فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ ۟ؕفَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ
تو جو چاہے اسے یاد رکھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then whoever wills will remember it.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ ۟ؕفَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ
تو جو چاہے اسے یاد رکھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then whoever wills will remember it.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muddaththir
اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کر لے
تو جو چاہے اسے یاد رکھے
اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے
اب جو چاہے، اس سے نصیحت حاصل کرلے۔
تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،
پس جو چاہے اِسے یاد رکھے،
تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔
اب جس کا جی چاہے اسے قبول کرلے
تو جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے
سو جس کا جی چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے
سو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے
اب جو چاہے اس سے نصیحت اخذ کرلے۔
تو جو چاہے اسے یاد رکھے۔
So, whoever wills may benefit from it.
So, whoever so wishes may take advice from it.
So, whoever so wishes may take advice from it.
So, whosoever wills receives admonition from it!
So whosoever will may heed.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then whoever wills will remember it.
Let anyone who seeks guidance do so.
So whoever pleases may mind it.
So whosoever willeth may heed it.
Let any who will, keep it in remembrance!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–56
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
سورة الْمُدَّثِّر 40 یعنی ان کا ایسا کوئی مطالبہ ہرگز پورا نہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ یہاں تذکرہ سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ تذکرہ کے لفظی معنی یاد دلانے والی چیز کے ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی رحمت وغضب اور ثواب و عذاب کو یاد دلانے میں بےنظیر ہے اور آخر میں فرمایا کلا انہ تذکرة یعنی بلا شبہ قرآن تذکرہ ہے جسکو تم نے چھوڑ رکھا ہے قسورة کے معنی شیر کے بھی آتے اور تیر انداز شکاری کے بھی اس جگہ صحابہ کرام سے دونوں منقول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
نبی صلعم کے لیے تسلی: یہ ان ہٹ دھرموں سے اظہار بے نیازی اور نبی ﷺ کے لیے پیام تسلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے ضدیوں کی زیادہ نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک یاددہانی ہے جو انھیں کر دی گئی۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور سیدھی راہ اختیار کرے۔ اگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے، نہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے نہ رسول کا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ پکڑنے سے پہلے لوگوں کو یاددہانی کر دیتا ہے تاکہ اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے اور رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اس یاددہانی کو لوگوں تک پہنچا دے۔ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینا نہ رسول کی ذمہ داری ہے اور نہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 1 لیکن اس کے لئے جو اس قرآن کے واعظ اور نصیحت سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
21: یعنی یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہر شخص کو الگ کتاب دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمیشہ کسی پیغمبر کے واسطے سے بھیجی جاتی ہے، کیونکہ اگر ہر شخص پر براہ راست کتاب بھیجی جائے تو اول تو ایمان بالغیب کا تصور ہی ختم ہوجائے تو سارے امتحان کی بنیاد ہے، دوسرے تنہا کتاب انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہوسکتی، جب تک پیغمبر کی شکل میں کوئی معلم ساتھ نہ ہو۔ وہی انسانوں کو کتاب کا صحیح مطلب سمجھاتا ہے، اور وہی اس پر عمل کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے، ورنہ ہر شخص کتاب کی من مانی تشریحات کر کے اس کا سارا مفہوم ہی خراب کرسکتا ہے۔ 22: یعنی یہ بےسرو پا اعتراضات کسی حق طلبی کی وجہ سے نہیں کیے جا رہے ہیں، بلکہ ان کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
کلا انہ ............................ ذکرہ یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔ یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی (یہ کتاب) ایک پر اتری تو کیا ہوا، کام تو سب کے آتی ہے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
آیت 56{ وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط } ”اور یہ لوگ نصیحت اخذ نہیں کریں گے ‘ مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔“ { ہُوَ اَہْلُ التَّقْوٰی وَاَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ۔ } ”وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا مجاز۔“ یہ اسی کا حق ہے کہ اس کا تقویٰ اختیار کیا جائے ‘ اس کے احکام کی پاسداری کی جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
25 اگر ہم ایسے کھلے خط ان کے نام بھیج بھی دیں تو بھی یہ لوگ کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اسے بھی جادو کا کرشمہ قرار دے دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ نہ ان کا آخرت پر ایمان ہے اور نہ یہ اپنے مواخذہ سے ڈرتے ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ کر جواب تو وہی آدمی دیتا ہے جسے مواخذہ کا ڈر ہو۔ اور جو مواخذہ کا خطرہ ہی نہ سمجھتا ہو وہ جو چاہے بک دے۔ اس کا کیا بگڑتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
25۔ تقوی بھی صرف اسی سے اختیار کرنا چاہئے، اور مغفرت بھی صرف وہی کرسکتا ہے۔ دوسروں سے خوف یا طمع دونوں لاحاصل ہیں۔ حدیث نبوی ﷺ میں حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے۔ قال ربکم انا اھل ان اتقی فلایشرک بی شیء فاذا اتقانی عبد فانا اھل ان اغفرلہ۔ ” حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہی اس قابل ہوں کہ بندہ مجھ سے ڈرے اور میرے ساتھ کسی کام میں کسی کو شریک نہ کرے تو جب بندہ مجھ سے ڈرا، تو میری بھی شان یہ ہے کہ اس کی مغفرت کردوں “۔ (آیت) ” کلا انہ تذکرۃ “۔ اسی قرآن ہی پر غور، تامل و تدبر سے پورا ایمان وایقان حاصل ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” فمن شآء ذکرہ “۔ جو شخص طلب وقصد رکھے، قرآن مجید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
ترجمہ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے (کلا) استفتاح کیلئے بمعنی الا ہے (اذا) ذال کے فتح کے ساتھ (دبر) بمعنی جاء بعد النھار اور ایک قرأت میں اذا دبر ذال کے سکون کے ساتھ، اس کے بعد ہمزہ بمعنی مضی یعنی گیا، اور قسم ہے صبح کی جب کہ روشن ہوجائے کہ یقینا جہنم بڑی بھاری چیزوں میں سے ایک ہے یعنی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے، بنی آدم کو ڈرانے والی ہے (نذیرا) احدی سے حال ہے (نذیرا) کو مذکر لایا گیا ہے اس لئے کہ (سقر) عذاب کے معنی میں ہے، ہر اس شخص کے لئے جو تم میں سے ایمان کے ذریعہ خیر یا جنت کی طرف آگے بڑھے یا (لمن شاء) البشر سے بدل ہے، (اس شخص کے لئے بھی) کہ وہ نار کی طرف کفر کے…
Read the full tafseer →فمن شاء ذکرہ . جو نصیحت پذیر ہونا چاہے وہ اس کو یاد رکھے۔ فاء سببی ہے۔ نصیحت پذیری کو انسانی مشیت سے وابستہ کرنا بظاہر لفظ تو تخییر ہے (یعنی انسان کو نصیحت پذیر ہونے کا اختیار دیا گیا ہے) لیکن معنوی حیثیت سے یہ زجر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
(53۔ 55) یہ ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے ڈرتے نہیں یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے نصیحت ہے سو جس کے نصیب میں اس سے نصیحت حاصل کرنا ہوگا وہ اس سے نصیحت حاصل کرلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
کلا انہ تذکرۃ…: یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہرگز درست کی ، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
کلاانہ تذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔ واھل المغفرہ یہ سچی بات ہے کہ قرآن سراپانصیحت ہے پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ اسے چاہے، عام قرات یذکرون ہے، ابوعبید نے اسے پسند کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلابل لایخافون الاخرۃ۔ اس میں بھی صیغہ غائب کا ہے، نافع اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ یہ عام ہے، سب اس یذکرون کی تخفیف پر متفق ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کا حق رکھتا ہوں کہ مجھ سے ڈرایاجائے پس جو مجھ سے ڈرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
34۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔ 35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت…
Read the full tafseer →[فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَه : تو جو چاہے وہ یاد کرے اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
﴿كَلَّا 1ؕ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ0053﴾ (حقیقت میں بات یہ ہے کہ یہ آخرت سے نہیں ڈرتے نہ انہیں آخرت کا یقین ہے اور نہ وہاں کے عذاب کا خوف ہے اسی لیے ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
تنبیہ برانکار مجرمین وبیان قانون جزاء وسزا درروز قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا والقمر والیل اذ ادبر ........ الی ....... ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار ومنکرین کی کچھ بےہودہ خصلتوں اور انکی نافرمانی کا ذکر تھا اور یہ کہ وہ کس طرح پیغمبر خدا اور وحی الہی کا مذاق اڑاتے تھے اب ان آیات میں ایسے مجرمین ومنکرین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ ایسی ذلیل حرکات سے باز آجائیں ساتھ ہی قیامت کے روز جزاء وسزا کا قانون بھی بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ اہل ایمان کیسی راحتوں اور نعمتوں میں ہوں گے اور کفار ومشرکین جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان پر حسرت وندامت کا کیا عالم ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
21:۔ ” کلا انہ تذکرۃ “ کلا حرف ردع ہے یا بمعنی حقا یقینا قرآن تذکرہ ہے اور عبرت و نصیحت اور راہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے اس کی موجودگی میں کسی دوسری کتاب یا تحریر کی کوئی ضرورت نہیں۔ فمن شاء ذکرہ، اب جو چاہے اسے پڑھے، بار بار دہرائے اور اس پر عمل کر کے دین و دنیا کی سعادت حاصل کرلے۔
Read the full tafseer →فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَہٗ 55 ۭ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ترکیب : معرضین حال من الضمیر فی متعلق الجارو المجرور ‘ فما مبتدء لھم خبرہ کانھم الجملۃ حال من الضمیر فی معرضین علی التداخل مستنفرۃ قراء الجمہور بالکسر یقال نفرواوا ستنفروامثل سخرواستسخرو عجب واستعجب و قریٔ بالفتح قال ابوعلی الفارسی الکسرۃ اولی۔ فرت الخ حال بتقدیر قد والقسورۃ عندالاکثرالاسد فعولۃ من القسرو ھوا لقہرو الغلبۃ سمی بذلک لانہ یقہرا بساع وقیل جماعۃ الرماۃ قال الازہری اسم جمع للرماۃ لاواحدلہ من جنسہ و قیل ذکر الناس واصواتھم وقیل ظلمۃ اللیل بل یرید عطف علی مقدر یقتضیہ المقام کانہ قیل لایکتفون بتلک التذکرۃ بل یرید الخ کلابل لایخافون اضراب انتقالی لبیان ھذا التنعۃ وقیل کلابمعنی حقاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
کَلَّآ اِنَّـہٗ تَذْکِرَۃٌ۔ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ ۔ (المدثر : 54، 55) (ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاددہانی ہے۔ تو جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی یہ مخالفین سے اظہارِ بےنیازی اور نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں، یہ اگر ایمان نہیں لاتے تو زیادہ درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو ایک یاددہانی اور نصیحت ہے جس سے انھیں آگاہ کردیا گیا ہے۔ ان میں سے جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور سیدھی راہ اختیار کرے۔ اور اگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو خود اس کا انجام بھگتیں گے۔ آپ کا کام انھیں نصیحت کرنا اور ان کے انجام سے انھیں باخبر کرنا ہے تاکہ جب یہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →55 : فَمَنْ شَآ ئَ ذَکَرَہٗ (پس جس کا جی چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے) یعنی جس کا دل چاہے کہ وہ اس کو یاد رکھے اور اس کو نہ بھولے تو وہ ایسا کرے اس کا فائدہ خود اسی ہی کی طرف لوٹے گا۔
Read the full tafseer →54 ۔” کلا “ حق ہے۔ ” انہ “ یعنی قرآن ” تذکرۃ “ نصیحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–56
38۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی…
Read the full tafseer →(فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ ) پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کھول کر بیان کردیا، اور اس کے سامنے دلیل واضح کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–56
عطیہ اس نیت سے نہ دیا جائے کہ بدلے میں عطیہ ملے قول باری ہے (ولا تمنن تستکثر۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ ، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کوئی عطیہ اس نیت سے نہ دو کہ تمہیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ دیا جائے۔ حضن بصری اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اپنی نیکیوں کو زیادہ سمجھتے ہوئے اللہ پر ان کا احسان نہ دھرو کہ پھر اللہ کے ہاں تمہاری یہ نیکیاں گھٹ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اور قرآن کی جو دولت عطا کی ہے لوگوں سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی نیت سے اس کا احسان نہ جتلائیں۔ مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اپنی طاعت کو کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
42 خوف آخرت سے محرومی ‘ محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خوف و اندیشہ نہیں رکھتے آخرت کی گرفت و پکڑ کا۔ سو اس سے ان کے راہ حق سے گریز و فرار کی اصل علت کی نشاندہی فرما دی گئی۔ پس ان کے گریز و فرار کی اصل علت یہ نہیں جس کو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں ‘ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے کہ یہ اس کے وقوع کی توقع ہی نہیں رکھتے ‘ جس کی بناء پر یہ ایسے بےہودہ مطالبات کرتے ‘ اور اس طرح واہی تباہی بکتے ہیں ‘ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آخرت کے عقیدہ و یقین اور خوف خداوندی کے بغیر آدمی قطعی طور پر ایک غیر ذمہ دار اور لا ابالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
اللہ کے مقبول بندوں کی پر سکون زندگیاں اور دوزخیوں کا اقرار جرم تشریح : یہاں داہنی طرف والے نیک لوگ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے۔ جو میدان حشر میں ہونے والی ہے اور جو ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جو اس بات کی ضمانت ہے کہ اس عقیدہ پر ایمان رکھنے والے ہر برا کام کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اس برے کام کا انجام عذاب کی صورت میں ضرور ملے گا۔ تو یہی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ مرنے کے بعد ہم ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ اعمال نامے ملنے کی صورت یہ ہوگی کہ کچھ کو دائیں طرف سے کچھ کو بائیں طرف سے پیچھے سے اعمال نامے دئیے جائـیں گے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو داہنی طرف سے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
آیات 32 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ اور کھری بات ہے چاند اپنی حالت میں گواہ ہے کہ بڑھتاچلا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا اور ختم ہوجاتا ہے یا رات گواہ ہے کہ ہر چیز کو چھپارکھا ہوتا ہے جب جاتی ہے توہرشے سامنے آجاتی ہے ایسے ہی دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کھل کر سامنے آجائے گی اور قیامت بہت بڑی بات ہے لوگوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی جارہی ہے اب یہ تم لوگوں پر ہے کہ اس کی تیاری کرتے رہو اور رسول اللہ کی اطاعت اختیار کرکے اپنے لیے بہتری کا سامان کرتے ہو یا اس نعمت کو چھوڑ کر محروم ہوتے ہو کہ ہر ایک کو اس کے کردار کا پھل ہی ملے گا لہذا کفار اپنے اعمال کے قیدی ہوں گے جبکہ اہل جنت جن کو اعمال نامہ دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
“7 شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی ایک پر اتری تو کیا ہوا کا مت و سب کے آتی ہے۔8 کیونکہ ایمان کی توفیق دینے والا وہی ہے۔
Read the full tafseer →(74:55) فمن شاء ذکرہ :سببیہ ہے من جو شخص، شاء ماضی واحد مذکر غائب۔ مشیتہ (باب فتح) سے مصدر ۔ بمعنی چاہنا۔ ارادہ کرنا۔ ذکر ماضی واحد مذکر غائب ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے یا کیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ پس جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے۔ یعنی اس سے نصیحت حاصل کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–56
لغات القرآن۔ ادبر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ اسفر۔ روشن ہوگیا۔ اھدی الکبر۔ ایک دردناک چیز۔ رھینۃ۔ پھنسی ہوئی۔ لم نک۔ ہم نہ تھے۔ الخائضین۔ دھنسے رہنے والے۔ حمر مستفنرۃ۔ بدکنے والے گدھے۔ فرت بھاگے کھڑی ہوئی۔ قسورۃ۔ شیر صحفا منشرۃ ۔ لکھے ہوئے فرمان۔ تشریح : ہر انسان روزانہ اپنی کھلی آنکھوں سے بہت سی ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد ہیں اور ایک خاص وجود رکھتی ہیں مثلاً چاند کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے۔ کبھی وہ چودھویں کا مکمل چاند ہوتا ہے کبھی وہ گھٹ کر کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ کی طرح باریک ہوجاتا ہے۔ دن اور رات جو باقاعدگی سے آتے اور جاتے ہیں۔ کبھی روشنی کبھی اندھیرا کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
(ف 1) کفار قریش نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کے نام آصمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آنا چاہے کہ محمداللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبی کا یقین اورس یقین کے سبب اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے۔ اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کررہے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
[20] یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جبکہ اللہ کی بھی مشیت یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا جب تک اللہ کی مشیت بندے کی مشیت سے نہ مل جائے۔ اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے کر گزرے تو ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ جو نظم و ضبط اس دنیا میں قائم ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔ انسان کوئی کام اسی وقت کرسکتا ہے جبکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
ف 5: اسلام سے قبل نجات کا مفہوم یہ تھا ۔ کہ لوگ ولیوں اور شہیدوں پر بھروسہ کرکے ہر نوع کے فسق وفجور کا ارتکاب کرتے اور یہ سمجھتے ۔ کہ چونکہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات امادت وعقیدت وابستہ ہیں ۔ اس لئے عذاب اور سزا سے ہمارا بچ جانا یقینی ہے ۔ کچھ لوگ بتوں اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس بات کا مجاز قراردیتے کہ وہ اپنے پچاریوں کو یحسوا لیں گے ۔ اس پر اس قبیل کی آیتیں نازل ہوئیں ۔ جن میں شفاعت کی نفی کی گئی ۔ اور بتایا گیا ۔ کہ جب تک ذاتی صلاحیت نہ ہو ۔ کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی ۔ حل لغات :۔ رھینہ ۔ مصدر سے الیقین ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(55) پس جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ یعنی ہر ایک شخص پر نہ کھلے صحیفے نازل ہوں گے نہ کتاب اتاری جائیگی نہ ہر ایک کو رسول بنایا جائے گا محمد ﷺ پر جو کتاب اتری ہے یہنصیحت ہی نصیحت ہے جس کو ہدایت نصیحت اور آخرت کی نجات منظور ہے وہ اس سے نصیحت قبول کرے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک پر اتری تو کیا ہوا کام تو سب کے آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 6۔ در منثور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام ایسے نوشتے لائیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(نہیں کیا) ہاں ہاں بیشک ! یہ قرآن وہ نہیں جو کفار کہتے ہیں کہ آدمی کا کلام ہے ۔ یا۔۔ سحر ہے ، بلکہ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے۔ تو جس نے چاہا نصیحت لی اس سے ۔ اور) یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے ، کہ (نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے) ۔ ایں سعادت بزور بازو نیست ۔۔۔۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔ تو (وہی ڈرنے کے لائق ) ہے ۔ تو چاہیے کہ اسی کا خوف رکھا جائے ، (اور) وہی (مغفرت ) فرمانے (والا ہے) یعنی مغفرت فرمانا اسی کی شان ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ (So what has happened to them that they are turning away from the Reminder... 74:49) The word tadhkirah (Reminder), in this context, refers to the Holy Qur'an, because the word literally signifies a 'reminder or something that reminds'. The Qur'an is unique in reminding Allah's attributes of perfection, His mercy and wrath, and the reward and punishment. Towards the end, the verse 54 has explained that the 'Reminder' is the Holy Qur'an that is rejected by them. The allergy of the infidels against the Holy Qur'an has been mentioned in verses 50 and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
40 That is, no such demand of theirs will ever be fulfilled.
Read the full tafseer →