Ayah 76:1(بیشک آچکا انسان) اول حضرت آدم ( پر ایسا وقت بھی زمانہ میں کہ ) وہ (نہ تھا) انسانیت کے عنوان سے (کچھ قابل تذکرہ) اور کوئی انسان ہونے کے ساتھ انہیں یاد نہ کرتا تھا اور وہ روح پھونکنے کے قبل چالیس برس تک مکہ اور طائف کے درمیان پڑے رہے کوئی انہیں انسان کے نام سے یاد نہ کرتا تھا اور نہ ان کے عناصر کا تذکرہ ہوتا تھا۔
کسی کو خبر نہ تھی کہ اس کا نام کیا ہے اور اسے پیدا کرنے میں کیا حکمت اور فائدہ ہے۔ اور اس مطلب کی بھی خبر نہ تھی کہ قدرت کاملہ والا ایسا آئینہ بناتا ہے کہ جو ان شعاعوں کا مظہر ہو جو مفاتیح الغیب میں ہیں ، اور خلافت کبریا کے مرتبہ کے لائق ہو۔ اور وہ عین مقصود ذات اور منتہائے غایت ہو اور سب پوشیدہ باتیں اس کے وجود باوجود سے ظاہر ہوجائیں۔
ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے مراد اولاد آدم جو شکم مادر میں رہنے کی مدت میں لوگوں کے درمیان ذکر و تذکرہ کے قابل نہیں ہوتا ، اور نہ ہی اس کے حالات و اوصاف کے تعلق سے کوئی چرچا ہوتا ہے۔ بعض نے پہلے لفظ انسان سے آدم اور دوسرے سے آپ کی اولاد مراد لی ہے ، اور یہ اس وقت ہے کہ حین زمانہ طویل اور دراز کے لیے ہو جس کی مقدار معلوم نہ ہو۔ لیکن ہر دونوں میں جنس انسان مراد لینا موزوں اور زیادہ ظاہر ہے ، اس لیے کہ اس سے مقصود ہے انسان کو اس کی تخلیق ظاہر کر کے پندونصیحت کرنا کہ وہ بالکل نہ تھا لیکن اب کیا ہے۔ اس لیے جب سنے گا کہ وہ کوئی شے ہی نہ تھا اور نہ کہیں اس کا ذکر تھا پھر وہ مذکور ہوا اور پیدا ہوا ایک حقیر و خسیس پانی سے ، اس طرح وہ مرنے کے بعد اٹھنے کو بعید نہ سمجھے گا اور نہ ہی اس کا انکار کرسکے گا۔ چنانچہ۔۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۔۔۔
Ayah 76:2(بیشک ہم نے پیدا فرمایا انسان کو ملے جلے قطرہ سے) ۔
چونکہ مرد اور عورت کی منی مختلف الاجزاء ہے رقت اور قوام اور خاصیت میں اس وجہ سے نطفہ جو مفرد ہے اس کی صفت جمع لائی گئی۔۔ یا اس سے رنگ مراد ہیں اس واسطے کہ مرد کی منی سفید ہوتی ہے اور عورت کی زرد اور دونوں اکٹھا ہونے کے بعد سبز ہوجاتی ہے ۔ یا۔۔۔ امشاج اطوار کے معنی میں ہے یعنی نطفہ تھکا ہوجاتا ہے ، پھر لوتھڑا ہوجاتا ہے آخر خلقت تک۔
اور بہر تقدیر انسان کو ہم نے پیدا کیا تا (کہ) امر و نہی سے (آزمائیں اسے ، تو بنا دیا ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا) تاکہ دلیلیں دیکھے اور آیتیں سنے۔۔۔ اور ۔۔۔
Ayahs 76:3–4(بیشک) دلیلیں قائم کرکے اور آیتیں نازل کر کے (ہم نے ہدایت کی اسے) سیدھے (راستے کی ، کہ) اب (یا) مومن سعید ہو کر (شکر گزار) ہو (اور یا ) کافر شقی ہو کر (ناشکرا) سب کو معلوم رہنا چاہیے کہ (بیشک ہم نے تیار کررکھا ہے کافروں کے لیے زنجیریں) جن میں باندھ کر کافروں کو دوزخ میں کھینچیں گے (اور طوق) کہ ان کے گلوں میں ڈالیں گے (اور بھڑکتی آگ) جس میں ہمیشہ جلا کریں گے۔ ان کافروں کے برعکس۔۔۔
Ayah 76:5(بیشک ابرار کا طبقہ) تو (یہ لوگ پیئیں گے اس جام سے جس میں آمیزش کافور کی ہے ) ۔ یعنی اسے جنت کے کافور سے ملا کر بنائیں گے تاکہ ٹھنڈی ، اور خوشبو اور شیریں ہو۔
اور بعضوں نے کہا کہ جنت میں ایک پانی کا چشمہ خوشبو دار اور سفید ہے جیسے کہ کافور ، تو کافور سے ہمرنگ ہونے کے سبب سے اس کا نام کافور رکھ دیا۔ اور اسی قول کی تائید کرتا ہے یہ کہ کافور کا بدل لایا گیا ہے کہ وہ ۔۔۔
Ayahs 76:6–7(ایک چشمہ ہے پیتے رہیں گے اس میں اللہ تعالیٰ ) (کے بندے بہا کرلے جائیں گے اپنے یہاں) یعنی جہاں چاہیں گے اسے بآسانی بہا لے جائیں گے۔ جہاں چلنے کو کہیں گے وہ چشمہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ ان ابرار کی شان یہ ہے کہ (وہ پوری کریں منت کو) ۔
یہ آیت کریمہ خاص طور پر حضرت علی کی شان میں نازل فرمائی گئی۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ تفسیروں میں ہے کہ حضرت رسالت مآب حضرت علی کے گھر تشریف لائے ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو بیمار دیکھا ، تو حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ کچھ نذر کرو تاکہ تمہارے فرزند صحت پائیں۔ انہوں نے نذر کی کہ تین روز روزہ رکھیں گے۔ حق تعالیٰ نے حسنین کو شفا بخشی اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ نے روزے رکھے ، اور کسی قدر جو قرض لے کر ۔۔۔ یا۔۔۔ مزدوری کر کے حاصل کیے اور آٹا پیش کر روٹی پکائی۔ مغرب کے وقت چاہا کہ افطار کریں ، پس ایک فقیر گھر کے دروازے پر آیا اور آواز دی کہ اے اہل بیت نبوت ! میں ایک فقیر مسلمان ہوں مجھے روٹی دو کہ حق تعالیٰ بہشت کی نعمتوں سے تم کو عوض دے۔
امیر المومنین حضرت علی نے اپنا حصہ اس فقیر کو دے دیا ، سب اہل بیت نے بھی اپنے اپنے حصے دے دیے اور فقط پانی سے روزہ کھول کر رات بسر کی۔ دوسرے دن روزہ رکھا افطار کے وقت ایک یتیم دروازے پر آیا اور سوال کیا سب کھانا اسے دے دیا۔ تیسری شام کو ایک قیدی بروقت آیا سب کھانا اس کو عطا فرمایا۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت بھیجی کہ ابرار کی شان یہی ہے کہ اپنی نذر پوری کرتے رہیں۔۔۔
(اور ڈرتے رہیں اس دن کو جس کی تباہی) یعنی شدت اور محنت (پھیل جانے والی ہے)
Ayah 76:8(اور کھانا کھلائیں اس کی محبت پر) یعنی خدا کی محبت پر۔۔ یا۔۔۔ کھانے کی محبت پر ، یعنی باوصف اس کے کہ وہ اس کھانے کے محتاج ہیں اور اسے دوست رکھتے ہیں ، مگر ایثار کرتے ہیں۔ اوروں کو کھلا دیتے ہیں خود نہیں کھاتے ، اور فانی کھانے باقی کھانے کے واسطے دیتے ہیں۔ (مسکین) یعنی فقیر محتاج کو (اور یتیم) کو ، یعنی اس بچے کو جو بےباپ کا ہوگیا (اور قیدی کو) جسے کفار مکہ میں سے گرفتار کیا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ جب کسی قیدی کو آنحضرت کے حضور میں لاتے تو آپ اسے کسی مسلمان کے سپرد کرتے یہاں تک کہ آپ کی رائے اس کے باب میں کسی امر پر قرار پائے۔ اور اس مسلمان سے حکم فرماتے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنا۔ بعضے علماء اس پر بات ہیں کہ فقیر قیدی جو کسی حق پر قید ہوگیا ہے اور مملوک لونڈی غلام اور عورت یہ سب قیدیوں کا حکم رکھتے ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ احسان اور نیکی کرنا چاہیے۔
اور یہ کھانا کھلانے والے لسان مقال۔۔ یا ۔۔۔ زبان حال سے جو بات ان کے اعتقاد میں ہے کہتے ہیں۔۔۔
Ayahs 76:9–10(کہ ہم کھلاتے ہیں تمہیں بس اللہ تعالیٰ ) (ہی کے لیے ہم نہیں چاہتے تم سے کوئی معاوضہ) بدلا اور جزا (اور نہ شکر گزاری کو) اور نہ رنج و تکلیف دفع کرنا ، اس واسطے کہ احسان کر کے احسان جتانا اور بدلے کی توقع کرنا ثواب گھٹا دیتا ہے۔ چنانچہ۔۔۔ حکم خداوندی ہے کہ اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور رنج پہنچا کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ اور اپنی نیکیوں کو ضائع نہ کرو۔ (بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن کو) جو (کہ تلخ اور نہایت سخت ہے) ۔
حضرت حسن بصری سے پوچھا کہ قمطریرا کیا ہے ؟ فرمایا کہ سبحان اللہ ! کیا سخت ہے قیامت کے دن کا نام ، اور وہ دن اپنے نام سے زیادہ سخت ہے۔
Ayahs 76:11–12(تو بچالیا انہیں اللہ تعالیٰ ) (نے اس دن کی خرابی سے اور عطا کی انہیں تروتازگی) یعنی خوبروئی (اور خوشی) یعنی دل کی فرحت (اور ثواب دیا انہیں) بسبب اس کے (جو انہوں نے صبر کیا تھا) طاعت پر معصیت سے۔ یا۔۔۔ خود ضرورتمند ہوتے ہوئے دوسرے محتاجوں کو کھانا کھلا دیا اور خود صرف پانی پی کر رہ گئے تو اس صبر کا انہیں بدلہ دیا (جنت اور ریشمی لباس کا) تاکہ وہ جنت کے میوے کھائیں اور ریشمی کپڑے پہنیں اور رہیں اس حال میں کہ ۔۔۔
Ayahs 76:13–14(تکیہ لگائے) ہوں (اس میں تختوں پر) یعنی جنت میں آراستہ تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھیں۔ اور (نہ دیکھیں گے اس میں 9 یعنی جنت میں (دھوپ اور نہ کڑکڑاتی ٹھنڈ) مراد یہ ہے کہ بہشت کی ہوا معتدل ہوگی اور وہاں جاڑا گرمی کچھ نہ ہوگا کہ گرمی کی شدت ۔۔۔ یا ۔۔۔ جاڑے کی تیزی سے ایذا پائیں۔ (اور جھکے ہوئے ان پر اس کے ) درختوں (کے سائے اور نیچے کردیے گئے اس کے خوشے بالکل) مسخر کر کے ، کہ اس کے میوے توڑنا آسان ہوگا اور میوے توڑنے والے کو کوئی توڑنے سے منع نہیں کرے گا۔
Ayahs 76:15–16(اور دور چلایا جائے گا ان پر چاندی کے برتن کا اور جاموں کا کہ ہوں گے شیشے) اور (شیشے بھی چاندی کے) یعنی چھوٹے بڑے جام چاندی کے ہوں گے شیشے کی طرح صاف کہ ان کے اندر جو چیز ہو باہر سے نظر آئے (جس کا اندازہ کرلیا انہوں نے) یعنی پلانے والوں نے (خوب) چنانچہ۔۔۔ وہ اس کو ٹھیک اندازے پر رکھیں گے اور ہر ایک کو اس کے حوصلہ کے موافق جام دیں گے کہ اس میں وہ سیراب ہوجائے اور اس دورہ میں کمی زیادتی نہ ہوگی۔
Ayahs 76:17–18(اور پلائے جائیں گے اس میں ) انہیں ایسے (جام) بھی (جس میں آمیزش ہے ادرک کی) یعنی اس مشروب میں زنجبیل بہشت ملائیں گے ، اس واسطے کہ زنجبیل بہ خوشی لانے والی اور بہت لذت بخشنے والی ہے۔ دراصل یہ زنجبیل (چشمہ ہے اسی جنت میں جس کا نام رکھا گیا سلسبیل) اور وہ اختیار میں ہوگا جنتی کے ، جہاں جاری کرنا چاہیں کرسکیں گے۔۔۔ اور بعضے کہتے ہیں کہ اس کا پانی حلق سے بآسانی اتر جائے گا اور جلد ہضم ہوجائے گا۔۔۔
Ayah 76:19(اور دور چلائیں گے ان پر) یعنی دورہ کریں گے ابرار اور نیک لوگوں کے گرد (لڑکے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں) اپنے بچپنے کی حالت پر جو کانوں میں بندے بالے پہنے ہوئے ہوں گے۔ (جہاں تم نے دیکھا انہیں) اے دیکھنے والے ! تو (سمجھے ) گا اور گمان کرے گا (ان کو کہ) وہ (موتی ہیں بکھیرے ہوئے) سیپ سے نکالے ہوئے ، تروتازہ کہ ہنوز کسی کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچا ہے اور ان کی رونق اور آبداری میں کچھ کمی نہیں پیدا ہوئی۔
Ayah 76:20(اور جہاں دیکھا تم نے وہاں تو دیکھا آرام) اور ایسی نعمتیں کہ وصف میں نہیں آسکتیں (اور بڑے ملک کو) یعنی ایسی بڑی بادشاہی کو کہ زوال کو اس میں دخل نہیں۔
حدیث میں ہے کہ جنتیوں میں سے کم سے کم رتبہ والا جو اپنے ملک اور بادشاہی پر نظر کرے گا تو ہزار برس کی راہ تک دیکھے گا۔ اور اپنی مملکت کی منتہا اسی طرح دیکھے گا جس طرح اس کی ابتدا کو دیکھتا ہے۔ اور ایک قول کے موافق ملکا کبیرا خواہش جاری کرنا ہے کہ جو کچھ چاہے میسر آئے۔ یا۔۔ داخل ہونے کے وقت ان کے سامنے فرشتوں کا کھڑا ہونا۔ فصول میں ہے کہ نعیما راحت اجسام ہے اور ملکا کبیرا لذت ارواح ہے۔ نعیما گھر کا دیکھنا ہے اور ملکا کبیرا صاحب خانہ کو مشاہدہ کرنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ گھر بےصاحب خانہ کے کچھ کام نہیں آتا۔
Ayah 76:21(ان) جنتیوں (کے بدن پر ہیں سبز ریشم کے کپڑے اور دبیز ریشم) مضبوط (اور پہنائے گئے ہیں کنگن چاندی کے) ۔
یہ اس ارشاد کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ سونے کے کنگن پہنائے گئے ، اس واسطے کہ دونوں کو اکٹھا کرنا اور آگے پیچھے پہننا ممکن ہے ۔
(اور پلایا ان کو ان کے رب نے پاک صاف شراب) جو میلوں اور نجاستوں سے پاک ہے ۔۔ یا۔۔ پاک کرنے والی غل و غش اور کینہ کپٹ سے۔
مقاتل کہتے ہیں کہ طھورا ایک چشمہ ہے بہشت میں جو کوئی اس میں سے پیے گا اس کے دل میں کینہ کپٹ اور کوئی بری صفت نہ رہے گی۔ ویسے بھی جو جنت میں پہنچ جائے گا وہ تمام صفات قبیحہ سے پاک ہو کر ہی جائے گا۔۔۔ بایں ہمہ۔۔ شراب طہور کی یہ خصوصیت ہے کہ جو بھی پی لے اس کا دل مجلی اور مصفی ہوجائے۔ لیکن چونکہ یہ جنت میں جنتیوں ہی کے لیے ہے تو اس سے جنت کے باہر کسی کو بہرہ مند نہ کیا جائے گا۔ اور یہ صرف جنتیوں کے دل کی صفا اور جلا میں اضافے کا باعث ہوگا۔
اور بعضے کہتے ہیں کہ شرابا طھورا دل کو ماسوی اللہ کی طرف میل کرنے سے پاک کرنے والی ہے تاکہ اس کے لقاء اور دیدار سے لذت پائے اور اس کی بقا کے ساتھھ باقی رہے۔
والبقاء فی اللقاء تمام العطا
یعنی : لقاء میں بقا ہی عطائے کامل ہے ۔
جاننا چاہے کہ نہ کوثر جنت میں خاص آنحضرت ﷺ کے واسطے ہے اور اس کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ سورة کوثر میں آئے گا۔
اور چار نہریں ، یعنی پانی کی ، دودھ کی ، شراب کی ، شہد کی ، دوسرے متقیوں کی ہیں۔ اور دو چشمے ان لوگوں کے واسطے ہیں جن کو خوف الہی غالب ہے اور دو چشمے اصحاب یمین کے لیے ہیں۔ اور یہ چاروں چشمے سورة رحمن میں مذکور ہیں۔ اور شراب رحیق یعنی خالص شراب ابرار کے لیے ہے اور چشمہ تسنیم مقربوں کا ہے۔ ان دونوں کا ذکر سورة مطففین میں ہے۔
اور دو چشمے اہل بیت کے واسطے ہیں ، کافور اور زنجبیل کہ اسی کو سلسبیل کہتے ہیں اور شراب طہور بھی انہی کے واسطے ہے۔ اور محقق لوگ اسے شراب شہود کہتے ہیں ، اس واسطے کہ یہ شراب پینے والے کے آئینہ دل کو اسرار قدم کے لوامع انوار سے روشن کر کے ازل اور ابد کے نقوش کے عکس قبول کرنے والا کردیتی ہے ، اور وقت اور حال کو ایسا صاف کردیتی ہے کہ مطلق دوئی کے میل اور غیریت کے شائبے راہ وحدت میں نہیں باقی رہتے۔ اور دورنگی کے رنگ کو بدل کر جام اور شراب کو یک رنگ کردیتی ہے۔
ایک عارف نے کہا کہ اگر کل دار القرار کے بزم نشینوں کو نعمتوں اور سرور کے تختوں پر بٹھا کر شراب طہور چکھائیں گے تو آج خمخانئہ افضال کے بادہ نوشوں کو اس سے کامل حصہ نقد دیا ہے۔ پھر ابرار کو کہیں گے۔۔۔
Ayah 76:22(بیشک یہ ہے تمہارا ثواب) یعنی بزرگیوں کے ساتھ یہ ہے تمہارے واسطے تمہارے کاموں کی جزا (اور تمہاری محنت مقبول ہوئی) یعنی کار خیر میں تمہارا دوڑنا پسندیدہ اور بدلا دینے کے قابل ہے۔
پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے احوال دنیا بیان فرمائے اور اطاعت کرنے والوں کے احوال کو نافرمانی کرنے والوں کے احوال پر مقدم رکھا۔ اطاعت کرنے والوں میں رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ کی امت ہے۔۔ چنانچہ۔۔ اپنے رسول کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ۔۔۔
Ayah 76:23(بیشک ہم نے اتارا تم پر قرآن کو بتدریج) ۔
اس آیت سے مقصود رسول اللہ کے دل کو مضبوط کرنا ہے اور آپ کو تسلی دینا ہے کیونکہ قریش مکہ آپ پر تہمت لگاتے تھے کہ آپ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ کہانت اور جادو ہے ، تو اللہ نے اس کے رد میں فرمایا کہ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے اور اللہ نے اس کلام کو تھوڑا تھوڑا کر کے جو نازل کیا اس میں بھی حکمت بالغہ ہے کہ جس وقت کے لیے جو حکم مقرر ہے اس وقت میں وہ حکم دیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ کفار سے قتال کا حکم ہجرت کے بعد دیا گیا اور ہجرت سے پہلے کفار کی ایذا کے مقابلہ میں آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ جب کوئی صورت حال پیش آئے۔۔
Ayahs 76:24–26(تو انتظار رکھو اپنے رب کے حکم کا ، اور نہ کہا مانو ان میں سے کسی گنہگار۔۔ یا ۔۔ ناشکرے کا) کسی ایسی کا جو تجھ کو گناہ کی طرف بلائے ، جیسے کہ عتبہ نے کہا کہ دعوت اسلام سے باز آؤ کہ میں اپنی تم کو دوں۔۔ یا کسی ایسے ناشکرے کی جو تجھ کو کفر کی طرف بلائے ، جیسے کہ ولید بن مغیرہ ، کہ اس نے کہا کہ اپنے باپ دادا کے دین کی طرف رجوع کرو تاکہ تم کو مالدار کردوں۔
(اور یاد کرو اپنے رب کے نام کو صبح و شام) یعنی ہمیشہ اس کی یاد میں مشغول رہو۔ (اور کچھ رات میں اس کا سجدہ کرو) یعنی اس کے واسطے نماز ادا کرو۔
بعضوں نے کہا ہے کہ بکرۃ فجر کی نماز کا وقت ہے ، اور اصیلا ظہر اور عصر کے وقت کو شامل ہے ، اور کچھ رات سے مغرب و عشا مراد ہے۔ تو معنی یہ ہوئے کہ پانچوں وقت کی نماز ہمیشہ پڑھا کرو۔۔۔
(اور پاکی بولو اس کی زیادہ رات تک) یعنی رات میں تہجد میں مشغول رہو۔ رہ گئے یہ گروہ کفار۔۔۔ تو ۔۔۔
Ayah 76:27(بیشک یہ لوگ پسند کرتے ہیں جلدی والی دنیا کو اور چھوڑ بیٹھے ہیں اپنے پیچھے گراں بار دن کو) کہ وہ قیامت کا دن ہے۔ نہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اسکے وسطے کام کرتے ہیں۔ بس یہی کرتے ہیں جس کا فائدہ انہیں دنیا ہی میں مل جائے۔
یہ کفار یہ نہیں سوچتے کہ اگر انہیں دنیا میں جلد ملنے والی نعمتوں سے محبت ہے تو اس کا بھی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید کو مانیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ۔۔۔
Ayah 76:28(ہم نے پیدا فرمایا انہیں اور مضبوط کیا ان کے جوڑ بند کو) اس کے علاوہ ان کو دنیا میں زندہ رہنے کے تمام اسباب عطا کیے۔ سو اگر وہ ان دنیاوی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں تو اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے سے محبت کریں ، اس کا شکر ادا کریں ، اور اس کی طاعت عبادت کریں۔۔ نیز۔۔ ان کو اس سے ڈرنا بھی چاہیے کہ جو ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے وہ ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے ، تو ان نعمتوں کے زائل ہوجانے کے خوف کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کی عبادت کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ان لوگوں کو آخرت کی دائمی نعمتوں سے محبت کرنی چاہیے اور ان نعمتوں کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنی چاہیے۔ اور اگر وہ دنیا کی جلد ملنے والی عارضی نعمتوں سے محبت کرتے ہیں تو ان نعمتوں کے زوال کے خطرہ سے بچنے کے لیے اور ان نعمتوں کی بقا کے لیے اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنے کے لیے بھی ، ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ وہی عبادت کا مستحق ، واحد حقیقی اور قادر مطلق ہے۔ چنانچہ۔۔۔ اس کا ارشاد ۔۔۔
(اور) فرمان ہے کہ ہماری قدرت کا حال یہ ہے کہ (جب بھی چاہتے ہم ) تو (بدل دیتے ان جیسوں کو خوب) جس کی ایک شکل یہ ہے کہ انہیں دنیا میں مار ڈالیں اور دوسرے عالم میں اسی صورت اور ہیئت کے مانند پھیر لائیں۔ یا۔۔ ان کو ہم ہلاک کردیں اور ان کے سوا فرمانبردار بندے پیدا کردیں۔
Ayahs 76:29–31(بیشک یہ ) سورت۔۔ یا۔۔ اہل بیت کا وہ ایثار جو اس میں مذکور ہے (نصیحت) و عبرت ہے) مومنوں کے واسطے ، تاکہ اس کے مثل عمل کریں اور ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں (تو جس نے چاہا اختیار کیا اپنے رب کی طرف ) پہنچا دینے والی (راہ کو) طاعت خداوندی اختیار کرکے۔ (اور تم لوگ کیا چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) (علم والا) ہے جو ہر شخص کی استعداد اور استحقاق کو جانتا ہے ، اور (حکمت والا ہے) پکا کام کرنے والا ، جو چیز چاہتا ہے حکمت کے ساتھ چاہتا ہے۔ اسی لیے بہ تقاضہ حکمت۔۔۔
(داخل کرے جسے چاہے اپنی رحمت میں) ہدایت اور توفیق کے ساتھ۔ یا۔۔ بہشت میں اپنے فضل و کرم سے۔ (اور ظالموں) یعنی مشرکین (کے لیے تیار کر رکھا ہے دکھ والا عذاب) ہمیشہ رہنے والا دردناک۔