74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsسراج البیان

Ayahs 74:1–11

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے لحاف میں لپٹنے والے

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھ اور ڈرا

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب کی برائی بیان کر

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک کر

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور پلیدی دور کر

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور زیادہ عوض لینے کے لئے احسان نہ کر

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب کے واسطے صبر کر

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ دن (بہت) سخت دن ہے

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہیں

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکلوتا پیدا کیا چھوڑ دے

سورة المدثر 1: آثار نبوت سے متوتر انسان کو تبلیغ و اشاعت کے لئے ابھارا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اٹھئے ! اور لوگوں کو آگاہ کیجئے ۔ ربوبیت کے تخیل کی شرک اور بت پرستی سے تذلیل ہورہی ہے ۔ آپ اس کو قول وعمل کے ساتھ بلند کیجئے دل کو پاکیزہ بنائیے ۔ اور فکروخیال کی ہر نجات کو جھٹلا دیجئے ۔ اور ان فرائض کو اس طرح خلوص کے ساتھ ادا کیجئے ۔ کہ ان لوگوں کو ممنون کرکے مال و دولت میں فراوانی کرنا مقصود نہ ہو ۔ بلکہ محض اپنے فرض منصبی سے عہدہ برا ہوتا ہو ۔ گویا مبلغ حق وصداقت کے لئے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اولاقیام واستعذاف ثانیا اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ ثالثا قلب کی پاکیزگی اور اربقا برائی کی باتوں سے کاملا احتراز ۔ اور خامسا خلوص ۔ حل لغات :۔ المدثر ۔ کپڑے میں لپٹنے والے ۔ وثار نبوت کا حامل ولیائک ۔ قلب اور دل سے استعارہ ہے ۔ مراد نفیس کا شعر ہے ؎ وان قد ساؤتک منی خلیقتہ فسلی شہانی عن ثیابک تضلی یعنی اے معشوق اگر تم کو میری کوئی ادا واقعی بری محسوس ہوتی ہے تو میرے دل سے جدا کیوں نہیں کرلیتی ۔ اس طرح خود بخود علیحدگی واقع ہوجائیگی ۔ ایک دوسرا شعر ہے ؎ وشفقت بالروح الاحم ثبایہ ویس الکریم علی القنا ہمسفدم اس میں بھی ثیاب سے مراد دل ہے ایک مصرع ہے ۔ ع مالی باتوبی دراء حیتی اس سے مقصود بھی دل وجان سے فدا ہونا ہے ۔
Ayahs 74:12–24

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور میں نے اسے بہت (ف 1) دیا

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور مجلس میں بیٹھنے والے بیٹے دیئے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور میں نے اس کے لئے اچھی تیاری کردی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر لالچ کرتا ہے کہ اور بھی دوں

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

اب میں اسے بڑی چڑھائی پر چڑھاؤں گا

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے قرآن کی نسبت سوچا اور اندازہ کیا کہ (کیسا کلام ہے)

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

پس وہ مارا جائیو ۔ اس نے کیسا اندازہ کیا

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر مارا جائیو ۔ اس نے کیسا اندازہ کیا

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر نظر کی

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر بولا اور کچھ نہیں یہ صرف جلود ہے جو نقل ہونا چلا آتا ہے

ولید بن مغیرہ 1: جمہور مفسرین کے نزدیک ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے ۔ فرمایا ۔ اس کو ہم نے مال و دولت کی نعمت سے نوازا ۔ مکہ سے طائف تک اس کے قافلے تجارت کے رواں دواں تھے ۔ بیٹے دیئے جو سب زندہ اس کے سامنے موجود تھے ۔ اور اس کے کاروبار میں شریک تھے ۔ عزت وجاہ عطا کی ۔ پھر اس کی حرص وآزکا یہ عالم ہے کہ اس کے باوجودبھی اضافہ کا طالب ہے ۔ مگر آپ ہم کچھ نہیں دیں گے ۔ کیونکہ یہ ہماری آیتوں کا سخت مخالف ہے ۔ عنقریب اس کو شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اور اس کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ دولت و ثروت ساعوان وانصار اور عزت ومختار ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی ۔ اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے جب قرآن حکیم کو سنا ۔ اور یہ جانا کہ اس میں حق وصداقت ہے ۔ اور کہا ۔ کہ اس میں شرینی اور حلاوت ہے ۔ اس میں بلاغت فصاحت کا وافر حصہ ہے ۔ اور یہ ہر طرح غالب رہے گا ۔ مغلوب نہیں ہوسکے گا ۔ تو قوم نے کہا ۔ کہ تیرے منہ سے یہ تعریف قریش کے بہت سے سمجھ دار لوگوں کو صابی بنادے گی ۔ اور گمراہ کردے گی ۔ اس پر اس نے نتائج دعواقب پر نظر ڈالی ۔ لگام کی قدروقیمت کا اندازہ کیا ۔ پھر سوچا ۔ اور بالآخر اظہار تنفر کے انداز میں جس سے دیکھنے والے یہ سمجھیں ۔ کہ اس پر قرآن کا کچھ بھی اثر نہیں ہے ۔ کہنے لگا ۔ کہ میری رائے میں یہ قرآن جادو ہے ۔ جو منقول چلا آتا ہے ۔ اور یہ ضرور انسانی کلام ہے ۔ گویا اس طرح اس رائے کو چھپانا چاہا ۔ جس کا اظہار وہ ازراہ دیانت کرچکا تھا ۔ ماوں کہ فی الحقیقت فردا فردا تمام آئمتہ قریش قرآن عظمت و رفعت کے قابل تھے ۔ اور یقین رکھتے تھے ۔ کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے ۔ بات صرف یہ تھی ۔ کہ اس کو کلام الٰہی تسلیم کرلینے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا تھا ۔ ان کی قیادت چھن جاتی تھی ۔ ان سے اقتدار کو صدمہ پہنچتا تھا ۔ اور ان کا کبروغرور مٹ جانا تھا ۔ اسی لئے وہ یہی موزوں سمجھتے تھے ۔ کہ اس کی مخالفت کی جائے ۔ اور اپنے وقار کو ضائع کیا جائے ۔ حل لغات :۔ النافور ۔ نرسنگا ۔ صور سارحقہ ۔ عنقریب اس کو چڑہاؤنگا ۔ محودا ۔ بلندی پر ۔ دوزخ میں ایک پہاڑ ہے ۔ غرض یہ ہے کہ عذاب میں مبتلا کروں گا ۔
Ayahs 74:25–35

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ صرف آدمی کا قول (ف 1) ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

اب میں اسے ستقر (دوزخ) میں ڈالوں گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور کیا سمجھا کہ سقر (دوزخ) کیا ہے ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑ دے

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

چمڑا جھلسنے والی

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس فرشتے نگہبان ہیں

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے جو لوگ دوزخ پر مقرر کئے ہیں وہ اور نہیں فرشتے ہیں اور ان کی جو شمار رکھی ہے سو کافروں کے جانچنے کے لئے رکھی ہے تاکہ وہ لوگ یقین کریں ۔ جنہیں کتاب ملی ہے ۔ اور ایمانداروں کا ایمان بڑھے اور جنہیں کتاب ملی ہے وہ اور مسلمان شک نہ کریں تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور کافر بھی یہ کہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا ارادہ کیا ہے ۔ یوں اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے ۔ اور تیرے رب کے لشکر اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اور وہ سقر تو آدمی کے لئے ایک آدمی کے لئے ایک نصیحت ہے

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

نہیں نہیں ہم کو چاند کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب وہ پیٹھ پھیرے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہو

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

بیشک وہ دوزخ بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے

ف 1: قرآن حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں ۔ جہاں ہمارے جذبات عقیدت ونیازمندی کا امتحان ہوتا ہے ۔ ان تک عقل وفہم کی رسائی نہیں ہوسکتی البتہ ایمان اور یقین کی روشنی سے ان تک پہنچاجاسکتا ہے ۔ اس لئے ان مقدمات میں بحث اور دلائل شماری محض بےکار ہوتی ہے ۔ بلکہ یہاں ضرورت ہے اس بات کی کہ آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلیا جائے اور اگر حقیقت بہت زیادہ بغاوت کرے ۔ تو اس کو یہ کہہ کردبا دیا جائے کہ ہر منزل میں تمہاری راہنمائی قطعاً بےسود ہے ؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے ان مقامات میں جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ کہ ان کا اس دنیا میں معلوم ہونا ناممکن ہے ۔ اسی لئے جہنم کے متعلق چندکیفیات لاذکر کرکے فرمایا ۔ کہ یہ محض آزمائش وابتلا ہے ۔ اہل کتاب اور مومنین تو اس کو تسلیم کرلیں گے ۔ مگر جن کے دل میں نفاق کا مرض ہے ۔ اور کفر کا روگ ہے ۔ وہ یہ کہیں گے ۔ کہ خدا کا ان تفصیلات کے ذکر کرنے سے مقصد کیا ہے ؟ اور اس طرح گمراہ ہوجائیں گے حل لغات :۔ عبس ۔ تیوری چڑھائی بسر ۔ منہ بنایا سقر ۔ دوزخ ۔
Ayahs 74:36–37

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

آدمی کے لئے ڈراوا (ف 1) ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

اس کے لئے جو تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے رہنا چاہیے

صبح اسلام کا طلوع 1: قمر سے مراد نبوت سابقہ کی روشنی ہے ۔ رات سے مقصود کفر کی تاریکی ہے ۔ جو صبح کی آمد آمد میں غائب ہورہی ہے ۔ اور یہ صبح وہ صبح سعادت ہے ۔ کہ جس کے مقابلہ میں ظلمت کا کوئی اثر نہیں اور شام قیامت تک ممتد ہے ۔ فرمایا ۔ کہ تم یقین رکھ کہ دوزخ کا مسئلہ کوئی ڈھکوسلہ نہیں ۔ بلکہ یہ بڑی بھاری چیز ہے ۔ اس کے قیام اور بقا ہے یہ غرض ہے ۔ کہ نادان انسان دنیا میں اس کی ہولناک سزاؤں کا خیال کرکے پاکبازی اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرے ۔ حل لغات :۔ اسفر ۔ روشن ہوجائے الکبر ۔ کبریٰ کی جمع ہے ۔
Ayahs 74:38–40

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے کئے ہوئے میں پھنس (ف 1) رہا ہے

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر دہنی طرف والے

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

بہشتوں میں ہونگے پوچھیں گے

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ خدا کسی شخص پر چڑھ کرکے اس کو نیکی اور تقویٰ پر آمادہ نہیں کرتا ۔ اس نے ہر ایک کو اختیار دے رکھا ہے ۔ کہ وہ اپنے لئے جس طرح کی زندگی پسند کرے ۔ چاہے خیروبرکت کی حرف بڑھے اور مراتب میں رفعت وارتقاء حاصل کرے ۔ اور چاہے ہر نیکی سے محروم رہے ۔ اور اپنے لئے خسران اور پستی اختیار کرے ۔