Ayah 74:11 ۔ خطاب لطف و عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور خطاب لطف و عنایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اے چادر میں لپٹنے والے۔ " مدثر " مشتق ہے دثار سے جو اس بیرونی کپڑے کو کہا جاتا ہے جو کہ عام کپڑوں کے اوپر سردی وغیرہ سے بچاؤ کے لئے پہنا جاتا ہے، اس وصف سے ندا فرمانے میں وہی حکمت کار فرما یہ جو کہ المزمل میں گزر چکی، روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ فترت وحی (وحی کی بندش) کے ذکر کے ذیل میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر میں مکہ مکرمہ میں ایک جگہ چلا جا رہا تھا کہ کسی کے پکارنے کی آواز آئی، میں نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا پھر وہی آواز آئی تو میں نے نگاہ اٹھا کر اوپر جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میری پاس وحی لایا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، جس کی ہیبت کی بناء پر آپ ﷺ پر لرزہ اور کپکپی کی ایک خاص کیفیت طاری ہوگئی تو آپ ﷺ نے گھر تشریف لا کر فرمایا دثر ونی دثر ونی مجھے کپڑا اڑھاؤ مجھے کپڑا اڑھاؤ تو آپ ﷺ کو کپڑا اڑھایا گیا، اور آپ ﷺ اس میں لپٹ گئے، اسی حالت میں آپ ﷺ پر یہ وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو اسی وقتی کیفیت وصفت کے اعتبار سے اس طرح خطاب فرمایا گیا، جس میں لطف و عنایت کا ایک خاص پہلو بھی مرکوز ہے جیسا کہ اس سے پہلے المزمل کی تفسیر میں گزرا، (روح، ابن کثیر، قرطبی، کبیر وغیرہ) اور لطف و عنایت کے علاوہ اس میں حضور ﷺ کے لئے تسلیہ و تسکین کا پہلو بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی پریشانی کو بھی دور کر دے گا۔ نیز چادر میں لپٹنا فکر مندی کی علامت بھی ہے۔ سو اس سے آنحضرت ﷺ کی اس فکر مندی کا اظہار ہوتا ہے جو فریضہ رسالت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے متعلق آپ کو لاحق تھی۔ (علیہ السلام) سو اصل فکر دین و ایمان اور آرت ہی کی فکر ہے وبا اللہ التوفیق
Ayahs 74:2–32 کار نبوت کی اولین ذمہ داری انداز عام : سو کار نبوت کی اولین ذمہ داری سے آگاہی کی طور پر آپ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اٹھو اور خبردار کرو۔ یعنی خبردار کرو لوگوں کو ان کے اس حقیقی اور ہولناک انجام سے جس سے ان کو بہرحال اور قطعی طور پر سابقہ پڑنا ہے اور انہوں نے زندگی بھر کے کء کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے اس انجام سے ان کو خبردار کرو قبل اس سے کہ فرصت عمل ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور عمر رواں کی دلوت ان سے چھن جائے اور یہ اس نقصان عظیم اور خسران مبین میں مبتلا ہوجائیں جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ان کے لئے ممن نہیں ہوگی، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہا ٹھو اور پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی قوم کون کے مستقبل کے بارے میں خبردار کرو، اور مخالفت و مزاحمت اور حالات و ماحول کی نامساعدت و اجنبیت کی پرواہ نہ کرو، کہ آپ ﷺ بہرال حق پر ہیں۔ بہرکیف انداز عام پیغمبر کی اولین اور سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اسی لئے حضرت نوح کو بھی منصب رسالت پر فائزک رتے ہوئے سب سے پہلے اسی بات کی ہدایت فرمائی گئی کہ اپنی قوم کو خبردار کرو قبل اس سے کہ ان پر آپہنچے بڑا درد ناک عذاب۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا۔ " وانذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم " (نوح :1) سو یہاں پر پیغمبر کو " مدثر " کے وصف خاص سے خاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا کے اٹھو اور خبردار کرو اور خواب غفلت میں پڑے ہو وں کو چونکا دو اور ان کو ان کے اس انجام سے ڈراؤ جس سے انہوں نے بہرحال دوچار ہونا ہے اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کرو دو کہ یہ کسی اندھی نگری میں نہیں رہتے کہ اس میں جو چاہیں کریں اور ان کی کوئی پوچھ نہ ہو بلکہ انہوں نے بالاخر اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں۔ سو اس نجام سے غفلت و لاپرواہی خساروں کا خسارہ اور انتہائی ہولناک نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین
Ayahs 74:4–54 تطہیر ثیاب کا حکم و ارشاد اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ سو ان کو پاک رکھو ہر طرح کی نجاست و غلاظت سے۔ جس میں دوسرے لوگ طرح طرح مبتلاء اور ملوث ہیں، نیز پاک رکھو اپنے دامن کو ہر طرح کے اخلاقی عیوب سے، چناچہ عربی محاورہ میں پاکیزہ اخلاق والے کو طاہر الثیاب اور طاہر الذیل کہا جاتا ہے اور گندے اخلاق والے کو دنس الثیاب و دنس الذیل وغیرہ (صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) نیز راہبانہ تصور کے برعکس اپنے کپڑوں کو ہر طرح کے میل و کچیل سے پاک و صاف رکھو کہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرے انسان کی پاکیزہ و ستھری زندگی کے لائق یہی ہے اور خاص کر ایسے شخص کے لئے جو کہ دعوت و ارشاد کے منصب عالی پر فائز ہو، لوگوں کی نظریں اس کی طرف لگی ہوں اور وہ دنیا کے لئے مینارہ نور کی حیثیت رکھتا ہو، قرآن حکیم کی اسی بنیادی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اسلام نے دنیا کو طارت اور پاکیزگی کا وہ جامع اور عظیم الشان درس دیا ہے کہ دنیا ترقی کی ہزار دعویداری کے باوجود آج تک اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکی، یہاں تک کہ دوسروں کے یہاں تو طہارت کے ہم معنی کوئی لفظ ہی سرے سے نہیں مل سکے گا، بلکہ ان کی زیادہ سے زیادہ دوڑ اور پہنچ صرف ظاہری (Cleanliness) تک ہے اور بس، جب کہ اسلام کے ذخیرہ عامرہ میں حدی و فقہ کی ہر کتاب کا آغاز ہی کتاب الطہارۃ سے ہوتا ہے اور مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولنے والا ایک بچہ بھی صفائی اور پاکیزگی کے اس فرق سے آگاہ ہوتا ہے، جب کہ دوسرے بہت سے ادیان و مذاہب اور معاشرتی تعالیم کے اندر صفائی اور پاکیزگی کے درمیان سرے سے کوئی فرق و امتیاز ہی نہیں ہوتا اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ حق و ہدایت کا سرچشمہ صرف اور صرف یہی کتاب حکیم ہے اور اس سے انہوں نے منہ موڑ رکھا ہے فانی لھم التناوش من مکان بعید ؟ اللہ ہمیشہ ہر موقع پر اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق و صواب ہی ہر جلنے کی تفویق بخشے۔ آمین
Ayah 74:66 ۔ استکثار کی بناء پر احسان کی ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے بلکہ جو بھی نیکی اور احسان کرنا ہو وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرو کہ یہی درحقیقت اساس و بنیاد ہے تمام نیکیوں اور خوبیوں کی اسی طرح کار رسالت کی ادائیگی کے عوض بھی کسی سے کسی طرح کے بدلے کی امید نہ رکھو، بلکہ یہ اعلیٰ ترین نیکی بھی صرف اور صرف اپنے رب کی رضا کے لئے کرو، اور اسی سے اس کے اجر و صلہ کی امید رکھو، اسی طرح ایک اور مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ بھی بنتا ہے کہ اپنی کسی نیکی اور نیک عمل کو کوئی بڑی چیز نہیں سمجھنا کہ اللہ پاک کا حق بہرحال بہت بڑا ہے، سبحانہ و تعالیٰ اور لفظ من کے معنی کاٹنے اور قطع کرنے کے بھی آتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " وان لک لاجرا غیر ممنون " (القلم :3) یعنی " یقیناً آپ کے لئے ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ " سو اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ کہیں تم یہ خیال کر کے اب کافی انداز ہوچکا ہے، مزید کی ضرورت نہیں رہی، اس عمل کو منقطع نہیں کردینا بلکہ اپنے رب کے کے حکم کے مطابق انداز کرتے ہی رہو، یہاں تک کہ اس کی طرف سے کوئی اور ہدایت نہ مل جائے۔ سو کلمہ " من " کی طرح کلمتہ " استکثار " کے بھی دو معنی ہیں۔ ایک کسی چیز کو زیادہ کرنے اور زیادہ چاہنے کے ہیں۔ جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا۔ " ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوئ " لایہ (الاعراف :188) یعنی ’ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو یقیناً اپنے لیے بہت سے بھلائیاں جمع کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی اور استکثار کا دوسرا معنی ہے کسی چیز کو زیادہ سمجھنا۔ اہل لغت اس کا مطلب اس طرح بیان کرتے۔ " استکثرالشی " ای رآہ کثیرا وعدہ کثیرا " یہاں پر اس کے یہ دونوں ہی معنی بن سکتے ہیں جن میں مشہور پہلا معنی ہے۔ لیکن میرے نزدیک زیادہ وقیع دوسرا معنی ہے۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 74:7–97 ۔ اپنے رب ہی کے لیے صبر کرنے کی تعلیم و تلقین،۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اپنے رب کے لئے (اور اس کی رضا کی خاطر) صبر ہی کئے جاؤ راہ حق وصاب پر ہر طرح کے مصائب و مشاکل میں کہ اس وحدہ لاشریک کے لئے صبر کرنے سے حوصلوں میں قوت بھی ملے گی، مشکلات و مصائب میں آسانی بھی پیدا ہوگی اور اجر وثواب بھی ملے گا جس سے وہ مصائب بھی ذریعہ خیر بن جائیں گے۔ فان المصاب من حرم التواث۔ سو اس ارشاد سے بھی دراصل اوپر والے حکم اور ہدایت کی تاکید فرما دی گئی، کہ کسی بھی موقع پر اپنے کام کو بہت سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا، بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے حکم و فیصلہ کا انتظار کرنا کہ اسی صبر و استقامت پر آپ کی کامیابی اور آپ کی قوم پر اتمام حجت کا انحصار ہے۔ سو یہ فیصلہ کرنا کہ اب فریضہ تبلیغ کا حق ادا ہوگیا مزید کی ضرورت نہیں آپ کا کام نہیں بلکہ یہ ہمارے ذمے ہے۔ ہم ہی جانتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ حق کی ذمہ داری کب پوری ہوتی ہے اور کب تک اس کو جاری رہنا چاہئے۔ پس اپ راہ حق و صواب پر صبر و ثبات ہی سے کام لیں اور کسی طرح کی بےصبری اور جلد بازی سے کام نہیں لینا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا یا۔ " صابر لحکم ربک ولاتکن کصاحب الحوت، اذ نادی وھو مکظوم " (القلم :4) اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے راہ حق پر ہی ثابت قدم رکھے۔ اور ہر قسم کے شرور روفتن سے ہمیشہ سلامت و محفوظ رکھے۔ آمین
Ayah 74:108 ۔ یوم قیامت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن پھونک مار دی جائے گی صور میں وہ دن بڑا ہی سخت ہوگا کافروں پر اور ان کے لئے وہ کسی بھی طرح ہلکا نہیں ہوگا۔ یعنی دنیاوی سختیوں اور مصیبتوں کی طرح اس کی سختی کبھی ختم نہیں ہوگی، بلکہ ہمیشہ بڑھی ہی چلی جائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم علی الکفرین کی قید سے معلوم ہوا کہ اس دن کی یہ سختی اہل ایمان کے لئے نہیں ہوگی، فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان فثبت اللھم اقدامنا علی الصراط المستقیم بہرکیف اس ارشاد سے انداز کے اصل موضوع کو واضح فرما دیا گیا کہ وہ آخرت کے اس یوم رہیب سے ڈرانا اور خبردار کرنا ہے، جس کے بارے میں جاننے کا دوسرا کوئی بھی ذریعہ وحی خداوندی کے سوا ممکن نہیں اور اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں سے غفلت و لاپرواہی ہلاکتوں کی ہلاکت اور تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے۔ منکرین قیامت نہ اس کو مانتے تھے اور نہ ماننا چاہتے تھے۔ کل بھی شیہی تھا اور آج بھی یہی ہے اور اس طرح وہ غفلت و لاپرواہی کی خرمستیوں میں محورہ کر اپنے لئے دائمی خسارے کا سامان کر رہے ہیں اور جو کسی درجے میں آخرت کو مانتے بھی ہیں تو وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہمارے ہی مزے ہوں گے۔ کیونکہ یہاں جو ہمیں دنیاوی عیش و عشرت کے ایسے اور ایسے سامان ملے ہوئے ہیں۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اس یوم عظیم کی ہولناکی سے اچھی طرح خبردار کردو تاکہ یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں اور باز آجائیں۔
Ayah 74:119 ۔ عیش پرست منکرین کے لئے سخت تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا کہ ایسوں سے میں خود ہی نبھٹ لوں گا اور بالکل صحیح وقت پر، صحیح طریقے سے اور پوری طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نبھڑوں گا۔ لہٰذا آپ ﷺ ایسوں کی فکر نہ کریں، جمہور علماء و مسرین کرام کے نزدیک یہ آیات کریمہ ولید بن مغیرہ المخزومی کے بارے میں نازل ہوئیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا، مگر اس نے دوسرے تنگ ظرف اور ناشکرے و بےانصاف لوگوں کی طرح اپنے خالق ومالک کا شکر گزار بننے کی بجائے کفر و ناشکری کی راہ کو اپنایا اور اس طرح اس نے خود اپنی ہی تباہی اور ہلاکت کا سامان کیا والعیاذ باللہ، سو اس کے بارے میں یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مجھ پر چھوڑ دو اس کو جس کو میں نے پیدا کیا تھا اس حال میں کہ اس کے پاس دنیاوی مال و دولت وغیرہ کی کوئی چیز نہ تھی اور پھر میں نے ہی اس کو دنیاوی مال و دولت وغیرہ سے اتنا اور اس قدر نوازا کہ یہ شخص پھول کر اور بپھر کر اپنے آپ کو وحید ابن الوحید (یکتا بیٹا یکتا کا) کہنے اور سمجھنے لگا اور پھر اس سب کے باوجود اس نے اس درجہ ناشکری اور نمک حرامی سے کام لیا کہ کسی اور نے نہیں لیا، سو اس سے نبھٹنا اور اسے اس کے اس قرار واقعی انجام سے دوچار کرنا جس کا یہ مستحق ہے بھی میرا اور صرف میرا ہی کام ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو شان نزول کی ان روایات کے مطباق اس کا اولین اور اہم مصداق اگرچہ ولید بن مغیرہ ہے، لیکن الفاظ کے عموم کے لحاظ سے یہ ارشاد اس کر توت و کردار کے مالک ہر شخص کو عام اور شامل ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، سو اس سے یہ درس عبرت دیا گیا ہے کہ انسان کو زندگی میں جو بھی کچھ ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتا ہے، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے نتیجہ میں انسان صدق دل سے اس کی طرف جھک جائے اور اس کا شکربجالائے تو اس سے وہ نعمتیں اس کے لئے سعادت دارین کا ذریعہ بن جائیں گی، ورنہ باعث ہلاکت و تباہی اعلیاذ باللہ۔ سو اس میں ایسے عیش پرست منکرین کے لئے سخت تنبیہ اور تہدید ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayahs 74:12–1410 ۔ مال کی نعمت سے نوازنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور میں نے اس کو بہت سارا مال بھی دیا، کہتے ہیں کہ اس کے باغوں کا سلسلہ مکہ سے طائف تک جا بجا پھیلا ہوا تھا اور وہ سال کے ہر موسم میں پھیل دیتے تھے اور حضرت سفیان ثوری کے قول کے مطابق وہ ایک کروڑ اشرفیوں کا مالک تھا، (روح قرطبی، مراغی، معارف، کبیر، بیضاوی، اور صفوۃ وغیرہ) سو جب وہ اس دنیا میں آیا تھا تو بالکل اکیلا اور خالی ہاتھ آیا تھا، سر سے پیر تک ننگا گوشت کی ایک بوٹی کی طرح تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرما کر اس کو دور دور تک پھیلا ہوا مال دیا، کہیں اس کے ہرے بھرے سرسبز و شاداب ابغات ہیں اور کہیں عالیشان مکان اور عمدہ کوٹھیاں اور کہیں طرح طرح جانوروں کے گلے اور ریوڑ ہیں، کہیں تجارتی آڑھتیں اور دکانیں ہیں اور کہیں وسیع و عریض رقبے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ وحیدا کے لفظ میں ترکیب کے لحاظ سے دو احتمال ہیں اور دونوں ہی صحیح اور اہم ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خلقت کی ضمیر مفعول سے حال ہو جو کہ مقدور و محذوف ہے اور اوپر والی تقریر اسی احتمال پر مبنی ہے اور دوسرا احتمال اس میں بہ ہے کہ خلقت کی ضمیر مرفوع متصل سے حال ہو۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ اس کو میں نے اکیلے ہی پیدا کیا اور اکیلے ہی یہ سب کچھ میں نے اس کو دیا۔ اس میں اور کسی کا بھی کوئی دخل نہیں مگر اس نے پھر بھی میری ناشکری کی۔ والعیاذ باللہ اپنی اپنی ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شروروفتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ کھے۔ آمین
Ayahs 74:15–1612 ۔ منکرین کے زعم باطل کی سختی کے ساتھ تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اتنا کچھ پانے کے بعد وہ مزید کی طمع بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی وہ عیش کرے گا تو اس کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں اس کو اس کے کفر و ناشکری کے باوجود اس کے بعد مزید نعمتیں دیتا جاؤں، چناچہ روایت میں وارد ہے کہ ان آیات کریمہ کے نزول کے بعد اس شخص کا زوال و انحطاط شروع ہوگیا اور وہ گرتا ہی چلا گیا، کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ( قد جعل اللہ لکل شیء قدرا) والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس دنیا میں انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ نہ تو اس لیے ملتی ہے کہ یہ اس کا حق ہے، اور نہ ا لیے کہ اس میں اس کی تدبیر یا تدبر کا کوئی عمل دخل ہے، بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملتی ہے اور اس سے مقصود اس شخص کا امتحان اور اس کی ابتلاء و آزمائ ہوتی ہے کہ یہ اس کو پاکر اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار اور شکر گزار بندہ بنتا ہے، یا اس کی بنا پر مست اور منکر ہو کر ناشکرا اور باغی اور طاغی بن جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظی۔ پہلی صورت یعنی شکر گزاری میں وہ نعمت اس کے لیے دارین و سرخروءی کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور دوسری صورت یعنی ناشکری میں وہ اسکے لیے باعث محرومی اور ہلاکت دارین کا باعث بنتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایسے ناشکرے لوگوں کے لیے آخرت میں جنت کی نعمتیں نہیں دوزخ کا ہولناک عذاب مقر ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayahs 74:17–1913 ۔ منکروں اور ناشکروں کی سزا کا ذکر وبیان : سو ایسے بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کی سا کے بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا یا کہ میں عنقریب ہی اس کو چڑھاؤں گا صعود پر۔ سنن ترمذی وغیرہ کی روایات کے مطابق یہ دوزخ میں ایک ایسا پہاڑ ہوگا جس پر دوزخی ستر برس تک چڑھتے رہیں گے اور پھر انی ہی مدت میں اس سے نیچے گرتے جائیں گے، (4 وح، قرطبی، ابن کثیر اور صفوہ وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم ارھاق کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور صعود کسی ایسی چوٹی اور گھاٹی کو کہا جاتا ہے جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو، یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نیکی اور بدی کی فطرت میں یہ بنیادی فرق ہے کہ نیکی کی مشکلیں اور مشقتیں تو نقد اس دنیا میں ملتی ہیں اور اس کا نفع و فائدہ ادھار ہے، جو آخرت میں ملے گا جبکہ اس کے برعکس بدی کی لذتیں عاجل ہیں جو اسی دنیا میں مل جاتی ہیں اور اس کی تلخیاں آخرت میں سامنے آئیں گی، سو دین حنیف کی تعلیمات کی رو سے جس نے دنیا میں نیکی کی راہ کی مشکلات کو عبور کرنے کا حوصلہ کرلیا، وہ آخرت کی فوز و فلاح سے سرفراز ہوگیا اور جو یہاں ان کو پار کرنے کی ہمت نہ کرسکا اس کو دوزخ کے عقبات سے سابقہ پیش آئے گا جن کو پار کرنے کے لئے ان کو مجبور کیا جائے گا، مگر وہ ان کو پار نہیں کرسکے گا، والعیاذ باللہ العظیم اور نیکی اور بدی کے اس فطری فرق کو حضرت عیسیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ بدی کی راہ فراخ ہے اور اس پر چلنے والے بہت ہیں اور نیکی کی راہ تنگ ہے اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں اور اسی کو صحیح حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا۔ حفت الجنتہ بالمکارہ و حفت النار بالشھوات یعنی " جنت کو مشکلوں اور مشقوں سے گھیر لیا گیا اور دوزخ کو شہوات اور خواہشات سے والعیاذ باللہ العظیم وہوا الموفق لکل مایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayahs 74:20–2214 ۔ منکروں کی محرومی اور بدبختی کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی۔ سو خدا کی مار اس شخص پر اس نے کیسی بات بنانے کی کوشش کی اور حق کو جان اور پہچان لینے کے بعد اس کو قبول کرنے کی بجائے اس نے اپنی شقاوت و بدبختی کے باعث اس کے بارے میں اس طرح کا اظہار کیا۔ والعیاذ باللہ سو اس نے قرآن کے بارے میں اپنا ردعمل فوری طور پر ظاہر کرنے کی بجائے کچھ دیر سوچے اور غور کرنے کا تکلف کیا، تاکہ دیکھنے والوں پر یہ اثر پڑے کہ ان کا لیڈر بات یونہی نہیں کہہ دیتا، بلکہ وہ غور و خوض اور سوچ و بچار کے بعد اپنی ائے دیتا ہے سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر مار اور پھٹکار ہو اس پر کہ اس نے کیسی بات بنانے کی کوشش کی سو اس کی رائے کے ذکر سے پہلے دو مرتبہ اس تاکید و تکرار کے ساتھ اس کی لعنت و پھٹکار کے اس ذکر سے ایک طرف تو اس کی اس رائے کی شناعت کا اظہار فرمایا گیا کہ اس نے قرآن حکیم کے اس کلام معجز نظام کے بارے میں کسی بیہودہ بات کہی۔ دوسری طرف اس سے سننے والوں کو اس بارے متنبہ کرنا بھی مقصود ہے کہ جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے اور اس پر اس کی بدبختی غالب آجاتی وہ کتنا اندھا اور کس قدر اوندھا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 74:23–2415 ۔ عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے اس بدبخت کی عناد کی تصویر پیش فرما دی گئی، روایات میں ہے کہ اس شخص (ولید بن مغیرہ) نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو یہ اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ سنتے ہی کہا کہ اللہ کی قسم یہ کلام نہ کسی انسان کا ہوسکتا ہے، نہ کسی جن کا، اس میں ایک عجیب لذت و شیرینی ہے، اور اس پر ایک عجیب رونق و دلربائی ہے، اس کا ظاہر پھلوں سے لدا ہوا اور اس کا باطن (علوم و معارف) کے فوارے چھوڑنے والا ہے، اس نے بہرحال غالب ہو کر رہنا ہے کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ واللہ لقد سمعت منہ کلاما ماھو من کلام الانس ولا من کلام الجن وان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلا وہ وان اعلا وہ لمثمر وان اسفلہ لمغرق و انہ لیعلوا ولا یعلی علیہ وما ھو بقول بشر اس پر کفار قریش نے جب اس کو لعنت ملامت کرنا شروع کردیا۔ تو اس پر بالاخر اس نے وہ کچھ کہا اور اس طرح کہا جس کا نقشہ ان آیات کریمہ میں کھینچا گیا ہے۔ سو یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن پر ان کی شقاوت و بدبختی غالب آجاتی ہے اور وہ دیکھنے سننے جاننے کے باوجود اندھے بن جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال اور شقاوت و بدبختی سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayahs 74:25–2816 ۔ اپنے ضمیر کے خلاف رائے کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے اپنی قوم کو خوش کرنے کے لئے کہا یعنی اپنے ضمیر کی اس آواز و پکار کیخلاف جس کا اظہار اس نے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کی صداقت کے بارے میں اس سے پہلے صاف اور صریح طور پر کیا تھا، سو جب کسی پر اس کے حق سے بغض وعناد کی بدبختی چھا جاتی ہے تو اس کی مت اسی طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ جس کے نتیجے میں وہ اسی طرح پاگلوں کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور مزید یہ کہ اپنی اس حماقت کو وہ اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتا ہے والعیاذ باللہ حالانکہ وہ اس کی محرومی اور بدبختی کا ثبوت ہوتا ہے اور اس طح ایسا شخص محرومی در محرومی کا شکار ہو کر رہتا ہے اور اس طور پر کہ اس سے احساس زیاں بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس شخص نے قرآن حکیم کے بارے میں کہا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو چلتا آ رہا ہے۔ پہلے لوگوں سے والعیاذ باللہ سو اس کے اندر جو دلوں کو موہ لینے کی تاثیر ہے، یہ اسی بنئا پر ہے کہ یہ ایک جادو ہے، اور یہ ایک بشر کا کلام ہے، سو اس بدبخت کے لئے جب اس کلام حکیم کی بےمثل فصاحت و بلاغت اور اس کی بےپناہ تاثیر و تسخیر کا انکار ممکن نہ رہا، تو اس نے اس کے خلاف اس طرح کی ہر زہ سرائی کی کہ یہ ایک جادو ہے، تاکہ لوگوں کے دلوں کے اندر سے اس کے الہامی اور خدائی کلام ہونے کا تاثر زائل ہو سکے۔ سو اس بدبخت نے اپنی اس رائے کی اظہار سے عام لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس کے اندر تاثیر و تسخیر کی جو زبردست قوت پائی جاتی ہے وہ اس لئے نہیں کہ یہ آسمان سے اتا ہوا اور خدائی کلام ہے بلکہ یہ محض زبان و کلام کی جادوگری ہے اور یہ کوئی ایسی نئی اور نادر چیز نہیں جو پہلی مرتبہ ظہور پذیر ہوئی بلکہ ایسا اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ سو یہ نتیجہ اور انجام ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 74:29–3017 ۔ کفر و انکار کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ولناک آگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا ایسوں کے لئے دوزخ کی ولناک آگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ارشاد فرمایا گیا کہ میں عنقریب ہی جھونک دوں گا اس کو دوزخ میں اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ سو دوزخ کی وہ آگ نہ کسی پر ترس کھائے گی اور نہ اس کو چھوڑے گی۔ یعنی ابقی علیہ کے معنی ہوتے ہیں کہ اس نے اس پر ترس کھایا سو وہ آگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق عذاب کو باہر رہنے دے گی بلکہ ان کو بلا بلا کر اور کھینچ کھینچ کر اپن اندر لاتی جائے گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ " تدعو من ادبر وتولی " (المعارج :17) سو وہ ٓگ ایسی ہوگی کہ نہ کسی مستحق نار کو باہر چھوڑے گی اور نہ اندر آنے والے کسی کو باہر جانے کے لئے چھوڑے گی، نیز وہ آگ نہ تو جسم کی کوئی چیز جلائے اور بھسم کئے بغیر چھوڑے گی اور نہ ایک مرتبہ جلا لینے کے بعد کسی کو اپنے حال پر رہنے دے گی، بلکہ اس پر گوشت پوست وغیرہ پھر اور پھر چڑھ آئے گا، جس کو یہ پھر اور پھر جلاتی جائے گی اور وہ لایموث فیھا ولایحیی کی ہولناک اور سخت ہی اذیت اور درد و کرب والی زندگی گزار دیگا۔ والعیاذ باللہ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ " کلما نضجت جلودھم بدلناھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب " الایۃ (انلساء : 56) نیز " لاتبقی ولاتذر " کا ایک اور معنی و مفہوم یہ بھی بنتا ہے کہ وہ آگ نہ کسی پر ترس کھائیگی کہ اس کو کچھ تحفیف اور آسانی ہو سکے اور نہ ہی وہ کسی کو نظر انداز کریگی، کہ وہ اس سے بچ نکلے کیونکہ باقی علیہ کا معنی جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا یہ ہوتا ہے کہ اس نے اس پر ترس کھایا اور اس پر رحم کیا سو اس آگ سے نہ کسی رحم و کرم کی کوئی امید ہو سکے گی، اور نہ کسی چشم پوشی اور نظ رانداز کر نیکی بلکہ وہ آگ نہایت بےرحم بھی ہوگی اور انتہائی چوکس بھی والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو جل علا سو بڑے بدبخت اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس ہلناک آگ سے غافل و بیخبر ہولناک انجام کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قدم اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین
Ayah 74:3118 ۔ دوزخ کے کارندے فرشتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کی اس آگ پر انیس کارندے ہوں گے اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے نہیں بنائے مگر فرشتے۔ اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے نہیں بنائے مگر فرشتے، جن کی قوت کا علم و اندازہ اللہ پاک کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں سکتا، پس ان کو بندوں پر قیاس کرکے کافروں کا اس پر ٹھٹھا اڑانا اور مذاق کرنا ان بدبختوں کی اپنی حماقت اور بدبختی کا ثبوت ہے، جیسا کہ اس کا ذکر وبیان آگے حاشیے میں آرہا ہے، سودینی حقائق کا مذاق اڑانا کفار اور منکرین کا طریقہ ووطیرہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مومن کا کام اور اس شان یہ ہے کہ وہ غیبی حقائق کو اسی طرح مانے اور تسلیم کرے جس طرح وحی خداوندی کے ذریعے ان کے بارے میں خبری دی گئی ہو، یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ جہاں تک آخرت کے اس جہان غیب کا تعلق ہے تو اس کے ثبوت اور وجود سے متعلق دلائل تو عقل و فطرت اور آفاق وانفس میں موجود ہیں، اور قرآن حکیم نے ان کو مختلف مقامات پر اور مختلف اسالیب سے بیان فرمایا ہے، لیکن اس سے آگے رہ گئی بات جنت ودوزخ کی تفصیلات کی تو ان کی نوعیت متشابہات کی ہے جن کی اصل حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور اس بارے میں تمثیلات اور تشبیہات کے پیرائے میں جو کچھ سمجھا گیا ہے اس سے ان کے بارے میں فی الجملہ تصور کیا جاسکتا ہے اور بس۔ ان کی اصل حقیقت کا ادراک اس دنیا میں کسی کے لئے ممکن نہیں اور جو لوگ اس کے درپے ہوتے ہیں وہ فتنوں میں پڑجاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
19 ۔ کارکنان دوزخ کی اس تعداد کا ذکر ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے ان کی تعداد کو آزمائش کا ذریعہ بنادیا کافروں کے لئے تاکہ ان کا کفر مزید کھل کر سامنے آجائے چناچہ ایسے ہی ہوا کفار نے اس عدد کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ بھلا یہ انیس کارندے لاتعداد دوزخیوں پر کس طرح قابو پاسکیں گے اور کنٹرول کرسکیں گے ابوجہل نے اپنے حواریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم دیکھتے نہیں کہ ابن ابی کبثہ (یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کیا کہہ رہا ہے کہ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ دوزخ میں اول سے لے کر آخر تک کی تمام گنہگار مخلوق کو ڈالا جائے گا اور دوسری طرف اس کا کہنا ہے کہ ان تمام دوزخیوں پر صرف 19 کارندے مقرر ہونگے، تو کیا اے میری قوم کے بہادر نوجوانو ! تم میں سے دس دس آدمی مل کر ایک ایک فرشتے کو بھی قابو نہ کرسکیں گے اس پر ابو الاسودا بن کلدہ الجمعی نامی ان کے ایک مشہور پہلوان نے کہا کہ سترہ کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں باقی دو کو تم لوگ سنبھال لینا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدہ و ایمان کی قوت و روشنی سے محرومی انسان کو کس قدر احمق اور کتنا غیر ذمہ دا اور لایعنی انسان بنا دیتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم حالانکہ فرشتے کی قوت کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی فرشتے نے قوم لوط کی سب بستیوں کو اٹھا کر اور اوپر لے جا کر ان کو اونھدا کر کے پٹخ دیا تھا، رہ گئی یہ بات کہ انیس کے عدد کی تعین میں کیا حکمت ہے تو اس کا پورا علم تو اللہ پاک ہی کو ہے لیکن حضرات علماء کرام نے اللہ پاک کی بخشی ہوئی روشنی کے مطابق اپنے اپنے طور پر اس کی مختلف حکمتیں بیان فرمائی ہیں حضرت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ نے اپنی تفسیر (تفسیر عزیزی) میں اس پر خاصا لطیف اور عمدہ کلام فرمایا ہے، جو چاہے وہاں دیکھ لے۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ان اینس فرشتوں کے ساتھ اور ان کی ماتحتی میں اور کتنے ہوں گے ان کی تعداد اللہ پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سبحانہ و تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق وصواب رہی پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
20 سچے اہل کتاب کے یقین محکم کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ یقین کرلیں وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے سولیستیقن کا " ل " یہاں پر بیان نتیجہ کے لئے ہے یعنی حق و باطل کی اس کشمکش کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو سچے اہل کتاب ہیں ان کا یقین محکم ہوگا اور جو ایمان لائے ہوئے ہیں ان کے ایمان میں اضافہ ہوگا۔ عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اہل کتاب کے اس یقین کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ یہ عدد خود ان کی کتابوں میں بھی موجود تھا سو نبی امی کا ان کو اس کی خبر دے دینا آپ ﷺ کی حقانیت کی دلیل و ثبوت ہے، مگر یہ توجیہہ دو وجہ سے دل کو کچھ زیادہ لگتی نہیں، اول یہ کہ اس عدد کی تصریح ان کی الہامی کتابوں میں اس طرح سے کہیں ملتی نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ خود وہاں پر کہیں مل بھی جائے تو وہ لوگ حسب عادت اس پر یوں کہہ سکتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ بات ہماری کتابوں سے لی ہے، اس لئے اس کی بجائے اگر اس کی توجیہہ میں یوں کہا جائے تو بہتر اور صحیح ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کو اگرچہ معلوم تھا کہ یہ لوگ انیس کے اس عدد کو سن کر اس کا مذاق ا ائیں گے، مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے اس کو جوں کا توں بیان فرما دیا اور ان بدبختوں کے اس ردعمل کی کوئی پرواہ نہیں کی، تو یہ آپ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام (علیھم الصلوۃ والسلام) کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی وحی کو کسی ردعمل کی پرواہ کئے بغیر جوں کا توں آگے پہنچا دیتے ہیں، عرب کے جہلاء اگرچہ اپنے جہل کی بناء پر پیغمبروں کی اس شان سے بخبر اور ناواقف تھے، مگر اہل کتاب ایسے نہ تھے، بلکہ وہ لوگ حضرات انبیاء کرام علیھم الصلوۃ السلام کی اس شان سے آگاہ اور واقف تھے، اس لئے ان سے ان کے علم کی بناء پر یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ یہ سنتے ہی اس سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی پیغمبرانہ شان کو پہچان لیں گے سو حق و باطل کی اس کشمکش کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو سچے اہل کتاب ہیں، ان کا اس سے یقین محکم ہوگا اور جو ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں اضافہ ہوگا اور یہی وہ خوش نصیب لوگ جو بعد میں صدق دل سے ایمان لا کر سعادت دارین کی راہ سے سرفراز ہوئے۔ والحمد اللہ جل وعلا سو صدق نیت اور صفاء باطن سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، وباللہ التوفیق
21 اہل ایمان کے ایمان میں اضاف کے سامان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ ایمان والوں کا ایمان اور بڑھے۔ ایک تو اس ارشاد پر ایمان لاکر اور دوسرے اہل کتاب کو اس کی تصدیق کرتے دیکھ کر۔ سو اس طرح ان کے ایمان اور اس کی قوت و شان میں اور اضافہ ہو جاے گا ‘ اور ان کا یقین اور بڑھ جائے گا کہ یہ واقعی اللہ کا کلام ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ سو سچے ایمان والوں کے ایمان میں ہر ابتلاء و آزمائش سے اور نکھار پیدا ہوتا ہے ‘ اور اس کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخالفین کی طرف سے ان کے خلاف جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ ان کے سامنے آجاتا ہے۔ اور اس سے ان کو مخالفین کی نکتہ چینیوں کو جانچنے پرکھنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ دیکھ لیتے ہیں کہ ایسوں کی نکتہ چینیاں بالکل بےحقیقت اور بےبنیاد ہیں۔ کیونکہ ضد کی اصل پہچان اس کی ضد ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ وبضدھا تتبین الاشیائ۔ یعنی " چیزوں کی پہچان ان کی ضد ہی سے ہوتی ہے "۔ اور جب کسی چیز کے دونوں پہلو واضح ہوجاتے ہیں تو آدمی جس چیز کو بھی اختیار کرتا ہے علی وجہ البصیرت اختیار کرتا ہے۔ تو ایسے ایمان والوں کا ایمان تقلیدی نہیں ہوتا بلکہ ان کا جانچا پرکھا اور عزم و جزم کی بنا پر ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ‘ و علی مایحب ویرید۔
22 شک و ریب سے بچاؤ کے ذریعہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ شک میں نہ پڑیں اہل کتاب اور ایمان والے۔ سو یہ اوپر والے مضمون ہی کی تاکید مزید ہے کہ پہلے ان کیلئے یقین کا اثبات تھا اور اب ان سے شک و ریب کی نفی ہے۔ کیونکہ یقین کے ساتھ شک کی میل جمع ہوسکتی ہے (والعیاذ باللہ) پس اس تاکید سے ان کے ایمان و یقین سے شک و ارتباب کی نفی ہوگئی ‘ اور اس میں دوسرے لوگوں پر تعریض ہے کہ وہ یقین کی روشنی محروم اور شک و ارتیاب کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ‘ والعیاذ باللہ (قرطبی ‘ مراغی ‘ کبیر وغیرہ) سو جو بات اوپر مثبت انداز میں بیان فرمائی گئی تھی، اسی کو اب یہاں پر منفی اعتبار سے بیان فرمایا گیا ہے، تاکہ اس مضمون کی تاکید ہوجائے، باللہ التوفیق۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ یہاں پر اچھے اور صدق شعار اہل کتاب کا ذکر اہل ایمان کے پہلو بہ پہلو فرمایا گیا ہے حالانکہ یہ سورة کریمہ راجح قول کے مطابق مکی بلکہ ابتدائی سورتوں میں سے ہی جبکہ اہل کتاب سے براہ راست سابقہ پیش نہیں آیا تھا۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اچھے اور صدق شعار اہل کتاب مسلمانوں ہی کی حکم میں تھے۔ اس لئے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے شروع ہی سے ان کا ذکر اہل ایمان کے ساتھ بلکہ ان کے ہر اول دستے کے طور پر کیا ہے۔ تاکہ پہلے سے ان پر واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ان کا مقام کیا ہے۔ اس نئی بعثت کے دور میں ان کو کیا رول ادا کرنا ہے اور آگے انہوں نے کن حالات سے گزرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو محکم رکھنے کے کیا کیا تدبیریں اختیار فرما رہا ہے اور ان سے مستفید ہونے کیلئے ان کو کس طرح بیدار رہنا چاہئے۔
23 حاسدوں اور باطن کے روگیوں کے رویئے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے یوں کہیں کہ اللہ کو کیا لگے ایسی مثالوں سے اور روگ اور مرض سے مراد حسد اور شک و نفاق کا روگ ہے۔ (خازن ‘ صفوہ وغیرہ) اور حسد اور شک و نفاق کا یہ باطنی اور غیر مرئی مرض ظاہری اور حسی مرضی سے کہیں زیادہ مضر اور خطرناک ہے کہ اس سے آگے کی طرح طرح کی بیماریاں پھوٹتی اور قسما قسم کے مفساد جنم لیتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم اور مرض کے اس لفظ کا اطلاق شک و نفاق کی طرح حسد اور کینے پر بھی ہوتا ہے ‘ کہ یہ بھی ایک بڑا مہلک اور تباہ کن مرض ہے جو آگے کئی خطرناک امراض کا باعث بنتا ہے، اور جو اہل کتاب خاص کر خاص کر یہود کی محرومی اور ہلاکت کا باعث بنا کہ اسی مرض نے ان کو راہ حق و ہدایت سے محروم کیا ‘ کہ ان کو بنو اسماعیل پر بھی حسد تھا اور نبی اکرم ﷺ پر بھی۔ سو وپر اچھے اہل کتاب کا ذکر تھا اور اب یہ حاسد اہل کتاب اور ان کے ساتھ کھلے کافروں اور منافقوں اور ان کے رویے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
24 ہدایت و گمراہی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح اللہ گمراہی میں ڈالتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت سے نؤازتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ سو اس سے ہدایت وغوایت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے دستور کو بیان فرمایا گیا ہے۔ پس وہ اس طرح کی کوئی بات فتنہ و آزمائش کے طور پر اپنے کلام اور اپنے احکام میں ارشاد فرما دیتا ہے، جس سے ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور کفر و نفاق والوں کی سیاہی اور بڑھتی پھیلتی اور ظاہر ہوتی جاتی ہے ‘ اور اہل حق اور اہل باطل کا یہ فرق ان کی اپنی اپنی نیتوں اور بواطن کے فرق و اختلاف کی بناء پر ہے ‘ کہ اہل ایمان و یقین تو اپنی نیک نیتی اور باطن کی صفائی کی بناء پر اس سے اپنی دولت ایمان میں اضافہ کرتے ہیں ‘ اور اہل کفر و باطل اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے کفر و باطل میں اضافے کا ساماں کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ہدایت وغوایت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ اس کا اصل تعلق انسان کے اپنے قلب و باطن سے ہے اور قلوب و بواطن کو اللہ ہی جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب باطن ہی سے ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
25 اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور نفی و اثبات کے اسلوب حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور تمہارے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جان سکتا سوائے اس کے کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ اس کے لشکر کتنے ‘ اور کس کس طرح کے ہیں ‘ اور کن کن قوتوں کے مالک ہیں ‘ اور کس کس سے وہ کیا کیا کام لیتا ہے ‘ یہ سب کچھ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے سبحانہ و تعالیٰ پس انیس فرشتوں کے اس عدد پر اہل کفر کا اس طرح ٹھٹھا کرنا ان کی اپنی حماقت و کوتاہ نظری اور محرومی و بدبختی ہے۔ ورنہ جہنم کے ان انیس خزنہ اور کارندوں کی نضرت و معاونت کیلئے کتنے ہی اور معاون اور لشکر ہوں گے ان کو اللہ پاک کے سوا کوئی جان بھی نہیں سکتا۔ اور حضرات اہل علم کا کہنآ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی مقدورات لامحدود و غیر متناہی ہیں ‘ اسی طرح اس کے لشکروں کی بھی کوئی حد و انتہاء نہیں۔ (خازن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے ان نکتہ چینوں کے غرو و ہمہ دانی پر ضرب لگائی گئی ہے کہ یہ لوگ اس زعم میں مبتلا نہ رہیں کہ یہ اس کائنات کے تمام بھیدوں کو جانتے ہیں، ان کا یہ زعم باطن ہے۔ سو یہ کائنات کے سب رازوں کو نہ جانتے ہیں نہ جان سکتے ہیں۔ پس ہمہ دانی کے زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہونے کی بجائے صحت اور سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رموز سلطنت میں سے جتنے بھیدوں سے آگاہ کردے انسان اس کی قدر کرے اور اس کو اپنے خزانہ علم میں بیش بہا اضافہ سمجھے۔ اور اس زعم اور گھمنڈ میں کبھی مبتلا نہ ہو کہ خداوند قدوس کی ساری کائنات بھی اتنی اور اسی قدر ہے جتنی کہ اس نے دیکھ لی اور جو اس کے علم میں آگئی جس طرح کہ دور حاضر کا دانش فروش طبقہ سمجھتا ہے۔ سو ایسے بدبختوں نے قرآن حکیم کی جن باتوں پر شبہات وارد کئے ہیں یا ان کی من مانی تاویلات کی ہیں وہ سب کچھ ہمہ دانی کے اسی غرور کی بنا پر کیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر طرح کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ و سلامت رکھے ‘ آمین ثم آمین۔
26 احوال آخرت کے ذکر کے مقصد کی وضاحت : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہیں ہے یہ مگر ایک عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی سب لوگوں کیلئے تاکہ لوگ اس سے باخبر ہو کر اپنے انجام کی فکر کریں اور عمر رواں کی فرصت محدود سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آخرت اور حقیقی زندگی کیلئے تیاری کرسکیں ‘ قبل اس سے کہ یہ فرصت ان کے ہاتھوں سے نکل جائے ‘ اور ان کو ہمیشہ کیلئے اس یاس و حسرت اور عذاب الیم میں مبتلا ہونا پڑے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ رہے ‘ والعیاذ باللہ العظیم ‘ مگر افسوس کہ اس سب کچھ کے باوجود انسان غفلت و لاپرواہی میں پڑا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے احوال پر مشتمل ان آیات کریمہ کے انزال کا مقصد تنبیہہ و تذکیر ہے تاکہ جو اس ابدی عذاب سے بچنا چاہیں وہ اس کے ظہور سے پہلے اس کا سامان کرلیں۔ اور ہدایت و گمراہی سے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نیک و بد اور خیر و شر سے آگاہ کردیتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کی مرضی کہ وہ ان دونوں میں سے جونسا راستہ چاہیں اختیار کریں۔ بالجبر منوانا اس کی سنت کے خلاف ہے۔ اور ارادئہ و اختیار کی آزادی ہی میں انسان کا اصل امتحان ہے۔ عام طور پر مفسرین کرام نے ہی کی ضمیر کا مرجع " سقر " کو قرار دیا ہے لیکن اس کا مرجع آیات منذرات کو قرار دینآ زیادہ بہتر ہے۔ اس لئے کہ " ذکری " یعنی تذکیر و یاددہانی کی حیثیت دراصل انہی آیات کو حاصل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayahs 74:32–3427 منکرین کے زعم باطل کی پرزور تردید : سو اس سے منکرین کے زعم باطل کی تردید پرزور طریقے سے اور پوری شدت کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی ایسا ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت دوزخ کوئی نہیں ‘ بلکہ سب لوگ یونہی مرکھپ کے ختم ہوجائیں گے، اور کوئی حساب کتاب نہیں ہونا وغیرہ ‘ یا یہ کہ یہ کلام یونہی کسی انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہے ‘ وغیرہ سو ایسا ہرگز نہیں بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ عالم آخرت قطعی طور پر حق و صدق ہے ‘ ہر کسی نے مرنے کے بعد اٹھنا ہے اور اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور پورا پورا بدلہ پانا ہے۔ اور یہ کلام کلام الٰہی اور سراسر حق و صدق اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے ‘ اور یہ کلام حق ترجمان لوگوں کو جس قیامت اور دوزخ اور ان کے احوال و اھوال سے آگاہ و خبردار کر رہا ہے ‘ اس سب کا وقوع و ظہور قطعی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ترتیب و تدریج ہے۔ سو آخرت کی وہ حقیقت کبری اپنے وقت پر بہرحال آکر اور ظاہر ہو کر رہے گی اپنے وقت سے پہلے وہ آئے گی نہیں اور اپنے وقت پر کسی بھی طرح ٹل نہیں سکے گی۔ اور قمر اور لیل اور سپیدئہ صبح کا طلوع اور ان کی باہمی ترتیب و تدریج سب اسی حقیقت کی نشانیاں اور اس کی دلیل ہیں۔ سو کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے یہ مظاہر اس خالق حکیم اور مالک مطلق کی قدرت و حکمت ‘ اس کی رحمت و عنایت ‘ اور اس کے پر حکمت نظام و ترتیب و تدریج کے واضح اور کھلے دلائل و شواہد ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ والحمد لہ سبحانہ تعالیٰ ۔
Ayah 74:3528 ہول دوزخ کی عظمت وہیبت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہ دوزخ بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے۔ پس جس طرح سورج چاند کے ان عظیم الشان کروں ‘ رات و دن کی آمدورفت کے ان حیرت انگیز حقائق و واقعات کو تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان کا مشاہدہ کرتے ہو ‘ اور تمہیں کوئی تعجب یا انکار نہیں ہوتا ‘ اسی طرح دوزخ کی اس عظیم الشان اور بےمثل حقیقت کبریٰ کو ماننے اور تسلیم کرنے میں بھی تم کو کوئی اچنبھا نہیں ہونا چاہیے جبکہ وہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ‘ اور مخبر صادق ﷺ نے اس کی قطعی اور تاکیدی خبر بھی دی ہے، اور عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے۔ نیز یہ کہ سقر عذاب اخرت کے سات بڑے اور ہولناک حقائق میں سے ایک ہے، یعنی جہنم لظی ‘ حطمۃ ‘ سعیر ‘ سقر ‘ جحیم ‘ اور ہاویہ (حازن وغیرہ) سو یہ کوئی ہنسی مذاق کی چیز نہیں بلکہ یہ قطعی اور عظیم الشان حقائق میں سے ایک ہے۔ سو دوزخ کی اس حقیقت کبری سے خبردار کرنے کیلئے یہ آیات منذرات اس کائنات کے عظیم الشان احوال و حوادث میں سے ہیں۔
Ayah 74:3629 پوری نوع بش کیلئے انذار کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان ڈراوا ہے پوری نوع بشر کیلئے تاکہ وہ خواب غفلت سے چونک کر اپنے انجام کی فکر کرے ‘ اور انسان کے اندر اگر سلامت روی اور طلب حق و ہدایت کا جوہر موجود ہو تو اس کیلئے اس کو ماننا اور تسلیم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ‘ بلکہ وہ اس کو اپنے ضمیر و باطن کی آواز اور اپنے گرد و پیش کی صدا سمجھے گا ‘ کہ قدرت نے اپنی اس کائنات کو بنآیا ہی ایسے پر حکمت طریقے سے ہے کہ اس کے ہر گوشے میں کسی نہ کسی شکل میں قیامت کی تذکیر و تنبیہہ اور اس کی ریہرسل کا سامان برابر ہوتا رہتا ہے۔ تاکہ انسان اپنے گردو پیش پر نظر ڈال کر اپنے دل کے اطمینان کا سامان کرسکے۔ اور جو بھی کوئی شک یا شبہ اس کو لاحق ہو اس کا ازالہ کرسکے۔ سو یہ کائنات پوری خداوند قدوس کی رحمت و عنایت سے بھرپور اور مملو و معمور ہے۔ لیکن مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان انہی ظواہر اور مظاہر میں ایسا الجھ اور پھنس کر رہ جاتا ہے کہ اصل حقیقت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ الا ماشاء اللہ تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی مرضیات پر ہی قائم اور گامزن رکھے۔ آمین۔
Ayah 74:3730 اصل مدارو انحصار انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر : سو ارشاد فرمایا گیا ہر اس شخص کیلئے جو آگے بڑھنا چاہے ایمان و اطاعت اختیار کرکے ‘ سو اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے لوگوں کو خبردار کردیا گیا اور اس کے انذار کیلئے ایسا کامل اور حکمتوں بھرا انتظام کردیا کہ اب کسی کیلئے یہ کہنے کی یا اس کا عذر اور بہانہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ اس کو اس کا پتہ نہیں تھا ‘ یا اس کو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ سو اب خیر میں آگے بڑھنا اور اپنی عقبی کو بنانے سنوارنے کا معاملہ اس کے اپنے ارادہ اور مرضی پر ہے۔ سو یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وقل الحق من ربکم ومن شاء فلیمون ومن شاء فلیکفر الایۃ " (الکہف :29) ۔ یعنی " یہ کہ حق بہرحال وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ پس اب جس کی مرضی ایمان لائے اور جس کی مرضی کفر کرے۔ اور پھر اس کے بعد کفر کرنے والوں کیلئے دوزخ کے ہولناک عذاب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بس اصل معاملہ اللہ کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ عظیم الشان ڈراوا ہے تم میں سے ہر اس شخص کیلئے جو آگے بڑھنا چاہے اور جو پیچھے رہنا چاہے۔ یعنی اپنے اختیار کردہ کفر و معصیت کے باعث ‘ والعیاذ باللہ ‘ سو جہاں تک اس ہولناک دن کے بارے میں خبردار کرنے کا تعلق ہے وہ کردیا گیا ‘ اور پوری طرح کردیا گیا اور ایسا کہ اب اس میں کسی طرح کے خفاء و غموض کا کوئی وجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے عظیم الشان رسول کو بھیج کر اور ان پر اتاری گئی اپنی کتاب عظیم کے ذریعے اتمام حجرت کردیا ‘ اب اس کے بعد رہ جاتا ہے سوال اس پیغام حق و ہدایت کو قبول یا رد کرنے کا تو یہ لوگوں کا اپنا کام، اور ان کے اپنے ارادہ و اختیار پر مبنی و موقوف ہے ‘ سو جو اپنی آخرت کی خبر چاہے گا وہ اس کو قبول کرکے آگے بڑھے گا، اور جس کی شامت آئی ہوگی وہ اعراض و استکبار کی روش اختیار کرے گا اور پیچھے ہٹے گا۔ والعیاذ باللہ العظٔم۔ سو اس سے یہ اہم حقیقت بھی واضح اور عیاں ہوجاتی ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ وہ اگر خیر میں آگے بڑھنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اسی کی توفیق ملے گی۔ اور جو پیچھے رہنا چاہے گا اس کو ادھر ہی چلتا کردیا جائے گا کہ اس کے یہاں جبر نہیں۔ بلکہ معاملہ بندے کے ارادئہ و اختیار پر ہے۔ بندہ جدھر جانا چاہے گا اس کے ساتھ " نولہ ما تولیٰ " کا معاملہ کیا جائے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ‘ و علیٰ مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayah 74:3831 ہر شخص اپنے اعمال سے بندھا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر کوئی اپنے کیے کے بدلے میں رہن ہوگا۔ سو جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز اس کا حق ادا کیے بغیر واغذار نہیں ہوسکتی اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے کئے کرائے کے پھندے سے نہیں نکل سکیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے قانون الٰحی کی ایک بڑی دفعہ کو واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح معلول اپنی علت کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے ‘ اسی طرح اس یوم حساب اور یوم جزا و سزا میں ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا اور فصل وتمیز کے اس یوم عظٔم میں اس کا عمل ہی اس کو چھڑا سکے گا، اور اس کا عمل ہی اس کی ہلاکت کا باعث ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اگر کوئی حسب و نسب ‘ اپنے خود ساختہ شرکاء اور مشرکانہ عقیدہ شفاعت کے بل بوتے پر اس دن کی آفتوں سے چھوٹنے اور بچ نکلنے کے زعم میں مبتلا ہے ‘ تو اس کو اپنے دماغ سے ایسے ہر خیال کو نکال دینا چاہئے اور یقیناً جان لینآ چاہیے کہ اس روز اس طرح کی کوئی بھی چیز اس کے کام نہیں آسکے گی۔ بلکہ انسان کو واسطہ و سابقہ اس کے اپنے عقیدہ و عمل ہی سے پیش آئے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔