74. Surah Al-Muddaththir
المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة المدثر سورة نمبر 74 کل رکوع 2 آیات 56 الفاظ و کلمات 256 حروف 1145 مقام نزول مکہ مکرمہ تمام معتبر اور مستند احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے سورة علق کی پانچ ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد ” فترۃ الوحی “ (وحی بند رہنے کا زمانہ) آیا۔ بہت دنوں تک وحی کا سلسلہ بند رہنے کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔ ” فترۃ الوحی “ کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ایک دن کسی جگہ سے گزر رہا تھا۔ مجھے آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔ میں نے نظریں اتھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ ( حضرت جبرئیل) جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا وہ زمین وآسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس کو دیکھ کر دہشت محسوس کرنے لگا۔ میں نے گھر پہنچ کر کہا ” مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو “۔ (حضرت خدیجہ (رض) نے) مجھ پر کمبل ڈال دیا۔ اس کے بعد ” یا یھا المدثر “ نازل لوئی اور اس کے بعد لگاتار مجھ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ (بخاری ، مسلم، مسند احمد) ۔ سورت المدثر کا دوسرا رکوع اس وقت نازل فرمایا گیا جب آپو نے کھلم کھلا دین اسلام کی طرف دعوت پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرتے ہی پورے مکہ میں ایک بھونچال آگیا ہر طرف کھلبلی اور شور مچ گیا۔ ہر محفل اور ہر مقام پر اسی کا چرچا شروع ہوگیا۔ حج کا زمانہ قریب تھا کہ کفار اس تصور سے سخت پریشان تھے کہ حج کرنے کے لئے تمام عرب کے لوگ بیت اللہ آئیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے قرآن کریم پڑھ کر ان کو اسلام لانے کی دعوت پیش کریں گے اور اس طرح پورے عرب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچ جائے گا۔ وہ سب مل کر سوچنے لگے کہ حج سے پہلے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں سے دور رکھنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ سوچا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر، کاہن یا دیوانہ مشہور کردیا جائے مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت کی عظمت سے ہر شخص اچھی طرح واقف تھا انہیں ڈر ہوا کہ لوگ ہمارا ہی مذاق اڑائیں گے۔ ولید ابن مغیرہ جو قریشی سردار اور مال دار شخص تھا۔ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر مشہور کردیا جائے۔ یعنی وہ ایک ایسا کلام پیش کررہے ہیں جو آدمی کو اس کے ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچوں اور سارے خاندان سے جدا کردیتا ہے۔ اس تجویز پر سب نے اتفاق کرتے ہوئے طے کیا کہ مختلف گروہ بنا کر حج پر آنے والے حجاج کو پہلے ہی بتادی اجائے کہ اگر تم اپنے گھر بار اور خاندان کی سلامتی چاہتے ہو تو ان سے دور ہی رہنا۔ اس طرح لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خوف زدہ ہو کر آپ کے قریب نہ آئیں گے۔ چناچہ حج کے دن آتے ہی کفار قریش نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کردیا لیکن وہ کفار اس بات پر غور نہ کرسکے کہ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو ان لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جہاں مختصر وقت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کی دعوت لے کر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ چناچہ کفار قریش کے شدید پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں میں یہ اشتیاق پیدا ہوگیا کہ ہم بھی تو دیکھیں آخر یہ ہیں کون ؟ اور کیا کلام پیش کر رہے ہیں ؟ جو بھی قریب آتا اور قرآن کری کو سنتا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے سے متاثر ہوتا لیکن کفار قریش کی ان حرکتوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید رنج پہنچتا اور آپ چادر اوڑھ کر لیٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے چادر یا کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے ہمارے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اٹھیے اور اللہ کے بندوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیے اور اللہ کی بڑائی اور عظمت کا اعلان کر دیجئے۔ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظاہر و باطن پاک ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہترین اخلاق اور معاملات ہیں اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کو بھی پاکیزہ بنا دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح بتوں کی گندگی سے دور رہے ہیں اوروں کو بھی عقائد، خیالات، اخلاق اور اعمال کی گندگی سے دور رکھنے کی جدوجہد کیجئے اور جس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بہتر یا احسان کا معاملہ کریں اس میں اس سے کسی زیادہ بہتر معاملے کی توقع نہ رکھیے اور یہ راحق و صدات ہے اس میں شدید تکلیفیں اور مصیبیتن آئیں گی آپو ان تکالیف و مصائب پر صبر کیجئے۔ فرمایا کہ جب صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت قائم ہوگی تو وہ دن ان کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا ہلکا نہ ہوگا۔ ولید ابن مغیرہ جو آپ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا اس کا نام لیے بغیر فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ دین میں اپنا وقت لگائیے اور وہ جسے میں نے تنہا پیدا کیا تھا (یعنی وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا) پھر اس کو بہت سا مال و دولت دیا اس کو ایسے بیٹے دیے جو اس کی شان اور عزت بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ فرمایا کہ اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے میں خود اس سے نبٹ لوں گا۔ فرمایا کہ وہ کون سی دولت تھی جو ہم نے اس شخص کو نہ دی تھی مگر اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے رسول دشمنی کی حد کردی۔ اس کی ہوس اور نافرمانیوں کو اللہ دیکھ رہا ہے مگر وہ مزید نعمتوں کا طلب گار بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تو اس کا بدترین انجا ہی ہونے والا ہے جب میں اس کو بہت جلد (جہنم کے ٹیلوں پر) ایک کٹھن چڑھائی چڑھاؤں گا۔ اس کا تکبر اور غرور اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو ایک ایسا جادو کہتا ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ کبھی کہتا ہے یہ تو کوئی انسانی کلام ہے۔ فرمایا کہ اس کا انجام ایک ایسی جہنم ہوگا جو اس کی کھال تک کو جھلس کر رکھ دے گی اور کسی چیز کو باقی نہ چھوڑے گی۔ وہ جہنم جس پر ایک فرشتہ ہی عذاب دینے کے لئے کافی تھا مگر ہم نے اس پر انیس فرشتے مقرر کردئیے ہیں۔ فرمایا کہ جو اہل کتاب ہیں وہ تو اس بات کو سن کر اور سمجھ کر یقین کرلیں گے لیکن جو لوگ علم کتاب سے دور ہیں (یعنی کفار و مشرکین) وہ یہ کہتے رہ جائیں گے کہ یہ انیس کا عدد کیا ہے ؟ فرمایا کہ اللہ کے فرشتے کتنے ہیں اور اللہ کے اس لشکر کی تعداد کتنی ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ فرمایا کہ چاند کی قسم جو گھٹتا، بڑھتا اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اس رات کی قسم جو پلٹنے اور رخصت ہونے لگتی ہے اور اس صبح کی قسم جب اس کا نور ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ جہنم بڑی خبروں میں سے ایک خبر ہے جو ایک ڈرنے کی چیز ہے۔ جو چاہے اس کی طرف بڑھے اور جو چاہے اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہے۔ فرمایا کہ اہل جنت قیامت کے دن جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کون سے اعمال جہنم میں لانے کا سبب بنے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھتے تھے، نہ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم حق کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے تھے۔ جب تک موت نہیں آگئی ہم قیامت کو جھٹلاتے ہی رہے۔ اللہ نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا ہے یہ نصیحت سے اس طرح کیوں بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگی گدھے شیر کے خوف سے ڈر کر بھاگتے ہیں۔ اس کو وجہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ دراصل یہ لوگ آخرت کا خوف نہیں رکھتے ورنہ ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے، جس کا دل چاہے اس سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے اگر وہ چاہے گا تو ہر شخص عبرت حاصل کرے گا ورنہ بےتوفیق ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی اس کا حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی ایسے لوگوں کو بخشنے والا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader
اے چادر لپٹ کر (بیٹھنے والے)
قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader
کھڑے ہوجایے اور (لوگوں کو اللہ کے خوف سے) ڈرائیے۔
وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader
اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے
وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader
اور اپنے کپڑوں کو پاک و صاف رکھئے
وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader
اور ہر طرح کی گندگی سے دور رہیے۔
وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader
کسی پر زیاہ بدلہ چاہنے کے لئے احسان نہ جتائیے۔ ا
وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader
ور اپنے رب کے لئے صبر کیجئے۔
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader
پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی
فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader
تو وہ ایک سخت دن ہوگا
عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader
اور کافروں کے لئے تو ذرا بھی آسان نہ ہوگا۔
ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader
مجھے اور جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے اسے مجھ پر چھوڑیے۔
وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader
میں نے اس کو بہت زیادہ مال دیا
وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader
اور وہ بیٹے دئیے جو سامنے ہیں
وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader
اور اس کو ہر طرح کا سامان (زندگی) دیا
ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader
جس کو وہ اور زیادہ کرنے کی ہوس میں مبتلا ہے۔
كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader
ہرگز نہیں۔ وہ ہماری آیتوں کا دشمن ہے۔
سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader
بہت جلد میں اس کو سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader
اس نے سوچا پھر اندازہ کیا
فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader
پھر وہ تباہ ہوجائے کہ اس نے کیسا اندازہ کیا۔
ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader
پھر وہ تباہ ہوجائے کہ اس نے کیسا اندازہ کیا۔
ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader
پھر اس نے کچھ سوچا،
ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader
پھر منہ پھیرا، تیوری چرھائی،
ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader
پھر پیٹھ پھیری اور غرور وتکبر اختیار کیا۔
فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader
پھر کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو (پہلوں سے) نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader
یہ تو کسی انسان ( کا گھڑا ہوا) کلام ہے۔
سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا) میں بہت جلد اس کو جہنم میں داخل کروں گا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader
اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ جہنم کیا ہے ؟ (جہنم وہ ہے)
لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader
جو نہ تو کسی کو باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader
کھال کو جھلس کر کالا کردینے والی ہے۔
عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader
جس پر انیس ( فرشتے) مقرر ہیں
وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader
اور ہم نے جہنم میں کام کرنے کے لئے فرشتوں کے سوا کسی کو نہیں بنایا۔ اور ہم نے ان کی تعداد کافروں کے لئے آزمائش بنائی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایمان والے اپنے ایمان کو اور مضبوط کرلیں ۔ اور اہل کتاب ( یہودو نصاریٰ ) اور مومن اس تعداد میں شک نہ کریں تاکہ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور (اسی طرح وہ لوگ) جو کافر ہیں یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ اللہ نے اس سے کیا چاہا ہوگا ؟ اس طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور اللہ کے سوا لشکر کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور یہ انسان کی (ہدایت و) نصیحت کے لئے بیان کیا گیا ہے۔