Ayah 74:1(74:1) یایھا المدثر : یایھا۔ اے ۔ نیز ملاحظہ ہو 73:1 ۔
المدثر : تدثر (تفعل) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اصل میں متدثر تھا ت کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کیا۔ اس کے معنی کپڑا اوڑھنے والے کے ہیں۔ دثار اوپر پہننے کا کپڑا۔ چادر۔ کمبل۔ المدثر کمبل اوڑھنے والا۔
یایھا المدثر۔ اے کمبل اوڑھنے والے۔ اے جس نے کمبل اوڑھ رکھا ہے۔ المدثر سے بالاتفاق جناب رسول کریم ﷺ مراد ہیں مگر آپ کو اس لقب سے کیوں ملقب کیا گیا۔ اس کے جواب میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں :۔
(1) دثار سے مراد ظاہری کمبل لینے والے اصحاب کا قول ہے :۔
(1) فرشتہ کو دیکھ کر دہشت ہوئی تھی۔ اور اس سے سردی محسوس ہوئی تھی جس لئے کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔ اس حالت میں تھے کہ یہ سورة نازل ہوئی اور اسی حالت میں محبت سے خطاب کیا گیا۔
(2) کفار قریش نے جمع ہوکر لوگوں کو آپ سے بدگمان کرنے کے لئے لفظ ساحر تجویز کیا۔ اور پکار دیا۔ تو اس سے آپ کو رنج ہوا۔ اور طبع مبارک پر کسل طاری ہوا جس لئے کپڑا اوڑھے پڑے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں مخاطب کرکے فرمایا :۔ اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو۔
(3) آپ کپڑا اوڑھے سو رہے تھے کہ اسی حالت میں یہ سورت نازل ہوئی جس میں جتلایا جاتا ہے کہ کپڑا منہ سے اتار اور نیند سے ہوشیار ہو اور منصب نبوت پر قائم یعنی آمادہ ہو۔
(2) ایک گروہ کا یہ کہنا ہے کہ ظاہری کپڑا اوڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ :۔
(1) یہ کہ اے نبوت و رسالت کی چادر اوڑھنے والے کھڑا ہو۔ جیسا کہ کہتے ہیں البسہ اللہ لباس التقوی وزینہ برداء العلم (اللہ نے اس کو تقوی کا لباس پہنایا اور علم کی چادر سے مزین کیا۔
(2) کپڑا اوڑھنے سے آدمی مخفی ہوجاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اے خلوت و گوشہ نشینی کی چادر اوڑھنے والے کب تک تو مخفی رہے گا کھڑا ہو اور لوگوں کو متنبہ کر۔ اس لئے کہ دنیا گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔
(3) یہ کہ اے خلق عظیم و رحمت عالمین کی چادر اوڑھنے والے اس لباس کو پہن کر چپ کیوں بیٹھے ہو کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں کو متنبہ کرو، دین حق کی منادی کرو۔ (از تفسیر حقانی)
Ayah 74:2(74:2) قم فانذر ، قم ، قیام (باب نصر) مصدر سے امرکا صیغہ واحد مذکر حاضر تو کھڑا ہوجا۔ تو اٹھ کھڑا ہو۔ اپنے بستر سے اٹھ کھڑے ہوجاؤ۔ یا عزم اور حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔
فانذر :یہاں شرط کا فائدہ دیتا ہے۔ گویا کلام یوں ہے۔ حذرھم من عذاب ربک ان لم یؤمنوا (الخازن) ۔ اگر وہ ایمان نہیں لائے تو ان کو اپنے رب کے عذاب سے ڈراؤ۔
انذر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ انذار (افعال) مصدر۔ بمعنی ڈرانا۔ ڈر سنانا۔
انذر متعدی بدو مفعول ہے ایک منذر (اسم مفعول) دوسرا منذر بہ (مفعول بہ) یہاں ان دونوں میں سے کوئی بھی مذکور نہیں ہے۔ وھو متعد لمفعولین المنذر باسم المفعول والمنذر بہ ولم یذکر ھنا واحد منھما۔ (اضواء البیان)
کلام یوں ہے :۔ فانذرھم بعذاب ربک یہاں ہم سے مراد کفار قریش سے ہے (الخازن، مدارک التنزیل)
یا یہ عامۃ الناس سب کے لئے ہے۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔
وقد یکون للجمع ای لعامۃ الناس کما فی قولہ تعالیٰ : اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس وبشر الذین امنوا (10:2) کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا۔ کہ لوگوں کو ڈر سنا دو ۔
Ayah 74:3(73:3) وربک فکبر : تفسیر مظہری میں ہے :۔ اس جگہ اور اس کے بعد میں آنے والے جملوں میں (یعنی فطھر اور فاھجر میں)جزائیہ ہے۔
اصل کلام یوں تھا :۔ کہ کچھ بھی ہو، کسی بھی حال میں ہو اپنے رب کی بڑائی کا اظہار کرو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ربک فعل محذوف کا مفعول ہو اور فکبر اس کی تاکید ہو اور اس سے استمرار مقصود ہو (یعنی پیہم اللہ کی بڑائی کا اظہار کرو۔
کبر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر تکبیر (تفعیل) مصدر ۔ بڑائی بیان کرنا۔
علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ تکبیر کا معنی ہے حدوث (کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو) اور ہر زوال و نقصان کی علامات سے اللہ کو برقرار دینا۔ وجوب وجود اور الوہیت و عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔ کسی ممکن سے کسی طرح ذات اور اوصاف اور افعال میں اس کو مشابہ نہ ماننا۔ صرف اسی کے اندر اوصاف کمال تسلیم کرنا۔ اور دوسروں کے اوصاف کو ناقص اوصاف جاننا۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 74:4(74:4) وثیابک فطھر۔ واؤ عاطفہ ثیابک مضاف مضاف الیہ۔ تیرے کپڑے ثیاب ثوب کی جمع ہے ثوب کے معنی کپڑے کے ہیں۔ یہ آیت جو امع الکلم میں سے ہے۔
(1) ثیاب سے مراد ظاہری کپڑے کے ہیں۔ اور اس سے مراد نفس بھی ہے۔ (راغب)
(2) اس سے مراد دل بھی ہے۔ جو روح کا قالب ہے ۔ (روح البیان)
(3) اس سے مراد اخلاق بھی ہیں جن کا تعلق مخلوق سے ہے اور اس سے مراد اعمال بھی ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے یحشر المرء فی ثوبہ الذین مات فیہما ای عملہ الخبیث والطیب (روح البیان) انسان قیامت کے دن انہی کپڑوں میں اٹھے گا جن میں کہ وہ فوت ہوا۔ یعنی اپنے نیک و بد اعمال کے ساتھ۔
(4) اور اس سے مراد اہل و عیال بھی ہیں۔ والعرب تسمی الاہل ثوبا ولباسا اور اہل عرب اپنے اہل و عیال کو ثوب اور لباس کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ھن لباس لکم وانتم لباس تھن (2:187) عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔
اور ابن سیرین اور ابن زید نے کہا ہے کہ اس آیت میں کپڑوں کو ہی پاک رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فطھر میںجزائیہ ہے۔ ملاحظہ ہو 74:3 متذکرہ بالا۔ طھر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تطھیر (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی پاک کرو۔
Ayah 74:5(74:5) والرجز فاھجر : واؤ عاطفہ۔ الرجز۔ پلیدی ، گناہ، عذاب، بت ۔
بغوی لکھتے ہیں رجز سے مراد اوثان یعنی بت ہیں۔ بعض کا قول ہے رجس (پلیدی) سے ہے بوجہ ہم مخرج ہونے کے س اور ز کو ایک دوسرے کی جگہ لے آتے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ رجز (ر کے پیش کے ساتھ) بمعنی بت۔ اور ر کی زیر کے ساتھ لمبی نجاست و معصیت ہے۔
جزائیہ ہے (ملاحظہ ہو 74:3 مذکورہ بالا) اھجر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھجر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ دور رہنا۔ اور بتوں سے (حسب سابق) دور رہئے۔
Ayah 74:6(74:6) ولا تمنن تستکثر۔ واؤ عاطفہ، لا تمنن فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ من (باب نصر) مصدر۔ سے بمعنی احسان کرنا۔ تو احسان نہ رکھ۔ تو احسان نہ کرو۔ تستکثر : مضارع معروف صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استکثار (استفعال) مصدر تو زیادہ چاہتا ہے۔ زیادہ چاہتے ہوئے۔ ضمیر فاعل لا تمنن سے حال ہے۔ تو کسی پر احسان نہ کر درآنحالیکہ اس کے عوض زیادہ کی امید رکھے۔
Ayah 74:7(74:7) ولربک فاصبر : اصل کلام تھا واصبر لربک فاصبر حکم صبر کی تکرار تائید کے لئے ہے یا اقسام صبر کے گوناگوں ہونے کے زیر اثر۔ علماء کے اس بارے میں اقوال ہیں :۔
(1) اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اس کی طاعت۔ حکم۔ ممانعت اور مصائب پر صبر کرو۔
(2) تم کو جو دکھ دیا جائے اس پر صبر کرو۔ (مجاہد)
(3) تم پر عرب و عجم کے مقابلہ کا جو بار عظیم پڑا ہے اس بار کو اٹھانے میں صبر کرو۔
(4) قضاء خداوندی پر اللہ کے لئے صابر رہو۔
Ayah 74:8(74:8) فاذا نقر فی الناقور : ناقور، صور، یہ لفظ نقر سے بنا ہے۔ نقر کا مطلب ہے آواز پیدا کرنا۔ اصل معنی ہے کسی چیز کو اتنا کھٹکھٹانا کہ آخر اس میں سوراخ ہوجائے۔ پدنرے کی چونچ کو منقار اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔
فاذا میںسببیہ ہے۔ گویا مطلب ہوا کہ کافروں کے دکھ پر صبر کرو ان کے سامنے ایک سخت ترین دن آرہا ہے جس میں تم کو صبر کا اچھا نتیجہ ملے گا۔ ترجمہ :۔ پھر جب ناقور پھونکا جائے گا۔ اذا شرطیہ، جملہ شاطیہ ہے۔
Ayah 74:9(74:9) فذلک یومئذ یوم عسیر :جزائیہ ہے۔ ذلک میں اشارہ وقت نقر (صور پھونکنے کے وقت) کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مبتداء ہے اور یومئذ اس سے بدل ہے ۔ یوم عسیر مبتدء کی خبر ہے ۔ علی الکافرین متعلق بہ عسیر ہے۔
یوم عسیر موصوف صفت ہے۔ عسیر عسرۃ سے (باب نصر و ضرب) مصدر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے سخت، تنگ، بھاری ، مشکل۔
Ayah 74:10(74:10) غیر یسیر : غیر حرف استثناء ہے اس کا مستثنیٰ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ یسیر یسر یسر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، بمعنی سہل، آسان، غیر یسیر ہے عسیر کی۔ یہ کافروں کے لئے وعید مزید ہے یہ کافروں کے لئے دنیا کی عسرت کی طرح نہیں ہوگی کہ اس کے بعد یسر کی امید کی جائے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن (یعنی روز قیامت) کافروں پر بڑا مشکل ہوگا۔ دنیاوی مشکل کی طرح نہ ہوگا کہ اس مشکل کے بعد آسانی کی امید کی جاسکے۔
Ayah 74:11(74:11) ذرنی ومن خلقت وحیدا : ذر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع، فتح) مصدر سے۔ بمعنی مع ہے۔ من موصولہ ہے اور خلقت صلہ ہے۔ مطلب یہ کہ :۔ تو مجھے اور (بمعہ اس کے) جس کو میں نے پیدا کیا (اپنے اپنے حال پر) چھوڑ دے میں خود ہی اس سے نپٹ لوں گا۔ وحیدا۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں :۔
(1) یہ ذرنی کے مفعول سے حال ہے، مجھے اس کے لئے چھور دو ۔ میں تمہاری طرف سے اس کے لئے کافی ہوں۔
(2) یہ خلقت کے فاعل سے حال ہے۔ میں نے تنہا خود بغیر کسی شریک کے پیدا کیا اس کو ۔
(3) خلقت کا مفعول محذوف ہے ای خلقتہ اور وحیدا اس مفعول کی ضمیر سے حال ہے۔ میں نے شرارت میں اس کو یکتا پیدا کیا
(4) وحید وہ شخص ہوتا ہے جس کا نسب کسی باپ سے نہ ملتا ہو۔ ولید بھی حرامی تھا۔
بغوی نے بیان کیا ہے کہ :۔ ولید کا خطاب قوم میں وحید تھا۔ اللہ نے بھی بطور استہزاء اور استخفاف کے اس کو وحید فرمایا۔
Ayah 74:12(74:12) وجعلت لہ مالا ممدودا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی جعلت کا۔ ممدودا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب، مد (باب نصر) مصدر سے بڑھایا گیا۔ بڑھنے والا مال۔ جیسے کھیتی باڑی۔ تجارت۔ مویشی۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور اس کو بڑھنے والا مال مہیا کیا۔
Ayah 74:13(74:13) وبنین شھودا۔ اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ بنین شھودا موصوف و صفت مل کر جعلت لہ کا مفعول ہے۔
بنین ابن کی جمع ہے بحالت نصب۔ بیٹے۔ شھودا جمع ہے شاھد کی جیسے سجود جمع ہے ساجد کی۔ حاضرین، موجودین۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور پاس رہنے والے بیٹے دئیے۔
Ayah 74:14(74:14) ومھدت لہ تمھیدا۔ مفعول مطلق مصدر۔
مطلب یہ کہ :۔ میں اس کے لئے ریاست، جاہ و حشمت کا سامان فراہم کیا مکہ کا کوئی رئیس اس کے ساتھ ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتا یہاں تک کہ اس کے ہم قوم اسے ” ریحانہ قریش “ ” قریش کا گل خنداں “ کہا کرتے۔ یہ آپ کو وحید بن وحید یگانہ خلف یگانہ کے متکبرانہ الفاظ سے ملقب کیا کرتا۔
Ayah 74:15(74:15) ثم یطمع ان ارید : ثم تراخی فی المرتبۃ کے لئے ہے یعنی اس کو اس قدر دیا ہے پھر بھی وہ اس پر مزید کا طمع رکھتا ہے۔
یطمع۔ مضارع واحد مذکر غائب طمع باب سمع مصدر سے۔ وہ لالچ کرتا ہے۔ وہ امید رکھتا ہے۔
ان ازید : ان مصدریہ ہے۔ ازید مضارع واحد متکلم۔ زیادۃ باب ضرب مصدر سے۔ بمعنی زیادہ کرنا۔ کہ میں اس کو اور بھی زیادہ دوں۔ ازید منصوب بوجہ عمل ان۔
Ayah 74:16(74:16) کلا : ہرگز نہیں۔ حرف ردع میں سے ہے۔ (ردع بمعنی روکنا باز رکھنا) ۔
انہ کان لایتنا عنیدا۔ یہ حرف ردع کلا کی علت ہے۔ کیونکہ وہ ہماری آیات کا مخالف ہے اس لئے ہم اس کو مزید نہیں دیں گے۔ (ناشکری اور آیات الٰہیہ کی مخالفت سے نعمت کا زوال ہوتا ہے اور ترقی رک جاتی ہے۔
عنیدا : عناد رکھنے والا۔ راستے سے ادھر ادھر ہٹ جانے والا۔ عنود (باب ضرب کرم) بروزن فعیل بمعنی فاعل : صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ خبر کان ہے ۔ ضدی۔ سرکش ، جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کرنے والا۔
فائدہ : آیات نمبر 11 تا 26 ولید بن مغیرہ المخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھیں خداوند تعالیٰ نے اس کو دنیاوی نعمتیں وافر عطا کر رکھی تھیں۔ جسمانی و مالی عنایات کے لحاظ سے مکہ میں اس کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ مال و دولت جاہ و حشمت، آل و اولاد، غرضیکہ ہر قسم کی نعمتیں اسے میسر تھیں۔ تمام اہل مکہ اس کی عزت کیا کرتے تھے۔ اور اس کی ہر بات کو وقعت دی جاتی تھی۔ دل سے اگرچہ وہ جانتا تھا کہ نبی کریم ﷺ جس کلام کی تبلیغ کر رہے ہیں وہ حق ہے اور منجانب اللہ ہے۔ لیکن اپنی ناک کو اونچا دکھانے کے لئے جانتے ہوئے بھی وہ آیات الٰہیہ کا مخالف تھا۔ اور دوسروں کو بھی کلام الٰہی کی مخالفت کی تلقین کیا کرتا تھا۔ اور اپنے صلاح و مشورہ سے اشاعت اسلام میں روڑے اٹکانے کی ترکیبیں بتایا کرتا تھا۔
چناچہ ایک مجلس میں جو اس امر کے لئے منعقد کی گئی تھی کہ جو لوگ مکہ سے باہر کے زیارت کعبہ کے لئے آتے ہیں وہ اگر نبی کریم ﷺ کی بابت دریافت کریں۔ تو ان کو کیا جواب دینا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ جوابات میں اختلاف پایا جائے۔
ولید بن مغیرہ جو ان کا بنچ بنا کر بیٹھا تھا کہنے لگا کہ محمد ﷺ میں تم لوگوں نے کسی مجنون کی، کسی کاہن کی، کسی شاعر کی، کسی دروغ گو کی کوئی علامت پائی ؟ سب نے کہا کہ نہیں ! تو آخر وہ کیا ہے ؟ ولید نے کہا۔ پھر دل ہی دل میں کچھ غور کیا۔ پھر نظر اٹھائی اور منہ بگاڑ کر کہا کہ بس وہ جادوگر ہے اور کچھ نہیں ! تم نے دیکھ لیا کہ وہ اپنے کلام سے میاں بیوی۔ باپ ، اولاد اور بھائیوں میں جدائی ڈال دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آیات 15-16 کے مطابق اس دن سے ولید کا کاروبار ماند پڑگیا۔ زراعت و تجارت کی ترقی رک گئی اور خسارے کا چکر چلنے لگا۔
Ayah 74:17(74:17) سارھقہ صعودا : س مضارع پر داخل ہوکر اس کے معنی مستقبل قریب کے کردیتا ہے۔ ارھق مضارع واحد متکلم ارھاق (افعال) مصدر بمعنی کسی ناگوار کام کرنے پر انسان کو مجبور کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع ولید بن مغیرہ ہے۔
صعودا بڑی چڑھائی، سخت گھاٹی۔ دوزخ میں ایک پہاڑ کا نام۔ منصوب بوجہ ارھق کے مفعول ثانی کی۔ اصل میں صعود اس گھاٹی کو کہتے ہیں کہ جس کی چڑھائی سخت ہو۔ جو سختیاں اور دشواریاں پیش آتی ہیں ان کے لئے یہ لفظ بطور مثال مستعمل ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آیت سارھقہ صعودا کی تشریح میں جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ :۔ وہ دوزخ میں آگ کا ایک پہاڑ ہے ولید کو اس پر چڑھنے کا حکم ہوگا۔ جب وہ اپنا ہاتھ اس پر رکھے گا تو ہاتھ پگھل جائے گا۔ جب اٹھائے گا تو دوبارہ پھر اپنی اصلی حالت پر آجائے گا اور جب اس پر اپنا قدم رکھے گا تو قدم بھی پگھل جائے گا پھر جب وہ قدم اٹھائے گا تو پھر وہ اپنی اصلی حالت پر ہوجائے گا۔ (بغوی)
ترجمہ ہوگا :۔ ہم عنقریب اسے صعود پر چڑھائیں گے (ترجمہ فتح محمد جالندھری)
میں ابھی اسے جھنڈے پر چڑھاتا ہوں (حقانی)
میں اسے مجبور کر دوں گا کہ وہ کٹھن چڑھائی چڑھے۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 74:18(74:18) انہ فکر وقدر۔ فکر ماضی واحد مذکر غائب ۔ تفکیر (تفعیل) مصدر اس نے سوچا۔ اس نے غور کیا۔ اس نے تامل کیا۔
وقدر : واؤ عاطفہ، قدر، ماضی واحد مذکر غائب۔ تقدیر (تفعیل) مصدر ۔ اس نے اندازہ کیا۔ اس نے بات طے کرلی۔ (کہ قرآن کے متعلق کیا کہے) یہ جملہ ولید کے عناد کا بیان اور اس کے استحقاق عذاب کی علت ہے۔
Ayah 74:19(74:19) فقتل : قتل ماضی مجہول واحد مذکر غائب قتل (باب نصر) مصدر۔ بمعنی مار ڈالنا۔ قتل وہ مار ڈالا گیا۔ یعنی وہ مارا جائے یہ دعائیہ جملہ ہے ۔ لیکن اللہ کے کلام میں بددعا کے معنی حقیقی نہیں۔ بددعا سے مراد کلام الٰہی میں ایجاد قتل ہوتا ہے یعنی اللہ نے ان کے لئے قتل کیا جانا مقرر کردیا۔ یا رحمت خدا سے ان کو دور کردیا گیا۔
قرآن مجید میں قتل بطور بددعائیہ کلمہ کے دو جگہ آیا ہے۔ ایک آیت ہذا میں ۔ دوسرا آیت قتل اصحب الاخدود النار (85:4) میں ۔ مارے جائیں کھائیاں کھودنے والے۔
کیف قدر : کیف کا استفہام انکاری اور زجری ہے اس کے اندازہ لگانے پر استہزاء اور تعجب ہے (یعنی اللہ سوال نہیں کر رہا ہے اس کو سب کچھ معلوم ہے سوال استفہامی وہ کرتا ہے جس کو وہ شی معلوم نہ ہو۔
Ayah 74:20(74:20) ثم قتل کیف قدر۔ یہ جملہ تاکیدی ہے اور لفظ ثم تراخی فی الرتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ (اس پر) مزید اللہ کی مار ہو کیسا (برا) اندازہ لگایا اس نے ۔
Ayah 74:21(74:21) ثم نظر : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے (درمیانی مہلت وقت کی ہے رتبہ کی نہیں) ثم نظر کا عطف فکر اور قدر پر ہے یعنی سوچا اور غور کیا قرآن کے بارے میں۔
ثم نظر ای فی امر القران مرۃ بعد اخری (بیضاوی) یعنی قرآن کے متعلق دوبارہ غور کیا۔
Ayah 74:22(74:22) ثم عبس وبسر : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے بمعنی پھر، عبس ماضی واحد مذکر غائب عبس وعبوس (باب ضرب مصدر سے جس کے معنی ترش رد ہونے اور تیوری چڑھانے کے ہیں۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی۔
وبسر۔ واؤ عاطفہ، بسر ماضی واحد مذکر غائب بسور (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی منہ بنانا اور ترش رد ہونے کے ہیں۔ اور اس نے منہ بنایا۔ بسر عبس کی تاکید میں آیا ہے۔
Ayah 74:23(74:23) ثم ادبر : ثم بمطابق آیت بالامتذکرۃ الصدر۔ ادبر ماضی واحد مذکر غائب ادبار (افعال) مصدر سے پھر اس نے پیٹھ منہ
واستکبر : استکبر ماضی واحد مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر سے اس نے غرور کیا۔ اس نے گھمنڈ کیا۔
Ayah 74:24(74:24) فقال ان ھذا الا سحر یؤثر۔ اور کہنے لگا یہ نہیں ہے مگر جادو جو سینہ بسینہ (پہلے سے) چلا آرہا ہے۔
تعقیب بلا مہلت ہے۔ (من غیر مہلۃ) یعنی اس نے سرداری اور مال کے گرور میں آکر بلا توقف کہہ دیا۔ ان ھذا الا سحر یؤثر۔
الفاء للدلالۃ علی انہ لما خطرت ھذہ الکلمۃ ببالہ تفوہ بھا من غیر تلبث و تفکر (بیضاوی)اس بات سے دلالت کر رہا ہے کہ جب یہ کلمہ اس کے ذہن میں آیا تو اس نے بلا توقف اور تفکرا سے بول دیا۔ ان نافیہ ہے۔ ھذا سے مراد کلام الٰہی ہے (القرآن) ہے۔
یؤثر : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ، اثر (باب نصر) مصدر (وہ نقل کیا جاتا ہے وہ منقول ہے۔ یعنی روایۃ ایک دوسرے سے چلا آرہا ہے۔
Ayah 74:25(74:25) ان ھذا الاقول البشر : ان نافیہ۔ ھو (ای القران) قول البشر مضاف مضاف الیہ۔ بشر کا کلام، انسان کا کلام۔
یہ جملہ اول کی تاکید میں ہے اسی وجہ سے اس کو اس پر عطف نہیں کیا گیا۔
فائدہ : ولید بن مغیرہ کی ان حرکات و سکنات کو صاحب ضیاء القرآن یوں تحریر فرماتے ہیں :۔
آخری اعلان سے پہلے ایک مرتبہ پھر رعونت سے مجمع پر نظر ڈالتا ہے۔ پھر اس کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں پھر وہ منہ بسورتا ہے۔ چہرے کو کرخت بناتا ہے پھر غرور تکبر سے منہ پھر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان ھذا الا سحر : کہ یہ جادو ہے اور اس کتاب کالا نے والا جادوگر ہے۔ پھر لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اس کا رواج قدیم زمانے سے چلا آتا ہے ہر زمانے کے جادوگر اپنے شاگردوں کو اس کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔
Ayah 74:26(74:26) ساصلیہ سقر : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل قریب کے معنی پیدا کرتا ہے۔
اصلیہ : اصلی مضارع واحد متکلم ۔ اضلاء (افعال) مصدر بمعنی آگ میں ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب سقر جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے بوجہ معرفہ و تانیث غیر منصرف ہے لہٰذا منصوب ہے۔ میں اس کو عنقریب ہی جہنم کی آگ میں ڈالوں گا۔
Ayah 74:27(74:27) وما ادرک ما سقر۔ واؤ عاطفہ ما استفہامیہ ادرک ادری ماضی واحد مذکر غائب۔ ادراء (افعال) مصدر درء مادہ (مجرد باب ضرب سے آتا ہے) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، تم کو کون بتائے یا تم کو کیا معلوم کہ سقر کیا ہے۔ جملہ استفہامیہ سقر کی عظمت کو بیان کر رہا ہے۔
Ayah 74:28(74:28) لا تبقی ولا تذر : لا تبقی فعل نہی واحد مؤنث غائب البقاء (افعال) مصدر۔ وہ باقی نہیں چھوڑتی۔
لا تذر۔ واحد مؤنث غائب فعل نہی مضارع وذر سے (اس فعل کی ماضی مستعمل نہیں ہوتی) اور نہ وہ چھورتی ہے وہ نہ چھوڑے گی۔ مطلب یہ کہ جو چیز اس میں ڈالی جائے گی اس کو باقی نہیں چھوڑتی (سقر) ہلاک کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔
Ayah 74:29(74:29) لواحۃ للبشر۔ (ہی مبتداء محذوف) لواحۃ خبر۔ للبشر متعلق خبر۔ لواحۃ صیغہ مبالغہ ہے لوح مادہ۔ پیاس کی شدت ، تختہ، ظہور، تلویح (تفعیل) مصدر۔ بمعنی رنگ کا بگاڑ دینا۔ گرمی سے سوختہ کردینا۔ جھلسا دینا۔ بشر جمع بشرۃ کی۔ کھال کی ظاہری سطح کو کہتے ہیں۔
انسان کو بشر اسی لئے کہتے ہیں کہ اور حیوانوں میں تو کسی کی کھال اون سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور کسی کی بالوں سے مگر انسان کی کھال سب حیوانات کے خلاف کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ لفظ بشر کا استعمال واحد، جمع دونوں کے لئے یکساں طور پر ہوتا ہے۔ ہاں تثنیہ میں بشرین آیا ہے۔ جیسے فقالوا انؤمن لبشرین مثلنا (23:47) کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں۔
قرآن مجید میں انسان کے ظاہری جسم اور حبثہ کو ” بشر “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے :۔
(1) لواحۃ کا معنی ظاہر لے کر اور بشر کا معنی آدمی لے کر حسن بصری اور ابن کیسان نے آیت کا ترجمہ کیا ہے۔ دوزخ آدمی کے سامنے نمایاں ہوگئی یا ظاہر ہوگئی۔ اسی طرح کا معنی آیت : وبرزت الجحیم للغوین (26:91) اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی ، میں آیا ہے۔
(2) لیکن لواحۃ کا معنی رنگ بگاڑ دینے والی۔ گرمی کی وجہ سے جھلسا دینے والی اور بشر کا معنی کھال کی بیرونی سطح لے کر جمہور نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔
(وہ دوزخ یعنی سقر) آدمی کی کھال کو جھلسا دینے والی ہوگی ، (کلام کے سیاق وسباق میں یہی معنی بہتر ہیں)
Ayah 74:30(74:30) علیہا تسعۃ عشر : اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں : یتسلط علی اہلہا تسعۃ عشر ملکا (کشاف) اس (جہنم یعنی سقر) کے دوزخیوں پر اللہ نے انیس فرشتے (مقرر) مسلط کر رکھے ہیں۔
علیہا میں ھا ضمیر کا مرجع سقر ہے : تسعۃ عشر اسم عدد جس کا معدود محذوف ہے یعنی فرشتے۔
تسعۃ عشر دو کلمات سے مرکب ہے اور دونوں جزء میں سے ہر ایک مبنی بر فتح ہے۔
Ayah 74:31(74:31) وما جعلنا اصحب النار الا ملئکۃ : واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے۔ اصحب النار مضاف مضاف الیہ مل کر جعلنا کا مفعول ہے۔ الا حرف استثناء ملئکۃ مستثنیٰ اور ہم نے دوزخ پر داروغے فرشتوں کو ہی رکھا ہے۔
عدتھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی تعداد، فتنۃ آزمائش، اور ان کی تعداد کافروں کے لئے ہم نے آزمائش بنائی ہے۔
لیستیقن لام تعلیل کے لئے ہے۔ یستیقن مضارع منصوب واحد مذکر غائب استیقان (استفعال) مصدر بمعنی واضح طور پر جان لینا۔ یقین کے ساتھ جان لیتا۔ یقین کا معنی ہے کسی بات کی قطعیت پر انسانی فہم کا قائم ہوجانا۔ چونکہ یقین علم حصولی کی صفت ہوتا ہے۔ اس لئے ملائکہ اور انسان کے علم کی صفت تو ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے علم کو موصوف بہ یقین نہیں کہا جاسکتا۔
لیستیقن، تاکہ وہ واضح طور پر جان لیں۔ (یعنی کافر لوگ)
الذین اوتوا الکتب : الذین اسم موصول جمع مذکر، اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو ملا۔ الکتب اسم مفعول۔ جن کی کتاب دی گئی اہل کتاب ، یعنی یہود و نصاری۔
ویزداد الذین امنوا واؤ عاطفہ۔ یزداد مضارع منصوب ۔ واحد مذکر غائب ازدیاد (افتعال) مصدر۔ تاکہ بڑھ جائے۔ زیادہ ہوجائے۔ ایمانا مفعول مطلق۔ اور تاکہ ایمان والوں کا ایمان بڑھے۔
ولا یرتاب الذین اوتوا الکتب والمؤمنون : واؤ عاطفہ، لا یرتاب مضارع منفی منصوب واحد مذکر غائب ارتیاب (افتعال) مصدر۔ بمعنی شک میں پڑنا۔ اور تاکہ اہل کتاب اور ایمان دار شک میں نہ پڑیں۔
ولیقول الذین فی قلوبہم مرض والکفرون : واؤ عاطفہ لام تعلیل کا مرض سے مراد نفاق ہے۔ اور تاکہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور کافر لوگ یہ کہیں ۔
ما ذا اراد اللہ بھذا مثلا : ماذا کیا چیز ہے۔ کیا ہے یہ۔ ماذا کی لفظی ساخت میں اختلاف ہے۔ کوئی اس کو مرکب کہتا ہے کوئی بسیط۔ اور بسیط کہنے والوں میں سے بعض قائل ہیں کہ ماذا پورا اسم جنس ہے یا موصول ہے الذی کا ہم معنی۔ یا پورا حرف استفہام ہے جیسے ماذا ینفقون قل العفو (2:219) اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کونسا مال خرچ کریں۔ کہہ دیں جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ (قرات غیر ابو عمر) ۔ مرکب کہنے والے کہتے ہیں کہ ماذا مرکب ہے ما استفہام اور ذا موصولہ سے۔ یا ما استفہامیہ اور ذا زائدہ سے۔ مثلا بیان۔ عجیب خبر، مثال۔
فائدہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے دوزخ کے کارکن فرشتے بنائے ہیں اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنایا ہے تاکہ :۔
(1) لیستیقن ۔۔ اوتوا الکتب : تاکہ اہل کتاب کو محمد ﷺ کی نبوت کا یقین کامل ہو۔
(2) ویزداد الذین ۔۔ اور تاکہ ایمان والوں کا ایمان اور زیادہ ہوجائے۔
(3) ولا یرتاب الذین ۔۔ اور تاکہ اہل کتاب اور ایمان داروں کو آخرت کے بارے میں شک نہ ہو۔
(4) ولیقول الذین ۔۔ اور تاکہ جن کے دلوں میں شک ہے اور منکر ہیں یہ کہیں کہ اس مثل یعنی بیان سے اللہ تعالیٰ نے کیا ارادہ کیا ہے۔ یعنی وہ اس میں نکتہ چینی کرکے اور زیادہ گمراہ ہوں۔
اس لئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کذلک لیضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔
کذلک کاف حرف تشبیہ ذلک اسم اشارہ ۔ یعنی اس طرح یضل واحد مذکر غائب مضارع اضلال (افعال) مصدر۔ وہ گمراہ کرتا ہے۔ جنود جمع ہے جند کی بمعنی لشکر ۔ فوجیں۔
وما ہی : ما نافیہ ہے۔ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع سقر ہے۔
ذکری مصدر ہے ذکر یذکر کا۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ یہ محض انسان کی نصیحت کے لئے ہے۔
Ayah 74:32(74:32) کلا : جمہور کے نزدیک یہ حرف بسیط ہے اور ثعلب نحوی کے نزدیک مرکب ہے کاف تشبیہ اور لا نافیہ ہے۔ حالت ترکیب میں ک اور لا کے انفرادی معنی باقی نہ رہے اسی لئے لام کو مشدد کردیا گیا ہے۔
سیبویہ ، خلیل، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی حرف ردع (روکنا، باز داشت) اور روکنے کے ہیں (خواہ بطور زجر و توبیخ یعنی گھر کی یا سرزنش کے ہو یا بطور تربیت اور ادب آموزی کے ہو) اسی لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے ان تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے وہاں کلا پر وقف کرنا جائز ہے اور بعد کو آنے والا کلام نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔
ابو حاتم نے اس کو استفتاحیہ (آغاز کلام میں آنے والا) بتایا ہے ابو حیان اور زجاج نے بھی اس میں ابو حاتم کی پیروی کی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن، الاتقان فی علوم القرآن حصہ اول) ۔
علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ کلا : منکروں کے لئے اس لفظ سے باز داشت کی گئی ہے۔ یا منکروں کے نصیحت پذیر ہونے کا انکار ہے اگرچہ واقع میں یہ پیام نصیحت ہے۔
جلالین میں ہے :۔ کلا برائے استفتاح بمعنی الا (خبردار) یاد رکھو۔
والقمر : واؤ قسمیہ ہے اور القمر مقسم یہ ہے۔ قسم ہے چاند کی۔
Ayah 74:33(74:33) والیل اذا ادبر : واؤ قسم کے لئے ہے الیال مقسم بہ ہے اذ بمعنی جب ظرف زمان ادبر ماضی واحد مذکر غائب ۔ ادبار (افعال) مصدر۔ بمعنی پیٹھ پھیرنا۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھلے
Ayah 74:34(74:34) اسفر ماضی واحد مذکر غائب۔ اسفار (افعال) مصدر۔ بمعنی روشن ہونا۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجائے۔
Ayah 74:35(74:35) انھا لاحدی الکبر۔ یہ جملہ جواب قسم ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب سقر کی طرف راجع ہے لام تاکید کے لئے ہے۔ احدی الکبیر۔ مضاف مضاف الیہ ۔ بڑی بلاؤں میں سے یا مصیبتوں میں سے کی ایک۔ الکبر جمع ہے کیر کی۔ بیشک یہ (سقر) بہت بڑی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے۔
Ayah 74:36(74:36) نذیرا للبشر۔ انسان کے ڈرانے کو، نذیرا حال ہے انھا کی ضمیر واحد مؤنث سے لہٰذا منصوب ہے۔
Ayah 74:37(74:37) لمن شاء منکم ان یقدم او یتاخر لمن شاء بدل ہے۔ للبشر سے یعنی تم میں سے دونوفریقوں کے لئے نذیر ہے ایک فریق وہ جو خیر و طاعت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے دوسرا وہ فریق جو کہ شر اور گناہ میں پڑا رہنا چاہتا ہے۔
مطلب یہ کہ تم کو سقر کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اب تم میں سے جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی اور نیکی کے راستہ پر آگے بڑھے یا برائیوں میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔
ان یتقدم : ان مصدریہ یتقدم مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب ۔ تقدم (تفعل) مصدر آگے بڑھنا۔ او بمعنی یا یتاخر ای ان یتاخر ان مصدریہ یتاخر فعل مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب۔ تاخر (تفعل) مصدر بمعنی پیچھے رہنا۔
Ayah 74:38(74:38) کل نفس بما کسبت رھینۃ : کل نفس مضاف مضاف الیہ سب جانیں۔ تمام اشخاص، ہر کوئی، ہر شخص، بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ کسبت اس کا صلہ ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب باب ضرب مصدر۔ اس نے کمایا۔
رھینۃ گروی، یہ رھین کی تانیث نہیں ہے کیونکہ نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ جب فعیل مفعول کے معنی میں ہو تو مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے صفت آتی ہے اگر یہ رھین بمعنی مصدر ہے۔ اس کا مطلب رہن ، گروی ہونا ہے (ضیاء القرآن) ۔ آیت کا مطلب ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلہ میں گروی ہے۔
تفسیر حقانی میں ہے :۔ رھینۃ اسم بمعنی الرھن کا لشییمۃ بمعنی الشتم ہے۔
Ayah 74:39(74:39) الا اصحب الیمین۔ استثناء متصل ہے چونکہ مستثنیٰ متصل (اصحب) الا کے بعد کلام موجب میں واقع ہے لہٰذا منصوب ہے۔ (کلام موجب وہ ہے جس میں نفی نہی استفہام نہ ہو) ۔
اصحب الیمن۔ مضاف مضاف الیہ دائیں ہاتھ والے۔ مراد اشخاص جن کو اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے یا وہ گروہ جو قیامت کے روز اللہ کے عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوگا۔ اگر یمین یمن سے ہے جس کے معنی برکت اور غیر و بہتری کے ہیں تو اس سے اہل خیر اور نیک و کار، ایماندار لوگ مراد ہیں۔
Ayah 74:40(74:40) یہاں اختتام آیت 39 پر ہے اور لفظ جنت (آیت 40) پر معانقہ ہے۔