74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 74:33–34

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات جبکہ وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح جب روشن ہوجائے

’وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ‘۔ چاند کے بعد یہ رات کی قسم کھائی ہے جب کہ وہ پیچھے مڑتی ہے اور صبح کی قسم کھائی ہے جب کہ وہ ہویدا ہوتی ہے، یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ صبح نمودار ہو جاتی ہے وہی حال قیامت کے ظہور کا بھی ہو گا۔ یہ دنیا رات کے مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے لیکن وقت آئے گا کہ یہ تاریکی کافور ہو گی اور قیامت اچانک نمودار ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ جو ہر روز رات کی تاریکی کے بعد دن کی روشنی دکھاتا ہے اور کسی کو بھی اس کائنات کے اس عظیم انقلاب پر تعجب نہیں ہوتا وہ جب چاہے گا قیامت کو بھی اسی طرح نمودار کر دے گا اور اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ جس چیز کو وہ ناممکن سمجھتے تھے وہ سامنے آ گئی۔ بالکل یہی قَسم، معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، انذار قیامت کی تائید ہی کے مقصد سے سورۂ تکویر میں یوں آئی ہے: وَاللَّیْْلِ إِذَا عَسْعَسَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (التکویر ۸۱: ۱۷-۱۸) ’’شاہد ہے رات جب کہ جانے لگتی ہے اور شاہد ہے صبح جب کہ وہ سانس لیتی ہے۔‘‘ اس کائنات کے ہر گوشے میں قیامت کی دلیل موجود ہے: اس تفسیر میں جگہ جگہ ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ اس کے ہر گوشے میں کسی نہ کسی شکل میں قیامت کا ریہرسل برابر ہوتا رہتا ہے تاکہ انسان کو اس کے باب میں جو شبہ بھی لاحق ہو اس کو دور کرنے کے لیے اسے اپنے گرد و پیش ہی سے کوئی ایسی مثال مل جائے جو اس کے دل کو مطمئن کر دے بشرطیکہ اس کے اندر سلامت روی اور حق کی طلب ہو۔
Ayahs 74:35–36

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ یہ ماجرا ان بڑے ماجروں میں سے ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

جو انسان کی تنبیہ کے لئے سنایا گیا ہے

یہ مذکورہ بالا قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی قرآن کی یہ آیات جو دوزخ کے ہول سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہیں بلکہ اس کائنات کے عظیم احوال و حوادث میں سے ہیں۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو ان سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ان کو اپنے مذاق کا موضوع بنائیں۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

ان کے لئے جو تم میں سے آگے بڑھا یا پیچھے ہٹنا چاہیں۔

دلیلوں سے فائدہ اٹھانا لوگوں کا اپنا کام ہے: یعنی اس ہولناک دن سے سابقہ پیش آنے سے پہلے لوگوں کو اس سے آگاہ کرنا ضروری تھا تاکہ جب یہ آئے تو کوئی یہ عذر نہ کر سکے کہ اس کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا ورنہ وہ اس کے لیے تیاری کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے ذریعہ سے اتمام حجت کر دیا۔ رہا اس کو رویا قبول کرنا تو یہ لوگوں کا اپنا کام ہے۔ جو اپنی عاقبت کی خیر چاہے گا وہ اس کو قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے گا اور جس کی شامت آئی ہوئی ہو گی وہ اعراض و استکبار کی روش اختیار کرے گا اور پیچھے ہٹ جائے گا۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گرو ہوگا۔

عمل ہی نجات دے گا، عمل ہی ہلاکت کرے گا: یعنی قانون الٰہی یہ ہے کہ جس طرح معلول اپنی علت کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ بندھا ہوا ہو گا۔ جزا و سزا کے دن اس کا عمل ہی اس کو چھڑائے گا اور عمل ہی اس کو ہلاک کرے گا۔ اگر کوئی حسب و نسب اور شرک و شفاعت کے بل پر اس دن کی آفتوں سے چھوٹنے کے زعم میں مبتلا ہے تو وہ یاد رکھے کہ اس طرح کی کوئی چیز اس کے کام آنے والی نہیں ہے۔
Ayahs 74:39–41

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

صرف داہنے والے اس سے مستثنٰی ہوں گے ،

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

وہ باغوں میں ہوں گے، پوچھ گچھ کررہے ہوں گے

عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 74:41 in the Quran reader

مجرموں کے باب میں سوال کریں گے

اصحاب الیمین: اس دن نجات و فلاح صرف اصحاب الیمین کو حاصل ہو گی۔ اصحاب الیمین کی تفصیل اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزاری اور جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ بے شک نہ صرف اپنی نیکیوں کا پورا پورا صلہ پائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے بھی ان کو نوازے گا۔ یہ لوگ بہشت کے باغوں میں ہوں گے اور وہاں آپس میں ان مجرموں کے انجام سے متعلق سوال و جواب کر رہے ہوں گے جن سے دنیا میں ان کو سابقہ رہا۔ اس سوال و جواب کی نوعیت سورۂ صافات کی مدرجہ ذیل آیات سے واضح ہوتی ہے اور اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپس میں سوال و جواب کرتے کرتے کس طرح وہ دوزخ میں پڑے ہوئے مجرمین کو بھی مخاطب کرنے اور ان کے دوزخ میں پڑنے کا سبب معلوم کرنے کا موقع نکال لیں گے۔ فرمایا ہے: فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَتَسَآءَ لُوۡنَ ۵ قَالَ قَائِلٌ مِّنْہُمْ إِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ ۵ یَقُوۡلُ أَئِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۵ ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَدِیْنُوۡنَ ۵ قَالَ ہَلْ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ۵ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ (الصافات ۳۷: ۵۰-۵۵) ’’پس اہل جنت ایک دوسرے کی طرف سوال و جواب کرتے ہوئے متوجہ ہوں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو! بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا جزا اور سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے! کہیں گے، بھلا جھانک کر دیکھو تو سہی! تو وہ جھانک کر دیکھے گا تو اس مجرم کو دوزخ کے بیچ میں دیکھے گا۔‘‘
Ayah 74:42

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ Open ayah 74:42 in the Quran reader

تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟

یعنی اہل جنت آپس میں مجرموں سے متعلق سوال و جواب کرتے کرتے اہل دوزخ کو مخاطب کر کے ان سے بھی پوچھ لیں گے کہ بتاؤ تمہیں دوزخ میں کیا چیز لے گئی!
Ayahs 74:43–44

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 74:43 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے

وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ Open ayah 74:44 in the Quran reader

اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے

اہل دوزخ کا اعتراف: اہل دوزخ ان کے جواب میں اعتراف کر لیں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمیں یہاں لانے والے بنے ہیں۔ قصور سارا ہمارا اپنا ہی ہے، کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ سب سے پہلے وہ اس جرم کا اعتراف کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ دین کے عقائد میں جس طرح توحید کو سب پر تقدم حاصل ہے اسی طرح اعمال میں نماز کو سب پر تقدم حاصل ہے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اسی عمل کی دعوت دی ہے اور اسی کے اہتمام اور اسی کے ترک پر دین کو منحصر بتایا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے عدم انفاق کا اعتراف کریں گے کہ وہ مسکینوں کو کھلانے کے روادار نہ تھے۔ اعمال میں نماز کے بعد دوسرا درجہ انفاق کا ہے اور انہی دونوں پر تمام اعمال صالحہ کی عمارت قائم ہے۔ ہم جگہ جگہ اس حقیقت کی وضاحت کر چکے ہیں کہ نماز بندے کا تعلق خالق سے استوار کرتی ہے اور زکوٰۃ (انفاق) اس کو خلق سے جوڑتی ہے اور انہی دو کی استواری ہی پر آدمی کے دین کی استواری کا انحصار ہے۔ اس کے بعد وہ اس امر کا اعتراف کریں گے کہ قیامت اور جزا و سزا کے باب میں جس طرح کی نکتہ چینیاں اور موشگافیاں دوسرے کرتے تھے اسی طرح کی موشگافیاں کرنے والوں میں وہ بھی رہے ہیں اور انہی موشگافیوں کی آڑ لے کر انھوں نے جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا یہاں تک کہ موت آ گئی اور اس نے ان تمام چیزوں کا یقین دلا دیا جن کے بارے میں وہ شکوک پیدا کرتے رہے تھے۔
Ayahs 74:45–46

وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ Open ayah 74:45 in the Quran reader

اور کٹ حجتیاں کرتے تھے

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ Open ayah 74:46 in the Quran reader

اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے

اس کے بعد وہ اس امر کا اعتراف کریں گے کہ قیامت اور جزا و سزا کے باب میں جس طرح کی نکتہ چینیاں اور موشگافیاں دوسرے کرتے تھے اسی طرح کی موشگافیاں کرنے والوں میں وہ بھی رہے ہیں اور انہی موشگافیوں کی آڑ لے کر انھوں نے جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا یہاں تک کہ موت آ گئی اور اس نے ان تمام چیزوں کا یقین دلا دیا جن کے بارے میں وہ شکوک پیدا کرتے رہے تھے۔ ’کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَائِضِیْنَ‘ سے اشارہ اس طرح کی باتوں کی طرف ہے جس کی ایک مثال دوزخ پر مامور فرشتوں کی تعداد کے بارے میں اوپر گزر چکی ہے۔ ’خوض فی الحدیث‘ کے معنی ہیں کسی بات میں مین میکھ نکالتے نکالتے کہیں سے کہیں جا نکلنا اور اس کو فتنہ اور حق سے انحراف کے لیے بہانہ بنا لینا۔
Ayah 74:47

حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ Open ayah 74:47 in the Quran reader

یہاں تک کہ یقین کی ساعت آگئی

’حَتّٰٓی أَتَانَا الْیَقِیْنُ‘۔ یقین کے اصل معنی تو یقین ہی کے ہیں لیکن چونکہ موت کے بعد تمام مابعد الموت حقائق آدمی پر روشن ہو جاتے ہیں اور وہ ان کے یقین پر مجبور ہو جاتا ہے اس وجہ سے موت کو بھی یقین سے تعبیر کرتے ہیں جس طرح ایک شے کے لازم سے خود اس شے کو تعبیر کر دیتے ہیں۔ یہاں مجرموں کے جو اعترافات نقل ہوئے ہیں وہ اس حقیقت کے اثبات کے لیے نقل ہوئے ہیں جو اوپر ’کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے تاکہ جو نادان اپنے خاندان اپنے حسب و نسب اور اپنے شرکاء و شفعاء کے بل پر جزا و سزا کا مذاق اڑا رہے تھے ان کے کان اور ان کی آنکھیں کھلیں اور ان پر یہ حقیقت خود ان کے ہم مشربوں کی زبان سے واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اعمال کے سوا کوئی چیز کام آنے والی نہیں ہے۔
Ayah 74:48

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ Open ayah 74:48 in the Quran reader

تو ان کو شفاعت کرنیوالوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔

مشرکین کی مزعومہ شفاعت کی نفی: یہ ان کے مزعومہ شفعاء اور ان کی مفروضہ شفاعت کی نفی فرمائی ہے کہ نہ وہاں ان کے مزعومہ شفعاء ہوں گے اور نہ ان کی شفاعت۔ یہاں کلام، عربیت کے اسلوب پر ہے جس کو ’نفی الشئ ینفی لازمہٖ‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ امراء القیس نے ایک صحرائی راستہ کی تعریف میں کہا ہے کہ ’لا یُھتدٰی بمنارہٖ‘ اس کے منارہ سے رہنمائی نہیں حاصل کی جاتی۔ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس میں منارے ہیں ہی نہیں کہ ان سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ مشرکین کو اپنے جن شفعاء پر ناز تھا ان کے متعلق قرآن نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ’إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَآءٌ سَمَّیْْتُمُوۡہَا أَنۡتُمْ وَآبَاؤُکُم مَّآ أَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطَانٍ إِنۡ یَتَّبِعُوۡنَ إِلَّا الظَّنَّ‘ (النجم ۵۳: ۲۳) (یہ تو محض فرضی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، ان کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں)۔
Ayah 74:49

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 74:49 in the Quran reader

ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یاد دہانی سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں !

اعراض کرنے والوں کے حال پر تعجب: یہ ان کے حال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے کہ ان کو تو اپنے رب کا شکرگزار ہونا تھا کہ اس نے جزا و سزا کے یوم موعود سے پہلے ان کی یاددہانی اور اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے ایک کتاب بھی نازل کر دی اور ایک رسول بھی بھیج دیا لیکن ان کا حال عجیب ہے کہ وہ اس یاددہانی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ ’مُعْرِضِیْنَ‘ ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ یہ اسلوب عربیت میں معروف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Ayahs 74:50–51

كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ Open ayah 74:50 in the Quran reader

گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ Open ayah 74:51 in the Quran reader

جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں

یہ ان کی وحشت زدگی کی مثال ہے۔ فرمایا کہ ان کا حال ان بدکے ہوئے گدھوں کا ہے جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ’قَسْوَرَۃٌ‘ شیر کو کہتے ہیں۔ گدھے اور گورخر وغیرہ شیر کی آواز سن کر بھاگے ہوں تو وہ بڑی مشکل سے قرار پکڑتے ہیں۔ کسی طرف سے ذرا بھی کھٹکا ہو تو وہ اس طرح بھاگتے ہیں گویا شیر ہی آ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ یہ اس یاددہانی سے ایسے سہمے ہوئے ہیں کہ اس کا ایک حرف بھی سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک حقیقت جب اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار پر بھی مطمئن نہ ہو اور اس کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال میں واضح فرمائی گئی ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہر وقت رہتی ہے کہ کسی طرف سے اس کے کانوں میں کوئی ایسی آواز نہ پڑنے پائے جو اس حقیقت کو یاد دلا دے۔
Ayah 74:52

بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ Open ayah 74:52 in the Quran reader

بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیے جائیں

اعراض کا بہانہ: یعنی اس یاددہانی سے فرار کے لیے انھوں نے یہ بہانہ بنایا ہے کہ اگر خدا کو کوئی کتاب ہی اتارنی تھی تو انہی (محمد ﷺ) پر یہ کیوں اتاری گئی! ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہمیں بھی کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیے جاتے! آخر اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا کیا دشوار تھا! یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقام میں یوں بیان ہوئی ہے: وَإِذَا جَآءَ تْہُمْ آیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا أُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ اَللّٰہُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ (الانعام ۶: ۱۲۴) ’’اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ ہمیں بھی اسی طرح نہ ملے جس طرح اللہ کے رسولوں کو ملی۔۔۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کن کو سرفراز کرے!‘‘
Ayah 74:53

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 74:53 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

اصل حقیقت: یعنی نہ ایسا ہونا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ ان کے گریز کی علت یہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کے وقوع کے متوقع نہیں ہیں۔ ’یَخَافُوْنَ‘ یہاں ’یَرْجُوْنَ‘ کے مفہوم میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ اس کے شواہد اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ آخرت سے نچنت ہیں اور ان کی دلی خواہش یہی ہے کہ اس سے نچنت ہی رہیں، اس کی فکر ان کے عیش کو مکدر کرنے نہ پائے تو ان کو کوئی نشانی بھی قائل نہیں کر سکتی۔ ان کی طلب کے مطابق ان کو کھلے صحیفے بھی پکڑا دیے جائیں جب بھی وہ کوئی نہ کوئی بت بنا ہی لیں گے۔
Ayahs 74:54–55

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 74:54 in the Quran reader

ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاد دہانی ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ Open ayah 74:55 in the Quran reader

تو جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے

نبی صلعم کے لیے تسلی: یہ ان ہٹ دھرموں سے اظہار بے نیازی اور نبی ﷺ کے لیے پیام تسلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے ضدیوں کی زیادہ نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک یاددہانی ہے جو انھیں کر دی گئی۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور سیدھی راہ اختیار کرے۔ اگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے، نہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے نہ رسول کا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ پکڑنے سے پہلے لوگوں کو یاددہانی کر دیتا ہے تاکہ اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے اور رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اس یاددہانی کو لوگوں تک پہنچا دے۔ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینا نہ رسول کی ذمہ داری ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ان لوگوں کے دلوں میں اپنی ہدایت اتارے جو اس سے بیزار ہیں۔
Ayah 74:56

وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ Open ayah 74:56 in the Quran reader

اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے وہی اہل تقویٰ اور وہی سزا دار مغفرت ہیں

ہدایت کے باب میں سنت الٰہی: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے اور جو اس کتاب میں جگہ جگہ زیربحث آ چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر اور فواد کی صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں، جو فطرت کے نور کی قدر کرتے ہیں، جو آفاق و انفس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں اور ہر اس بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے کان کھلے رکھتے ہیں جو معقول ہو اگرچہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے کتنے ہی خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ وہ انہی کو ہدایت بخشتا ہے جو ہدایت کی قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ جو اس کی قدر نہیں کرتے ان کو ہدایت دینا تو درکنار اللہ تعالیٰ ان کی وہ صلاحیت بھی سلب کر لیتا ہے جو فطرت کی راہ سے ان کو حاصل ہوئی ہوتی ہے۔ اس باب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشاد کا حوالہ ہم جگہ جگہ دے چکے ہیں۔ ’ہُوَ اَہْلُ التَّقْوٰی وَأَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ‘۔ مفسرین نے عام طور پر ’ہُوَ‘ کا مرجع ’اللّٰہ‘ کو قرار دیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ ہی تقویٰ کا سزاوار ہے اور مغفرت کا اہل ہے لیکن ہمارے نزدیک اس کا تعلق ’فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ‘ سے ہے۔ ’مَنْ‘ واحد، جمع دونوں کے لیے آتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیریں دونوں قسم کی استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ کون اس قرآن سے یاددہانی حاصل کرے گا اور اس کے صلہ میں اللہ کی مغفرت کا سزاوار ٹھہرے گا اور کون اس سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جن کے اندر خدا کا خوف ہو گا وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور وہ مغفرت کے اہل ٹھہریں گے۔ رہے وہ جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہیں وہ اس سے محروم ہی رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم رہیں گے تو خدا کی مغفرت سے بھی محروم رہیں گے۔ سورۂ بقرہ کے آغاز میں ’ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘ کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قرآن کا فیض کن لوگوں کو پہنچتا ہے اور کون لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔ اس سنت الٰہی کی تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ تقویٰ کے مختلف مدارج ہیں۔ انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو تقویٰ ودیعت فرمایا ہے اور جس کا ذکر ’فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۸) میں ہے، یہاں اسی تقویٰ کی طرف اشارہ ہے۔ آگے والی سورہ میں ان شاء اللہ اس فطری تقویٰ کی پوری وضاحت آپ کے سامنے آئے گی۔