Al-Insaan 76:1

76. Al-Insaanالانسان

Man · Medinan · 31 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

76:1

هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا ۟هَلۡ اَتٰى عَلَى الۡاِنۡسَانِ حِيۡنٌ مِّنَ الدَّهۡرِ لَمۡ يَكُنۡ شَيۡـٴً۬ـا مَّذۡكُوۡرًا

بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Has there [not] come upon man a period of time when he was not a thing [even] mentioned?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:1

کیا انسان پر لا متناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

انسان پر کبھی ایسا وقت آیا ہے کہ نہیں جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک انسان پر زمانے کا ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذِکر چیز ہی نہ تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انسان پر لامتناہی زمانہ سے ایک وقت ایسا بھی آیا ہے جب کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا گزرا ہے انسان پر کوئی وقت ‘ زمانے میں ‘ ایسا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک دور ایسا نہیں گزرا جب کہ اس کا کوئی نام (و نشان) بھی نہ تھا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہ تھا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

Was there a period of time when man was not even worthy of a mention?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There has come upon man a period of time in which he was nothing worth mentioning.

— Muhammad Taqi Usmani

There has come upon man a period of time in which he was nothing worth mentioning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hath there come upon man (ever) any period of time in which he was a thing unremembered?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Has there [not] come upon man a period of time when he was not a thing [even] mentioned?

— Saheeh International

There was certainly a time when there was no mention of the human being.

— Muhammad Sarwar

There surely came over man a period of time when he was a thing not worth mentioning.

— Muhammad Habib Shakir

Surely there hath come upon man a space of time when he was not a thing worth mentioning.

— Abdul Majid Daryabadi

Has there not been over Man a long period of Time, when he was nothing - (not even) mentioned?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 1 پہلا فقرہ ہے ھل اتی علی الانسان۔ اکثر مفسرین و مترجمین نے یہاں ھل کو قد کے معنی میں لیا ہے۔ اور وہ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ بیشک یا بلا شبہ انسان پر ایسا ایک وقت آیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھل عربی زبان میں " کیا " کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے، اور اس سے مقصود ہر حال میں سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف مواقع پر یہ بظاہر سوالیہ لفظ مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً کبھی تو ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں اور کسی سے پوچھتے ہیں " کیا یہ واقعہ پیش آیا ہے ؟ " کبھی ہمارا مقصود سوال کرنا نہیں ہوتا بلکہ کسی بات کا انکار کرنا ہوتا ہے اور یہ انکار ہم اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا (یعنی انسان نہ تھا بلکہ نطفہ تھا اور اس سے قبل غذا اور اس سے پہلے عناصر کا جز تھا) ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا (یعنی مرد اور عورت دونوں کے نطفے سے کیونکہ عورت کی منی بھی اندر ہی اندر عورت کے رحم میں گرتی ہے۔ پھر کبھی فم رحم سے خارج ہو کر ضائع ہوجاتی ہے اور کبھی اندر رہ جاتی ہے اور مخلوط کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اجزاء مختلفہ سے مرتکب ہے چناچہ ترکیب منی کی اجزاء مختلفہ سے ظاہر ہے غرض ہم نے اس کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا) اس طور پر کہ ہم اس کو مکلف بنائیں تو (اسی واسطے) ہم نے اس کو سنتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

استفہامیہ اسلوب کی بلاغتیں: ’ہَلْ‘ کے معنی مفسرین نے استفہام کے بجائے عام طور پر ’قَدْ‘ کے لیے ہیں۔ لیکن کلام عرب میں اس معنی کے لیے مجھے کوئی نظیر نہیں ملی۔ بعض مثالیں جو اس معنی کی شہادت کے طور پر پیش کی گئی ہیں ان پر میں نے غور کر لیا ہے۔ میرے نزدیک ان میں بھی ’ہَلْ‘ استفہام ہی کے لیے ہے۔ البتہ استفہام جس طرح ہماری زبان میں مختلف معانی کے لیے آتا ہے اسی طرح عربی میں بھی اس کے مختلف مفہوم ہوتے ہیں۔ ان سب کی وضاحت کے لیے یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ پچھلی سورتوں میں اس کے بعض پہلو زیربحث آ چکے ہیں اور بعض کے لیے آگے کی سورتوں میں موزوں مواقع آئیں گے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ استفہام کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 یعنی انسان اول حضرت آدم ہیں اور حِیْن (ایک وقت) سے مراد، روح پھونکے جانے سے پہلے کا زمانہ ہے، جو چالیس سال ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک الانسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے اور حِیْن، سے مراد حمل یعنی رحم مادر کی مدت ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہیں ہوتا۔ اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں جب باہر آتا ہے تو رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں جب میں عالم نیست میں تھا، تو مجھے کون جانتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ استفہام تقریری ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی اطلاع دینا مقصود ہے کہ ایسا ضرور تھا۔ لیکن سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ انسان کو خود اس حقیقت کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ، اور سوچنا چاہئے کہ وہ کسی وقت کوئی قابل ذکر شے نہ تھا اور جب وہ اب ایک قابل ذکر شے ہے تو اسے دست قدرت کا کسی قدر تو شعور ہونا چاہئے جو اسے عدم سے وجود میں لائی اور تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائی۔ جہاں یہ اس دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ بہرحال استفہامیہ اور سوالیہ انداز میں ، اس مقام پر چند حقائق کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ نہایت ہی اونچے درجے کے اشارات ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 بیشک انسان پر ایک وقت گزر چکا ہے۔ جب اس کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفہ کی شکل میں آیا۔ وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہ تھا ؟“ ”دَہْر“ سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا ‘ جبکہ ”حِیْن“ سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لامتناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو - - چناچہ ”دَہْر“ دراصل وقت کا وہ سمندر ہے جس کے اندر سے کائنات میں رونما ہونے والے ہر قسم کے واقعات و حادثات جنم لیتے ہیں۔ وقت کے اسی سمندر میں سے ہم انسان بھی نکلے ہیں۔ ع ”قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانند ِحباب“ اقبال۔ چناچہ اس قلزم ہستی کے اندر ہر انسان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 دہر کا لغوی مفہوم دہر اللہ کی ذات ہے :۔ دھر بمعنی زمانہ کائنات، مدت عالم، جب سے کائنات شروع ہوئی اس وقت سے لے کر اس کے اختتام تک کا وقت (مفردات) اور ابن الفارس کہتے ہیں کہ دھر میں غلبہ اور قہر کا مفہوم پایا جاتا ہے اور دہر کا یہ عالم اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز پر اضطراراً گزرتا اور اس پر غالب آتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ) اور دہر کا تعلق مشیئت الٰہی سے ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : لا تسبوا الدھر فان اللہ ھوالدھر یعنی دہر کو برا بھلا نہ کہہ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لا تسبوا الدھر) اور دہری وہ شخص ہے جو کائنات کی تخلیق کا قائل نہیں بلکہ اسے ابدالاباد سے شمار کرتا ہے اور سمجھتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ یعنی انسان اپنی پیدائش سے قبل جبکہ بحیثیت انسان معدوم تھا۔ ھل، یہاں بالاتفاق قد کے معنی میں ہے یعنی ضرور یا یقیناً ۔ ھل بمعنی قد (کشاف) ھل اتی بمعنی قد وبذلک فسر قولہ تعالیٰ ھل اتی علی الانسان الخ (مغنی۔ عن ابن عباس ؓ والکسائی والفراء) وعن سیبویہ ان ھل بمعنی قد (معنی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک انسان (یعنی) آدم پر، زمانہ میں ایسا وقت (یعنی) چالیس سال بھی گزرا ہے کہ وہ اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا (بلکہ) وہ اس زمانہ میں ایک ناقابل ذکر مٹی کا پتلا تھا، یا انسان سے جنس انسان مراد ہے، اور حین سے مدت حمل مراد ہے، بیشک ہم نے انسانوں کو مرد اور عورت (یعنی) حال یہ کہ ہم اس کو اہل بنا کر آزمانے والے تھے، اسی لئے ہم نے اس کو شنوا اور بینا بنایا، ہم نے اس کو راہ دکھائی (یعنی) رسول بھیج کر اس کے لئے راہ ہدایت واضح فرمائی، اب خواہ وہ شکر گزار مومن بنے، یا ناشکرا دونوں مفعول سے حال ہیں یعنی اس کی حالت شکر یا حالت کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھل اتی . استفہام تقریری ہے (قَدْ کے معنی میں ھَلْ استعمال کیا گیا ہے) بیشک آچکا ہے ‘ گزر چکا ہے۔ علی الانسان . الانسان سے عام انسان مراد ہے یا حضرت آدم (علیہ السلام) ۔ حین . زمان کا ایک محدود ٹکڑا (معین حصہ) حین ہے۔ (بیضاوی) قاموس میں ہے حین۔ مبہم وقت جس کا اطلاق ہر زمانہ پر ہوتا ہے لمبی مدت ہو یا چھوٹی بعض کا قول ہے کہ حین چالیس سال یا ساٹھ سال یا ایک ماہ یا دو ماہ کے لیے مخصوص ہے۔ من الدھر . الدھر غیر محدود مدت۔ قاموس میں ہے : دھر طویل زمانہ یا ایک ہزار برس۔ میں کہتا ہوں یہی حضرت آدم کی عمر کی مدت تھی۔ صحاح میں ہے کہ دہر اصل میں عالم کی کل عمر۔ آغاز آفرنیش سے اختتام تک ہے اور آیت : ھل اتٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آدم پر چالیس سال کا ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جبکہ ان کا پتلا بنا ہوا تھا کہ ان کو کسی چیز کی خبر نہ تھی اور کس غرض سے وہ بنائے گئے اس کی خبر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھل اتی علی الانسان…:”ھل“ (کیا) پوچھنے کے لئے آتا ہے۔ یہ پوچھنا کبھی تو کوئی خبر معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے، جیسے ”ھل فی الدار زید“”کیا گھر میں زید ہے ؟“ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کبھی یہ سوال کسی بات کی نفی کے لئے ہوتا ہے، جیسے :”وھل یستطیع ذلک احد“”بھلا یہ کام کوئی کرسکتا ہے ؟“ یعنی کوئی نہیں کرسکتا۔ عربی میں سے نفی کے علاوہ حجد بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پوچھنا بات منوانے کیلئے ہوتا ہے، اسے عربی میں تقریر کہتے ہیں، جیسے آپ نے کسی کو کچھ دیا ہو یا اس کی عزت کی ہو تو اسے کہیں ”ھل اعطیتک“ ”کیا میں نے تمہیں دیا ؟“ اور ”ھل اکرمتک“ ”کیا میں نے تمہاری عزت کی ؟“ اس وقت یہ ”ھل ‘ بمعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ھل اتی علی الانسان۔۔۔ تا۔۔۔۔ اما کفورا۔ ھل قد کے معنی میں ہے، یہ کسائی، فراء اور ابوعبیدہ کا قول ہے، سیبویہ سے منقول ہے کہ ھل قد کے معنی میں ہے۔ فراء نے کہا، ھل نافیہ ہوتا ہے اور خبر یہ ہوتا ہے، یہ ھل خبریہ ہے کیونکہ تو کہتا ہے، ھل اعطیتک تو اس سے یہ مراد لیتا ہے کہ تو نے اسے عطا کردیا ہے ہے نافیہ کی مثال یہ ہے، کہ تو کہتا ہے، ھل یقدر احد علی مثل ھذا۔ اس پر کوئی قادر نہیں ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے یہ استفہام کے معنی میں ہے یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یہ قتادہ، ثوری، عکرمہ، اور سدی کا قول ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے ابوصالح نے روایت نقل کی ہے، حین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انسان مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة ہل اتی علی الانسان مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن الضریس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الانسان مدینہ میں نازل ہوئی۔ لا الہ الا اللہ کے اقرار پر جنت کا وعدہ 4۔ طبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حبشہ سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو اس کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوال کر اور پوچھ تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! تم ہم پر فضیلت دئیے گئے۔ رنگ میں شکل و صورت اور نبوت میں۔ آپ بتائیے اگر میں اس پر ایمان لے آؤں۔ اور میں اس طرح عمل کروں جیسے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[هَلْ اَتٰى عَلَي الْانسَان : کیا پہنچا (گزرا) انسان پر ] [حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ : کوئی ایسا وقت زمانے میں سے ] [لَمْ يَكُنْ : جب وہ تھا ہی نہیں ] [شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا : کوئی ذکر کی جانے والی چیز ] نوٹ 1: اکثر مفسرین نے یہاں ھَلْ کو قَدْ کے معنی میں لیا ہے اور وہ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ بیشک انسان پر ایسا ایک وقت آیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھَلْ عربی زبان میں ” کیا “ کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اس سے مقصود ہر حال میں سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف مواقع پر یہ بظاہر سوالیہ لفظ مختلف معانی میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً کبھی ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے والا سننے والا بنایا اسے صحیح راستہ بتایا، انسانوں میں شاکر بھی ہیں کافر بھی ہیں یہاں سے سورة الدھر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الانسان بھی ہے اس کے پہلے رکوع میں انسان کی ابتدائی آفرینش بتائی ہے اس کے بعد انسان کی دو قسمیں بتائیں ایک شکر گزار اور ایک ناشکرا اس کے بعد ناشکروں کا عذاب اور شکر گزاروں کے انعامات بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو صبر کرنے اور ذکر کرنے اور راتوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور دنیا داروں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑا دن چھوڑ رکھا ہے۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” ھل اتی “ ھل یہاں باتفاق مفسرین تاکید کے لیے بمعنی قد اتفقوا علی ان ھل ھہنا وفی قولہ تعالیٰ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ بمعنی قد (کبیر ج 8 ص 384) ۔ یہاں حشر و نشر پر بطور دلیل انسان کی پیدائش کو بطور نمونہ پیش کیا گیا۔ ہر انسان پر طویل عرصی ایسا آچکا ہے کہ اس عرصہ میں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ ” انا خلقنا الانسان “ امشاج مفرد ہے، جمع نہیں جیسا کہ اس کی بناء سے وہم ہوتا ہے کیونکہ وہ نفۃ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ برمۃ اعشار، ثوب اخلاق اور ارض سباسب اور امشاج کے معنی ہیں۔ مختلط یعنی باہم ملا جلا چونکہ انسان ماں باپ کے نطفوں کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے اس لیے نطفہ کو امشاج سے متصف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ يَكُنْ شَـيْــــًٔا مَّذْكُوْرًا۝ 1 هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھَلْ اَ تٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ (الدہر : 1) (کیا گزرا ہے انسان پر کوئی وقت لامتناہی زمانے میں جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ ) ھَلْ کا مفہوم ھَلْ اَ تٰی عَلَی الْاِنْسَانِ … آیت کے اس پہلے فقرے میں ” ھَلْ “ کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ” ھَلْ “ قَد کے معنی میں ہے جس سے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کرنا مقصود ہے۔ لیکن بیشتر اہل علم اس کو استفہام ہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ” ھَلْ “ کبھی بھی قَد کے معنی میں نہیں ہوتا۔ جہاں اس کا شبہ ہوتا ہے تو وہ قلت فکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیونکہ استفہام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : القیامہ کے آخر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا اور پھر نر اور مادہ کی صورت میں جوڑے بنا دئیے، دنیا میں انسان کا وجود نطفہ سے پہلے نہیں ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی ابتداء میں یوں کیا گیا ہے کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ زمانے میں اس کا ذکر تک موجود نہیں تھا پھر ” اللہ تعالیٰ “ نے اسے انسان کی شکل میں پیدا فرمایا۔ سورۃ الدھر کی ابتدا میں ” ھَلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر سوال کیا ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا دور گزرا ہے کہ جب اس کا ذکر تک نہیں تھا اس دور سے مراد تین ادوار ہوسکتے ہیں۔ 1۔ تخلیق آدم سے پہلے کا دور۔ 2۔ انسان کی تخلیق کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسانی ذرات میں : 1 : ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا (بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے۔ جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا) ھَلْ اَتٰی آچکا، گزر چکا علی الْاِنْسَانِ اس سے آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ روح پھونکنے سے چالیس سال پہلے آپ کی تصویر بنائی گئی۔ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا اس کا نام نہ لیا جاتا تھا۔ اور نہ کوئی جانتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ کیونکہ وہ مٹی کے ذرات تھا جس پر زمانہ گزر رہا تھا۔ اور اگر وہ غیر موجودہوتا تو پھر ھل اتی نہ کہا جاتا کہ اس پر ایک زمانہ گزرا ہے۔ لم یکن شیئًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

سورة الدھر مدنی ہے اور اس کی اکتیس 31 آیات ہیں عطاء (رح) فرماتے ہیں یہ مکی ہے اور مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں مدنی ہے۔ حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ مدنی ہے سوائے ایک آیت کے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” فاصبر لحکم ربک “ ہے۔ ” ولا تطع منھم آثما او کفورا “ ہے اور اس کی اکتیس آیات ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ لم یکن شیئا مذکورا کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا وجود اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں تو تھا لیکن آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کچھ تذکرہ ظاہر نہیں تھا۔ اوپر صحیح 2 ؎ حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے جب تک اس بچہ کی زبان کھلتی ہے اور بات چیت کرنی سیکھتا ہے اس وقت تک اسی فطرت اسلامی کی حالت پر رہتا ہے اور بعد اس کے ہر ایک امت کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کی ہدایت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہے اگر اس بچہ کے ماں باپ نیک راستہ پر نہ ہوئے تو پھر وہ بچہ ماں باپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

اس سورة مبارکہ میں اللہ نے انسان کے ابتدائی اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں چناچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور ویہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردہ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا (مِنْ نُّطْفَةٍ ) نطفہ مخلوط سے، یعنی حقییر اور گندے پانی سے بنایا (نبتلیہ) ہم اس کے ذریعے اس کو آزماتے ہیں تاک ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 انسان کیلئے خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : سو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے استفہامیہ اسلوب بیان میں اڑشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان پر ایک ایسا دور نہیں گزرا جب یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ؟ سو یہ استفہام تقریر اور تفریع کیلئے ہے یعنی یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس سے انکار کی کسی کو گنجائش نہیں، اس طرح اس سوال و استفہام سے مخاطب کے ضمیر کو جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ جس قادر مطلق اور واہب مطلق نے تم کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا، اور اس طرح طرح کی نعمتوں سے تمہیں سرفراز فرمایا اس سے تم کس طرح سرکشی اور بغاوت کا معاملہ کرتے ہو ؟ عام طور پر حضرات مفسرین و مترجمین یہاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

انسان کی اصلیت اور اس کا کردار تشریح : ان چار آیات میں رب رحمن و رحیم نے انسان کی حیثیت کردار مقصد ذمہ داریاں پیدائش عمل مرتبہ پھر انجام اور نتیجہ سب کچھ بیان کردیا ہے۔ یہی تو قرآن کی معقولیت جامعیت نفاست اور بےمثل ہونے کی دلیلیں ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے اور سائنسدانوں کی تحقیقات اور قرآن کا بیان یہی ثابت کر رہا ہے کہ پہلے کائنات بنائی گئیـ اور پھر انسان کا ظہور ہوا۔ جو کہ واضح الفاظ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا پھر حوا کو اور پھر دونوں کو جنت میں جگہ ملی۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی شیطان نے بھی اپنی گدی سنبھال لی کہ قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا۔ لہٰذا اس نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی پیدائش سے پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا کہ کوئی اس کا ذکرتک کرتا۔ اس آیت میں ” ھل “ بمعنی قدر ہے اور اس لحاظ سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ سیبویہ، کسائی اور دوسرے ائمہ لغت کا اس پر اتفاق ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:1) ہل اتی : استفہام تقریری ہے ہل بمعنی قد ہے۔ بیشک آچکا ہے بیشک گذر چکا ہے۔ علی الانسان۔ انسان سے عام انسان مراد ہے۔ یا حضرت آدم (علیہ السلام) ؟ اگلی آیت میں الانسان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے نطفہ امشاج سے پیدا کیا۔ امام فخر الدین رازی نے دونوں جگہ الانسان سے مراد عام انسان لیا ہے (اضواء البیان) حین : طائفۃ محدودۃ من الزمان الممتد الخیر المحدودۃ (بیضاوی) طویل ولا محدود زمانہ کا ایک محدود حصہ۔ الدھر : طریل، غیر محدود زمانہ۔ لم یکن شیئا مذکورا۔ جملہ محل نصب میں ہے اور الانسان سے حال ہے لم یکن مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں تھا۔ شیئا موصوف مذکورا ۔ ذکر سے اسم مفعول۔ صفت شی کی۔ مطلب آیت کا یہ ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) بیشک انسان پر ایک وقت ایسا گذرچکا ہے کہ جب اس کا کچھ نام ونشان نہ تھا پھر کتنے ہی دور طے کرکے نطفہ کی شکل میں آیا وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] اس لامتناہی زمانے میں جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا، ایک طویل مدت ایسی گزری ہے جب انسان کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفے کی شکل میں آیا اور یہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

اپنی حقیقت کی طرف دیکھو 2: انسان جو کبر و غرور کا پیکر بن جاتا ہے ۔ اور یہ سمجھتا ہے ۔ کہ میں اب دنیا میں کسی شخصیت کا محتاج نہیں ہوں ۔ اس کی اصل حقیقت کی جانب متوجہ فرمایا ہے ۔ آج جو یہ بغض وعناد کا مظاہر کرتا ہے ۔ اور حق وصداقت کی آواز کو سن کر اکڑا ہوا گزرجاتا ہے اسے معلوم بھی ہے ۔ کہ اس کی پیدائش میں کن عناصر کو دخل ہے ؟ کیا یہ وہی انسان نہیں ہے جس کو ایک ناپاک قطرہ آب سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور جو اس کا سمجھ بوجھ اور شمع بصر کی قوتیں دے رکھی ہیں تو اس لئے کہ اس کو مکلف بنائیں ۔ مگر یہ ہے ۔ کہ ان کا غلط اور ناجائز استعمال کرتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) بے شک زمانے میں انسان پر ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا یعنی انسان کا کہیں وجود نہ تھا وجود ذہنی نہ خارجی ، خدا جانے کتنی الٹ پلٹ اور کتنے دور گزرنے اور کتنے اطوار طے کرنے کے بعد نطفہ کی شکل اختیار کی ، نطفہ کی حالت بھی کوئی قبال تذکرہ نہیں بعض حضرات کا قول ہے کہ انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، حضرت قتادہ ثوری اور عکرمہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی چالیس سال گندھی ہوئی مٹی اور چالیس سال تک کیچڑ اور چالیس سال تک خشک کھنکھناتی حالت میں رہے یہ ایک سو بیس برس کی معیاد کو حین کہتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں، حین اس غیر مقدار زمانے کو کہتے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(بیشک آچکا انسان) اول حضرت آدم ( پر ایسا وقت بھی زمانہ میں کہ ) وہ (نہ تھا) انسانیت کے عنوان سے (کچھ قابل تذکرہ) اور کوئی انسان ہونے کے ساتھ انہیں یاد نہ کرتا تھا اور وہ روح پھونکنے کے قبل چالیس برس تک مکہ اور طائف کے درمیان پڑے رہے کوئی انہیں انسان کے نام سے یاد نہ کرتا تھا اور نہ ان کے عناصر کا تذکرہ ہوتا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس کا نام کیا ہے اور اسے پیدا کرنے میں کیا حکمت اور فائدہ ہے۔ اور اس مطلب کی بھی خبر نہ تھی کہ قدرت کاملہ والا ایسا آئینہ بناتا ہے کہ جو ان شعاعوں کا مظہر ہو جو مفاتیح الغیب میں ہیں ، اور خلافت کبریا کے مرتبہ کے لائق ہو۔ اور وہ عین مقصود ذات اور منتہائے غایت ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Surah Ad-Dahr has also been called Surah Al-Insan (Man) and Surah Al-Abrar (The Righteous) [ Ruh ]. The Surah describes in a very effective, eloquent and elegant style the inception and end of human creation, reward and punishment of deeds, and the conditions of the Hereafter, Paradise and Hell. هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا (There has come upon man a period of time in which he was nothing worth mentioning 76:1). The interrogative particle hal is used [ linguistically ] to introduce an interrogative sentence. Often,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Most of the conunentators and translators have taken hal in the first sentence hal ata alal-insan-i, in the meaning of qad. Accordingly, they interpret this sentence to mean; "No doubt, there has indeed passed on man a time." But, in fact, the word hal in Arabic is used only as an interrogative particle, and its object is not to ask a question in every case, but this apparently interrogative particle is used in different meanings on different occasions. For example, sometimes, in order to find out whether a certain incident has taken place or not, we ask: "Has this thing happened?"…

Read the full tafseer →