Ayah 74:1گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ (المزمل) اور (المدثر) کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ آپ اللہ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ وقاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرمادیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں۔
Ayah 74:2چناچہ فرمایا (قُمْ ) یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں (فَاَنْذِرْ ) یعنی لوگوں کو ایسے اقوال وافعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجئے جن سے مقصد حاصل ہو ان امور کا حال بیان کرکے ڈرایے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ وہ ان کو ان کے ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
Ayah 74:3وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ) یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجے۔ اپنے انداز و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود بنائیں، نیز اسبات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
Ayahs 74:4–5(وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔ اس ایت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ ثیاب کپڑے سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص ان کے ذریعے سے خیرخواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجالانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور، یعنی شرک ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا ہو، جن کے بارے میں بندہ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر، اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علما کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ثیاب سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے خاص طور پر نماز میں داکل ہوتے وقت۔ جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا (والرجز فاھجر) اور ناپاکی سے دور رہیں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ الرجز سے مرادبت اور مورتی ہوں جن کی اللہ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے پس اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کردیں ان سے برات کا اعلان کریں نیز ان تمام اقوال وافعال سے بےزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ الرجز سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں، اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
Ayah 74:6(وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ) یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں انہیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے میں زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جائیے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجئے جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے تب یہ نبی اکرم کے ساتھ مختص ہے۔
Ayah 74:7(وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ) یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے ور اس کا مقصد اللہ کی رضا ہو، پس رسول اللہ نے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا اللہ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کرلیا آپ نے ہر اس ہستی سے برات کا اظہار کیا جو اللہ سے د ور کرتی تھی، اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، اور شرپسندوں سے بےزاری کا اعلان کیا لوگوں پر اللہ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جز یا شکرگزاری کا مطالبہ کریں، آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا پس آپ نے اللہ کی اطاعت پر اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا وقدر پر صبر کیا یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیا ومرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔
Ayah 74:8جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کرکے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا
Ayah 74:9(فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ) تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑاہی سخت ہوگا۔
Ayah 74:10(عَلَي الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ ) کافروں آسان نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوچکے ہوں گے اور انہیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا، اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یقول الکافرون ھذا یوم عسر۔ القمر 8) ۔ کفار کہیں گے یہ دن بڑاہی سخت ہے۔
Ayah 74:11یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں اللہ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے فرمایا (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا) مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا یعنی میں اسے اکیلا، کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ نے بغیر پیدا کیا، پس میں اس کی پرورش کرتا رہا اور اسے عطا کرتا رہا۔
Ayah 74:12(وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا) اور میں سے بہت زیادہ مال دیا۔
Ayah 74:13(وَ ) اور، ، عطا کیے اسے (بَنِيْنَ ) بیٹے (شُهُوْدًا) جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں وہ ان سے متمتع ہوتا ہے ان کے کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور دشمنوں کے خلاف ان سے مدد لیتا ہے۔
Ayah 74:14(وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِيْدًا) اور میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہوگئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی۔
Ayah 74:15(ثُمَّ ) پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود (يَطْمَعُ اَنْ اَزِيْدَ ) خواہش رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں، یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔
Ayahs 74:16–18(كَلَّا ۭ ) یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ( اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا) وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کردیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا (انہ فکر) یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا (وقدر) جس کے بارے میں غور کیا اس کو تجویز کیا کہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کرسکے۔
Ayahs 74:19–20(فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ۔ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ) پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھر وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔
Ayah 74:21(ثُمَّ نَــظَرَ ) پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا۔
Ayah 74:22(ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اور بغض ظاہر کیا۔
Ayah 74:23(ثُمَّ اَدْبَرَ ) پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا (وَاسْتَكْبَرَ ) اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا۔
Ayahs 74:24–25(فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ ۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ) یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے جادوگروں کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے راہ صواب سے کتنا دور خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کرسکتا ہے کہ سب سے اعلی اور عظیم ترین کلام رب کریم صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرات کرتا ہے ؟
Ayahs 74:26–28پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ ۔ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ ۔ لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ ) ہم عنقریب اس کو، سقر، میں داخل کریں گے اور تمہیں کیا معلوم کہ، سقر، کیا ہے ؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گا نہ چھوڑے گی، یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے۔
Ayah 74:29(لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ) ، چمڑی جھلسا دینے والی ہے۔ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انہیں بےچین کردے گی۔
Ayah 74:30( عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ) یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے ور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
Ayah 74:31(وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً ) اور ہم نے جہنم کے داروغے فرشتے بنائے ہیں۔ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ( وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۙ ) اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب، عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (یوم ھم علی النار یفتنون۔ الذاریات 13) ۔ اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ (لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَيَزْدَادَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِيْمَانًا) تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہوگا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایماناس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ (وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ) ، نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔ یعنی تاکہ ان سے شک وریب زائل ہوجائے۔ ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک واوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں پس اللہ نے کو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے بنا بریں (ولیقول الذین فی قلوبھم مرض۔ ) تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہیں، یعنی شک اور شبہ اور نفاق کا مرض ہے (والکافرون ماذا اراد اللہ بھذا مثلا) اور کافر کہیں گے کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیا ہے ؟ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے اللہ کی ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہر مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے اور اسلیے فرمایا 0 کذالک یضل اللہ من یشاویھدی من یشا) اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے پس اللہ جس کو ھدایت عطا کردے جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا اسے اس کے حق میں رحمت اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کردے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں رحمت اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کردے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے خبردی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔
فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمہارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا (الاھو) سوائے اس اللہ کے۔ پس جب تم اللہ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خیبر ہی نے تمہیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک وریب کے بغیر تصدیق کرو۔ (وماھی الاذکری للبشر) یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو ولعب نہیں اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کردیں۔
Ayahs 74:32–37(كَلَّا) یہاں بمعنی (حقا) یا بمعنی (الا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لامحدود وقوت، بےپایاں رحمت ور اس کے احاطہ علم پر دلالت کرتی ہیں۔ جس پر قسم کھائی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (انھا لاحدی الکبر) کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہے۔ یعنی بیشک جہنم کی آگ بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کردینے والا معاملہ ہے۔ پس جب ہم نے تمہیں اس کے بارے میں خبردار کردیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (وقل الحق من ربکم۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ الکھف 29) اور کہہ دیجئے کہ یہ برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہیے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔
Ayah 74:38(كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ) ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے، یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے (رَهِيْنَةٌ) گروی ہے۔ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔
Ayah 74:39(اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ ) ، سوائے دائیں ہاتھ والوں کے، کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں بلکہ وہ آزاد، فرحاں اور شاداں۔