74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے لحاف میں لپٹنے والے6

6 اس کے لیے سورة " مزمل " کا پہلا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

کھڑا ہو پھر ڈر سنا دے7

7 یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے۔ آپ کا کام تو یہ ہے کہ سب آرام و چین چھوڑ کر دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں۔ اور کفر و معصیت کے برے انجام سے ڈرائیں۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بڑائی بول8

8 کیونکہ رب کی بڑائی بولنے اور بزرگی و عظمت بیان کرنے ہی سے اس کا خوف دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تقدیس ہی وہ چیز ہے جس کی معرفت سب اعمال و اخلاق سے پہلے حاصل ہونی چاہیے۔ بہرحال اس کے کمالات و انعامات پر نظر کرتے ہوئے نماز میں اور نماز سے باہر اس کی بڑائی کا اقرار و اعلان کرنا تمہارا کام ہے۔
Ayahs 74:4–5

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھ

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے دور رہ9

9 اس سورت کے نازل ہونے پر حکم ہوا کہ مخلوق کو خدا کی طرف بلائیں۔ پھر نماز وغیرہ کا حکم ہوا۔ نماز کے لیے شرط ہے کہ کپڑے پاک ہوں اور گندگی سے احتراز کیا جائے۔ ان چیزوں کو یہاں بیان فرما دیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جب کپڑوں کا حسی و معنوی نجاستوں سے پاک رکھنا ضروری ہے تو بدن کی پاکی بطریق اولیٰ ضروری ہوگی۔ اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعض علماء نے کپڑوں کو پاک رکھنے سے نفس کا برے اخلاق سے پاک رکھنا مراد لیا ہے۔ اور گندگی سے دور رہنے کے معنی یہ لیے ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور رہیے۔ جیسے اب تک دور ہیں۔ بہرحال آیہ ہذا میں طہارت ظاہری و باطنی کی تاکید مقصود ہے۔ کیونکہ بدون اس کے رب کی بڑائی کا کما حقہ دلنشین نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 74:6–7

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور ایسا نہ کر کہ احسان کرے اور بدلہ بہت چاہے

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب سے امید رکھ10

10 یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا۔ ان آیتوں کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن احقر کے خیال میں یہی بےتکلف ہے۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب بچنے لگے وہ کھوکھری چیز11

11 یعنی صور پھونکا جائے۔
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

پھر وہ اس دن مشکل دن ہے12

12 یعنی اس دن کے واقعات میں سے صور کا پھونکا جانا گویا ایک مستقل دن ہے جو سرتاپا مشکلات اور سختیوں سے بھرا ہوگا۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

منکروں پر نہیں آسان1

1 یعنی منکروں پر کسی طرح کی آسانی نہ ہوگی بلکہ اس دن کی سختی دم بدم ان پر بڑھتی جائے گی۔ بخلاف مومنین کے کہ اگر سختی بھی دیکھیں گے تو کچھ مدت کے بعد پھر آسانی کردی جائے گی۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ دے مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے بنایا اکیلا2

2 ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا اور جریدہ آتا ہے۔ مال، اولاد، فوج، لشکر، سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، یا " وحید " سے مراد خاص ولید بن مغیرہ ہو جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ہیں۔ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور دنیاوی ثروت و لیاقت کے اعتبار سے عرب میں فرد اور یکتا سمجھا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے منکروں کے معاملہ میں جلدی نہ کیجیے، نہ ان کو مہلت ملنے سے تنگدل ہوں۔ بلکہ ان کا قصہ میرے سپرد کرو۔ میں سب کا بھگتان کر دوں گا۔ آپ کو غمگین و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 74:12–13

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور دیا میں نے اس کو مال پھیلا کر

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور بیٹے مجلس میں بیٹھنے والے3

3 یعنی مال واولاد کا پھیلاوا بہت ہوا۔ دسوں بیٹے ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہتے اور محفلوں میں باپ کی توقیر بڑھاتے اور دھاک بٹھلاتے تھے۔ تجارتی کاروبار اور دوسرے کام کاج کے لیے نوکر چاکر بہت تھے۔ ضرورت نہیں تھی کہ بیٹے باپ کی نظر سے غائب ہوں۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور تیاری کردی اس کے لیے خوب تیاری4

4 یعنی دنیا میں جو خوب عزت جمادی اور مسند حکومت و ریاست اچھی طرح تیار کردی۔ چناچہ تمام قریش ہر مشکل میں کام میں اسی کی طرف رجوع کرتے اور اس کو اپنا حاکم جانتے تھے۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر لالچ رکھتا ہے کہ اور بھی دوں5

5 یعنی باوجود کثرت نعمت و ثروت کے کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکالا۔ بلکہ ہمیشہ بت پرستی اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول کریم ﷺ کبھی اس کے سامنے بہشت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو یقین کامل ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ہی ملیں گی۔ اس کو فرماتے ہیں کہ باوجود اس قدر ناشکری اور حق ناشناسی کے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت کی نعمتیں اور زیادہ دے گا۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ ہے ہماری آیتوں کا مخالف6

6 یعنی جب وہ منعم حقیقی کی آیتوں کا مخالف ہے تو اسے ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ ایسی توقع باندھے اور خیالی پلاؤ پکائے۔ کہتے ہیں کہ ان آیات کے نزول کے بعد پے بہ پے اس کے مال و اسباب میں نقصان ہونا شروع ہوا۔ آخر فقیر ہو کر ذلت کے ساتھ مرگیا۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

اب اس سے چڑھواؤں گا بڑی چڑھائی7

7 یعنی ابھی اس کو بہت بڑی چڑھائی چڑھنا اور سخت ترین مصائب میں گرفتار ہونا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ " صعود " دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ہمیشہ چڑھائیں گے اور گرائیں گے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے (تنبیہ) ولید ایک بار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا۔ جس سے کسی قدر متاثر ہوا۔ مگر ابو جہل نے اس کو ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ اگر ولید مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو ہوئی کسی نے کہا شاعر ہیں کسی نے کاہن بتلایا ولید بولا کہ میں شعر میں خود بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں، قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا کہ آخر تیری کیا رائے ہے کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری بدل کر اور منہ بنا کر کہا کچھ نہیں جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ حالانکہ پیشتر قرآن سن کر کہہ چکا تھا کہ یہ سحر بھی نہیں نہ دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے مگر محض برادری کو خوش کرنے کے لیے اب یہ بات بنادی۔ آگے اسی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 74:18–20

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور دل میں ٹھہرا لیا

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

سو مارا جائیو کیسا ٹھہرایا

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر مارا جائیو کیساٹھہرایا8

8 یعنی بدبخت نے دل میں سوچ کر ایک بات تجویز کی کہ قرآن جادو ہے۔ خدا غارت کرے کیسی مہمل تجویز کی پھر خدا غارت کرے کہ اپنی قوم کے جذبات کے لحاظ سے کیسی برمحل تجویز نکالی جس کو سن کر سب خوش ہوجائیں۔
Ayahs 74:21–25

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر نگاہ کی

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ تھتھایا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر بولا اور کچھ نہیں یہ جادو ہے چلا آتا

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ کہا ہوا ہے آدمی کا9

9 یعنی مجمع پر نگاہ ڈالی پھر خوب منہ بنایا۔ تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ پھر پیٹھ پھیرلی گویا بہت ہی قابل نفرت چیز کے متعلق کچھ بیان کرنا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اس کی حقانیت کا اقرار کرچکا تھا۔ اب برادری کی خوشنودی کے لیے اس سے پھر گیا۔ آخر نہایت غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگا۔ بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ اور یقینا یہ آدمی کا کلام ہے جو جادو بن کر باپ کو بیٹے سے، میاں کو بیوی سے، اور دوست کو دوست سے جدا کردیتا ہے۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

اب اس کو ڈالوں گا آگ میں10

10 یعنی عنقریب اس کو آگ میں ڈال کر عنادو تکبر کا مزا چکھاؤں گا۔
Ayahs 74:27–28

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کیسی ہے آگ

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے11

11 یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی جو جلنے سے بچ جائے۔ پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے جائیں بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) اکثر سلف سے یہی معنیٰ منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری طرح توجیہ کی ہے۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

جلا دینے والی ہے آدمیوں کو12

12 یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جیسے دہکتا لوہا سرخ نظر آتا ہے آدمی کی پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔ "
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر مقرر ہیں انیس فرشتے13

13 یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام " مالک " ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبرائیل چشم زدن میں وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا آنکھ سن نہیں سکتی۔ اگرچہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کرسکتے ہیں۔ مثلاً کان ہوسکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکے، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہوسکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے (جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے) انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔ علماء نے اس عدد کی حکمتوں پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحب کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے جو رکھے ہیں دوزخ پر دروغہ وہ فرشتے ہی ہیں14 اور ان کو جو گنتی رکھی ہے سو جانچنے کو منکروں کے15 تاکہ یقین کرلیں وہ لوگ جن کو ملی ہے کتاب اور بڑھے ایمانداروں کا ایمان اور دھوکا نہ کھائیں جن کو ملی ہے کتاب اور مسلمان16 اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دل میں روگ ہے اور منکرف 1 کیا غرض تھی اللہ کو اس مثل سے2 یوں بچلاتا ہے جس کو چاہتا ہے اور راہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے3 اور کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکر کو مگر خود ہی4 وہ تو سمجھاتا ہے لوگوں کے واسطے۔

14 انیس کا عدد سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں۔ انیس ہمارا کیا کرلیں گے۔ بہت ہوا ہم میں سے دس دس ان کے ایک ایک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں گے۔ ایک پہلوان بولا کہ سترہ کو تو میں اکیلا کافی ہوں، دو کا تم مل کر تیاپانچا کرلینا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی وہ انیس تو ہیں مگر آدمی نہیں فرشتہ ہیں۔ جن کی قوت کا یہ حال ہے کہ ایک فرشتہ نے قوم لوط کی ساری بستی کو ایک بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔ 15 یعنی کافروں کو عذاب دینے کے لیے انیس کی گنتی خاص حکمت سے رکھی ہے جس کی طرف " علیہا تسعۃً عشر " کے فائدہ میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس گنتی کے بیان کرنے میں منکروں کی جانچ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون اس کو سن کر ڈرتا ہے اور کون ہنسی مذاق اڑاتا ہے۔ 16 اہل کتاب کو پہلے سے یہ عدد معلوم ہوگا جیسا کہ ترمذی کی ایک روایت میں ہے یا کم ازکم کتب سماویہ کے ذریعہ اتنا تو جانتے تھے کہ فرشتوں میں کس قدر طاقت ہے۔ انیس بھی تھوڑے نہیں۔ اور یہ کہ انواع تعذیب کے اعتبار سے مختلف فرشتے دوزخ پر مامور ہونے چاہیں یہ کام تنہا ایک کا نہیں۔ بہرحال اس بیان سے اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کی حقیقت کا یقین پیدا ہوگا۔ اور یہ دیکھ کر مومنین کا ایمان بڑھے گا اور ان دونوں جماعتوں کو قرآن کے بیان میں کوئی شک و تردد نہیں رہے گا۔ نہ مشرکین کے استہزاء و تمسخر سے وہ کچھ دھوکا کھائیں گے۔ 1 " اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ" سے منافقین یا ضعیف الایمان مراد ہیں اور " اَلْکَافِرُوْنَ " سے کھلے ہوئے منکر۔ 2 یعنی انیس کے بیان سے کیا غرض تھی۔ بھلا ایسی بےتکی اور غیر موزوں بات کو کون مان سکتا ہے۔ (العیاذ باللہ)3 یعنی ایک ہی چیز سے بداستعداد آدمی گمراہ ہوجاتا ہے اور سلیم الطبع راہ پا لیتا ہے جسے ماننا مقصود نہ ہو وہ کام کی بات کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں خوف خدا اور نور توفیق ہو اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے۔ 4 یعنی اللہ کے بیشمار لشکروں کی تعداد اسی کو معلوم ہے۔ انیس تو صرف کارکنان جہنم کے افسر بتلائے ہیں۔ 5 یعنی دوزخ کا ذکر صرف عبرت و نصیحت کے لیے ہے کہ اس کا حال سن کر لوگ غضب الٰہی سے ڈریں اور نافرمانی سے باز آئیں۔
Ayahs 74:32–35

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

سچ کہتا ہوں اور قسم ہے چاند کی،

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہو وے

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

وہ ایک ہے بڑی چیزوں میں کی6

6 یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔
Ayahs 74:36–37

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

ڈرانے والی ہے لوگوں کو

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

جو کوئی چاہے تم میں سے کہ آگے بڑھے یا پیچھے رہے7

7 آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔