74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المدثر سورة نمبر 74 کل رکوع 2 آیات 56 الفاظ و کلمات 256 حروف 1145 مقام نزول مکہ مکرمہ تمام معتبر اور مستند احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے سورة علق کی پانچ ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد ” فترۃ الوحی “ (وحی بند رہنے کا زمانہ) آیا۔ بہت دنوں تک وحی کا سلسلہ بند رہنے کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔ ” فترۃ الوحی “ کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ایک دن کسی جگہ سے گزر رہا تھا۔ مجھے آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔ میں نے نظریں اتھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ ( حضرت جبرئیل) جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا وہ زمین وآسمان کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ میں اس کو دیکھ کر دہشت محسوس کرنے لگا۔ میں نے گھر پہنچ کر کہا ” مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو “۔ (حضرت خدیجہ (رض) نے) مجھ پر کمبل ڈال دیا۔ اس کے بعد ” یا یھا المدثر “ نازل لوئی اور اس کے بعد لگاتار مجھ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ (بخاری ، مسلم، مسند احمد) ۔ سورت المدثر کا دوسرا رکوع اس وقت نازل فرمایا گیا جب آپو نے کھلم کھلا دین اسلام کی طرف دعوت پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرتے ہی پورے مکہ میں ایک بھونچال آگیا ہر طرف کھلبلی اور شور مچ گیا۔ ہر محفل اور ہر مقام پر اسی کا چرچا شروع ہوگیا۔ حج کا زمانہ قریب تھا کہ کفار اس تصور سے سخت پریشان تھے کہ حج کرنے کے لئے تمام عرب کے لوگ بیت اللہ آئیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے قرآن کریم پڑھ کر ان کو اسلام لانے کی دعوت پیش کریں گے اور اس طرح پورے عرب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچ جائے گا۔ وہ سب مل کر سوچنے لگے کہ حج سے پہلے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں سے دور رکھنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ سوچا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر، کاہن یا دیوانہ مشہور کردیا جائے مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت کی عظمت سے ہر شخص اچھی طرح واقف تھا انہیں ڈر ہوا کہ لوگ ہمارا ہی مذاق اڑائیں گے۔ ولید ابن مغیرہ جو قریشی سردار اور مال دار شخص تھا۔ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر مشہور کردیا جائے۔ یعنی وہ ایک ایسا کلام پیش کررہے ہیں جو آدمی کو اس کے ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچوں اور سارے خاندان سے جدا کردیتا ہے۔ اس تجویز پر سب نے اتفاق کرتے ہوئے طے کیا کہ مختلف گروہ بنا کر حج پر آنے والے حجاج کو پہلے ہی بتادی اجائے کہ اگر تم اپنے گھر بار اور خاندان کی سلامتی چاہتے ہو تو ان سے دور ہی رہنا۔ اس طرح لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خوف زدہ ہو کر آپ کے قریب نہ آئیں گے۔ چناچہ حج کے دن آتے ہی کفار قریش نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کردیا لیکن وہ کفار اس بات پر غور نہ کرسکے کہ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو ان لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جہاں مختصر وقت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کی دعوت لے کر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ چناچہ کفار قریش کے شدید پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں میں یہ اشتیاق پیدا ہوگیا کہ ہم بھی تو دیکھیں آخر یہ ہیں کون ؟ اور کیا کلام پیش کر رہے ہیں ؟ جو بھی قریب آتا اور قرآن کری کو سنتا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے سے متاثر ہوتا لیکن کفار قریش کی ان حرکتوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید رنج پہنچتا اور آپ چادر اوڑھ کر لیٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے چادر یا کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے ہمارے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اٹھیے اور اللہ کے بندوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیے اور اللہ کی بڑائی اور عظمت کا اعلان کر دیجئے۔ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظاہر و باطن پاک ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہترین اخلاق اور معاملات ہیں اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کو بھی پاکیزہ بنا دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح بتوں کی گندگی سے دور رہے ہیں اوروں کو بھی عقائد، خیالات، اخلاق اور اعمال کی گندگی سے دور رکھنے کی جدوجہد کیجئے اور جس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بہتر یا احسان کا معاملہ کریں اس میں اس سے کسی زیادہ بہتر معاملے کی توقع نہ رکھیے اور یہ راحق و صدات ہے اس میں شدید تکلیفیں اور مصیبیتن آئیں گی آپو ان تکالیف و مصائب پر صبر کیجئے۔ فرمایا کہ جب صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت قائم ہوگی تو وہ دن ان کافروں کے لئے بڑا سخت دن ہوگا ہلکا نہ ہوگا۔ ولید ابن مغیرہ جو آپ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا اس کا نام لیے بغیر فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ دین میں اپنا وقت لگائیے اور وہ جسے میں نے تنہا پیدا کیا تھا (یعنی وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا) پھر اس کو بہت سا مال و دولت دیا اس کو ایسے بیٹے دیے جو اس کی شان اور عزت بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ فرمایا کہ اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے میں خود اس سے نبٹ لوں گا۔ فرمایا کہ وہ کون سی دولت تھی جو ہم نے اس شخص کو نہ دی تھی مگر اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے رسول دشمنی کی حد کردی۔ اس کی ہوس اور نافرمانیوں کو اللہ دیکھ رہا ہے مگر وہ مزید نعمتوں کا طلب گار بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تو اس کا بدترین انجا ہی ہونے والا ہے جب میں اس کو بہت جلد (جہنم کے ٹیلوں پر) ایک کٹھن چڑھائی چڑھاؤں گا۔ اس کا تکبر اور غرور اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو ایک ایسا جادو کہتا ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ کبھی کہتا ہے یہ تو کوئی انسانی کلام ہے۔ فرمایا کہ اس کا انجام ایک ایسی جہنم ہوگا جو اس کی کھال تک کو جھلس کر رکھ دے گی اور کسی چیز کو باقی نہ چھوڑے گی۔ وہ جہنم جس پر ایک فرشتہ ہی عذاب دینے کے لئے کافی تھا مگر ہم نے اس پر انیس فرشتے مقرر کردئیے ہیں۔ فرمایا کہ جو اہل کتاب ہیں وہ تو اس بات کو سن کر اور سمجھ کر یقین کرلیں گے لیکن جو لوگ علم کتاب سے دور ہیں (یعنی کفار و مشرکین) وہ یہ کہتے رہ جائیں گے کہ یہ انیس کا عدد کیا ہے ؟ فرمایا کہ اللہ کے فرشتے کتنے ہیں اور اللہ کے اس لشکر کی تعداد کتنی ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ فرمایا کہ چاند کی قسم جو گھٹتا، بڑھتا اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اس رات کی قسم جو پلٹنے اور رخصت ہونے لگتی ہے اور اس صبح کی قسم جب اس کا نور ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ جہنم بڑی خبروں میں سے ایک خبر ہے جو ایک ڈرنے کی چیز ہے۔ جو چاہے اس کی طرف بڑھے اور جو چاہے اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہے۔ فرمایا کہ اہل جنت قیامت کے دن جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کون سے اعمال جہنم میں لانے کا سبب بنے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھتے تھے، نہ غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم حق کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے تھے۔ جب تک موت نہیں آگئی ہم قیامت کو جھٹلاتے ہی رہے۔ اللہ نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا ہے یہ نصیحت سے اس طرح کیوں بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگی گدھے شیر کے خوف سے ڈر کر بھاگتے ہیں۔ اس کو وجہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ دراصل یہ لوگ آخرت کا خوف نہیں رکھتے ورنہ ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے، جس کا دل چاہے اس سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے اگر وہ چاہے گا تو ہر شخص عبرت حاصل کرے گا ورنہ بےتوفیق ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی اس کا حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی ایسے لوگوں کو بخشنے والا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

Ayahs 74:1–31

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے چادر لپٹ کر (بیٹھنے والے)

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

کھڑے ہوجایے اور (لوگوں کو اللہ کے خوف سے) ڈرائیے۔

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک و صاف رکھئے

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ہر طرح کی گندگی سے دور رہیے۔

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

کسی پر زیاہ بدلہ چاہنے کے لئے احسان نہ جتائیے۔ ا

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

ور اپنے رب کے لئے صبر کیجئے۔

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ ایک سخت دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

اور کافروں کے لئے تو ذرا بھی آسان نہ ہوگا۔

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

مجھے اور جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے اسے مجھ پر چھوڑیے۔

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

میں نے اس کو بہت زیادہ مال دیا

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور وہ بیٹے دئیے جو سامنے ہیں

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کو ہر طرح کا سامان (زندگی) دیا

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

جس کو وہ اور زیادہ کرنے کی ہوس میں مبتلا ہے۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ وہ ہماری آیتوں کا دشمن ہے۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

بہت جلد میں اس کو سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا پھر اندازہ کیا

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

پھر وہ تباہ ہوجائے کہ اس نے کیسا اندازہ کیا۔

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر وہ تباہ ہوجائے کہ اس نے کیسا اندازہ کیا۔

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے کچھ سوچا،

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر منہ پھیرا، تیوری چرھائی،

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور غرور وتکبر اختیار کیا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو (پہلوں سے) نقل ہوتا چلا آرہا ہے۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو کسی انسان ( کا گھڑا ہوا) کلام ہے۔

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) میں بہت جلد اس کو جہنم میں داخل کروں گا۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ جہنم کیا ہے ؟ (جہنم وہ ہے)

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

جو نہ تو کسی کو باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال کو جھلس کر کالا کردینے والی ہے۔

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

جس پر انیس ( فرشتے) مقرر ہیں

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے جہنم میں کام کرنے کے لئے فرشتوں کے سوا کسی کو نہیں بنایا۔ اور ہم نے ان کی تعداد کافروں کے لئے آزمائش بنائی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایمان والے اپنے ایمان کو اور مضبوط کرلیں ۔ اور اہل کتاب ( یہودو نصاریٰ ) اور مومن اس تعداد میں شک نہ کریں تاکہ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور (اسی طرح وہ لوگ) جو کافر ہیں یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ اللہ نے اس سے کیا چاہا ہوگا ؟ اس طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور اللہ کے سوا لشکر کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور یہ انسان کی (ہدایت و) نصیحت کے لئے بیان کیا گیا ہے۔

لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو “ یایھا المدثر “ کہہ کر خطاب فرمایا ہے کہ اے چادر یا کمبل میں لپٹ کر بیٹھنے والے اب اٹھ کر کھڑے ہوجائیے اور وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی بندگی میں لگ کر بھٹک گئے ہیں ان کو اللہ کے خوف اور آخرت میں برے انجام سے ڈرائیے اور جس معاشرہ میں ہر شخص غرور، تکبر اور جہالت کا پتلا بنا ہوا ہے انہیں بتا دیجئے کہ اس کائنات اور آخرت میں اللہ کے سوا کسی کو کوئی بڑائی حاصل نہیں ہے۔ عقیدہ توحید کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ آج پوری دنیا عقیدوں اور اخلاق کی جند گندگیوں میں پڑی ہوئی ہے اس سے اپنے دامن کو بچا کر رکھئے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہر شخص کے ساتھ بےغرضانہ سخاوت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہیے اور کسی پر کوئی احسان اس جذبے سے نہ کیجئے کہ آج جو میں نے کسی کو کچھ دیا ہے کل اس سے بہتر وصول ہوجائے گا۔ جب آپ ان لوگوں کو اللہ کے دین اور ان سچائیوں پر چلائیں گے تو طرح طرح کے مصائب، مشکلات اور پریشانیاں آئیں گی ان پر محض اللہ کو راضی کرنے کے لئے صبر، برداشت اور تحمل سے کام لیجئے۔ قیامت کا دن انسان سے بہت دور نہیں ہے ایک صور پھونکا جائے گا تو کائنات میں ہر چیز ختم ہوجائے گی اور جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور اللہ کی ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی وہ کافروں کے لئے بہت ہی ہولنکا اور تباہ کن دن ہوگا اور اس میں ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ وہ لوگ جنہیں دنیا کی معمولی سے دولت اور اولاد مل گئی ہے وہ اس پر اترار ہے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں دنیا کی معمولی سی دولت اور اولاد مل گئی ہے وہ اس پر اترا رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کر رہے ہیں۔ ان کی ہوس اور لالچ کا یہ حال ہے کہ انہیں جتنا کچھ دیا گیا ہے اس پر قناعت کرنے کے بجائے اس سے بھی زیادہ کی طلب میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں سے میں خود نبٹ لوں گا اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے اور دیکھتے رہے کہ جس مال و دولت پر وہ اس قدر اکڑ رہے ہیں وہ اس دنیا کی زندگی تک ان کیس اتھ رہے گی اس کے بعد قیامت کے دن تو میں ایسے لوگوں کو جہنم کے ٹیلوں پر اس طرح چڑھاؤں گا کہ وہاں ان کی دولت، مال اور اولاد ان کے کسی کام نہ آسکے گی۔ ان کو ایسی جہنم میں جھونکا جائے گا جس کی آگ کی اتنی شدت ہوگی کہ وہ ہر چیز کو جلا کر خاک کردے گی اور کسی چیز کو نہ چھوڑے گی۔ ان کی کھالیں جھلس جائیں گی اور ان کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اس جہنم پر ان کو عذاب دینے کے لئے ایک فرشتہ ہی کافی تھا لیکن اس جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے (جن کے لاکھوں کروڑوں معاون اور مددگار فرشتے ہوں گے) ان سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے گا۔ یہ تو انیس فرشتے ہیں لیکن اللہ کے فرشتوں کا لشکر کتنا بڑا ہے اور اس کے کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد کا اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے موت کے فرشتے آنے سے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ جس نے توبہ کرلی اور دین کی سچائیوں کو اپنا کر ان پر چلنے کا ارادہ کرلیا دنیا اور آخرت کی بھلائی ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے لیکن اگر جانتے بوجھتے حق و صداقت کا مذاق اڑایا گیا اور اس کی حقیقت کا انکار کیا گیا تو اس کا انجام بڑا بھیانک ہوگا اور ناقابل تصور جہنم کی شدید آگ میں جھلسنا ہوگا۔ اللہ کے ہر حکم اور ارشاد کا یقینی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ سورۃ المدثر کے چند الفاط کی تفصیل یہ ہے۔ 1۔ یایھا المدثر۔ اے چادر کو لپیٹ کر بیٹھنے والے۔ دثار اس لمبے کپڑے، چادر یا کمبل کا کہا جاتا ہے جو سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے کپڑوں کے اوپر اوڑھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو یا یھا المدثر کہنے میں ایک تو آپ کی شان محبوبیت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے اس واقعہ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جب سورة علق کی ابتدائی پانچ آیتوں کے نازل ہونے کے بعد کچھ عر سے کے لئے آپ ﷺ پر وحی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا اس کو ” فترۃ الوحی “ کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ ارشادفرماتے ہیں کہ ایک دن میں کسی جگہ سے گزر رہا تھا کہ ایک آواز سنی۔ میں نے سراٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا ( اپنی اصلی صورت میں) زمین وآسمان کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت پریشان ہوگیا۔ گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو۔ اس کے کچھ عرصے بعد سورة ٔ مدثر کی مذکورہ آیتیں نازل فرمائیں اور پھر مجھ پر لگا تار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اے چادر یا کمبل اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے نبی ﷺ ! آپ اٹھئے اور ساری دنیا کو پیغام الٰہی پہنچا دیجئے اور لوگوں کو ان کے برے اعمال کے بدترین انجام سے آگاہ کر دیجئے اور اس کا خوف دلائیے۔ اسی کو فرمایا قم فانذر اٹھئیے اور ڈرائیے۔ 2۔ وربک فکبر۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔ یعنی اپنے اس پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے جو ہر ایک بڑائی اور عظمت کا مستحق ہے۔ وہی سب سے بڑا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی بڑا اور قابل تعظیم نہیں ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کا غرور وتکبر اور اپنی ذات کی بڑائی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جب کسی کو بڑی مقدار میں مال و دولت، راحت و آرام کے اسباب، بہترین سواریاں، کھیتی باڑی اور بلند وبالا مکانات، بلڈنگیں اولاد مل جاتی ہے تو وہ ان پر شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری اور غرور وتکبر کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اور اپنے سوا وہ ہر ایک کو کمتر اور ذلیل سمجھنے لگتا ہے۔ شیطان اس کو سمجھاتا ہے کہ اس دنیا میں نہ تو اس سے کوئی بڑا ہے نہ کوئی اور عزت و تعظیم کا مستحق ہے چناچہ جب ایسے لوگوں کو سمجھا یا جاتا ہے کہ وہ غرور تکبر نہ کریں تو یہ کہنے سے ان کا غرور وتکبر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ جب نبی کریمو نے اعلان نبوت کے بعد اللہ کے کلام کی طرف متوجہ کیا تو وہ لوگ جو اپنے معاشرہ میں بڑے بن بیٹھے تھے سچائی کو سمجھنے کے باوجود اس سے منہ پھیر کر اللہ کے کلام کا انکار کر بیٹھے اور انہوں نے اللہ کے نبی کی بات ماننے کے بجائے اس طرح کے عیب تلاش کرنا شروع کردئیے جس سے اس ابھرتی ہوئی تحریک اور کام کی حیثیت کو گھٹایا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنے پروردگار کی بڑائی اور عظمت کا اعلان کرکے ساری دنیا کو بتا دیجئے کہ اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی نہیں ہے۔ ساری عظمتوں کا مستحق صرف ایک اللہ ہے۔ 3۔ وثیابک فطھر۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔ ان الفاط میں ایک تو صفائی ستھرائی اور کپڑوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم ہے کیونکہ پاکی، صفائی اور ستھرائی جسمانی ہو یا روحانی وہ نصف ایمان ہے لیکن یہ الفاظ اور اس کے معانی اس قدر جامع ہیں اور ان کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ مفسرین نے ان کی مختلف تفسیریں بیان کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ عقیدہ توحید کو پھیلانے کے جس عظیم مقصد کو لے کر چل رہے ہیں اس میں اپنے نفس اور قلب کو، ظاہر اور باطن کو، اخلاق اور معاملات کو، روح اور جسم کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھئے اور لباس جو انسان کی شخصیت کی پہنچان ہے اس کو غرور وتکبر اور شان و شوکت کی گندگیوں سے بچا کر رکھئے۔ 4۔ والرجز فاھجر۔ بتوں ( کی گندگی) سے دور رہیے۔ یعنی جس طرح آپ ہمیشہ سے بتوں اور ان کی گندگیوں سے دور رہے ہیں اسی طرح اب آپ ان لوگوں کو جو بتوں اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی، نفسانی خواہشات، باپ دادا کی رسموں اور غیر انسانی زندگی کی گندگیوں میں ملوث ہو کر اپنے خالق حقیقی سے بھٹک کر دور چلے گئے ہیں ان کو سیدھے راستے پر لائیے۔ اور ان کو صراط مستقیم پر چلانے کی جدوجہد کیجئے۔ 5۔ ولا تمنن تستکثر۔ کسی پر زیادہ بدلہ چاہنے کے لئے احسان نہ جتائیے۔ یعنی کسی شخص پر کوئی احسان اور نیکی کرنے میں یہ جذبہ شامل نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ اس وقت دیا ہے آئندہ اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا۔ آپ محض اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ایسی بےغرضانہ عطا و بخشش، سخاوت ، نیکی اور حسن سلوک کرتے رہیے جس میں بدلے اور صلے کی کوئی تمنا شامل نہ ہو۔ ہر کام کی بنیاد میں یہ جذبہ پنہاں ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ 6۔ ولربک فاصبر۔ اور اپنے رب کے لئے صبر کیجئے۔ صبر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ ” نفس کو روکنا اور قابو میں رکھنا “ ۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ جس راستے پر قدم رکھ رہے ہیں یہ کانٹوں بھرا راستہ ہے۔ یہاں قدم قدم پر سخت مشکلات، پریشانیاں اور مصائب آئیں گے۔ عرب کے یہی لوگ جو آج آپ کے راستے میں اپنی پلکیں بچھا رہے ہیں آپ کو صادق و امین کہتے ہیں یہی سب لوگ حق و صداقت کا اعلان کرنے کے بعد آپ کے مخالفت اور دشمن بن جائیں گے۔ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اس وقت آپ پورے عزم و یقین کے ساتھ آگے بڑھتے جائیے اور ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے اپنے فرض کو پورا کرنے کی جدوجہد کیجئے۔ کسی کی پرواہ نہ کیجئے اپنے پروردگا کی رحمت پر امید رکھ کر صبر، تحمل اور برداشت سے کام لیجئے۔ 7۔ فاذ انقرفی الناقور۔ پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی۔ عربی زبان میں ” نقر “ کے معنی آواز دینے اور بلانے کے آتے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن جب انسانی جسموں اور روحوں کو بلانے کے لئے آواز دی جائے گی۔ صور پھونکا جائے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن یہ دن کافروں کے لئے بہت سخت اور ناگوار دن ہوگا۔ کیونکہ اس دن ان کے تمام اعمال کا فیصلہ کرکے ان کو ایسی جہنم میں جھونکا جائے گا جہاں کی آگ ان کا حلیہ بگاڑ دے گی اور ان کو جلا کر خاک کرے دے گی۔ اس آگ میں ہر چیز کو جلاکر خاک کردینے کی ایسی صلاحیت ہوگی کہ اس آگ میں ڈالی جانے والی ہر چیز بھسم ہوجائے گی۔ 8۔ ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ مجھ اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے۔ فرمایا کہ وہ شخص جسے میں نے مال و دولت ، بیٹوں اور ہر طرح کا سامان زندگی عطا کیا وہ اس پر شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرتا ہے اور وہ اس مال و دولت کو اور زیادہ بڑھانے کی ہوس میں مبتلا ہے۔ ہماری آیتوں کی مخالفت اور دشمنی میں سب سے آگے ہے جب اس کے سامنے اللہ کا کلام پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس کی حقانیت کو سمجھنے کے باوجود منہ اور پیٹھ پھیر کر اور غرور وتکبر سے تیوریاں چڑھا کر کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تو وہی جادو ہے جو پہلے لوگوں سے چلا آرہا ہے اور جس کلام کو اللہ کا کلام کہا جاتا ہے وہ خود سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے (نعوذ باللہ) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ ان جیسے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کیجئے۔ یہ جس مال و اسباب پر اتنا اترا رہے ہیں اس وقت تک کام دے سکتا ہے جب تک ان کو موت نہیں آجاتی۔ جب موت ا اجایے گی تو ان کو قبر میں اور قیامت میں یہ مال اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا۔ اللہ نے فرمایا کہ میں ان کو جہنم کی آگ سے بھرے ایسے ٹیلوں پر چڑھاؤں گا جہاں کی چڑھائی بھی بڑی سخت چڑھائی ہوگی۔ وہ جہنم جس پر اللہ کے انیس فرشتے مسلط ہوں گے وہ جہنم کی آگ ان کو جھلس کر رکھ دے گی اور ان کا حلیہ بگاڑ دے گی۔ 9۔ وما جعلنا عدتھم الافتنۃ۔ اور ہم نے (فرشتوں کی) تعداد کو ( کافروں کے لئے) آزمائش بنایا ہے۔ یعنی جہنم کے فرشتوں کی تعداد جو انیس بتائی گئی ہے درحقیقت یہ اہل ایمان کے لئے ایک آزمائش ہے۔ کافر تو یہ سن کر مذاق اڑائیں گے اور اہل کتاب اگر واقعی وہ اہل کتاب ہیں اس پوری حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ اس سے اللہ کی مراد جہنم کی شدت کو بیان کرنا ہے لیکن جب کافر اس کو سنے گا تو وہ مذاق ہی اڑائے گا۔ اس لئے یہ تعداد ایک آزمائش ہے۔ لیکن جو صاحبان ایمان ہیں وہ سن کر اپنے ایمان میں اور ترقیاں حاسل کرلیں گے۔ قرا ان کریم تو سراسر ہدایت ہے وہ اس کے ذریعہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیدیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کردیتا ہے لیکن گمراہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے کفر اور گناہ کے راستے کا انتخاب کر رکھا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم واضح ہے لیکن علماء مفسرین نے آیتوں کی تشریح کرتے ہوئے ولید ابن مغیرہ کا واقعہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں ولید ابن مغیرہ انتہائی مال دار اور دولت مند شخص تھا جسے راحت و آرام کے تمام اسباب عطا فرمائے گئے تھے۔ اس کے دس بیٹھے تھے ان میں سب سے زیادہ مشہور حضرت خالد بن ولید ؓ تھے جو بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ وہ سب بیٹے صحت مند، توانا ور لمبے چوڑے تھے۔ ہر مجلس اور ہر جگہ وہ اپنے باپ کے ساتھ ساتھ رہتے اور ان کی شادی اور وقار میں اضافے کا سبب بنتے تھے۔ عرب کا یہی ایک مال دار شخص تھا جس کے تجارتی مراکز عرب کے مختلف شہروں میں قائم تھے۔ مال و دولت کے ساتھ ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک اچھا شاعر اور عربی زبان پر اس کو بڑی قدرت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ جب اس نے نبی کریم ﷺ کو قرآن حکیم کی تلاوت کرتے سنا تو ولید ابن مغر اس کلام کو سن کر جھوم اٹھا۔ اس کے دل پر قرآن کریم کی عظمت کا سکگہ بیٹھ گیا اور وہ بہت متاثر ہوا۔ ممکن اس نے ایمان قبول کرنے کا ارادہ کرلیا ہو اور اس کا ذکر کچھ لوگوں سے کردیا ہو۔ جب ابوجہل کو معلوم ہوا کہ ولید ابن مغیرہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے کلام پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ بوکھلا اٹھا۔ اسے اس بات کا چھی طرح اندازہ تھا کہ اگر ولید ابن مگیرہ نے اسلام قبول کرلیا تو سارے عرب مین دین اسلام کو پھیلنے سے کوئی روک نہ سکے گا۔ وہ فوراً ہی ولید ابن مغیرہ کے پاس گیا اور نہایت ہوشیاری سے اس کو جہالت کی عصبیت پر ابھارتے ہوئے کہا کہ ولید تمہیں کیا ہوگیا تم انتہائی سمجھ دار آدمی ہو اور تم ایک ایسے نوجوان کی بتاون میں آگئے ہو جو کل کا نوجوان ہے۔ تم کیوں اپنی عزت کو داغ دار کر رہے ہو اور معاشرہ میں تمہارا جو مقام ہے اسے تم کیوں ڈبونے کے چک ر میں پھنس گئے ہو۔ اس نے یقین دلایا کہ یہ سب جادو کا اثر ہے اور یہ کلام ( حضرت) محمد ﷺ نے خود سے گھڑ لیا ہے۔ ابو جہل کی اس گفتگو کا اثر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کا ذہن پلٹ گیا اور اس نے ابوجہل کی باتوں کو دھرانا شروع کردیا کہ یہ تو وہی جادو ہے جو خاندانوں میں جدائیاں ڈالنے والا اور آپس میں پھوٹ ڈالنے والا ہے۔ اس طرح ولید ابن مغیرہ ایمان کی دولت سے محروم ہوگیا۔ لیکن دین اسلام کی عظمت یہ ہے کہ وہی ولید ابن مغیرہ جو دنیاوی لالچ کی وجہ سے ایمان کی دولت سے محروم رہا اللہ نے اس کے بیٹے حضرت خالد بن ولید ؓ کو نہ صرف ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی بلکہ انہوں نے دربار نبوی ﷺ سے سیف اللہ کا خطاب حاصل کرکے تاریخ میں ایسے عظیم کارنامے سرانجام دئیے جو مومن مجاہدین کے لئے مشعل راہ ہیں۔