Ayahs 74:32–47ترکیب : کلار وع لقول الکفا ا نانقدر علی مقاومۃ خزنۃ النار والقمر الواوللقسم انھا الخ ھذا الکلام جواب القسم والضمیر الی سقر واتعلیل لکلاو القسم معترض للتاکید الکبر فی الکشاف انہ جمع الکبریٰ جعلت الف التانیث کتاء التانیث فکما جمعت فعلۃ علی فعل جمعت فعلی علیھا نذیرا بالنصب حال من الضمیر فی انھا قالہ الزجاج وقال الکسائی انہ حال من قولہ قم حال کو نک نذیراللبشر وقال الفراء مصدر بمعنی الانذار منصوب بفعل مقدروقیل تمیز لاحدی لتضمنھا معنی التعظیم وقیل مفعول لہ ای لاجل انذار البشر وقری بالرقع علی انہ خبرہ بعد خبراوبحذف المبتداء لمن شاء بدل من قولہ للبشر والتقدیر انھا نذیر لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر ونظیرہ قولہ اللہ علی الناس حج البیت من استطاع وقیل ان یتقدم فی محل الرفع بالابتداء ولمن شاء خبرمقدم علیہ کقولک لمن توضاء ان یصلی والمعنی التقدم والتاخر مطلقان لمن شاء ھمامنکم۔ رھینۃ اسم بمعنی الرھن کا لشیتمۃ بمعنی الشتم ولیسٹ بصفۃ الرھینۃ النفس لان وزنھا فعیل یستوی فیہ المذکر والمؤنث فلوکانت صفۃ لقیل رھین الا اصحاب الیمین الاستثنار متصل لان المستثنٰی المؤمنون الخالصون من الذنوب فی جنات فی محل الرفع علی انہ مبتداء محذوف ای ھم فی جنات والجملۃ مستانفۃ اوحال من اصحاب الیمین ویمکن ان یکون ظرفا لقولہ یتساء لون حتی غائۃ لامور اربعۃ لم نک الخ۔
تفسیر : کفار کی بیہودہ باتوں کا رد کر کے اب اور دوسرے قسم کے دلائلِ قیامت برپا ہونے اور دنیا میں نبی بھیجنے پر قائم کرتا ہے اور ایک عجیب موثر بیان سے اہل جہنم کی حالت کی تصویر کھینچتا ہے اور الفاظ کے اندرونہ پہلو میں جہنم پر 19 فرشتوں کے ہونے کا سر بھی روزمرہ معاملات سے بتاتا ہے۔ ان چند آیات میں مسئلہ حشر اور وہاں کی کیفیت اور دخول نار کے اسباب اور مسئلہ نبوت اور دنیا کا ابتداء اور انتہا اور انسان کا انجام کار جو اس کے اس دنیا میں آنے کا نتیجہ ہے اور سعادت و شقاوت کے اسباب کن مختصر الفاظ میں بیان فرمائے کہ عقل دنگ ہوتی ہے اور ضمناً مذاہب باطلہ کا رد بھی ہے۔
فقال کلا نہیں نہیں ضرور قیامت برپا ہوگی اور ضرور جہنم کے اوپر انیس فرشتے مقرر ہیں اور تمہارا زور کام نہ آئے گا۔ اور تم جو کہتے ہو نبی کی کیا حاجت بھیجنا بیکار ہے نہیں نہیں اس کی بہت ضرورت ہے۔ اب ان باتوں کے ثبوت میں چند چیزوں کی قسم کھا کر بیان کرنا عرب کے لیے کافی تھا کس لیے کہ وہ قسم کھا کر جھوٹ نہیں بولتے تھے 1 ؎ اور اس کو مصیبت آنے کا سبب تصور کرتے تھے اس لیے فرماتا ہے والقمر والیل اذ دبرو الصبح اذا اسفر تین چیزوں کی ایک چیز ہے کچھ ایسی ویسی بات نہیں جس کو تم ہلکا سمجھ رہے ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جواب قسم محذوف ہو کس لیے کہ وہی جواب قسم ہے جس کی بابت مخاطبین سے ردبدل ہو رہی ہے اس قرینہ سے اس کو حذف کرنا عین بلاغت ہے اور انہا لاحدی الکبر ان تینوں چیزوں کی بابت ہو کہ جن کی قسم کھائی ہے یعنی ہم ان چیزوں کی اس لیے قسم کھاتے ہیں کہ یہ بڑی چیزوں میں سے ہیں اور نذیر اللبشر بھی ان تینوں چیزوں کی نسبت کہنا ان کے واقعی حال کو بیان کرنا ہے یا یہ کہ ہم ان کی قسم انسان کے متنبہ کرنے کو کھاتے ہیں۔ یا یہ معنی کہ محمد ﷺ کو انسان کے متنبہ کرنے کو بھیجا ہے یا یہ کہ قیامت کا واقعہ انسان کے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کو بیان کیا ہے۔
1 ؎ کوئی اولاد کی کفوئی معشولی کے سر کی کوئی مال کی قسم کھاتا ہے کوئی مخدوم اور معزز کی۔ 12 منہ
عرب کے یقین دلانے کو تو صرف ان چیزوں کی قسم کھانا کافی تھا مگر اور لوگوں کے لیے خود ان تین چیزوں میں قیامت اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ثبوت ہے گویا یہ اشیاء ان دونوں مسئلوں کے لیے دلائل ہیں۔ ذرا ان کے حالات میں غور کرے تو خودبخود قیامت کا برپا ہونا آنحضرت ﷺ کا نبی مرسل ہونا ثابت ہوجائے۔ اب اختیار ہے کہ ان کے حالات کو قضا یا بنا کر نتیجہ نکالا جائے یا یوں ہی طبیعت صافیہ سمجھ جائے۔ یہ تینوں چیزیں وجود قیامت پر اس لیے دلیل ہیں۔ چاند اس لیے کہ اس کے نور کا گھٹنا بڑھنا اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے اور یہ نمونہ ہے دنیا کو آباد کر کے بگاڑنے اور پھر دوسرے بار زندہ کرنے کا۔ چاند رفتہ رفتہ روشنی زیادہ دیتا جاتا ہے آخر جب کامل ہوجاتا ہے تو اس کے بعد سے نقصان شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ بالکل غائب ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر چاند نمودار ہوتا اور اگلے مہینے میں روشنی کا نیا نقشہ جماتا ہے۔ اسی طرح دنیا نے تدریجاً ترقی کی اور کرتی جاتی رہی ہے جب پوری ترقی اور اس کی حد پر پہنچ جائے گی تو رفتہ رفتہ انحطاط شروع ہوگا خوب لوگ اور خوبیاں اٹھتی جائیں گی۔ آخر ایک روز فنا ہوجائے گی اور اس تاریکی عدم کے بعد اس کو دوسری زندگانی کا نور بخشا جائے گا جو پھر فنا نہ ہوگا اور اس لیے بھی چاند قیامت کی نشانی ہے کہ قیامت کے قریب اس کا شق ہونا پہلی کتابوں 1 ؎ میں مذکور ہے جیسا کہ فرمایا تھا اقتربت الساعۃ وانشق القمر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر چاند اس لیے دلیل ہے کہ رات کو روشن کرتا ہے جس سے اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں بھی اندھیری ہو رہی تھی اس حکیم نے اپنے فضل سے نبی آخر الزماں بھیجا جو تاریکی دور کرنے والا چاند ہے۔ اور والیل اذادبرو الصبح اذا اسفر میں تو صاف صاف ایما ہے کہ رات کی اندھیریاں پیٹھ پھیر چلیں ظلمت کا زمانہ رخصت ہوتا چلا ہے اور صبح ہدایت روشن ہوتی جاتی ہے اور اسی لیے حضرت کو کہیں چراغ روشن سے کہیں چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے اور ایام جاہلیت کو رات سے۔ اور قیامت کی طرف اس لیے اشارہ ہے کہ دنیا مع اپنے چاند اور ستاروں کے تمام ہوا چاہتی ہے۔ اذادبر اس کا وجود عارضی اور چند روز ہے اور یہاں کی ہستی کدورتوں اور خلش سے صافی نہیں اس لیے اس کو رات سے تشبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت اس کی صبح ہے اخیر زمانہ اور تنویر کے لحاظ سے۔ اب اس کے بعد آفتاب برآمد ہونے والا ہے جس سے دارآخرت اور اس ابدی جہان کی طرف اشارہ ہے وہاں ہر ایک کو اصلی روشنی میں اپنے نیک و بد اور علم و جہل کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔ یہ جہان رات ہے اس میں جو کچھ نور ہے تو وہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہدایت و ارشاد کا نور ہے۔ حق و باطل میں امتیاز کرنے کو اسی قدر روشنی کافی ہے کہ جس قدر چاند سے رات میں پیدا ہوتی ہے مگر انکشاف کلی قیامت کے دن ہوگا جس کی صبح نمودار ہو چلی۔ اس لیے فرماتا ہے انہالاحدی الکبر یہ ایک بڑی بات ہے۔ نذیرا للبشر بشر کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والی ہے۔ جاگو جاگو اے لذات و شہوات کے متوالو ! خدا کی طرف بیدار کرنے والا پکار رہا ہے مگر جاگے کون ؟ وہی تو بشر ہو مگر جو بشریت سے خارج ہو کر حیوانیت میں داخل ہوگیا ہو جس کو رات دن کھانے پینے ‘ سونے ‘ جماع کرنے یا باہم لڑنے کے سوائے اور کوئی کام نہیں۔ کیا جاگے گا ؟
1 ؎ کتاب یسعیاہ (علیہ السلام) کے 24 باب درس 23 میں ہے اور چاند مضطرب ہوگا اور سورج شرمندہ جس وقت رب الافواج کوہ صیحون اور یروشلم پر اپنے بزرگوں کے گروہ کے آگے حشمت کے ساتھ سلطنت کرے گا۔ 12 منہ
فرماتا ہے لمن شاء منکم ان یتقدم او یتاخر اب جو چاہے تم میں سے آگے آئے سعادت کے رستہ میں بڑھ کر قدم رکھے جو چاہے پیچھے ہٹے اور جہنم کے عمیق گڑھے میں جا گرے۔ فمن شاء فلیومن من شاء فلیکفر۔ وقد تبین الرشد من الغی مگر جو پیچھے ہٹے وہ نہ سمجھے کہ میں دارآخرت کی داروگیر سے آزاد ہوجائوں گا۔ میرے اعمال کی بازپرس نہ ہوگی کس لیے کہ کل نفس بماکسبت رھینۃ ہر شخص امیر غریت، شریف و وضیع اپنے اعمال میں گروی ہے چھٹکارا نہیں۔ الا اصحاب الیمین مگر داہنے والے ماخوذ نہیں۔ داہنے والوں سے مراد وہ گروہ ہے جو قیامت کو تخت رب العالمین کے دائیں طرف کھڑا ہوگا اور ان کو ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور روز میثاق بھی وہ دائیں طرف تھے۔ اور یمین یمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی برکت اور بہتری کے ہیں یعنی اہل خیر ایماندار و نیکوکار وہ اپنے اعمال میں ماخوذ نہ ہوں گے۔ کس لیے کہ ان کے اعمال قابل مؤاخذہ ہی نہیں اور وہ اصحاب الیمین اس روز روشن میں کہ جس کی صبح نمودار ہونے والی ہے کہاں رہیں گے۔ فی جنات باغوں میں جہاں اپنے اعمال و ایمان کے پھل کھائیں گے۔ اور یہ ان کی اس گرمی و محنت کا نتیجہ ہے جو خرابہ دنیا میں انہوں نے اٹھائی تھیں۔ یتساء لون عن المجرمین ماسلککم فی سقر گناہگاروں سے پوچھیں گے کہ کس چیز نے تم کو جہنم میں پہنچایا۔ (فی جنات یتسالون کا ظرف بھی ہوسکتا ہے کہ ان باغوں میں رہ کر مجرموں سے پوچھیں گے) اس عالم میں اہل جنت کو اہل النار دکھائی دیں گے کیونکہ حجاب جسمانی جو قرب و بعد کارویت میں فرق پیدا کردیتا ہے اٹھ جائے گا۔ دوزخی ان کو جواب دیں گے لم نک من المصلین کہ ہم دنیا میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اہل صلوٰۃ کی جماعت میں نہ تھے۔ ولم نک نطعم المسکین اور نہ فقیروں محتاجوں کو کھانا کھلاتے تھے یعنی نہ بدنی و روحانی عبادت کرتے تھے اور نہ مالی عبادت کرتے تھے۔ نماز بدنی و روحانی عبادت ہے کھانا کھلانا مالی۔ اہل دنیا کے نزدیک بدنی خدمت مالی خدمت سے آسان تر ہے۔ اس لیے اول نماز نہ پڑھنا ذکر کیا بعد میں کھانا نہ دینا۔ یہ دونوں کام قوت عملیہ کی تکمیل کے رکن ہیں کس لیے کہ تعظیم امر اللہ جو نماز میں ہے اور مشقت برخلق خدا جو خیرات میں ہے تمام اہل عقل و نقل کے نزدیک عمدہ کام ہیں۔ اس کے بعد دو کام قوت نظریہ کے فاسد کرنے والے اور بتائے وکنانخوض من الخائضین اور خدا رسول کی باتوں میں اور غوطہ لگانے والوں کے ساتھ ہم بھی غوطہ لگاتے تھے۔ غوطہ لگانے سے مراد باتیں چھانٹنا انکار کرنا شک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ وکنانکذب بیوم الدین اور ہم روزجزا کو بھی جھٹلایا کرتے تھے۔ کہتے تھے قیامت نہ ہوگی اجی وہاں کی کیا خبر ہے کون دیکھ کر آیا ہے۔ اب تو مزے کرلو۔ یہ دونوں باتیں قوت نظریہ کے خراب کرنے والی بہت کچھ تھیں۔ اعمال نیک بھی نہ کئے، ایمان بھی نہ لائے تھے۔ اور یہ بات کب تک رہی حتی اتئناالیقین یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی اور مرگئے کسی سمجھانے والے کی بات کو نہ مانا اپنی اسی جہالت پر اڑے رہے۔
موت کو یقین اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی بابت دنیا میں کسی کو بھی شک نہیں۔ ملحد ‘ خدا پرست ‘ جاہل ‘ عالم ‘ بدکار ‘ نیک سب اس کے قائل ہیں اور یہ بھی ہے کہ مرنے کے وقت وہ پردہ جو اس جہان اور اس جہان میں پڑا ہے اٹھ جاتا ہے پھر وہاں کی ہر بات دکھائی دینے لگتی ہے یقین آجاتا ہے مگر کیا فائدہ ایمان و عمل کا وقت جاتا رہا اس لیے خود ہی فرماتا ہے۔ فماتنفعہم شفاعۃ الشافعین کہ اس روز سفارش کرنے والوں کی سفارش کام نہ آئے گی۔ کس لیے کہ شفاعت یا ایمان و اعمال صالحہ کرتے ہیں وہ ان کے پاس ہیں نہیں یا حضرات انبیاء و اولیاء کرتے ہیں ان سے بیزاری پیدا کرلی تھی وہ ان سے بیزار تھے۔ ان آیات میں انسان کا انجام بتایا گیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ دارآخرت میں کارآمد یہ باتیں ہیں۔ نماز، خیرات، ایمان، اطاعت خدا و رسول اور ان کے برخلاف کرنے میں سقر میں داخل ہونا یقینی ہے۔
Ayahs 74:48–56ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً کلاروع لھم عن اعراضھم عن التذکرۃ والضمیر فی انہ وذکرہ للتذکرۃ والمصدرذوالتاء یذکر ویؤنث۔
تفسیر : جب قیامت کے مصائب کا یہ حال ہے کہ کسی کی سفارش کفار کو کام نہ آئے گی اور وہ دن آنے والا ہے جس کا پہلا دروازہ موت ہے۔ فمالھم عن التذکرۃ معرضین تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے جو اس روز کے لیے کارآمد نصیحتوں سے منہ پھیرے لیتے ہیں اور منہ بھی کس طرح پر پھیرتے اور بھاگتے ہیں۔ کانہم حمرمستنفرۃ فرت من قسورۃ گویا کہ وہ جنگلی گدھے ہیں جنگل میں شیر کو دیکھ کر یا آواز اور شوروغل سن کر بدک کر بھاگتے ہیں۔ نفع و نقصان کچھ نہیں دیکھتے، سوچتے ہیں نصیحت اور بھلائی سے منہ پھیرنا کبھی کم فہمی اور بےعقلی سے ہوتا ہے کہ اس کے فوائد اس کی سمجھ میں نہیں آتے جیسا کہ کم عمر بچے تحصیل علم سے بھاگتے ہیں اور کبھی طبعی نفرت سے ہوتا ہے باوجودیکہ فوائد معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ بیمار دوا پینے سے اعراض کرتا ہے اور کبھی کسی وہم اور خیالی اندیشہ سے جیسا کہ قصد سے جس میں وہم ہوتا ہے کہ مر نہ جائوں اور کبھی عادات و رسوم کی پابندی اور خسیس لذت اور الفت امرناقابل سے ہوتا ہے جس لیے اس کے خلاف کسی کی نصیحت سننا نہیں چاہتا جیسا کہ عوام جہال اپنے مالوفات اور رسوم بد کے خلاف سننا گوارا نہیں کرتے اور فساق و فجار کی ناپاک خواہش ان کی عقل پر غالب آجاتی ہے وہ شراب ‘ زنا، لواطت اور برے کام نہیں چھوڑتے۔ ان چاروں صورتوں میں عقل سلیم مغلوب ہوجاتی ہے اس لیے ان کو جنگلی گدھوں سے تشبیہ دینا اور ناصح مشفق کو شیر سے جس کی نصیحت کو اپنی قوت متوہمہ کے سبب مضر اور خطرناک جانتا ہے بہت ٹھیک تشبیہ ہے۔ ایک پانچویں صورت اور بھی اعراض کی ہے کہ اس کا تکبر اور غرور نہیں رخصت دیتا کہ کسی اور سے مستفید ہو حالانکہ اس کی بھلائی سمجھتا ہے اس لیے فرماتا ہے۔ بل یرید کل امریٔ منہم ان یوتیٰ صحفا منشرۃ بلکہ اس لیے بھی نہیں مانتے کہ ہر ایک ان میں سے بھی چاہتا ہے کہ اس پر آسمان سے بند اور ملفوف نہیں بلکہ فرامین شاہانہ کے طور پر کھلی ہوئی کتاب اترے یعنی ہر ایک بغیر وسیلہ نبی مرسل خدا پاک سے ہمکلام اور مخاطب ہونے کی ہوس رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعض حکماء کہتے ہیں نبی کی ضرورت نہیں ہر ایک کا واسطہ اس کے رب سے کافی ہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ کفار قریش کہتے تھے کہ ہم آپ کو جب مانیں گے کہ ہر ایک کے پاس آسمان سے ایک فرمان آئے جس میں لکھا ہو کہ یہ فرمان رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف ہے تو محمد ﷺ کا کہنا مان۔ یہی مضمون ایک اور آیت میں بھی ہے کہ حتی تنزل علینا کتابا نقرءہ فرماتا ہے کلا یہ ہرگز نہ ہوگا کس لیے کہ ہر ایک میں اس سے مخاطب ہونے کی قابلیت نہیں کیونکہ نفوس انسانیہ کے درجات متفاوت ہیں بعض کو عالم علوی سے مناسبت ہے اور بعض کو نہیں، دنیاوی کاروبار میں ایک عمدہ کام کی ہر ایک صلاحیت نہیں رکھتا چہ جائیکہ عالم ملکوت کے اسرار پر مطلع ہونے کی۔
یہ تو ان کی خرمستی کی باتیں ہیں بلکہ بات یہ ہے بل لایخافون الآخرۃ کہ وہ آخرت کے معاملات سے ڈرتے نہیں کس لیے کہ ان کا ان باتوں پر ایمان نہیں۔ اگر ان کو کچھ بھی ان پیش آنے والی مصیبتوں کا خوف و اندیشہ ہوتا جیسا کہ دنیاوی امور میں ہوتا ہے اور اس کی چارہ جوئی کے لیے ہر ایک کے پاس دوڑے دوڑے پھرتے ہیں تو ضرور ہمارے نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے دفعیہ کی تدابیر پوچھتے۔
پھر اعادہ کرتا ہے کلا کہ تم جو چاہتے ہو وہ ہرگز نہ ہوگا۔ انہ تذکرۃ یہ قرآن ایک نصیحت ہے فمن شاء ذکرہ جو چاہے اس کو یاد کرے، نصیحت سے مستفید ہو۔ کس لیے کہ اس کا اسی کو نفع ہے اور جو چاہے کہ اور جو چاہے نہ مانے جہنم میں جائے مگر وما یذکرون الا ان یشاء اللہ اس کو یاد بھی وہی کرتے ہیں جن کو یاد کرانا اللہ چاہتا ہے کس لیے کہ ھو اھل التقویٰ و اھل المغفرۃ وہی متقی بناتا ہے اور وہی متقی بنا کر بخش دیتا ہے یا یوں کہو وہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرنا چاہیے۔ تمام نفع و نقصان کی ڈوریاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر جب اس سے کوئی ڈرتا ہے تو وہ بخش دیتا ہے وہی بخشنے کے قابل ہے۔ اس کے ڈر کے ساتھ بخشش لگی ہوئی ہے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے انااھل ان اتقیٰ فلایجعل معہ الٰہ فمن اتقانی فلم یجعل معی الٰہاً فانا اھل ان اغفرلہ۔ (رواہ احمد و الدارمی والترمذی وحسنہ والنسائی و ابن ماجہ و البزار وابوایعلیٰ ) کہ میں ہی اس قابل ہوں کہ مجھ سے ڈرے پس میرے ساتھ کوئی شریک نہ بنایا جائے۔ پھر جو مجھ سے ڈرے گا میرے ساتھ اور معبود نہ ٹھہرائے گا تب میں اس کو بخش دوں گا۔ (اس حدیث کو ترمذی و ابن ماجہ و نسائی وغیرہ محدثوں نے نقل کیا ہے) ۔
یعنی یہاں تقویٰ سے اعلیٰ مرتبہ مراد نہیں کہ جس میں تمام صغائر و کبائر سے مجتنب رہنا شرط ہو۔ کس لیے کہ اول تو ہر ایک بندہ سے اس قسم کا تقویٰ مشکل ہے عبدلک لا المَّا یعنی کون سا تیرا ایسا بندہ ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ (نواب چشتی) دوم ایسے تقویٰ کرنے والے پر مواخذہ ہی نہیں بلکہ شرک سے بچنا مراد ہے اور اس سے وہ اس کے دربار میں راہ پانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اور باقی گناہوں پر اسی کی طرف رجوع کرنے سے مغفرت ہے یعنی اگر مشرک نہیں تو قابل مغفرت ہے۔
سورة کی ابتداء میں تھا کہ اے مدثر ! کھڑا ہو اور لوگوں کو ڈرا۔ اخیر میں کلام کو تمام اس پر کیا کہ اس سے ہی ڈرنا چاہیے اور انجام کار تیری نصیحت کا تقویٰ ہے جس کا پہلا مرتبہ شرک سے بچنا ہے اور بعد اس کے اور مراتب ہیں جس کا انجام مغفرت ہے حاصل یہ کہ خلعت نبوت پہن کر چپ نہ رہ بلکہ متقی بنانے میں کوشش کر اور متقیوں کے لیے میری بخشش تیار ہے۔ ابتداء و انتہائِ کلام میں ایسی مناسبت رکھنا کمال بلاغت ہے۔