74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

یایھا المدْثر قم . اپنے بستر سے کھڑے ہوجاؤ یا عزم اور حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ ...... 1 ؂ فترۃ الوحی : انقطاع وحی کا زمانہ ‘ غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ پھر کچھ مدت تک مزید وحی نہیں آئی۔ قلب مبارک میں بےچینی بڑھتی گئی۔ شوق میں اضافہ ہوتا گیا آخر المدثر ...... فاھجر تک نازل ہوئی۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اُٹھو اور ہدایت کرو

فانذر . سب لوگوں کو اس عذاب سے ڈراؤ جو مشرکوں کے لیے ہے۔ اس جملہ میں مفعول کا حذف تعمیم کے لیے ہے (یعنی اگر کوئی خاص مفعول ذکر کیا جاتا تو شبہ ہوتا کہ صرف اسی شخص کو ڈرانا مقصود ہے حالانکہ اللہ کے عذاب سے ہر شخص کو ڈرانا مقصود ہے ‘ اس لیے کسی خاص مفعول کا ذکر نہیں کیا) ۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

و ربک فکبر . اس جگہ اور اس کے بعد آنے والے جملوں میں (یعنی فطھر اور فاھجر میں) فاء جزائیہ ہے۔ اصل کلام یوں تھا کہ کچھ بھی ہو ‘ کسی حال میں ہو ‘ اپنے رب کی بڑائی کا اظہار کرو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ربّک فعل محذوف کا مفعول ہو اور فکبّر اس کی تاکید ہو اور اس سے استمرار مقصود ہو (یعنی پیہم اللہ کی بڑائی کا اظہار کرو) ۔ تکبیر کا معنی ہے حدوث اور ہر زوال و نقصان کی علامات سے اللہ کو برتر قرار دینا۔ وجوب وجود اور الوہیت و عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔ کسی ممکن سے کسی طرح ذات ‘ اوصاف اور افعال میں اس کو مشابہ نہ منانا ‘ صرف اسی کے اندر اوصاف کمال تسلیم کرنا اور دوسروں کے اوصاف کو ناقص اوصاف جاننا ‘ عقیدۂ تکبیر ہر شخص پر سب سے اوّل لازم ہے تمام فرائض سے زیادہ اہم ہے ‘ نہ اس کی خلاف ورزی قابل معافی ہے ‘ نہ کسی سے یہ واجب ساقط ہوسکتا ہے۔ حکم شرع سے پہلے محض عقل کی نظر میں بھی یہ عقیدہ واجب تھا اور ہے مگر عقل (بطور خود) اس کی تفصیل کو جاننے سے قاصر ہے (اس لیے ہدایت شرع کی ضرورت ہوئی یعنی یہ عقیدہ خلاف عقل نہیں مگر شریعت کے اظہار کے بغیر اس کی تفصیل کی حدود میں عقل کی رسائی نہیں) ۔ مسئلہ فقہاء نے اسی آیت کی وجہ سے نماز میں تکبیر تحریمہ کو فرض کہا ہے اور ثبوت میں اسی آیت کو پیش کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) قائل ہیں کہ بجائے اللہ اکبر کے جو لفظ بھی تعظیم ہو ‘ اس سے نماز کا انعقاد ہوجائے گا جیسے اللہ اجلّ ‘ اللہ اعظم ‘ لا الٰہ الاّ اللہ ‘ الرحمٰن اکبر وغیرہ۔ آغاز صلوٰۃ کی صحت صرف اللہ اکبر کہنے پر ہی موقوف نہیں کیونکہ حکم ہے اللہ کی بڑائی یعنی عظمت کو ظاہر کرنے اور اس کا اقرار کرنے کا۔ امام ابو یوسف (رح) کہتے ہیں کہ اگر اللہ اکبر اچھی طرح کہہ سکتا ہو (معذور نہ ہو) تو پھر اللہ اکبر کے سوا کوئی دوسرا لفظ کافی نہیں۔ اللہ الاکبر اور اللہ الکبیر کہنا تینوں اماموں کے نزدیک درست ہے۔ ثناء کے موقع پر الف لام بولنا زیادہ بلیغ ہے (حصر پر دلالت کرتا ہے) اور اللہ کے اوصاف کے لیے افعل التفصیل (یعنی الاکبر) اور فعیل (یعنی الکبیر) دونوں برابر ہیں۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک اللہ اکبر اور اللہ الاکبر کے علاوہ تحریمہ کے موقع پر تمام الفاظ غیر صحیح ہیں۔ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) صرف اللہ اکبر کے جواز کے قائل ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تکبیر تحریمہ کے متعلق ہی نہیں ہے۔ صحیحین میں آیا ہے کہ یہ آیت قرآن سب سے پہلے (یعنی اقرأ کے بعد) نازل ہوئی اور یہ واقعہ فرضیت نماز سے پہلے کا ہے (اس لیے نماز کی تکبیر تحریمہ اس جگہ مراد نہیں) اگر کہا جائے کہ نماز سے باہر تکبیر کہنا تو واجب نہیں اور ربّک فکبّر میں امر وجوب کے لیے ہے اس لیے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کی تکبیر تحریمہ ہی اس آیت میں مراد ہے۔ یہ قول قابل تسلیم نہیں کیونکہ نماز سے باہر بھی تکبیر فرض ہے۔ تکبیر نام ہے اعتراف توحید کا اور اعتراف توحید انسان کا اوّل ترین فرض ہے۔ اس کا سقوط ممکن ہی نہیں۔ تکبیر تحریمہ کے سلسلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نماز مجمل ہے (قرآن میں اس کی ہیئت ‘ ترتیب ‘ تعدد وغیرہ کی تفصیل نہیں) رسول اللہ ﷺ کا عمل اس کا بیان ہے اور عمل رسول اللہ ﷺ سے بتواتر ثابت ہے کہ آپ تحریمہ کے لیے اللہ اکبر ہی کہتے تھے۔ اس کے علاوہ نہ حضور اقدس ﷺ سے کوئی روایت ہے ٗ نہ کسی صحابی کا کوئی عمل منقول ہے کہ حضور ﷺ نے یا کسی صحابی ؓ نے ان الفاظ کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے نماز شروع کی ہو بلکہ حدیث رفاعہ بعض سلسلوں سے اس طرح آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کسی شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں فرماتا جب تک وہ پورا پورا وضو کر کے قبلہ رو نہ ہو اور اللہ اکبر نہ کہے۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

و ثیابک فطھر . اپنے کپڑوں کو پاک کرو یعنی اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلو۔ قتادہ ‘ مجاہد ‘ ابراہیم ‘ ضحاک ‘ شعبی ‘ زہری ‘ عکرمہ نے کہا حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا معنی پوچھا گیا تو فرمایا : گناہ اور گندگی کی حالت میں لباس نہ پہنو ‘ پھر فرمایا : کیا تو نے غیلان بن سلمہ ثقفی کا شعر سنا ہے۔ ؂ وانّی بحمد اللہ لا ثوب فاجر لبست ولا من عذرۃ اتقنع حضرت ابی بن کعب ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اپنے اعمال کو ٹھیک کرلو۔ سدی نے کہا : نیک اعمال آدمی کو پاک کپڑوں والا اور بد کردار آدمی کو ناپاک کپڑوں والا کہا جاتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اپنے دل اور گھر کو پاک کرلو۔ حسن بصری (رح) نے کہا : اپنے اخلاق کو اچھا بناؤ۔ ابن سیرین اور ابن زید نے کہا : آیت میں کپڑوں کو پاک رکھنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ مشرک اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے تھے۔ طاؤس نے کہا : اپنے کپڑوں کو طویل نہ کرو ‘ کپڑوں کا لمبا نہ ہونا ان کی تطہیر (کا سبب) ہے۔ میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ کپڑوں کو پاک رکھنے کا حکم تو عبارت النص اور الفاظ سے واجب ہی ہے اور بدن کو پاک کرنے کا حکم دلالت النص سے بدرجۂ اولیٰ معلوم ہو رہا ہے ‘ بہ نسبت کپڑے کے بدن کا مرتبہ اونچا ہے اور بدن کو خدا سے زیادہ قرب حاصل ہے تو جب اللہ تعالیٰ کپڑوں کی ناپاکی کو پسند نہیں فرماتا تو بدن کی ناپاکی کو کیسے پسند فرما سکتا ہے اور اس سے بھی اہم نفس اور قلب کی طہارت ہے۔ قلب کو بدن سے بھی زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہے۔ بیشک اللہ توبہ شعار اور پاکیزہ لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ مسئلہ فقہاء نے اس آیت سے نماز کے لیے کپڑوں کی اور جگہ کی اور بدن کی طہارت نجاست حقیقیہ سے ضروری قرار دی ہے۔ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس آیت سے (صرف) نماز کے لیے طہارت کی شرط لگانا درست نہیں بلکہ تینوں قسم کی عمومی طہارت کے واجب ہونے پر ہر حال میں یہ آیت دلالت کر رہی ہے۔ ہاں ! نماز کے لیے تینوں اقسام کی طہارت کے وجوب پر اجماع ہے اور اجماع کی علّت یہ ہے کہ جب جسمانی ناپاکیوں سے پاک رہنے کا حکم ناقابل نسخ آیت سے ثابت ہے تو اخلاقی (اور فکری) نجاستوں سے پاک رہنے کا وجوب بطریق اولیٰ ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت وضو میں فرمایا ہے : ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج ولکن یرید لیطھرکم اور ایک آیت میں (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل ( علیہ السلام) کو خطاب کر کے) فرمایا : طھرا بیتی للطائفین والعاکفین والرکع السجود۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کی طرف سے گزرے اور فرمایا : ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے لیکن کسی بڑی بات کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ہے۔ ایک تو پیشاب سے آڑ نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ایک پیشاب سے پاک نہیں رہتا تھا اور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتا تھا۔ (متفق علیہ)
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور رہو

والرجز فاھجر . مجاہد ‘ عکرمہ ‘ قتادہ ‘ زہری ‘ ابن زید ؓ اور ابو سلمہ نے کہا رجز سے مراد ہیں بت یعنی بتوں کو چھوڑ دو اور ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : گناہ کو چھوڑ دو ‘ ابو العالیہ اور ربیع نے کہا : رُجز کا معنی ہے بت اور رجز کا معنی ہے نجاست اور گناہ۔ ضحاک نے کہا : شرک مراد ہے اور کلبی کے نزدیک عذاب یعنی ایسے عقائد و اعمال ترک کر دو جو موجب عذاب ہیں۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

ولا تمنن تستکثر . یعنی اس غرض کے لیے لوگوں کو اپنا مال نہ دو کہ تم کو اس سے زیادہ دیا جائے ‘ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی قول اختیار کیا ہے۔ قتادہ (رح) نے کہا : کسی کو مال دنیوی بدلہ کے لالچ میں نہ دو بلکہ محض اللہ کے واسطے دو ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے (وجوبی نہیں) ضحاک و مجاہد کا قول ہے کہ یہ حکم (وجوبی) صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا۔ ضحاک نے یہ بھی کہا : سود (حصول مال بلا عوض) دو قسم کے ہیں : ایک حلال ‘ دوسرا حرام۔ حلال سود ‘ تحفے ہدیئے ہیں اور حرام سود (عرفی شرعی) سود ہے۔ حسن بصری (رح) نے اس طرح تشریح کی کہ اپنے اعمال کو کثیر سمجھ کر اللہ پر اپنے اعمال کا احسان نہ رکھو۔ یہ بھی حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ اپنے اعمال کو اپنی نظر میں زیادہ نہ سمجھو۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں وہ کم ہی ہیں۔ مجاہد کا قول خصیف کی روایت سے آیا ہے کہ منین کا معنی ہے ضعیف ‘ مطلب یہ ہے کہ کثرت خیر کی طلب میں کمزور نہ ہو۔ ابن زید نے کہا : نبوت کا لوگوں پر احسان نہ رکھو کہ ان سے دنیوی مال اس کے عوض طلب کرنے لگو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اگر اہل حاجت کو کچھ دو تو اپنے عطیہ کو بڑا سمجھ کر ان پر احساس نہ دھرو۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو

ولبرک فاصبر . یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اس کی طاعت ‘ حکم ممانعت اور مصائب پر صبر کرو۔ اصل کلام تھا : واصبر لربک فاصبر۔ حکم صبر کی تکرار۔ تاکید کے لیے ہے یا اقسام صبر کے گوناگوں ہونے کے زیر اثر۔ مجاہد نے کہا تم کو جو دکھ دیا جائے اس پر صبر کرو۔ ابن زید نے کہا تم پر عرب و عجم کے مقابلہ کا بار عظیم پڑا ہے اس بار کو اٹھانے میں صبر کرو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ قضاء خداوندی پر اللہ کے لیے صابر رہو۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

فاذا انقر . جب پھونکا جائے گا۔ فی الناقور . صور۔ یہ لفظ نقر سے بنا ہے۔ نقر کا معنی ہے آواز پیدا کرنا۔ اصل معنی ہے کسی چیز کو اتنا کھٹکھٹانا کہ آخر اس میں سو راخ ہوجائے۔ پرندہ کی چونچ کو منقاد اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔ صحاح ‘ جوہری ‘ ابو الشیخ ‘ ابن حبان نے کتاب العظمۃ میں وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے سفید موتی سے جو بلور کی طرح چمکدار تھا ‘ صور کو بنایا ‘ پھر عرش کو حکم دیا کہ صور کو پکڑ لے ‘ صور عرش سے معلق ہوگیا پھر کُن فرمایا تو اسرافیل پیدا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کو صور لے لینے کا حکم دیا۔ اسرافیل نے صور لے لیا۔ صور میں ہر پیداہ شدہ روح کی تعداد کے مطابق سوراخ ہیں۔ کسی ایک سوراخ سے دو روحیں برآمد نہیں ہوں گی۔ صور کے وسط میں آسمان و زمین کے چکر کی طرح ایک گول سوراخ ہے جس پر اسرافیل اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کو حکم دیا کہ نفخہ اور صیحہ کی خدمت میں نے تیرے سپرد کی۔ اسرافیل عرش کے اگلے حصہ میں داخل ہوگیا۔ سیدھا قدم عرش کے نیچے اور بایاں قدم عرش کے اندر رکھے ہوئے ‘ اللہ کے حکم کے انتظار میں ہے۔ احمد اور ترمذی نے بسند قوی حضرت زید بن ارقم کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں کس طرح آرام پاؤں ‘ صور والا تو صور منہ میں لیے ‘ پیشانی جھکائے کانوں کو حکم خدا کی طرف متوجہ کیے موجود ہے کہ کب اس کو (صور پھونکنے) کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ بات صحابہ ؓ پر سخت دشوار ہوگئی (کہ جب رسول اللہ : ﷺ کو چین نہیں تو ہم کو بدرجۂ اولیٰ مضطرب رہنا چاہیے ‘ ہم کہاں اور رسول ﷺ کہاں) ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھو۔ احمد اور حاکم نے اسی طرح حضرت ابن عباس کے حوالہ سے روایت کی ہے اس روایت میں نعم الوکیل کے بعد علی اللہ توکلنا زائد ہے۔ فاذا نقر میں فاء سببی ہے گویا یہ مطلب ہوا کہ کافروں کے دکھ پر صبر کرو ‘ ان کے سامنے ایک سخت ترین زما نہ آ رہا ہے ‘ جس میں تم کو اپنے صبر کا اچھا نتیجہ ملے گا۔
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ دن کا مشکل دن ہوگا

فذلک یومئذ یوم عسیر . یعنی اس روز کافروں کے لیے امر دشوار ہوگا۔ ذٰلک سے صور پھونکنے کے وقت کی طرف اشارہ ہے۔ ذلک مبتداء ہے۔ یوم عسیر خبر ہے۔ یومئذ اس سے بدل ہے۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

(یعنی) کافروں پر آسان نہ ہوگا

علی الکافرین غیر یسیر . یہ عسیر کی تاکید ہے۔ اس لفظ سے معلوم ہوا کہ کافروں کے لیے اس روز کی دشواری ناقص نہ ہوگی کہ بعض وجوہ کے لحاظ سے دشواری ہو اور بعض وجوہ کے اعتبار سے آسانی ہو ‘ نہیں مکمل دشواری ہوگی بالکل آسانی نہ ہوگی۔ اس میں اشارہ ہے کہ مؤمنوں کے لیے وہ دن آسان ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جب آیت : حمٓ۔ تنزیل الکتٰب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا الٰہ الاّ ھو الیہ المصیر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ان آیات کو پڑھنے مسجد میں کھڑے ہوئے۔ ولید بن مغیرہ پاس ہی موجود تھا اور قراءت سن رہا تھا۔ حضور اقدس ﷺ کو اس کے سننے کا احساس ہوا تو آپ ﷺ نے دوبارہ ان آیات کو پڑھا۔ ولید ان آیات کو سن کر اپنی قوم بنی مخزوم کی مجلس میں گیا اور کہنے لگا : خدا کی قسم ! ابھی میں نے محمد ﷺ سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسان کا کلام ہے نہ جن کا۔ اس میں عجیب چاشنی اور رونق ہے ‘ اس (درخت) کی چوٹی ثمر آفرین ہے اور نچلا حصہ خوشہ دار ہے ‘ وہ غالب آئے گا ‘ مغلوب نہ ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلا گیا۔ قریش کہنے لگے : خدا کی قسم ولید صابی (بےدین) ہوگیا۔ واللہ ! تمام قریش والے بےدین ہوجائیں گے۔ ولید کو ریحانۂ قریش کہا جاتا تھا۔ ابوجہل بولا تمہارے یہ مصیبت میں خود حل کر دوں گا یہ کہہ کر ابوجہل ولید کے پاس گیا اور غمگین شکل کے ساتھ اس کے پہلو میں جا کر بیٹھ گیا۔ ولید نے کہا : میرے بھتیجے ! آج تم مجھے غمگین نظر آتے ہو ‘ کیا وجہ ہے ؟ ابو جہل بولا ‘ رنجیدہ نہ ہونے کی وجہ بھی کیا ہوسکتی ہے۔ قریش خیمہ میں جمع ہو کر آپ کے بڑھاپے کے باوجود آپ پر تہمت لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے محمد ﷺ کے کلام کو سجاکر دکھایا۔ آپ ابن کثیر اور ابن ابیقحافہ کے پاس اس لیے جاتے ہیں کہ ان کا پس خوردہ کھانا آپ کو مل جائے۔ ولید یہ سن کر طیش میں آگیا اور بولا : کیا قریش کو معلوم نہیں کہ میں بڑا مالدار اور کثیر الاولاد ہوں۔ محمد ﷺ اور اسکے ساتھیوں کا پیٹ تو خود ہی بھرا ہوا نہیں ‘ ان کے پاس پس خوردہ کہاں سے آیا۔ پھر ابوجہل کے ساتھ اٹھ کے قوم کے جلسہ میں آیا اور بولا ‘ کیا تمہارا خیال ہے کہ محمد ﷺ مجنون ہے ‘ کیا کبھی کسی نے دیوانوں کی طرح بات کہتے اس کو دیکھا ہے ؟ حاضرین نے جواب دیا : بخدا نہیں۔ ولید نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے کہ محمد ﷺ کاہن ہے ؟ کیا کبھی کہانت کرتے تم نے اس کو دیکھا ہے ؟ لوگوں نے کہا : خدا گواہ ہے ‘ نہیں دیکھا۔ ولید نے کہا : کیا تم کہتے ہو کہ محمد ﷺ شاعر ہے ‘ کیا تم نے اسکو شعر کہتے کبھی دیکھا ہے ؟ لوگوں نے کہا : خدا کی قسم ! نہیں۔ ولید نے کہا : تم کہتے ہو محمد ﷺ بڑا جھوٹا ہے ‘ کیا کبھی تمہارے تجربہ میں اسکا جھوٹ آیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : بخدا نہیں ‘ سچائی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو نبوت سے پہلے امین کہا جاتا تھا۔ پھر قریش نے ولید سے کہا : تو آخر وہ کیا ہے ؟ ولید نے دل ہی دل میں کچھ غور کیا ‘ پھر نظر اٹھائی اور منہ بگاڑ کر بولا۔ بس وہ جادوگر ہے اور کچھ نہیں۔ تم نے دیکھ لیا کہ وہ اپنے کلام سے میاں ‘ بیوی ‘ باپ ‘ اولاد اور بھائیوں میں جدائی پیدا کردیتا ہے۔ حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے یہ قصہ نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ بغوی نے کہا : اس وقت مندرجہ ذیل آیات کا نزول ہوا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

ذرنی ومن خلقت وحیدا . واؤ بمعنی مع ہے یعنی تم اس کی پرواہ نہ کرو۔ مجھے اس کے لیے چھوڑ دو ۔ میں تمہاری طرف سے اس کے لیے کافی ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے تنہا خود بغیر کسی شریک کے اس کو پیدا کیا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس کو اکیلا تنہا پیدا کیا اس وقت نہ اس کے پاس مال تھا نہ اولاد۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اس کو شرارت میں یکتا پیدا کیا۔ اوّل صورت میں وَحِیدًا ‘ ذَرْنِی کے مفعول کا حال ہوگا۔ دوسری صورت میں خلقت کے فاعل کا حال ہوگا۔ تیسری اور چوتھی صورت میں خلقت کا مفعول محذوف ہوگا۔ یعنی خلقتہٗ اور اسی مفعول کی ضمیر سے وحیدًا حال ہوگا۔ وحید وہ شخص ہوتا ہے جس کا نسب کسی باپ سے نہ ملتا ہو۔ ولید بھی حرامی تھا۔ بغوی نے بیان کیا ‘ ولید کا خطاب قوم میں وحید تھا۔ اللہ نے بھی بطور استہزاء و استخفاف اس کو وحید فرمایا۔
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا

و جعلت لہ مالا ممدودا . ممدود بمعنی وسیع ‘ کثیر۔ یعنی نمو اور ترقی کی وجہ سے اس میں پھیلاؤ ہوگیا ہے جیسے کھیتی ‘ مویشی اور تجارت۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا اس کے پاس ہزار دینار تھے۔ قتادہ نے کہا چار ہزار دینار۔ سفیان نے کہا ہزار در ہزار (دس لاکھ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نو ہزار مثقال چاندی۔ مقاتل نے کہا : طائف میں ولید کا ایک باغ تھا جس کے پھل ختم ہی نہیں ہوتے تھے۔ نہ سردی کے موسم میں ‘ نہ گرمی میں۔ عطاء کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول منقول ہے کہ مکہ اور طائف کے درمیان ولید کے بہت اونٹ ‘ گھوڑے اور بکریاں تھیں۔ بہت چشمے اور باندی غلام بھی اس کی ملکیت میں تھے۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے بیٹے دیئے

و بنین شھودا . یعنی وہ بیٹے جو مکہ میں مقیم ہیں۔ معاشی تلاش میں ان کو سفر کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ولید کے دس بیٹے تھے اور برقول مقاتل سات تھے۔ ولید بن ولید ‘ خالد ‘ عمارہ ‘ ہشام ‘ عاص ‘ قیس ‘ عبدالشمس۔ ان میں سے خالد ‘ ہشام اور عمارہ مسلمان ہوگئے تھے۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

و مھدت لہ تمھیدا . یعنی میں نے اس کی ریاست اور جاہ و حشمت کا سامان درست کیا۔ ریاست اور پیشوائی کے استحقاق میں یکتا بنایا ‘ یہاں تک کہ اس کو ریحانہ قریش کہا جانے لگا یا یہ مطلب ہے کہ اس کی عمر طویل کی ‘ طول عمر کے اسباب عطا کیے۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں

ثم یطمع ان ازید . پھر اس کو یہ امید لگی ہوئی ہے کہ میں اس کے مال و اولاد میں مزید بیشی عطا کروں گا۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ہماری آیتیں کا دشمن رہا ہے

کلا . یہ حرف روع (بازداشت) ہے یعنی اس کی ناشکری کی وجہ سے ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ بغوی نے لکھ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ولید کے مال و اولاد میں برابر کمی آتی رہی اور اسی تنزل کی حالت میں وہ مرگیا۔ انہ کان لایتنا عنیدا . وہ ہماری آیات کا معاند ہے ‘ وہ وحی کا منکر ہے اور آیات کو جادو قرار دیتا ہے۔ یہ جملہ گزشتہ بازداشت کی علت ہے کیونکہ ناشکری اور آیات الٰہیہ کی مخالفت سے نعمت کا زوال اور ترقی کی روک ہوجاتی ہے۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

سارھقہ صعودا . میں اس پر سخت عذاب ڈھانک دوں گا۔ صعود ایسا سخت عذاب جو ہر عذاب سے بڑھ کر ہو ‘ سب پر غالب ہو۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ آیت : سارھقہ صعودًا کی تشریح میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ دوزخ میں آگ کا ایک پہاڑ ہے ‘ ولید کو اس پر چڑھنے کا حکم ہوگا ‘ جب وہ اپنا ہاتھ اس پر رکھے گا تو ہاتھ پگھل جائے گا اور جب اٹھا لے گا تو دوبارہ پھر اصلی حالت پر ہوجائے گا اور جب اس پر قدم رکھے گا تو قدم پگھل جائے گا پھر جب قدم کو اٹھا لے گا تو قدم پھر اصلی حالت پر ہوجائے گا۔ (بغوی) بغوی نے حضرت عمر ؓ کی روایت سے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابن حبان اور حاکم نے بھی یہ روایت کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ کی دوسری روایت میں آیا ہے ‘ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ دوزخ کے اندر ایک پہاڑ ہوگا۔ ولید ستّر سال تک اس پر چڑھے گا پھر لڑھک کر نیچے گرجائے گا اور ہمیشہ اسی طرح کرتا رہے گا۔ کلبی نے کہا : صعود دوزخ میں ایک چکنی چٹان ہے۔ ولید کو اس پر چڑھنے کا حکم دیا جائے گا اوپر سے لوہے کی زنجیروں سے اس کو کھینچا جائے گا اور نیچے سے لوہے کے ہتھوڑوں سے مارا جائے گا اس طرح وہ چالیس برس تک چڑھتا رہے گا جب چوٹی پر پہنچے گا تو پھر نیچے گرا دیا جائے گا اور پھر چڑھنے کا حکم ہوگا اور آگے سے کھینچا جائے گا ‘ پیچھے سے مارا جائے گا۔ اس کی یہ حالت ہمیشہ رہے گی۔
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

انہ فکر . قرآن پر نکتہ چینی کرنے کے لیے اس نے اپنے خیال میں غور کیا۔ وقدر . اور اندازہ لگایا کہ قرآن کے متعلق کیا کہے۔ یہ جملہ ولید کے عناد کا بیان اور استحقاق عذاب کی علت ہے۔
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

فقتل . اس پر لعنت ہو اور بقول زہری اس پر عذاب ہو۔ کیف قدر . کَیْفَ کا استفہام انکاری اور زجری ہے ‘ اس کے اندازہ لگانے پر اظہار تعجب اور استہزاء ہے (یعنی اللہ سوال نہیں کر رہا ہے اس کو سب کچھ معلوم ہے ‘ سوال استفہامی وہ کرتا ہے جس کو وہ شے معلوم نہ ہو) ۔
Ayah 74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثم قتل کیف قدر . یہ جملہ تاکیدی ہے اور لفظ ثمّ تراخی کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 74:21

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر تامل کیا

ثم نظر . نظر کا عطف فَکَّرَ اور قَدَّرَ پر ہے۔ یعنی سوچا ‘ غور کیا ‘ دل میں کچھ اندازہ کیا۔ پھر دیر کے بعد سورة فاتحہ پر پیہم غور کیا۔
Ayah 74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثم عبس . جب نکتہ چینی کی کوئی چیز نہیں ملی اور سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہے تو منہ بگاڑ لیا ‘ یا رسول اللہ : ﷺ کیطرف دیکھا اور دشمنی سے تیوری پر بل ڈال لیے۔ و بسر . یہ عبس کی تاکید ہے یعنی ترش رو ہوا ‘ تیوری بگاڑی۔
Ayah 74:23

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

ثم ادبر . پھر رخ موڑا۔ واستکبر . اور مغرور بن گیا۔
Ayah 74:24

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) منتقل ہوتا آیا ہے

فقال . یعنی جب یہ الفاظ اس کے دل میں آئے تو فوراً بغیر توقف کے بول اٹھا۔ ان ھذا الا سحر یوثر . یہ صرف منقول جادو ہے جو دوسروں سے منقول ہے۔
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

ان ھذا الا قول البشر . یہ پہلے جملے کی تاکید ہے اس لیے حرف عطف نہیں لایا گیا۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کریں گے

ساصلیہ سقر . سقر جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے؟

وما ادراک ما سقر . جملۂ استفہامیہ سقر کی عظمت شان کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

لا تبقی . جو چیز اس میں ڈال دی جائے اس کو باقی نہیں چھوڑتا۔ ولا تذر . اور بغیر ہلاک کیے نہیں رہتا۔ مجاہد نے دونوں جملوں کے تشریحی معنی اس طرح بیان کیے کہ سقر کسی کو زندہ نہیں چھوڑتا اور نہ اس کے اندر کوئی چیز مردہ رہتی ہے۔ جب دوزخی اس کے اندر جل جائیں گے تو ازسر نو ان کی بدنی ساخت درست ہوجائے گی۔ ضحاک نے کہا : ہر چیز کی تیزی (ایک حد پر پہنچ کر) سست ہوجاتی ہے مگر سقر کی تیزی دھیمی نہ پڑے گی۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی

لواحۃ للبشر . وہ کھال کو بگاڑ دینے والی ہے۔ سفیدی کو سیاہی سے بدل دینے والی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور زید بن اسلم نے تفسیر کی کہ وہ جلد کو جلا دینے والی ہے۔ لواحۃٌ کا ترجمہ لائحۃٌ بھی کیا گیا ہے یعنی وہ لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر ہوگی۔ حسن اور ابن کیسان نے کہا وہ سامنے نظر آتی ہوگی کہ آنکھوں دیکھتے لوگ اس میں اتریں گے ‘ اسی کی طرح معنی ہے ‘ آیت : و برزت الجحیم للغٰوین کا۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر اُنیس داروغہ ہیں

علیھا تسعۃ عشر . دوزخ پر انیس ملائکہ مسلط ہوں گے۔ یہ سب دوزخ کے دربان ہوں گے۔ ایک مالک اور باقی اٹھارہ دوسرے فرشتے۔ ابن مبارک اور بیہقی میں سے کسی نے ابو العوام کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ ان میں سے ہر فرشتے کے دونوں مونڈھوں کے درمیان اتنا لمبا چوڑا فاصلہ ہوگا۔ ابن وہب ؓ نے بروایت زید بن اسلم بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک کے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک سال کی راہ کے بقدر فاصلہ ہوگا۔ رحم ان (کے دلوں) سے نکال لیا گیا ہے۔ ہر فرشتہ ستّر ہزار کافروں کو اٹھا کر دوزخ میں جہاں چاہے گا ‘ پھینک دے گا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ و ضحاک کا قول نقل کیا ہے اور بیہقی نے بھی ابن اسحاق کی روایت سے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوجہل نے قریش سے کہا ‘ تم پر تمہاری مائیں روئیں ‘ کیا تمہارے دس ‘ دس آدمیوں میں بھی یہ طاقت نہیں کہ ایک ایک دربان کو پکڑ لیں۔ ابن کبشہ تو بیان کر رہا تھا کہ دوزخ کے صرف انیس دربان میں ‘ تم تو بڑے طاقتور ‘ بہادر ہو۔ ابو الاسد بن کلدہ عجمی بولا ‘ سترہ کے لیے تو میں کافی ہوں۔ دس کو پشت سے اور سات کو پیٹ سے باندھ لوں گا ‘ رہے دو ‘ ان کو تم پکڑ لینا اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ بیہقی نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : علیھا تسعۃ عشر نازل ہوئی تو ایک قریشی شخص نے جس کو ابو الاسدین کہا جاتا تھا ‘ کہا اے گروہ قریش تم کو ان انیس سے خوفزدہ نہ ہونا چاہیے میں دس کو اپنے سیدھے مونڈھے سے اور نو کو بائیں مونڈھے سے دھکے دے کر تم سے دور کر دوں گا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔ اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصد کیا ہے؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لئے نصیحت ہے

وما جعلنا اصحاب النار الا ملئکۃ . یعنی ہم نے دوزخ کے دربان صرف فرشتے مقرر کیے ہیں ‘ وہ آدمی نہیں ہیں کہ یہ کافر ان کو دفع کرسکیں۔ وما جعلنا عدتھم الا فتنۃ للذین کفروا . یعنی دوزخ کے دربانوں کی قلت تعداد کو ہم نے کافروں کی گمراہی اور کفر کا سبب بنایا۔ قلت تعداد کا انہوں نے مذاق اڑایا اور ان کے مقابلہ میں غرور کیا اور اپنے خیال میں تمام کافروں کو اسی قلیل تعداد کا عذاب دینا بعید از عقل سمجھا اور نتیجہ میں بیہودہ گفتگو کی ‘ اس ساری گمراہی کا سبب دربانوں کی تعداد کی قلت ہوئی۔ لیستیقن الذین اوتوا الکتاب . کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ اس فعل کا تعلق فعل مہذوف سے ہے مفہوم کلام یہ ہے کہ ہم نے آپ کو دربانوں کی تعداد کی قلت کی اطلاع اس غرض کے زیر اثر دی کہ اہل کتاب آپ کی نبوت اور قرآن کی صداقت کا یقین کرلیں کیونکہ یہ تعداد ملائکہ اس تعداد کے موافق ہے جس کی صراحت تورات و انجیل میں کی گئی ہے۔ و یزدادا الذین امنوا ایمانا . اور اہل ایمان کی ایمانی کیفیت میں اضافہ ہو۔ اس وجہ سے بھی کہ ان کا اس تعداد پر ایمان ہوگا اور اس لیے بھی کہ اہل کتاب اس کی تصدیق کریں گے اور اس تصدیق سے مؤمنوں کے وثوق میں مزید زیادتی ہوگی۔ ولا یرتاب الذین اوتوا الکتاب والمومنون . یہ عطف تفسیری ہے۔ استیقان و زیادت ایمان کی تاکید ہے۔ شک نہ ہونے سے مراد ہے دربانوں کی تعداد میں شک نہ ہونا۔ ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے بعث میں ذکر کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے چند صحابیوں سے جہنم کے دربانوں کے متعلق سوال کیا۔ وہ خدمت گرامی میں حاضر ہوئے ‘ تو اسی وقت آیت : علیھا تسعۃ عشر نازل ہوئی اور اس آیت کا نزول اہل کتاب کے لیے یقین بخش اور اہل ایمان کے ایمان کو بڑھانے والا ہوا۔ ولیقول الذین فی قلوبھم مرض . مرض سے مراد ہے شک یا نفاق۔ آیت مکی ہے اور مکہ میں اس وقت کوئی منافق نہیں تھا ‘ اس لیے ہجرت کے بعد مدینہ میں منافقوں کی طرف سے جو بات پیش آنے والی تھی ‘ اس کے متعلق یہ پیش گوئی ہے۔ والکافرون ما ذا اراد اللہ بھذا مثلا . یعنی یہ کلام ایسا ہی عجیب ہے جیسے کوئی کہاوت عجیب ہوتی ہے۔ یہ بھی آیت کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ منافقوں اور کافروں نے جب تعداد مذکورہ کو بعید از عقل قرار دیا تو سمجھے کہ (یہ کلام حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ) بطور مثل ہے۔ کذلک یضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء . لفعظ کذلک کا تعلق ما بعد سے ہے یعنی جس طرح دربانوں کی تعداد کا ذکر کر کے اللہ نے کچھ لوگوں کو گمراہ اور کچھ کو ہدایت یاب کیا ‘ اسی طرح اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کو گمراہ کردیتا ہے اور جس کو ہدایت یاب بنانا چاہتا ہے اس کو ہدایت کردیتا ہے۔ وما یعلم جنود ربک الا ھو . یعنی جنودَ رب کی حقیقت اور اندازۂ قوت سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں۔ تعداد سے ناواقفیت مراد نہیں۔ تعداد تو بتادی کہ انیس ملائکہ ہیں ‘ اس میں کمی بیشی نہیں۔ مقاتل نے کہا : یہ ابوجہل کے قول کا جواب ہے ‘ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد ﷺ کے مددگار صرف انیس (ملائکہ) ہیں۔ عطاء نے بیان کیا کہ جن فرشتوں کو اللہ نے دوزخیوں کے عذاب کے لیے پیدا کیا ہے ‘ ان کی تعداد سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں ‘ مراد یہ ہے کہ دربان تو انیس ہی ہیں ‘ مگر ان کے مددگار اور معاون کتنے ہیں ‘ ان کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ہناد نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ جس شخص کو دوزخ میں لے جانے کا حکم ہوگا اس کے لیے ایک لاکھ فرشتے (پکڑنے کو) آگے بڑھیں گے۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ تسعۃ عشر سے سردار مراد ہیں۔ کُل ملائکہ جہنم کتنے ہوں گے ‘ اس کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ وماھی . دوزخ یا ملائکہ جہنم کی تعداد یا سورت۔ الا ذکری للبشر . انسانوں کے لیے محض یادداشت اور نصیحت ہے۔
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم

کلا . منکروں کے لیے اس لفظ سے بازداشت کی گئی ہے یا منکروں کے نصیحت پذیر ہونے کا انکار ہے ‘ اگرچہ واقع میں یہ پیام نصیحت ہے۔ والقمر
Ayah 74:33

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے

والیل اذا دبر . نافع ‘ حفص ‘ حمزہ اور یعقوب کی قراءت میں اِذْاَدْبَرَ ہے ( اَدْبَرَ ماضی ‘ ادبار مصدر ‘ باب افعال) باقی قاریوں کی قراءت میں اِذَا دَبَرَ ہے ( دَبَرَ ماضی ثلاثی مجرد) دَبَرَ اور اَدْبَرَ دونوں ہم معنی ہیں جیسے : قِیْلَ اور اُقِیْلَ ۔ دَبَرَ الَّیْلُ اور اَدْبَرَ الَّیْلُ پشت پھیر کر رات چلی گئی۔ ابو عمرو نے بیان کیا کہ یہ قریش کا محاورہ ہے۔ قطرب نے کہا : دَبَرَ بمعنی اَقْبَلَ ہے۔ عرب کہتے ہیں : دَبَرَنِیْ فُلاَن۔ٌفلاں شخص میرے پیچھے آگیا ‘ رات بھی دن کے پیچھے آتی ہے (اس لیے دَبَرَ کے معنی ہوئے جب رات دن کے پیچھے آئے۔
Ayah 74:34

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہو

والصبح اذا اسفر . یعنی جب صبح روشن ہوجائے۔
Ayah 74:35

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے

انھا لاحدی الکبر . سقر بڑی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے ‘ بڑی بلائیں بہت ہیں ‘ ان میں سے ایک سقر بھی ہے۔ جہنم ‘ لظی ‘ حطمہ ‘ سعیر ‘ حجیم ‘ ہاویہ ‘ سقر سب سے بڑی بلائیں ہیں (متعدد دوزخ ہیں) یہ جملہ جواب قسم ہے یا کلا کی علت کا بیان ہے اور درمیان میں قسموں کا ذکر تاکید کے لیے ہے۔
Ayah 74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

(اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوف

نذیر للبشر . نذیر بمعنی انذار مصدر ہے (باعتبار ڈرانے کے) یا حال ہے جملۂ سابقہ کے مدلول کا یعنی سقر بڑی خوف آفرین چیز ہے (اس وقت نذیر بمعنی منذر یعنی مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا) حسن نے کہا : سقر سے بڑھ کر کسی دوسری مصیبت سے (قرآن میں) نہیں ڈرایا گیا۔ خلیل نے کہا : نذیر ‘ نکیر کی طرح مصدر ہے اور مؤنث (سقر) سے حال ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ نذیر بمعنی منذر۔ ما جعلنا اصحٰب النار ..... کی ضمیر فاعل متکلم سے حال ہے یعنی ہم ڈرانے والے ہیں ‘ بعض لوگوں نے تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا : یایھا المدثر ‘ قم ‘ نذیرا للبشر فانذر یعنی اے چادر پوش ! لوگوں کو (عذاب خدواندی سے) ڈراتا ہو اٹھ اور ڈرا۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

لمن شاء منکم یتقدم او یتاخر . یعنی دونوں فریقوں کے لیے نذیر ہے ‘ ایک وہ فریق جو خیر وطاعت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے ‘ دوسرا وہ فریق ہے جو شر اور گناہ میں پڑا رہنا چاہتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان یتقدم او یتاخر مبتداء ہو اور من شآء منکم خبر مقدم ہو۔ اس وقت آیت کا مفہوم زجر و توبیخ ہوگا۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے

کل نفس بما کسبت . یعنی گناہ ‘ بد اعمالیاں۔ رھینۃ . یہ شتیمۃ کی طرح مصدر ہے۔ صیغۂ صفت (بروزن فعیلۃ) بمعنی اسم مفعول نہیں ہے کیونکہ جو وزن فعیل بمعنی مفعول ہوتا ہے اس میں مذکر و مؤنث برابر ہوتے ہیں۔ مؤنث کے لیے تانیث کی تاء زیادہ نہیں کی جاتی اس لیے اگر صیغۂ صفت بمعنی اسم مفعول ہو تو رھینۃ کی بجائے رھینٌ ہونا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی بد اعمالی کی وجہ سے دوزخ میں ہمیشہ کے لیے محبوس ہوگا۔ بد اعمالی کی وجہ سے یعنی کفر کی وجہ سے۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)

الا اصحاب الیمین . سوائے اہل ایمان کے۔ حضرت ابن عباس کا قول مروی ہے کہ اصحاب الیمین سے مراد ہیں وہ لوگ جن کے اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے۔ ابن مبارک نے ایک اسدی شخص کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کعب سے فرمایا : کیا آخرت کے متعلق کوئی بات (تمہارے پاس) ہے ؟ کعب نے کہا : جی ہاں ! امیر المؤمنین قیامت کا دن ہوگا تو لوح محفوظ رکھ دی جائے گی ‘ ہر شخص اپنے اپنے عمل کو دیکھ لے گا۔ پھر اعمالنامے لا کر عرش کے چاروں طرف سے بکھیر دیئے جائیں گے پھر مؤمن کو بلا کر اس کا اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اس پر غور کرے گا۔ مقاتل نے کہا : اصحاب الیمین وہ جنتی ہوں گے جو روز میثاق حضرت آدم کے دائیں طرف تھے اور اللہ نے ان کے متعلق فرمایا تھا : ھٰؤلآء للجنُۃ ولآ ابالی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ اصحاب الیمین وہ لوگ ہوں گے جن کے نفوس مبارک ہیں ‘ ان تمام اقوال کا نتیجہ ایک ہی ہے کہ اصحاب الیمین سے مؤمن مراد ہیں ‘ اہل ایمان کو ہی دوامی عذاب نہ ہوگا یا بقدر گناہ سزا پانے کے بعد مغفرت ہوجائے گی یا شفاعت کی وجہ سے معافی ہوجائے گی یا محض رحمت الٰہی سے بغیر شفاعت کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ حسن بصری نے کہا کہ اصحاب الیمین سے مراد مخلص اہل ایمان ہیں۔ قاسم نے آیت کی تفسیر اس طرح کی کہ ہر شخص سے اس کے اچھے برے عمل کا مواخذہ ہوگا ‘ اپنے اعمال پر اعتماد رکھنے و الا ہر شخص مرہون ہے۔ ہاں جو فضل الٰہی پر اعتماد رکھتا ہے ‘ اس سے مواخذہ نہ ہوگا (گویا فضل الٰہی پر اعتماد رکھنے والے اصحاب یمین ہیں) ۔ ان دونوں قولوں کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص سے اس کے اعمال کا مواخذہ ہوگا۔ اگرچہ بعض کی پکڑ سخت نہ ہوگی۔ مگر کامل مسلمانوں سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ اصحاب الیمین سے کامل ایمان والے مراد لینے کی کوئی دلیل نہیں۔ سعد بن منصور اور ابن ابی حاتم نے نیز حکیم نے نوادر الاصول میں حضرت علی ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ اصحاب الیمین سے مراد مسلمانوں کے خورد سال بچے ہیں (جو طفولیت میں مرگئے) حکیم نے اس روایت میں اتنی بیشی کی ہے کہ انہوں نے کوئی عمل نہیں کیا اور نہ وہ اپنے اعمال کے ہاتھوں سے رہن ہوئے۔ ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں لیکن جب تک اس روایت کی صحت ثابت نہ ہو ‘ نہیں کہا جاسکتا کہ اصحاب الیمین سے ملائکہ (یا اطفال مسلمین) مراد ہیں۔
Ayah 74:40

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

(کہ) وہ باغہائے بہشت میں (ہوں گے اور) پوچھتے ہوں گے

فی جنات . وہ جنتوں میں ہوں گے۔ یتسالون . باہم سوال کریں گے یعنی سب مل کر دوسروں سے پوچھیں گے ‘ باب تفاعل کا استعمال اس لیے کیا گیا کہ سوال کرنے میں سب شریک ہوں گے۔