Ayahs 74:1–4(اے چادر اوڑھنے والے) اپنی خواب گاہ سے (کھڑے ہوجاؤ) یا قائم ہوجاؤ مراسم نبوت ادا کرنے میں (پھر ڈر سنا دو ) خلق کو عذاب الہی کا اگر اس کے سو وا اور کی عبادت کریں (اور اپنے رب کی بڑائی بولو) یعنی اپنے رب کو تعظیم کے ساتھ یاد کرو۔ (اور اپنے کپڑوں کو پاک ہی رکھو) میل و کچیل سے۔ یا۔۔ کوتاہ کر سرداران عرب کے خلاف ، کہ وہ لباس لمبا پہنتے ہیں ، تاکہ ان کی عادت ترک پر پہلی علامت ہو۔
حضرت علی کا ارشاد ہے کہ اپنا لباس کوتاہ کر ، بیشک وہ بہت پاک اور بہت پسندیدہ اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ اور بعضوں نے یہ معنی کہے ہیں کہ جو کچھ نہ چاہیے اس سے اپنے نفس کو پاک رکھ۔ نفحات میں شیخ ابو الحسن علی شاذلی مغربی سے نقل ہے کہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم کو میں نے خواب میں دیکھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے علی ! اپنے کپڑے میل سے پاک کر تاکہ تو بہرہ مند ہو مدد الہی اور تائید خداوندی سے ہر دم۔
میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرے کپڑے کیا ہیں ؟ فرمایا کہ ھق تعالیٰ نے تجھے پانچ خلعت پہنائے ہیں۔ (1) خلعت محبت (2) خلعت معرفت (3) خلعت توحید (4) خلعت ایمان (5) خلعت اسلام ۔ اور جو کوئی خدا کو دوست رکھتا ہے اس پر ہرچیز آسان ہوجاتی ہے۔ اور جو خدا کو پہچانتا ہے اس کی نگاہ میں سب چیزیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ اور جو کوئی خدا کو وحدانیت اور یگانگی کے ساتھ جانتا ہے وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا۔ اور جو خدا پر ایمان لاتا ہے وہ ہرچیز سے ایمن ہوجاتا ہے۔ اور جس کو صفت اسلام حاصل ہوجاتی ہے وہ خدا کا گناہ نہیں کرتا۔ اور اگر گنہگار ہوجاتا ہے تو عذر کرتا ہے۔ اور جب عذر کرتا ہے تو عذر قبول ہوتا ہے۔ تو شیخ نے کہا ہے کہ یہاں پر سے میں نے ثیابک فطھر کے معنی جانے۔ حق تعالیٰ آگے ارشاد فرماتا ہے کہ ۔۔۔ اے محبوب ! مذکورہ طہارت کو اپنا لو۔۔۔
Ayahs 74:5–10(اور بت کو تو بالکل چھوڑے رکھو) یا سب گناہوں سے کنارہ کش ہوجاؤ، یعنی جس تقوی پر ہو اسی پر رہو۔ (اور اس لیے اھسان نہ کرو کہ بدلہ زیادہ چاہو) یا نیک کام کر کے خدا پر احسان نہ رکھ ، کہ اس کو تو بہت شمار کرے۔ یا۔۔۔ تبلیغ احکام کر کے لوگوں پر احسان نہ جتا کہ ان سے بہت بدلا تو طلب کرے ۔ (اور اپنے رب ہی پر جمے رہو) یعنی اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرو۔ یا۔۔۔ موارد قضا کے تحت میں خدا کے واسطے صابر رہو ، اور جا لو (کہ جہاں پھونکا گیا صور میں) یعنی دوسرا نفخہ کہ بعث اس کا اثر ہے ، (تو) یہ پھونکنا جس دن ہوگا (وہ دن دشوار دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں ہے) ۔
اگرچہ ہول ہیبت شدت اس دن عام ہوگی مگر حق تعالیٰ اپنے کرم عام سے مومنوں پر سے سختی اور دشوار اٹھا لے گا ، اور کافروں پر سختی باقی رہے گی اور حساب میں ان کے ساتھ سختی اور تنگی کریں گے اور ان کا منہ سیاہ ہوجائے گا اور ان کے نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں ملیں گے ۔
روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ، رسول مقبول سے ، سورة حم اور مومن کے شروع کی آیتیں سن کر قوم میں پھر آیا اور یہ بات کہی کہ قسم خدا کی کہ اب محمد سے میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ نہ آدمی کا کلام ہے نہ جن کا۔ اس میں وہ حلاوت اور شیرینی ہے کہ کسی کلام میں نہیں ہوتی ، اور اس میں وہ طراوٹ اور تازگی ہے کہ کسی کلام میں نہ ہوگی۔
اس نہال اقبال کی پھنگیاں کلیہ سعادتوں کی پھل دینے والیاں ہیں ، اور اس شجرہ طیبہ کی جڑ فضیلتوں اور حکمتوں کی رگوں سے خوب محکم اور مضبوط ہوگئی ہے۔ یہ کلام غالب آئے گا مغلوب نہ ہوگا ، اور بلندی سے پستی کی طرف نہ جھکے گا۔ قریش نے یہ بات سن کر گمان کیا کہ ولید ایمان لایا ، پس ابوجہل طرح طرح کی باتیں کر کے اسے حمیت جاہلیت میں پھیر لایا ، یہاں تک کہ قرآن کو سحر کہا ، یہ خبر رسول اللہ کو پہنچی ، آپ نہایت غمگین ہوئے تو حق تعالیٰ نے آیت بھیجی کہ ۔۔۔
Ayahs 74:11–16(رہنے دو مجھے اور جسے پیدا کیا میں نے اکیلا) بےآل اولاد اور بےیارومددگار۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اسے وحید القوم کہتے تھے ، یعنی قوم میں ایک ۔۔۔ (اور دیا میں نے اسے لمبا چوڑا سرمایہ) یعنی بہت مال۔
روایت ہے کہ اس کے پاس زر نقد دس لاکھ دینار تھے ، اور مکہ اور طائف کے درمیان اس کے اونٹ گھوڑے بکریاں بہت تھیں ، باغ اسباب لونڈی غلام بیشمار تھے۔
(اور) دیا ہم نے اسے (حاضر باش بیٹے) جو مکہ میں اس کے پاس حاضر و موجود رہتے تھے ، تجارت و کسب معاش کے واسطے سفر کے محتاج نہ تھے۔ چناچہ ۔۔۔ ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ محفلوں میں حاضر ہوتے۔
راویت ہے کہ اس کے دس بیٹے تھے ان میں خالد اور عمارہ اور ہشام ایمان لائے۔ القصہ۔۔۔ اسے مال مال کردیا۔
(اور سامان دیا اسے خوب) یا بچھایا ہم نے اس کے واسطے جاہ و ریاست کا بچھونا ، اور ایسا آزمایا کہ ریحانہ قریش اس کا لقب ہوگیا تھا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد (پھر بھی للچاتا ہے کہ میں اور بھی دوں) یعنی ہم زیادہ کریں اپنے عطیے اس کے باب میں۔ (ہرگز نہیں) یعنی ہم ایسا ہرگز ہرگز نہ کریں گے ، کیونکہ (بیشک یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے) ان میں جھگڑا کرنے والا اور ان کو جادو کے ساتھنسبت دینے والا ہے۔
اکثر تفسیروں میں ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد اس کا جاہ و مال گھٹنے لگا اور اس کے فرزند اس سے برگشتہ ہوگئے اور بعض مرگئے اور وہ محتاج و رسوا ہوا۔ المختصر۔۔۔
Ayahs 74:17–23(جلدی چڑھاؤں گا اسے صعود نام کے جہنمی پہاڑ پر) وہ ایک پہاڑ ہے آگ کا ، بہتر برس میں اس کے اوپر چڑھ سکتے ہیں اور اس کے اوپر چڑھتے ہی پھر نیچے گر پڑتے ہیں۔
تبیان میں ہے کہ تکلیف دوں گا میں اس کو صعود پر۔۔۔ اور صعود وہ ایک پتھر ہے دوزخ میں کہ اس پر نہیں جاسکتے تو اس کو آگ کی زنجیروں میں جکڑ کر آگے سے کھینچیں گے اور پیچھے سے آگ کے گرز ماریں گے کہ اس جگہ پر جائے۔ اور ولید کے واسطے جزا اور سزا کی یہ بڑی وعید ہے ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔
(بیشک اس نے سوچا) اور فکر کی کہ قرآن پر کیا طعن کرے (اور اندازہ لگایا) کہ کیا کہے یعنی جب اسے کسی طور پر یہ گنجائش نظر نہیں آئی کہ پیغمبر اسلام کو مجنون ، شیطان کے زیر اثر ، کا ھن ، کذاب اور شاعر کہا جاسکے ، اور پھر قریش نے اسی سے پوچھ لیا کہ جب محمد کو یہ سب کچھ نہیں کہا جاسکتا تو اب تو ہی سوچ کر بتا کہ انہیں کیا کہا جائے۔ تو اس نے سوچا اور اپنے دل میں خیال باندھا کہ محمد ساحر ہیں۔
(تو غارت کیا جائے ، کیسا اندازہ لگایا۔ پھر غارت کیا جائے ، کیسا اندازہ لگایا) یعنی اس پر مسلسل لعنت برسائی جائے اس کی اس متعصبانہ اور معاندانہ فکر و سوچ کے سبب سے۔ (پھر) اس ملعون نے (نگاہ دالی) یعنی اس نے نظر کی قرآن کے باب میں دوبارہ ، (پھر تیوری چڑھا لی) یعنی منہ سکوڑا کیونکہ اس میں طعن کا موجب نہ پایا۔
پھر نبی (علیہ السلام) کی ذات پر تنقیدی نظر ڈالی (اور منہ بگاڑا) کیونکہ وہاں بھی کوئی عیب نظر نہ آیا ، تو شرمندگی والی ہنسی ہنسا۔ (پھر پیٹھ دکھائی) یعنی پھرا حق سے۔۔۔ یا پیغمبر حق سے (اور بڑا بنا) یعنی تکبر کیا ان کی متابعت سے۔
Ayahs 74:24–30(پھر بولا کہ یہ) جو محمد کہتے ہیں (بس جادو ہی کی نقل کی جاتی ہے ) یعنی یہ قرآن تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا چلا آتا ہے۔ (یہ نہیں ہے مگر بشر کا کلام) ۔
ولید بن مغیرہ نے یہ محض سرکشی وعناد سے کہا نہ کہ اعتقاد سے ، کیونکہ مروی ہے کہ اس نے پہلے اقرار کیا تھا کہ یہ کلام کسی انس و جن کا نہیں ، بشر سے اس کی مراد (1) یسار (2) حبیر (3) ابو فکیہہ ہے۔ پہلے دو فارس کے دو غلام تھے ، وہ مکہ معظمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ کا ان کے یہاں اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا۔ اور ابو فکیہہ رومی غلام تھا ، وہ مسیلمہ کذاب یمانہ والے کی طرف سے مکہ معظمہ میں آیا جایا کرتا تھا۔
(جلد جھونک دوں گا میں اسے جہنم میں) یعنی سقر میں۔۔۔ جو بقول حضرت ابن عباس جہنم کا چھٹا طبقہ ہے۔ ایک قول کے مطابق سقر دوزخ کا پانچواں درکہ ہے۔۔۔ (اور تم نے کیا اٹکل لگایا کہ کیا ہے جہنم) یہ ایسی آگ ہے جو (نہ باقی رکھے) کسی دوزخی پر گوشت و پوست ، رگ پٹھے ، ہڈیوں کو ، بلکہ سب کو جلا دے گی۔۔۔ اور پھر حق تعالیٰ ان کے اجزا نئے پیدا کردے گا تو ان کو بھی جلا دے گی۔۔۔ (اور نہ چھوڑے) گی دوبارہ جب تک جلا نہ دے۔ وہ آگ (جھلسا دینے والی) ہے۔ کافروں کے (چہروں کو) اور ان کی کھالوں کو ۔ (اس) آگ (پر مقرر ہیں انیس) فرشتے ۔۔۔ یا ۔۔ انیس قسم کے فرشتے۔
تبیان میں ابن عازب سے روایت ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے حضرت سے دوزخ کے فرشتوں کو پوچھا۔ آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا ، دوسری بار داہنا انگوٹھا بند کرلیا۔ اور یہ آیت آپ کے کلام کی تصدیق میں نازل ہوئی اور یہود نے مان لیا کہ یہ بات توریت کے موافق ہے۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد ابو جہل بولا کہ اے گروہ قریش ! دوزخ کے فرشتے انیس سے زیادہ نہیں ہیں ، کیا تم میں سے دس آدمی ان میں سے ایک فرشتے کو دفع نہ کرسکیں گے ؟
ابو الاسد بن کلدۃ الحمی بن علی بولا کہ سترہ کو تو میں کافی ہوں۔ دس کو پیٹھ سے اور سات کو پیٹ سے ، باقی دو کو تم کفایت کرتے ہو۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ بولا کہ صراط پر میں تمہارے آگے دس کو داہنے ہاتھ سے اور نو کو بائیں ہاتھ سے ڈھکیل کر صحیح و سلامت بہشت میں ہم چلے بھی جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔
Ayah 74:31(اور نہیں مقرر کیا ہم نے جہنم کے داروغے مگر فرشتوں کو) جو تمام خلق میں بہت قوی ہیں۔
معالم میں ہے کہ دوزخ کے خازنوں کا رئیس مالک ہے ، اور مالک کے ساتھ اٹھارہ اور ہیں۔ ان کی آنکھیں بجلی کی طرح چمکتی ہیں اور ان کے دانت اونچے اونچے مضبوط اور مستحکم قلعے کے مانند۔ آگ کے شعلے ان کے مونہوں سے نکلتے ہوں گے اور ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان سال بھر چلنے کی مسافت ہے ۔ ان میں سے ایک ایک بار میں ستر ہزار کافروں کو دوزخ کے جس کونے میں چاہے گا ڈال دے گا۔ اور فرشتوں کا ذکر کافروں کا وہ کلام دفع کرنے کو کیا کہ وہ جان لیں کہ دوزخ کے خازن آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں سخت اور تند۔ سب آدمی ایک فرشتے کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ، مقابلہ کا ذکر کیا۔ حق تعالیٰ کا فرمان۔۔۔
(اور) ارشاد ہے کہ (نہیں قرار دیا ان کے شمار کو مگر آزمائش ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا) یعنی وہ ہنسی اور تعجب کریں کہ انیس کیسے جن و انس پر عذاب کریں گے۔ اور اس میں یہ بھی حکمت ہے (تاکہ یقین کرلیں جنہیں دی گئی ہے کتاب) اس واسطے کہ قرآن کو توریت کی تصدیق کرنے والا پاتے ہیں۔ (اور) تاکہ (قوی ہوجائے جو ایمان لاچکے ہیں ان کا ایمان) اس کلام کے سبب سے ۔۔۔ یا اہل کتاب کی تصدیق کی وجہ سے ۔
(اور) تاکہ (شک نہ کرسکیں وہ جو دیے گئے ہیں کتاب) توریت ، (اور مسلمان) جو دوزخ کے خازنوں پر ایمان لائے ہیں (اور تاکہ بکا کریں وہ) لوگ (جن کے دلوں میں بیماری ہے) شک و نفاق کی (اور کافر لوگ ، کہ کیا منشاء ہے اللہ تعالیٰ ) (کا اس عجیب بات سے) اور اس عدد سے جو مثل کی رو سے عجیب و غریب ہے ؟ (اسی طرح بےراہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ ) (جسے چاہے۔ اور راہ دیتا ہے جسے چاہے) ۔
راویت ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اے گروہ قریش ! اب تو محمد انیس یار اور مددگار سے زیادہ نہیں رکھتا۔ تو حق تعالیٰ نے فرمایا۔۔۔
(اور نہیں بتا سکتا تہارے رب کے لشکروں کو سوا اس کے) یعنی رب کے یہ سارے لشکر فرشتے ہیں جو پیغمبروں کے معین و مددگار ہیں۔ اور یہ کتنے ہیں ؟ یہ خدا ہی جانے جو سب معلومات کا عالم ہے ۔ (اور نہیں ہے وہ ) یعنی سقر کی تمثیل۔۔ یا۔۔ خازنوں کی تعداد۔۔۔ یا ۔۔۔ یہ سورت مبارکہ (مگر نصیحت بشر کے لیے) ۔
Ayahs 74:32–37(نہیں کیا) یعنی ایسا نہیں کہ کوئی سقر کا انکار کرسکے (قسم ہے چاند کی) کہ وقتوں اور مدتوں کی پہچان اس سے متعلق ہے۔ (اور رات کی جب پیٹھ پھیرے) یعنی جب جاتی ہے دن کے آگے سے ، (اور صبح کی جب روشنی پھیلا دے) اور عالم کو روشن کردے۔ (بیشک جہنم بڑی چیزوں کی ایک ہے) یعنی ایک درکہ دوزخ کے بڑے درکوں میں سے ہے ۔ (اور (ڈراؤنی بشر کے لیے) یعنی ہم نے کیا ہے اسے ایک چیز کہ اس سے ڈرائیں آدمی کو۔
لباب میں ہے کہ حق تعالیٰ رسول اللہ کو فرماتا ہے کہ قم نذیرا ، یعنی کھڑا ہو ڈرانے والا آدمیوں کے واسطے تاکہ تجھ سے نصیحت پکڑ کر گناہ سے پرہیز کریں۔ اس قول پر رسول ڈرانے والے ہیں اور پہلے قول پر دوزخ ڈرانے والی ہے اسے۔
(جس نے چاہا تم میں سے کہ آگے بڑھ جائے) جزا اور طاعت میں (یا پیچھے پڑا رہے) برائیوں میں مبتلا ہوکر۔ یعنی اے ہمارے حبیب ! تم سب گروہوں کو نصیحت کرنے والے ہو۔۔۔ یا۔۔ سب کو دوزخ نصیحت کرنے والی ہے ۔