Ayahs 74:1–7ترکیب : المدثر اصلہ المتدثر ادغمت التاء فی الدال للمجانستہ وقرء الجمہور بالادغام۔ والدثارما یلبس فوق الشعار والشعار مایلی الجسدومنہ قولہ (علیہ السلام) الانصارشعار والناس دثار۔ فانذر الفاء فیہ وفیما بعدہ لافادۃ معنی الشرط کانہ قال مایکن من شیئ۔ فانذروکبر۔ وقال ابن جنی ھو کقولک زیدا فاضرب فالفاء زائدۃ وربک و ثیابک والرجز منصوب بفعل محذوف یفسرہ مابعدہ تستکثر بالرفع علی انہ حال وبالجزم علی انہ جواب النھی وبالنصب علی تقدیر لتستکثروقیل علی تقدیر ان وبقاء علمھا۔
تفسیر : بخاری و مسلم وغیرہما نے نقل کیا ہے کہ ابوسلمۃ بن عبدالرحمن نے کہا سب سے پہلے یا ایہا المدثر نازل ہوئی اس پر یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ لوگ سب سے اول اقرء کا نازل ہونا بیان کرتے ہیں۔ ابوسلمہ نے کہا میں نے بھی یہ بات جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھی تھی تب اس نے کہا میں آپ کو وہی بات سناتا ہوں جو مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے سنائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں غارحرا میں گوشہ نشین تھا جب نیچے اترا تو آواز آئی میں نے دائیں بائیں پیچھے دیکھا تو کچھ بھی نظر نہ آیا تب اوپر کو سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو حرا میں نظر آیا تھا ایک کرسی پر بیٹھا دکھائی دیا، آسمان و زمین کے درمیان۔ اس سے مجھے دہشت معلوم ہوئی اور گھر میں آیا اور یہ کہا کہ دثرونی دثرونی کپڑا اوڑھاؤ کپڑا اوڑھاؤ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ والرجزفاھجرتک۔
علمائِ نے احادیث میں غور کر کے فیصلہ کردیا ہے کہ سب سے اول سورة اقرء نازل ہوئی۔ مالم یعلم تک اور پھر کچھ دنوں وحی بند رہی پھر سورة مدثر نازل ہوئی۔ اس کے بعد مزمل۔ بعض کہتے ہیں مزمل نازل ہونے کے بعد مدثر نازل ہوئی۔ مگر یہ بالاتفاق ہے کہ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں بھی وہی توحید وغیرہ کے مطالب ہیں۔
مناسبت اس سورة کی سورة مزمل سے یہ ہے کہ سورة مزمل میں اپنے آراستہ کرنے کا حکم تھا کہ رات کی نماز و تلاوت سے پہلے خود کامل ہوجاؤ اس کے بعد اس سورة میں لوگوں کو کامل کرنے کا حکم دیا گیا۔ بقولہ فانذر۔ کس لیے کہ جب تک آپ کامل نہ ہوں تو دوسروں کی تکمیل کا انذار وتبشیر سے بیڑہ اٹھانا زیبا نہیں اس کے سوا دونوں کے مطالب میں بھی بہت کچھ مناسبت ہے۔ وہاں ابتداء یا ایہا المزمل کے ساتھ تھی یہاں یا ایہا المدثر کے ساتھ ہے اور دونوں کے معنی قریب قریب ہیں وہاں رات میں نماز و تلاوت کا حکم تھا یہاں اس کے شروط کپڑے اور جسم کی پاکی بتائی گئی وہاں بھی قیامت کا ہولناک واقعہ بیان ہوا تھا کہ لڑکوں کو بوڑھا کردینے والا دن آنے والا ہے۔ یہاں اس کی نسبت فرمایا گیا یوم عسیر علی الکافرین غیریسیر کہ وہ دن بڑا سخت ہے کافروں پر آسان نہیں وہاں خاتمہ میں تھا اللہ غفور رحیم اس سے بخشش مانگویہاں بھی خاتمہ میں ہے اھل التقویٰ و اھل المغفرۃ کہ اس سے ڈرنا چاہیے اور وہ بخشش والا ہے۔
فقال : یا ایہا المدثر کہ اے کپڑا پہنے ہوئے۔ شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو اور اس کے اوپر جو کپڑا ہو اس کو دثار کہتے ہیں اور ایسے کپڑے اوڑھے ہوئے کو مدثر۔ عام مفسرین اس کے ظاہری معنی مراد لیتے ہیں کہ آپ سردی کی وجہ سے کپڑا اوڑھے ہوئے تھے اسی نام سے پیار سے یاد فرمایا۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ ایک بار مٹی پر سوئے ہوئے تھے کہ آپ نے پیار سے فرمایا قم یا اباتراب۔
وجوہ مدثر : اب اس کپڑا اوڑھنے کے چند وجوہ علماء نے بیان فرمائے ہیں : (1) فرشتہ کو دیکھ کر دہشت ہوئی تھی اور اس سے سردی معلوم ہوئی تھی جس لیے کپڑا اوڑھے ہوئے تھے اس حالت میں تھے کہ یہ سورت نازل ہوئی اور اسی حالت پر محبت سے خطاب کیا گیا۔
(2) کفارِقریش نے جمع ہو کر لوگوں کو آپ سے بدگمان کرنے کے لیے لفظ ساحر تجویز کیا اور پکار دیا تو اس سے آپ کو رنج ہوا اور طبع مبارک پر کسل طاری ہوا جس لیے کپڑا اوڑھ کر پڑے ہوئے تھے کہ اسی حالت پر مخاطب کر کے فرمایا اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو۔
(3) آپ کپڑا اوڑھے سو رہے تھے اسی حالت میں یہ سورة نازل ہوئی جس میں جتلایا جاتا ہے کہ کپڑا منہ سے اتار اور نیند سے ہوشیار ہو اور منصب نبوت پر قائم یعنی آمادہ ہو۔ ایک گروہ علماء کا یہ کہتا ہے کہ ظاہری کپڑا اوڑھنا مراد نہیں بلکہ یہ مراد ہے۔ (1) یہ کہ اے نبوت و رسالت کی چادر اوڑھنے والے کھڑا ہو جیسا کہ کہتے ہیں البسہ اللہ لباس التقویٰ و زینہ برداء العلم۔ (2) یہ کہ کپڑا اوڑھنے سے آدمی مخفی ہوجاتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اے خلوت و گوشہ نشینی کی چادر اوڑھنے والے کب تک مخفی رہے گا کھڑا ہو اور لوگوں کو متنبہ کر۔ کس لیے کہ دنیا گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ (3) یہ کہ اے خلق عظیم اور رحمت عالمین کی چادر اوڑھنے والے اس لباس کو پہن کر چپ کیوں بیٹھے ہو کھڑے ہو اور لوگوں کو متنبہ کرو، دین حق کی منادی کرو۔
قم فانذر کھڑا ہو یعنی اس مرتبہ پر مستحکم و آمادہ ہو یا خواب گاہ سے اٹھ۔ قم کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ پھر کھڑے ہو کر کیا کر۔ فانذر لوگوں کو ڈر سنا جیسے کہ آپ نذیر تھے، بشیر بھی تھے مگر ابتدائی حالت میں بشارت کا موقع نہ تھا کس لیے کہ دنیا بدکاری اور بت پرستی کے گرداب میں پڑی ہوئی تھی اس لیے مقدم یہی بات تھی کہ ان کو ہلاکت کے کاموں سے ڈرایا اور بچایا جائے اس کے بعد اصول حسنات پر قائم ہونے سے بشارت کا موقع آئے گا۔
اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانا اور عذاب آخرت اور مصائبِ دنیا کی خبر دینا (جو بدکاری اور بت پرستی کا ثمرہ ہوتا ہے) بغیر اس کے مخاطبین کے ذہن نشین نہیں ہوتا کہ خداوند عالم کی عظمت و جبروت بیان کی جائے اس لیے حکم ہوا وربک فکبر کہ اپنے رب کی عظمت و شوکت بیان کر اور اس کے آثار حیرت وقدرت اظہار کر تاکہ مشرکین کے دلوں سے (اس کی قدرت ویکتائی سن کر) بتوں اور خیالی معبودوں کی وقعت کم ہو اور وہ توحید کی طرف مائل ہوں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ نافرمانی پر جو بلا آئے گی اس کو ہمارے معبود دفع نہ کرسکیں گے۔
تکبیر کہنے پر بحث : بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ کو حق سبحانہ ٗ نے مرتبہ نبوت و تبلیغ عطا کیا اس لیے اس خوشی پر تکبیر کہنا فرمایا۔ شادمانی کے وقت اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے اس لیے آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور آپ کے ساتھ حضرت خدیجۃ الکبری ؓ آپ کی بیوی نے اور اسی لیے اہل اسلام میں یہ عام دستور ہوگیا ہے کہ خوشی کے وقت اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور اسی لیے نماز عیدین اور حج میں تکبیر بآواز بلند کہی جاتی ہے بلکہ دشمنوں کے مقہور کرنے کے لیے اور آفات دور کرنے کے لیے بھی تکبیر اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ عظمت و ہیبتِ الٰہی مخالف کے دلوں کو ہلا دیتی ہے، مصیبت کو دفع کرتی ہے۔ اسی لیے صحابہ ؓ جہاد میں اور ہر خوشی کے موقع پر اس آواز کو بلند کرتے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ نماز میں تکبیر کہنا مراد ہے تحریمہ کے وقت اور رکوع و سجود کے وقت اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔ گو اس سورة کے نازل ہونے کے وقت نماز پنجگانہ فرض نہ تھی مگر نوافل تھے انہیں میں تکبیر کہنا مامور بہ تھا۔ ہر ایک معنی چسپاں ہوسکتے ہیں یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔
طہارت جامہ و بدن فرض ہے : لیکن تکبیر کا اثر طہارت کی حالت میں زیادہ ہوتا ہے اس لیے اس کے بعد حکم دیتا ہے وثیابک فطہر کہ اپنے کپڑے پاک کر۔ علما کے اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں۔ (اول) ثیاب اور طہر حقیقی معنی پر محمول کئے جائیں یہ معنی کہ ظاہری کپڑوں کو ظاہری نجاست سے دور رکھ اور جب کپڑوں کو دور رکھنا فرمایا تو بدن کو جو کپڑوں کے نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے بدرجہ اولیٰ نجاست سے دور رکھنا اور پاک رکھنا مراد ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ناپاک کپڑوں اور ناپاک بدن سے نماز درست نہیں کس لیے کہ نوافل و ذکر میں مومن کو ہمیشہ مشغول رہنا اور عالم قدس سے مناسبت پیدا کرنا چاہیے تاکہ مرنے کے بعد اس جماعت میں شامل ہوجائے اور کپڑے اور بدن کی نجاست ظاہری اس مناسبت میں خلل انداز ہے۔ گوہ ‘ موت، منی، قے، خون خنزیر، شراب، مردار ناپاک چیزیں ہیں اور اسی طرح حیوانات کا گوہ موت بھی ناپاکی ہے اور کتا وغیرہ نجس جانور اور ان کے پس خوردہ چیزیں بھی ان سے ہر وقت دور رہنا چاہیے خصوصاً نماز کے وقت تو فرض ہے۔ یہ حکم آپ کو اس لیے دیا کہ مشرکین اپنے بدن اور کپڑوں کو نجاست سے پاک نہیں رکھتے تھے اس لیے آپ کو اور آپ کی امت کو پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ بھی ہے کہ مشرکین مکہ آپ پر نجاست ڈال دیا کرتے تھے اس لیے حکم ہوا کہ ان کی حماقت کا خیال نہ کریں، کپڑے پاک کرلیا کریں۔ (دوم) کپڑے کو حقیقی معنی پر اور طہارت کو مجازی پر معنی باطنی پاکی پر محمول کریں یہ معنی کہ اپنے کپڑوں کو معنوی نجاست سے پاک کریں۔ غصب اور چوری کے کپڑے اسی طرح ناجائز کمائی کے اور وہ کہ جن پر تصاویر ہوں اور اسی طرح دامن نیچا اور ریشمی جو مردوں کے لیے درست نہیں معنوی ناپاکی رکھتے ہیں مسلمان کو دور رہنا چاہیے۔ خصوصاً یادِ الٰہی کے وقت ایسے کپڑے دور پھینک دینے چاہییں۔ اسی طرح مرد کے لیے زنانہ لباس اور زنانہ آرائش اور عورت کے لیے مردانہ لباس بھی معنوی نجاست ہے۔
(سوم) یہ کہ کپڑوں کے مجازی معنی اور طہارت کے حقیقی لیے جائیں، کپڑوں سے آپ کی ذات وصفات و اخلاق مراد ہیں کہ آپ ان کی نجاست سے دور رکھیں۔ کپڑا بول کر شخص مراد لینا محاورہ ہے عرب کہتے ہیں الکرم فی بردیہ وطاھر الذیل ونقی الثوب جیسا کہ کہتے ہیں پاک دامن اپنے بدن کو استنجے وغیرہ سے پاک رکھیں اور بول و براز منی وغیرہ سے پاک رکھیں کیونکہ طہارت ظاہری کو طہارت قلبی میں بڑا اثر ہے۔
(چہارم) دونوں کے معنی مجازی لیے جائیں تب یہ معنی ہوں گے کہ اپنے دل کو صفات مذمومہ سے پاک رکھ۔ یہ اس لیے فرمایا کہ جب کفار نے آپ کو ساحر کا لقب دیا اور آپ کو رنج ہوا تو یہ بدخلقی اور انتقام کا مقتضٰی تھا جس سے منصب انذار میں فرق آجانے کا موقع تھا۔ اس لیے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی حماقت سے وعظ نہ چھوڑیں اور ان کے اخلاق رذیلہ اور کج خلقی کو دل میں جگہ نہ دیں۔ اور یہ حکم اس لیے دیا کہ اول میں آپ کو مدثر فرمایا اور دثار لباس اور کپڑوں کو کہتے ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جو جامہ آپ پہنے ہوئے ہیں اس جامہ نبوت کو ان داغ دھبوں سے پاک رکھیں تاکہ تکبیر کا اثر نمایاں ہو اور تکبیر کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔ کس لیے کہ اللہ کی کبریائی کا سب سے اول تکبیر کہنے والے کے دل اور اخلاق پر اثر ہونا چاہیے جس سے اس کا جامہ انسانیت شہوت و لذات اور غضب و کبر کے دھبوں سے پاک ہوجانا لازمی بات ہے۔
اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے والرجزفاھجر رجز بالکسر عذاب کما فی قولہ رجزا من السماء اور بالضم بمعنی قبیح و مستقذر۔ یہ ثیابک فطہر کا تکملہ ہے اگر اس جگہ بدن اور کپڑے کی ظاہری طہارت مراد تھی تو یہاں طہارت باطنی مراد ہے اخلاق رذیلہ سے غرض یہ کہ ظاہر و باطن کو پاک رکھ اور منجملہ نجاسات قلبیہ کے جو ہادی دین کے لیے دھبہ لگانے والی بات ہے طمع دنیا ہے۔ اس لیے بالتخصیص اس سے بھی منع کیا۔ فقال ولاتمنن تستکثر یعنی قرآن مجید کی تعلیم و تبلیغ احکامِ الٰہی کا کسی پر احسان نہ جتلا کہ تو مریدوں، معتقدوں کی کثرت کر کے مال و جاہ پیدا کرے اور لوگوں سے کچھ حاصل کرے یا کسی کو کچھ دے اور حاجت براری اس نیت سے کرے کہ وہ اس کے بدلہ میں مجھے زیادہ دے گا کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی طمع ہے بعض اس کے معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ جو کچھ دے اس کو بہت نہ سمجھ یا یہ کہ کسی پر احسان جتانے کو نہ دے۔ ان سب مکارم اخلاق تعلیم کرنے کے بعد اس شخص کے لیے جو مسند انذار پر بیٹھے لوگوں کی بدگوئی اور ایذا پر صبر بھی ضرور ہے ورنہ ارشاد وتعلیم کا دروازہ بند ہوتا ہے اس لیے اس کے بعد یہ بھی فرما دیا ولربک فاصبر کہ اپنے رب کی رضامندی کے لیے صبر کر۔ اس میں بندوں کی دولت و ثروت کا لحاظ نہ کر بلکہ خاص اللہ کی رضامندی کا۔ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ کے لیے اوامرو فرائض کا بوجھ اٹھا ان پر قائم رہ۔
Ayahs 74:8–16ترکیب : فاذا وا للسببتیہ کانہ قیل اصبر علی اذا ھم فبین ایدیھم یوم ھائل یلقون فیہ عاقبۃ امرھم۔ والعامل فی اذاماول علیہ قولہ فذلک لانہ اشارۃ الی النقرای وقت النقروقیل ماول علیہ عسیر ای یعسر نقربفخ الناقور علی وزن فاعول من النقر بمعنے التصویت فذلک اشارۃ الی وقت النقر مبتداء یومئذ بدل منہ اوظرف بخبرہ یوم عسیر خبرہ غیر یسیر تاکید و قال الاخفش اذامبتداء والخبر فذلک والفاء زائدۃ یومئذ ظرف لذلک وقیل ھوفی موضع رفع بدل من ذلک اومبتداء و یوم عسیر خبرہ والجملۃ خیر ذلک وعلی یتعلق بعسیرا وھی لغت لہ اوحال من الضمیر الذی فیہ ومن مفعول معہ اومعطوف علی الضمیر المنصوب۔ وحیدا حال من الیاء ای ذرنی وحدی معہ فانی اکفی کہ اومن التاء ای ومن خلقتہ وحدی لم یشرکنی فی خلقہ احادومن العائد المحذوف ای ومن خلقۃ فریدالامال لہ ولاولد وھذا ذم فانہ کان ملقباً بہ فسماہ اللہ تعالیٰ بہ تحکماً واستہزائً ا وارادانہ وحید ولکن فی الشرارۃ اوعن ابیہ لانہ کان زنیماً لاتبقی مستانفۃ اوحال من سقر و العامل فیھا معنی التعظیم لواحتہ بالرفع ایھی لواحۃٌ و بالنصب مثل لاتبقی اوحال اوعلی الاختصاص۔ تسعۃ عشر مبتدء وھذہ الکلمۃ مرکبۃ وکلا الجزء ان مبنیان علی الفتح وقریٰ عشر بالاسکان لتوالی الحرکات وقریٔ اعشر جمع عشیر۔ علیھا خبرمقدم۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وربک فاصبر کہ اللہ کے لیے مخالفوں کی بےحد تکالیف پر صبر کیجئے اب اس صبر کا انجام بیان کرتا ہے اور آپ کو اطمینان دلاتا ہے۔ فقال فاذانقرفی الناقور فذلک یومئذ یوم عسیر علی الکافرین غیریسیر کہ دنیا چند روزہ ہے ایک دن آنے والا ہے جو کافروں پر سخت ہوگا کچھ آسانی ان کے لیے نہ ہوگی وہ دن وہ ہے کہ جس دن صور پھونکا جائے گا۔ اس روز یہ لوگ اپنے کئے کی سزا پالیں گے اور آپ کو صبر کا بدلہ ملے گا۔
منجملہ ان ایذا دینے والوں کے کہ جن کی ایذاء پر آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا ایک شخص ولید بن المغیرہ تھا چونکہ وہ بڑا مالدار تھا اس کی اولاد بھی بہت تھی اور بڑا عزت دار کہلاتا تھا۔ اس کو لوگ وحید یعنی یکتا اور یگانہ کے لقب سے ملقب کیا کرتے تھے۔ اب آیندہ آیات میں اس کی ایذا کا اور جو کچھ خداوند تعالیٰ نے اس پر فضل و کرم کیا تھا اس کا ذکر کر کے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلاتا ہے اور عام ایمانداروں کو متنبہ کرتا ہے کہ دنیاوی مال و جاہ و اولاد و حشمت اس کا فضل و کرم ہے، اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے نہ یہ کہ اس کے گھمنڈ میں خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادوں سے مقابلہ کرے۔ جس کا انجام دنیا کی بربادی اور آخرت کا ابدی جہنم ہے۔ اخیر رکوع تک اسی کا حال ہے اور کچھ جہنم کے داروغوں کا جو ملائکہ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ولید کو اپنے زور اوراقارب کی حمایت کا بڑا غرور تھا۔ وہ کہتا تھا کہ مجھے جہنم میں کون عذاب دے سکتا ہے ؟ اس لیے بیان کیا گیا کہ وہاں بڑے طاقتور فرشتے متعین ہیں اور وہ انیس 1 ؎ ہیں اور ان کی یہ تعداد اس لیے بیان کی گئی کہ اہل کتاب کو اور ایمانداروں کو یقین کامل ہو اور کافر اور بھی تمسخر کرکے مصیبت اور آزمائش میں پڑیں کس لیے کہ یہ نکتہ ان کی ناقص سمجھ سے باہر ہے۔ یہ خلاصہ مطلب ہے آیات کا۔ ولید بن المغیرہ کی بابت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ ایک بار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کو کچھ قرآن سنایا جس سے اس کا دل نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کافر کو بھی پہنچی۔ تب ولید کے پاس آ کر کہنے لگا۔ اے چچا ! آپ کی قوم چندہ کر کے آپ کو دینا چاہتی ہے اس نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں مجھے اس کی حاجت نہیں۔ تب اس نے کہا آپ محمد ﷺ کی شان میں کوئی ایسی بات کہئے جس سے آپ کی قوم کو معلوم ہو کہ آپ ان کے منکر ہیں۔ اس نے کہا میں کیا کہوں مجھ سے زیادہ کوئی شعر سے بھی واقف نہیں۔ ہر قسم کے اشعار سے واقف ہوں۔ جنوں کے اشعار بھی مجھے معلوم ہیں۔ خدا کی قسم ! اس کا کلام شعر نہیں بلکہ اس میں شیرینی اور برکت ہے وہ غالب ہے مغلوب نہیں۔ ابوجہل نے کہا خدا کی قسم آپ کی قوم ہرگز خوش نہ ہوگی جب تک کہ ان کے حق میں کوئی بری بات نہ کہیں گے۔ تب اس نے کہا مجھے مہلت دو کہ فکر کر کے تجویز کروں تب اس نے فکر کر کے تجویز کی کہ یہ جادو ہے جو کسی سے سیکھا ہے۔ اس پر یہ آیات ذرنی ومن خلقت وحیداً الخ نازل ہوئیں۔ (اخرجہ حاکم والبیہقی فی الدلائل) ان آیات میں اسی کی طرف اشارہ ہے مگر روئے سخن تمام ناشکر دولت مندوں کی طرف ہے اور اسی لیے اس کا نام نہیں لیا گیا ولید کی تخصیص نہیں۔
فرماتا ہے چھو ڑمجھے اور اس کو کہ جس کو میں نے خود پیدا کیا نہ اس کے جھوٹے معبودوں نے یا یہ معنی کہ جس کو میں نے یگانہ پیدا کیا۔ اس میں اس پر تعریض بھی ہے کہ جب پیدا ہوا تھا کیا ساتھ لایا تھا، اکیلا تھا، اولاد مال کچھ نہ تھا۔ یہ سب ہم نے دیا۔ یا یہ کہ وہ اپنے آپ کو وحید کہلاتا ہے اسی لقب سے اس کو استہزئًا یاد کیا کہ آپ بڑے یگانہ اور یکتائے روزگار ہیں۔ اور اس میں یہ بھی تعریض ہے کہ باپ نہیں اکیلا ہے یہ چوٹ ہے اس پر کس لیے کہ قریش میں یہ زینم یعنی بدنسل مشہور تھا۔ مدتوں تک اس کا باپ کہتا رہا کہ میرا نطفہ نہیں۔ وجعلت لہ مالاممدودا اور اس کو بہت مال دیا۔ زجاج کہتے ہیں مال ممدود سے مراد ہے مال غیر منقطع مد کے معنی درازی کے ہیں جو بڑھنے سے علاقہ رکھتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں ولید کے پاس بہت مال تھا تجارت سے بھی بہت نفع حاصل ہوتا تھا اور طائف میں اس کے باغ اور زمینیں تھیں۔ اونٹ گھوڑے، بھیڑ بکری ہر قسم کا مال تھا۔ ان سے نفع حاصل ہوتا تھا اور ہر ایک میں سے نفع آتا تھا، روزافزوں تھا۔
وبنین شہودا (یہ مالاً پر عطف ہے جعلت کا مفعول ہے) کہ میں نے اس کے لیے بیٹے دیے۔ کیسے ؟ جو حاضر رہتے تھے دولت کی وجہ سے باہر جانے اور غائب رہنے کی نوبت نہ آتی تھی۔ مجلسوں میں باپ کے ساتھ جب یہ دیدار و بیٹے آتے تھے تو ایک شوکت مجلس پر نمایاں ہوتی تھی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں تیرہ بیٹے تھے، مقاتل کہتے ہیں سات تھے سب لڑکے ہی تھے لڑکی نہ تھی۔ ان میں سے ہشام اور خالد بن ولید اور ولید بن الولید مسلمان ہوگئے تھے۔ ومہدت لہ تمہیدا اور ہم نے عزت و مال و جاہ کو اس کے لیے فرش کردیا۔ تمام قریش اس کی عزت کرتے تھے اور اسی لیے اس کو وحید اور ریحانۃ قریش سے ملقب کرتے تھے۔ تمہید کے معنی بچھانے کے ہیں اور اسی سے مہدالصبی ہے۔
ان سب خوبیوں کے بعد باوجود اس کفر وعناد و ناشکری کے پھر بھی امید کرتا ہے۔ ثم یطمع ان ازید کہ ہم اس کو دنیا میں یا آخرت میں اور زیادہ دیں گے ؟ وہ کہتا تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو سب سے زیادہ جنت کا میں مستحق ہوں کس لیے کہ سردار اور عزت والا ہوں۔ نہ یہ غریب و مفلس مسلمان۔ فرماتا ہے کلایہ ہرگز نہ ہوگا کس لیے انہ کان لآیاتنا عنیدا کہ وہ ہماری آیات قدرت کا مخالف رہا ہے کبھی ان میں غور نہیں کیا اور اپنے اوپر جو نعمتیں ہیں ان کو بھی اس کا فضل نہیں سمجھا بلکہ اپنے بخت کی یاوری جانتا رہا اور آیات قرآنیہ کا بھی دیدہ و دانستہ مخالف رہا ہے۔ کس لیے کہ جب قریش نے اس سے پوچھا کہ محمد ﷺ کے لیے کون سا لقب تجویز کرنا چاہیے تاکہ ایام حج میں جو لوگ آئیں یہ سن کر اس سے دور رہیں تو اس نے سوچ کر کہا کہ وہ شاعر نہیں کس لیے کہ میں شعر سے واقف ہوں اور نہ مجنوں ہے کس لیے کہ وعظ و پند مجنوں کا کام نہیں اور نہ کاہن ہے کس لیے کہ کاہن کی کوئی بات جھوٹی کوئی سچی ہوتی ہے اس کی تمام باتیں سچ نکلتی ہیں اور جادوگر بھی نہیں کس لیے کہ جادو کے منتر اول تو بیشتر مہمل ہوتے ہیں اور پھر ان میں یہ انوار اور دلکشی کہاں اور نیز جادوگر طامع ہوتے ہیں اس کو شاہ و گدا کی کوئی پروا نہیں۔ طمع اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتی اور نیز جادوگر ناپاک اور سیاہ باطن ہوتے ہیں اس کے انوار باطن اس کے چہرہ پر چمکتے ہیں مگر جب قریش نے اصرار کیا تو سوچ سوچ کر منہ بنا کر کہا لو معلوم ہوگیا وہ جادوگر ہے مگر یہ جادو نہیں بلکہ سحربابل کسی سے اس کے ہاتھ لگ گیا ہے کس لیے کہ یہ جادو ہی کی تاثیر ہے کہ باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے باپ کو خاوند کو بیوی سے اور بیوی کو خاوند سے اور بھائی کو بھائی سے جدا کردیتا ہے۔ باوجودیکہ قرآن مجید کو من اللہ جانتا تھا مگر جان کر اس کے مٹانے میں کوشش کرتا تھا اور ایسے شخص کو عنید کہتے ہیں اس کے عناد کا بدلہ بجائے اس کی طمع خام کے اس کو یہ ملے گا سارھقہ صعودا کہ ہم ابھی اس کو مصیبت کے پہاڑ پر چڑھائیں گے۔ مفسرین کہتے ہیں یہ ایک محاورہ ہے تکلیف اور مصیبت میں مبتلا کرنے کا جیسا کہ اس آیت میں یسل کہ عذابا صعدا بعض کہتے ہیں صعود جہنم میں ایک آتشیں پہاڑ ہے اس پر چڑھایا جائے گا، اس کی دنیاوی عزت و بلندی کے مقابلہ میں جس کی اس نے شکر گزاری نہ کی تھی۔ جس حدیث میں صعود کو جہنم کا پہاڑ بیان کیا ہے اس کو احمد و ترمذی و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن حبان و حاکم و ابن مردویہ و بیہقی نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث غریب ہے اس کو ابن لہئعہ نے دراج سے روایت کیا ہے اور کسی سے ثابت نہیں۔ اور ابن کثیر ابن جریر کی روایت میں کلام کرتے ہیں۔
اس کے بعد اس کے عناد کی کیفیت بیان فرماتا ہے انہ فکروقدر کہ اس نے باوجود قرآن اور نبی ﷺ کو برحق جاننے کے محض قریش کے کہنے سے سوچ اور فکر کر کے تجویز کی کہ یہ جادو ہے اس لیے اس کی اس سوچ اور تجویز پر پھٹکار بھیجتا ہے۔ فقال فقتل کیف قدر لعنت ہو ‘ اس پر مارا جائے وہ اس نے کیونکر یہ تجویز آنحضرت ﷺ کی بابت کی۔ ثم قتل کیف قدر پھر اس پر لعنت ہو وہ مارا جائے باوجود عقل و فہم کے اس نے ایسی بیہودہ اور بےاصل بات کیونکر تجویز کی۔ دوبارہ اس کلمہ کو تاکید اور اظہار غضب کے لیے استعمال کیا یا اس لیے کہ باوجودیکہ پہلے جان چکا تھا ایک بار اس لیے لعنت کا مستحق ہوا مگر اس لیے کہ اس نے سوچا اور اس کے فکر نے یہ فتویٰ نہ دیا مگر عناد کی وجہ سے جادو کہہ دیا۔ اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ثم نظر اس نے پھر حضرت ﷺ کے حالات میں نظر کی اور کوئی بات جادوگری اور کہانت اور جنون کی نہ پائی اور جب اس کی طبیعت اور ذہن نے اس کو جواب دے دیا اور طعن کا کوئی رستہ نہ ملا ثم عبس تو پھر ترش روئی کی وبسرا اور تیوری چڑھائی ثم ادبر حق اس پر ظاہر ہوا مگر اس نے اس سے منہ پھیرلیا۔ واستکبر اور سرداری اور مال کے غرور میں آ کر فقال ان ہذا الاسحر یوثر یہ کہہ دیا کہ یہ جادو ہے جو چلا آتا ہے بابل یا عجم سے یا پہلے ساحروں سے سیکھا ہے۔ حال کا جادو نہیں بڑا قدیم جادو ہے جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے۔ یہ خدا کا کلام نہیں ان ھذا الاقول البشر بلکہ یہ آدمی کا کلام ہے۔ اس عناد کی سزا یہ ہے کہ ساصلیہ سقر کہ ہم اس کو ابھی سقر میں داخل کریں گے۔ یہ جہنم کے ایک طبقہ کا نام ہے جس میں اس قسم کے معاندین ڈالے جائیں گے۔ پھر سقر کی ہولناک حالت بیان کرنے کے لیے جیسا کہ محاورہ عرب ہے فرماتا ہے وما ادراک ماسقر کہ اے محمد ﷺ یا اے مخاطب ! کیا آپ جانتے ہیں کہ سقر کیا ہے پھر اس کی چند صفت بیان فرماتا ہے۔
اول قول۔ لاتبقی ولاتذر کہ کسی جنس کو جو اس میں داخل ہونے کے قابل ہے باقی نہیں چھوڑے گی یا یہ کہ ہڈی اور گوشت پوست کو باقی نہ چھوڑے گی، جلا دے گی اور پھر جلانے سے وہ چھوٹ نہ جائیں گے باردگر جسم تیار ہوگا اور جلے گا ابدالآباد یہی معاملہ رہے گا۔
دوم۔ لواحۃ للبشر آدمیوں کو بڑی دور سے دکھائی دینے والی ہے۔ کمافی قولہ وبرزت الجحیم آخرت میں دور سے نظر آئے گی اور جو آنکھیں رکھتے ہیں ان کو یہیں سے دکھائی دیتی ہے یا یہ معنی کہ جھلس دینے والی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں عرب بولتے ہیں لاحہ الحر والبردوالحزن والسقم اذا غیّرہ۔ (3) اس کے داروغہ جو اس پر معین کئے گئے ہیں انیس شخص ہیں۔ علیہا تستعہ عشر ان انیس فرشتوں کی تعداد بیان کرنے کی وجہ 1 ؎ تو وہی ہے کہ جو آیندہ آیات میں حق سبحانہ ٗ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کی آزمائش اہل کتاب کی تصدیق ایمانداروں کے ایمان کا استحکام مگر تعداد میں جو کچھ حکمت ہے اس کی بابت علماء کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ کہ دوزخ غضب و قہرِ الٰہی کا مظہر ہے جیسا کہ جنت رحمت کا مظہر ہے اور تمام کارخانوں کے انجام کے لیے روحانیت و ملائکہ متعین ہیں۔ عرش ‘ کرسی ‘ سات آسمان چار عنصرآب ‘ آتش ‘ ہوا ‘ خاک اور تین موالیدِ ثلٰثہ حیوانات نباتات و جمادات اور پھر حیوانات میں سے انسان اشرف ہے اس کی بنیاد اور اجرائِ کار ان تین لطیفوں پر ہے طبع کا محل اس کا جگر ہے قلب کہ فرحت و سرور اور حیات کے کارخانے اس سے متعلق ہیں اور دماغ کہ حس و ادراک اس سے متعلق ہے۔
یہ سب انیس چیزیں ہوئیں ان انیس چیزوں کے موکلات ملائکہ ہیں۔ عذاب دوزخ کے سرانجام دینے کو بھی وہی انیس ملائکہ موکل ہوں گے۔ ان میں جو موکل عرش ہے وہ مالک ہوگا اس کو وہاں کے کارخانہ کا بادشاہ سمجھنا چاہیے اور کرسی کا فرشتہ اس کا دیوانہ اور اسی طرح ہر آسمان کا فرشتہ ایک ایک خدمت پر معین ہوگا اور اسی طرح عناصر کے فرشتے اپنے اپنے موافق سرانجام دیں گے۔ معدنیات کا فرشتہ لوہے کی زنجیریں ڈالے گا۔ نباتات کا زقوم کا درخت کھانے کو دے گا، حیوانات کا سانپ بچھوئوں کو ڈسنے کے لیے متعین کرے گا، طبع کا موکل پیاس بھوک دے گا کہ الجوع الجوع اور العطش العطش کریں گے۔ قلب کا فرشتہ خوف اور غم اور بےحد رنج دے گا دماغ کا فرشتہ جو عقل کا محل ہے ان کو اس کی گزشتہ خطائوں پر متنبہ کرے گا اور ان کے خیالات فاسدہ و تخیلات باطلہ کی کہ جس میں وہ گرفتار تھے قلعی کھولے گا جس پر حسرت اور افسوس پر افسوس ہوگا۔
دوسرا قول۔ ارباب حکمت کا قول ہے کہ نفس انسانیہ کا خراب اور درست ہونا اس کے قوٰی کی خرابی و اصلاح پر موقوف ہے اگر اس کے قوٰی نیک اور عمدہ باتوں میں صرف ہوتے ہیں تو نفس ناطقہ کمال کو پہنچتا ہے اور بعد مفارقت بدن اس کمال کے سبب عالم قدس میں آرام پاتا ہے اور اگر برے کاموں میں صرف ہوتے ہیں تو اسفل چیزوں میں داخل ہو کر جہنم میں جاتا ہے کیونکہ اسفل اور خسیس چیزوں کا وہی مقام ہے اور انسان میں انیس قوت ہیں کیونکہ دس تو قوائے حیوانیہ ہیں۔ پانچ ظاہریہ جن کو حواس خمسہ کہتے ہیں۔ آنکھ، ناک، دیکھنا، سونگھنا، ٹٹولنا، سننا، چکھنا اور پانچ باطنیہ ہیں حس مشترک وغیرہ اور سات قوائے طبعیہ ہیں۔ جاذبہ، ماس کہ، ہاضمہ، دافعہ، غاذیہ، نامیہ، مولدۃ اور دو قوت اور ہیں ایک قوت غضبیہ دوسری شہویہ سب انیس ہوئیں۔
پس جب منشاء و فسادیہ انیس قوتیں تھیں تو انتقام کے گھر میں ہر ایک قوت کی ناشکری میں ایک فرشتہ عذاب کے لیے معین ہوگا تاکہ انیس قسم کا عذاب ہو اور ہر قوۃ کا مزہ چکھے۔ دنیا کے عمدہ نظاروں کے بدلہ ہیبت ناک چیزیں دیکھنی پڑیں، مزیدار اور پر شہوت نغمات کے بدلہ رنج دہ باتیں سنتی پڑیں علیٰ ہذا القیاس۔
تیسرا قول علمائِ کلام کا ہے کہ دوزخ کے سات درازے ہوں گے۔ ایک دروازہ پر کہ جس میں سے مسلمان گناہگار جائیں گے صرف ایک ہی فرشتہ نگہبان ہوگا کس لیے کہ اس نے تین باتوں میں سے صرف ایک ہی ترک کی تھی اور وہ تین یہ ہیں، اعتقاد بالجنان قرار ‘ باللسان عمل بالارکان اور باقی چھ دروازوں پر تین تین فرشتے ہوں گے۔ ہر ایک فرشتہ ایک ایک بات کی پرستش کرے گا عذاب دینے کے لئے، اس لیے انیس ہوئے۔
چوتھا قول واعظوں کا ہے وہ کہتے ہیں دن رات کے چوبیس گھنٹے یا گھڑی یا ساعت ہوتی ہیں۔ پنجگانہ نماز کی برکت سے پانچ گھنٹوں کو تو معاف کیا جائے گا باقی ہر ایک گھنٹے کے ضائع کرنے پر ایک فرشتہ عذاب کے لیے معین ہوگا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے۔ اس تعداد پر کفار مکہ مضحکہ کرتے تھے۔ چناچہ ابوالاشد نے قریش سے کہا کیا غم ہے قیامت کے دن دس کو دائیں کندھے سے پھینک دوں گا اور نوکو بائیں سے اور ہم نکل کر جنت میں سیدھے چلے جائیں گے۔ اور ابوجہل نے کہا اے قریش ! تمہاری اس قدر جماعت ہے کیا ہم میں سے سو آدمی ایک کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ ان بیہودہ دماغوں کو دوزخ کے داروغوں کی حالت بیان کرنے کے لیے یہ بھی فرمایا گیا۔ وماجلعنا اصحٰب النار الاملائکۃ کہ ہم نے دوزخ پر اور کوئی معین نہیں کئے بلکہ فرشتہ جن کی قوت کا بنی آدم کی قوت سے نسبت نہیں۔ ایک فرشتہ لاکھوں کروڑوں کو کافی ہے اور نیز وہ غیرجنس ہیں رعایت مروت رحم بھی نہ کریں گے۔ وماجعلنا عدتہم الافتنۃ للذین کفروا اور ان کی تعداد انیس کافروں کے عذاب کے لیے ہم نے کی تاکہ انیس قسم کا عذاب کریں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ کافر آزمائش میں پڑیں، ان کی تعداد کو کم سمجھ کر تمسخر کریں اور کفر میں دلیر ہوں تقدیرِ الٰہی میں ان کا گمراہ ہونا بھی ٹھہر چکا ہے۔
اس کے بعد ظاہر کرتا ہے کہ اس تعداد کے بیان کرنے میں چار فائدے ہیں۔ (اول) لیستیقن الذین اوتوالکتاب تاکہ اہل کتاب کو محمد ﷺ کی نبوت کا کامل یقین ہو کس لیے کہ وہ فرشتوں کی طاقت کے قائل تھے۔ سدوم اور عمورہ لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو دو فرشتوں نے ہلاک کردیا تھا۔ توریت سفر پیدائش کے 19 باب میں یہ واقعہ موجود ہے اور اس کے علاوہ اور بہت واقعات ہیں جن سے فرشتوں کی طاقت معلوم ہوتی ہے اور اس بات کے بھی اہل کتاب قائل تھے کہ جہنم میں کفار و بت پرست ڈالے جائیں گے اس بات میں بھی اس آیت سے دارآخرت کے معاملہ میں ان کو وثوق اور تعین ہونا ایک معقول بات ہے۔ کس لیے کہ یہود میں دو فرقے تھے۔ ایک قیامت اور وہاں کے عذاب اور حشر برپا ہونے کا منکر تھا اور ان کو صدوقی کہتے تھے۔ چناچہ اس معاملہ میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے کئی خاوند والی عورت کی بابت ایک سوال بھی کیا تھا کہ اگر قیامت برپا ہوئی تو وہ کس کو ملے گی۔ انجیل متی باب 22۔ اور ایک فریق قیامت کا قائل تھا یہ بیان ان کے اعتقاد اور آخرت اور وہاں کے عذاب وثواب کو قوت دینے والا ہے۔ اس لیے ان کو اس کے یقین کرنے میں کچھ تامل نہیں ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا بھی خدا ترس اہل کتاب کو یقین کرنے کا موقع ہے جس نے ایک مختلف فیہ مسئلہ آخرت کا فیصلہ کردیا۔
(2) ویزدادالذین امنوا ایمانا کہ ایمانداروں کا ایمان زیادہ ہوجائے یعنی اور بھی تقویت ہوجائے کس لیے کہ اب تک قرآن میں جہنم کی زیادہ تشریح نہ تھی اس سے ان کے اعتقاد میں اور بھی قوت ہوجائے گی کس لیے کہ اجمال کے بعد تفصیل علم اور یقین کو قوی کرنے کی بات ہے۔ (3) ولایرتاب الذین اوتوا الکتاب والمومنون تاکہ اہل کتاب اور ایمانداروں کو آخرت کے بارے میں شک نہ ہو یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت میں شک نہ ہو۔ ان کو شک نہ تھا مگر اور اہل شک پر اس میں تعریض ہے۔ اس لیے یہ جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔ (4) ولیقول الذین فی قلوبہم مرض والکافرون ماذا اراد اللہ بہذا مثلاً تاکہ جن کے دلوں میں شک ہے اور منکر ہیں یہ کہیں کہ اس مثل یعنی بیان سے اللہ نے کیا ارادہ کیا ہے ؟ یعنی وہ اس میں نکتہ چینی کر کے اور زیادہ گمراہ ہوں اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے، کذلک یضل اللہ من یشاء ویہدی من یشاء کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے یا اس کے لیے اسباب ہدایت پیدا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے یا اسباب گمراہی پیدا کرتا ہے۔ ہدایت و گمراہی اس کی طرف سے ہے یعنی جس طرح جہنم اور اس کے کارکنوں کے بارے میں کسی کو سمجھ میں آنے اور ایمان لانے سے ہدایت ہوئی اور کسی کو سمجھ میں نہ آنے اور انکار کرنے سے گمراہی ہوئی ہر معاملہ میں ایسا ہی کرتا ہے کسی کو اس بات کے سر سے مطلع کرتا ہے اور اس کے دل میں اس بات کی تہ تک پہنچنے کی قابلیت پیدا کرتا ہے اور کسی کو نہیں ہوتی اس لیے شک اور تردد میں پڑ کر انکار و تمسخر سے پیش آتے ہیں یہی وہ ضلال مبین ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ انیس تو سردار ہیں باقی ہر ایک کے متعلق جس قدر تعداد کثیر تابع ہے وہ بیشمار ہے۔ ومایعلم جنووربک الاھو وہ بیشمار لشکر تیرے رب کے ہیں جن کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ امام احمدوترمذی و ابن ماجہ نے ابوذر ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ آسمان چڑچڑ بولتا ہے اور بولنا چاہیے۔ کس لیے کہ کوئی انگلی دھرنے کی جگہ بھی ایسی نہیں کہ جہاں ایک فرشتہ سجدہ میں نہ پڑا ہو۔ عالم محسوس میں ٹڈیوں اور چیونٹیوں اور مچھر وغیرہ چھوٹے چھوٹے جانوروں کی تعداد پر عقل حیرت میں آجاتی ہے۔ پھر عالم روحانی کی وسعت اور وہاں کے رہنے والوں کی تعداد اس کے سوا اور کون جان سکتا ہے ؟ پھر فرماتا ہے وماھی الاذکریٰ للبشر کہ جہنم انسان کے لیے ایک نصیحت دینے والی چیز ہے کہ اس کے حالات سن کر غضب و قہرِ الٰہی سے ڈریں اور نافرمانی سے باز آئیں نہ کہ یہ سن کر انکار کریں اور تمسخر سے پیش آئیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں ماھی کی ضمیر آیات کی طرف راجع ہے جو جہنم کی کیفیت بیان کر رہی ہیں کہ یہ آیات بشر کے لیے پندونصیحت ہیں۔
فائدہ : اس سورة کے نازل ہونے کے وقت مکہ میں نہ اہل کتاب تھے نہ وہاں کوئی منافق تھا کہ جن کے دلوں میں شک کا مرض ہو پھر ان آیات میں اہل کتاب کا ذکر آنا تاکہ اہل کتاب یقین کریں اور ان کے اور ایمانداروں کے دلوں میں شک نہ پیدا ہو اور اسی طرح منافقوں کا ذکر آنا تاکہ جن کے دل میں شک ہے اور کفار یہ کہیں کہ اگر یہ اللہ کا کلام ہے تو اس کے اس بیان سے کہ جہنم پر انیس فرشتے ہیں کیا مراد ہے، ایک بےموقع ذکر معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ دین مکہ کے پہاڑوں ہی میں بند نہ رہے گا بلکہ دنیا میں پھیلے گا اور یہ بھی معلوم تھا کہ نبی (علیہ السلام) مدینہ میں تشریف لے جائیں گے وہاں منافق بھی ہوں گے اور اہل کتاب بھی اور وہ اس سورة مبارکہ سے بھی مطلع ہوں گے اس لیے ان کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آگیا اور یہ آنحضرت ﷺ کا اعجاز ہے۔ اگر آپ کو منجانب اللہ اس دین اور وحی کے دنیا میں پھیلنے کا کامل وثوق نہیں دلایا گیا تھا تو آپ اس حالت میں کہ مکہ میں بھی آپ کو امن نہ تھا اور وہیں کے سرکشوں کو زیر کرنا مشکل ہو رہا تھا کس طرح معلوم ہوگیا تھا کہ اہل کتاب اور منافقوں تک بھی اس کی نوبت پہنچے گی ؟ خصوصاً فریبی اور متفنی آدمی تو کبھی بھی ایسی حالت میں اپنی کامیابی پر پورا بھروسہ نہیں کرسکتا اور نہ وہ ایسی بات کہہ سکتا ہے کہ جس پر اس کا تمسخر ہو اور لوگ اس کے درپے ہوجائیں، عقل سلیم ہرگز ہرگز باور نہیں کرسکتی۔
Ayahs 74:17–281 ؎ جھنڈی پر چڑھانا محاورہ ہے بدنام کرنے اور بلا میں مبتلا کرنے کا۔
Ayah 74:292 ؎ جن میں ذرا بھی آدمیت ہے ان کو بدی کرنے پر یہیں سے جہنم دکھائی دی جاتی ہے وہ بدلی کر کے پشیمان ہوتے ہیں اس کی لپٹیں ان کے دل کو جلاتی ہیں اس لیے برے کام نہیں کرتے۔
Ayahs 74:30–311 ؎ انیس شخص یا انیس قسم کے ملائکہ۔ 12 منہ