Ayah 74:16 اس کے لیے سورة " مزمل " کا پہلا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 74:27 یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے۔ آپ کا کام تو یہ ہے کہ سب آرام و چین چھوڑ کر دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں۔ اور کفر و معصیت کے برے انجام سے ڈرائیں۔
Ayah 74:38 کیونکہ رب کی بڑائی بولنے اور بزرگی و عظمت بیان کرنے ہی سے اس کا خوف دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تقدیس ہی وہ چیز ہے جس کی معرفت سب اعمال و اخلاق سے پہلے حاصل ہونی چاہیے۔ بہرحال اس کے کمالات و انعامات پر نظر کرتے ہوئے نماز میں اور نماز سے باہر اس کی بڑائی کا اقرار و اعلان کرنا تمہارا کام ہے۔
Ayahs 74:4–59 اس سورت کے نازل ہونے پر حکم ہوا کہ مخلوق کو خدا کی طرف بلائیں۔ پھر نماز وغیرہ کا حکم ہوا۔ نماز کے لیے شرط ہے کہ کپڑے پاک ہوں اور گندگی سے احتراز کیا جائے۔ ان چیزوں کو یہاں بیان فرما دیا۔ یہ ظاہر ہے کہ جب کپڑوں کا حسی و معنوی نجاستوں سے پاک رکھنا ضروری ہے تو بدن کی پاکی بطریق اولیٰ ضروری ہوگی۔ اس لیے اس کے بیان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بعض علماء نے کپڑوں کو پاک رکھنے سے نفس کا برے اخلاق سے پاک رکھنا مراد لیا ہے۔ اور گندگی سے دور رہنے کے معنی یہ لیے ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور رہیے۔ جیسے اب تک دور ہیں۔ بہرحال آیہ ہذا میں طہارت ظاہری و باطنی کی تاکید مقصود ہے۔ کیونکہ بدون اس کے رب کی بڑائی کا کما حقہ دلنشین نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 74:6–710 یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا۔ ان آیتوں کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن احقر کے خیال میں یہی بےتکلف ہے۔
Ayah 74:811 یعنی صور پھونکا جائے۔
Ayah 74:912 یعنی اس دن کے واقعات میں سے صور کا پھونکا جانا گویا ایک مستقل دن ہے جو سرتاپا مشکلات اور سختیوں سے بھرا ہوگا۔
Ayah 74:101 یعنی منکروں پر کسی طرح کی آسانی نہ ہوگی بلکہ اس دن کی سختی دم بدم ان پر بڑھتی جائے گی۔ بخلاف مومنین کے کہ اگر سختی بھی دیکھیں گے تو کچھ مدت کے بعد پھر آسانی کردی جائے گی۔
Ayah 74:112 ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا اور جریدہ آتا ہے۔ مال، اولاد، فوج، لشکر، سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، یا " وحید " سے مراد خاص ولید بن مغیرہ ہو جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ہیں۔ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور دنیاوی ثروت و لیاقت کے اعتبار سے عرب میں فرد اور یکتا سمجھا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے منکروں کے معاملہ میں جلدی نہ کیجیے، نہ ان کو مہلت ملنے سے تنگدل ہوں۔ بلکہ ان کا قصہ میرے سپرد کرو۔ میں سب کا بھگتان کر دوں گا۔ آپ کو غمگین و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 74:12–133 یعنی مال واولاد کا پھیلاوا بہت ہوا۔ دسوں بیٹے ہمہ وقت آنکھوں کے سامنے رہتے اور محفلوں میں باپ کی توقیر بڑھاتے اور دھاک بٹھلاتے تھے۔ تجارتی کاروبار اور دوسرے کام کاج کے لیے نوکر چاکر بہت تھے۔ ضرورت نہیں تھی کہ بیٹے باپ کی نظر سے غائب ہوں۔
Ayah 74:144 یعنی دنیا میں جو خوب عزت جمادی اور مسند حکومت و ریاست اچھی طرح تیار کردی۔ چناچہ تمام قریش ہر مشکل میں کام میں اسی کی طرف رجوع کرتے اور اس کو اپنا حاکم جانتے تھے۔
Ayah 74:155 یعنی باوجود کثرت نعمت و ثروت کے کبھی حرف شکر زبان سے نہ نکالا۔ بلکہ ہمیشہ بت پرستی اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول کریم ﷺ کبھی اس کے سامنے بہشت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو یقین کامل ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ہی ملیں گی۔ اس کو فرماتے ہیں کہ باوجود اس قدر ناشکری اور حق ناشناسی کے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت کی نعمتیں اور زیادہ دے گا۔
Ayah 74:166 یعنی جب وہ منعم حقیقی کی آیتوں کا مخالف ہے تو اسے ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ ایسی توقع باندھے اور خیالی پلاؤ پکائے۔ کہتے ہیں کہ ان آیات کے نزول کے بعد پے بہ پے اس کے مال و اسباب میں نقصان ہونا شروع ہوا۔ آخر فقیر ہو کر ذلت کے ساتھ مرگیا۔
Ayah 74:177 یعنی ابھی اس کو بہت بڑی چڑھائی چڑھنا اور سخت ترین مصائب میں گرفتار ہونا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ " صعود " دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ہمیشہ چڑھائیں گے اور گرائیں گے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے (تنبیہ) ولید ایک بار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا۔ جس سے کسی قدر متاثر ہوا۔ مگر ابو جہل نے اس کو ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ اگر ولید مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو ہوئی کسی نے کہا شاعر ہیں کسی نے کاہن بتلایا ولید بولا کہ میں شعر میں خود بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں، قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا کہ آخر تیری کیا رائے ہے کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری بدل کر اور منہ بنا کر کہا کچھ نہیں جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ حالانکہ پیشتر قرآن سن کر کہہ چکا تھا کہ یہ سحر بھی نہیں نہ دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے مگر محض برادری کو خوش کرنے کے لیے اب یہ بات بنادی۔ آگے اسی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 74:18–208 یعنی بدبخت نے دل میں سوچ کر ایک بات تجویز کی کہ قرآن جادو ہے۔ خدا غارت کرے کیسی مہمل تجویز کی پھر خدا غارت کرے کہ اپنی قوم کے جذبات کے لحاظ سے کیسی برمحل تجویز نکالی جس کو سن کر سب خوش ہوجائیں۔
Ayahs 74:21–259 یعنی مجمع پر نگاہ ڈالی پھر خوب منہ بنایا۔ تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت اور انقباض ہے۔ پھر پیٹھ پھیرلی گویا بہت ہی قابل نفرت چیز کے متعلق کچھ بیان کرنا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اس کی حقانیت کا اقرار کرچکا تھا۔ اب برادری کی خوشنودی کے لیے اس سے پھر گیا۔ آخر نہایت غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگا۔ بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو پہلوں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ اور یقینا یہ آدمی کا کلام ہے جو جادو بن کر باپ کو بیٹے سے، میاں کو بیوی سے، اور دوست کو دوست سے جدا کردیتا ہے۔
Ayah 74:2610 یعنی عنقریب اس کو آگ میں ڈال کر عنادو تکبر کا مزا چکھاؤں گا۔
Ayahs 74:27–2811 یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی جو جلنے سے بچ جائے۔ پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے جائیں بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) اکثر سلف سے یہی معنیٰ منقول ہیں۔ بعض مفسرین نے دوسری طرح توجیہ کی ہے۔
Ayah 74:2912 یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جیسے دہکتا لوہا سرخ نظر آتا ہے آدمی کی پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔ "
Ayah 74:3013 یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام " مالک " ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبرائیل چشم زدن میں وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا آنکھ سن نہیں سکتی۔ اگرچہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کرسکتے ہیں۔ مثلاً کان ہوسکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکے، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہوسکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے (جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے) انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔ علماء نے اس عدد کی حکمتوں پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحب کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 74:3114 انیس کا عدد سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں۔ انیس ہمارا کیا کرلیں گے۔ بہت ہوا ہم میں سے دس دس ان کے ایک ایک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں گے۔ ایک پہلوان بولا کہ سترہ کو تو میں اکیلا کافی ہوں، دو کا تم مل کر تیاپانچا کرلینا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی وہ انیس تو ہیں مگر آدمی نہیں فرشتہ ہیں۔ جن کی قوت کا یہ حال ہے کہ ایک فرشتہ نے قوم لوط کی ساری بستی کو ایک بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔
15 یعنی کافروں کو عذاب دینے کے لیے انیس کی گنتی خاص حکمت سے رکھی ہے جس کی طرف " علیہا تسعۃً عشر " کے فائدہ میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس گنتی کے بیان کرنے میں منکروں کی جانچ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون اس کو سن کر ڈرتا ہے اور کون ہنسی مذاق اڑاتا ہے۔
16 اہل کتاب کو پہلے سے یہ عدد معلوم ہوگا جیسا کہ ترمذی کی ایک روایت میں ہے یا کم ازکم کتب سماویہ کے ذریعہ اتنا تو جانتے تھے کہ فرشتوں میں کس قدر طاقت ہے۔ انیس بھی تھوڑے نہیں۔ اور یہ کہ انواع تعذیب کے اعتبار سے مختلف فرشتے دوزخ پر مامور ہونے چاہیں یہ کام تنہا ایک کا نہیں۔ بہرحال اس بیان سے اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کی حقیقت کا یقین پیدا ہوگا۔ اور یہ دیکھ کر مومنین کا ایمان بڑھے گا اور ان دونوں جماعتوں کو قرآن کے بیان میں کوئی شک و تردد نہیں رہے گا۔ نہ مشرکین کے استہزاء و تمسخر سے وہ کچھ دھوکا کھائیں گے۔
1 " اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ" سے منافقین یا ضعیف الایمان مراد ہیں اور " اَلْکَافِرُوْنَ " سے کھلے ہوئے منکر۔
2 یعنی انیس کے بیان سے کیا غرض تھی۔ بھلا ایسی بےتکی اور غیر موزوں بات کو کون مان سکتا ہے۔ (العیاذ باللہ)3 یعنی ایک ہی چیز سے بداستعداد آدمی گمراہ ہوجاتا ہے اور سلیم الطبع راہ پا لیتا ہے جسے ماننا مقصود نہ ہو وہ کام کی بات کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں خوف خدا اور نور توفیق ہو اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے۔
4 یعنی اللہ کے بیشمار لشکروں کی تعداد اسی کو معلوم ہے۔ انیس تو صرف کارکنان جہنم کے افسر بتلائے ہیں۔
5 یعنی دوزخ کا ذکر صرف عبرت و نصیحت کے لیے ہے کہ اس کا حال سن کر لوگ غضب الٰہی سے ڈریں اور نافرمانی سے باز آئیں۔
Ayahs 74:32–356 یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔
Ayahs 74:36–377 آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔