76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsسراج البیان

Ayahs 76:1–2

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ زمانہ میں سے انسان پر ایک ایسا وقت آچکا ہے (جب) کہ وہ کوئی چیز نہ تھا کہ اس کا ذکر کیا جاتا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو دورنگی (ملی جلی) بوند سے بنایا جسے ہم ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتے رہے پھر ہم نے اس سنتا دیکھتا (ف 1) کردیا

اپنی حقیقت کی طرف دیکھو 2: انسان جو کبر و غرور کا پیکر بن جاتا ہے ۔ اور یہ سمجھتا ہے ۔ کہ میں اب دنیا میں کسی شخصیت کا محتاج نہیں ہوں ۔ اس کی اصل حقیقت کی جانب متوجہ فرمایا ہے ۔ آج جو یہ بغض وعناد کا مظاہر کرتا ہے ۔ اور حق وصداقت کی آواز کو سن کر اکڑا ہوا گزرجاتا ہے اسے معلوم بھی ہے ۔ کہ اس کی پیدائش میں کن عناصر کو دخل ہے ؟ کیا یہ وہی انسان نہیں ہے جس کو ایک ناپاک قطرہ آب سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور جو اس کا سمجھ بوجھ اور شمع بصر کی قوتیں دے رکھی ہیں تو اس لئے کہ اس کو مکلف بنائیں ۔ مگر یہ ہے ۔ کہ ان کا غلط اور ناجائز استعمال کرتا ہے ۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

آنے سے راہ دکھائی یا شکر گزار ہے یا نہ (ف 2) شکرا

عموم فیضان 2: یعنی جس اللہ کا آفتاب ساری دنیاکور روشن کرتا ہے ۔ جس طرح اس کا ابرسیت وبلند زمین کے ہر حصہ پر برستا ہے ۔ اور جس طرح ہوا ہے پتنے اور نفس نفس کت پہنچتی ہے ۔ اسی طرح جہاں تک نظام رشدوہدایت کا تعلق ہے ۔ وہ سب کے لئے عام ہے ۔ اس میں چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کی کوئی تمیز نہیں ۔ ہر طبقے اور ہر نوع کا انسان اس کی برکات سے بہرہ مند ہوسکتا ہے ۔ نبوت آفات سارے افق انسانیت پر چمکتا ہے ۔ اور وحی والہام کی بارش ہر خطہ اراضی پر برابر ہوتی ہے ۔ اور اسی طرح فیوض و انعامات کی ہوائیں ہر شخص کے قلب و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں ۔ اب یہ ان لوگوں کا کام ہے ۔ اور ان کا اپنا فرض ہے کہ اس سے استفادہ کریں اور سعادات دارین حاصل کریں ۔ یا گمراہ ہوجائیں اور پستی اور ذلت کو خرید لیں ۔ یعنی دنیا میں تو ان کو ہر طرح کی آزادی میسر تھی ۔ مگر انہوں نے آزادی کو مصیبت کو سے اور جزائم پیشگی کے لئے استعمال کیا ۔ اس لئے آج ان کی آزادی جان چھین جاتی ہے ۔ اور ان کے گناہوں اور ان کی مصیبتوں کو ان کیلئے زنجیروں اور طوقوں کی شل میں تبدیل کردیا جاتا ہے کاین ۔ پیالہ جو معمور ہو ۔ اور چھلک رہا ہے ۔ جن کے کون مستحق ہیں ؟ کافور کی آمیزش کے معنے یہ ہیں کہ شراب کی ترشی اور سفیدی کافور کی طرح ہوگی ۔ اور یا یہ ایک مخصوص چشمہ کا نام ہے ۔ بہرحال غرض یہ ہے ۔ کہ نیک اور ابرار لوگ جنہوں کے اپنے فرائض کو باحسن وجوہ ادا کیا ہے ۔ جو یوم الحساب کی سختیوں سے خائف رہے ہیں اور جن کے دل میں ہے بنی نوع کے لئے جذبات محبت اور ہمدردی موجزن رہے ہیں ۔ جنہوں نے اخلاص مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلایا ہے ۔ آج ان نعمتوں کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ ان کے لئے چشمہ کافور کی شراب ہے ۔ جنت اور باغ ہے ۔ زیبا اور قاقم ہے ۔ ریشم اور پورنیان ہے ۔ یہ مسہریوں پر قدام اور وقام کے متمکن ہیں ۔ حل لغات :۔ امشاج وتحلوط ۔ سلسلا ۔ زنجریں کے سلسلہ کی جمع ہے ۔ الحلالا جمع غل بمعنی طوق آہنی ۔
Ayahs 76:4–9

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

البتہ نیک لوگ وہ پیالہ پئیں گے ۔ جس کی ملونی کافور ہے

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پیتے ہیں اس کی نالیاں (اپنے ڈیروں میں) لے جاتے ہیں

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیل پڑے گی

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور باوجود احتیاج خدا کی محبت فقر اور یتیم قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں تو محض اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے نہ ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ (ف 1) شکر گزاری

کوائف جنت 2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی ہے ۔ اور ٹہنیوں میں لچک وہ جب خوش ہو ۔ اور اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہے ۔ تو آپ ہی بتائیے کہ وہ اظہار کتنا خوبصورت کس درجہ ماحول اور کس درجہ حیرت انگیز ہوگا ۔ جنت مقام رضا ہے ۔ اس لئے یہاں کی یہ چیزیں نظاط اور مسرت کا ظہور ضروری ہے ۔ بعض لوگوں نے جنت کی ان کوائف کو سن کر اعتراض کیا ہے ۔ یہ کیسی جنت ہے جس میں یہ تمام وہی مزخرفات ہیں جو دنیا میں ہیں ؟ ان کو اولاً یہ معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ دنیا کی چیزوں اور انکا مقابلہ ہی کیا ہے ۔ یہ عارضی اور فانی وہ دائمی اور ابدی ، یہ ناقص وہ کامل ان میں تکدرت دینوی کا اندیشہ ان میں بالکل نہیں ۔ ثانیا یہ کیا ضورت ہے ۔ کہ نجات کے لئے ایسی دنیاکا ہونا زیبا ہو ۔ جہاں اس دنیا کی خواہات حد سے دنیا کی ضروریات نہ ہوں ۔ یہ خیال محض رہبانیت پر مبنی ہے ۔ ورنہ جہاں تک انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر انسان دل کی گہرائیوں کے ساتھ یہ چاہتا ہے ۔ کہ وہ ایک ایسی دنیا میں چلا جائے ۔ جہاں غم نہ ہو ۔ فکرواندیشہ نہ ہو ۔ جہاں اپنے عزیزوں کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ جہاں ہمیشہ جوان رہیں ۔ جہاں تازگی اور مسرت کے پورے لوازم ہر آن موجود رہیں ۔ اور جہاں روح اور جسم کی تمام خوشیاں مہیا ہوں ۔ قرآن کہتا ہے ایسی دنیا موجود ہے ۔ اور اس کے حصول کا طریقہ یہ ہے ۔ کہ اس دنیا میں اپنے ارادوں اور اپنی خواہشات کو اللہ کے تابع کردہ نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ اس دنیائے مسرت واجتہاج کو وہ تمہارے تابع کردیگا ۔ کہیے اس میں کوئی اعتراض کی بات ہے ۔ اصل میں یہ اعتراضات اس لئے نہ قابل التطبات ہیں کہ ان میں انسانی فطرت کی صحیح ترجمانی نہیں کی گئی ۔ یہ اوپر سے دل کی پیداوار ہیں ۔ اور ان کا مقصد یہ ہے ۔ کہ یہ معلوم کرلیا جائے ۔ کہ کیا واقعی اس طرح ہونے والا ہے ؟۔ حل لغات :۔ بانیۃ ۔ جام ۔ برتن ۔ ظروف اکواب ۔ کو ب کی جمع ہے ۔ بےٹونٹی اور دستے کے آب خورے تحواریرمن خفیہ یعنی وہ آنجورے ، چاندی اور شیشے کے مرکب سے بنائے جائیں گے ۔ زنجبیلا ۔ سونٹھ ۔ عرب اس مشروف کو پسند کرتے تھے ۔ جس میں سونٹی کی آمیزش ہو ۔ کیونکہ اس میں ذرا خوشگوار قسم کی تلخی پیدا ہوجاتی ہے ۔ سلسبیلا ۔ خوشگوار بہشت کیا یک چشمہ کا نام ہے ۔ پانی کی صفائی اور روانی کی مناسبت سے اس کا نام رکھا گیا ہے محاراون ۔ خدمت کے لئے ایسے بچے جو ہمیشہ بچے رہیں ۔ عام طور پر ان کو اس لئے پسد کیا جاتا ہے کہ یہ کام چشتی اور پھرتی سے کرتے ہیں ۔ مگر بڑوں کی طرح حریص اور طماع نہیں ہوتے ۔ نیز معلوم ہونے کی وجہ سے وہ خدمات کے لئے اس لئے بھی موزوں ہیں ۔ کہ ان کے آنے جانے میں اہل خانہ کو کوئی تکلف نہیں ہوتا ۔ لولورا منشور ۔ یعنی یہ خوبصورت بچے اہل جنت کے کاموں میں ابوہر میں کچھ اس طرح بکھرے ہوئے گے کہ ان پر موتیوں کا دھوکہ ہوگا ۔ حل لغات :۔ النذر ۔ فرائض یا واجبات ۔ لفظ نذر وفرائض ماجہات کے معنوں میں اس لئے استعمال کیا ہے ۔ تاکہ یہ معلوم ہو ۔ کہ اللہ کے پاکباز بندوں کی نگاہوں میں ان ادا کرنا کتنا ضروری ہے ۔ تصریۃ ۔ تروتازگی زمھریر ۔ جاڑا ۔ سردی کی سختی ؟
Ayahs 76:10–24

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم اپنے رب سے منہ بنانے والے تیوری چڑھانے والے دن سے ڈرتے ہیں

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو خدا نے بھی انہیں اس دن کی بڑائی سے بچا لیا ۔ اور تازگی اور خوشحالی انہیں پہنچائی

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور باغ اور ریشمی لباس انہیں ان کے صبر کا بدلہ دیا

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہاں تختوں پرت کیے لگا کر بیٹھیں گے ۔ نہ وہاں دھوپ دیکھیں گے اور نہ جاڑا

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور ان پر سائے جھک رہے ہیں ۔ اور اس کے میوے نزدیک نزدیک آرہے ہیں

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور اس پر چاندی کے برتن اور شیشہ کے آب خوروں کا دور چلے گا

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

یہ شیشے چاندی کے ہیں پلانے والوں نے ان کا اندازہ کر رکھا ہے

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ہاں انکو ایسے پیالے بھی پلائے جائینگے جن کی ملونی سونٹھ ہے

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہمیشہ رہنے والے نوجوان لڑکے پھرتے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو بکھرے ہوئے موتی سمجھے

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو وہاں دیکھے تو بڑی نعمت اور بڑی بادشاہت دیکھے

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان کے اوپر کی پوشاک سبز ریشمی باریک اور گاڑھے ریشمی کپڑے ہیں اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ اور ان کا رب انہیں پاک شربت پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا بدلہ ہے ، اور تمہاری کوشش قابل شکر گزاری ہے

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم نے تجھ پر آہستہ آہستہ قرآن نازل کیا

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کے لئے صبر کر اور ان میں سے کسی گنہگار (ف 1) یا ناشکر گزار کی نہ مان

ف 1: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ منکرین محض اس لئے قرآن کی برکات اور حق وصداقت کے انوار سے محروم ہیں کہ یہ اس نقطہ کو اس تسبہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جو اس سے زیادہ بیش قیمت ہے ۔ اور زیادہ واقعی ہے ان لوگوں کو دنیائے عاجل کی چمک دمک نے کچھ ایسا مبہوت کررکھا ہے ۔ کہ انکی نظریں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتیں ۔ یہ مادیت کے عارضی لذت کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ اور ان کی رائے میں جو کچھ ہے یہیں ہے ۔ اس کے اور وہاں مشکو ہے یا بعیداز عقل ۔ حالانکہ اس دنیا کا حس مٹنے کو ہے ۔ اس کا سارا نظام ضائع ہونے کو ہے ۔ اور جرم کھلنے کو ہے ۔ پھر سوائے عقبیٰ اور عالم آخرت کے کوئی چیز قطعی اور یقینی نہیں ہوئی ۔ فرمایا ۔ کیا یہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے ان کو پپیدا کیا ان کے جوڑ بند مضبوط کئے ہیں ۔ تو کیا محض عبث اور بیکار کیا ان کی تخلیق کے پس پردہ کوئی غرض اور مقصد کار فرما نہیں ؟ یاد رہے ۔ کہ اگر انہوں نے ہمارے پیغام کو ٹھکرایا ۔ تو جس طرح ان کو ہم نے کتم عدم سے نکالا ہے ۔ اور وجود کے شرف سے نوازا ہے ۔ اسی طرح ان کو مٹاکر ان کی جگہ دوسری قوم کو آباد کیا جاسکتا ہے ۔ یہ قرآن تذکر اور صادر نصیحت ہے ۔ جو شخص چاہے اس کی وساطت سے خدا کی راہ پر گامزن ہوجائے ۔ مگر مشکل یہ ہے ۔ کہ یہ میلان خود موقوف سے ۔ اللہ کی توفیق پر اور ان کی مشیت پر ۔ باقی اگلے صفحہ پر حل لغات :۔ شرابا طھور ۔ ایسی شراب جو اپنے اوصاف کے اعتبار سے پاکیزہ ہو ۔ جو ذوق و وجدان کو بیدار کرے ۔ مگر دماغ وتغلب پر قبلہ نہ لے ۔ اور بےہودہ گوئی پر آمادہ نہ کرے یوما ثقیلا ۔ ایک اہم دن ۔
Ayahs 76:25–31

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کر

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کچھ بات میں اسے سجدہ کر اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کر

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا چاہتے ہیں اور ایک بھاری دن کو اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑتے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑوں کو مضبوط کیا ۔ اور جب ہم چاہیں ان کی مانند اور لوگ بدل لائیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے پس جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف راہ پکڑے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور جب تک اللہ نہ چاہے تم کوئی بات نہیں چاہ سکتے بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اور جو ظالم ہیں ان کے لئے دکھ (ف 2) دینے والا عذاب تیار کیا ہے

ف 1: وہ علیم و حکیم خدا ہے ۔ جس کو پسند کرتے ۔ اپنی آغوش رحمت میں لے لے ! اور ظالموں کے لئے جو کہ ان حقائق کے منکر ہیں ۔ اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے