76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 76:1–3

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر ایک ایسا وقت آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا اس طور پر کہ ہم اس کو مکلف بنائیں سو ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنا دیا،

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو راستہ دکھایا تو وہ شکر گزار ہوگیا یا نا شکرا ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے والا سننے والا بنایا اسے صحیح راستہ بتایا، انسانوں میں شاکر بھی ہیں کافر بھی ہیں یہاں سے سورة الدھر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الانسان بھی ہے اس کے پہلے رکوع میں انسان کی ابتدائی آفرینش بتائی ہے اس کے بعد انسان کی دو قسمیں بتائیں ایک شکر گزار اور ایک ناشکرا اس کے بعد ناشکروں کا عذاب اور شکر گزاروں کے انعامات بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو صبر کرنے اور ذکر کرنے اور راتوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور دنیا داروں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑا دن چھوڑ رکھا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ بالکل ہی قابل ذکر کوئی چیز نہ تھا نہ اس کا کوئی تذکرہ کرتا تھا نہ اس کا کچھ نام تھا نہ اس کی کچھ حیثیت تھی، مطلب یہ ہے کہ یہ انسان جو دنیا میں نظر آ رہے ہیں ان میں بڑے بھی ہیں چھوٹے بھی ہیں متکبر بھی ہیں اکڑفوں دکھانے والے بھی ہیں ان میں سے ہر شخص پر ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی چیز بھی نہ تھا جو قابل ذکر ہو بلکہ نطفہ منی تھا اور اس سے پہلے غذا تھا اور یہ غذا مٹی سے نکلی تھی، ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا یعنی مرد اور عورت دونوں کے مخلوط مادہ منویہ سے رحم مادر میں اس کی ابتداء کی پھر وہ ایک عرصے تک نطفہ رہا پھر علق یعنی خون کا لوتھڑا بنا دیا پھر اس کے اعضاء بنا دیئے پھر اس میں جان ڈال دی اس کے بعد رحم مادر سے باہر آگیا یہ اس کا باہر آنا پلنا بڑھنا بےحکمت نہیں ہے انسان یوں نہ سمجھے کہ میں یوں ہی چھوڑ دیا جاؤں گا۔ (كما مر فی السورة السابقة) بلکہ اس کی یہ تخلیق ابتلاء اور امتحان اور آزمائش کے لیے ہے اسے بہت سے کاموں کا مکلف کیا گیا ہے۔ سورة ٴ ملک میں فرمایا ﴿لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے اعمال والا کون ہے) ۔ اور انسان کو صرف حیات دے کر آزمائش میں نہیں ڈالا بلکہ اس کو عقل و فہم و سمع و بصر کا عطیہ دیا ہے وہ سمجھتا ہے دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور ہدایت کو اس کی عقل و فہم پر نہیں رکھا بلکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان کے واسطے سے حق راہ بتائی چاہیے تو یہ تھا کہ تمام انسان اپنے خالق کو پہچانتے، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی معرفت حاصل کرتے اور حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جو دین پیش کیا اسے قبول کرتے اور اللہ کے شکر گزار بندے بنتے لیکن انسانوں کی دو قسمیں ہوگئیں ان میں سے بعض شکر گزار بنے اور بعض ناشکرے بن گئے، مومن بندے شکر گزار ہیں اور غیر مومن یعنی کافر ناشکرے ہیں جنہوں نے عقل اور سمع و بصر سے فائدہ نہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کر کے کفر اختیار کرلیا۔ (قال صاحب الروح وحاصلہ دللنا علی الھدایة والاسلام فمنھم مھتد مسلم ومنھم ضال کافر) قولہ تعالیٰ : ﴿هَلْ اَتٰى ﴾ قیل ھل بمعنی قدو قیل اصلہ اھل علی ان الاستفھام للتقریر ای الحمل علی الاقرار بما دخلت علیہ۔ وقولہ : امشاج، جمع مشجٍ بفتحتین او بفتح فکسر او جمع مشیج جمع خلطٍ بمعنی مختلف ممتزج یقال مشجت الشیٔ اذ خلطتہ ومزجتہ فھو مشیج وممشوج وھو صفة لنطفة ووصف بالجمع وھی مفردة لان المرادبھا مجموع ماء الرجل والمراة۔
Ayahs 76:4–5

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی،

کافروں کے عذاب اور اہل ایمان کے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات کا تذکرہ یہ انیس آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے زنجیریں ہیں اور طوق ہیں اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی ان چیزوں کا ذکر ہے۔ دیکھو سورة ٴ یٰسین رکوع نمبر 1 اور سورة الحاقۃ رکوع نمبر 1، اس کے بعد کی آیت میں نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور ان کی ماکولات اور مشروبات اور مرغوبات اور ظروف کا تذکرہ فرمایا ہے یہ چیزیں انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کے بدلہ میں بطور انعام دی جائیں گی۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے ایسے جام سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور چند سطر کے بعد فرمایا ان حضرات کو ایسا جام پلایا جائے گا جس کی شراب میں زنجبیل یعنی سونٹھ کی آمیزش ہوگی یہ کافور اور زنجبیل وہاں کا ہوگا اور اس کا کیف اور لذت بھی بےمثال ہوگی جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہا للہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن میں جنت کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے یہ سب (سمجھانے کے لیے) نام کی حد تک ہے۔ وہاں کی چیزوں میں سے دنیا میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یعنی ایسے چشمہ سے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے جس کو وہ بہا کرلے جائیں گے،

﴿ عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا 006﴾ لفظ عینًا کیوں منصوب ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہاں لفظ اعنی محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ حضرات جو جام پئیں گے وہ ایک ایسے چشمہ سے بھرا جائے گا جسے وہ لوگ بہا کرلے جائیں گے یعنی وہ چشمہ ان کی مرضی کے مطابق بہتا ہوگا اپنے منزلوں اور محلات میں جیسے چاہیں گے جہاں چاہیں گے اسے جاری کرلیں گے۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

وہ لوگ نذر کو پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی،

﴿ يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ ﴾ دنیا میں وہ لوگ اپنی نذر پوری کرتے ہیں نذر کا معنی تو معروف ہی ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ حضرات کسی نیک کام کی نذر مان لیتے ہیں تو اسے پوری کرلیتے ہیں، جب کوئی شخص کسی کام کی نذر مان لے تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا ﴿وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ ﴾ نذر نہ مانے تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر نذر مان لے (اور گناہ کی نذر نہ ہو) تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر گناہ کی نذر مان لے تو اسے پوری نہ کرے بلکہ اس کا وہی کفارہ دے دے جو قسم کا کفارا ہے۔ احادیث شریفہ میں نذر کے بارے میں یہ ہدایات وارد ہوئی ہیں۔ (دیكھئے مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 297) ﴿ وَ يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا 007﴾ یہ بھی نیک بندوں کی صفت ہے اس میں یہ بتایا ہے کہ اللہ کے نیک بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے ستارے جھڑ جائیں گے آسمان پھٹ پڑیں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے لوگ قبروں سے گھبرائے ہوئے اٹھیں گے، حساب ہوگا، پریشاں ہوں گی۔ حضرت عائشہ ؓ ایک دن رونے لگیں تو آپ نے فرمایا : کیوں روتی ہو ؟ عرض کیا مجھے دوزخ یاد آگئی اس کی وجہ سے رو رہی ہوں۔ یہ ارشاد فرمایئے کہ آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد فرمائیں گے آپ نے فرمایا تین مواقع میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا : (1) ایک تو اعمال کے وزن کیے جانے کے وقت جب تک یہ نہ جان لے کہ اس کی تول ہلکی ہوتی ہے یا بھاری۔ (2) جب اعمالے نامے تقسیم کیے جانے لگیں جب تک یہ نہ جان لے کہ اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے یا بائیں ہاتھ میں پشت کے پیچھے سے۔ (3) جب دوزخ کی پشت پر پل صراط رکھ دی جائے گی۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ 298 ص ج 2)
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھانا کھلاتے ہیں، اللہ کی محبت کی وجہ سے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو،

﴿وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا 008﴾ یہ نیک بندوں کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی محبت کی وجہ سے اس کی مخلوق پر مال خرچ کرتے ہیں مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اس میں جو لفظ اسیر آیا ہے یعنی قیدی اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مسلمان قیدی مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ہر قیدی کو عام ہے کافر مشرک قید میں ہو اس کو بھی کھانا کھلانا ثواب ہے خصوصاً جب کسی کو ظلماً قید کرلیا گیا ہو، پھر جب کسی کو قتل کرنا نہیں ہے اور جیل میں رکھنا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے کھانا دینا ہی ہوگا کیونکہ وہ مجبور ہے۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے،

نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا ﴿ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا 009﴾ یہ حضرات جو ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں کوئی احسان نہیں دھرتے اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ آپ لوگ بےتکلف کھائیں ہماری طرف سے نہ کسی عوض کا مطالبہ ہے اور نہ کسی شکریہ کا ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید ہے ہم صرف اسی کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی مخلوق میں سے جب کسی پر خرچ کیا جائے تو صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہونی چاہیے نہ نام آوری مقصود ہو نہ کسی عوض کی طلب ہو۔ حد یہ ہے کہ دل میں یہ بھی نہ ہو کہ جس پر خرچ کیا ہے وہ مرا شکریہ ادا کرے، جاہ اور مال کی ذرا سی بھی طلب ہوگی تو اخلاص میں فرق آجائے گا۔ بہت سے لوگ کسی ضرورت مند پر خاص کر اپنے عزیزوں پر مال خرچ کردیتے ہیں پھر کسی موقع پر احسان جتا دیتے ہیں اور یوں کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے وہ تو ایسا نکلا کہ اس نے پھوٹے منہ سے جزاک اللہ بھی نہ کہا ایسا کہہ کر سب ڈبو دیا، جس کے ساتھ احسان کیا تھا اسے تو چاہیے کہ شکریہ بھی ادا کرے اور دعائیں بھی دے۔ نیز لوگوں کو بتائے بھی کہ فلاں نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے لیکن دینے والا اور خرچ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرے۔ حدیث شریف میں احسان جتانے کے لیے بڑی وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ بات نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ راوی حدیث حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا کہ ان کا برا ہو نقصان میں پڑیں یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : (1) اپنے تہمد کو نیچے لٹکا کر چلنے والا۔ (2) احسان جتانے والا۔ (3) اپنے بکری کے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعے چالو کرنے والا۔ (رواہ مسلم)
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے سخت دن کا اندیشہ رکھتے ہیں جو بہت ہی تلخ ہوگا،

﴿اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا 0010﴾ (یہ بھی اللہ کے نیک بندوں کا قول ہے، وہ قیامت کے دن کا استحضار رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنے رب سے سخت دن کا اندیشہ رکھتے ہیں یعنی ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ قیامت کے سخت دن میں اللہ تعالیٰ ہماری گرفت نہ فرمائے۔ لفظ عبوس فعول کے وزن پر ہے جس کا معنی منہ بگاڑنا اور ناراضگی اور ترش روئی کے ساتھ پیش آنا ہے۔ اور قمطریر بھی تقریباً اسی معنی میں ہے لیکن یہ بہت زیادہ منہ بگاڑنے پر دلالت کرتا ہے۔ علامہ قرطبی نے حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ عبوس وہ ہے جو ہونٹوں سے منہ بگاڑے اور قمطریر وہ ہے جو پیشانی سے اور بھنوؤں سے چہرہ بگاڑ کر سامنے آئے قیامت کے دن کو عبوساً اور قمطریرا دونوں صفات سے متصف فرمایا ہے اس لیے عبوس کا ترجمہ سخت اور قمطریرا کا ترجمہ تلخ کیا گیا ہے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو اللہ انہیں اس دن کی سختی سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا

﴿فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ0011﴾ (سو اللہ انہیں اس دن کی سختی سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں تازگی اور خوشی سے ہمکنار فرمائے گا) وہ دنیا میں قیامت کے دن سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کی سختی سے بچا دے گا ان کے چہروں میں حسن ہوگا ترو تازگی ہوگی اور دلوں میں خوشی ہوگی خوب ہشا ش ہوں گے۔ جعلنا اللّٰہ تعالیٰ منھم۔ (آمین)
Ayahs 76:12–13

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انہوں نے صبر کیا اس کے بدلہ میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا،

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ اس میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوں گے، نہ وہاں دھوپ محسوس کریں گے اور نہ ٹھنڈک

﴿وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِيْرًاۙ0012﴾ (اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صبر کی وجہ سے جنت عطا فرمائے گا اور ریشمی لباس) ﴿مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ 1ۚ﴾ (اس میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے) ۔ ﴿ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًاۚ0013﴾ (اس میں نہ دھوپ دیکھیں گے اور نہ ٹھنڈک) یعنی وہاں کی فضا پر کیف ہوگی گرمی اور دھوپ کی تپش اور کسی طرح کی سردی اور ٹھنڈک محسوس نہ ہوگی۔ ﴿ بِمَا صَبَرُوْا ﴾ جو فرمایا اس کا عموم تینوں قسم کے صبر کو شامل ہے طاعات پر جمنا (یعنی احکام کی پابندی کرنا) اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے رکھنا اور مصائب اور مکروہات پر صبر کرنا صبروا کے عموم میں سب داخل ہے۔ جنت کی پر فضاء بہار اور موسم کی کیفیت بیان کرنے کے بعد وہاں کے پھلوں کی کیفیت بیان فرمائی۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور ان پر اس کے سائے قریب ہوں گے اور اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے

﴿وَ دَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا 0014﴾ (اور ان پر اس کے سائے قریب ہوں گے اور ان پر اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے) ۔ جنت میں دھوپ نام کو نہ ہوگی سایہ ہی سایہ ہوگا اور سایہ قریب بھی ہوگا اور گہرا اور گھنا بھی کما قال تعالیٰ : ﴿وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 0057﴾ اور جو پھل ملیں گے وہ ان کے اختیار میں ہوں گے، کھڑے اور لیٹے اور بیٹھے توڑ سکیں گے۔ اس کے بعد اہل جنت کے برتنوں کا تذکرہ فرمایا۔
Ayah 76:15

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے،

﴿وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِيْرَاۡۙ0015﴾ (اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آب خورے جو شیشے کے ہوں گے وہ شیشے چاندی کے ہوں گے) یعنی جن برتنوں اور آب خوروں میں یہ حضرات جنت کی شراب پئیں گے ان میں چاندی والی سفیدی ہوگی اور وہ شیشے کی طرح شفاف بھی ہوں گے۔ قال صاحب الروح فالمراد تکونت جامعة بین صفائن الزجاجاة وشفیفھا ولین الفضة وبیاضھا۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

وہ شیشے چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا،

﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ برتن اور آب خورے جن کا ذکر اوپر ہوا شراب سے بھرے ہوئے پیش کیے جائیں گے ان کے بھرنے اور پلانے پر جو خادم مامور ہوں گے وہ اس انداز سے انہیں پُر کریں گے کہ اس وقت جو پینے کی خواہش ہوگی اسی کے مطابق ان میں شراب بھریں گے نہ اس وقت کی خواہش میں کمی رہے گی اور نہ اس سے کچھ بچے گا کیونکہ یہ دونوں چیزیں بےلطفی کی ہوتی ہیں۔
Ayahs 76:17–18

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور اس میں انہیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یعنی ایسے چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہوگا

﴿وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًاۚ0017 عَيْنًا فِيْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِيْلًا 0018﴾ (اور اس میں انہیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہوگا) یہ آمیزش زنجیل یعنی سونٹھ کی ہوگی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہوگی اور کبھی ایسا جام پئیں گے جس کی آمیزش رنجبیل سے ہوگی۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اے مخاطب اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں

اس کے بعد خدمت گاروں کا تذکرہ فرمایا جو شراب پلائیں گے اور دیگر خدمات انجام دیں گے۔ ﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 1ۚ﴾ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہیں رہیں گے) ۔ ﴿ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا 0019﴾ (اے مخاطب اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں) ۔ یعنی وہ چمک دمک میں موتی کی طرح ہوں گے اور خدمات انجام دینے میں جو ادھر ادھر آئیں جائیں گے اس کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے بکھرے ہوئے موتی ہیں کوئی موتی یہاں رکھا ہے اور کوئی وہاں دھرا ہے۔ سورة ٴ والطور میں فرمایا : ﴿وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ0024﴾ اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے گویا کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہیں یہ لڑکے ان کی خدمت کے لیے خاص ہوں گے۔ (اور سورة ٴ واقعہ میں فرمایا): ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ0017 بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ 1ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ0018 لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ0019﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آب خورے اور آفتابے اور ایسا جام لے کر آمدورفت کریں گے جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا انہیں اس سے نہ درد سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا) ۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے گی

﴿وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا 0020﴾ (اور اے مخاطب اگر تو وہاں نعمتوں کو دیکھے گا تو تجھے بڑا ملک نظر آئے گا) ۔ اس میں جنت کی وسعت بتائی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے ہی چھوٹے موٹے گھر اور باغیچے ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہاں بہت بڑا ملک ہے ہر ہر شخص کو جو جگہ ملے گی اس کے سامنے ساری دنیا کی وسعت ہیچ ہے۔ سب سے آخر میں جو شخص جنت میں داخل ہوں گا اللہ تعالیٰ کا اس سے ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے اس دنیا کے برابر جگہ ہے اور اس جیسی دنیا کے برابر دس گنا اس کے علاوہ اور ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص کے بارے میں یوں کہا جاتا تھا کہ وہ اہل جنت میں سب سے کم درجہ کا جنتی ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 492 از بخاری و مسلم) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ ادنیٰ درجہ کا جنتی اپنے باغوں اور بیویوں اور نعمتوں اور خادموں اور مسہریوں کو ہزار سال کی مسافت میں دیکھے گا (یعنی اپنی مذکورہ نعمتوں کو اتنی دور تک پھیلی ہوئی دیکھتا چلا جائے گا جتنی دور تک ہزار سال میں چل کر پہنچے) ۔ اور اللہ کے ہاں سب سے بڑا معزز وہ شخص ہوگا جو صبح شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ0022 اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ0023﴾ پڑھی (جو عنقریب ہی سورة القیامۃ میں گزر چکی ہے) ۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 501)
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انہیں شراب طہور پلائے گا

جب ادنیٰ درجہ کے جنتی کا اتنا بڑا رقبہ ہوگا تو مختلف درجات کے اعتبار سے دیگر حضرات کے رقبہ کے بارے میں غور کرلیا جائے۔ ﴿ عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ ﴾ (اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے بھی ہوں گے) یہ ریشم وہاں کا ہوگا دنیا کا ریشم نہ سمجھ لیا جائے اور باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم عمدہ ہوں گے من بھاتے ہوں گے۔ ﴿ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ 1ۚ﴾ (اور ان کو زیور کے طور پر چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے) سورة الکہف اور سورة الحج میں ہے کہ کنگن سونے کے ہوں گے اس میں کوئی منافات نہیں دونوں طرح کے کنگن ہوں گے کہیں سونے کے کنگن کا ذکر فرما دیا اور کہیں چاندی کا۔ اہل جنت کے کپڑے ہرے رنگ کے ہوں گے کیونکہ یہ رنگ نظروں کو زیادہ بھاتا ہے اور کوئی لفظ حصر پر دلالت کرنے والا بھی نہیں ہے جس سے سمجھا جائے کہ صرف سبز رنگ ہی کے کپڑے زیب تن کریں گے۔ آیت کریمہ ﴿وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ ﴾ سے ظاہر ہے کہ جو کچھ جی چاہے گا وہی ملے گا اگر دوسرے رنگ کے کپڑے پہننے چاہیں گے تو وہ بھی عطا کردیئے جائیں گے اور جس کا جو جی چاہے گا پہنے گا اہل جنت کو جو کنگن پہنائے جائیں گے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنتیوں میں سے اگر کوئی شخص (دنیا کی طرف) جھانک لے جس سے اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو ختم کر دے جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ المصابیح صفحہ 498) کنگن عورتوں کے ہاتھوں میں اچھے لگتے ہیں مردوں پر بھلا کیا سجیں گے ؟ فائدہ : کسی بھی لباس یا زیور کا سجنا اور شائستہ و آراستہ ہونا ہر جگہ کے عرف پر موقوف ہوتا ہے دنیا میں اگرچہ عموماً مرد کنگن نہیں پہنتے مگر جنت میں خواہش کر کے پہنیں گے اور سب ہی کو دیکھنے میں بھلے معلوم ہوں گے گھڑی کی چین ہی کو لیجئے طرح طرح کی بناوٹ اور چمک و زیبائش والی پہنی جاتی ہے اور مردوں کے ہاتھوں میں اچھی لگتی ہے بلکہ بعض قوموں میں تو بیاہ شادی کے موقعوں پر دولہا کو کنگن پہناتے ہیں اور برادری کے سب لوگ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں چونکہ رواج ہے اس لیے سب کی نظر بھی قبول کرتی ہے اور سب کے دل بھی اچھا سمجھتے ہیں اور اس رواج پر اس قدر اڑے ہوئے ہیں کہ شریعت کی ممانعت کا بھی خیال نہیں کرتے۔ ﴿ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا 0021﴾ اور ان کا رب انہیں پاک کرنے والی شراب پلائے گا۔ اس سورت میں پہلی جگہ ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ ﴾ فرمایا پھر دوسری جگہ ﴿ وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ ﴾ فرمایا جس میں ان کے مزید اعزاز کا ذکر ہے کہ خدام شراب لے کر آئیں گے۔ تیسری جگہ ﴿وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ ﴾ فرمایا اس میں پلانے کی نسبت رب جل شانہ کی طرف کی گئی ہے جس میں زیادہ اعزاز ہے۔ شرابا کو متصف کیا ہے طھورا سے۔ اس کا ترجمہ بعض حضرات نے بہت زیادہ پاکیزہ کیا ہے۔ فعول کو مبالغہ کا صیغہ لیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ بہت زیادہ پاکیزہ شراب ہوگی۔ قال المحلی مبالغة فی طھارتہ ونظافتہ بخلاف خمر الدنیا اور صاحب المعالم التنزیل نے حضرت ابو قلابہ اور حضرت ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ لا یصیر بولا نجسا ولکن یصیر رشحا فی ابدانھم کریح المسلک۔ یعنی اسے شراب طہور اس لیے فرمایا کہ وہ ناپاک پیشاب نہ بنے گی بلکہ مشک کی طرح پیسنہ ہو کر نکل جائے گی اول کھانا کھائیں گے پھر شراب طہور لائی جائے گی جب اسے پی لیں گے تو جو کچھ کھایا تھا وہ سب ان کے مسامات سے خوب تیز مشک سے بھی زیادہ خوشبو والا پسینہ بن کر نکل جائے گا جن سے ان کے پیٹ خالی ہوجائیں گی اور کھانے پینے کی خواہش پھر عود کر آئے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لفظ طھور مطھر کے معنی میں ہے یعنی پاک کرنے والی چیز اس کا حاصل بھی تقریباً وہی ہے جو حضرت ابو قلابہ ؓ نے فرمایا ہے کہ جو کچھ کھایا ہوگا یہ شراب اندر جا کر مشک کی طرح باہر آجائے گی جس کی وجہ سے پیٹ خالی ہوجائیں گے۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری کوشش کی قدر دانی کی گئی ہے۔

﴿اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا (رح) 0022﴾ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا کہ یقین جانو یہ تمہارا صلہ ہے اور تم نے جو کوشش کی تھی (یعنی نیک کاموں میں لگے تھے) وہ مقبول ہوگئی اور اس کی قدر دانی کی گئی جو اس انعام و اکرام کا ذریعہ بن گئی) ۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آپ پر قرآن اتارا تھوڑا تھوڑا کر کے،

حضور رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم کہ آپ صبح شام اللہ تعالیٰ ذکر کیجئے اور رات کو نماز پڑھیے اور دیر تک تسبیح میں مشغول رہیے، فاسق یا فاجر کی بات نہ مانیے اہل جنت کے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اس انعام عظیم کا تذکرہ فرمایا جو دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمایا جس کے ذریعے آخرت میں انعامات ملیں گے، یہ انعام قرآن کریم کی تنزیل ہے تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اول سے آخرتک بیک وقت پورا نازل نہیں فرمایا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔ اس میں آپ کے لیے بھی آسانی ہوگئی اور حضرات صحابہ ؓ کے لیے بھی تھوڑا تھوڑا کر کے یاد بھی ہوگیا اور جیسے جیسے نازل ہوتا رہا آپ مخاطبین کو پہنچاتے رہے چونکہ قرآن کے پہنچانے پر دشمن تکلیف پہنچاتے تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ﴿ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ﴾ (کہ اپنے رب کے حکم کی ادائیگی میں صبر کے ساتھ لگے رہیے) ۔
Ayahs 76:24–26

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو آپ پروردگار کے حکم پر جمے رہیے اور ان میں سے کسی فاسق کافر کی بات نہ مانیے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجیے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے حصہ میں اس کو سجدہ کیجئے اور رات کو بڑی دیر تک اس کی تسبیح بیان کیجئے،

﴿ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ0024﴾ (اور ان لوگوں میں سے کسی فاسق یا کافر کی بات نہ مانیے) یہ لوگ آپ کو تبلیغ سے روکتے ہیں آپ ان کی فرمانبرداری نہ کریں اور تبلیغ کے کام میں لگے رہیں۔ ﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًاۖۚ0025﴾ (اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجئے) ۔ ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا 0026﴾ (اور رات کے حصے میں بھی اپنے رب کو سجدہ کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں اس کی تسبیح کیا کیجئے) اس میں یہ بتایا کہ کار دعوت کی مشغولی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی عبادت میں بھی مشغول رہیں نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص عابد و ذاکر ہوگا۔ تبلیغی کاموں میں اس کی معاونت ہوتی رہے گی اور کام آگے بڑھتا رہے گا۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ جلدی والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن چھوڑ بیٹھے ہیں۔

﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ﴾ (بلاشبہ یہ لوگ جلدی والی چیز سے محبت کرتے ہیں) ۔ جو لوگ دین اسلام قبول نہیں کرتے تھے (اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کے سامنے حق پیش ہوتا ہے تو نہیں مانتے) ان لوگوں کا حق سے منہ موڑنا اس لیے ہے کہ انہیں عاجلہ (جلدی والی چیز) یعنی دنیا محبوب اور مطلوب ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اسلام قبول کیا تو دنیا سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے نہ جائیداد رہے گی نہ گھر در اور عہدہ بھی جاتا رہے گا، لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ موت کے بعد جو حق قبول نہ کرنے کی سزا ملے گی وہ بہت بڑی ہوگی اور ہمیشہ رہے گی کبھی نہ ٹلے گی یہ ہمیشہ والی سزا جس دن سامنے آئے گی اس دن کی مصیبت کا خیال نہیں کرتے، اسی کو فرمایا : ﴿ وَ يَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيْلًا 0027﴾ (یہ لوگ اپنے سامنے بڑے بھاری دن کو چھوڑے ہوئے ہیں) درحقیقت دنیا امتحان کی جگہ اور دنیا و آخرت دونوں سوتنیں ہیں ایک سے محبت کی تو دوسری گئی اور عجیب بات یہ ہے کہ جن کے پاس ذرا سی بھی دنیا نہیں ہے نہ مال ہے نہ جاہ نہ پیسہ نہ کوڑی نہ عہدہ نہ منصب نہ جاہ نہ عزت، وہ بھی کفر سے چپکے ہوئے ہیں۔ واللہ الہادی الی سبیل الرشاد۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ہی نے انہیں پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ مضبوط بنائے اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں،

جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہو کر اٹھنے پر تعجب کرتے تھے اور وقوع قیامت کے منکر تھے ان کے استعجاب اور انکار کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ 1ۚ﴾ (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے) ۔ ﴿ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِيْلًا 0028 ﴾ (اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں) یعنی ان کی جگہ ان جیسے لوگ پیدا کردیں۔ جس ذات پاک نے اولاً پیدا کیا مضبوط بنایا وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ پیدا فرما سکتا ہے اور وہ تمہیں موت دے کر دوبارہ پیدا فرمانے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔ ﴿ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ ﴾ جو فرمایا (کہ ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کیے) اس میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا بیان ہے کہ گوشت اور ہڈی اور کھال سے جو اعضاء بنے ہوئے ہیں یہ رات دن حرکت میں رہتے ہیں اٹھنے بیٹھنے میں مڑتے ہیں، کام کاج میں رگڑے جاتے ہیں لیکن نرم اور نازک ہوتے ہوئے نہ گھستے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں جبکہ لوہے کی مشینیں بھی گھس جاتی ہیں اور بار بار پرزے بدلنے پڑتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ انسانی اعضاء بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کام کرتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب صبح ہوتی ہے تو تم سے ہر شخص کے جوڑوں کی طرف سے صدقہ کرنا واجب ہوجاتا ہے سو ہر سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے اور ہر الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر لا اِلٰہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے اور ہر اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور دو رکعتیں چاشت کی پڑھ لی جائیں تو وہ اس سب کے بدلہ کا کام دے جاتی ہیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہر انسان تین سو ساٹھ (360) جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے سو جس نے اللہ اکبر کہا اور الحمد للہ کہا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہا اور سبحان اللہ کہا اور اللہ سے مغفرت طلب کی اور لوگوں کے راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی کو ہٹا دیا یا امر بالمعروف کیا یا نہی عن المنکر کیا اور ان چیزوں کی تعداد تین سو ساٹھ ہوگئی تو وہ اس دن اس حال میں چلے پھرے گا کہ اپنی جان کو دوزخ سے بچا چکا ہوگا۔ (رواہ مسلم)
Ayahs 76:29–31

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے،

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے، بلاشبہ اللہ علیم ہے حکیم ہے،

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔

﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا 0029﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) ۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ 1ؕ﴾ (اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے) جو وہ چاہے گا وہی چاہو گے جو وہ چاہے گا وہی ہوگا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًاۗۖ0030﴾ (بیشک اللہ علیم ہے حکیم ہے) ﴿ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ 1ؕ﴾ (وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے) ﴿ وَ الظّٰلِمِيْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (رح) 0031﴾ (اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے) ۔ وھذ آخر تفسیر سورة الانسان والحمد للہ الملیک الرحمن والصلٰوة والسلام علی سید ولد عدنان، وعلی آلہ وصحبہ الذین نقلوا القرآن، فلھم الاجر الی آخر الازمان۔