74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 74:1–2

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے کپڑے میں لپٹنے والے

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھئے پھر (کافروں کو) ڈرائیے،1۔

1۔ ان آیتوں کا پس منظر یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے تو سورة العلق کی ابتدائی آیتیں (آیت) ” اقرا باسم ربک “۔ الخ) نازل ہوئیں۔ اس کے بعد کسی مصلحت و حکمت خداوندی سے کوئی اور وحی ایک عرصہ دراز تک نہ آئی۔ پھر جب آپ ﷺ اپنی مدت اعتکاف پوری کرکے کوۂ حرا سے اتر کر اپنے کاشانہ مبارک کو آرہے تھے کہ دفعۃ میدان میں ایک زور کی آواز سنائی دی۔ نظر اوپر اٹھائی تو کیا ملا حظہ کرتے ہیں، کہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنی اصلی شکل وہئیت میں بصد جاہ و جلال ایک نورانی تخت پر فضائے آسمانی میں جلوہ افروز ہیں۔ بشر (وہ سیدالبشر سہی) پر یہ پہلی بارتجلی ملکوتی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ ہوئی اور بشریت کے طبعی تقاضوں کا ظہور ہوا۔ آپ ﷺ بکمال اضطرات فورا کاشانہ مبارک میں آگئے اور جیسے جسم میں سردی لگ جانے کے وقت ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کپڑے اوڑھ کر لیٹ رہے اس پر یہ آیتیں سورة المدثر کی نازل ہوئیں۔ (آیت) ” یایھا المدثر۔ المزمل “۔ کی طرح۔” المدثر “۔ رسول ﷺ کا ایک صفاتی نام ہے۔ نزول آیت کے وقت کی آپ ﷺ کی وضع وہئیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور حق تعالیٰ کی طرف سے کمال لطف والتفات کا مظہر ہے۔ آیت سے ظاہر ہوگیا کہ آثار بشری کا صدور ظہور کسی ولی سے تو کیا، کسی نبی بلکہ صدور ظہور کسی ولی سے تو کیا، کسی نبی بلکہ سید الانبیاء تک سے ممنوع ومرفوع نہیں۔ (آیت) ” قم فانذر “۔ یعنی فرائض رسالت کی ادائی میں تندہی اور سرگرمی سے مستعد ہوجائیے۔ قم کے مفہوم میں کمال اہتمام وآمادگی داخل ہے۔ (آیت) ” فانذر “۔ امر وجوبی ہے۔ اور اس سے مراد ساری ہی تعلیم وہدایت ہے۔ محققین نے لکھا ہے کہ فرائض تبلیغ میں عذاب دوزخ سے بچانا ترتیبا بشارت جنت پر مقدم ہے۔
Ayahs 74:3–4

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے،

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے،2۔

2۔ یعنی طہارت ظاہری کا اہتمام رکھیے۔ یدل علی وجوب تطھیر الثیاب من النجاسات للصلوۃ (جصاص) فقہی احکام وہدایات کا نزول ابتدائے وحی ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اور یہ آیت احکام فقہی کی اولین آیات میں سے ہے۔ دوسرے معنی محاورۂ عرب کے مطابق یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے دامن کو ہر خطا ومعصیت کی آلودگی سے پاک وصاف رکھیے۔ قال ابن عباس ؓ لاتلتبسھا علی معصیۃ (ابن کثیر) والعرب تقول فی وصف الرجل بالصدق والوفاء انہ طاھر الثیاب (معالم عن ابن عباس ؓ وقلب فطھر من الصفات المذمومۃ وھو قول اکثر المفسرین (کبیر) تطھیر الثیاب کنایۃ عن تطھیر النفس عما تذم بھا من الافعال وکلمات جمھور السلف دائرۃ علی نحوھذا المعنی فی ھذہ الایات الکریمۃ (روح) قیل معناہ نفسک فنقھا من المعائب (راغب) لیکن ابوبکر جصاص رازی حنفی نے ان معانی سے بشدت انکار کیا ہے، اور کہا ہے۔ ھذا الکلام شدید الاختلال والفساد والتناقض (احکام القرآن) (آیت) ” وربک فکبر “۔ یعنی اللہ ہی کی بڑئی کا اثبات کیجئے بخلاف ان مشرکوں کے جو اپنے دیوتاؤں کے ساتھ اس کا نام لے کر اس کی توہین کیا کرتے ہیں ساری تبلیغ کی اصل اصول تو یہی مسئلہ توحید ہے۔
Ayahs 74:5–7

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور بتوں سے الگ رہئے ،

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور کسی کو اس غرض سے مت دیجئے کہ زیادہ معاوضہ ملے،

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار (کی رضا) کے لء صبر کیجئے،3۔

3۔ (ان سختیوں پر جو راہ تبلیغ میں آپ ﷺ کو پیش آئیں گی، بنیادی عقائد کے بعد اب تعلیم فضائل اخلاق کی مل رہی ہے۔ (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “۔ اپنے اعمال کو کثیر جاننا ان کے عوض میں رجوع خلق یا مدح کی آس لگائے رہنا، یہ سب شریعت میں قطعا ناجائز ہے۔ (آیت) ” ولربک فاصبر “۔ یعنی راہ حق میں صبر، رضائے حق ہی کی خاطر کیجئے۔ اے فاصبر علی طاعتہ واوامرہ ونواھیہ لاجل ثواب اللہ (معالم) لوجہ ربک عزوجل (ابن کثیر) (آیت) ” الرجزفاھجر “۔ یعنی باطنی نجاستوں سے بھی الگ رہیے۔ جس میں شرک کا نمبر اول ہے (آیت) ” والرجز فاھجر “۔ رجز کے معنی بت پرستی اور شرک کے ہیں۔ الرجز عبادۃ الاوثان (قاموس۔ لسان) وقیل ھوالشرک (لسان) خود بت بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ وقیل ھو صنم (لسان۔ راغب)
Ayahs 74:8–10

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

نہ کہ آسان،4۔

4۔ ابتدائی مکہ سورتوں میں عقیدہ توحید کے بعد قدرۃ سب سے زیادہ زور عقیدہ آخرت ہی پر ہے۔ (آیت) ” علی الکفرین “۔ اس قید نے یہ صاف کردیا کہ یوم حشر کے شدائد علی الاطلاق نہ ہوں گے، بلکہ کافروں، منکروں کے ساتھ مخصوص ہوں گے، اور مومنین انشاء اللہ حورو قصور، بلکہ سارے لذائدقرب ولقاء سے محظوظ ہوں گے۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ دیجئے مجھے اور اس کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا،5۔

5۔ (کہ ہم اس سے نپٹ لینے کے لئے کافی ہیں) مراد کافر انسان سے ہے۔ (آیت) ” وحیدا “۔ ظاہر ہے کہ ہر انسان دنیا میں اکیلا ہی آتا ہے، نہ مال اس کے ساتھ ہوتا ہے نہ اولاد۔
Ayahs 74:12–15

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اس کو کثرت سے مال دیا ،

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور پاس رہنے والے بیٹے اور (سب طرح کا) سامان

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اس کے لئے میں نے خوب مہیا کردیا

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر بھی وہ اس کی طمع رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں،6۔

6۔ یعنی ساری موجود نعمتوں کو کفر ان اور بےقدری کی راہ سے حقیر سمجھتا ہے اور ناسپاسی کے باوجود مزید حرص وہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ آیت عام ہے۔ سارے ناشکرے کافروں کے لئے، لیکن تلمیح خاص ہے۔ ولید بن مغیرہ کی طرف، جو اہل مکہ میں ایک بڑاذی اثر شخص اور مال دار اور کثیر العیال تھا۔ (آیت) ” وبنین شھود ا “۔ یعنی یہی نہیں کہ اس کے کئی کئی لڑکے موجود ہیں، بلکہ اس کے سامنے ہی رہتے ہیں، جس سے وہ مزید لطف ومسرت حاصل کرتا ہے اور اس کی نظروں سے غائب نہیں۔ (آیت) ” ومھدت لہ تمھیدا “۔ یعنی جاہ ومال دونوں سے اسے مالا مال کردیا۔ اے اتممت علیہ نعمتی الجاہ والمال واجتماعھما ھو الکمال عند اھل الدنیا (کبیر۔ مدارک)
Ayahs 74:16–17

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے،

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں اسے عنقریب دوزخ کے پہاڑ پر بجبر چڑھا دوں گا،7۔

7۔ (جب اسے اپنی سرکشی ونافرمانی کا مزہ معلوم ہوگا) (آیت) ” سارھقہ صعودا “۔ صعود۔ دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا، اور عذاب یہ صورت دائمی رہے گی۔ اور یہ سزا اس کے اس عناد کی ہوگی جو اسے حق کے ساتھ دنیا میں رہا کیا تھا۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی وہ ہرگز اس قابل نہیں۔ (آیت) ” لایتنا “۔ ایات سے مراد کلام الہی ہے۔
Ayahs 74:18–20

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس شخص نے سوچا، پھر ایک بات تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

سو وہ غارت ہو کیسی بات تجویز کی ،

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر غارت ہوکیسی بات تجویز کی،8۔

8۔ (جو صحت کا کوئی امکان بعید بھی نہیں رکھتی) کلمات تعجیب کی یہ تکرار غایت ذم واستبعاد کے لئے ہے۔ (آیت) ” انہ فکر “۔ اور یہ سوچا کہ قرآن مجید کی بابت کیا رائے قائم کروں۔ (آیت) ” وقدر “۔ سوچ بچار کے بعد رائے بھی قائم کی تو کیسی مہمل اور بےجوڑ کہ قرآن کو نتیجہ سحر بتایا !۔
Ayahs 74:21–22

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر دیکھا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر منہ بنایا اور زیادہ منہ بنایا،9۔

9۔ (قرآن مجید سے غایت کراہت وانقباض ظاہر کرنے کو) (آیت) ” ثم نظر “۔ یعنی ادھر ادھر حاضرین کے چہروں کی طرف دادطلب انداز میں دیکھا۔
Ayah 74:23

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر منہ پھیرا اور تکبر ظاہر کیا،10۔

10۔ قرآن مجید کی اس منظر کشی کا ایک ایک جزئیہ قابل داد ہے۔ انسان اظہار نفرت وکراہت کے وقت منہ ہی نہیں بناتا، بلکہ گردن بھی پھیر لیتا ہے۔ اور اس چیز کی تحقیر کرتا ہوا اپنی بڑائی کی طرف بھی اشارہ کرجاتا ہے۔
Ayahs 74:24–25

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہا یہ تو نرا منقول جادو ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو نرا آدمی ہی کا کلام ہے،11۔

11۔ (جو خدا کا کلام ہو ہی نہیں سکتا) (آیت) ” سحر یؤثر “۔ ایسا سحر جو اہل بابل وغیرہ سے منقول ہو کر آیا ہے۔ اے یروی ویتعلم من سحرۃ بابل ونحوھم (روح)
Ayahs 74:26–29

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں اس کو جلدی ہی دوزخ میں داخل کروں گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ ہے کی چیز ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

جلد کی حیثیت بگاڑ کر رکھ دے گی،12۔

12۔ ذکر اس یوم آخرت کے سلسلہ میں جہنم کی شدت عذاب اور ہولناکیوں کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” ادرک ماسقر “۔ دوسری زبانوں کی طرح عربی فن بلاغت میں بھی کلام میں زور، اثر، جوش وتاکید کے موقع پر سوالات سے کام لیا جاتا ہے۔ (آیت) ” لاتبقی “۔ یعنی کوئی کافر دوزخی ایسا نہ ہوگا جسے وہ اپنے اندر جلانے سے باقی رہنے دے۔ (آیت) ” ولا تذر “۔ یعنی کسی کافر کو اپنے اندر لے لینے سے نہ چھوڑے گی ،
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس (فرشتے) ہوں گے،13۔

13۔ (جو دوزخیوں کو انواع و اقسام کے عذاب دیتے رہیں گے) عجب نہیں جو عذاب دوزخ کے 19 صیغے ہوں اور یہاں مراد ان صیغوں کے افسر فرشتوں کی تعداد کو بیان کرنا ہو۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے کارکن صرف فرشتوں ہی کو بنایا ہے اور ہم نے ان کا عدد کافروں کی آزمائش ہی کے لئے رکھا ہے،14۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل کتاب تو یقین کرلیں گے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جائے گا اور اہل کتاب اور مومنین شک وشبہ نہ کریں گے،15۔ اور نتیجہ یہ ہوگا کہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور کافرو لوگ کہیں گے کہ آخر خدا کا مقصود اس بیان سے کیا ہے،16۔ اللہ اس طرح جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے اور آپ کے پروردگار کے لشکروں (کی تعداد) تو بس وہی جانتا ہے اور یہ (دوزخ کا بیان) انسان کی صرف نصیحت کیلئے ہے،17۔

14۔ (کہ وہ اس عدد متعین کو سن کر اس پر طرح طرح سے مضحکہ کریں گے) (آیت) ” وما ..... ملئکۃ “۔ یعنی یہ دوزخ کے کارکن انسان وغیرہ نہیں فرشتے ہی ہوں گے، جو ہر قسم کی بشری کمزور یوں سے پاک ہیں۔ اور امر الہی کی تعمیل کے سوا اور کچھ جانتے ہیں نہیں، مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ عقائد قطعی اللہ پر ایمان، انبیاء پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، حدوث عالم کا اعتقاد وغیرہا تعداد میں انیس ہی ہوتے ہیں۔ اور عذاب کفار کی اصل چونکہ انہیں عقائد اسلامی کی مخالفت ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ ایک ایک فرشتہ انہیں 19 عقائد اصلی میں سے ایک ایک کے مقابلہ پر ہو، یا یہ کہا جائے کہ انسان کے نفس میں عذاب دوزخ کی بھڑکانے والی انیس رنگ کی صلاحتییں موجود ہیں۔ 15۔ یہ آیت قرآن مجید کے ان دوچار مشکل مقامات میں سے ہے، جن کے متعلق علوم کا باب انشاء اللہ آیندہ کے کسی خوش نصیب مفسر کے لئے ضرور کھلے گا۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے ہاں بھی انیس 19 کے عدد سے متعلق کچھ پیشگوئیاں موجود چلی آتی ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کی نفی ریب لغوی معنی میں ہے اور مومنین کی شرعی معنی میں۔ 16۔ (اور ان لوگوں کا یہ سوال طنز وتعریض کی راہ سے ہوگا) (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض شک و انکار میں مبتلا منافقین یا چھپے ہوئے کافر۔ اے من المنافقین (ابن کثیر) اور جن مفسرین نے یہ کہا ہے کہ سورت تو مکی ہے، اور منافقین کا وجود مکہ میں نہ تھا۔ انہوں نے مرض سے مراد اضطراب اور ضعف ایمان لی ہے۔ وقال الحسن بن الفضل السورۃ مکیۃ ولم یکن بمکۃ نفاق وانما المرض فی الایۃ الاضطراب وضعف الایمان (بحر) لیکن تفسیر کبیر میں اس قول کو نقل کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے اور تائید و توثیق قول جمہور کی کی گئی ہے۔ 17۔ (کہ اسے سن کر ان کے دلوں میں خوف و خشیت پیدا ہو اور وہ ایمان لائیں) (آیت) ” کذلک ..... یشآء “۔ یعنی لوگوں کی ضلالت وہدایت یوں ہی اٹکل پچو نہیں۔ بلکہ اللہ کے قانون مشیت تکوینی ہی کے ماتحت انجام پاتی رہتی ہے۔ (آیت) ” وما .... ھو “۔ یعنی جو تعداد ملائکہ یہاں بیان کی گئی ہے وہ تو کسی حکمت ہی کے ماتحت ہے۔ ورنہ اللہ کے لشکر کا شمار تو بس اسی کے علم میں ہے انسان کے بس میں کہاں ہے۔
Ayahs 74:32–37

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

تحقیقا قسم ہے چاند کی

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی، جب وہ جانے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کو جب وہ روشن ہوجائے

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ دوزخ ایک بہت ہی بھاری چیز ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

بڑا دراوا انسان کے لئے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

یعنی تم میں سے اس کے لئے آگے بڑھنا چاہے، یا پیچھے ہٹنا چاہے،18۔

18۔ یعنی اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہے اور اس کیلئے بھی جو خیر و فلاح سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ غرض یہ کہ جملہ مکلفین کے لئے۔ (آیت) ” والقمر ..... الکبر “۔ موقع قسم پر یہاں تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چاند اور رخصت ہوتی ہوئی رات اور روشن ہوتی ہوئی صبح، اور یہ تینوں چیزیں خاص مناسبت واقعہ قیامت سے رکھتی ہیں، جس پر بطور شہادت انہیں پیش کیا گیا ہے۔ چاند کا اول بڑھنا اور پھر گھٹنا، یہاں تک کہ نظروں سے معدوم ہوجانا ایک نمونہ اور مثال ہے، اس کائنات کے وجود وحدوث، اور نشوونما کا، اور پھر اضمحلال وانحطاط، یہاں تک کہ فناء کا، اسی طرح اس عالم کو آخرت کے ساتھ اختفاء اور اکتشاف حقائق میں بھی وہی نسبت ہے جو رات کو دن کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس عالم کا ختم ہوجانا مشابہ رات کے گزر جانے کے ہے، اور آخرت کا ظہور مشابہ طلوع صبح کے ہے۔ (آیت) ” احدی الکبر “۔ ایک ہی بھاری چیز جس کی کوئی نظر نہیں جیسے اردو محاورہ میں بھی کہتے ہیں کہ ” وہ ایک ہی ہے “۔ یا نظیر کے معنی میں اے لانظیرلھا کما تقول ھو احد الرجال وھی احدی النساء (بحر) (آیت) ” لمن شآء “۔ اس لفظ سے اجازت کا کوئی پہلو ہرگز نہ سمجھا جائے، یہ بیان صرف ارادۂ عبد کا ہورہا ہے اور اہل سنت ارادۂ عبد کی نفی نہیں کرتے، اس کا تو عین اثبات کرتے ہیں۔ نفی صرف اس امر کی کرتے ہیں کہ عبد اپنے ارادہ کا خالق بھی ہے۔