74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة …المزمل… کی توام ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ نام بھی دونوں کے باکل ہم معنی ہیں۔ سابق سورة میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس ’ قول ثقیل ‘ کے تحمل کے لئے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس میں اس کا واضح الفاظ میں اظہار کردیا گیا ہے کہ آپ کمربستہ ہو کر لوگوں کو انداز کریں۔ مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہیں۔ دشمنوں کے معاملہ کو اللہ پر چھوڑیں اور اس امر کو ہمیشہ محلوظ رکھیں کہ آپ کا فریضہ اس قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو صرف یاد دہانی کردینا ہے ہر ایک کے دل میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے اس کو قبول وہی کریں گے جو سنت الہی کے مطابق اس کے قبول کرنے کے اہل ہوں گے۔ جو اس کے اہل نہیں ہیں وہ اس سے بیزاری رہیں گے خواہ ان کی ہدایت کے لئے آپ کتنے ہی جتن کریں۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کی کہ آپ کمربستہ ہو کر لوگوں کے انذار کے لئے اٹھیں۔ اپنے رب ہی عظمت وکبریائی کا اعلان کریں۔ اپنے دامن دل کو ہر قسم کے غبار سے پاک رکھیں۔ شرک کی ہر چھوت سے دور رہیں۔ اپنی جدوجہد برابر جاری رکھیں اور اپنے رب کی خاطر تمام مخالفتوں کے علی الرغم حق پر ڈٹے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی کو برومند کرے گا اور آپ کی دعوت پھلے پھولے گی۔ (17-11) لوگوں کو قیامت کے ہول سے اچھی طرح آگاہ کردیں کہ وہ دن کافروں کے لئے بڑا ہی سخت ہوگا، اس کو آسان چیز نہ خیال کریں جو اپنے مال و جاہ کے غرور میں مست اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ جو کچھ انہیں دنیا میں حاصل ہے آخرت ہوئی تو اس میں بھی انہیں حاصل رہے گا بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ پائیں گے، وہ اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ جکب اللہ نے ان کو پیدا کیا تو وہ اپنی مائوں کے پیٹ سے تنہا اس دنیا میں آئے۔ ما ال و جاہ میں سے کوئی چیز بھی ان کے ساتھ نہ تھی پھر اللہ نے انکو مال و اولاد سے نوازا اور ان کے لئے کامیابیوں کی گونا گون راہیں کھولیں لیکن وہ اپنے رب کے شکر گزار ہونے کے بجائے اس رعونت میں مبتلا ہوگئے کہ جو کچھ انہیں حاصل ہے وہ ان کا پیدائشی حق ہے جس طرح یہ یہاں حاصل ہے آخرت ہوئی تو اس سے بڑھ چڑھ کر وہاں حاصل ہوگا۔ حالانکہ ان کا یہ زعم بالکل باطل ہے۔ اس میں پمھنس کر وہ ہماری آیات کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تو یاد رکھیں کہ اس کی پاداش میں انہیں ایک بڑی ہی سخت چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔ (25-18) قریش کے ممتر دین نے قرآن اور اس کے انداز کی تکذیب کے لیے جو بہانا تراشا اور جس اشکبار کے ساتھ اس کا اظہار کیا اس کی تصویر اور ان کی بدبختی پر اظہار افسوس کہ انہوں نے قرآن کا بہت ہی غلط اندازہ کیا، وہ اس کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جادو بیانی کا کرشمہ اور اس کے انذار کو بالکل ناقابل التفات سمجھے حالانکہ اس کی ایک بات حقیقت ہے جو ان کے سامنے آئے گی۔ (31-26) اس دوزخ کی تصویر جس سے اٹکل کے تیر کے چلانے والوں کو سابقہ پیش آئے گا۔ ساتھ ہی ایک برسر موقع تنبیہ کہ یہ متکبرین چوکنہ ہمہ درانی کے زعم میں بھی مبتلا ہیں اس وجہ سے دوزخ کا جو حال ان کو سنایا گیا ہے اس کی بعض باتوں کو وہ مذاق کا ہدف بنا لیں گے، کہیں گے بھلا اس طرح کی باتیں بیان کرنے کا کیا فائدہ ؟ حالانکہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ خاص حکمت سے بیان فرما رہا ہے جس کے اندر صلاحیت اور علم کی طلب ہے وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے، رہے وہ جو جہل کے باوجود غرور ہمہ درانی میں مبتلا ہیں وہ ان کے سبب سے فتنہ میں مبتلا ہوں گے اور اپنی عاقبت برباد کریں گے۔ (48-32) قیامت کی ایک آفاقی دلیل اور اس کی تکذیب کرنے والوں کی جہالت پر اظہار تعجب کہ وہ اس کائنات کے اس سب سے بڑے حادثہ سے کس طرح پخت ہیں۔ قرآن لوگوں کو اس سے آگاہ کررہا ہے تاکہ جو اس کے لئے تیاری کرنی چاہیں وہ کرلیڈ اور جو منہ موڑنا چاہتے ہیں ان پر صحبت تمام ہوجائے کہ وہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دن ہر شخص اپنے اعمال کے عوض گرد ہوگا۔ اس کا عمل ہی اس کو چھڑائے گا اور عمل ہی جہنم میں لے جائے گا اس دن کسی بھی سعو و سفارش ذرا بھی کسی کو نفع نہ پہنچائے گی۔ اس دن کی کامیابی صرف اصحاب الممین کو حاصل ہوگی۔ وہ جنت میں براجمان ہوگئے اور وہیں سے بیٹھے بیٹھے وہ دوزخ والوں سے معلوم کریں گے کہ وہ دوزخ میں کیوں پڑے تو وہ ان کے جواب میں برملا اپنے ان جرائم کا اعتراف کریں گے جو ان کی اس بدانجامی کے سبب ہوئے۔ (52-49) قرآن سے بدکنے والوں کے حال پر تعجب ان کے بدکنے کے اصلی اباب کی طرف اشارہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ آپ ان لوگوں کی پروا نہ کریں۔ آپ کا کام صرف یاد دہانی ہے جو لوگ اس یاد دہانی سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے وہ اپنا حشر خود دیکھیں گے۔ اس سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جو سنت الہیٰ کے تحت اس کے سزا وار ہوں گے۔

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے چادر لپیٹے رکھنے والے !

’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے خطاب کی بلاغت: ’مُدَّثّر‘ اور ’مُزّمّل‘ دونوں کے معنی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک ہی ہیں۔ ’مُدَّثّر‘ ’دِثَارٌ‘ سے ہے جو اس چادر کے لیے آتا ہے جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔ چادر لپیٹے رکھنا، جیسا کہ ہم نے سابق سورہ میں واضح کیا، آدمی کی فکر مندی کی ایک علامت ہے۔ نبی ﷺ کو ابتدائے بعثت میں جو مشاہدات و تجربات ہوئے اول تو وہ خود ہی گراں بار کرنے والے تھے پھر جب آپ نے ان کا اظہار اپنے خاندان والوں کے سامنے کیا اور انھوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا تو آپ کی فکرمندی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ایسی حالت میں آپ زیادہ تر چادر لپیٹے ہوئے، لوگوں سے الگ تھلگ رہتے جس طرح ایک فکرمند انسان رہتا ہے۔ آپ کی اسی فکر و پریشانی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت پیار سے آپ کو ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ سے خطاب فرمایا تاکہ خطاب ہی سے آپ کو تسلی ہو جائے کہ رب کریم آپ کے حال سے اچھی طرح واقف ہے اور جب اس نے اس شفقت سے مخاطب فرمایا ہے تو وہ آپ کی پریشانی دور بھی فرمائے گا۔ چنانچہ سابق سورہ میں آپ کو ’مزّمّل‘ سے خطاب کر کے قیام لیل کی تاکید فرمائی گئی جس میں اس فکر و پریشانی کا علاج بھی تھا اور اس مہم کے لیے تیاری بھی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔

انذار عام کے لیے کھڑے ہونے کا حکم: ’قُمْ فَاَنْذِرْ‘۔ یہ اس مہم کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورہ میں ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) (ہم تم پر آگے ایک بھاری ذمہ داری ڈالنے والے ہیں) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی کمر بستہ ہو کر اٹھو اور پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنی قوم کو انذار کرو۔ مخالفت و مزاحمت، حالات کی نامساعدت اور ماحول کی اجنبیت کی پروا نہ کرو۔ جب تم ہمت کر کے اٹھ کھڑے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری راہ آسان کرے گا اور غیب سے تمہاری تائید کے اسباب فراہم ہوں گے۔ سابق سورہ میں یہ اشارہ ہم کر چکے ہیں کہ ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) سے اسی انذار عام کے حکم کی طرف اشارہ ہے جو یہاں دیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے ’قَوْلٌ ثَقِیْلٌ‘ سے خود وحی کو مراد لیا ہے لیکن وحی تو اس سے پہلے بھی نازل ہو چکی تھی تو یہ کہنے کے کیا معنی کہ ’ہم عنقریب تم پر ایک قول ثقیل نازل کریں گے!‘ البتہ انذار کا یہ حکم آپ کے لیے بلاشبہ ایک بہت ہی بھاری حکم تھا۔ مکہ اور طائف کے سرداروں کے کانوں میں توحید کی اذان دینا اور وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ آپ اللہ کے رسول ہو کر آئے ہیں، اگرا نھوں نے آپ کے انذار کی تکذیب کی تو اس کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے کوئی سہل کام نہیں تھا۔ اس بھاری ذمہ داری سے آپ کا ہراس محسوس کرنا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ ابتداءً آپ نے اپنے کام کو اپنے خاص خاندان والوں ہی تک محدود رکھا اور ان پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ صرف اپنے بعض مشاہدات و تجربات کا اظہار فرما کر ان کا ردعمل معلوم کرنا چاہا جو نہایت مخالفانہ صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ اس دور میں آپ پر نہایت شدید فکرمندی کی حالت طاری رہی۔ جس کی تصویر ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا تھا وہ ہونا تھا چنانچہ پہلے (سورۂ مزمل میں) آپ کو اس صورت حال کے مقابلہ کے لیے تیاری کی ہدایت ہوئی پھر اس سورہ میں کمر باندھ کر انذار عام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ہوا۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب ہی کی کبرپائی کی مساوی کر

توحید خالص کی منادی: یہ اس انذار کا پہلا حکم ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی و یکتائی کا اعلان۔ مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے وہ سب باطل، تم صرف اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کرو۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا لیکن دین کی بنیاد چونکہ اسی کلمہ پر ہے اس وجہ سے ہر نبی کو بے درنگ یہ اعلان کرنا پڑا۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے دامن کو پاک رکھ

لفظ ’ثیاب‘ کا مفہوم: لفظ ’ثِیَابٌ‘ جمع ہے ’ثَوْبٌ‘ کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ کلام عرب کے شواہد سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفہوم میں بھی آتا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امرء القیس کا مشہور شعر ہے: وان تک قد ساء تک منی خلیفۃ فسلی ثیابی من ثیابک تنسل ’’اگر میری حرکت تجھے بری ہی لگی ہے تو میرے دامن دل کو اپنے دامن دل سے جدا کر دے تو جدا ہو جائے گی۔‘‘ اس شعر میں شارحین نے ’ثیاب‘ کو دل ہی کے معنی میں لیا ہے اور یہ معنی اس صورت میں لیے جا سکتے ہیں جب اس کو بطریق استعارہ ’دامن دل‘ کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ امرء القیس ہی کا مصرعہ ہے: ثیاب بنی عوف طھاری نقیّۃ ’’بنی عوف کے دامن بالکل پاک صاف ہیں۔‘‘ لفظ ’ثیاب‘ کے اس مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ تم بالکل بے خوف ہو کر اپنے رب کی کبریائی اور وحدت کی منادی کرو۔ مخالفین خواہ کتنی خاک بازی کریں اور کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے دامن دل پر نجاست شرک کا کوئی چھینٹا نہ آنے دو۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں مشرکوں کو نجس اور شرک کو نجاست سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ہدایت آپ کو اس لیے فرمائی گئی کہ بعد کے مراحل میں قریش کے لیڈروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ آپ کی سب باتیں مان لیں گے بشرطیکہ آپ بھی ان کے معبودوں کا کوئی مقام تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کی یہ بات نہایت سختی سے رد فرما دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی آپ کو نہایت تاکید کے ساتھ یہی ہدایت ہوئی کہ توحید بنیاد دین ہے، اس باب میں آپ کوئی لچک ہرگز قبول نہ کریں: ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی کچھ نرم ہو جائیں) اور اسی مضمون کی ایک سے زیادہ آیتوں میں اس صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح کی ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ پیغمبرؐ کو خطاب کرکے مشرکین پر گویا یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ شرک ایک ایسی نجاست ہے جس کا کوئی چھینٹا بھی اللہ کا رسول اپنے دامن پر گوارا کرنے والا نہیں ہے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی کو چھوڑ

’رُجز‘ ’رِجز‘ اور ’رِجس‘ سب قریب المخرج اور تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا استعمال اس گندگی کے لیے ہوتا ہے جس کو دیکھ کر طبیعت میں ارتعاش اور گھن پیدا ہو۔ یوں تو اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہو سکتی ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر شرک کی گندگی کے لیے آیا ہے اور مقصود اسی مضمون کی تاکید ہے جو ’وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی اپنے دامن کو شرک کے چھینٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شرک کی ناپاکی سے دور رہو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ آپ جس طرح دور اسلام میں طاہر و مطہر رہے اسی طرح جاہلیت میں بھی شرک کے ہر شائبہ سے پاک رہے۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو منذر ان کے پاس آیا ہے اس کا موقف ان کے دین شرک کے معاملہ میں کیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے اس باب میں کن ہدایات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور اپنی سعی کو زیادہ خیال کرکے منقطع نہ کر۔

تالیف کلام کی ایک شکل اور اس کا حل: ’مَنٌّ‘ کے معنی جس طرح احسان کرنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کو کاٹ دینے کے بھی آتے ہیں۔ سورۂ قلم میں فرمایا ہے: ’وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ‘ (۳) (اور بے شک تمہارے لیے ایک کبھی نہ منقطع ہونے والا صلہ ہے) یعنی جس انذار و تبلیغ کی تمہیں ہدایت کی جا رہی ہے اس کو برابر جاری رکھنا۔ یہ خیال ترک کر کے کہ اب کافی انذار کیا جا چکا، مزید کی ضرورت نہیں رہی، اس عمل کو منقطع نہ کر بیٹھنا۔ تمہارے رب کی طرف سے جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر اس وقت تک قائم و دائم رہو جب تک رب ہی کی طرف سے اس باب میں کوئی اور ہدایت تمہیں نہ ملے۔ ’تَسْتَکْثِرُ‘ یہاں نہی کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو اس پر جزم آنا تھا۔ اگرچہ بعض قاریوں نے اس کو جزم کے ساتھ بھی پڑھا ہے لیکن متواتر قراءت صرف مصحف کی ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کو ضمّہ کے ساتھ ہی پڑھنا اَولیٰ ہے اور اسی کے مطابق اس کی تاویل بھی ہونی چاہیے۔ اس صورت میں یہ لفظ یا تو حال کے محل میں ہو گا یا اس کو مستقل جملہ کی حیثیت دینی پڑے گی۔ میرے نزدیک یہ حال کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ’اِسْتِکْثَارٌ‘ دو معنوں میں معروف ہے۔ ایک کسی چیز کو زیادہ کرنے اور زیادہ چاہنے کے معنی میں، دوسرے کسی چیز کو زیادہ سمجھ لینے یا زیادہ گمان کر لینے کے معنی میں۔ پہلے معنی کے لیے نظیر ’وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ‘ (الاعراف ۷: ۱۸۸) والی آیت میں ہے۔ دوسرے معنی کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے: ’استکثر الشئْ راٰہ کثیرًا او عدّہٗ کثیرا‘ (’استکثر الشئْ‘ کے معنی ہوں گے کسی چیز کو زیادہ خیال کیا یا شمار کیا) صاحب اقرب الموارد نے اسی معنی کو پہلے لیا ہے۔ میرے نزدیک آیت میں یہ اسی معنی میں آیا ہے۔ مطلب، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا، یہ ہو گا کہ انذار کا یہ فرض بغیر کسی وقفہ اور انقطاع کے برابر جاری رکھو، کبھی یہ گمان کر کے چھوڑ نہ بیٹھنا کہ کافی انذار ہوچکا، اب ضرورت نہیں رہی۔ یہ ہدایت اس لیے فرمائی گئی کہ رسول جس فرض انذار پر مامور ہوتا ہے اس کے متعلق سنت الٰہی جیسا کہ جگہ جگہ ہم ذکر کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اگر قوم اس کے انذار کی پروا نہیں کرتی تو ایک خاص مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو لازماً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ مہلت اتمام حجت کے لیے ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کو اس کے لیے کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے کام میں لگا رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس یہ ہدایت نہ آ جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب وہ قوم کو اس کی تقدیر کے حوالہ کر کے اس علاقے سے ہجرت کر جائے۔ اگر رسول بطور خود یہ گمان کر کے قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا تو اندیشہ ہے کہ حالات کا اندازہ کرنے میں اس سے اسی طرح کی غلطی صادر ہو جائے جس طرح کی غلطی حضرت یونس علیہ السلام سے صادر ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد ان کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔ نبی ﷺ کو اس قسم کی عجلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں یہ آگاہی دے دی کہ تم جس فرض پر مامور کیے جا رہے ہو اس میں برابر لگے رہنا، کبھی ازخود یہ سمجھ کر چھوڑ نہ بیٹھنا کہ اب وہ فرض کافی حد تک ادا ہو چکا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ تمہارے کرنے کا نہیں بلکہ ہمارے کرنے کا ہے: ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ‘ (القلم ۶۸: ۴۸) (پس صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور مچھلی والے کے مانند نہ بن جانا) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں آپ کو صبر و ثبات کی تعلیم دی گئی ہے اور یہاں بھی آگے والی آیت میں یہی مضمون آ رہا ہے۔ ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ تم کسی پر کوئی احسان اس خیال سے نہ کرنا کہ اس کا بدلہ اس سے زیادہ احسان کی صورت میں حاصل کرو، اگرچہ آیت کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے لیکن سوال کلام کے موقع و محل کا بھی ہے۔ آخر اس سیاق و سباق میں نبی ﷺ کو یہ نصیحت کرنے کا کیا موقع ہے! ہمارا خیال ہے کہ ان حضرات سے آیت کے دونوں لفظوں کے مفہوم معین کرنے میں مسامحت ہوئی۔ ہم نے ان کی وضاحت کر دی ہے جس سے آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو گیا ہے۔ اب اس پر مزید بحث کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

او اپنے رب کی راہ میں ثابت قدم رہ

اس کا مفہوم وہی ہے جو آیت ’وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا‘ (الطور ۵۲: ۴۸) (اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو، تم ہماری آنکھوں میں ہو) کا ہے۔ ’صَبْرٌ‘ کے ساتھ جب ’ل‘ آئے تو اس کے معنی صبر و استقامت کے ساتھ انتظار کرنے کے ہو جاتے ہیں۔ اوپر والی آیت میں حضورؐ کو جو ہدایت ہوئی ہے اسی سے متعلق یہ ہدایت بھی ہے کہ اپنے کام کو کافی سمجھ کر کسی مرحلہ میں چھوڑ نہ بیٹھنا بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ اس میں لگے رہنا اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرنا۔ اسی استقامت پر تمہاری کامیابی اور قوم پر اتمام حجت کا انحصار ہے۔
Ayahs 74:8–9

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پس جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ وقت نہایت کٹھن وقت ہوگا !

انذار کا اصل موضوع: یہ ذکر ہے انذار کے اصل موضوع کا جس سے غفلت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت سے قریش کی مخاصمت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کو نہ مانتے تھے نہ ماننا چاہتے تھے۔ وہ اول تو اس کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان سمجھتے تھے اور اگر کسی درجے میں مانتے تھے تو اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قیامت ہوئی تو جس طرح ان کو یہاں سب کچھ حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی حاصل ہو گا اور اگر خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا ان کے معبود اپنی سفارش سے انھیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ اس ہولناک دن سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دو کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن بڑا ہی کٹھن ہو گا۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہ ہوگا !

’عَلَی الْکَافِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ‘۔ یعنی انھوں نے اس کو بہت آسان سمجھ رکھا ہے لیکن کافروں کے لیے یہ دن آسان نہیں ہو گا۔ اوپر والی آیت میں مثبت پہلو سے کہنے کے بعد وہی بات منفی پہلو سے بھی فرما دی جس میں ان احمقوں پر نہایت بلیغ طنز بھی ہے جو اس کو ایک ناقابل اہتمام دن سمجھ کر نچنت بیٹھے تھے کہ جب وہ آئے گا تو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ وہ کوئی آسان دن نہیں ہو گا، بڑا ہی کٹھن دن ہو گا۔ اس کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے آج ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس نے آج نہیں کیا وہ ہمیشہ کے لیے پکڑا گیا اور اس طرح پکڑا گیا کہ اس کو کوئی بھی چھڑانے والا نہ بنے گا۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا

مکہ اور طائف کے لیڈروں کو تنبیہ: یہ مکہ اور طائف کے ان برخود غلط لیڈروں کو نہایت تیز و تند لہجہ میں تنبیہ ہے جو اپنی خوشحالی و رفاہیت کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت اور خدا کے منظور نظر ہونے کی دلیل سمجھتے اور یہ توقع رکھتے تھے کہ آخرت ہوئی تو ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں، جیسا کہ ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ بلکہ ان کو یہاں جو کچھ حاصل ہے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ ایسے سرپھروں کا معاملہ تم ہمارے اوپر چھوڑو۔ ہم ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ تم ان کی فکر میں زیادہ پریشانی نہ اٹھاؤ۔ ’ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘۔ یہ وہی اسلوب بیان ہے جو سابق سورہ میں بالکل اسی موقع و محل میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: ’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النَّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلاً‘ (المزمل ۷۳: ۱۱) وہاں اس اسلوب کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ ’خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ساتھ نہ اس کا مال و جاہ ہوتا ہے نہ اس کا لاؤ لشکر۔ یہ چیزیں ملتی ہیں تو خدا کی عنایت سے ملتی ہیں اور یہ اسی وقت تک ساتھ رہتی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ان کا حق یہ ہے کہ انسان ان کو پا کر اپنے رب کا زیادہ سے زیادہ شکرگزار بنے نہ کہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے کہ وہ خدا کا بڑا چہیتا ہے اور آخرت ہوئی تو وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ یہ مضمون دوسری جگہ اس طرح ادا ہوا ہے: ’وَلَقَدْ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ (الانعام ۶: ۹۴) (اور تم ہمارے پاس آئے تن تنہا جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا)۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس برخود غلط مغرور کو جو دنیا میں آیا تو اسی طرح جس طرح ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ سے تنہا آیا ہے لیکن ہم نے اس کو مال و جاہ عنایت کیا تو وہ اپنے کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا اور اب اس کو آخرت سے ڈرایا جا رہا ہے تو وہ اس رعونت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ آخرت میں اس سے بھی زیادہ کا حق دار ٹھہرے گا۔ اشارہ ایک خاص ذہنیت کی طرف نہ کہ خاص شخص کی طرف: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص شخص کی طرف اشارہ ہے یا مکہ اور طائف کے عام دولت مندوں کا ذہن بیان ہو رہا ہے؟ مفسرین نے اس سے قریش کے لیڈروں میں سے ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ذہن صرف ولید بن مغیرہ ہی کا نہیں بلکہ قریش کے تمام سرداروں اور دولت مندوں کا تھا اور قریش ہی کی کیا خصوصیت ہے آج بھی جن کو مال و جاہ حاصل ہو جاتا ہے ان کے اندر یہی خناس سما جاتا ہے۔ کوئی ایسا ہی باتوفیق ہوتا ہے جو اس فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سمجھنا تو صحیح نہیں ہے کہ یہ آیتیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں البتہ ان آیات میں جس ذہن اور جس کردار کی تصویر ہے اس کا ایک مصداق اس کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم مقدمۂ کتاب میں واضح کر چکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں کے بارے میں ہے تو اس سے ان کی مراد لازماً یہی نہیں ہوتی کہ خاص اسی کے بارے میں نازل ہوئی بلکہ بسا اوقات اس سے ان کا مقصود آیت کے ایک مصداق کی طرف اشارہ کر دینا ہوتا ہے۔ یہ مضمون صرف یہیں نہیں بیان ہوا ہے بلکہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے مقصود متمردین کی عام ذہنیت کی طرف اشارہ کرنا ہے نہ کہ کسی خاص شخص کی طرف۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں حرف ’مَنْ‘ استعمال ہوا ہے جو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے لیے ضمیریں بھی دونوں ہی طرح آ سکتی ہیں۔
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اس کو بخشا مال فراواں

’وَجَعَلْتُ لَہٗ مَالاً مَّمْدُوۡدًا‘۔ یعنی جب وہ دنیا میں آیا تو نہ مال کے ساتھ آیا نہ اولاد کے ساتھ بلکہ اسی طرح بے سر و سامان اور بے خدم و حشم آیا جس طرح دوسرے آتے ہیں۔ یہ اللہ کا اس کے اوپر احسان ہوا کہ اس نے اس کو پھیلا ہوا مال دیا۔ ’پھیلا ہوا مال‘ سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کے باغ ہیں، کہیں اس کے بنگلے اور کوٹھیاں ہیں، کہیں جانوروں کے گلّے اور ریوڑ ہیں، کہیں رقبے، تجارتی آڑھتیں اور دکانیں ہیں۔۔۔ اس زمانے کے سرمایہ دار ہر ملک کے بنکوں میں اپنے حساب کھولتے اور ہر ملک کی کمپنیوں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ان کو بھی اسی ذیل میں شمار کیجیے۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور بیٹے دیے حاضر باش

’وَبَنِیْنَ شُہُوۡدًا‘۔ مال کے ساتھ اللہ نے اس کو بیٹے بھی دیے جو ہر مجلس، ہر مقام اور ہر محاذ پر اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور اس کے پھیلے ہوئے کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹانے والے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قبائلی زندگی میں خاندانی عصبیت و جمعیت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مدافعت و مقابلہ کا تمام تر انحصار اس پر تھا۔ قوم و قبیلہ میں سرداری کا مقام اسی کو حاصل ہوتا جس کے بیٹے زیادہ اور کنبہ بڑا ہو اور بیٹے ایسی صلاحیت و قابلیت رکھنے والے ہوں کہ ہر ضرورت کے موقع پر باپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہو سکیں۔ لفظ ’شُہُوۡد‘ اسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کے لیے خوب راہ ہموار کی۔

’وَمَہَّدتُّ لَہُ تَمْہِیْدًا‘۔ یعنی اس طرح مال و اولاد دے کر اس کے لیے عزت و وقار اور امارت و سیادت کے حصول کے لیے اچھی طرح راہ ہموار کر دی۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ میں اس کے لئے اور زیادہ کر دوں گا

’ثُمَّ یَطْمَعُ أَنْ أَزِیْدَ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق تو یہ تھا کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار و فرماں بردار بندہ بنتا لیکن ہوا یہ کہ وہ نعمتیں پا کر اکڑنے اور اترانے والا بن گیا۔ جب اس کو ڈرایا جاتا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جو ناشکروں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہو گا تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر فی الواقع کوئی ایسا دن آیا تو اس دن وہ اس سے بھی زیادہ پائے گا جو اس کو یہاں حاصل ہے۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! وہ تمہاری آیتوں کا دشمن نکلا

برخود غلط مدعیوں کو جواب: یہ اس قسم کے برخود غلط لوگوں کے زعم باطل کی نہایت شدت کے ساتھ تردید ہے۔ فرمایا کہ ان کا یہ خواب ہرگز پورا ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ نے ان کو جو نعمتیں دیں نہ ان کے حق کی حیثیت سے دیں نہ ان کے حاصل ہونے میں ان کی تدبیر یا ان کے تدبر کو کوئی دخل ہے بلکہ محض اپنے فضل و کرم سے یہ امتحان کرنے کے لیے دیں کہ دیکھے وہ اپنے رب کے شکرگزار و فرماں بردار رہتے ہیں یا خودسر، مغرور اور خدا کے باغی اور زمین میں فساد برپا کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اس امتحان سے ثابت ہو گیا کہ وہ نعمتیں پا کر اللہ کی آیتوں کے دشمن بن گئے۔ ’اٰیات‘ سے مراد بحیثیت مجموعی قرآن اور خاص طور پر اس کی وہ آیتیں ہیں جو عذاب دنیا اور عذاب آخرت سے ڈرانے والی اور اس امر واقعی سے آگاہ کرنے والی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اس دنیا میں کوئی مصرف ہے اور نہ آخرت میں اس کے سوا کوئی مولیٰ و مرجع بنے گا۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا

نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی سزا: ’اِرْہَاقٌ‘ کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور ’صَعُوْدٌ‘ کسی ایسی چوٹی یا گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو۔ یہ سزا بیان ہوئی ہے اس انعام کی ناقدری کی جس کی طرف اوپر ’وَمَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمْہِیْدًا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ نعمتیں پا کر چونکہ وہ انہی کے پرستار بن کر رہ گئے اور اصل منعم کو بھول کر اپنے نفس ہی کی بندگی میں اس طرح لگ گئے کہ اس کی کسی خواہش کا بھی مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے اس وجہ سے ان کو آخرت میں ایک نہایت پرمشقت چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔ نیکی اور بدی کے مزاج کا فرق: یہاں نیکی اور بدی کی یہ فطرت پیش نظر رہے کہ ان دونوں کا امتیاز تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے لیکن ساتھ ہی اس امتحان میں بھی اس کو ڈال دیا کہ بدی کی لذتیں تو عاجل رکھی ہیں اور تلخیاں اس کی آخرت میں سامنے آئیں گی۔ برعکس اس کے نیکی کی مشکلیں نقد ہیں اور نفع اس کا نسیہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس میں قدم قدم پر اس کو نفس کی مزاحمت کے سبب سے چڑھائیاں چڑھنی اور گھاٹیاں پار کرنی پڑتی ہیں اور بدی کی راہ اختیار کرے تو اس کی لذت تو اس کو نقد نقد ملتی ہے اور اس کے انجام بد کا معاملہ اس کے نزدیک موہوم ہوتا ہے۔ اس کشش کے سبب سے اکثریت اسی راہ کو اختیار کر لیتی ہے۔ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ صرف وہی کرتے ہیں جن کے اندر صبر اور عزیمت ہو اور اس وصف کو پیدا کرنے کے لیے آدمی کو ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف حضرت مسیح علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں اور نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں‘۔ سورۂ بلد میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے: وَہَدَیْْنَاہُ النَّجْدَیْْنِ ۵ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۵ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ ۵ فَکُّ رَقَبَۃٍ ۵ أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۵ یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ ۵ أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ ۵ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ (البلد ۹۰: ۱۰-۱۷) ’’اور ہم نے انسان کو نیکی اور بدی دونوں کی راہیں سمجھا دیں۔ پس اس نے گھاٹی پار کرنے کا حوصلہ نہ کیا اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے! غلام کی گردن چھڑانا یا بھوک کے زمانے میں کسی قرابت مند یتیم یا کسی خاک نشین مسکین کو کھلانا۔ مزید برآں یہ کہ وہ بنے ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی تلقین کی۔‘‘ قرآن نے آخرت کی فوز و فلاح کا حق دار صرف انہی کو ٹھہرایا ہے جو دنیا میں نیکی کی راہ کے عقبات کو پار کرنے کا حوصلہ کریں گے۔ جو یہاں ان کو پار کرنے کی ہمت نہیں کریں گے ان کو دوزخ کے عقبات سے سابقہ پیش آئے گا جن کو پار کرنے پر وہ مجبور کیے جائیں گے لیکن وہ ان کو پار نہ کر سکیں گے۔
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا اور ایک بات بنائی۔

معاندین قرآن کے عناد کی تصویر: آیت ۱۶ میں یہ جو فرمایا ہے کہ ’وہ ہماری آیات کا شدید معاند ہے‘ یہ اسی عناد کی تصویر کھینچی گئی ہے اور غور سے دیکھیے کہ کیسی مکمل تصویر کھینچی گئی ہے۔ ’إِنَّہُ فَکَّرَ وَقَدَّرَ‘۔ یعنی جب قرآن اس کو سنایا گیا تو اس نے اپنا ردعمل فوری طور پر ظاہر کرنے کے بجائے کچھ دیر غور کرنے کا تکلف کیا تاکہ دیکھنے والوں پر یہ اثر پڑے کہ ان کا لیڈر مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اپنی رائے ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ’وَقَدَّرَ‘ یعنی غور کرنے کے بعد جو رائے اس کے ذہن میں آئی اس کو اس نے اپنے ذہن میں اچھی طرح تولا کہ وہ ایسی بات کہے جو دلوں میں اتر جائے اور ہر شخص پکار اٹھے کہ جو رائے ظاہر کی گئی ہے نہایت صائب ہے۔
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

پس ہلاک ہو کیسی بات بنائی !

’فَقُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ ۵ ثُمَّ قُتِلَ کَیْْفَ قَدَّرَ‘۔ لیکن وہ غارت ہو کہ اس نے قرآن کا کتنا غلط اندازہ کیا! اور پھر غارت ہو کہ اس نے کتنی بے ہودہ رائے قائم کی۔ رائے کے ذکر سے پہلے دو مرتبہ اس تاکید کے ساتھ اس پر لعنت سے مقصود اس کی رائے کی شناعت کا اظہار بھی ہے اور سننے والوں کو متنبہ کرنا بھی کہ جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تو وہ اسی طرح پاگلوں کی سی باتیں کرتا اور گہر کو پشیز ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے برابر کا مدبر کوئی دوسرا نہیں ہے۔
Ayah 74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر ہلاک ہو، کتنی غلط بات بنائی !

’ ثم نظر ثم عبس و بسرہ ثمہ ادبرداسکتر ‘ یہ اس کے اس متکبر از انداز کی تصویر ہے جو اس نے رائے ظاہر کرتے ہوئے اختیار کیا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے ایسی مکمل تصویر کھینچی ہے کہ اگر اس کے بعد اس کی رائے کا ذکر نہ بھی ہوتا جب بھی ایک ادا شناس نہایت آسانی سے سمجھ لیتا کہ یہ انداز کس رائے کی غمازی کررہا ہے۔ فرمایا کہ پہلے تو اس نے تفکر سے سراٹھا کر لوگوں کے چہروں کا جائزہ لیا تکہ ان کے موڈ کا اندازہ کرسکے کہ اس رائے کے اظہار کے لئے ساعت ساز گار ہے یا نہیں۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا تاکہ دیکھنے والوں کو اس کے اس انداز ہی سے پتہ چل جائے کہ اس غور و فکر کے بعد میں نے قرآن کے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ نہایت ہی مایوس کن ہے پھر وہ نہایت استکبار کے ساتھ پیٹھ پھیر کر وہاں سے کچھ بڑا بڑاتا ہوا چل کھڑا ہوا۔ ’ فقال ان ہذا الال سحر یو ثرہ ان ھذا الا تول البشر ‘ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ ادائوں اور حرکتوں ہی نے ساراواز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کردیے کہ وہ کیا زہراگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آہا ہے اور یہ وہمحص بشری کلام ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ اس کے بےمنل فصاحت و بلاغت اور اس کی بےپناہ تاثیر و تسخیہ کا انکار جب ان کے لیے ممکن نہیں رہا تو اس کہ خلاف انہوں نے یہ پروپگینڈا شروع کردیا کہ وہ جادو ہے تاکہ عوام کے دلوں پر اس کے الہامی و خدائی کلام ہونے کا رعب جو بیٹھتا جارہا تھا ات کا توڑ کریں۔ اس کو جادو کہہ کر وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اس کے اندر جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ آسمان سے اتر ہوا کلام ہے بلکہ یہ محض الفاظ و زبان کی جادوگری ہے اور یہ کوئی ایسی نادر چیز نہیں ہے جو پہلی مرتبہ ظہور میں آئی اور قرآن ہی کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ یہ پہلے سے چلی آرہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس ملک میں اس سے پہلے بھی ایسے خطیب و شاعر گزر چکے ہیں جن کے کلام میں یہ جادو موجود تھا لیکن ان کو نہ کسی نے خدا کا فرستادہ مانا نہ انہوں نے خود کوئی فرستادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ان کے کلام کو کسی نے کلام الہیٰ سمجھا تو اسی کلام کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کوئی خدائی ہونے کا درجہ دے دیا جائے ! ’ ان ھذا الا قول البشر ‘ یعنی یہ محض یہ بشری کلا ہے اس کے ساحرانہ اسلوب بیان کو جتنی اہمیت چاہو دو ہم کو اس سے انکار نہیں ہے لیکن اس کو آسمان پر چڑھانے کی کوشش نہ کرو۔
Ayahs 74:21–23

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے نظر دوڑائی۔

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔

’ثُمَّ نَظَرَ ۵ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ۵ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَکْبَرَ‘۔ یہ اس کے اس متکبرانہ انداز کی تصویر ہے جو اس نے رائے ظاہر کرتے ہوئے اختیار کیا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن نے ایسی مکمل تصویر کھینچی ہے کہ اگر اس کے بعد اس کی رائے کا ذکر نہ بھی ہوتا جب بھی ایک ادا شناس نہایت آسانی سے سمجھ لیتا کہ یہ انداز کس رائے کی غمازی کر رہا ہے۔ فرمایا کہ پہلے تو اس نے تفکر سے سر اٹھا کر لوگوں کے چہروں کا جائزہ لیا تاکہ ان کے موڈ کا اندازہ کر سکے کہ اس رائے کے اظہار کے لیے ساعت سازگار ہے یا نہیں۔ پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا تاکہ دیکھنے والوں کو اس کے اس انداز ہی سے پتا چل جائے کہ اس غور و فکر کے بعد اس نے قرآن کے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ نہایت ہی مایوس کن ہے۔ پھر وہ نہایت استکبار کے ساتھ پیٹھ پھیر کر وہاں سے کچھ بڑبڑاتا ہوا چل کھڑا ہوا۔
Ayahs 74:24–25

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پس بولا یہ تو محض ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے !

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو محض انسانی کلام ہے !

’فَقَالَ إِنْ ہٰذَا إِلَّا سِحْرٌ یُؤْثَرُ ۵ إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ اگرچہ اوپر کی تصویر و تمثیل کے بعد کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی بلکہ اداؤں اور حرکتوں ہی نے سارا راز کھول دیا تھا تاہم قرآن نے اس کے الفاظ بھی نقل کر دیے کہ وہ کیا زہر اگلتا ہوا نہایت استکبار کے ساتھ پیچھے مڑا۔ فرمایا کہ اس نے کہا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے اور یہ محض بشری کلام ہے۔ قرآن کو جادو کہنے کا ایک پہلو: قریش کے لیڈروں کی زبان سے قرآن کو جادو کہنے کی وجہ اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ اس کی بے مثل فصاحت و بلاغت اور اس کی بے پناہ تاثیر و تسخیر کا انکار جب ان کے لیے ممکن نہیں رہا تو اس کے خلاف انھوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ جادو ہے تاکہ عوام کے دلوں پر اس کے الہامی و خدائی کلام ہونے کا رعب جو بیٹھتا جا رہا تھا اس کا توڑ کریں۔ اس کو جادو کہہ کر وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اس کے اندر جو تاثیر و تسخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ آسمان سے اترا ہوا کلام ہے بلکہ یہ محض الفاظ و زبان کی جادوگری ہے اور یہ کوئی ایسی نادر چیز نہیں ہے جو پہلی مرتبہ ظہور میں آئی اور قرآن ہی کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ یہ پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس ملک میں اس سے پہلے بھی ایسے خطیب و شاعر گزر چکے ہیں جن کے کلام میں یہ جادو موجود تھا لیکن ان کو نہ کسی نے خدا کا فرستادہ مانا نہ انھوں نے خود کوئی فرستادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ان کے کلام کو کسی نے کلام الٰہی سمجھا تو اسی کلام کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کو خدائی ہونے کا درجہ دے دیا جائے! ’إِنْ ہٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘۔ یعنی یہ محض بشری کلام ہے۔ اس کے ساحرانہ اسلوب بیان کو جتنی اہمیت چاہو دو۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ہے لیکن اس کو آسمان پر چڑھانے کی کوشش نہ کرو۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں اس کو عنقریب دوزخ میں داخل کروں گا

متکبروں کا انجام: یہ انجام بیان ہوا ہے اس قسم کے متکبروں کا۔ فرمایا کہ ہم اس کو عنقریب دوزخ میں داخل کریں گے۔
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور کیا سمجھے کیا دوزخ کیا ہے !

’وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ‘۔ یہ اس دوزخ کی ہولناکی کا اظہار ہے کہ تم کیا سمجھے کہ دوزخ کیا ہے! یعنی کوئی اس کو معمولی چیز نہ سمجھے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ یہاں سے نہیں ہو سکتا۔ اس کو وہی جانیں گے جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ بدقسمت ہے وہ جو اس سے بے پروا ہو کر زندگی گزارے! اس طرح کا خطاب عام ہوتا ہے اس کو حضور ﷺ کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ ترس کھائے گی اور نہ چھوڑے گی

’لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ‘۔ ’اَبْقٰی عَلَیْہِ‘ کے معنی ہوتے ہیں اس نے اس پر ترس کھایا اور رحم کیا۔ یہاں اگرچہ صلہ مذکور نہیں ہے، اس کے اظہار کا موقع نہیں تھا، لیکن یہ فعل استعمال یہاں اسی معنی میں ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دوزخ ایسی ظالم چیز ہو گی نہ کسی پر ذرا ترس کھائے گی کہ اس کے عذاب میں کچھ تخفیف ہو جائے نہ کسی کو نظرانداز کرے گی کہ وہ اس سے بچ نکلے۔ یعنی نہ اس سے رحم کی کوئی امید نہ نظرانداز کیے جانے کی۔ وہ بالکل بے رحم بھی ہو گی اور پوری طرح چوکس بھی!
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

چمڑی کو جھلس دینے والی۔

’بَشَرٌ‘ جسم کی کھال کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کے شعلوں کی لپٹ کا یہ حال ہو گا کہ دور ہی سے مجرموں کی کھالوں کو جھلس دے گی۔ دوسرے مقام میں ’نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی‘ (المعارج ۷۰: ۱۶) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ جہنم کی شدت تمازت کے وہ اثرات بیان ہوئے ہیں جو مجرموں پر اصل مقام عذاب تک پہنچنے سے پہلے ہی پڑنے شروع ہو جائیں گے۔ مقصود یہ دکھانا ہے کہ جس عذاب کی ابتدا یہ ہو گی اس کی انتہا کا اندازہ کون کر سکتا ہے!
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے

آیت متشابہات سے متعلق ایک سوال کا جواب: فرمایا کہ اس کے اوپر انیس مامور ہوں گے۔ یہاں انیس کا معدود مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیت میں اشارہ موجود ہے کہ یہ فرشتے ہوں گے۔ یہاں ان کے ذکر میں ابہام سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کی مزاجی خصوصیات، ان کی شکلیں اور ان کی قوتیں بالکل اس ڈیوٹی سے مناسبت رکھنے والی ہوں گی جس پر وہ مامور ہوں گے۔ مجرم ان کو دیکھ کر ہی یہ اندازہ کر لیں گے کہ یہ کسی پر نہ رتی برابر ترس کھانے والے ہیں اور نہ ان کے چنگل سے چھوٹ سکنے کا کوئی امکان ہے۔ یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ دوزخ پر مامور فرشتوں کی تعداد انیس ہونے میں کیا حکمت ہے اور بالفرض ان کی تعداد انیس ہی ہے تو اس اہتمام سے اس کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا جواب آگے والی آیت میں خود قرآن نے دیا ہے لیکن اس جواب سے پہلے ایک ضروری تمہید ذہن نشین کر لیجیے۔ وہ یہ کہ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اس کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق و انفس میں موجود ہیں اور قرآن نے پوری وضاحت سے وہ بیان کر دیے ہیں۔ رہیں جنت و دوزخ کی تفصیلات تو ان کی نوعیت متشابہات کی ہے جن کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس نے ان کو تمثیلات و تشبیہات کے پیرایہ میں سمجھایا ہے جن سے ہم فی الجملہ ان کا تصور تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی اصل حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ اگر آدمی ان کی اصل حقیقت جاننے کے درپے ہو تو وہ فتنہ میں پڑ جاتا ہے اور اس سے کچھ کرنا تو درکنار وہ اس اصل حقیقت کا بھی منکر بن جاتا ہے جس کی بنیاد عقل و فطرت کے قطعی دلائل پر ہوتی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ایک عاقل کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے اس کو مانے اور یہ ایمان رکھے کہ ان کی اصل حقیقت اس دن واضح ہو گی جس دن یہ سامنے آئیں گی۔ اس نکتہ کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران میں یوں کی ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا.(آل عمران ۳: ۷) (وہی خدا ہے جس نے تم پر کتاب اتاری ہے جس میں (عقل و فطرت کے دلائل پر مبنی) محکم آیات ہیں جن کو اصل کتاب کی حیثیت حاصل ہے اور کچھ متشابہ آیات بھی ہیں (جن میں کوئی بات تمثیلی رنگ میں سمجھائی گئی ہے) تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ جوئی اور اس کی اصل حقیقت کی دریافت کے زعم میں اس کی متشابہات ہی کے درپے ہوتے ہیں حالانکہ اس کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ رہے وہ لوگ جن کے قدم علم میں خوب جمے ہوئے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ متشابہات بھی محکمات ہی کی طرح ہمارے رب ہی کے پاس سے نازل ہوئی ہیں۔) اس قسم کے کج رو ذہن کے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ قریش کے لیڈروں اور اہل کتاب کے مفسدین میں بھی ایسے لوگ موجود تھے اس وجہ سے قرآن نے جب انیس فرشتوں کا ذکر کیا تو برسر موقع تنبیہ بھی فرما دی (جو آگے آ رہی ہے) کہ اگرچہ فتنہ پسند طبیعتیں اس کو فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنائیں گی لیکن اللہ تعالیٰ اس قسم کے حقائق اس لیے بیان فرماتا ہے کہ اس سے ان لوگوں کے علم میں اضافہ ہو جو علم کے طالب ہیں، اور جن کے اندر فتنہ جوئی کا ذوق ہے اور ان کا کھوٹ ابھر کر سامنے آئے۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ پر نگراں تو فرشتوں ہی کو بنایا ہے اور ہم نے ان کی یہ تعداد نہیں بیان کی مگر اس لیے کہ یہ آزمائش بنے اور لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا تاکہ یقین حاصل کریں وہ جن کو کتاب عطا ہوئی اور اہل ایمان اس سے اپنے ایمان کو بڑھائیں اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور تاکہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ اور کفر کرنے والے کہیں کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ! اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور راہ یاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔ اور یہ ماجر امحص انسانوں کی یاد دہانی کے لئے ہے۔

متشابہات کے ذکر کی حکمت: یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت بہت بعد میں مدینہ کے دور میں نازل ہوئی سابق آیت سے حرف عطف کے ساتھ اس کا اتصال قرینہ ہے کہ یہ ساتھ ہی نازل ہوئی ہے۔ بعد میں نازل ہونے والی آیتیں، جو اپنے سابق حکم کے ساتھ ملائی گئی ہیں، ان کا انفصال ہر جگہ نمایاں ہے۔ سورۂ مزمل میں ’إِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ.....‘ (۲۰) والی آیت مدنی دور کی آیت ہے۔ چنانچہ سابق آیت سے اس کا انفصال نمایاں ہے۔ اس کو حرف ربط کے ذریعہ سے مربوط نہیں کیا لیکن یہاں یہ حرف عطف کے ذریعہ سے مربوط ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ آیت بھی ساتھ ہی نازل ہوئی اور مقصود اس سے نبی ﷺ کو مفسدین کے ذہن سے فی الجملہ آگاہ کر دینا ہے کہ جب تمہاری زبان سے وہ اس کی باتیں سنیں گے تو طرح طرح سے ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کریں گے لیکن تم ان کی یاوہ گوئیوں کی پروا نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ یہ باتیں اس لیے بیان فرماتا ہے کہ اس سے اہل ایمان کے علم میں اضافہ ہو اور جن کے اندر فتنہ جوئی کی بیماری ہے ان کا کھوٹ ابھر کر سامنے آ جائے۔ ’وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَۃً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے کارخانۂ قدرت کے تمام شعبوں پر فرشتوں ہی کو مامور فرمایا، جنوں اور شیاطین کو نہیں مامور کیا، اسی طرح دوزخ پر بھی اس نے فرشتوں ہی کو مامور کیا۔ کسی دوسری مخلوق کو نہیں کیا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی پیدا کی ہوئی پاکیزہ مخلوق ملائکہ ہی کے ذریعہ سے انجام پاتا ہے تاکہ کسی گوشے میں سرمو کوئی بات اس کے منشا کے خلاف نہ ہو۔ چنانچہ دوزخ کے جیل خانہ پر بھی اس نے فرشتوں ہی کو مامور فرمایا ہے۔ اس فقرے میں نہایت لطیف طریقہ سے ان فتنہ پردازوں کا جواب بھی دے دیا جو بات بنا سکتے تھے کہ یہ لو، جب مجرموں کے ساتھ فرشتے بھی دوزخ میں ہوں گے تو پھر کیا ڈر ہے، جس طرح وہ گزاریں گے ہم بھی گزار لیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی دل لگی کی باتیں وہ کرنی چاہیں تو کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ جیل پر مامور افسروں اور جیل کے قیدیوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اس کا پتہ ان کو اس وقت چلے گا جب دوزخ کے جیل اور اس پر مامور فرشتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبہ میں امتحان رکھے ہیں: ’وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘۔ یہ ان فرشتوں کی تعداد کے ذکر کی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس کے اظہار سے مقصود یہ ہے کہ ان کی تعداد کا مسئلہ قیامت کے منکروں کے لیے ایک آزمائش ہے اور اس کی آڑ لے کر وہ جو کچھ اس کے خلاف کہنا چاہیں کہہ لیں۔ یہ امر واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے میں امتحان رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے بروں کی مخفی برائیاں اور اچھوں کی مستور نیکیاں ظہور میں آتی ہیں۔ یہ امتحان نہ ہوں تو انسان کی مخفی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتیں نہ نیک اور بد کے درمیان امتیاز ہو سکے۔ چنانچہ جنت اور دوزخ کی تفصیلات کے ذیل میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی حقیقتوں کا ذکر فرمایا جو منکروں کے لیے فتنہ بن گئیں۔ مثلاً نبی ﷺ نے معراج کے جو مشاہدات بیان فرمائے یا دوزخ کے اندر قرآن نے زقّوم کا جو ذکر کیا تو مخالفین نے ان کو موضوع بحث بنا کر طرح طرح سے پیغمبر ﷺ کا بھی مذاق اڑایا اور جنت و دوزخ کا بھی۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کی طرف یوں اشارہ ہے: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤۡیَا الَّتِیْ أَرَیْْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوۡنَۃَ فِی القُرْآنِ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۰) ’’اور ہم نے جو رؤیا تم کو دکھائی تو اسی لیے دکھائی کہ وہ مخالفوں کے لیے آزمائش بنے۔ اسی طرح اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔‘‘ شیاطین جن و انس کو حق کے خلاف فتنے برپا کرنے کے اس طرح کے مواقع اللہ تعالیٰ جو دیتا ہے اس کی حکمت بھی قرآن میں جگہ جگہ واضح فرما دی گئی ہے۔ سورۂ حج میں فرمایا ہے: لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْْطَانُ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَالْقَاسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ ۵ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ أُوۡتُوا الْعِلْمَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِن رَّبِّکَ (الحج ۲۲: ۵۳-۵۴) ’’اللہ یہ موقع اس لیے دیتا ہے کہ شیاطین جو کچھ حق کے خلاف کہیں وہ ان لوگوں کے لیے فتنہ بنے جن کے دلوں میں روگ ہے یا جن کے دل سخت ہو چکے ہیں اور یہ ظالم بہت دور کے جھگڑے میں پڑ چکے ہیں اور تاکہ وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا ہے جان لیں کہ یہ جو قرآن نے بتایا ہے یہی حق ہے۔‘‘ سورۂ حج کی اس آیت کے تحت اس مسئلہ پر ہم تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔ وضاحت مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ اسی طرح یہاں بھی جب دوزخ کے فرشتوں کا ذکر انیس ۱۹ کی تحدید کے ساتھ فرمایا تو یہ آگاہی بھی دے دی کہ اگرچہ اشرار اس کو فتنہ کا ذریعہ بنائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق یہ امتحان ضروری ہے۔ اسی سے ان لوگوں کا کھوٹ ابھر کر سامنے آئے گا جن کے دلوں کے اندر خرابی ہے اور اسی سے ان لوگوں کے علم اور ایمان میں پختگی پیدا ہو گی جن کے اندر حق کی طلب اور حقیقت کی جستجو ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ متمردین قریش نے سنا کہ دوزخ پر کل انیس ہی فرشتے مامور ہوں گے تو انھوں نے مذاق اڑایا کہ اگر کل اتنے ہی ہوں گے تو پھر کوئی اندیشہ کی بات نہیں ہے ہم ان سے آسانی سے نمٹ لیں گے۔ بعض نے شیخی بگھاری کہ ان میں سے اتنے کے لیے تو یہ بندہ تنہا ہی کافی ہے، باقی رہے اتنے تو ان سے اے فلاں! تم نمٹ لینا۔ ’لِیَسْتَیْْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا إِیْمَانًا‘۔ ’ل‘ یہاں نتیجہ کے بیان کے لیے ہے۔ یعنی حق و باطل کی اس کشمکش کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ جو سچے اہل کتاب ہیں اس سے ان کا یقین محکم ہو گا اور جو ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں افزونی ہو گی۔ ’اُوْتُوا الْکِتٰبَ‘ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اچھے اہل کتاب مراد ہیں۔ اہل کتاب میں سے جو اپنی کتابوں پر واقعی ایمان رکھتے تھے ان کے لیے قرآن کی اس طرح کی باتوں کا مذاق اڑانے کی گنجائش نہیں تھی۔ خود ان کے صحیفوں میں اس طرح کی باتیں موجود تھیں۔ قرآن سے ان کو تائید مل گئی جس سے ان کا یقین محکم ہوا۔ یہی اہل کتاب ہیں جو بعد میں قرآن پر ایمان لائے۔ تقلیدی ایمان ضعیف ہوتا ہے: اہل ایمان کے ایمان میں افزونی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اس کے خلاف جو کچھ کہا جا سکتا ہے وہ ان کے آگے آ جاتا ہے اور وہ اچھی طرح پرکھ لیتے ہیں کہ مخالفین کی نکتہ چینیاں بالکل بے وزن ہیں۔ ضد کی صحیح شناخت اس کے ضد ہی سے ہوتی ہے۔ دونوں پہلوؤں کے سامنے آ جانے کے بعد آدمی جس پہلو کو اختیار کرتا ہے علی وجہ البصیرت اختیار کرتا ہے۔ اگر وہ ایمان کے پہلو کو اختیار کرتا ہے تو اس کا ایمان تقلیدی نہیں ہوتا بلکہ سمجھ بوجھ کر ہوتا ہے۔ اس کو وہ پورے جزم کے ساتھ اختیار کرتا ہے اور ہر آزمائش اس کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے۔ جن کا ایمان محض تقلیدی ہوتا ہے اس کی جڑ مضبوط نہیں ہوتی اس وجہ سے معمولی باد مخالف بھی بسا اوقات اس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ’وَلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ أُوۡتُوا الْکِتَابَ وَالْمُؤْمِنُوۡنَ‘۔ وہی بات منفی پہلو سے فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امتحان میں اس لیے ڈالتا ہے کہ جو سچے اہل کتاب ہیں وہ اور اہل ایمان شک کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں۔ گویا یہ شک کے حملوں سے محفوظ کر دینے کے لیے ایک پیشگی احتیاطی تدبیر ہے۔ اچھے اہل کتاب کی تعریف: یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ اہل ایمان کے پہلو بہ پہلو اچھے اہل کتاب کا بھی ذکر آیا ہے حالانکہ یہ سورہ، جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا، ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے جب کہ اہل کتاب سے براہ راست سابقہ پیش نہیں آیا تھا چنانچہ جن لوگوں نے اس آیت کو مدنی قرار دیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی انھوں نے بتائی ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اچھے اہل کتاب مسلمانوں ہی کے حکم میں تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان کا ذکر اہل ایمان کے ہراول دستہ کی حیثیت سے کیا تاکہ پہلے ہی سے ان پر واضح ہو جائے کہ اس نئی بعثت کے دور میں انھیں کیا رول ادا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ان کی کیا جگہ ہے، آگے انھیں کن حالات سے گزرنا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو محکم رکھنے کے لیے کیا تدبیریں اختیار فرما رہا ہے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے انھیں کس طرح بیدار رہنا چاہیے۔ حاسد یہود کا رویہ: ’وَلِیَقُوۡلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَالْکَافِرُوۡنَ مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً‘؛ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ حاسد یہود اور کٹر کفار پر ان متشابہات کا کیا اثر پڑے گا۔ ’اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمْ مَّرَضٌ‘ سے عام طور پر لوگوں نے منافقین کو مراد لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ لفظ ’مَرَضٌ‘ قرآن میں نفاق ہی کے لیے آیا ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ حسد اور کینہ کی تعبیر کے لیے بھی آیا ہے اور ایسے مواقع میں اس سے مراد یہود ہوا کرتے ہیں اس لیے کہ ان کو بنی اسمٰعیل پر بھی حسد تھا اور نبی ﷺ پر بھی اس حسد کی تفصیل سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اوپر اچھے اہل کتاب کا ذکر ہو چکا ہے۔ اب ان کے مقابل میں حاسد یہود کے رویہ کا ذکر آ رہا ہے اور ساتھ ہی ’اَلْکَافِرُوْنَ‘ کے لفظ سے کفار قریش کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ یہ دونوں گروہ ان متشابہات کے بارے میں ایک ہی روش اختیار کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ’مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً‘۔ ان کے اس قول کی وضاحت سورۂ بقرہ کی آیت ۲۶ کے تحت ہم کر چکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں سن کر وہ ناک بھوں چڑھائیں گے اور متکبرانہ انداز میں کہیں گے کہ بھلا اس طرح کی تمثیلات سے اللہ کی مراد کیا ہے! یعنی یہ باتیں لایعنی ہیں اور اللہ تعالیٰ لا یعنی باتیں نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی باتیں منسوب کر رہا ہے (العیاذ باللہ) وہ بھی لایعنی اور اس کا دعوائے رسالت محض افتراء ہے۔ ’کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللہُ مَنۡ یَشَاءُ وَیَہْدِیْ مَنۡ یَشَاءُ‘۔ یعنی اس طرح کی آزمائشوں اور امتحانوں میں ڈال کر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت نصیب کرتا ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی وضاحت جگہ جگہ ہم کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ جن کو وہ گمراہی کا مستحق پاتا ہے ان کو گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی سنت کے تحت ہدایت کے سزاوار ہوتے ہیں ان کو ہدایت بخشتا ہے۔ بالکل اسی سیاق و سباق میں سورۂ بقرہ میں یوں فرمایا گیا ہے: فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ وَأَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً یُضِلُّ بِہِ کَثِیْرًا وَیَہْدِیْ بِہِ کَثِیْرًا وَمَا یُضِلُّ بِہِ إِلاَّ الْفَاسِقِیْنَ (البقرہ ۲: ۲۶) ’’جو ایمان لائے وہ جانتے ہیں کہ یہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہیں گے کہ بھلا اس طرح کی تمثیل سے اللہ کی کیا مراد ہو سکتی ہے! اللہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اس سے گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہوتے ہیں۔‘‘ نکتہ چینوں کے غرور ہمہ دانی پر ضرب: ’وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ إِلَّا ہُوَ‘۔ یہ ان نکتہ چینوں کے غرور ہمہ دانی پر ضرب لگائی ہے کہ وہ اس زعم میں نہ رہیں کہ اس کائنات کے تمام بھیدوں کو وہ جانتے ہیں یا ان کے پاس اتنا علم اور اتنی عقل ہے کہ ان کو جان سکتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ زعم بالکل باطل ہے۔ تیرے رب کی فوجوں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی جانتا ہے کہ اس کی افواج کتنی ہیں، اس میں کس یونٹ کی صلاحیتیں کیا ہیں، کون سی رجمنٹ کن اسلحہ سے لیس ہے اور کون اور کتنے افسر کس محاذ پر مامور ہیں۔ نہ کوئی ان ساری باتوں کو جانتا ہے اور نہ جان سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رموز سلطنت میں سے جن بھیدوں سے آگاہ کر دے انسان کو چاہیے کہ ان کی قدر کرے اور ان کو اپنے خزانۂ علم میں بیش بہا اضافہ سمجھے۔ اس گھمنڈ میں نہ مبتلا ہو کہ خدا کی کائنات اتنی ہی ہے جتنی اس نے دیکھی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دور کے دانش فروشوں نے بھی قرآن کی جن باتوں پر شبہات وارد کیے ہیں یا جن کی من مانی تاویلیں کرنے کی کوشش کی ہے اسی غرور ہمہ دانی میں مبتلا ہو کر کی ہے۔ جو باتیں ان کو اپنی محدود عقل کی گرفت سے باہر محسوس ہوئیں ان کا یا تو انکار کر دیا، اگر انکار کی جرأت ہوئی، ورنہ ان کی کوئی ایسی تاویل کرنے کی کوشش کی جو انکار سے بھی کئی قدم آگے ہوئی۔ ’وَمَا ہِیَ إِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ‘۔ یہ مقصد بتایا ہے قیامت کے احوال پر مشتمل ان آیات کا۔ فرمایا کہ یہ انذار کرنے والی آیتیں ہم نے نکتہ چینی کے لیے نہیں نازل کی ہیں بلکہ لوگوں کی تذکیر و تنبیہ کے لیے نازل کی ہیں تاکہ جو اس ابدی عذاب سے بچنا چاہتے ہیں وہ اس کے ظہور سے پہلے پہلے تیاری کر لیں۔ اللہ نے یاددہانی سنا کر خطرے سے آگاہ کر دیا۔ اس سے فائدہ اٹھانا لوگوں کا اپنا کام ہے۔ جو فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کے پاس خدا کے آگے کوئی عذر نہیں ہو گا۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ نیک و بد سے لوگوں کو آگاہ کردیتا ہے۔ بالجبر ہدایت کی راہ پر چلا دینا اس کی سنت کے خلاف ہے۔ ’ہِیَ‘ کا مرجع عام مفسرین نے ’سقر‘ کو سمجھا ہے لیکن میرے نزدیک اس کا مرجع وہ آیات منذرات ہیں جن میں’سقر‘ کے احوال سنائے گئے ہیں۔ اس لیے کہ ’ذِکْرٰی‘ یعنی یاددہانی ہونے کی حیثیت درحقیقت ان آیات ہی کو حاصل ہے نہ کہ ’سقر‘ کو۔
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہرگز نہیں، شاہد ہے چاند

آفاق کی بعض نشانیوں کا حوالہ: یہ آفاق کی چند نشانیوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس قیامت اور دوزخ سے لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے وہ اس کائنات کے عظیم حوادث میں سے ہے اور اس کا ظہور قطعی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و ترتیب ہے۔ جب اس کا وقت آ جائے گا تو وہ ظاہر ہو جائے گی۔ اپنے وقت سے پہلے نہیں ظاہر ہو گی۔ اس کے ظہور میں تاخیر سے یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ ظاہر ہو گی ہی نہیں حماقت ہے۔ رات میں اگر کوئی صبح کے لیے جلدی کرے تو اس کی جلد بازی کے سبب سے صبح اپنے وقت سے پہلے نہیں آئے گی۔ یہی حال قیامت کا ہے۔ اس کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ٹھیک اسی وقت پر ظاہر ہو گی۔ ’کَلَّا وَالْقَمَرِ‘۔ آفاق کی نشانیوں میں سے پہلے چاند کی قسم کھائی ہے اور اس سے پہلے ’کَلَّا‘ کے ذریعے سے مخاطب کے زعم باطل کی پوری شدت سے تردید فرما دی ہے۔ قسم سے پہلے حرف نفی کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اس طرح کے مواقع میں متکلم گویا مخاطب کے خیال کی تردید میں اتنا توقف بھی نہیں کرنا چاہتا کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ شدت نفرت کے اظہار کے لیے اس کی تردید ہی سے کلام کا آغاز کرتا ہے اور پھر بقید قسم اپنی دلیل بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ اور اس نوع کی تمام قسمیں، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں، بطور شہادت یا بالفاظ دیگر اس دعوے کی دلیل کے طور پر کھائی گئی ہیں جو ان کے بعد مذکور ہوا ہے۔ یہاں مخاطب، جیسا کہ موقع و محل سے واضح ہے، مکذبین قیامت ہیں اور ان کا جو شبہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ قیامت آنی ہے تو آ کیوں نہیں جاتی۔ ان کے سامنے چاند کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح تم بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر ایک دن اس مقام تک پہنچو گے جہاں پہنچنے کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے اور اپنے رب کے عدل کامل کے ظہور کا مشاہدہ کرو گے۔ جس طرح چاند کے سفر کے لیے منزلیں مقرر ہیں: (’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں)۔ اسی طرح اس روز جزا و سزا کے لیے بھی منزلیں مقرر ہیں جن سے گزرے بغیر اس کا ظہور نہیں ہو گا۔ کائنات کے نظام میں ہر تغیر اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اسکیم کے مطابق آتا ہے۔ دوسروں کی طلب و تمنا اور ان کی عجلت یا تاخیر کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ دن آئے گا ضرور، اس کے آئے بغیر اس دنیا کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہو گا لیکن یہ اسی وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ کی تقویم میں اس کا مقررہ وقت، منٹ اور سیکنڈ کے فرق کے بغیر پورا ہو جائے گا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے چاند کے طلوع و غروب اور اس کے عروج و محاق سے دین کے مختلف حقائق پر استشہاد کیا ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے اور آگے کی سورتوں میں بھی بعض اہم چیزیں آئیں گی جن کی ہم ان شاء اللہ وضاحت کریں گے۔ یہاں اس کے تدریجی ارتقاء کا پہلو پیش نظر ہے اور مقصود قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں کو توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نشانی کے ظہور کے لیے ایک معین پروگرام ہے جس کی حکمتوں اور مصلحتوں کو وہی جانتا ہے۔ جو چیز اس کے عدل کا بدیہی مقتضیٰ ہے اس کا ظہور تو لازماً ہو گا لیکن ہو گا اپنے وقت پر۔ سورۂ انشقاق میں بھی چاند کی قسم وارد ہوئی ہے اور ہمارے نزدیک وہاں بھی اسی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا ہے: وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ ۵ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ (انشقاق ۸۴: ۱۸-۱۹) ’’شاہد ہے چاند جب کہ وہ کامل ہوتا ہے کہ تم بھی درجہ بدرجہ بڑھو گے۔‘‘ یعنی خدا کے مقرر کردہ روز جزاء و سزا کے لیے تمہاری حاضری تو لازمی ہے لیکن جس طرح چاند درجہ بدرجہ اپنے آخری نقطہ پر پہنچتا ہے اسی طرح یہ دن بھی اپنے مراحل طے کر کے ظہور میں آئے گا۔