74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 74:1–3

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے کپڑے میں لیٹنے والے

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو پھر ڈراؤ

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور پنے رب کی بڑائی بیان کرو

1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والنحاس والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة المدثر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ طیالسی وعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن الضریس وابن جرری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن الانباری (رح) سے مصاحف میں روایت کیا کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے قرآن مجید میں سب سے اول نازل ہونے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یا ایہا المدثر ہے میں کہا لوگ کہتے ہیں آیت اقرأ باسم ربک الذی خلق ہے ابو سلمہ ؓ نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا تھا میں ان سے ایسے ہی کہا جیسے تو نے کہا تو جابر ؓ نے فرمایا میں تجھ سے کچھ بیان نہیں کروں گا مگر جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا سو آپ نے فرمایا کہ میں غار حرا میں خلوت نیشن تھا۔ جب میں اپنا خلوقت کا وقت پورا کرلیا تو مجھ کو آواز دی گئی۔ میں نے اپنی داہنی جانب دیکھا تو میں نے کسی چیز کو نہ دیکھا پھر میں نے اپنے بائی طرف دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اپنے پیچھے کی طرف دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی پھر میں نے اپنے سر کو اوپر اٹھایا اچانک وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا۔ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے تو میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا رعب کی وجہ سے پھر اپنے گھر لوٹ آیا۔ اور میں نے کہا مجھے چادر اوڑھا دو مجھے چادر اوڑھا دو تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا المدثر قم فانذر سے لے کر آیت والرجز فاہجر تک۔ 4۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نے قریش کو کھانے کی دعوت دی جب وہ کھاچکے تو مغیرہ نے کہا تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان کے بعض نے کہا، یہ جادو گر ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے اور بعض نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں ہے اور بعض نے کہا یہ شاعر ہے اور بعض نے کہا یہ شاعر نہیں اور بعض نے کہا یہ ایک جادو ہے جو پہلوں سے چلا آرہا ہے پس ان میں اتفاق رائے ہوگیا کہ وہ ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ جب یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی۔ تو آپ نکلے اور اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا المدثر سے لے کر آیت ولربک فاصبر تک۔ 5۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المدثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ ایک مخملی چادر میں لپٹے ہوئے تھے آیت وثیابک فطہر اور اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ یعنی گناہوں سے آیت والرجز فاھجر اور میل کچیل دور کرو۔ یعنی گناہوں سے دور رہیے۔ آیت ولا تمنن تستکثر۔ اور بدلہ پانے کی غرض سے احسان نہ کرو۔ یعنی کوئی چیز نہ دو اس نیت سے تاکہ تو اس سے زیادہ دیا جائے آیت ولربک فاصبر اور اپنے رب کے لیے صبر کر یعنی جب آپ کو کوئی عطیہ دیا جائے تو اس کو اپنے رب کے لیے دے دیجیے اور خود صبر کیجیے یہاں تک کہ وہی آپ کو اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ 7۔ عبدالرزای وعبد بن حمید وابن جریر ووابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المدثر اے کپڑے میں لپٹنے والے یعنی لپٹنے والے اپنے کپڑوں میں آیت قم فانذر اٹھو پھر کافروں کو ڈراؤ یعنی ان کو ڈرائیے اپنے رب کے عذاب سے اور اس کے سابقہ امتوں میں واقع ہونے اور اس کی سزا کی شدت ڈرائیے جبکہ وہ انتقام لے۔ آیت وثیابک فطہر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے گناہوں سے اور یہ عربی کلمہ ہے اور عرب کے لوگوں میں سے جب کوئی آدمی عہد کو توڑ دیتا تھا اور اپنے عہد کو پورا نہ کرتا تھا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ بیشک فلاں آدمی کپڑوں کو میلا اور داغدار کرنے والا ہے۔ اور جب وہ وعدہ کو پورا کرتا اور اصلاح کرلیتا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ بیشک فلاں آدمی کپڑوں کو میلا اور داغدار کرنے والا ہے۔ اور جو وہ عوعدہ کو پورا کرتا اور اصلاح کرلیتا تو وہ لوگ کہتے کہ فلاں آدمی کپڑوں کو پاک رکھنے والا ہے آیت والرجز فاہجر اور میل کچیل دور کیجیے فرمایا یہ دو بت تھے اساف اور نائلہ جو بیت اللہ کے پاس تھے ان کے چہروں کو ہاتھ لگاتا اور صاف کرتا جو مشرکین میں سے ان کے پاس آتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان دونوں کو چھوڑے رکھیے اور ان سے علیحدہ ہوجائیں آیت ولا تمنن تستکثر اور بدلہ پانے کی غرض سے احسان نہ کرو یعنی آپ دنیا کے فائدے اور منافع حاصل کرنے کے لیے کسی کو کوئی چیز نہ عطا کیجیے اور نہ ہی لوگوں سے بہتر جزا اور بدلہ لینے کی خاطر کسی کو کچھ دیجیے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وربک فکبر اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ یعنی اس کی عظمت بیان کرو آیت وثیابک فطہر اور اپنے کپڑے پاک رکھو سے مراد آپ کی ذات ہے یعنی آپ اپنے کو یاد رکھیے آیت والرجز فاہجر اور میل کچیل دور کیجیے یعنی شیطان اور بتوں سے دور رہیے۔ تماز میں تکبیر تحریمہ کا حکم 9۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم کس طرح کہیں جب ہم نماز میں داخل ہوں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری آیت وربک فکبر تو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم نماز میں تکبیر کے ساتھ شروع کریں۔ 10۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المدثر سے مراد ہے نیند کرنے والے آیت وثیابک فطہر یعنی جو کپڑے تو پہنتا ہے وہ حرام کی کمائی میں سے نہ ہوں۔ آیت والرجز فاہجر یعنی بتوں سے دور رہیے آیت ولا تمنن تستکثر یعنی تو عطیہ نہ دے کہ تو اس کے ذریعہ اس سے افضل کو تلاش کرے۔ 11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر یعنی آپ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھیے اور فرمایا کہ عرب کے کلام میں اس کا معنی ہے کپڑوں کو صاف کرنا۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے کپڑوں کو پاک کرو یعنی اپنے آپ کو دھوکے سے محفوظ رکھیے اور آپ دھوکہ دینے والا نہ بن جائیے۔ 13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی الوقف ولابتداء وابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وثیابک فطہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ خیانت اور فسق و فجور کا لباس نہ پہنیے پھر فرمایا کیا تم نے غیلان بن مسلمہ (رح) کا قول نہیں سنا۔ انی بحمدللہ لا ثوب فاجر لبست ولا من غدرۃ اتقنع ترجمہ : اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فسق فجور کا لباس نہیں پہنا اور نہ سیانت اور بد عہدی کا کپڑا اوڑھا ہے۔ 14۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی عہد توڑتا تھا تو وہ کہا کرتے تھے فلاں نے کپڑے میلے اور داغدار کردئیے۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابر رزین ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے عمل کی اصلاح کر جاہلیت والوں میں جب کوئی آدمی نیک عمل کرتا تھا تو کہتے تھے کہ فلاں پاک کپڑوں کو صاف رکھنے والا ہے۔ 16۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر سے مراد ہے کہ اپنے عمل کی اصلاح کیجیے۔ 17۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ نہ آپ کاہن ہیں اور نہ ساحر ہیں۔ سو آپ ان سے اعراض کیجیے آیت والرجز فاہجر یعنی بتوں سے دور رہیے آیت ولا تمنن تستکثر یعنی آپ بطور احسان اس امید پر کوئی چیز نہ دیجیے کہ آپ کو اس سے افضل ثواب ملے گا۔ آیت ولربک فاصبر یعنی آپ اپنے رب کے لیے صبر کیجیے جو تو تکلیف دیا جائے۔ 18۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر یعنی آپ اپنے آپ کو پاک رکھیے۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر سے مراد آپ کا وہ لباس نہیں ہے جو آپ پہنتے ہیں۔ 20۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر سے مراد ہے کہ آپ اپنے اخلاق کو پاک کیجیے اور حسین بنائیے۔ 21۔ ابن المنذر نے یزید بن مرثد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بکری کی اوجھ پھینکی گئی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ اپنے کپڑوں کو پاک کرلیجیے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور بتوں سے علیحدہ رہو

22۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیت والرجز فاہجر میں الرجز کو راہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ 23۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں فرماتے سنا : آیت والرجز فاہجر راء کے رفع کے ساتھ اور فرمایا کہ وہ بت مراد ہیں۔
Ayahs 74:6–7

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور کسی کو اس غرض سے مت دو کہ زیادہ معاوضہ مل جائے

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب کے لیے صبر کیجیے

احسان جتانے کی ممانعت 24۔ ابن المنذر نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی ؓ کے مصحف میں یوں پڑھا آیت ولا تمنن تستکثر۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تمنن تستکثر سے مراد ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے تاکہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے اور یہ آیت نبی مکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 26۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کوئی چیز نہ دیں اس نیت سے کہ آپ کو اس سے زیادہ دیا جائے۔ اور یہ حکم نبی مکرم ﷺ کے لیے خاص ہے اور عام لوگوں کو وسعت دی گئی ہے۔ 27۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی آدمی کسی کو عطیہ نہ دے یہ امید کرتے ہوئے کہ وہ اس کو اس سے زیادہ دے گا۔ 28۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ اپنے نزدیک اپنے عمل کو بڑا نہ سمجھیں کہ آپ اپنے خیر کے کاموں کو بڑا سمجھنے لگے۔ 29۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تمنن تستکثر کے بارے میں روایت کیا کہ تو ایسا نہ کہیں کہ میں نے ان کو دعوت دی ہے اور انہوں نے مجھ سے قبول نہ کیا واپس لوٹیے اور ان کو دعوت دیجیے آیت ولربک فاصبر اور تو اپنے رب کے لیے صبر کر اس پر۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا

30۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں نقل کیا ہے آیت فاذا نقر فی الناقور جب صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی صور میں یوم عسیر وہ دن سخت ہوگا۔ یعنی انتہائی شدید اور سخت دن۔ 31۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا نقر فی الناقور یعنی جب صور میں پھونکا جائے گا۔ 32۔ عبد بن حمید نے عکرمہ، ابو مالک اور عامر رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الناقور سے مراد ہے صور اور وہ بگل کی طرح ایک چیز ہے۔ 34۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت فاذا نقر فی الن اور نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کیسا انعام فرمایا ہے حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ سینگ کو منہ میں ڈالے پیشانی جھکائے یہ سننے کے لیے منتظر ہے کہ اسے کب حکم دیا جاتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کیسے کہیں اس بارے میں فرمایا تم کہو آیت وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا ہم کو اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ 35۔ ابن سعد والحام نے بہز بن حکیم ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو زرارہ بن اوفی ؓ نے امامت کرائی اور سورة مدثر پڑھی۔ جب اس آیت فاذا نقر فی الناقور پر پہنچے۔ تو مردہ ہو کر گرپڑے۔ اور میں نے ان کے اٹھانے والوں میں سے تھا۔
Ayahs 74:9–10

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

سو یہ دن بڑا سخت ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہ ہوگا

36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فذلک یومئذ یوم عسیر پس وہ دن بڑا کٹن ہوگا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا جن پر عذاب کی مشقت اور تنگی ہوگی فرمایا آیت علی الکفرین غیر یسیر یعنی کافروں پر وہ آسان نہ ہوگا۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

مجھے اور اس شخص کو رہنے دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا

1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا مجھے اور اس کو چھوڑ دو کہ جس کو میں نے اکیلے پیدا کیا اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ سے اکیلے پیدا کیا نہ اس کا مال تھا اور نہ اولاد تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مال، اولاد اور دولت و ثروت اور بڑھنے والے مال کی صورت میں رزق عطا فرمایا آیت کلا، انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ بےوہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور ان کا انکار کرتا ہے۔ انہ فکر وقدر بیشک اس نے سوچا اور اندازہ لگایا ہم کو ذکر کیا گیا کہ اس نے کہا کہ میں نے اس میں غور وفکر کرتا رہا جو اس آدمی یعنی محمد ﷺ نے کہا تو میں نے پایا وہ شعر نہیں ہے اگرچہ اس کلام کے لیے ایک مٹھاس ہے اور انتہائی حسین اور پر رونق ہے اور یہ بلدن شان والا ہے کہ اس پر کوئی بلند نہیں اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جادو ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں آیت فقتل کیف قدر سے لے کر آیت وبسر تک پھر اسے اللہ کی مار اس نے کیسا اندازہ لگایا پھر اسے اللہ کی مار اس نے کیسا اندازہ لگایا پھر اس نے دیکھا پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا یعنی تیوی چڑھائی۔ ولید بن مغیرہ کی احسان فراموشی 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے مراد ہے ولید بن مغیرہ۔ 3۔ عبد بن حمی دوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وحیدا یعنی میں نے اس کو اکیلا پیدا کیا نہ اس کا مال تھا اور نہ اس کی اولاد تھی آیت وجعلت لہ مالا ممدودا۔ اور اس کو بڑھنے والا مال دیا۔ یعنی میں نے اسے کثیر مال یعنی ہزار دینا دئیے۔ وبنین او بیٹے دئیے اور وہ دس تھے۔ شہودا۔ پاس رہنے والے یعنی وہ غائب نہ ہوتے تھے۔ آیت ومہدت لہ تمہیدا اور اسکے لیے ہر طرح کا سامان کردیا۔ یعنی اس کے لیے مال اور اولاد کو پھیلا دیا۔ آیت ثم یطمع ان ازید کلا۔ پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور بڑھا دوں ہرگز نہیں۔ یعنی وہ برابر نقصان کو دیکھنے لگا اپنے مال میں اور اپنی اولاد میں یہاں تک کہ ہلاک ہوگیا۔ آیت کلا۔ انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ بیشک وہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے۔ یعنی اس سے دشمنی رکھتا ہے اور ان کو اجنبی قرار دینے والا ہے آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو اونچی گھاٹی پر چڑھاؤں گا یعنی اسے عذاب کی مشقت اٹھانے پر مجبور کردوں گا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ اور آیت وبنین شہودا۔ اور بیٹے حاضر ہونے والے اور وہ تیرہ تھے۔ آیت ثم یطمع ان ازید کلا۔ پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور بڑھا دوں ہرگز نہیں یعنی اس دن کے بعد اس کی کوئی اولاد پید انہیں ہوئی اور نہ اس مال میں کوئی زیادتی ہوئی مگر جتنا اس کے پاس تھا آیت انہ کان لاٰیتنا عنیدا کیونکہ و ہماری آیات کو محض مشقت گمان کرت ہے۔ 5۔ سعید بن منصوروابن المنذر وابن ابی حاتم سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا میں وحید سے مراد ولید بن مغیرہ بن ہشام المخزومی ہے اور اس کے تیرہ بیٹے تھے اور سب گھر کے مالک تھے۔ جب یہ آیت انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ نازل ہوئی یعنی وہ مسلسل اپنی ذات مال اور اپنی اولاد کے لحاظ سے تنزلی اور خاتمہ کی جانب بڑھنے لگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا سے نکال دیا۔ یعنی وہ مرگیا۔
Ayahs 74:12–16

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اسے میں نے مال دیا، جو بڑھتا جارہا ہے

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور اس کے ساتھ رہنے والے بیٹے دئیے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور میں نے اس کے لیے ہر طرح کا سامان مہیا کردیا

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ آرزو کرتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں گا

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہر گز نہیں بلاشبہ وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے

6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو اونچی گھاٹی پر چڑھاؤں گا۔ اور وہ دوزخ میں ایک پہاڑ ہے۔ اہل جہنم کو اس میں چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے ہاتھ اس پر رکھیں گے تو وہ پگھل جائے گا۔ جب اس کو اٹھائیں گے تو وہ پہلی حالت پر لوٹ آئے گا۔ ابوجہل کا مغیرہ کو عار دلانا 11۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس پر قرآن پڑھا تو اس نے خوب نرم کردیا۔ یہ بات ابوجہل کو پہنچی تو وہ اس پر آکر کہنے لگا اے میرے چچا کہ تیری قوم ارادہ کرتی ہے کہ تیرے لیے مال جمع کرے اور تجھ کو دیں کیونکہ تو محمد ﷺ کے پاس آیا ہے تاکہ تو اس سے اعراض کرے اس دین سے جس پر تو پہلے تھا اس نے کہا قریش جانتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ہوں مال کے لحاظ سے۔ تو ابوجہل نے کہا کہ تو ان کے بارے میں ایسی بات کہے جو تیری قوم کو پہنچ جائے اور وہ یقین کرلیں مگر تو بلاشبہ انکار کرنے والا ہے یا تو اسے انتہائی ناپسند کرتا ہے کہنے لگا میں اس بارے میں کیا کہوں۔ اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی آدمی نہیں جو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو شعر کو اور شعر کے رجز کو اور قصید کو اور نہ ہی شاعرالجن کے بارے میں کوئی زیادہ واقف ہے اللہ کی قسم ! وہ ان میں سے کسی شے کے مشابہ نہیں جو وہ کہتا ہے اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ اس کا قول جو وہ کہتا ہے اس کے لیے ایک مٹھاس ہے اور اس پر انتہائی حسن ہے اور بلاشبہ اس کی شاخیں پھل دار ہیں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور بلاشبہ وہ غالب اور بلند ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں۔ اور بلاشبہ یہ اپنے ماتحت کو توڑ دیتا ہے ابو جہل نے کہا تجھ سے تیری قوم راضی نہیں ہوگی یہاں تک کہ تو اس کے بارے میں کچھ تو کہے۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دے یہاں تک کہ میں سوچ لوں پھر اس نے وچا۔ جب اس نے سوچا وہ کہنے لگا یہ جادو ہے جو پہلوں سے چلا آرہا ہے اور یہ اسے اپنے غیر سے نقل کرتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ 12۔ ابن جریر وابو نعیم فی الحیلۃ وعبد الرزاق وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ ابو نعیم فی الدلائل مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی مکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو ولید بن مغیرہ نے قریش کو جمع کیا اور کہا تم اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو بعض نے کہا وہ شاعر ہے اور بعض نے کہا وہ کاہن ہے ولید نے کہا : میں نے شاعر کا قول بھی سنا اور کاہن کا کلام بھی سنا ہے وہ اس طرح کا نہیں ہے تو ان لوگوں نے کہا تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کچھ دیر سوچا آیت انہ فکر وقدر فقتل کیف قدر سے لے کر آیت سحر یوثر تک اسی آیت کے متعلق ہیں۔ 14۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور آپ سے قرآن کے بارے میں پوچھا جب انہوں نے اس کو بتایا پھر وہ قریش کے پاس آیا اور کہا کیا عجیب کلام ہے جو ابن ابی شیبہ یعنی محمد ﷺ کہتا ہے اللہ کی قسم ! نہ وہ شعر ہے نہ وہ جادو ہے نہ یہ کسی مجنون کی ہذیات ہیں۔ بلاشبہ ان کی گفتگو اللہ کے کلام میں سے ہے۔ جب قریش کی ایک جماعت نے اس بات کو سنا تو وہ اس کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! اگر ولید صابی ہوگیا تو قریش یقیناً صابی ہوجائیں گے یعنی اپنا دین بدل دیں گے۔ جب ابو جہل نے یہ بات سنی تو کہنے لگا اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں تم سب کی طرف سے کافی ہوں چناچہ وہ چلا یہاں تک کہ ولید کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اور ولید سے کہا کیا تو نے اپنی قوم کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے تیرے لیے صدقہ کو جمع کیا ہے۔ اس نے کہا کیا میں ان سے مال اور اولاد میں زیادہ نہیں ہوں ابوجہل نے اس سے کہا لوگ باتیں کر رہے ہیں کہ تو ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ؓ کے پاس جاتا ہے تاکہ تو اس کے کھانے میں تو بھی شامل ہوجائے ؟ ولید نے کہا میرا خاندان اس طرح کی باتیں بیان کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ور ابن ابی کبشہ یعنی رسول اللہ ﷺ کے قریب نہ جاؤں گا۔ اس کا قول نہیں ہے مگر ایسا جادوجو پہلوں سے چلا آرہا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے لے کر لا تبقی ولا تذر تک۔ 15۔ ابن جریر وہناد بن السری فی الزہد وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عنیدا سے مراد ہے بہت زیادہ انکار کرنے والا۔ دوزخ کا ایک پہاڑ صعود ہے۔ 16۔ احمد وابن المنذر والترمذی وابن ابی الدنیا فی صفۃ النار وابن جریر وابن ابی حاتم وابن حبان والحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے اس میں کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہ گرجائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں اسی طرح کرتا رہے گا یعنی ہمیشہ چڑھتا اور گرتا رہے گا روایت ضعیف ہے سنن الترمذی : 2574) 17۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے دوسری سند سے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ صعود جہنم میں ایک چٹان ہے جب وہ اپنے ہاتھ اس پر رکھیں گے تو وہ پگھل جائیں گے جب ان کو اٹھائیں گے تو وہ پہلی حالت میں لوٹ آئیں گے اور اس کی مشقت سے چھٹکارا اس میں ہے آیت فک رقبۃ او اطعم فی یوم ذی مسغبہ البلد آیت 14) گردن کا چھڑانا یا بھوک کے دن میں کھلانا۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صعودا جہنم میں ایک چٹان ہے جس پر کافر کو اس کے چہرے کے بل گھسیٹا جائے گا۔
Ayahs 74:17–21

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

عنقریب میں اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھا دوں گا

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

بیشک اس نے سوچا پھر ایک بات تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

سو اس پر خدا کی مار ہو کیسی بات تجویز کی

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر اس پر خدا کی مرا ہو کیسی بات تجویز کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے دیکھا

19۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا میں صعود ایک پہاڑ ہے دوزخ میں۔ 20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت سارھقہ صعودا کے بارے میں روایت کیا کہ صعود جہنم میں ایک چکنی چٹان ہے جہنمیوں کو اس پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعود سے مراد ہے عذاب کی مشقت۔
Ayahs 74:22–23

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر منہ بنایا اور زیادہ منہ بنایا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر منہ پھیرا اور تکبر ظاہر کیا

23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت عبس و بسر پھر اس نے تیوری اور منہ بنایا سے مراد ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں کی درمیانی جگہ کو سکیڑا اور تیوری چڑھائی۔
Ayahs 74:24–27

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر بولا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو منقول ہوتا ہوا آرہا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ کچھ نہیں مگر آدمی کا کلام ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں عنقریب اسے دوزخ میں داخل کروں گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اے مخاطب ! تجھے کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیا ہے

24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا الا سحر یوثر یہ تو ایک جادو ہے جو چلا آتا ہے یعنی وہ اپنے غیر سے چلا آتا ہے۔ 25۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر سے مراد ہے جہنم کا نچلہ طبقہ اس میں آگ ہے اور زقوم کا درخت ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ وہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی

26۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولا تذر نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے یعنی نہ وہ زندہ رکھے گی اور نہ موت دے گی۔ 27۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولا تذر نہ باقی رکھے یعنی جب آگ ان کو پکڑ لے گی تو ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہنے دے گی۔ اور جب نئی جلد بدل دی جائے گی تو وہ نہ چھوڑے گی اور ان کی طرف پہلا عذاب پھر جلدی سے بڑھ جائے گا۔ 28۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تبقی ولاتذر یعنی وہ اسے مکمل طور پر کھاجائے گا۔ جب اس کی خلقت ظاہر ہوگی تو اس کو نہ چھوڑے گا یہاں تک کہ اس پر واقع ہوجائے گی۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن زید (رح) سے آیت لاتبقی ولا تذر کے بارے میں روایت کیا یعنی جہنم گوشت کو ہڈیوں اور رگوں کو اور مغز سب کو کھاجائے گا اور اس پر کسی چیز کو نہ چھوڑے گا۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

وہ بدن کی حیثیت کو بگاڑ دینے والی ہے

30۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لواحۃ للبشر کہ آدمی کو جھلس دے گی یعنی کھال کو جلانے والی ہے۔ 31۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے ” لواحۃ “ (آدمی کو جھلس دے گی) کے بارے میں روایت کیا یعنی کھال کو جھلس دے گی اور اس کو جلادے گی پس اس کا رنگ بدل جائے گا۔ اور وہ رات سے بھی زیادہ سیاہ ہوجائے گا۔ 32۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے ابن رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت لواحۃ اللبشر یعنی اس کی کھال کو جلادے گی۔ یہاں تک کہ اس کو رات سے زیادہ سیاہ کر کے چھوڑ دے گی۔ 33۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لواحۃ “ سے مراد ہے جلادینے والی۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے

34۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں براء ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے جہنم کے داروغہ کے بارے میں پوچھا اس نے کہا اللہ اور اس کے سول ہی بہتر جانتے ہیں۔ وہ صحابی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ واقعہ بتایا تو اس وقت یہ آیت آپ پر نازل ہوئی آیت علیہا تسعۃ عشر۔ یعنی اس پر انیس فرشتے ہیں (تفسیر ابن کثیر بھاشہ۔ 8۔ 268) 35۔ الترمذی وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے اصحاب سے کہا کیا تمہارے نبی مکرم ﷺ جہنم کے داروغوں کی تعداد کو جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اتنے اور اتنے ایک بار دس سے اور دوسری بار نو سے اشارہ کیا۔ یعنی داروغوں کی تعداد انیس ہے۔ (روایت ضعیف ہے۔ صحیح و ضعیف الترمذی 3327) 36۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” علیہا تسعۃ عشر “ اس پر انیس فرشتے ہیں۔ نازل ہوئی تو قریش میں سے ایک آدمی نے کہا جس کو ابو الاشرین کہا جاتا تھا اے قریش کی جماعت ! تم کو انیس فرشتے خوف زدہ نہیں کرسکیں گے۔ میں اپنے داہنے کندھے سے دس کو اور اپنے بائیں کندھے سے نو کو تم سے ہٹا دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وما جعلنا اصحب النار الا ملئکۃ۔ اور ہم نے دوزخ پر فرشتے ہی رکھے ہیں۔ 37۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا جب ابو جہل نے آیت علیہا تسعۃ عشر سنا تو قریش سے کہا تم کو تمہاری ماں روئیں کہ ابن ابی کبشہ نے تم کو خبر دی ہے کہ جہنم کے داروغے انیس ہیں اور تم کثیر تعداد میں ہو کیا تم میں سے ہر دس دس مل کر اس بات سے عاجز ہیں کہ وہ جہنم کے ایک داروغہ کو پکڑ لیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ وہ ابو جہل کو لے آئیں سو آپ نے اسے ہاتھ سے بطحا مکہ میں پکڑ کیا اور اسے فرمایا۔ آیت اولی فالی۔ ثم اولی لک فاولی۔ اے انسان تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے پھر تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے۔ 38۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت علیہا تسعۃ عشر کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت کیا تم میں دس آدمی یہ طاقت نہ رکھیں گے کہ وہ جہنم کے داروغوں میں سے ایک پر غالب آجائیں۔ حالانکہ تم کثیر تعداد میں ہو۔ دوزخ کے انیس فرشتوں کا ذکر 39۔ ابن المبارک وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے البعث میں ارزق بن قیس کے طریق سے بنو تمیم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ابو العوام (رح) کے پاس تھے انہوں نے یہ آیت علیہا تسعۃ عشر پڑھی۔ اور فرمایا تم کیا کہتے ہو کیا انیس فرشتے یا انیس ہزار میں نے کہا نہیں بلکہ انیس فرشتے انہوں نے کہا تجھے کہاں سے معلوم ہوا ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروا اور ان کی تعداد کافروں کے لیے آزمائش بنائی ہے۔ انہوں نے کہا تو نے سچ کہا کہ وہ انیس فرشتے ہیں ان میں سے ہر فرشتے کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہے اور اس کی دو شاخیں ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ایک ضرب لگائے گا تو اس کے ساتھ جہنم میں ستر ہزار گرجائیں گے اور ان میں سے ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنا اتنا فاصلہ ہے۔ 40۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہ سے آیت علیہا تسعۃ عشر کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو ایک فتنہ اور آزمائش بنایا گیا آپ سے فرمایا کہ ابو الاشدین جمحی نے کہا کہ وہ میرے قدم کو بھی نہیں پہنچ سکیں گے یہاں تک کہ میں ان کو جہنم سے دور ہٹا دوں گا۔
Ayahs 74:31–32

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے کارکن صرف فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے جو ان کی تعداد رکھی ہے صرف اس لیے کہ کافروں کے لیے فتنہ کا ذریعہ بنیں تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جائیے اور شک نہ کریں اہل کتاب اور اہل ایمان اور تاکہ وہ لوگ یوں کہیں جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو لوگ کافر ہیں کہ اللہ نے اس عجیب مضمون سے کیا ارادہ فرمایا اللہ ایسے ہی گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہے اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ نہیں ہے مگر ایک نصیحت انسانوں کے لیے

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

بالتحقیق قسم ہے چاند کی

41۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں روایت کیا کہ ابوالاشدین نے کہا کہ تم میرے اور جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کے درمیان ہٹ جانا۔ میں تمہاری جانب سے ان کی مشقت کے لیے کافی ہوں۔ ابن عباس ؓ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے جہنم کے داروغوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گویا ان کی آنکھوں کی چمک بجلی کی طرح ہے اور ان کے منہ کے دانت مرغ کی خاروں کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پلکوں سے کھینچ لائیں گے۔ اور ان کی قوت ثقلین یعنی جن وانس کی طرح ہے ان میں سے کوئی ایک لوگوں کی ایک جماعت ہانک کرلے آئے گا اور اس کی گردن پر پہاڑ ہوگا یہاں تک کہ ان کو جہنم میں پھینکے گا پھر ان پر پہاڑ کو بھی پھینک دے گا۔ 42۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیستیقن الذین اوتوا الکتب تاکہ جن کو کتاب دی گئی ہے وہ یقین کرلیں یعنی اہل کتاب بھی اپنی کتابوں میں انیس ہی کو پاتے ہیں آیت ویزداد الذین اٰمنوا ایمانا اور ایمانداروں کا ایمان بڑھے سو وہ اس کے ساتھ ایمان لائے جو ان کی کتابوں میں ہے ان کی تعداد کے بارے میں بس اس کے ساتھ ان کے ایمان بھی بڑھ جائیں گے۔ 43۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) آیت لیستیقن الذین اوتوا الکتب کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب اس وقت یقین کرلیں گے جب جہنم کے داروغوں کی تعداد اس کے موافق ہے جو ان کی کتابوں میں ہے۔ 44۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیستیقن الذین اوتوا الکتب کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب بھی جہنم کے داروغوں کے کی تعداد اتنی ہی لکھی ہوئی پاتے ہیں۔ 45۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت لیستیقن الذین اوتوا الکتب ویزداد الذین اٰمنوا ایمانا تاکہ جن کو کتاب دی گئی وہ یقین کرلیں اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے کے بارے میں روایت کیا کہ قرآن نے ان کی کتابوں کو تصدیق کردی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی تورات اور انجیل وغیرہ کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد انیس ہے آیت ولیقول الذین فی قلوبہم مرض اور تاکہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ کہیں یعنی جن کے دلوں میں نفاق ہے۔ واللہ اعلم۔ 46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما یعلم جنود ربک الا ہو۔ اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی تیرے رب کے لشکروں کی کثرت تعداد کو کوئی نہیں جانتا۔ فرشتوں کی تعداد کسی کو معلوم نہیں 48۔ البیہقی فی الاسماء والصفات ابن جریج کے طریق سے ایک آدمی سے اور انہوں نے عروہ بن الزبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے سوال کیا کہ کونسی مخلوق بڑی ہے ؟ فرمایا فرشتے پھر پوچھا کس چیز سے ان کو پیدا فرمایا ؟ تو فرمایا بازو اور سینے کے نور سے پھر اپنے بازؤوں کو پھیلا کر فرمایا کونوا الفی الفین ہوجاؤ تو ابن جریج (رح) سے پوچھا گیا کہ الفی الفین کیا ہیں ؟ فرمایا وہ تعداد جس کو نہ شمار کیا جاسکے اس کی کثرت کی وجہ سے۔ 49۔ الطبرانی نے الاوسط میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو معراج کی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور جبریل (علیہ السلام) آسمان دنیا کی طرف چڑھے تو میں ایک فرشتے کے پاس پہنچا جس کو اسماعیل کہا جاتا تھا اور وہ آسمان دنیا کا حاکم تھا اور اس کے ماتحت ستر ہزار فرشتے تھے اور ان میں سے ہر فرشتے کے ساتھ ایک لاکھ کا لشکر تھا۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت وما یعلم جنود ربک الا ہو۔ اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 50۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہی الا ذکری للبشر اور دوزخ کا حال بیان کرنا صرف آدمیوں کی نصیحت کے لیے یعنی دوزخ کی آگ انسان کے لیے نصیحت ہے۔ 51۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 74:33

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ جانے لگے

52۔ ابو عبید و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ولیل اذ ادبر میں اذا کو الف کے ساتھ پڑھا۔ 53۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ آیت ولیل اذادبر پڑھتے تھے۔ 54۔ ابو عبید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو ” دبر “ پڑھا ابن عباس ؓ کی قراءت کی طرح۔ 55۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو ” اذ “ بغیر الف کے اور ” ادبر “ کو الف کے ساتھ پڑھا 56۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ ابی اور ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ” اذ ادبر “ یعنی دونوں الف کے ساتھ ہیں 57۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت وللیل اذ ادبر اور رات کی قسم جب وہ ڈھلے۔ میں دبوراللیل سے مراد رات کی تاریکی ہے۔ 58۔ مسدد فی مسندہ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واللیل اذ ادبر کے بارے میں پوچھا وہ خاموش رہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ تھا اور انہوں نے پہلی اذان کو سنا تو مجھ کو آواز دی اے مجاہد ! یہ وقت دبر اللیل ہے۔
Ayah 74:34

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجائے

59۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والصبح اذا اسفر اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجائے۔ یعنی جب وہ روشن ہو آیت لاحدی الکبر کہ وہ دوزخ بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے یعنی دوزخ۔
Ayahs 74:35–36

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

بلاشبہ یہ دوزخ بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

جو انسان کے لیے بڑا ڈر ہے

60۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر میں انہا میں ہا ضمیر سے مراد آگ ہے۔ 61۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہا لاحدی الکبر۔ نذیرا للبشر۔ کہ وہ دوزخ بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے انسان کو ڈرانے والی ہے۔ یعنی وہ جہنم ہے۔ صبح وشام کی آواز 62۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الامل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے کوئی صبح اور نہ کوئی شام مگر ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے لوگو ! کوچ کروکوچ کرو اور بلاشبہ اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے اور وہ یہ ہے آیت انہا لاحدی الکبر نذیر اللبشر۔ لمن شاء منکم ان یتقدم اور دوزخ بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے انسان کو ڈرانے والا ہے تم میں ہر ایک کے لیے خواہ کوئی اس کے آگے آئے۔ یعنی جس کے لیے چاہے موت پہلے آئے او یتاخر۔ یا پیچھے ہٹے یعنی موت موخر ہو۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

تم میں سے جو شخص آگے بڑھے اس کے لیے بھی یا جو پیچھے ہٹے اس کے لیے بھی

63۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لمن شاء منکم ان یتقدم او یتاخر تم میں سے ہر ایک کے لیے خواہ کوئی اس کے آگے آئے یا پیچھے ہٹے۔ یعنی جو چاہے اللہ کی اطاعت کی اتباع کرے اور جو چاہے اس میں سے پیچھے ہٹ جائے۔ 64۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لمن شاء منکم ان یتقدم۔ یعنی جو آگے بڑھے اللہ کی اطاعت میں آیت او یتاخر اور جو پیچھے ہٹ جائے اللہ کی نافرمانی میں۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلہ مرہون ہوگا

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ ہر شخص اپنے اعمال کے سبب گروی ہے۔ یعنی اپنے اعمال کے بدلے میں پکڑے جانے والا ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ الا اصحب الیمین۔ ہر شخص اپنے اعمال کے سبب گروی ہے مگر داہنے ہاتھ والے۔ یعنی سارے لوگ معلق رہیں گے اصحاب الیمین کے علاوہ۔ 3۔ سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت کل نفس بما کسبت رہینۃ الا اصحب الیمین کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا حساب نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

سوائے اصحاب یمین کے

4۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الا اصحب الیمین سے مراد مسلمان ہیں۔ 5۔ عبد الرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا آیت الا اصحب الیمین سے مسلمانوں کے بچے مراد ہیں۔ 6۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا اصحب الیمین سے مسلمانوں کے بچے مراد ہیں۔