76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

ھل اتی علی الانسان۔۔۔ تا۔۔۔۔ اما کفورا۔ ھل قد کے معنی میں ہے، یہ کسائی، فراء اور ابوعبیدہ کا قول ہے، سیبویہ سے منقول ہے کہ ھل قد کے معنی میں ہے۔ فراء نے کہا، ھل نافیہ ہوتا ہے اور خبر یہ ہوتا ہے، یہ ھل خبریہ ہے کیونکہ تو کہتا ہے، ھل اعطیتک تو اس سے یہ مراد لیتا ہے کہ تو نے اسے عطا کردیا ہے ہے نافیہ کی مثال یہ ہے، کہ تو کہتا ہے، ھل یقدر احد علی مثل ھذا۔ اس پر کوئی قادر نہیں ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے یہ استفہام کے معنی میں ہے یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یہ قتادہ، ثوری، عکرمہ، اور سدی کا قول ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے ابوصالح نے روایت نقل کی ہے، حین من الدھر کا مطلب ہے ان پر چالیس سال گزر گئے ابھی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی وہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان پڑے رہے۔ حضرت ابن عباس سے ضحاک نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا وہ چالیس سال تک اسی طرح رہے پھر چالیس سال تک لیس دار مٹی کی صورت میں رہے پھر چالیس سال تک بجتی مٹی کی صورت میں رہے ان کی تخلیق ایک سوبیس سال کے بعد مکمل ہوئی اس کے بعد ان میں روح پھونکی گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں جس حین کا ذکر ہے اس کی مقدار کا پتہ نہیں، یہ ماوردی نے حضڑت ابن عباس سے بیان کیا ہے۔ ضحاک نے حضڑت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ان کا آسمان و زمین میں کوئی ذکر نہ تھا، یعنی وہ امحض ایک جسم تھے جن کی تصویر کچی کی گئی تھی وہ صرت مٹی تھے نہ کوئی ان کا ذکر تھا اور نہ ہی کوئی پہچان تھی، ان کے نام کا کچھ پتہ نہ تھا اور نہ ان کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کیا ارادہ کیا گیا پھر اس میں روح پھونکی گئی، یہ فراء، قطرب اور ثعلب نے بات کہی، یحییٰ بن سلام نے کہا، وہ مخلوقات میں کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی شان کے حامل تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ذکر اخبار کے معنی میں نہیں کیونکہ کائنات میں رب العالمین کی اخبار قدیمی چیز ہے بلکہ یہ ذکر شرف وقدر و مرتبہ کے معنی میں ہے، یہ قول کیا جاتا ہے، فلان مذکور، یعنی اس کی قدرومنزلت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانہ لذکرلک ولقومک۔ الزخرف 44) اور بیشک یہ بڑا شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے۔ یعنی انسان پر ایسا وقت ضرور گزرا ہے کہ وہ مخلوق کے نزدیک کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آگاہ کیا کہ اس نے حضرت آدم کو خلیفہ بنایا ہے اور اسے ایسی امانت سے نوازا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان، زمین، اور پہاڑ عاجز آگئے تھے تو انسان کی تمام پر فضیلت ظاہر ہوگئی تو وہ قابل ذکر چیز بن گیا قشیری نے کہا، خلاصہ کلام یہ ہے وہ مخلوق کے لیے کوئی قابل ذکر چیز نہ تھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل ذکر چیز تھی محمد بن جہیم نے فراء سے اس کی یہ تعبیر نقل کی ہے وہ شی تو تھا مگر اس کا کوئی ذکر نہ تھا، ایک قوم نے کہا، نفی شی کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی زمانے میں سے کئی مدتیں گزرگئیں، حضرت آدم مخلوق میں کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی اصناف میں سے سب سے ـآخر میں اسے پیدا کیا تھا۔ معدوم کوئی چیز نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس پر حین واقع ہو، معنی اس کا یہ ہے اس پر کئی زمانے گزر گئے حضرت آدم (علیہ السلام) کوئی چیز نہ تھے نہ مخلوق اور نہ مخلوقات کے ہاں قابل ذکر، یہ قتادہ اور مقاتل کے قول کا مطلب ہے، قتادہ نے کہا، انسان کی تخلیق نئی نئی ہوتی ہے، ہم انسان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کو نہیں جانتے۔ مقاتل نے کہا : کلام میں تقدیر وتاخیر ہے تقدیر کلام یوں ہے، ھل اتی حین من الدھر لم یکن الانسان شیئا مذکورا۔ کیونکہ انسان کو تمام حیوانات کی تخلیق کے بعد تخلیق کیا گیا اس کے بعد کوئی حیوان پیدا نہیں کیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں انسان سے مراد حضرت آدم کی اولاد کی خبر ہے، اور حین سے مراد نوماہ ہیں جتنا عرصہ انسان اپنی ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ کیونکہ اس عرصہ میں وہ جما ہوا خون اور گوشت کالوتھڑا ہوتا ہے کیونکہ اس حالت میں وہ جماد کی حالت میں ہوتا ہے اس کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہوتی۔ حضرت ابوبکر نے جب یہ آیت پڑھی تو کہا، کاش وہ مدت مکمل ہوجاتی تو ہمیں آزمایا نہ جاتا، اے کاش جو مدت حضرت آدم (علیہ السلام) پر واقع ہوئی تھی وہ قابل ذکر چیز نہ ہوتی وہ اس پر مکمل ہوجاتی ان کی اولاد نہ ہوتی اور ان کو اولاد کو آزمایانہ جاتا۔ حضرت عمر بن خطاب نے ایک آدمی کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سناتو انہوں نے کاش وہ مدت مکمل ہوجاتی۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج : بغیر کسی اختلاف کے یہاں انسا سے مراد ابن آدم ہے نطفہ سے مراد ایسا پانی ہے جسکو ٹپکایا جاتا ہے وہ مٹی ہے برتن میں جو تھوڑا سا پانی ہوا کرتا ہے اسے نطفہ کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ اپنے نفس کو عتاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : مالی اراک تکرھین الجنۃ، ھل انت الا نطفۃ فی شئۃ۔ کیا وجہ ہے میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو جنت کو ناپسند کرتا ہے تو تو محض مشکیرہ کا ایک قطرہ ہے۔ نطۃ کی جمع نطف اور نطاف ہے امشاج کا معنی اخلاط ہے اس کا واحد مشج اور مشیج ہے جس طرح خدن اور خدین ہے۔ کہتے ہیں، مشجت ھذا بھذا یعنی میں نے اس کو اس کے ساتھ ملایا اس کا اسم مفعول کا صیغہ ممشوج اور مشیج آتا ہے جس طرح مخلوط اور خلبط ہے مبرد نے کہا، امشاج کا واحد مشج سے کہتے ہیں مشج یمشج، جب وہ ایک چیز کو دوسرے کے ساتھ ملادے یہاں اس سے مراد نطفہ کا خون کے ساتھ ملنا ہے، شماخ نے کہا، طوت احشاء مرتجعۃ لوقت، علی مشج سلالتہ مھین۔ مرتجہ وہ مادہ پانی کو رحم میں داخل ہونے روک دے) کا بطن ایک خاص وقت تک نطفہ پر لپٹا رہا جس کی اولاد حقیر تھی۔ فراء نے کہا، امشاج سے مراد مرد اور عورت کے پانی، خون اور جمے ہوئے خون کا آمیزہ ہے جب کوئی چیز مل جائے تو اسی وجہ سے مشج کہتے ہیں جس طرح تیرا قول خلط ہے، اور ممشوج جس طرح تیرا قول مخلوط ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ امشاج سے مراد سرخی مائل سفیدی اور سفیدی مائل سرخی ہے۔ یہ ایسا قول ہے جسے بہت سے اہل لغت نے پسند کیا ہے ہذلی نے کہا : کان الرش والفوقین منہ، خلاف النصل سیط بہ مشیج۔ گویا پر اور اس کے دونوں سناروں پر پھل کے برعکس سرخی مائل سفیدی لگی تھی۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مرد کا پانی جو سفید گاڑھا ہوتا ہے عورت کے پانی جو زرد نرم ہوتا ہے ملتے ہیں تو ان دونوں سے بچہ پیدا ہوتا ہے بچے کے جسم میں پٹھے، ہڈیاں اور جو طاقت ہوتی ہے وہ مرد کے پانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس بچے کے جسم میں خون، گوشت اور بال ہوتے ہیں وہ عورت کے پانی سے ہوتے ہیں اس بارے میں ایک مرفوع روایت بھی ہے اسے بزار نے ذکر کیا ہے، حضرت ابن مسعود سے مروی ہے، اس کے امشاج سے مراد گوشت کے لوتھڑے کی رگیں ہیں، انہیں سے ایک روایت مروی ہے مرد کا پانی، عورت کا پانی اور دونوں دو رنگ والے ہوتے ہیں مجاہد نے کہا، مرد کا نطفہ سفید اور سرخ اور عورت کا نطفہ اور سبز اور زرد ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، وہ رنگوں سے پیدا ہوا ہے وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے پھر شرمگاہ اور رحم کے پانی سے پیدا ہوا ہے وہ پہلے نطفہ، جماہوا خون، ہڈیاں اور گوشت ہوتا ہے اس کی مثل قتادہ نے کہا، یہ پیدائش کے مراحل ہیں نطفے کا مرحلہ، جمے ہوئے خون کا مرحلہ، ہڈیوں کا مرحلہ اور پھر ہڈیوں کو گوشت پہنا دیتا ہے، جس طرح سورة مومنون میں ہے، ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین۔ مومنون) اور بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے جوہر سے۔ ابن سکیت نے کہا، امشاج سے مراد اخلاط ہیں کیونکہ وہ مختلف انواع میں سے ملاہوتا ہے انسان اس سے مختلف طباع والا پیدا کیا گیا ہے۔ اہل معانی نے کہا، امشاج جمع کا صیغہ نہیں یہ واحد کا معنی میں ہے کیونکہ یہ نطفہ کی صفت ہے جس طرح کہا جاتا ہے : برمۃ اغشار، ثوب اخلاق۔ حضرت ابوایوب انصاری سے مروی ہے، یہودیوں کا ایک عالم نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی، مجھے مرد اور عورت کے پانی کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے جب عورت کا پانی غالب ہوتا ہے تو بچی پیدا ہوتی ہے، اور جب مرد کا پانی غالب آجاتا ہے تو بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اس عالم نے کہا، میں اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں یہ واقعہ سورة بقرہ میں مفصل گزرچکا ہے۔ نبتلیہ۔ ہم اسے آزمائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ہم اس آزمائش کو مقدر کریں گے، اس سے مراد امتحان ہے جس کے ذریعے امتحان لیا جاتا ہے اس کی دو صورتیں ہیں، ہم خیر اور شر کے ذریعے اسے آزمائیں گے یہ کلبی نے کہا۔ ہم خوشحال میں اس کے شکر اور تنگی میں اس کے صبر کو آزمائیں گے یہ حضرت حسن بصری نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ہم اسے مکلف بنائیں گے، اس میں دو صورتیں ہیں، پیدائش کے بعد عمل کیساتھ یہ مقاتل کا قول ہے، دین کے ساتھ تاکہ اسے طاعت کا حکم دیا جائے اور معاصی سے روکاجائے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس کا معنی ہے ہم اسے ایک مخلوق سے دوسری مخلوق کی طرف پھیریں گے تاکہ ہم خیروشروع کے ساتھ اسے آزمائیں۔ محمد بن جہیم نے فراء سے حکایت بیان کی ہے کہا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فجعلناہ سمیعابصیرا۔ ہم نے اسے سمیع وبصیر بنایا ہے تاکہ ہم اسے آزمائیں یہ مقدم ہے اس کا معنی موخر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آزمائش خلقت کے مکمل ہونے کے بعد ہی ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے اس کے کان بنائے جس کے ساتھ ہدایت کو سنے اور اس کی آنکھیں بنائیں تاکہ اس کے ساتھ ہدایت کو دیکھے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

(اور) اسے راستہ بھی دکھایا (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا

انا ھدینہ السبیل۔ ہم نے اس کے لیے واضح کیا اور ہم نے رسول مبعوث کرکے اس کو ہدایت وگمراہی اور خیر وشر کے راستوں کی پہچان کرائی، پس وہ ایمان لایا اور کفر کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وھدینہ النجدین۔ البلد) اور ہم نے دونوں راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کی، ضحاک اور ابوصالح اور سدی نے کہا، یہاں سبیل سے مراد اس کا رحم سے نکلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے منافع اور مضرتیں ہیں جن کی طرف وہ طبعی اور کمال عقل کی بنا پر ہدایت پاتا ہے۔ اما شاکرا واما کفورا۔ ان دونوں میں سے جو بھی کرے ہم نے اس کے لیے واضح کردیا ہے، کو فیوں نے کہا : یہاں ان شرطیہ ہے اور مازائد ہے یعنی ہم نے اس کے لیے راستہ کو واضح کردیا ہے وہ شکر کرے یا کفر کرے۔ فراء نے اسے پسند کیا ہے اور بصریوں نے اس کو جائز قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ان اجزا کے لیے اسماء پر داخل نہیں ہوتا مگر اس صورت میں کہ اس کے بعد فعل مضمر ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے اس کی رشد کی طرف راہنمائی کی یعنی ہم نے دلائل قائم کرکے اس کے لیے توحید کے راستہ کو واضح کیا پھر اگر ہم اس کے لیے ہدایت کو تخلیق کردیں تو وہ ہدایت پاجاتے اور ایمان لے آتے اور اگر ہم اس کو بےیارومددگار چھوڑ دیں تو وہ کفراختیار کرے وہ اس طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے، قد نصحت لک ان شئت فاقبل وان شئت فاترک۔ میں نے تجھے نصیحت کردی ہے چاہے تو اسے قبول کرے چاہے اسے ترک کردے۔ یعنی اصل میں فان شئت تھا تو تاء کو حذف کردیا گیا اما شاکرا بھی اسی طرح ہے، واللہ اعلم۔ یہ قول کیا جاتا ہے : ھدیتہ السبیل وللسبیل والی السبیل یعنی فعل واسطہ کے بغیر، لام اور الی کے واسطہ کے ساتھ دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے سورة فاتحہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزرچکی ہے۔ شاکر اور کفور کو جمع کیا ہے شکور اور کفور کا جمع نہیں کیا جب کہ دونوں مبالغہ کے معنی میں جمع ہیں، مقصود شکر میں مبالغہ کی نفی اور کفر میں اس کا اثبات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا شکرادا نہیں کیا جاسکتا پس اس سے مبالغہ منتفی ہوگیا اور کفر سے مبالغہ منتفی نہیں نعمتوں کی زیادتی کی وجہ سے شکر کم ہے اور کفر زیادہ ہے اگرچہ احسان کے مقابلہ میں کم ہے یہ ماوردی نے حکایت بیان کی ہے۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

انا اعتدنا للکافرین سلسلا واغلالا وسعیر۔ دونوں فریقوں (ناشکری کرنے والے، شکر گزار) کی حالت کو بیان کیا اللہ تعالیٰ نے عقلاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اوامر کو بجالائیں جن کا انہیں حکم دیا گیا، انہیں مکلف بنایا اور انہیں ان امور پر قادر بنایا جو انکار کرے اس کے لیے عتاب ہے اور جو اس کی وحدانیت کو تسلیم کرے اور شکر بجالائے اس کے لیے ثواب ہے، السلاسل سے مراد جہنم کی بیڑیاں ہیں ہر بیڑ کی لمبائی سترہزارگز ہے جس طرح سورة الحاقہ میں گزرچکا ہے۔ نافع، کسائی، اور ابوبکر نے عاصم سے اور ہشام نے ابن عامر سے سلاسلا تنوین کے ساتھ نقل کیا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ قنبل اور ابن کثیر اور حمزہ نے بغیر الف کے وقف کیا ہے جب کہ باقی قراء نے الف کے ساتھ وقف کیا ہے جہاں تک پہلے قواریر کا تعلق ہے، اے نافع اور ابن کثیر کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے تنوین کے ساتھ روایت نقل کی ہے باقی قراء نے تنوین نہیں پڑھی۔ یعقوب اور حمزہ الف کے بغیر اس پر قف کیا ہے اور باقی قراء نے الف پر وقت کیا ہے۔ جہاں تک دوسرے قواریر کا تعلق ہے اسے نافع، کسائی اور ابوبکر نے تنودین دی ہے باقی قراء نے اسے تنوین نہیں دی، جس نے اسے تنوین دی ہے اسے الف کے ساتھ پڑھا ہے جس نے تنوین نہیں پڑھی اس اسے الف کو ساقط کردیا ہے، ابوعبید نے تینوں میں تنوین اور الف پر وقف کو اختیار کیا ہے وہ مصحف عثمانی کی اتباع کرتے ہیں کہا، میں نے مصحف عثمانی، سلالسال کو الف اور پہلے قواریر کو الف کے ساتھ دیکھا اور دوسرا الف کے ساتھ لکھا ہوا تھا تو اسے مٹادیا گیا ہے۔ میں نے اس کا واضح اثر دیکھا ہے جو اسے منصرف بنائے تو اس کے پاس چار دلیلیں ہیں۔ جمع الجمع احاد کے مشابہ ہے تو اس کو احاد کی جمع کی طرح جمع بنایا گیا ہے اسے احاد کے حکم میں رکھا گیا تو وہ منصرف ہوگئے اخفش نے عربوں سے ان تمام اسماء کو منصرف نقل کیا ہے جو منصرف نہیں ہوتے مگر اسم تفضیل کا صیغہ جو من کے ساتھ استعمال رہا، کسائی اور فراء نے اسی طرح کہا ہے یہ ان لوگوں کی لغت کے مطابق ہے جو تمام اسماء کو جر دیتے ہیں مگر وہ اظراف منک کو جر نہیں دیتے، ابن انباری نے اس بارے میں عمرو بن کلثوم کا شعر پڑھا : کان سیوفنا فینا وفیھم، مخاریق بایدی لاعینا۔ گویا ہماری تلواریں ہم میں وران میں دھجیوں سے بٹے ہوئے کوڑے ہیں جو ہمارے کھیلنے والوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ لبید نے کہا، وجزور ایسار دعوت لحتفھا، بمغالق متشابہ اجسامھا، فضلا وذوکرم یعنی علی الندی، سمح کسوب رغائب غنامھا۔ ان اشعار میں مخاریق اور مغالق اور رغائب کو منصرف پڑھا گیا ہے جب کہ اصل قاعدہ یہ ہے کہ یہ منصرف نہ ہوتے۔ (3) پہلے قواریر کو تنوین دی جائے کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے اور آیات کے سرے تنوین کے ساتھ آتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مذکورا، سمیعا بصیرا، پہلے کو تنوین اس لیے دی گئی کیونکہ وہ آیت کا سرا ہے اور دوسرے کو پہلے کے جوار کی وجہ سے تنوین دی گئی۔ (4) مصاحف کی اتباع کرتے ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور کوفہ کے مصاحف میں الف کے ساتھ ہیں۔ جوان کو تنوین نہیں دیتا، اس نے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ ہر جمع جس کے الف کے بعد تین حرف ہوں، دو حرف ہوں یا ایک حرف مشدد ہو وہ معرفہ اور نکرہ میں منصرف نہیں ہوتے جس جمع میں الف کے ساتھ تین حرف ہوتے ہیں جیسے قنادیل، دنانیر اور منادیل، جس کے الف کے بعد دو حرف ہوتے ہیں جیسے صوامع، مساجد جس کے الف کے بعد حرف مشدد ہوتا ہے، شواب، دواب۔ خلف نے کہا : میں نے یحییٰ بن آدم کو امام ابن ادریس سے روایت نقل کرتے ہوئے سنا کہ پہلے مصاحف میں پہلا قوار یر الف کے ساتھ تھا اور دوسرا الف کے بغیر تھا، یہ حمزہ کے مذہب کی دلیل ہے خلف نے کہا، میں نے ایک مصحف میں دیکھا جسے حضرت ابن مسعود کی قرات کی طرف منسوب کیا جاتا ہے پہلا الف کے ساتھ اور دوسرابغیر الف۔ جہاں تک اسم تفضیل جو من کے ساتھ استعمال ہو، عربوں میں سے کوئی بھی شعر یا غیر شعر میں تنوین کے ساتھ نہیں پڑھتا کیونکہ من اضافت کے قائم مقام ہوتا توتنوین اور اضافت کو ایک حرف میں جمع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دونوں اسم کی دلیلیں ہیں دونوں کو جمع نہیں کیا جائے گا یہ فراء اور دوسرے علماء نے کہا۔ اغلالاوسعیرا۔ اغلال یہ غل کی جمع ہے جس کے ساتھ ان کے ہاتھوں کو ان کی گردن کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا، جبر بن نفیر نے حضرت ابودرداء سے روایت نقل کی ہے وہ کہا کرتے تھے ان ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اٹھاؤ قبل اس کے کہ انہیں گردنوں کے ساتھ جکڑ دیاجائے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، جہنمیوں کی گردنوں میں طوق اس لیے نہیں ڈالے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے رب کو عاجز کردیا ہے بلکہ انہیں ذلیل ورسوا کرنے کے لیے طوق ڈالے جائیں گے۔ سعیرا کے بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے۔
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیکوکار ہیں وہ ایسا مشروب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

ان الابرار یشربون من کاس کان۔۔۔ تا۔۔۔ تفجیرا۔ ان الابرار یشربون من کاس۔ ابرار سے مراد اہل صدق ہیں جس کا واحد بر ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکم کی اطاعت کرے ایک قول یہ کیا گیا ہے برسے مراد موحد ہے ابرار، بار کی جمع ہے جس طرح شاہد کی جمع اشھاد آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ بر کی جمع ہے جس طرح نہر کی جمع انہار آتی ہے صحاح میں ہے بر کی جمع ابرابر ہے اور بار کی جمع بررہ ہے جملہ بولا جاتا ہے، فلان یبر خالقہ ویتبررہ۔ یعنی وہ اپنے خالق کی اطاعت کرتا ہے۔ الام برۃ بولدھا۔ ماں اپنے بچے کے ساتھ نیکی کرتی ہے، حضرت ابن عمر نے رسول اللہ سے روایت نقل کی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ابرار رکھا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے والدین اور بیٹوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جس طرح تیرے والد کا تجھ پر حق ہے، اس طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، بروہ ہے جو اولاد کو تکلیف نہ دے قتادہ نے کہا، ابرار وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے ہیں اور نذر پوری کرتے ہیں حدیث طیبہ میں ہے ابرابر وہ ہیں جو کسی کو اذیت نہیں دیتے۔ یشربون من کاس۔ کاس ایسے برتن کو کہتے ہیں جس میں مشروب ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس سے مراد شراب ہے لغت میں، کاس ایسے برتن کو کہتے ہیں جس میں شراب ہو جب اس میں شراب نہ ہوتوا سے کاس نہیں کہتے۔ عمرو بن کلثوم نے کہا : صبئت الک اس عنا ام عمرو۔ وکان الک اس مجراھا الیمینا۔ اے ام عمرو تو نے ہم سے پیالے کو روک لیا جبکہ پیالے کو دائیں جانب سے چلانا چاہیے۔ اصمعی نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، صبنت عنا الھدیہ، اوماکان من معروف۔ تو نے ہم سے ہدیہ یا احسان کو روک لیا۔ صبنت تصبن صبا، معنی ہے تو نے روک لیا۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ کان مزاجھا کافورا۔ مزاج کا معنی ہے اس کی آمیزش، حضرت حسان نے کہا : کان سبیئۃ من بیت راس، یکون مزاجھا عسل ومائ۔ گویا بیت راس (اردن کا ایک مقام) کے شراب میں شہد اور پانی کی آمیزش تھی۔ اس سے بدن کا مزاج ہے اس سے مراد یہ ہے صفراء، مودائ، حرارت اور برودت۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، جنت میں ایک چشمہ کا نام ہے جسے کافور کا چشمہ کہتے ہیں۔ یعنی اس میں اس چشمہ کے پانی کی آمیزش ہوگی جسے کافور کہتے ہیں۔ سعید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے ان کے لیے شراب میں کافور کی آمیزش ہوگی اور اس پر مشک کی مہر ہوگی یہ مجاہد کا قول ہے عکرمہ نے کہا مزاج سے مراد اس کا ذائقہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کافور اس کی خوشبو کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ ذائقہ کے اعتبار سے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ارادہ کیا ہے وہ سفیدی، عمدہ خوشبو اور ٹھنڈک میں کافور کی طرح ہوگا کیونکہ کافور کو پیا نہیں جاتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، حتی اذا جعلہ نارا۔ الکہف 96) آیت میں نارا سے مراد آگ کی طرح ہے ابن کیسان نے کہا، اسے کستوری کافور اور زنجبیل کے ساتھ عمدہ بنادیا گیا ہے مقاتل نے کہا، یہ دنیا کا کافور نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں موجود چیز کو تمہارے ہاں موجود چیز کے ساتھ نام دیا ہے تاکہ تمہارے دل اس تک پہنچ جائیں اللہ تعالیٰ کے فرمان، کان مزاجھا، میں کان زائدہ ہے یعنی ایساجام جس میں کافور کی آمیزش ہے۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے

عینا یشرب بھاعباد اللہ۔ فراء نے کہا، کافور جنت میں پانی کے ایک چشمہ کا نام ہے عینا کافور سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ کاس کے محل سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مزاجھا کی ضمیر سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ بطور مدحن منصوب ہے جس طرح ایک آدمی کا ذکر کیا جاتا ہے، تو تو کہتا ہے، العاقل للبیب، یعنی تم نے عقل مند دانا آدمی کا ذکر کیا یہ اعنی فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے وہ چشمہ سے پانی پیتے ہیں۔ کافور کو قافور بھی کہتے ہیں کافور سے مراد کھجور کے گابھے کا پردہ ہے اسی طرح کفری ہے یہ اصمعی نے کہا : وہ ہرن جس سے کستوری حاصل کی جاتی ہے وہ پاکیزہ خوشے کھاتا ہے تو یہ چیز اسے کافور بنادیتی ہے، فراء نے کہا، یشربھا اور یشرف بھا، دونوں معنی میں ایک جیسے ہیں گویا یشرب بھاکامعنی ہے وہ اس سے سیراب ہوتا ہے اور یہ شعر پڑھا۔ شربن بماء البحر ثم ترفعت، متی لجج خضر لھن نئیج۔ وہ سمندر کے پانی سے سیراب ہوگئے پھر وہ سبز لہروں میں اوپر اٹھے جو لہریں تیز اور آواز والی تھیں۔ کہا اس کی مثل فلان یتکلم بکلام حسن اور یکلم کلاما حسنا۔ فلاں اچھی گفتگو کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یشرب بھا میں باء زائدہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، باء، من کا بدل ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، یشرب منھا، یہ قتیبی نے کہا۔ یفجرونھا تفجیرا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے ایک آدمی اپنے گھروں میں گھومے پھرے گا اپنے محلات کی طرف اوپر چلاجائے گا اس کے ہاتھ میں ایک ٹہنی ہوگی جس کے ساتھ وہ پانی کی طرف اشارہ کرے گا تو وہ پانی اس کے ساتھ ساتھ چلے گا جہاں جہاں وہ اپنے گھروں میں گھومے گا، وہ سطح زمین پر ہوگا کوئی نالہ، کھالہ نہ ہوگا، وہ محلات میں جہاں جہاں جائے گا پانی اس کے پیچھے پیچھے چلے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، عینا یشرب بھاعباد اللہ یفجرونھا تفجیرا۔ کا یہی مقصود ہے وہ نہریں نکالیں گے جس طرح ایک آدمی نہر کو یہاں وہاں سے نکالتا ہے ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا معنی ہے وہ اسے لے جائیں گے جہاں چاہیں گے وہ ان کی پیروی کرے گا جہاں سے وہ مڑیں گے وہ نہر بھی مڑجائے گی۔ ابومقاتل نے اور ابوصالح سے وہ سعد سے وہ ابوسہل سے وہ حضرت حسن بصری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جنت میں چار چشمے ہیں دو چشمے عرش کے نیچے سے نکلتے ہیں ان دو میں سے ایک تو وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا اور دوسرا زنجبیل ہے وہ عرش کے اوپر سے ابلتے ہیں ان میں سے ایک تو و ہے جس جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سلسبیل کے نام سے کیا ہے اور دوسرا تسنیم ہے۔ حکیم ترمذی نے، نوادرالاصول، میں اس کا ذکر کیا ہے کہا تسنیم مقربین کے لیے خاص ہے وہ اسے خالص پئیں گے کافور ابرابر کے لیے ہے ابرار کو تسنیم سے آمیزہ ملے گا، زنجبیل اور سلسبیل یہ ابرار کے لیے ہے اسکی ان کے مشروب میں آمیزش ہوگی اس کا قرآن میں ذکر ہے اس کو کون پئیے گا اس کے ذکر سے خاموشی اختیار کی گئی ہے ابرار کے لیے جو آمیزہ کی صورت میں ہوگا تو وہ مقربین کے لیے خاص ہوگا جو ابرار کے لیے خاص ہے وہ باقی جنتیوں کے لیے آمیزہ کی صورت میں ہوگا۔ ابرار سے مراد الصادقون ہیں اور مقربون سے مراد صدیقین ہیں۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں

یوفون بالنذر۔۔۔ تا۔۔۔ ولاشکورا۔ یوفون بالنذر، جب وہ نذرمانتے ہیں تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرض کی گئی نماز، زکوۃ، روزہ، حج، عمرہ، اور دوسرے فرائض ہیں۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں نذر مانیں تو وہ اسے پورا کرتے ہیں فراء اور جرجانی نے کہا، کلام میں اضمار ہے یعنی وہ دنیا میں نذر پوری کیا کرتے تھے عرب اس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے کبھی کان کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی حذف کردیتے ہیں۔ نذر اس کی حقیقت ہے مکلف نے اپنے نفس پر کسی چیز کو اس لیے واجب کیا کہ وہ اسے بجالائے گا اگر تو چاہے تو اس کی تعریف میں یہ بھی کہہ سکتا ہے، نذر سے مراد مکلف کا طاعات میں سے کسی چیز کو اپنے اوپر واجب کرنا، اگر وہ اسے اپنے اوپر واجب نہ کرتا تو وہ چیز اس پر واجب نہ ہوتی، کلبی نے کہا، اس کا معنی ہے وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں دونوں کا معنی ایک ہی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ثم الیقضوا تفثھم والیوفوا نذورھم۔ الحج 29 ) ۔ پھر وہ اپنی میل کو دور کردیں اور حج کے وہ اعمال جن کو انہوں نے حج کے احرام کی وجہ سے اپنے اوپر لازم کیا ہے ان کو پورا کریں، یہ قتادہ کا قول کو تقویت بہم پہنچاتا ہے کہ نذر میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو انسان اپنے ایمان کی وجہ سے لازم کرتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، یہ قشیری کا قول ہے، اشہب نے امام مالک سے وایت نقل کی ہے کہ نذر پوری کرنے سے مراد یہ ہے وہ غلام آزاد کرنے، روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کی نذر کو پورا کرتے ہیں، ابوبکر بن عبدالعزیز نے ان سے روایت نقل کی ہے کہ امام مالک نے کہا، نذر سے مراد قسم ہے۔ ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا۔ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر غالب، چھاجانے والا اور عام ہے۔ لغت میں مستطیرا کا معنی پھیلا ہوا ہے، عرب کہتے ہیں استطار الصدع فی القارورۃ والزجاجۃ واستطال بوتل اور شیشے میں ٹوٹنے کی لکیر لمبی ہوگئی، اعمش نے کہا : وبانت وقد اسارت فی الفواد صدعا علی نابھا مستطیرا۔ وہ جدا ہوئی اس نے اپنی دوری کی وجہ سے دل میں لمبا شق چھوڑا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، اسطار الحریق، آگ پھیل گئی، استطار الفجر روشنی پھیل گئی، حضرت حسان نے کہا، وھان علی سراۃ بنی لوی، حریق بالبویرۃ مستطیر۔ بویرہ کے مقام پر بنولوی کے سرداروں پر پھیل جانے والی آگ آسان ہوگئی۔ قتادہ کہا کرتے تھے : اللہ کی قسم ! اس دن کا شر پھیل جائے گا یہاں تک کہ وہ آسمانوں اور زمین بھردے گا۔ مقاتل نے کہا، اس کا شر آسمانوں میں پھیل گیا تو وہ پھٹ گئے ستاروں ٹوٹ گئے، فرشتے خوف زدہ ہوگئے زمین میں پہاڑ اڑ گئے اور پانی انتہائی گہرائی میں چلے گئے۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

ویطمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیماواسیرا۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، وہ کھانا تھوڑا ہونے، اس کی محبت ہونے اور اس کی چاہت ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلاتے ہیں دارانی نے کہا، حبہ کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ فضیل بن عیاض نے کہا، کھانا کھلانے کی محبت رکھتے ہوئے کھانا کھلاتے ہیں ربیع بن خثیم کے پاس جب کوئی سائل آتا تو آپ فرماتے : اے شکر کھلاؤ کیونکہ ربیع شکر پسند کرتے تھے۔ مسکین سے مراد مسکنہ ولا ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے دروازوں پر گردش کرنے والا وہ تجھ سے تیرے مال کا سوال کرتا ہے۔ یتیم سے مراد مسلمانوں کا یتیم ہے۔ منصور نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یتیم حضرت ابن عمر کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتا تھا ایک رو آپ نے اپنا کھانا منگوایا یتیم کو طلب کیا تو اسے نہ پایا حضرت ابن عمر جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس وقت وہ یتیم آیا تو کھانا نہ پایا۔ حضرت عمر نے اس کے لیے ستو اور شہد منگوایا اور فرمایا اے لے لو اللہ کی قسم تیرے ساتھ کوئی غبن نہیں کیا گیا۔ اسیر سے مراد وہ شخص ہے جسے قید کردیاجائے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اسیر سے مراد مشرک ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہے یہ قتادہ کا بھی قول ہے ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے اسیر سے مراد وہ شخص ہے جسے قید کیا گیا ہو سعید بن جبیر اور عطانے بھی یہی کہا ہے۔ اس سے مراد وہ مسلمان شخص ہے جسے کسی حق کے بدلہ میں قید کیا گیا ہو، سعید بن جبیر نے قتادہ اور حضرت ابن عباس جیسا قول کیا ہے۔ قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں زیادہ حق دار ہے کہ تو اس کو کھلائے۔ عکرمہ نے کہا، اسی رے مراد غلام ہے ابوحمزہ ثمالی نے کہا، اسیر سے مراد عورت ہے جس پر رسول اللہ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، استوصوابالنساء خیرا فانھن عوان عنکم۔ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ تمہاری قید میں ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری نے کہا رسول اللہ نے اس آیت میں تلاوت فرمایا، مسکین سے مراد فقیر ہے یتیم سے مراد جس کا باپ نہ ہو اور اسیر سے مراد قیدی ہے یہ ثلعبی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مسکین کو کھانا کھلانے والی آیت وصدقات والی آیت نے منسوخ کردیا ہے قیدی کو کھانا کھلانے والی آیت کو تلواروالی آیت نے منسوخ کردیا ہے یہ سعیدبن جبیر کا قول ہے دوسرے علماء نے کہا، اس کا حکم ثابت ہے یتیم ومسکین کو کھانا کھلانے کا حکم نفل کے طور پر تھا قیدی کو کھانا کھلانے کا حکم جان کی حفاظت کی خاطر ہے مگر امام اس کے بارے میں جو پسند کرے۔ ماوردی نے کہا، یہ احتمال موجود ہے کہ اسیر سے مراد ناقص العقل ہے کیونکہ وہ اپنے جنون کی قید میں ہے مشرک کی قید انتقام ہے جو امام کی رائے پر موقوف ہے یہی نیکی اور احسان ہے عطا سے مروی ہے، اسیر اہل قبلہ اور دوسرے لوگوں میں سے بھی ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا یہ گویا قول عام ہے جو تمام اقوال کو جامع ہے اور مشکوک قیدی کو کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کے ہاں عبادت ہے مگر یہ نفلی صدقہ ہے جہاں تک فرضی صدقات ہیں تو وہ ان پر صرف کرنا جائز نہیں مسکین یتیم، اسیر اور لغت میں ان کے اشتقاق کے بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزرچکی ہے۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکر گزاری کے (طلبگار)

انما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزاء ولاشکورا۔ وہ مسکین، یتیم اور اسیر کو اپنی زبانوں سے یہ کہتے ہیں ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلہ کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم اس بارے میں ہماری تعریف کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا دنیا میں جب وہ کھاناکھلاتے تھے تو ان کی یہی نیتیں ہوا کرتی تھیں سالم نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے انہوں نے و اپنی زبانوں سے یہ بات نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں علم تھا اس لیے ان کی ان الفاظ سے تعریف کی تاکہ رغبت کرنے والا اس بارے میں ان سے رغبت کرے۔ سعید بن جبیر نے یہ بات کہی، قشیری نے ان سے یہ نقل کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ آیت مطعم بن ورقاء کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے نذر مانی تھی اور اسے پورا کیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت ان مہاجرین کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے قیدیوں کی کفالت اٹھائی تھی وہ سات افراد تھے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد اور حضرت عبیدہ رضوان اللہ علیم اجمعین۔ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے مقاتل نے کہا یہ ایک انصاری کے حق میں نازل ہوئی جس نے ایک دن میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلایا تھا۔ ابوحمزہ ثمالی نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی یارسول اللہ مجھے کھانا کھلائیے بیشک میں سخت مشقت میں ہوں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جو میں تجھے کھلاؤں لیکن تو کسی کو تلاش کر۔ ایک انصاری کے پاس آیاجو اپنی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھارہا تھا اس آدمی نے اس انصاری سے سوال کیا اور رسول اللہ کا ارشاد ذکر کیا، بیوی نے کہا، اسے کھلاؤ، اسے پلاؤ پھر نبی کریم کے پاس ایک یتیم آیا اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھے کچھ کھلائیے، فرمایا میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں جو تجھے کھلاؤں لیکن تم تلاش و جستجو کرو۔ اس یتیم نے اس انصاری سے کھانا طلب کیا اس کی عورت نے کہا، اسے کھلاؤ اور اسے پلاؤ، تو اس انصاری نے کھلایا، پھر نبی کریم کے پاس ایک قیدی آیا اس نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے کچھ کھلائیے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میرے پاس کچھ بھی نہیں جو میں تجھے کھلاؤں بلکہ تم طلب کرو۔ وہ اسی انصاری کے پاس گیا اس نے اس سے مطالبہ کیا اس کی بیوی نے کہا، اسے کھلاؤ اور اسے پلاؤ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے، علماء تفسیر نے کہا، یہ آیت حضرت علی شیر خدا اور حضرت فاطمہ اور ان کی لونڈی فضہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ تمام نیک لوگ کے بارے میں نازل ہوئی اور جس نے بھی کوئی اچھا عمل کیا یہ آیت عام ہے، نقاش، ثعلبی، قشیری اور دوسرے کئی مفسرین نے حضرت علی شیر خدا، حضرت فاطمہ الزہرا اور ان کی لونڈی کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہے، جو صحیح اور ثابت نہیں اسے لیث نے مجاہد سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین دونوں مریض ہوئے رسول اللہ نے دونوں کی عیادت کی اور عام لوگوں نے بھی ان کی عیادت کی انہوں نے کہا : اسے ابوالحسن جابر جعفی نے قنبر سے جو حضرت علی کے غلام تھے سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین بیمار ہوئے یہاں تک کہ رسول اللہ کے صحابہ نے ان کی عیادت کی تو حضرت ابوبکر نے فرمایا، اے اباالحسن پھر حدیث، لیث بن سلیم کی حدیث کی طرف لوٹ جاتی ہے کاش، آپ اپنے بیٹوں کی جانب سے کوئی نذر مانتے ہر نذر جس کو پورا نہ کیا جائے تو وہ کوئی چیز نہیں ہوتی۔ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا، اگر میرے دونوں بچے صحت مند ہوجائیں تو میں شکرانہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے تین روزے رکھوں گا، ان کی لونڈی نے کہا، اگر میرے دونوں سردار صحت مند ہوگئے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے تین روزے رکھوں گی۔ حضرت فاطمہ نے بھی اسی طرح کہا، جعفی کی حدیث میں ہے حضڑت امام حسن اور حضرت امام حسین نے کہا، ہم پر بھی اس کی مثل ہے دونوں بچے صحت مند ہوگئے جبکہ سرورددوعالم کے آل کے ہاں کچھ بھی نہ تھا۔ حضرت علی شمعون بن حاریا خیبری کے پاس گئے وہ یہودی تھا اس سے تین صاع جو ادھار لیے اور انہیں لے آئے اسے گھر کے ایک کونے میں رکھا حضرت فاطمہ نے ایک صاع جو لیے اسے پیسا اور اس کی روٹیاں پکائیں، حضرت علی نے نبی کریم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھرآئے اور کھانا اپنے سامنے رکھا۔ جعفی کی حدیث میں ہے لونڈی نے ایک صاع جو لیے اس سے پانچ روٹیاں پکائیں ہر ایک کے لیے ایک روتھی جب پہلا روزہ مکمل ہوا تو انہوں نے اپنے سامنے روٹی اور نمک رکھا کہ ان کے پاس ایک مسکین جو مسلمان تھا آیا کہا اللہ کی قسم میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیے اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کے دسترخوان سے کھلائے حضرت علی نے اسے سنا توہ شعر پڑھنے لگے، فاطم ذات الفضل والیقین، یابنت خیر الناس اجمعین ،۔ اے فاطمہ اے فضل ویقین والی اے تمام لوگوں سے بہتر کی بیٹی۔ اما ترین الباس المسکین، قد قام بالباب لہ حنین۔ کیا تو محتاج کو نہیں دیکھتی دروازے پر ایسا آدمی کھڑا ہے جس کی دکھ بھری آواز آرہی ہے۔ یشکو الی اللہ ویستکین، یشکو الینا جائع حزین۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنی شکایت کرتا ہے اور ہمارے سامنے ایک بھوگا غمگین شکایت کرتا ہے۔ کل امری بکسبہ رھین، وفاعل الخیرات یستبین۔ ہر آدمی اپنے عمل کے بدلے میں رہن رکھا گیا ہے اور بھلائیاں کرنے والاواضح ہوتا ہے۔ موعدنا جنۃ علین حرمھا اللہ علی الضفین۔ ہمارے ساتھ اعلی علیین کا وعدہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے بخیل پر اسے حرام کردیا ہے۔ وللبخل موقف مھین تھوی بہ النار الی سجین۔ بخیل کے لیے رسوا کرنے والاٹھکانہ ہے جہنم اسے سجین تک لے جائے گی۔ شرابہ الحمیم والغسلین من یفعل الخیر یقم سمین، اس کا مشروب کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کا نچڑان ہوگا جو بھلائی کرتا ہے وہ موٹا ہوگا۔ ویدخل الجنۃ ای حین۔ وہ جنت میں جس وقت چاہے گا داخل ہوجائے گا۔ حضرت فاطمہ کہنے لگیں : امرت عندی یا بن عم طاعیہ مابی من لوم ولاوضاعۃ، اے چچازاد تیرا حکم میرے نزدیک قابل اطاعت ہے میرے نزدیک ملامت کا باعث اور بےوقعت نہیں۔ غدیت فی الخبز لہ صناعہ، اطعمہ ولا ابالی الساعۃ۔ میں نے روٹی تیار کرنے میں دن صرف کردیا ہے اسے کھلاؤ اس وقت مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ ارجو اذا اشبعت ذالمجاعۃ ان الحق الاخیار والجماعۃ۔ جب میں بھوکے کو سیر کروں گی تو میں نیک لوگوں اور جماعت کے ساتھ جاملوں گی۔ وادخل الجنۃ شفاعۃ، میں جنت میں داخل ہوجاؤں گی میرے لیے شفاعت ہے۔ گھروالوں نے اسے کھانا کھلایا وہ اس دن اور رات بھوکے رہے اس روز انہوں نے خالص پانی کے سوا کچھ نہ چکھا جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے دوسرا صاع جو کا لیا اسے پیسا اور اس سے روٹی پکائی حضرت علی نے نبی کریم کے ساتھ نماز پڑھی پھر آپ گھرآئے اور کھانا اپنے سامنے رکھا تو دروازے پر ایک یتیم آکھڑا ہوا اور اس نے کہا، السلام علیکم حضرت محمد کے گھروالو۔ میں مہاجرین کی اولاد میں سے ایک یتیم ہوں میرا والد یوم عقبہ کو شہید ہوگیا مجھے کھانا کھلاؤ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے دسترخوان سے کھانا کھلائے گا حضرت علی نے اس کی آواز سنی اور شعر پڑھنا شروع کردیے۔ فاطم بنت السید الکریم بنت بنی لیس باالزنیم۔ اے سید کریم کی بیٹی، اے نبی کی بیٹی ! جو بےشان نہ تھے۔ لقد اتی اللہ بذی الیتیم، من یرحم الیوم یکن رحیم۔ اللہ تعالیٰ ایک یتیم کو لایا جو آج اس پر رحم کرے گا اس پر رحم کیا جائے گا۔ ویدخل الجنۃ ای سلیم، وقد حر الخلد علی اللتیم۔ جن تمہیں کوئی بھی سلیم الفطرت داخل ہوجائے گا اور وہ جنت کمینے آدمی پر حرام کردی گئی ہے۔ الایجوز الصراط المستقیم، یزل فی النار الی الجحیم۔ وہ پلصراط پر سے نہیں گزرے گا اور وہ جحیم تک آگ میں پھسلتا ہی جائے گا۔ شرابہ الصدید والحمیم۔ اس کا مشروب پیپ اور کھولتا ہوا پانی ہوگا۔ حضرت فاطمہ نے یہ کہنا شروع کردیا : اطعمہ الیوم ولا ابالی ولوثر اللہ علی عیالی۔ آج اسے کھلاؤ اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری اولاد پر ترجیح دی ہے۔ آمنو جیاعا وھم اشبالی، اصغرھم یقتل فی القتال۔ انہوں نے بھوکے شام کی جب کہ وہ میرے شیر ہیں ان میں سب سے چھوٹا جنگ میں قتل کیا جاتا ہے۔ بکربلا یقتل باغتیال، یاویل للقاتل مع وبال۔ کربلا میں اسے دھوکے سے قتل کیا جائے گا ہائے قاتل کے لیے عذاب کے ساتھ ہلاکت ہے۔ تھوی بہ النار الی سفال، وفی یدیہ الغل والاغلال۔ آگ انہیں نیچے تک لے جائے گی اور اس کے ہاتھوں میں طوق اور بیڑیاں ہوں گی۔ انہوں نے اسے کھانا کھلادیا وہ دن اور دوراتیں ٹھہرے رہے انہوں نے خالص پانی کے سوا کچھ نہیں چکھا، جب تیسرادن تھا تو انہوں نے باقی ماندہ صاع لیا اور اس کو پیسا اس کی روٹیاں پکائیں۔ حضرت علی نے نبی کریم کے ساتھ نماز پڑھی پھ روہ گھرآئے کھانا ان کے سامنے رکھا گیا کہ ایک قیدی ان کے پاس آگیا وہ دروازے پر کھڑا ہوگیا اس نے کہا، اے محمد کے خاندان والو تم ہمیں قیدی بناتے ہو ہمیں باندھتے ہو اور ہمیں کھانا نہیں کھلاتے مجھے کھانا کھلاؤ کیونکہ میں حضرت محمد کا قیدی ہوں۔ حضرت علی نے اس کی بات سنی تو آپ یہ اشعار پڑھنے لگے فاطم یابنت النبی احمد، بنت نبی سید مسود۔ اے فاطمہ اے نبی احمد کی بیٹی، اے سردار نبی کی بیٹی۔ وسماہ اللہ فھو محمد قد زانہ اللہ بحسن اغید۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا پس وہ محمد ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت ہی حسین بنایا ہے۔ ھذا سیر للنبی المھتد مثقل فی غلۃ مقید۔ یہ ہدایت یافتہ نبی کا قیدی ہے یہ اپنے طوق کے نیچے دبا جارہا ہے یہ بیڑیوں میں قید ہے۔ یشکو الینا الجوع قد تمدد، من یطعم الیوم یجدہ فی غد۔ وہ ہمارے سامنے طویل بھول کی شکایت کرتا ہے جو آدمی آج کھلاتا ہے کل اس پالے گا۔ عند العلی الواحد الموحد مایزرع الزارع سوف یحصد۔ اللہ تعالیٰ جو بلند شان والا یکتا ہے، جو اس کے ہاں نیکی کرے عنقریب اسے کاٹے گا۔ اعطیہ لالا تجعلیہ اقعد۔ اسے عطا کیجئے اسے رسوانہ کیجئے۔ حضرت فاطمہ نے یہ شعر پڑھنے شروع کردیے۔ لم یبق مماجاء غیر صاع، قد ذھبت کفی مع الذراع۔ جو وہ کھانا لائے اس میں سے صاع کے سوا کچھ بھی باقی نہیں بچا میری توہتھیلی بازو کے ساتھ جاتی رہی۔ ابنای واللہ ھم جیاع، یارب لاتترکھما ضیاع۔ اللہ کی قسم میرے دونوں بیٹے بھوکے ہیں اے میرے رب ان دونوں کو ضائع نہ ہونے دے۔ ابوھما للخیر ذو اصطناع، یصطفع المعروف باابتداع۔ ان دونوں کا والد نیکی کرنے والا ہے وہ شروع سے نیکی کرنے والا ہے۔ عبل الذارعین شدید الباع وما علی راسی من قناع۔ وہ بٹے ہوئے بازوں والا اور ضرورت مند ہے اور میرے سر پر اوڑھنی بھی نہیں۔ الا قناعا نسجہ انساع۔ مگر ایسی اوڑھنی جو تسمہ کی طرح بن گئی ہو۔ انہوں نے اسے کھانا دیا اور تیندن اور تین راتیں خالص پانی کے سوا انہوں نے کسی چیز کو نہ چکھا جب چوتھا دن تھا جب کہ نذر پوری ہوچکی تھی تو حضرت علی نے پانے دائیں ہاتھ میں حضرت حسن اور بائیں ہاتھ میں حضرت حسین کو پکڑا اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ بھوک کی شدت سے چوزوں کی طرح کا نپ رہے تھے جب رسول اللہ نے انہیں دیکھا تو فرمایا۔ اے ابوالحسن میں تم میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں مجھے کس قدر تکلیف دے رہا ہے۔ ہمیں ہماری بیٹی کے پاس لے چلو وہ سب ان کی طرف گئے جبکہ وہ اپنی عبادت کی جگہ میں تھیں ان کا پیٹ ان کی پشت کے ساتھ لگا ہوا تھا جب رسول اللہ نے انہیں دیکھا اور ان کے چہرہ میں بھوک کے آثار کو دیکھا تو آپ رو دیے فرمایا اے للہ محمد کی گھر والے بھوک کی وجہ سے مرے جارہے ہیں۔ حضرت جبرائیل امین نازل ہوئے اور سورة دہر کی آیات تلاوت کیں۔ حکیم ترمذی، ابوعبداللہ نے، نوادرالاصول میں کہا، یہ حدیث من گھڑت ہے اس حدیث کو گھڑنے والے نے بڑی ذہانت کا کام لیا ہے یہاں تک کہ سننے والوں پر معاملہ مشتبہ ہوگیا اس روایت سے جاہل افسوس کرتے ہوئے ہونٹ کاٹتا ہے کہ وہ اس صفت پر کیوں نہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ اس طرح کا عمل کرنے والاقابل مذمت ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، ویسئلونک ماذاینفقون، قل العفو۔ البقرہ 219) ۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں وہ کیا خڑچ کریں فرمایے : ضرورت سے زائد۔ فضل سے مراد وہ مال ہے جو تیری اور تیرے خاندان کی ضرورریات سے زائد ہو۔ رسول اللہ نے متواتر ایسی روایات آئی ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنے پیچھے غنا چھوڑجائے اپنی ذات پر خرچ کرنا شروع کرو پھر ان پر خرچ کرو جو تیری زیرکفالت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں پر اپنے گھروالوں اور اپنی اولاد کا نفقہ فرض کیا ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ایک انسان کے لیے اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ قوت لایموت کو ضائع کردے۔ کیا کوئی عقل مند یہ گمان کرسکتا ہے کہ حضرت علی اس امر سے ناواقف تھے یہاں کہ انہوں نے پانچ چھ سال کے بچوں کو تین دن اور تین راتیں بھوکا رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے پیچ وتاب کھانے لگے، پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی یہاں تک کہ ان کی تکلیف نے رسول اللہ کو رلادیا چلو انہوں نے سائل کو اپنی ذات پر ترجیح دی کیا یہ جائز تھا کہ وہ اپنے گھروالوں کو اس چیز پر برانگیختہ کرتے، چلویہ مان لیاجائے کہ انہوں نے حضرت علی کی وجہ سے اس سخاوت کا اظہار کیا تو کیا یہ جائز تھا کہ وہ اپنے بچوں کو تین دن اور راتیں بھوک پر مجبور کرتے ؟ اس قسم کی روایات جہاں کے ہاں مشہور ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بیدار دلوں کے بارے میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہے کہ وہ حضرت علی کے بارے میں اس چیز کا گمان کرین۔ کاش میں یہ سمجھ سکتا کہ وہ کون تھا جس نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے ان اشعارکویاد رکھا اور دونوں نے جو ایک دوسرے کو جواب دیا اسے یاد رکھایہاں تک کہ اس نے ان راویوں تک ان کو پہنچایا۔ یہ اور قسم کی روایات قیدیوں کی باتیں ہیں میرا یہی خیال ہے مجھے یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ قیدخانوں میں ہمیشہ قید رہتے وہ کسی حیلہ کے بغیر وہاں رہتے وہ قصہ گوئی کے طریقہ پر یہ روایات لکھتے اس قسم کی روایات پر مشق کی گئی جب اس قسم کی روایات ماہرین تک پہنچتیں تو وہ انہیں پھینک دیتے اور انہیں ناکارہ قرار دیتے ہر چیز کی کوئی نہ کوئی آفت ہوتی ہے اور دین کی آفت اور مکر بہت بڑھ کر ہے۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو (چہروں کو) کری المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کردینے والا ہے)

انا نخاف من ربنا یوما۔۔۔ تا۔۔۔۔ سرورا۔ انانخاف من ربنا یوما عبوسا قمطریرا۔ عبوسا یہ یوما کی صفت ہے یعنی ایسا دن جس کی ہولناکی اور شدت کی وجہ سے چہرے ترش رو ہوں گے معنی ہے ہم ترش رودن سے ڈرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، کافر اس دن ترش رو ہوگا یہاں تک کہ اس سے تارکول جیسا پسینا بہے گا حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ العبوس کا معنی تنگ دل ہے۔ قمطریر کا معنی طویل ہے شاعر نے کہا : شدید عبوساقمطریرا۔ سخت، ترش رو اور لمبا۔ اور ایک قول یہ کیا گیا ہے قمطریر کا معنی شدید ہے عرب کہتے ہیں، یوم قمطریر، قماطر، عصیب، سب کا معنی ایک ہی ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا ہے، بنی عمنا ھل تذکرون بلاء نا، علیکم اذا ماکان یوم قماطر۔ اے ہمارے چچازاد بھائیو۔ کیا تم ہماری اس جنگ کو یاد کرتے ہو جو تمہارے خلاف ہوئی جب دن بہت سخت تھا۔ اقمطر کا معنی ہے جب وہ سخت ہوجائے، اخفش نے کہا، قمطریر کا معنی ہے دنوں میں سے جو سب سے سخت اور آزمائش میں طویل ہو، شاعر نے کہا : ففروا اذا ما الحرب ثار غبارہ، ولج بھا الیوم العبوس القماطر۔ جب جنگ غبار اڑایا تو وہ بھاگ گئے اور سخت آزمائش والا دن اس کے ساتھ گڈمڈ ہوگیا۔ کسائی نے کہا : اقمطر الیوم وازمھر، ان کا مصدر اقمطر اور ازمھرار آتا ہے، اسم فاعل، قمطریر اور زمھریر ہے یوم مقمطر اس وقت کہتے ہیں جب وہ بہت ہی سخت ہوجائے ہذلی نے کہا، بنوالحرب ارضعنا لھم مقمطرۃ، ومن یلق منا ذالک الیوم یھرب۔ وہ سخت جنگجو ہیں ہمیں ان کے لیے دودھ پلایا گیا ہے جو اس دن ہم سے ملتا جلتا ہے بھاگ جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا، عبوس اسے کہتے ہیں جو ہونٹوں سے ترشی کا اظہار کرے اور قمطریر وہ ہوتا ہے جو پیشانی اور دونوں ابروؤں سے اس کا اظہار کرے انہوں نے اس دن کی سختیوں کی وجہ سے متغیر چہرے کی صفات میں شمار کیا ہے۔ یغدو علی الصید یعود منکر، ویقمطر ساعۃ ویکفھر۔ وہ شکار پر حملہ آور ہوتا ہے جب کہ وہ ٹوٹ کرلوٹتا ہے وہ ایک لمحہ کے لیے سخت ہوتا ہے اور سخت ترش ہوجاتا ہے۔ ابوعبید نے کہا، یہ کہا جاتا ہے رجل قمطریر یعنی دونوں آنکھوں کے درمیانی حصہ کو سمیٹنے والا ہے زجاج نے کہا، اقمطرت الناقۃ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ اپنی دم کو اٹھائے اور اس کے دونوں کناروں کو جمع کردے۔ وزمت بانفھا اس نے ناک کی تکلیف کی وجہ سے سراٹھایا ہوا ہے اس نے اسے قطر سے مشتق مانا ہے اور میم کو زائد شمار کیا ہے۔ اسد بن ناعصہ نے کہا : اصطلیت الحروب فی کل یوم باسل الشر قمطریر الصباح۔ میں ہر روز جنگوں میں شامل ہوا جو دن ترش جنگ والے اور ترش صبح والے تھے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو خدا انکو اس دن کی سختی سے بچا لے گا

فوقاھم اللہ شرذالک الیوم ولقاھم نظرۃ وسرورا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے اس دن کی شدت اور عذاب کو دور کردیا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی یعنی اسے دیکھا تو انہیں حسن و سرور عطا کیا حسن اور مجاہد نے کہا، تروتازگی ان کے چہروں میں اور خوشی ان کے دلوں میں تھی، نضرۃ میں تین صورتیں ہیں ان میں سے ایک سفیدی اور صفائی ہے یہ ضحاک نے کہا، دوسری حسن و خوبصورتی، یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ تیسری یہ نعمت کا اثر ہے یہ ابن زید نے کہا۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

وجزاھم بماصبروا۔۔۔ تا۔۔۔۔ تذلیلا۔ وجزاھم بماصبروا جنۃ وحریرا۔ انہوں نے فقر پر جو صبر کیا اللہ تعالیٰ اس پر انہیں جنت اور ریشم عطا فرمائے گا، قرظی نے کہا، روزوں پر جزا دے گا۔ عطاء نے کہا تین دن بھوکا رہنے پر جزا دے گا۔ یہ نذر کے دن ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنے، اللہ تعالیٰ کی معصیت اورس کے محارم سے بچنے پر صبر کنے پر جزا دے گا۔ مامصدریہ ہے یہ تعبیر اس صورت میں ہوگی کہ یہ آیت تمام نیک لوگوں اور جس نے اچھا کیا اس کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عمر نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے صبر کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا، صبر کی چار صورتیں ہیں۔ پہلے صدمہ پر صبر۔ 2۔ فرائض کی ادائیگی پر صبر۔ 3۔ اللہ تعلای کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب پر صبر 4۔ مصائب پر صبر۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشم پہنائے گا اسے دنیا کے ریشم کا نام دیا جاتا ہے اسی طرح آخرت میں ۃ وگا اور اس میں وہ کچھ ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ روایت پہلے گزرچکی ہے جس نے دنیا میں ریشم کالباس پہنا وہ آخرت میں ریشم کالباس نہیں پہنے گا۔ میں جنت میں اسے پہناؤں گا جسے پہناؤں گا یہ حقیقت میں اس کے بدلے میں ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں اپنے آپ کو ان ملبوسات سے اپنے آپ کو روکا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

متکئین فیھا علی الارائک۔ ھاضمیر سے مراد جنت ہے متکئن کو ھم ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے نصب دی گئی ہے اس حال میں عامل جزی ہے صبرو اس میں عامل نہیں ہے کیونکہ صبر دنیا میں تھا اور الاتکاء آخرت میں ہوگا فراء نے کہا اگر تو چاہے تو متکئین کو صفت بنالے گویا کلام یوں ہوگی، جزاھم متکئین فیھا۔ خیموں میں پلنگوں پر، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے عربوں سے کچھ ایسے اسماء آئے ہیں جو چند صفات پر مشتمل ہیں ان میں سے ایک الاری کہ بھی ہے یہ نہیں بولا جاتا مگر ایسے پردے کیے لیے جو چارپائی پر بنایا گیا ہو انہیں میں سے ایک سجل ہے وہ پانی سے بھرا ہوا ڈول ہے جب وہ پانی سے خالی ہو تو اسے سجل نہیں کہتے، اسی طرح ذنوب ہے انہیں ذنوب نہیں کہتے مگر جب انہیں بھراجائے، کاس کو کاس نہیں کہتے جب تک وہ شراب سے چھلک نہ رہا ہو، اسی طرح طبق ہے جب اس پر ہدیہ رکھ کر بھیجا جائے تو اسے مھدی کہتے ہیں جب وہ تحفہ سے فارغ ہوتوا سے طبق اور خوان کہتے ہیں ذورمہ نے کہا : خدود جفت فی السیر حتی کا نما، یباشرون بالمعراء مس الارائک۔ اس شعر میں الارائک سے مراد ایسے بستر ہیں جو چارپائیوں پر ہیں۔ لایرون فیھا شمسا ولازمھریرا۔ وہ جنت میں سورج کی گرمی جیسی گرمی نہ دیکھیں گے اور نہ ہی سخت ٹھنڈک۔ منعمۃ طفلۃ کالمھا، لم ترشمسا ولازمھریرا۔ وہ نیل گائے کی طرح آسودہ اور نرم ونازل ہے اس نے نہ گرمی اور نہ ٹھنڈک دیکھی ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جہنم نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کی، اے میرے رب میرا بعض بعض کو کھائے جارہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوسانسیں بنادیں ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں، تم جو سخت سردی پاتے ہو یہ جہنم کا زمھریرا ہے اور موسم گرما میں تم جو سخت گرمی پاتے ہو یہ جہنم کی باد سموم ہے۔ نبی کریم سے مروی ہے جنت کی آب واہوا سجسج ہے نہ گرم، نہ سرد، سجسج سے مراد لمباساہ ہے جس طرح سورج کے طلوع اور غروب کے وقت ہوتا ہے، مرہ ہمدانی نے کہا، زمھریرا سے مراد سخت سردی ہے مقاتل بن حیان نے کہا، یہ سوئی کے ناکے کی مثل کوئی چیز ہے جو آسمان سے سخت سردی کے وقت نازل ہوتی ہے حضرت ابن مسعود نے کہا، یہ عذاب کی ایک صورت ہے جو سخت سردی ہے یہاں تک کہ جہنمیوں کو جب اس میں پھینکا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے انہیں آگ میں ایک ہزار سال کا عذاب زمھریر کے ایک دن کے عذاب سے آسان ہے۔ ابوالنجم نے کہا، اوکنت ریحا کنت زمھریرا یا میں ہوا تھا میں زمھریرا تھا۔ ثعلب نے کہا، زمھریر سے مراد طے کی لغت میں چاند ہے ان کے شاعر نے کہا : ولیلۃ ظلامھا قد اعتکر قطع تھا والزمھریر مازھر۔ کتنی ہی راتیں ہیں جن کی تاریکی ہت زیادہ تھی میں نے انہیں طے کیا جب کہ چاند طلوع نہ ہوا۔ معنی یہ ہے وہ دنیا کے سورج کی طرح اس میں سورج اور دنیا کے چاند کی طرح اس میں چاند نہیں دیکھیں گے یعنی وہ دائمی روشنی میں ہوں گے نہ رات ہوگی اور نہ دن ہوگا کیونکہ دن کی روشنی سورج کے ساتھ اور رات کی روشنی چاند کے ساتھ ہوگی۔ اس کے بارے میں مفصل گفتگو سورة مریم مین، ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ مریم) ان کے لیے اس میں صبح وشام ان کا رزق ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس اثنا میں کہ جنتی جنت میں ہوں گے کہ وہ نور دیکھیں گے جسے وہ سورج گمان کریں گے اس نور کی وجہ سے جنت روشن ہوجائے گی وہ کہیں گے ہمارے رب تو نے فرمایا، لایرون فیھا شمسا ولازمھریرا۔ تو یہ نور کیسا ہے ؟ رضوان انہیں کہے گا یہ سورج اور چاند نہیں بلکہ یہ حضرت فاطمہ اور حضر تعلی مسکرائے ہیں ان کے ہنسنے کے نور سے جنتیں روشن ہوگئیں انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ھل اتی علی الانسان۔ اور یہ شعر پڑھا۔ میں ایسے نوجوان کامولی ہوں جس کے بارے میں ھل اتی نازل ہوا۔ وہ علی المرتضی اور مصطفیٰ (علیہ السلام) کے چچازاد ہیں۔