74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 74:1–31

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ کپڑا لپیٹنے والے !

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھیں پھر ڈرائیں (ہدایت کریں )

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کریں

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھیں

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور رہیں

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور اس لئے احسان نہ کریں کہ اس سے زیادہ چاہیں

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کریں

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

تو جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

پھر وہ دن مشکل کا دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہیں ہوگا

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

تو مجھے اس شخص سے مجھ لینے دیں جسے میں نے اکیلا پیدا فرمایا

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اس کو بہت سا مال دیا

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور ہر وقت پاس رہنے والے بیٹے دیئے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور ہر طرح کا سامان بہت دیا

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور دیں

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہ ہوگا ، یقینا یہ ہماری آیات کا دشمن رہا ہے

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اس کو عنقریب صعود (دوزخ کا پہاڑ) پر چڑھائیں گے

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا اور تجویز کیا

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

اس پہ اللہ کی مار ہو کیا تجویز کیا

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر اس پر اللہ کی مار ہو کیا تجویز کیا

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر (حاضرین کو) دیکھا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیر کر چلا اور تکبر کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو صرف جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا آتا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ صرف انسان کا کلام ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی سقر میں داخل کریں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر سقر کیا ہے

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ (آگ ہے) نہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

وہ بدن کو جلا کر سیاہ کرے گی

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس (19 فرشتے) مقرر ہیں

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغے فرشتے بنائے ہیں۔ اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا ہے اس لئے کہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جائے اور اہل کتاب اور ایمان والے شک میں نہ پڑیں اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور کافر کہیں کہ یہ مثال بیان کرنے سے اللہ کا مقصد کیا ہے اسی طرح اللہ جسے چاہیں گمراہ کرتے ہیں اور جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو آدمیوں کے لئے نصیحت ہے

سورة المدثر۔ آیات 1 تا 31۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود ہوتا ہے کہ انسان عموماجتنا دولت حاصل کرسکتا ہے اس کا اظہار اس کے لباس سے ہوتا ہے جس کی ظاہری چمک دمک کا خیال تو کافر بھی رکھتا ہے لیکن اگر حرام مال سے بنا ہوتومعنی اعتبار سے سخت گندا ہے۔ مسئلہ۔ مسلمان کو چاہیے کہ عبات میں تو جسم ، لباس ، جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ بھی اس کا اہتمام رکھے نیز مال حرام سے نہ بنائے اور ایسی ہئیت کالباس بھی ناپاک ہی شمار ہوجوشرعا ممنوع ہو اور ہر طرح کی گندگی سے دور رہیے وہ عقیدے کی ہو یا اعمال کی گویا مومن کو نبی (علیہ السلام) کی وساطت سے حکم دیاجارہا ہے کہ عقیدہ ، عبادات اور پورا نظام زندگی ظاہری اور معنوی گندگی سے پاک ہونا چاہیے نہ عقیدے میں غیر مسلم کی پیروی کرے نہ عبادات میں اور نہ نظام حیات میں نیز کسی پر زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہ کیا جائے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پہ قائم رہ خواہ کس قدر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ دین پر قائم رہنے کے لیے صبر ضروری ہے۔ صبر کا مفہوم ہے خود کو روک کر رکھنا گویا کفر کی طرف سے دباؤ بھی برداشت کرنا پڑے گا اور لالچھ بھی دیاجاسکتا ہے مگر مومن کو ہرحال میں دین پر قائم رہنا ہوگا۔ کافر تو خود تباہی کی طرف رواں ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ روز قیامت کافروں پہ بہت بھاری ثابت ہوگا ان کو اس میں ذرہ برابر آسانی نہ ملے گی بھلا انسان کی حیثیت کیا ہے اسے میں خوب دیکھ لوں گا جسے میں نے تنہاپیدا کیا کہ اسکے بدن پرچیتھرا تک نہ تھا پھر اسے دنیا کی نعمتوں اور مال وزور کا مالک بنادیا اور اولاد دی جو اس کی مجلس کی رونق بنی اور بیشمار نعمتیں مہیا کردیں مگر اس میں الٹا لالچ پیدا ہوا اور شکر کرنے کے بجائے ہوس میں گرفتار ہوا مگر ایسا ہرگز نہ ہوگا میری آیات کی مخالفت بھی کرے اور مزید نعمتیں بھی پائے۔ بعثت رسول کے بعد انکار عذاب کا سبب بنتا ہے۔ کہ آدمی اور قومیں مہلت پاتی ہیں مگر جب نبی اور رسول مبعوث ہوجائے تو اس کی مخالفت کرنے والے کو عذاب دینے والے ہوتے ہیں۔ اب اس کی مشکلات کا دور شروع ہوتا ہے صعود دوزخ کے پہا ڑکانام ہے مگر دنیا میں بھی آخرت کا پرتو ہے جس کے لیے عذاب وہاں بنتا ہے اور اس کا اثر مادی دنیا میں بھی شروع ہوجاتا ہے یہ کفر کرنے والا ایسا بدبخت ہے کہ اللہ کا کلام سن کر اس پر غور کرتا ہے تو درست پاتا ہے پھر انکار کی راہ سوچتا ہے اور یہ تباہ ہوجائے سوچتا کیا ہے اس پر دوبارہ لعنت فرمائی کہ کس قدر غلط بات طے کرتا ہے پھر دیکھ کر منہ بناتا ہے اور تیوری چڑھاتا ہے جیسے سخت ناگواری ہورہی ہو اور پھر تکبر سے اکڑتا ہواچل دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو صرف جادو ہے جو آپ نے جمع کر رلیا ہے اور یہ سب انسان کی جمع کردہ باتیں ہیں۔ ولید بن مغیرہ مشرک کا قول ہے۔ قرآن کے احکام اور بات سب کے لیے عام ہے گو نزول ایک خاص شخص کی بات پر ہوا یہ ولید بن مغیرہ تھا جس نے کلام سن کر کہہ دیا کہ یہ انسانی کلام نہیں نہ جنوں یاکاہنوں کا ہے مگر ابوجہل سے مل کر جھٹلانے کی تدبیر سوچی اور پھر سب غور کرنے کے بعد جادو کہا حالانکہ دل سے مانتا تھا کہ یہ حق ہے فرمایا میں اس کو دوزخ کی آگ میں ڈالوں گا ایسی آگ جو کافروں کو چھوڑے گی نہیں بلکہ کھینچ کھینچ کر پکڑے گی کسی کو بھاگنے نہ دے گی اور جلا کر بھسم کردینے والی سخت ہوگی جس پر انیس فرشتے مقرر ہیں کہ ہم نے دوزخ میں عذاب دینے پر فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے جن سے ملی بھگت نہیں ہوسکتی اور ان کی یہ تعداد بیان کرکے کفار کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ جبکہ اہل کتاب جانتے ہیں ان کی کتابوں میں بھی یہ ذکر تھا اور مومنین کے لیے ایمان کی زیادتی کا سبب ہے نیز مسلمانوں اور اہل کتاب کو شک میں نہ پڑنا چاہیے کہ جن کے دلوں میں پہلے سے یہ مرض ہے یعنی کفار کہنے لگیں کہ ایسی باتوں سے اللہ کریم کا مقصود کیا ہے ایسے لوگوں کا جیسا عقیدہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ان سے ویسا سلوک کرتا ہے جیسے چاہتا ہے یعنی جس پر ناراض ہوتا ہے اسے گمراہ کردیتا ہے اور جس پر راضی ہوا سے ہدایت عطا فرمادیتا ہے رہی یہ بات کہ دوزخ پرانیس فرشتے ہی کیوں ؟ اس کے لشکر تو کم نہیں ہیں کہ ان کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی گن نہیں سکتا لہذا یہ ممکن ہے یہ انیس سردار ہوں۔ انیس فرشتے۔ کہ علماء کے نزدیک نوباتیں بنیادی عقائد میں سے ہیں اور دس بنیادی اعمال میں باقی ساری زندگی کا عمل اسی کی فرع ہے تو اس طرح انیس بیادی باتوں پر انیس شعبے عذاب کے مقرر فرما کر ہر ایک پر سردار بنادیاہو اور ان کے تابع بیشمار لشکر ہوں ۔ واللہ اعلم۔ اور یہ کتاب سب کی سب انسان کو نصیحت کرنے کے لیے ہے۔