Ayah 77:1والمرسلات عرفا۔۔۔ تا۔۔۔۔ ویل یومئذللمکذبین۔
والمرسلات عرفا۔ جمہور مفسرین کے نزدیک مرسلات سے مراد ہوائیں ہیں مسروق نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے فرمایا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جنہیں معروف کے ساتھ بھیجا جاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کا حکم، اس کی نہی، وحی اور خبر دے کر بھیجا جاتا ہے، یہی حضرت ابوہریرہ مقاتل، ابوصالح، اور کلبی کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد انبیاء ہیں جنہیں لا الہ الا اللہ کا پیغام دے کر بھیجا گیا ہے یا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، ابوصالح نے کہا اس سے مراد رسل ہیں جنہیں معجزات کے ساتھ بھیجا جاتا ہے جن معجزات کے ذریعے ان کی پہچان ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے اس سے مراد ہوائیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وارسلنا الریاح۔ الحجر 22) اور ہم نے ہوائیں بھیجیں۔ ارشاد فرمایا، وھو الذی یرسل الریاح، الاعراف 57) اور وہی ہوائیں بھیجتا ہے۔
عرفا، کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کے پیچھے آتی ہیں جس طرح عرف الفرس، گھوڑے کی گردن کے بال، عرب کہتے ہیں، الناس الی فلان عرف واحد۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوں اور کثیر ہوجائیں۔ عرفا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی ایسی ہوائیں جنہیں پے درپے بھیجا گیا یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق ہو یہ بھی جائز ہے کہ اس کو نصب حرف جر کے مضمر ہونے کی وجہ سے ہو گویا فرمایا، والمرسلات بالعرف اس سے مراد فرشتے ہیں یا اس سے مراد فرشتے اور رسول ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مرسلات سے مراد بادل ہیں کیونکہ اس میں نعمت اور عذاب ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی پہچان کرانے والے ہوتے ہیں جوان کی طرف بھیجا گیا اور جن کی طرف بھیجا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد تنبیہات اور مواعط ہیں اس تاویل پر عرفا کا معنی پے درپے ہے جس طرح اونٹ کی گردن کے بال ہوتے ہیں یہ حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ عقول میں جانے پہچانے ہیں۔
Ayah 77:2فالعصفت عصفا۔ بغیر کسی اختلاف کے اس سے مراد ہوائیں ہیں، یہ مہدوی کا قول ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس سے مراد تیز ہوائیں ہیں جو گھاس پھونس لاتی ہیں عصف سے مراد کھیتی کے پتے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فیرسل علیکم قاصفا۔ الاسراء 69) ایک قول یہ کیا گیا ہے عاصفات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو ہوا پر مقرر ہیں جو انہیں تیزی سے چلاتے ہیں کہا جاتا ہے، عصف بالشی یعنی اسے ہلاک کردیا، ناقہ عصوف جو اپنے سوار کو ہلاک کردے وہ یوں گزرجاتی ہے گویا تیزی میں ہوا ہے عصفت الحرب بالقوم، جنگ نے قوم کو ہلاک کردیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ آیات ہیں جو تباہ وبرباد کردیتی ہیں جس طرح زلزلہ اور زمین میں دھنس جانا۔
Ayah 77:3والنشرات نشرا۔ اس سے مرادوہ فرشتے ہیں جو بادلوں پر معین ہیں جوان بادلوں کو پھیلاتے ہیں حضرت ابن مسعود اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بارش سے قبل بھیجتا ہے یہ ابوصالح سے مروی ہے ابوصالح سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد بارشیں ہیں کیونکہ وہ نباتات کو جنم دیتی ہیں یہاں نشر کا معنی زندہ کرنا ہوگا، کہا جاتا ہے، نشر اللہ المیت۔ اللہ تعالیٰ نے مردہ کو زندہ کردیا، سدی نے ان سے روایت کیا، اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتب کو پھیلاتے ہیں ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد انسانوں کے نامہ اعمال اور ان کے اعمال کو کھولنا ہے، ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ صحیفے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال کے ساتھ کھولے جاتے ہیں، ربیع نے کہا، اس سے مراد قیامت کے لیے اٹھانا ہے جن میں روحوں کو پھیلایاجائے گا، والنشرات فرمایا ہے کیونکہ یہ دوسری قسم کا آغاز ہے۔
Ayah 77:4فالفرقت فرقا۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک اور ابوصالح نے کہا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد فرشتے جوروزی، رزق اور موت بانٹتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادل کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہیں۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد فرقان ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں حق و باطل اور حلال و حرام میں فرق کردیا ہے۔ یہ حضرت حسن بصری اور کیسان کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ رسول ہیں جنہوں نے اوامر ونواہی کو بیان کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد بارش برسانے والے بادل ہیں انہیں اس اونٹنی کیسا تھ تشبیہ دی گئی جو حاملہ ہوتی ہیں جب اس نے بچہ جننا ہوتا ہے تو وہ نکل پڑتی ہیں اور دوڑتی ہے اور یہ بھی لفظ کہا جاتا ہے، نوق فوارق وفرق، بعض اوقات وہ ایسے بادل کو جو دوسرے بادلوں سے الگ تھلگ ہوتا ہے اس اونٹنی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، ذورمہ نے کہا : او مزنۃ فارق یجلوغواربھا، تبوج البرق والظلماء علجوم۔ یا الگ تھلگ بادل جس کے اطراف روشن ہیں اس کی بجلی موجزن ہے اور سیاہی شدید ہے۔
Ayah 77:5فالملقیت ذکرا۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب انبیاء تک پہنچاتے ہیں یہ مہدوی نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں ان کے لیے جمع کا ذکر کیا کیونکہ جبرائیل امین فرشتوں کے ساتھ اترتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد رسول اللہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف جو نازل کرتا ہی وہ اپنی امتوں تک پہنچاتے ہیں یہ قطرب کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے اسے فالملقیات بھی پڑھا ہے یعنی قاف کو مشدد اور مفتوح۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانک لتلقی القرآن۔ نمل 6) اور بیشک آپ کو سکھایا جاتا ہے قرآن حکیم۔
Ayah 77:6عذرا اونذرا۔ وہ وحی کو لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے حجت تمام کرنے کے لیے اور مخلوقات کو اس کے عذاب سے خبردار کرنے کے لیے یہ فراء نے کہا، ابوصالح سے مروی ہے اس سے مراد رسول اللہ جو حجت تمام کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں سعید نے قتادہ سے یہ قرات نقل کی ہے، عذرا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوقات کے لیے حجت تمام کرنے کے لیے اور مومنوں کو خبردار کرنے کے لیے کیونکہ مومن ہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔
ضحاک نے حضرت بان عباس سے روایت نقل کی ہے عذرا سے مراد اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو جو توبہ القاء کرتا ہے اور نذرا سے مراد ہے وہ اپنے دشمنوں کو ڈراتا ہے ابوعمرہ، حمزہ، کسائی اور حفص نے اونذرا ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، ساتوں قراء نے عذرا کو ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، صرف جعفی اور اعشی نے ابوبکر سے وہ عاصم سے ذال کے ضمہ کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں یہی چیز حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ ابراہیم تیمی اور قتادہ نے اسے عذرا اور نذرا واؤ عاطفہ کے ساتھ نقل کیا ہے اور درمیان میں او کا ذکر نہیں کیا۔ یہ دونوں اعزار اور انذار سے اسم فاعل کے معنی میں ہو کر منصوب ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسم مفعول کے معنی میں ہو کر منصوب ہیں ایک قول کیا گیا ہے یہ ذکر اسے بدل ہے یعنی وہ عذرا اور نذر کو القا کرنے والے ہیں۔ ابوعلی نے کہا، عاذر اور ناذر کی جمع کے طور پر عذرا اور نذرا پڑھنا بھی درست ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھذا نذیرمن النذر الاولی۔ النجم۔ ) یہ ڈرانے والا (رسول عربی) بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ہے پھر یہ الملقیات سے حال ہوں گے یعنی وہ ذکر القاء کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ حجت تمام کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں یاذکرا کے مفعول ہیں یعنی وہ ذکر کو القاء کرتے ہیں تاکہ وہ عذرا اور انذرا یاد دلائیں، مبرد نے کہا، یہ جمع کا صیغہ ہے اس کی واحد عذیر اور نذیر ہے۔
Ayah 77:7انما توعدون لواقع۔ جو قسم پہلے گزری ہے یہ اس کا جواب ہے یعنی قیامت کے امر کا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تم پر واقع ہوکر رہے گا پھر اس کے وقوع کا وقت بیان کیا۔
Ayahs 77:8–10فاذا النجوم طمست۔ واذالسماء فرجت، واذالجبال نسفت۔ جب ستاروں کی روشنی اور ان کا نور ختم ہوجائے گا جس طرح لکھی ہوئی چیز کو مٹا دیا جائے گا کہا جاتا ہے، طمس الشئی جب وہ اس چیز کو مٹا دے اس سے طمس آتا ہے اس سے اسم مفعول مطموس ہے۔ جب آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور انہیں پھاڑ دیا جائے گا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وفتحت السماء فکانت ابوابا۔ النبائ) اور آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے دروازے ہوجائیں گے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے انہیں لپیٹنے کے لیے کھول دیا جائے گا۔
اور جب پہاڑوں کو جلدی سے لے جایاجائے گا کہا جاتا ہے، نسفت الشئی انسفتہ، جب تو نے سب کو تیزی سے لے لیا، حضرت ابن عباس اور کلبی کہا کرتے تھے، سویت بالارض، پہاڑوں کو زمین کے ساتھ برابر کردیا جائے گا عرب کہتے ہیں، فرس نسوف یہ لفظ اس وقت کہتے ہیں جب گھوڑا اپنے تنگ کو پیچھے ہٹائے۔ مبشر نے کہا، نسوف للحزام بمرفقیھا وہ اپنی دونوں کہنیوں کے ساتھ تنگ کو پیچھے ہٹاتا ہے عرب کہتے ہیں نسفت الناقۃ الکلا۔ اونٹنی نے گھاس کو چرا۔ مبرد نے کہا : معنی ہے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ لیاجائے گا، جو آدمی اپنے دونوں پاؤں کو زمین سے اٹھالیتا ہے اسے دوسرا آدمی کہتا ہے، انسفت رجلاہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، نسفت کا معنی اجزاء کو بکھیرنا ہے یہاں تک کہ ہوائیں انہیں اڑادیں اسی سے ایک جملہ بولا جاتا ہے، نسف الطعام وہ کھانے کو حرکت دیتا ہے تاکہ ہوا اس میں موجود تنکے کو ختم کردے۔
Ayah 77:11واذا الرسل اقتت۔ جب رسولوں کو قت مقررہ یعنی قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا وقت سے مراد وہ وقت ہے جس تک کسی کام کو موخر کیا جاتا ہے معنی یہ ہوگا رسولوں اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے وقت مقرر کردیا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم یجمع اللہ الرسل۔ المائدہ 109) جس روز اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دنیا میں ہوگا یعنی رسولوں کو اس مخصوص وقت میں جمع کیا جائے گا جو کفار کے عذاب کے لیے مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی گئی قیامت کے روز تمام شکوک زائل کردیے جائیں گے پہلی تعبیر سب سے اچھی ہے کیونکہ توقیت کا معنی ہے ایسی چیز جو قیامت کے روز واقع ہوگی جس طرح بےنور کرنا، پہاڑوں کو اڑانا، آسمانوں کو پھاڑنا یہ قیامت کے وقوع سے قبل مناسب نہیں، ابوعلی نے کہا، روز جزا اور فیصلہ کے دن کو اس کے لیے معین کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اقتت کا معنی ہے وعدہ کیا گیا اور مہلت دی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا جیسا علم اور ارادہ تھا اسی کے مطابق انہیں معلوم اوقات میں بھیجا گیا۔ اقتت میں ہمزہ واؤ کا بدل ہے یہ فراء اور زجاج نے کہا، فراء نے کہا، ہر واؤ جو مضموم ہو اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جائز ہے تو کہتا ہے، صلی القوم احدانا، یہ اصل میں وحدانا تھا، عرب کہتے ہیں ھذہ اجوہ حسان، اصل میں وجوہ تھا یہ قاعدہ اس لیے جاری کیا گیا کیونکہ واؤ کا ضمہ ثقیل ہے لا تنسوالفضل بینکم۔ بقرہ 237) باہم فضل کرنے کو نہ بھولو یہاں واؤ کو ہمزہ سے بدلنا جائز نہیں کیونکہ ضمہ لازمی نہیں یہ ابوعمرو، حمید، حسن اور بنصر کی قرات ہے۔ عاصم اور مجاہد نے وقتت پڑھا ہے، یہی اس کی اصل ہے ابوعمر نے کہا، اسے اقتت پڑھے گا جو وجوہ کو جوہ پڑھتا ہے۔ ابوجعفر، شیبہ اور اعرج نے وقتت پڑھا ہے یعنی واؤ اور قاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ وقت سے فعلت کا وزن ہے۔ اس سے کتباموقوتا۔ النسائ) ہے۔ حضرت حسن بصری سے ووقتت دو واؤ کے ساتھ ہے یہ وقت سے باب مفاعلہ کا صیغہ ہے جس طرح عوھدت ہے اگر ان دونوں قراتوں میں واؤ کو الف سے بدل دیا جائے تو یہ جائز ہے یحییٰ ، ایوب خالد بن الیاس اور سلام نے اقتت پڑھا ہے، کیونکہ یہ مصحف عثمانی میں الف کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔
Ayah 77:12لای یوم اجلت۔ یعنی اسے موخر کیا گیا ہے یہ اس دن کی عظمت شان کو بیان کرنا یہ تعظیم بیان کرنے کے لیے استفہام کا اندازہ اپنایا گیا ہے۔
Ayah 77:13لیوم الفصل۔ فیصلہ کے دن تک اسے موخر کردیا گیا ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ اس رز لوگوں کے درمیان جنت میں بھیجنے یا جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ فرمائے گا، حدیث طیبہ میں ہے جب قیامت کے روز لوگوں کو اٹھایاجائے گا وہ چالیس سال تک اسی طرح کھڑے رہیں گے کہ ان کے سروں پر سورج ہوگا ان کی آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوں گی وہ فیصلہ کے انتظار میں ہوں گے۔
Ayah 77:14وما ادراک مایوم الفصل۔ تعظیم کے بعد تعظیم کا ذکر کیا ہے یعنی آپ کو کس نے بتایا کہ یوم فصل کیا ہے ؟۔
Ayah 77:15ویل یومئذ للمکذبین۔ جو اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں، اس کی کتابوں اور یوم قیامت کو جھٹلائے اس کے لیے عذاب ہے اور رسوائی ہے یہ وعید ہے اس سورت میں ہر آیت میں جھٹلانے والوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کے حساب سے ان کے درمیان عذاب کو تقسیم کردیا، کیونکہ ایک شی کو جھٹلانے والے کے ایک عذاب ہے جو دوسری چیز کے جھٹلانے والے کے عذاب سے مختلف ہے کیونکہ بعض چیزوں کی تکذیب جرم میں دوسری شے کی تکذیب سے بڑھ کر ہوتی ہیں کیونکہ وہ تکذیب میں بہت ہی قبیح اور اللہ تعالیٰ کا رد کرنے میں بڑھ جاتی ہیں تو ہلاکت اسی حساب سے ان پر تقسیم کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جزاء وفاقا۔ النباء) موافق جزا۔
حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہا : ویل جہنم میں ایک وادی ہے اس میں کئی قسم کے عذاب ہیں یہی بات حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہی ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، جب جہنم ٹھنڈی ہوجائے گی تو اس کا ایک انگارہ لیاجائے گا اسے اس جہنم پر پھینکا جائے گا تو اس کا بعض بعض کو کھاجائے گا، نبی کریم سے مروی ہے فرمایا، مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو میں نے ویل سے بڑھ کر کوئی وادی نہیں پائی، ایک روایت یہ کی گئی ہے یہ جہنمیوں کی پیپ کے جمع ہونے کی جگہ ہے، دنیا میں بندے جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بری جگہ وہ ہوتی ہیں جہاں مرداروں اور حماموں کے پانیوں میں سے گندگیاں جمع ہوتی ہیں۔ یہ ذکر کیا گیا ہے وہ وادی ایسی ہے جہاں کفار اور مشرکوں کی پیپ جمع ہوجاتی ہے تاکہ دانش مند جان لیں اس سے بڑھ کر کوئی چیز گندی نہیں، اس سے زیادہ کوئی چیز بدبودار نہیں، اس سے بڑھ کر کوئی چیز کر ؤی نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز سیاہ نہیں۔ پھر رسول اللہ نے اس کی صفت اس عذاب سے بیان کی جس کو یہ وادی متضمن ہے کہ وہاں جہنم میں سب سے بڑی وادی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اس وعید کا ذکر کیا ہے۔
Ayahs 77:16–19الم نھلک الاولین۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک گزشتہ امتوں میں سے جن کفار کو ہلاک کیا گیا اس کی خبر دی جارہی ہے پھ رہم بعد والوں کو پہلوں کے ساتھ ملادیں گے جس طرح ہم نے پہلے لوگوں کے ساتھ کیا ہم قریش کے مشرکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے یاتوتلوار کا وار کرکے یا ہلاک کرکے۔ عام قراء نے ثم نتبعھم رفع کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے اعرج نے نتبعھم جزم کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نھلک الاولین۔ پر معطوف ہے جس طرح تو کہتا ہے الم تزرنی اکرم۔ مراد اس سے یہ ہے کہ رسولوں کے اوقات کے مختلف ہونے کے ساتھ اس نے مختلف قوموں کو یکے بعد دیگرے، ہلاک کیا پھر اس کلام سے نیا کلام شروع کیا۔ کذالک نفعل بالمجرمین۔ اس سے یہ ارادہ کیا کہ اس کے بعد جنہیں ہلاک کرے گا، یہ بھی جائز ہے، نتبعھم میں پے درپے حرکات کی وجہ سے تخفیف کرتے ہوئے ساکن پڑھا ہو، تخفیف کے لیے اسکان بھی مروی ہے، حضرت ابن مسعود کی قرات میں ثم سنتبھم ہے۔ کذالک میں کاف محل نصب میں ہے، یعنی اس ہلاکت کی طرح ہم ہر مشرک کے ساتھ کریں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے دنیا میں ان کی ہلاکت کی ہولناکی بیان کی جارہی ہے۔ تاکہ عبرت دلائی جائے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آخرت میں ان کے عذاب کی خبر دی جارہی ہے۔
Ayah 77:20الم نخلقکم من مائ۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
الم نخلقکم من ماء مھین۔ مھین، کا معنی کمزور اور حقیر ہے۔ اس سے مراد نطفہ ہے اس کا ذکر ہوچکا ہے جو آدمی یہ کہتا ہو کہ جنین کی پیدائش صرف مرد کے پانی سے ہوتی ہے اس کی دلیل یہی آیت ہے اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔
Ayah 77:21فجعلنہ فی قرار مکین۔ قرار مکین سے مراد محفوظ جگہ ہے وہ رحم ہے۔
Ayahs 77:22–24الی قدر معلوم۔ اتنے عرصہ تک جس میں ہم اس کی تصویر بنادیں لیکن قول یہ کیا گیا ہے، ولادت کے عرصہ تک۔ فقدرنا نافع اور کسائی نے اسے فقدرنا مشدد پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کسائی، فراء اور قتیبی نے یہی کہا ہے قتبی نے کہا، قدرنا بھی قدرناہ کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے، قدرت کذا، قدرتہ، اس معنی میں چاند کے متعلق جو نبی کریم کا ارشاد ہے، اذا غم علیکم فاقدوالہ۔ یعنی اس کی رفتار اور منازل کی اندازہ لگاؤ، محمد بن جہیم نے فراء سے روایت نقل کی ہے، فقدرنا، حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد اور مخفف دونوں طرح روایت کیا ہے۔ کہا، یہ بعید نہیں مشدد اور مخفف ہونے کی صورت میں معنی ایک ہو کیونکہ عرب کہتے ہیں، قدر علیہ الموت، قدر علیہ الموت۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، نحن قدرنا بینکم الموت (الواقعہ 60) ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا، اس میں بھی قدرنا کو مشدد اور مخفف دونوں پڑھا گیا ہے۔ اس طرح قدر علیہ رزقہ وقدر۔ دونوں طرح ہے جنہوں نے اس کو مخفف پڑھا ہے، انہوں نے استدلال کیا ہے اور کہا، اگر یہ مشدد ہوتا تو بعد میں فنعم القادرون ہوتا۔ فراء نے کہا : عرب دو لغتوں کو جمع کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فمھل الکافرین امھلھم رویدا۔ الطارق) کافروں کو مہت دیجئے انہیں کچھ مہلت دیجئے۔ اعشی نے کہا، وانکرتنی وماکان الذی نکرت، من الحوادث الالشیب والصلعا۔ انہوں نے مجھے عجیب جانا اور حوادثات میں سے صرف بڑھاپا اور گنجا پن عجیب جانا جاتا۔ عکرمہ سے مروی ہے فقدرنا معنی یہ قدرت سے مخفف ہے، یہ ابوعبید، ابوحاتم، اور کسائی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔
فنعم القادرون۔ جس نے فعل کو مشدد پڑھا ہے وہ قادرون کو تقدیر سے مشتق مانتا ہے یعنی ہم نے شقی اور سعید کو مقدم کیا ہم کتنے اچھے مقدر کرنے والے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے نبی کریم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے اسے لمبا اور چھوٹا مقدر کیا۔ حضرت ابن عباس سے بھی اسی کی مثل مروی ہے، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے ہم اس کے مالک ہیں مہدوی نے کہا، یہ تفسیر تخفیف کی قرات کے زیادہ مشابہ ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ صحیح ہے کیونکہ عکرمہ نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یا اس کا معنی ہے ہم اس کے مالک ہوتے تو ہم کتنے اچھے مالک ہوتے۔ دونوں کلمات نے مختلف معانی دیے یعنی ہم نے ولادت اور نطفہ کے احوال کو مقدر کیا جب وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ مکمل انسان بن جاتا ہے، یابدبخت اور سعادت مند بن جاتا ہے یالمبا اور چھوٹا ہوجاتا ہے، یہ سب تشدید کے طریقہ پر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا۔
Ayahs 77:25–26الم نجعل الارض۔۔۔ تا۔۔۔ للمکذبین
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ الم نجعل الارض کفاتا۔ کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو جمع کرنے والی زندوں کو روئے زمین پر اور مردوں کو اس کے بطن میں، یہ اس امر پر دال ہے کہ میت کو چھپانا، اسے دفن کرنا، اس کے بالوں کو دفن کرنا اور وہ تمام چیزیں جن کو وہ اپنے جسم سے الگ کرتا ہے دفن کرنا اور اس میں چھپانا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، اپنے ناخن کاٹو اور کٹے ہوئے ناخن زمین میں دفن کردو۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزرچکی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، کفت الشئی اکفتہ، یعنی میں نے اسے جمع کیا کفت کا معنی جمع کرنا اور ملانا ہے، سیبویہ نے یہ شعر پڑھا ہے۔ کرام حین تنکفت الافاعی، الی احجارھن من الصیقح۔ وہ اس وقت بھی سخی ہوتے ہیں جب سانپ سخت ٹھنڈک کی وجہ سے اپنی بلوں میں سمٹ جاتے ہیں۔ ابوعبید نے کہا، کفاتا کا معنی برتن ہیں، نحی کو کفت اور کفیت کہتے ہیں کیونکہ وہ دودھ کو جمع کرتی ہے۔ کہا، فانت الیوم فوق الارض حیا، وانت غدا تضمک فی کفات۔ آج تو زمین پر زندہ ہے اور کل تجھے زمین پہلوں میں جمع کرے گی۔ امام شعبی ایک جنازہ میں نکلے آپ نے ایک قبرستان دیکھا فرمایا، یہ مردوں کو جمع کرنے والے برتن ہیں، پھر گھروں کی طرف دیکھا اور فرمایا، یہ زندہ کو جمع کرنے والے برتن ہیں۔
ان آیات سے مستنبط دیگر احکام ومسائل۔
مسئلہ نمبر 2۔ ایک کفن چور کے بارے میں ربیع سے پوچھا گیا، کہا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ان سے پوچھا گیا، آپ نے یہ بات کیوں کی ؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والا نہیں بنایا۔ زمین محفوظ جگہ ہے، سورة مائدہ میں یہی بات گزرچکی ہے لوگ بقیع غرقد کو کفتہ کہتے ہیں کیونکہ یہ قبرساتان ہے جو مردوں کو جمع کرتی ہے۔ زمین زندوں کو ان کے گھروں میں جمع کرتی ہے اور مردوں کو ان کی قبروں میں جمع کرتی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے لوگ روئے زمین پر قرار پذیر ہوتے ہیں پھر زمین پر پہلو کے بل لیٹتے ہیں ان میں سے کچھ اس کے ساتھ مل جاتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا : یہ زندوں کے برتن ہیں یعنی انسان جو فضلات نکلتے ہیں زمین میں دفن کردیے جاتے ہیں لوگوں کا اس کے اوپر ہونا اس میں ملانے کا کوئی تصور نہیں ضم کا لفظ تمام وجوہ سے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے، اخفش، ابوعبید اور مجاہد نے اپنے دو قولوں میں سے ایک قول میں کہا، احیاء اور اموات کا مرجع ارض ہے یعنی زمین دو قسموں پر منقسم ہے زندہ جو فصل اگاتی ہے، مردہ جو کوئی چیز نہیں اگاتی، فراء نے کہ، احیاء اور امواتا اس وجہ سے منصوب ہے کہ یہ کفالت کے مفعول بہ ہیں معنی یہ ہوگا کہ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ جمع کرنے والا نہیں بنایا جب تو انہیں تنوین دے گا تو تو انہیں نصب دے گا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔ یتیما۔ البلد) یابھوک والے دن یتیم کو کھانا کھلائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ الارض سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی زمین میں سے کچھ اس طرح اور کچھ اس طرح۔ اخفش نے کہا، کفاتا یہ کا فتہ کی جمع ہے، الارض سے مراد جمع ہے اس وجہ سے جمع کے ساتھ اس کی لغت بیان کی جاتی ہے، خلیل نے کہا، تکفیت کا معنی کسی شی کو الٹ دینا، ظاہر کو باطن بنادینا، اور باطن کو ظاہر بنادینا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، انکفت القوم الی منازلھم، لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ کفات کا معنی یہ ہوگا وہ زمین کے اوپر تصرف کرتے ہیں اور اس کی طرف پلٹ آتے ہیں اور انہیں اس میں دف کردیا جاتا ہے۔
Ayahs 77:27–28وجعلنا فیھا رواسی شمخت واسقینکم ماء فراتا۔ ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں، رواسی سے مراد ثبت ہیں، شمخت سے مراد لمبے ہیں اس معنی میں کہا جاتا ہے، شمخ بانفہ، جب وہ تکبر کرتے ہوئے اپنے ناک کو اوپر اٹھائے اور ہم نے تمہارے لیے پانی بنادیا ہے فرات سے مراد میٹھا پانی ہے جس کو پایا جاتا ہے اور اس سے کھیتی سیراب کی جاتی ہے، یعنی ہم نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور میٹھا پانی نازل کیا یہ امور دوبارہ اٹھائے جانے سے زیادہ عجیب ہیں ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ نے کہا، زمین میں جنت سے فرات، دجلہ اور نہر اردن ہے، صحیح مسلم میں ہے، سیحان، حیحان، نیل اور فرات عام جنت کے دریا ہیں۔
Ayahs 77:29–31انطلقوا الی ماکنتم۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون۔ یعنی کفار کو کہا جائے گا جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اس کی طرف تم چلو تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔
انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب، لاظلیل ولایغنی من اللھب۔ ایسے دھویں کی طرف چلو جو اوپر اٹھتا ہے تو تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے عظیم دھویں کی یہی صورت حال ہوتی ہے جب وہ اوپر اٹھتا ہے تو شاخوں والاہوجاتا ہے، پھر سایہ کی صفت بیان کی، یعنی وہ ایسا سایہ نہیں ہوگا جو سورج کی گرمی سے بچائے اور جہنم کی لپک سے کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ جب آگ بھڑکتی ہے تو جو چیز اس پر بلند ہوتی ہے اسے لہب کہتے ہیں وہ سرخ ہو، زرد ہو یا سبز ہو، ایک قول یہ کیا گیا، تین شاخوں سے مراد ضریع اور زقوم وارغسلین ہیں یہ ضحاک کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ ابتدائی دھواں ہے جو آگ سے باہر نکلتا ہے پھر تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے جہاں تک نور کا تعلق ہے وہ مومنوں کے سروں پر رہے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد گردوغبار ہے وہ آگ کا شعلہ ہے جو انہیں احاطہ میں لیے ہوگا، پھر تین حصوں میں تقسیم ہوجائے گا وہ ان پر سایہ کیے رہے گا یہاں تک کہ حساب سے فراغت ہوجائے گی اور انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا ایک قول یہ کیا گیا، یہ یحموم کا سایہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فی سموم وحمیم۔ وظل من یحموم، لابارد ولاکریم۔ الواقعہ) ۔
جیسے پہلے گزرچکا ہے حدیث طیبہ میں ہے : سورج لوگوں کے سروں کے قریب ہوگا اور اس روز ان پر کوئی لباس اور کفن نہیں ہوں گے سورج کو ان جھلسا دے گا ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا اور اس دن کو لمبا کردیاجائیگا پھر اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہے گا اپنی رحمت کے ساتھ اپنے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا اس وقت وہ کہیں گے، فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم۔ طور) اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں عذاب سموم سے بچایا اور جھٹلانے والوں کو کہا جائے گا، تین شاخوں والے سایہ کی طرف چلو اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس کے عرش کے سایہ میں ہوں یا جہاں وہ اپنے سایہ میں جگہ دینا چاہے گا یہاں تک کہ حساب سے فراغت ہوجائے گی پھر ہر فریق کو جنت اور جہنم کے مستقر کی طرف جانے کا حکم دے دیا جائے گا، پھر آگ کی صفت بیان کی۔
Ayahs 77:32–34انھا ترمی بشرر کالقصر۔ شرر کا واحد شررہ ہے، اور شرار کا واحد شرارہ ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو آگ کی جانب سے اڑتی ہے اصل میں شررت الثوب سے مشتق ہے یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اسے دھوپ میں پھیلائے تاکہ وہ خشک ہوجائے۔ قصر سے مراد بلند عمارت ہے عام قرات کالقصر صاد کے سکون کے ساتھ ہے، اس سے مراد قلعے اور شہر ہیں اس کی جمع قصور آتی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے یہ جنس کے طبقہ پر جمع کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر یہ قصر کی جمع ہے جس طرح جمرہ کی جمع جمر، تمرہ کی جمع تمر آتی ہے قصر ولکڑی کے موٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہم موسم سرما کے تین تین ہاتھ کی یا اس سے کم لکڑیاں اٹھا کر رکھتے اور اسے قصر کا نام دیتے۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا، اس سے مراد بڑے درخت ہیں اور بڑی کھجور کے تنے ہیں جب وہ گرپڑیں اور انہیں کاٹا جائے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس کا ابتدائی حصہ ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، حمید اور سلمی نے اسے کالقصر پڑھا ہے، اس سے مراد کھجور کا ابتدائی حصہ ہے، قصرہ کا معنی گردن بھی ہے اس کی جمع قصر اور قصرات آتی ہے، قتادہ نے کہا، اس سے مراد اونٹ کی گردن ہے، سعید بن جبیر نے قاف کو کسرہ اور صاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ قصرہ کی جمع بھی ہوسکتی ہے جیسے بدرہ کی جمع بدر، قصعہ کی جمع قصع اور حلقہ کی جمع حلق آتی ہے یہ لوہے کی چھلوں کے لیے ہے، ابوحاتم نے کہا، شاید یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح حاجہ کی جمع حوج آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر سے مراد پہاڑ ہے شرر کو انگاروں سے مقدار میں قصر سے تشبیہ دی گئی پھر انہیں رنگوں میں سیاہ اونٹوں سے تشبیہ دی گئی صفر اس سے مراد سیاہ اونٹ ہیں عرب زیاہ اونٹوں کو صفر کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا : تلک خیس منہ وتلک رکابی، ھن صفر اولادھا کا الزبیب۔ وہ اس کی جانب سے میرے گھوڑے اور میرے اونٹ ہیں وہ سیاہ ہیں ان کی اولادیں کشمش کی رنگت والی ہیں۔ سیاہ اونٹوں کو صفر کہا گیا ہے کیونکہ ان کی سیاہی میں زردی کی آمیزش ہوتی ہے جس طرح سفید ہر نوں کو ادم کہتے ہیں کیونکہ ان کی سفیدی پر گدلاپن غالب ہوتا ہے انگارہ جب اڑے اور پھر گرے تو اس میں آگ کی رنگت ہوتی ہے جو سیاہ رنگ کے مشابہ ہوتی ہے جس میں زردی کی آمیزش ہوتی ہے۔
عمران بن خطان خارجی نے کہا : دعتھم باعلی صو تھا ورمتھم، بمثل الجمال الصفر نزاعۃ الشوی۔ اس نے انہیں بلند آواز سے بلایا اور انہیں زرد اونٹوں کی طرح پھینکا جو چہرے کو جھلسا دینے والی تھی۔ ترمذی نے اس قول کو ضعیف قرار دیا کہا، یہ قول لغت میں محال ہے کہ کوئی چیز ہو جس میں تھوڑی سی چیز کی آمیزش ہوتوتمام کو اس تھوری سی ملنے والی چیز کی طرف منسوب کردیاجائے، جس نے یہ قول کیا ہے اس پر تعجب ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جملت صفر۔ ہم لغت میں ایسی کوئی چیز نہیں جانتے۔ ہمارے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ آگ نور سے پیدا کی گئی وہ روشن آگ ہے جب اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا جو آگ کی جگہ ہے وہ جگہ اس آگ سے بھر گئی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنی قوت اور غضب بھیجا تو اس قوت و غلبہ کی وجہ سے وہ سیاہ ہوگئی اور اس کی گہرائی میں اور اضافہ ہوگیا، وہ آگ سے زیادہ سیاہ ہوگئی اور ہر چیز سے زیادہ سیاہ ہوگئی جب قیامت کا دن ہوگا میدان محشر میں جہنم کو لایاجائے گا تو وہ لوگوں پر شرارے پھینکے گی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوگی وہ انگارے بھی سیاہ ہوں گے کیونکہ وہ سیاہ آگ کے ہوں گے۔ جب آگ اپنے انگارے پھینکے گی تو وہ دشمنوں کو مارے گی وہ آگ کے سیاہ ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوں گے یہ موحدین تک نہیں پہنچیں گے اور رحمت کے حجاب میں ہوں گے جنہوں نے مومنین کو موقف کو گھیر رکھا ہوگا، یہی وہ بادل ہے جس میں رب العالمین جلوہ افروز ہوگا لیکن وہ شرارتوں کے پھینکے جانے کے منظر کو دیکھیں گے جب وہ اس منظر کو دیکھیں گے تو اللہ تعالیٰ اس غضب اور ہیبت کو دور فرمادے گا حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے جملت صفر سے مراد کشتیوں کی رسیاں ہیں۔ ان رسیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مردوں کو کمریں محسوس ہوں گی، اسے امام بخاری نے ذکر کیا ہے وہ اسے جمالات پڑھتے اس طرح مجاہد اور حمید نے جمالات پڑھا ہے، اس سے مراد موٹی رسیاں ہیں اس سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں قلوس کا واحد قلس ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے، اس سے مراد تانبے کے ٹکڑے ہیں، موٹی رسی میں جو لفظ معروف ہے وہ جمل ہے جس طرح سورة الاعراف میں پہلے گزرچکا ہے، جمالات، جمالۃ کی جمع ہے گویا جمالہ، جمل کی جمع ہے، جس طرح حجر کی جمع حجارہ ہے اور ذکر کی جمع ذکارہ ہے، یعقوب، ابن ابی اسحاق، عیسیٰ اور حجدری نے جمالہ پڑھا ہے، یہ واحد کا صیغہ ہے اس سے مراد عظیم شی ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ جمع ہو، حفص، کسائی اور حمزہ نے جمالہ، پڑھا ہے اور سات میں سے باقی قراء نے جمالات پڑھا ہے، فراء نے کہا یہ جائز ہے کہ جمالات، جمال کی جمع ہو جس طرح کہا جاتا ہے، رجل کی جمع رجال اور رجالات ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کی تیزی کی وجہ سے اونٹوں سے تشبیہ دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے بعض، بعض کی متابعت کرتے ہیں، قصر کی جمع قصور ہے، قصر الظلام کا معنی تاریکیوں کا آپس میں ملنا ہے کہا جاتا ہے، اتیتہ قصرا من عشاء کے وقت آیا یہ مشترک ہے۔ جس طرح کسی نے کہا، کا نھم قصرا مصابیح راھب گویا وہ عشاء کے وقت راہب کے چراغ ہیں۔
مسئلہ۔ اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ لکڑیوں اور کوئلہ کی ذخیرہ کرنا جائز ہے، اگرچہ یہ غذا میں سے ہے کیونکہ یہ انسان کے مصالح اورٖضروریات کو پورا کرنے کا باعث ہے، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو یہ تقاضا کرتی ہیں کہ انسان ضرورت وقت کے علاوہ کسی چیز کو حاصل کرنے کا خیال رکھے تاکہ یہ چیز سستی مل جائے اور اس کے وجود کی حالت زیادہ ممکن ہو جس طرح نبی کریم کا معمول مبارک تھا کہ آپ اپنے مال اور کمائی سے اس وقت خوراک اکٹھی کرلیتے تھے جب خوراک عام پائی جاتی ہر شے اس پر محمول کیا جائے، حضرت ابن عباس نے اپنے اس ارشاد میں اس چیز کو بیان کیا ہے ہم لکڑیوں کا ارادہ کرتے ہیں ہم تین تین ہاتھ یا اس سے زائد یا اس سے کم کاٹ لیتے اور موسم سرما کے لیے انہیں ذخیرہ کرلیتے ہم اس عمل کو قصر کا نام دیتے اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ان میں سے یہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 77:35–37ھذا یوم لاینطقون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
وہ اس وقت گفتگو نہ کریں گے، قیامت کے دن کے کئی مواقع اور محل ہیں یہ ان اوقات میں سے ہے جس میں وہ گفتگو نہ کریں گے اور انہیں معذرت کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، کہ ابن ارزق نے ان سے، ھذا یوم لاینطقون، اور فلا تسمع الاھمسا۔ طہ) کے بارے میں پوچھا جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون۔ الطور) تو حضرت ابن عباس نے اسے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تیرے رب کے ہاں ایک دن ان ہزارسالوں کی طرح ہے جنہیں تم شمار کرتے ہو، ان دونوں میں سے ہر ایک دن کی مقدار کا اندازہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نفع مند بات نہ کریں گے، جو آدمی ایسی گفتگو کرے جو نفع مند نہ ہو وہ اس طرح ہے جیسے اس نے گفتگو ہی نہیں کی۔ حضرت حسن، بصری نے کہا، وہ دلیل سے گفتگو نہیں کرین گے اگرچہ وہ گفتگو کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ان کے جواب کا وقت ہے ارشاد فرمایا، اخسوافیھا ولاتکلمون۔ المومنون) اس بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے، حضرت ابوعثمان نے فرمایا، ہیبت کو دیکھنے اور گناہوں کے حیاء نے انہیں خاموش کردیا ہے جنید نے کہا، اس آدمی کے لیے کیا عذر ہوسکتا ہے جو منعم سے اعراض کرے، اس کا انکار کرے اور اس کے احسانات اور نعمتوں کی ناشکری کرے یوم کا لفظ عام لوگوں کی قرات میں مبتداء اور خبر ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے فرشتے کہیں گے، یہ ایسا دن ہے جس میں وہ گفتگو نہ کریں، یہ بھی جائز ہے، کہ انطلقوا فرشتوں کا قول ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں سے فرمائے گا، یہ ایسا دن ہوگا جس میں کفار گفتگو نہ کریں گے، الیوم کا معنی ساعت اور وقت ہے۔
یحییٰ بن سلطان نے ابوبکر سے وہ عاصم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اسمیں یوم کا لفظ منصوب ہے، ابن ہرمز اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ بھی جائز ہے کہ یوم کا لفظ مبنی ہو کیونکہ وہ فعل کی طرف مضاف ہو اور اس کا محل رفع کا ہو یہ کو فیوں کا نقطہ نظر ہے یہ بھی جائز ہے کہ اشارہ یوم کی طرف نہ ہو یہ بصریوں کا مذہب ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ مبنی ہوتا ہے جب اسے مبنی کی طرف مضاف کیا جائے یہاں فعل معرب ہے فراء نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، ولایوذن لھم فیعتذرون۔ کے بارے میں کہا، یہاں فاء عاطفہ ہے، یعتذرون کا عطف یوذن پر ہے، یہ جائز ہے کیونکہ آخر میں نون اعرابی موجود ہے، اگر یہ فعتذروا ہوتاآیات میں موافقت نہ ہوتی، جب کہ یہ ارشاد فرمایا، لایقضی علیھم فیموتوا۔ فاطر 36) یہاں فیموتوا محل نصب میں ہے سب درست ہے اس کی مثل من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ، الحدید 11) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ کردے یہاں فیضعفہ کو مرفوع اور منصوب پڑھنا جائز ہے۔
Ayahs 77:38–40ھذایوم الفصل۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
انہیں کہا جائے گا، یہ وہ دن ہے جس میں مخلوقات کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور حق پرست باطل پرست سے ممتاز ہوجائے گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے قبل کے انبیاء کو جھٹلانے والوں کو جمع کرے گا ضحاک نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اگر تمہارے پاس ہلاکت سے خلاصی کی کوئی صورت ہے تو اپنے لیے کوئی حیلہ کرو اور مجھ سے قوت میں مقابلہ کرلو تم ہرگز اس کو نہ پاؤ گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اگر تم جنگ پر قادر ہوتومجھ سے جنگ کرو، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے تم دنیا میں حضرت محمد ﷺ سے جنگ کیا کرتے تھے اور مجھ سے جنگ کیا کرتے تھے آج تم مجھ سے جنگ کرو، ایک قول یہ کیا گیا ہے تم دنیا میں نافرمانی کیا کرتے تھے آج تم اس سے عاجز آچکے ہو اور اپنا دفاع کرنے سے بھی عاجز آچکے ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نبی کریم کے قول کی حکایت ہے تو یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے قول کی طرح ہوگا تم میرے ساتھ خفیہ تدبیر کرلو پھر تم مجھے مہلت نہ دینا۔