Explained with ayahs 26–40
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…
Read the full tafseer →سورة الْقِیٰمَة 25
یہ حیات بعد موت کے امکان کی دلیل ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کر کے پورا انسان بنا دینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی برتیں، ان کی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں وہ اگر ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان کے پاس اس بات کی کیا…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى
یعنی کیا وہ ذات حق جس کے قبضہ قدرت میں موت وحیات اور سارا جہان ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة قیامہ کی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو یہ کلمات کہنا چاہئے بلی وانا علی ذلک من الشھدین۔ یعنی بلاشبہ وہ اس پر قادر ہے اور میں بھی ان لوگوں میں داخل ہوں جو اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اس حدیث میں یہی الفاظ سورة والتین کی آخری (آیت) الیس اللہ باحکم الحکمین پڑھنے کے وقت بھی کہنے کی تعلیم کی دی گئی ہے اور اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ جو شخص سورة مرسلت کی اس آیت پر پہنچے فبالی حدیث، بعدہ یومنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ:
اب اسی مضمون پر سورہ کو ختم فرمایا ہے جس سے آغاز ہوا تھا۔ شروع میں فرمایا ہے: ’أَیَحْسَبُ الْإِنۡسَانُ أَلَّنۡ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ ۵ بَلٰی قَادِرِیْنَ عَلٰی أَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ‘ اس کے بعد کلام انسان کی خود سری، دیدہ و دانستہ حق پوشی اور ہول قیامت کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب آخر میں اسی سوال کو لے کر اس کا جواب دیا کہ جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر تعجب کر رہے ہیں کیا وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ انسان غیر مسؤل چھوڑ دیا جائے گا! اگر غیر مسؤل چھوڑ دیا جانا خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے منافی ہے تو خدا کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کر…
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا فرماتا ہے کیا مرنے کے بعد دوبارہ اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
14: انسانی تخلیق کے تمام مراحل کا تذکرہ سورة مومنون : 14 میں فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فجعل ........................ والانثی (39:75) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔
یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔
الیس .................... الموتی (40:75) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔
یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
15 یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنادیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کردیں۔ ایک نفطہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دو قسم کے آدمی پیدا کیے جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادر مطلق جس نے اولاً سب کو ایسی حکمت وقدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ کر دے ؟ " سبحانک اللہم فبلٰی۔ " پاک ہے تیری ذات اے خدا ! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 40{ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی۔ } ”تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ُ مردوں کو زندہ کردے ؟“
کیا تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گندے پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے ؟ اولادِ آدم علیہ السلام میں سے افلاطون ‘ بقراط اور سقراط کی تخلیق بھی اسی بوند سے ہوئی اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کے علاوہ نسل انسانی کے تمام افراد اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے سے پیدا کیے۔ { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِط } قٓ: 15 ”تو کیا پہلی مرتبہ تم لوگوں کو پیدا کرنے کے بعد اب ہم عاجز آگئے ہیں ؟“ تو اے عقل کے اندھو…
Read the full tafseer →22 یعنی رحم مادر میں نطفہ سے انسان کی تخلیق تک کے اطوار پھر ان کی زوجین میں مناسب تقسیم سے انسان بخوبی اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو پروردگار اتنی قدرتوں کا مالک ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ان دلائل کے بعد بھی جو انسان دوبارہ زندگی کا انکار کرتا ہے تو اس کا یہ انکار ہٹ دھرمی اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ نیز حدیث میں ہے کہ جب آپ یہ آیت تلاوت فرماتے تو بعد میں سبحانک اللھم بلٰی فرماتے۔
Read the full tafseer →23۔ یعنی جو قادر مطلق وصناع برحق ابتداء محض اپنی قدرت سے یہ سب کچھ کرسکتا اور نیست کو ہست کرسکتا ہے وہ اب صرف اعادہ پر بھی قدرت نہیں رکھتا ؟
Read the full tafseer →الیس ذلک بقدر الخ یعنی کیا وہ ذات حق جس کے قبضے میں موت وحیات اور سارا جہاں ہے اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة قیامہ کی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو یہ کلمات کہنا چاہئیں ” بلی وأنا علی ذلک من الشاھدین “
بعض مفسرین نے فلا صدق ولا صلی الخ کا یہ ترجمہ کیا ہے، مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا، یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے، ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزا وار ہے اور تجھے ہی زیب دیتی ہے۔
مفسرین نے اولیٰ لک، کے متعدد معنی بیان کئے ہیں : تف ہے تجھ پر، ہلاکت…
Read the full tafseer →. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی . کیا وہ خدا جو مذکورۂ بالا عمل انجام دیتا ہے اور عدم سے
وجود میں لاتا ہے ‘ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ حشر جسمانی سے زیادہ تعجب آفریں قدرت کا مشاہدہ ہوتے ہوئے حشر کا انکار کرنا انتہائی حماقت اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص (سورۃ التین) پڑھے اور آخر سورت الیس اللہ باحکم الحاکمین پر ختم کرے تو اس کو کہنا چاہیے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین (کیوں نہیں ‘ میں اس کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں) اور جو شخص لا اقسم بیوم القیامۃ پڑھے اور سورت کو الیس ذٰلک بقٰدرٍ علٰٓی ان یحییٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(39۔ 40) پھر اس کے بعد اس کا لڑکا یعنی عکرمہ بن ابی جہل اور لڑکی جویریہ پیدا کی ان تمام باتوں کا کرنے والا کیا اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردے بلکہ ہمارا پروردگار اس چیز پر ضرور بالضرور قادر ہے جیسا کہ اس نے آدم کو مٹی سے پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(1) ایحسب الانسان ان یثرک سدی …:”سدی“ وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیئیج ائیں، انہیں ”ایل سدی“ کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا ، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔”یمنی“”امنی یمنی“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپ کیا ا جاتا ہے۔
(2) حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار یدتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمایا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا ؟ نہیں، یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں مے ہوئے خون میں بدلنے…
Read the full tafseer →الیس ذالک بقدر علی ان یحییٰ الموتی۔ کیا وہ ذات پاک جس نے پانی کے ایک قطرہ سے اس انسان کو پیدا کیا ہے وہ ان اجسام کے بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر قادر نہیں۔ رسول اللہ سے یہ روایت مروی ہے کہ جب آپ اس آیت کی تلاوت کرتے تو زبان سے یہ کلمات پڑھتے، سبحانک اللھم بلی اے اللہ۔ تو ہر عیب سے پاک ہے کیو نہیں تو ایسا کرنے پر قادر ہے۔ حضڑت ابن عباس نے ارشاد فرمایا، جو سبح اسم ربک الاعلی۔ کی قرات کرے وہ امام ہو یا کوئی اور توہ یہ کہے سبحان ربی الاعلی، اور جو سورة القیامہ کی تلاوت کرے وہ امام ہو یا کوئی اور تو وہ سبحانک اللھم بلی، کہے۔ ثعلبی نے یہ ابواسحاق سبیعی سے روایت نقل کی ہے وہ سعید بن جبیر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے
29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان یترک سدی یعنی بیکار اور فرمایا آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی پھر کیا وہ اللہ تعالیٰ مردے کو زندہ کردینے پر قادر نہی ہے۔ ہم کو یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے جب آپ اس کو پڑھتے تھے۔ آیت سبحانہ وبلی یعنی اس کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور کیوں نہیں وہی زندہ کردینے پر قادر ہے۔
30۔ عبد بن حمید وابن الانباری نے المصاحف میں صالح بن ا بی الخلیل (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب یہ آیت الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی پڑھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے آیت سبحانہ وبلی۔ تیری…
Read the full tafseer →[اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ : کیا وہ قدرت رکھنے والا نہیں ہے ] [عَلٰٓي ان يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى: اس پر کہ وہ زندہ کرے مردوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
﴿ اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ0037﴾ (کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جسے ٹپکایا گیا) ۔
﴿ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ0038﴾ (پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضاء درست کردیئے) ۔
﴿ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ0039﴾ (پھر اس نے اس کی دو قسمیں بنا دیں ایک مرد ایک عورت) ۔
﴿ اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) 0040﴾ (ان تصرفات اور تخلیقات والا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ فرما دے) انسان جو قیامت کا منکر ہے انکار کرتے ہوئے یوں کہتا ہے کہ بھلا مر کر بھی زندہ ہوں گے، اس کے جواب میں فرما دیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
14:۔ ” الم یک “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ انسان اپنی پیدائش سے پہلے منی کا ایک قطرہ تھا جو باپ کی پشت سے رحم مادر میں آیا نطفہ نے قدرت خداوندی سے جمے ہوئے خون اور پھر گوشت کی صورت اختیار کی پھر اللہ نے اس کامل و مکمل انسان کی شکل میں پیدا فرمایا اور اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ ایک ہی نطفہ سے نر و مادہ کو پیدا کیا۔ تو کیا جو ایسا قادر وعلیم اور صانع و حکیم ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا ایسے قادر مطلق کی قدرت سے باہر نہیں۔ انسان کی پیدائش کو تسلیم کرنا حالانکہ وہ حشر و نشر سے زیادہ عجیب و غریب ہے اور قیامت کا…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40 ۧ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی۔ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍعَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ یَ الْمَوْتٰی۔ (القیامۃ : 37 تا 40)
(کیا وہ ایک حقیر پانی کی بوند نہ تھا جو (رحمِ مادر) میں ٹپکایا جاتا ہے۔ پھر وہ خون کی ایک پھٹکی بنا اور اللہ نے اس کا جسم بنایا، پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کردے۔ )
امکانِ قیامت کے دلائل
اوپر کی آیت کریمہ کا حاصل یہ تھا کہ انسان کوئی شتر بےمہار نہیں بلکہ وہ ایک ذمہ دار، صاحب عقل اور صاحب اخلاق انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے کے لیے اس کے وجود سے قیامت کی دلیل۔
قرآن مجید نے موت کے بعد زندہ ہونے کو جن دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے ان دلائل میں ایک بڑی دلیل انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہے۔ جو شخص قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتا ہے کیا وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ منی کے ایک قطرہ تھا۔ جو رحم مادر میں ٹپکایا گیا اللہ تعالیٰ نے پھر اسے لوتھڑا بنایا پھر اسے انسانی شکل میں ڈھالا پھر اسے مرد یا عورت کی قسم میں تبدیل فرمایا۔ کیا اب اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ کیوں نہیں ! وہ اس بات پر پوری طرح قادر ہے کہ وہ مردوں کو زندہ فرما کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے…
Read the full tafseer →40 : اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُحْیِ یَ الْمَوْتٰی (کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کرے) کیا وہ ان اشیاء کا کرنے والا اعادہ کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو سبحانک، بلٰیفرماتے ] رواہ ابو دائود : 887[۔ اے اللہ تو پاک ہے۔ کیوں نہیں تو بلا شبہ قادر ہے۔
Read the full tafseer →39 ۔” فجعل منہ الزوجین الذکر والانثیٰ “ اس کے پانی سے مذکر ومونث اولاد کو پیدا کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…
Read the full tafseer →(اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى) کیا نہیں اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے ؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–40
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔
انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…
Read the full tafseer →37 انسان کا وجود خود اعادئہ خلق کا ثبوت و شاہد : سو اس حقیقت کے اثبات و اقرار کے طور پر استفہام تقریری کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا کیا وہی خداوند قدوس اس پر قادر نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ؟ ہاں وہ اس پر قادر ہے ‘ اور ضرور قادر ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ ایسا کرے گا اور اکمل طریقے سے کرے گا ‘ جل شانہ و عز برہانہ سو جب وہ اپنی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغۃ سے انسان کو اس طرح حیظہ عدم سے نکال کر منصہ شہود پر لے آیا اور برابر لارہا ہے ‘ اور یہ سب کچھ تمہارے سامنے ہو رہا ہے اور لگاتار ہو رہا ہے ‘ تو پھر اس کیلئے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا
تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40۔
اسرار ومعارف۔
کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 15 قاری کے لئے اس کے بعد سبحانک اللھم و بلی کہنا مستحب ہے۔ حدیث میں من قرہ کے الفاظ ہیں یعنی جو اس سورة کو پڑھے بعض نے سامع سننے والے کو بھی قاری پڑھنے والے کے حکم میں داخل کیا ہے چناچہ امام نووی لکھتے ہیں کہ سب سے علماء نے سننے والے کے لئے بھی اس کو مستحب قرار دیا ہے خواہ نماز میں مقتدی ہو یا مقتدی نہ ہو۔ (تحفہ)
Read the full tafseer →(75:40) الیس ذلک : أ: ہمزہ استفہامیہ اقراری ہے۔ یعنی قادر ہے۔ لیس ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ الیس کیا وہ نہیں ہے۔ اس سے صرف ماضی کی گردان آتی ہے۔ مضارع، امر، اسم فاعل، اسم مفعول، اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ غیر منصرف کہلاتا ہے افعال ناقصہ میں سے ہے اور ماضی کا معنی رکھتا ہے۔
ذلک ای ھو الذی فعل ھذا وانشا الاشیاء اول مرۃ۔ وہ ذات کہ جس نے یہ سب کچھ بنایا۔ اور ہر چیز کو اول مرتبہ نیست سے ہست کردیا۔ خدائے پاک ذات خالق کائنات۔
ان یحی الموتی : ان مصدریہ۔ یحییٰ مضارع واحد مذکر غائب یہاں مضارع بمعنی مصدر ہے۔ زندہ کرنے پر۔
الموتی : میت کی جمع ہے۔ مردے۔
ترجمہ ہوگا :۔ تو کیا ایسی ذات اس پر قدرت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
لغات القرآن۔
لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔
تشریح :
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز نبی ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر فرمایا کہ تیری خرابی آلگی ، اب آلگی پھر تیری خرابی آلگی اب آلگی، تو ابوجہل نے کہا، اے محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکاتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی زورآور صاحب شوکت وقوت ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی الفاظ ان آیتوں میں نازل فرمائے اور اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قرآنی خبر ضرور پوری ہوتی تھی اور آن حضرت کا فرمان ضرور پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 2: ان آیات میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے ۔ کہ یہ زندگی یوں ہی بلا مقصد کے نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے ۔ کہ ہر شخص کو بغیر محاسبہ کے چھوڑ دیا جائے ۔ اور اس سے کوئی از پرس نہ ہو ۔ بلکہ یہ زندگی ذمہ داری اور جدوجہد کی زندگی ہے ۔ جس خدا نے ایک قطرہ آب سے مردو عورت کی ایک دنیا بسارکھی ہے ۔ کیا وہ مکافات عمل کے لئے لوگوں کو دوبارہ زندہ نہ کرسکے گا ۔ یہ وہ سوال ہے ۔ جس کو قرآن بطور استدلال کے پیش کرتا ہے ۔ اور مقصد یہ ہے ۔ کہ ایسا ہوسکتا ہے ۔
حل لغات :۔ یتمطی ۔ ناز کرتا ہوا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔
Read the full tafseer →(40) کیا وہ خدا جس نے انسان کو ابتداء ً بنایا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کردے - یعنی نطفہ اور بستہ لہو جس میں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک سمجھ دار انسان بنادیا کیا وہ دوبارہ انسانی ڈھانچے کو جمع کرکے انسان نہیں بنا سکتا جب کہ کسی چیز کا دوبارہ اعادہ کرنا پہلی مرتبہ کے بنانے سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔
پس ان تمام مقدمات سے مجازات ثابت ہے نبی کریم ﷺ جب سورة قیامت کو ختم کرتے اور الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی، پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک اللھم بلی یا فرماتے بلی واللہ بلی واللہ۔
تم تفسیر سورة القیمۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1۔ یہ فاء تفسیریہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(کیا خیال کر رہا ہے یہ ) بعث و حشر کا منکر (انسان ، کہ چھوڑ دیا جائے گا بےکار) مہمل ، معطل اور ضائع کہ دنیا میں مکلف اور عقبی میں مبعوث اور معذب نہ ہوگا۔ قدرت خداوندی کو نہ سمجھ لینے والو سوچو کہ ۔۔۔
(کیا نہ تھا) یہ انسان (قطرہ منی کا جو ٹپکایا جاتا ہے ) رحم میں (پھر ہوا لوتھڑا) یعنی جما ہوا خون ، (تو پیدا فرمایا) اس کے اجزا اور اعضا (اب سڈول کیا) یعنی راست اور درست کردیا اس صورت اور اس میں روح پھونکی (پھر کردیا اس) منی (سے جوڑے) دو قسم (مرد و عورت) یعنی نر اور مادہ ۔ (کیا نہیں ہے ایسا خالق قدرت والا اس پر کہ زندہ کردے مردوں کو) ۔
حدیث میں ہے کہ یہ سورت پڑھنے کے بعد کہنا چاہیے۔ بلی انہ علی کل…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى (Has He no power to give life to the dead?...(75:40). Can it be imagined that the Supreme Being in whose controlling power is death and life and the entire world is not able to bring the dead to life? The Holy Prophet is reported to have said: 'When anyone recites this verse of Surah Al-Qiyamah, he should say:
بلی وانا علی ذالک من الشھدین۔ "Yes indeed I am among those who bear witness
that He has the power to do it"'. The same Hadith narrative states that
when a person recites Surah Tin and reaches the verse اَلَيْسَ اللّٰهُ…
Read the full tafseer →25 This is an argument for the possibility of life-after-death. As for the people who believe that the whole act of creation, starting from the emission of a sperm-drop till its development into a perfect tnan, is only a manifestation of the power and wisdom of Allah, they cannot in fact refute this argument in any way, for their intellect however shamelessly and stubbornly they might behave, cannot Refuse to admit that the God Who thus brings about man in the world, also has the power to bring the same man into being once again. As for those who regard this expressly wise act only as a…
Read the full tafseer →