74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 74:1–3

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور ہدایت کرو

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

(1۔ 3) محمد اٹھو اور کافروں کو ڈراؤ اور ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور بتوں کے پجاریوں کے سامنے اپنے پروردگار کی بڑائیاں بیان کرو۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

اور اپنے دل کو خیانت سے پاک صاف رکھیے یا یہ کہ اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے۔
Ayahs 74:5–7

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور ہو

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کیلئے صبر کرو

(5۔ 7) اور گناہوں سے علیحدہ رہیے اور ان کے قریب بھی نہ جایے اور دنیا میں کسی کو معمولی چیز اس غرض سے مت دو کہ اس سے زائد دے گا یا یہ کہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان مت کرو کہ اس سے زیادہ معاوضہ چاہو۔
Ayahs 74:8–10

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ جو مشکل کا دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگا۔

(8۔ 10) اور اپنے پروردگار کی اطاعت اور اس کی عبادت پر جمے رہو، سو جس وقت مردوں کو زندہ کرنے کے لیے صورت میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن کی ہیبت و عذاب کافروں کے لیے سخت ہوگا جس میں ان پر ذرا آسانی نہ ہوگی۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ (الخ) امام بخاری و مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے غار حرا میں ایک مہینہ تک اعتکاف کیا ہے جب میں اپنے اعتکاف کے دن پورا کرچکا تو میں وہاں سے آنے کے لیے نکلا تو مجھے آواز دی گئی تو میں نے اپنا سر اوپر کو اٹھایا دیکھتا کیا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس غار غرا میں آیا تھا، چناچہ میں لوٹا اور میں آکر کہنے لگا کہ مجھے کپڑا اوڑھاؤ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نے قریش کے لیے کھانا تیار کیا، چناچہ جب انہوں نے کھانا کھالیا تو وہ کہنے لگے کہ اس شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تو ان میں سے بعض کہنے لگے ساحر ہیں، اور بعض نے کہا ساحر نہیں ہیں، اور بعض کہنے لگے کاہن ہیں اور بعض نے کہا کاہن نہیں ہیں، اور بعض کہنے لگے شاعر ہیں اور بعض نے کہا شاعر نہیں ہیں اور بعض کہنے لگے یہ تو منقول جادو ہے اس چیز کی رسول اکرم کو اطلاع ہوئی تو آپ غمگین ہوئے اور اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چادر لپیٹ لی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ تک نازل فرمائی۔
Ayahs 74:11–13

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے

(11۔ 13) سو محمد مجھ کو اور اس شخص کو یعنی ولید بن مغیرہ مخزومی کو جس کو میں نے مال و اولاد اور بیوی سے اکیال پیدا کیا رہنے دو۔ اور پھر اس کے بعد اس کو کثرت سے مال دیتا رہا یہاں تک کہ اس کا مال نو ہزار مثقال چاندی ہوگیا اور پاس رہنے والے دس بیٹے دیے اور سب طرح کا سامان و مال اس کے لیے مہیا کردیا۔ شان نزول : ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا (الخ) حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور ولید بن مغیرہ حضور کی خدمت میں آیا اور آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا گویا کہ اس پر قرآن کریم کا اثر ہوا، ابو جہل کو اس چیز کی اطلاع ہوئی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا اے چچا تیری قوم چاہتی ہے کہ تیرے لیے مال جمع کردے، کیونکہ تو محمد کے پاس جو ہے اس کو لینے کے لیے جاتا ہے، ولید کہنے لگا قریش کو معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں، ابو جہل نے کہا تو اس کے بارے میں کوئی بات کہہ دو جس سے تمہاری قوم کو معلوم ہوجائے کہ تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے اور اسے برا سمجھتے ہو۔ ولید کہنے لگا میں کیا کہوں اللہ کی قسم تم میں کوئی مجھ سے زیادہ شعر جاننے والا نہیں اور نہ مجھ سے زیادہ اس کے رجز اور قصیدے اور اشعار جن سے واقف ہے اور اللہ کی قسم جو یہ کہتے ہیں اس کے کوئی چیز مشابہ نہیں، اللہ کی قسم ان کی باتوں میں مٹھاس ہے اور اس پر رونق ہے اور یہ اپنے اوپر کو روشن کرنے والے ہیں اور مشرق ان کے نیچے ہے اور یہ غالب آئیں گے مغلوب نہیں ہوں گے اور ان کے نیچے جو چیز ہے اس کو ریزہ ریزہ کردیں گے، ابو جہل یہ سن کر کہنے لگا کہ تیری قوم تجھ سے اس وقت تک راضی نہ ہوگی جب تک تو حضور کے بارے میں کچھ کہے۔ تو ولید کہنے لگا مجھے سوچنے کا موقع دو۔ چناچہ اس نے سوچا تو کہنے لگا یہ دوسروں سے منقول شدہ جادو ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، اس روایت کی سند بخاری کے مطابق صحیح ہے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ایک دوسرے طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayahs 74:14–17

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہم کہ اور زیادہ دے

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

پھر بھی ولید اپنے مال کی زیادتی کی ہوس رکھتا ہے حالانکہ وہ میری نافرمانی کرتا ہے ہرگز وہ زیادہ دینے کے قابل نہیں، چناچہ اس کے بعد اس کا مال برابر رہا کیونکہ وہ ہماری کتاب کا اور رسول کا دشمن اور اس کی تکفیر کرنے والا ہے، میں عنقریب اسے دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس وقت وہ اس پر ہاتھ رکھے گا تو وہ گھل جائے گا اور پھر اپنی سابقہ حالت پر آجائے گا یا یہ کہ وہ پہاڑ پیتل کا ہوگا اس کے سامنے سے اس کو کھینچے گا اور پیچھے سے مارے گا۔
Ayahs 74:18–19

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

(18۔ 19) اس ولید بن مغیرہ نے رسول اکرم کے بارے میں سوچا اور پھر ایک بات تجویز کی کہ آپ ساحر ہیں سو اس پر اللہ کی مار ہو کیسی بات تجویز کی۔
Ayahs 74:20–30

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر تامل کیا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کرینگے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس داروغہ ہیں

(20۔ 30) اور پھر مکرر اس پر خدا کی پھٹکار ہو کہ اس نے حضور کے بارے میں کیسی بات تجویز کی پھر اپنی تجویز کردہ بات کو دیکھا یا یہ کہ صحابہ کرام نے جب اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنا مونہہ بنا لیا اور پھر زیادہ مونہہ بگاڑا اور پھر صحابہ کرام سے مونہہ پھیر کر اپنے گھر کو چلا اور ایمان قبول کرنے سے تکبر کیا۔ پھر کہنے لگا کہ محمد جو کہتے ہیں یہ تو مسیلمہ کذاب سے منقول شدہ جادو ہے یا یہ کہ جبر و یسار سے، یہ تو صرف جبر و ویسار کا کلام ہے، میں آخرت میں ولید بن مغیرہ کو دوزخ کے چھوٹے دروازہ میں داخل کروں گا اور اے محمد آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے وہ انسان کے گوشت کو باقی نہیں رہنے دی اور جب دوسری مرتبہ پھر پیدا کردیا جائے گا تو وہ پھر بھی گوشت کھا جائے گا اور وہ جلا کر بدن کی حیثیت بگاڑ دے گا یا یہ کہ ان کی صورتوں کو سیاہ کردے گی، اور دوزخ پر انیس فرشتے جو اس کے خازن ہیں مقرر ہوں گے۔ شان نزول : عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ۔ وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً (الخ) ابن ابی حاطم نے اور بیہقی نے بعث میں حضرت براء سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک جماعت نے ایک صحابی سے دوزخ کے خازنوں کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے آکر رسول اکرم کو اطلاع دی تب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ ابو جہل ایک دن کہنے لگا اے گروہ قریش محمد گمان کرتے ہیں کہ اللہ کا وہ لشکر جو تمہیں دوزخ میں عذاب دے گا اس کی تعداد انیس ہے اور تم تعداد میں سب سے بڑھ کر ہو، کیا تمہارے سو آدمی ان کے ایک آدمی کو کفالت نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً۔ اور اسی طرح قتادہ سے روایت کی گئی ہے اور سدی سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت کہ دوزخ پر انیس فرشتے متعین ہیں نازل ہوئی تو قریش میں سے ایک شخص ابو الاشد نامی نے کہا کہ گروہ قریش تمہیں یہ انیس تعداد پریشان نہ کرے، میں تم سے ان کو ہٹاؤں گا، اپنے داہنے کندھے پر دس اور بائیں پر نو کو لاد لوں گا، اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل کی، وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصود کیا ہے ؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لیے نصحیت ہے

اور ہم نے دوزخیوں پر صرف فرشتوں ہی کو مقرر کیا ہے اور ہم نے جو دوزخ کے خازنوں کی تعداد صرف اس لیے کم رکھی ہے جو کفار مکہ کی آزمائش کا ذریعہ ہے یعنی ابو الااسد بن اسید بن کلدہ کی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میں سترہ فرشتوں کو کافی ہوں نو میری کمر پر ہوں گے اور آٹھ اپنے سینے پر لاد لوں گا اور دو کو تم سنبھال لینا تو یہ اس لیے مقرر کی ہے، تاکہ وہ لوگ یقین کرلیں جن کو توریت کا علم دیا گیا ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی کیونکہ ان کی کتاب میں دوزخ کے خازنوں کی یہی تعداد مذکور ہے اور یہ بات معلوم ہو کر کہ ہماری کتاب میں بھی وہی چیز ہے جو کہ توریت میں ہے ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جائے اور حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی جبکہ ان کی کتاب کے خلاف نہیں ہے اور مومنین بھی جبکہ یہ چیز توریت کے مخالف نہیں شک نہ کریں۔ تاکہ یہود و نصار سے یا یہ کہ کفار مکہ کہنے لگیں کہ خازنوں کی کم تعداد سے حق تعالیٰ کا کیا مقصد ہے اسی طرح اس عجیب مضمون سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جو ہدایت کا اہل ہوتا ہے اسے ہدایت عطا کرتا ہے اور فرشتوں کی تعداد سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا، اور دوزخ کا حال بیان کرنا صرف آدمیوں کی نصیحت کے لیے کافی ہے کہ ان کو اس سے ڈرایا جائے۔
Ayahs 74:32–38

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہو

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

(اور) بنی آدم کے لئے موجب خوف

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے

(32۔ 38) قسم ہے چاند کی اور رات کی جس وقت وہ جانے لگیں اور صبح کی جبکہ وہ آنے لگے یا یہ کہ روشن ہوجائے اور سقر دوزخ کے حصوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے، چناچہ جہنم، سقر، نطی، حظمہ، سعیر، جحیم، ہاویہ یہ سب دوزخ کے حصے ہیں جو ان کے لیے بڑا ڈراوا ہے۔ یا یہ کہ محمد انسانوں کو ڈرانے والے ہیں اب اس صورت میں اس جملہ کا تعلق صورت کے ابتدائی کلمات قم فانذر سے ہوجائے گا۔ یعنی تم میں جو چیز خیر کی طرف بڑھ کر ایمان لے آئے اس کے لیے بھی یا شر سے ہٹ کر اس کو چھوڑ دے اس کے لیے بھی، یا یہ کہ خیر سے ہٹ کر کفر اختیار کرے ہر کافر شخص اپنے اعمال کفر کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں محبوس ہوگا۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)

مگر جنتی وہ ایسے نہیں ہوں گے کیونکہ بہشتوں میں ہوں گے۔