا کسی انسان سے کوئی فعل اللہ کی مشیت کے بغیر سر زد نہیں ہوسکتا۔ زمین کی تمام قدروں کی مشیت الٰہیہ اپنے دائرے کے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کیونکہ تمام قدریں اللہ کی مشیت کی پیدا کردہ ہیں اور انسان اور نوامیس فطرت اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس کائنات میں جو واقعات چلتے ہیں وہ مشیت الٰہیہ کی ریل کے اندر ہی چلتے ہیں جس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ اس ریل کے اندر ہر انسان آزاد بھی ہے اور بند بھی۔
تذکر…
Read the full tafseer →4 اور اللہ کا چاہنا نہ چاہنا سب حکمتوں پر مبنی ہے۔ جن کا احاطہ کوئی بشر نہیں کرسکتا۔ وہی ہر شخص کی استعداد و لیاقت کو کما حقہ جانتا ہے اور اس کے موافق معاملہ کرتا ہے۔
5 یعنی آدمی کتنے ہی گناہ کرے۔ لیکن پھر جب تقویٰ کی راہ چلے گا اور اس سے ڈرے گا، وہ اس کے سب گناہ بخش دے گا، اور اس کی توبہ کو قبول کرے گا۔ انس ابن مالک سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس مقام پر بطور حاشیہ منہیہ کے، ایک عبارت اس آیت کی تلاوت کے بعد نقل فرمائی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ " قال ربکم عزوجل انا اہل ان اتقی فلایشرک بی شی ءٌ فاذا اتقانی العبد فانا اہل ان اغفرلہ۔ " " یعنی میں اس لائق ہوں کہ بندہ مجھ سے ڈرے اور میرے ساتھ کسی کو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
آیت 56{ وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط } ”اور یہ لوگ نصیحت اخذ نہیں کریں گے ‘ مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔“
{ ہُوَ اَہْلُ التَّقْوٰی وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ۔ } ”وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا مجاز۔“
یہ اسی کا حق ہے کہ اس کا تقویٰ اختیار کیا جائے ‘ اس کے احکام کی پاسداری کی جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔
Read the full tafseer →26 مگر اللہ بھی صرف اسے ہدایت کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اور جو خود ہدایت سے کوسوں دور رہنا چاہتا ہو، اللہ ایسے لوگوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیا کرتا۔
27 آیت کے اس جملہ کی بہترین تفسیر درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کا اہل ہوں کہ لوگ مجھ سے ڈریں اور جو شخص مجھ سے ڈر گیا اور میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ بنایا تو مجھے لائق ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ سورة المدثر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
25۔ تقوی بھی صرف اسی سے اختیار کرنا چاہئے، اور مغفرت بھی صرف وہی کرسکتا ہے۔ دوسروں سے خوف یا طمع دونوں لاحاصل ہیں۔ حدیث نبوی ﷺ میں حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے۔ قال ربکم انا اھل ان اتقی فلایشرک بی شیء فاذا اتقانی عبد فانا اھل ان اغفرلہ۔ ” حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہی اس قابل ہوں کہ بندہ مجھ سے ڈرے اور میرے ساتھ کسی کام میں کسی کو شریک نہ کرے تو جب بندہ مجھ سے ڈرا، تو میری بھی شان یہ ہے کہ اس کی مغفرت کردوں “۔ (آیت) ” کلا انہ تذکرۃ “۔ اسی قرآن ہی پر غور، تامل و تدبر سے پورا ایمان وایقان حاصل ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” فمن شآء ذکرہ “۔ جو شخص طلب وقصد رکھے، قرآن مجید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →وما یذکرون الا ان یشاء اللہ . یعنی وہ کسی وقت نصیحت پذیر نہیں ہوسکتے مگر اسی وقت جب خدا ان کی مشیت
اور نصیحت پذیری کا ارادہ کرے۔ یہ آیت صراحۃً دلالت کر رہی ہے کہ انسانی اعمال ‘ اللہ کی مشیت و ارادہ سے وابستہ ہیں۔
ھو اھل التقوی . یعنی اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے عذاب سے خوف کیا جائے جس کی
صورت صرف یہ ہے کہ اس کے احکام کی مخالفت سے اجتناب کیا جائے۔
واھل المغفرۃ . اللہ مغفرت کا اہل ہے یعنی مؤمن بندوں کے گناہ معاف کردینے کا مالک ہے
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : ھو اھل التقوٰی کے سلسلہ میں فرمایا : تمہارے رب نے فرمایا کہ میں اسی قابل ہوں کہ میرا شریک قرار دینے سے اجتناب…
Read the full tafseer →اور بغیر مشیت خداوندی کے یہ لوگ نصیحت نہیں قبول کریں گے، وہی ہے جس سے ڈر کر اس کی فرمانبرداری کی جائے اور وہی ہے جو گناہ معاف کرتا ہے یعنی جو شخص اس سے ڈرے گا اور توبہ کرے گا تو وہی ہے اس کے جو قیامت میں گناہ معاف کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
کلا انہ تذکرۃ…: یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہرگز درست کی ، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
کلاانہ تذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔ واھل المغفرہ
یہ سچی بات ہے کہ قرآن سراپانصیحت ہے پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ اسے چاہے، عام قرات یذکرون ہے، ابوعبید نے اسے پسند کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلابل لایخافون الاخرۃ۔ اس میں بھی صیغہ غائب کا ہے، نافع اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ یہ عام ہے، سب اس یذکرون کی تخفیف پر متفق ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کا حق رکھتا ہوں کہ مجھ سے ڈرایاجائے پس جو مجھ سے ڈرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
34۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔
35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت…
Read the full tafseer →[وَمَا يَذْكُرُوْنَ : اور وہ لوگ یاد نہیں کریں گے ] [اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : چاہے اللہ ] [هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى: وہی تقویٰ کیے جانے کا اہل ہے ] [وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ : بخش دینے کا اہل ہے۔]
Read the full tafseer →﴿وَ مَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور نہیں نصیحت حاصل کریں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے) ۔
﴿هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (رح) 0056﴾ (وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی معاف کرنے والا ہے) ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ ﴿ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (رح) 0056﴾ کی تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں اس کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے لہٰذا کوئی میرے ساتھ کوئی معبود نہ ٹھہرائے سو جو شخص مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کوئی معبود نہ ٹھہرایا میں اس کا اہل ہوں کہ اسے بخش دوں۔ (روح المعانی صفحہ 154: ج 29 و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →22:۔ ” وما یذکرون “ اور جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیئت میں ان کا نصیحت حاصل کرنا نہ ہو وہ نصیحت حاصل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہی سے معرض وجود میں آتے ہیں۔ ” ھو اھل التقوی “ اللہ ہی کی ذات اس کی مستحق ہے کہ اس کے عذاب سے ڈرا جائے اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ جو اس پر ایمان لائے اور اس کی اطاعت کرے، اس کی کوتاہیوں کو معاف کرے اور اس کی عملی کمزوریوں سے درگذر فرمائے۔ حدیث میں وارد ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اس کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ جو مجھ سے ڈرے گا اور کسی…
Read the full tafseer →وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ 0 ۭ ہُوَاَہْلُ التَّقْوٰى وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ 56 ۧ
تَّقْوَى
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا
[ النحل/ 128] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…
Read the full tafseer →وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمُغْفِرَۃِ ۔ (المدثر : 56)
(اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی ہے بخشنے کے لائق۔ )
ہدایت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت پر موقوف نہیں، بلکہ اسے نصیحت اس وقت نصیب ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت انہی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے
مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →56 : وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (اور بدوں اللہ تعالیٰ کے چاہے یہ لوگ نصیحت کو قبول نہ کریں گے)
قراءت : نافع اور یعقوب نے تاء کے ساتھ تذکرون پڑھا ہے۔ ان یشاء اللہ کا معنی اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے وقت۔ نمبر 2۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مشئیت سے۔ ھُوَاَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ (وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور جو معاف کرتا ہے) حدیث میں ہے کہ وہ اس بات کا اہل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس بات کا اہل ہے کہ اس کو بخش دے جو اس سے تقویٰ اختیار کرے۔ ] رواہ الترمذی : 3328، ابن ماجہ : 4299[
Read the full tafseer →55 ۔” فمن شاء ذکرہ “ اس سے نصیحت حاصل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →(وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
(هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ) یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقوی اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے
قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
42 خوف آخرت سے محرومی ‘ محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خوف و اندیشہ نہیں رکھتے آخرت کی گرفت و پکڑ کا۔ سو اس سے ان کے راہ حق سے گریز و فرار کی اصل علت کی نشاندہی فرما دی گئی۔ پس ان کے گریز و فرار کی اصل علت یہ نہیں جس کو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں ‘ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے کہ یہ اس کے وقوع کی توقع ہی نہیں رکھتے ‘ جس کی بناء پر یہ ایسے بےہودہ مطالبات کرتے ‘ اور اس طرح واہی تباہی بکتے ہیں ‘ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آخرت کے عقیدہ و یقین اور خوف خداوندی کے بغیر آدمی قطعی طور پر ایک غیر ذمہ دار اور لا ابالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم
تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →ف 9 حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا : تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ میں ہی اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے علاوہ کسی کو معبود نہ بنایا جائے۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دونوں کام کرے گا تو میں ہی اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(74:56) وما یذکرون الا ان یشاء اللہ۔ واؤ حالیہ ہے ما یذکرون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی ہیں ذکر کرنا۔ یاد کرنا۔ بیان کرنا۔ پندو نصیحت حاصل کرنا۔ قبول کرنا۔
الا ان یشاء اللہ استثناء مفرغ ہے (اس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہیں ہے) ۔
مطلب یہ کہ قرآن مجید ایک نصیحت ہے جو چاہے اس کو حاصل کرے۔ لیکن نصیحت چاہنے والے کا نصیحت حاصل کرنا محض اور صرف اس کی اپنی مشیت پر مبنی نہیں ہے بلکہ مشیت ایزدی اور اس کی کرم نوازی پر منحصر ہے۔ نصیحت کا پالنا تبھی ممکن ہوگا جب اللہ بھی جائیگا۔
وھذا تصریح بان افعال العباد بمشیۃ اللہ عزوجل بالذات او بالواسطۃ (روح المعانی) یہ صریحا ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔
ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔
تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
(ف 1) کفار قریش نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کے نام آصمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آنا چاہے کہ محمداللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبی کا یقین اورس یقین کے سبب اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کررہے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
[20] یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جبکہ اللہ کی بھی مشیت یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا جب تک اللہ کی مشیت بندے کی مشیت سے نہ مل جائے۔ اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے کر گزرے تو ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ جو نظم و ضبط اس دنیا میں قائم ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔ انسان کوئی کام اسی وقت کرسکتا ہے جبکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔
کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔
حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(56) اور جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے یہ لوگ نصیحت قبول کرنے والے نہیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی مغفرت اور بندوں کے گناہ معاف کرنے کا اہل ہے۔ یعنی قرآن تو واقعی تذکرہ ہے اور فی نفسہ نصیحت ہے لیکن بعض لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو بات یہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ کے بدون چاہے یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کریں گے جو لوگ رشحات نور سے محروم رہ چکے ہیں اور جن کا دامن استعداد حق پرستی سے خالی ہے اور جو اپنی بداعمالی اور اسلام دشمنی کے باعث توفیق الٰہی سے محروم ہیں اور ان کی ہدایت کے ساتھ مشیت ایزدی کا تعلق نہیں ہے وہ نصیحت قبول نہیں کریں گے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 6۔ در منثور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام ایسے نوشتے لائیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(نہیں کیا) ہاں ہاں بیشک ! یہ قرآن وہ نہیں جو کفار کہتے ہیں کہ آدمی کا کلام ہے ۔ یا۔۔ سحر ہے ، بلکہ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے۔ تو جس نے چاہا نصیحت لی اس سے ۔ اور) یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے ، کہ (نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے) ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست ۔۔۔۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔
تو (وہی ڈرنے کے لائق ) ہے ۔ تو چاہیے کہ اسی کا خوف رکھا جائے ، (اور) وہی (مغفرت ) فرمانے (والا ہے) یعنی مغفرت فرمانا اسی کی شان ہے ۔
Read the full tafseer →هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (...He is worthy to be feared, and worthy to forgive... 74:56) Allah is ` Ahl-ut-taqwa in the sense that 'He alone is worthy to be feared and entitled to be obeyed'. Ahl-ul-Maghfirah signifies that 'He alone is the Being Who forgives the sins of even the greatest sinners whenever He so wishes': No one else has the power to do this .
Alhamdulillah
The Commentary on
Surah Al-Muddaththir
Ends here
Read the full tafseer →41 That is, a person's taking heed dces not wholly depend upon his own will, but he takes heed only when Allah also wills to grant him the grace to take heed. In other words, the truth that has been expressed here is that no act of man takes a concrete shape solely by his own will, but each act is implemented only when the will of God combines with the will of the man. This is a very delicate question, failure to understand which has often made human thought falter. Briefly it can be understood thus: If in this world every man had the power to accomplish whatever he wanted to accomplish, the…
Read the full tafseer →