Ayah 76:1ھل اتی . استفہام تقریری ہے (قَدْ کے معنی میں ھَلْ استعمال کیا گیا ہے) بیشک آچکا ہے ‘ گزر چکا ہے۔
علی الانسان . الانسان سے عام انسان مراد ہے یا حضرت آدم (علیہ السلام) ۔
حین . زمان کا ایک محدود ٹکڑا (معین حصہ) حین ہے۔ (بیضاوی)
قاموس میں ہے حین۔ مبہم وقت جس کا اطلاق ہر زمانہ پر ہوتا ہے لمبی مدت ہو یا چھوٹی بعض کا قول ہے کہ حین چالیس سال یا ساٹھ سال یا ایک ماہ یا دو ماہ کے لیے مخصوص ہے۔
من الدھر . الدھر غیر محدود مدت۔ قاموس میں ہے : دھر طویل زمانہ یا ایک ہزار برس۔ میں کہتا ہوں یہی
حضرت آدم کی عمر کی مدت تھی۔ صحاح میں ہے کہ دہر اصل میں عالم کی کل عمر۔ آغاز آفرنیش سے اختتام تک ہے اور آیت : ھل اتٰی علی الانسان حین من الدھر میں (الدھر) اسی معنی پر محمول ہے پھر (عرف عام میں) بڑی طویل مدت کو دہر کہا جانے لگا۔ دہر فلاں ‘ یعنی فلاں شخص کی مدت زندگی۔
لم یکن شیئا مذکورا . یہ الانسان کی حالت کا بیان ہے یعنی اس وقت انسان کا نہ ذکر کیا جاتا تھا ‘ نہ اس کو
کوئی پہچانتا تھا ‘ نہ اس کا نام معلوم تھا ‘ نہ مقصد یا یہ جملہ حِیْنٌ کی صفت ہے اور (موصوف کی طرف راجع ہونے والی) ضمیر محذوف ہے یعنی ایسا وقت تھا کہ اس وقت میں انسان کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ بہرحال کلام کا اقتضاء ہے کہ انسان کوئی چیز تو تھا (خواہ قابل ذکر چیز نہ تھا) ورنہ اس وقت بیتنے کا کیا مطلب۔ کلام کا اقتضاء یہ بھی ہے کہ انسان اس وقت مذکور نہ تھا بلکہ فراموش کردہ (یعنی متروک الذکر) تھا۔ اسی لیے اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اگر الانسان سے مراد آدم ہوں تو حین سے مراد ہوگا وہ وقت جب گارے سے اللہ تعالیٰ نے انسان کی مورتی بنا کر مکہ اور طائف کے درمیان چالیس برس تک بغیر روح کے ڈال رکھی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : پھر (پتلا بنانے سے) ایک سو بیس بر س کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم کو (زندہ) بنایا اور اگر الانسان سے مراد عام انسان ہو تو حین سے مراد ہوگی وہ چار ماہ کی مدت جس میں نطفہ ‘ علقہ اور مضغہ کی صورت میں انسان ہوتا ہے اور وہ چھ ماہ جو کم سے کم حمل کی مدت ہے یا دو سال جو زیادہ سے زیادہ حمل کی مدت ہے۔ بعض لوگوں نے بیش از بیش مدت حمل سات سال بتائی ہے بہرصورت اس تشریح میں کچھ سہل انگاری سے کام لیا گیا ہے کیونکہ مذکورہ اوقات انسان پر نہیں گزرتے بلکہ گارے پر (گزرے) یا نطفہ اور علقہ وغیرہ پر گزرتے ہیں اور کلام چاہتا ہے کہ اس وقت انسان ہو کیونکہ انسان کے لیے دوسرے اوصاف کے ثبوت سے پہلے اس کا انسان ہونا ضروری ہے لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ حین سے مراد وہ دور لیا جائے جب کہ انسان اعیان ثابتہ (حقائق کونیہ یا درجۂ تقرر) کے مرتبہ میں تھا۔ اعیان ثابتہ کا مرتبہ صرف صوفیاء نے پہچانا ہے ‘ ہمارے قول کی تائید حین کی تنوین سے بھی ہوتی ہے جس کے معنی تکثیر کے ہیں یعنی بہت بڑا وقت گزرا کہ آدمی کچھ نہ تھا۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو یہی آیت : لم یکن شیءًا مذکورًا پڑھتے سنا تو فرمایا کہ کاش یہ (حالت) پوری ہوئی ہوتی۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ کاش انسان ہمیشہ اسی ناقابل ذکر دور میں باقی رہتا۔ حضرت ابن عمر ؓ کا یہ قول صوفیہ کی تشریح کے زیادہ قریب ہے اور سابق تفسیر سے زیادہ میل نہیں کھاتا۔ صوفیہ نے اس آیت کی ایک اور دقیق تشریح کی ہے کہ انسان پر یعنی صوفی پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ناقابل ذکر چیز ہوتا ہے۔ پہلے انسان اور صفات انسانی سے متصف ہونے کی حیثیت سے اس کا ذکر کیا جاتا تھا لیکن مرنے سے پہلے مرجانے اور فناء کامل کے درجہ میں پہنچ جانے کی وجہ سے وہ اپنی دانست میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں رہتا۔
حضرت مجدد صاحب (رح) نے فرمایا تھا : بیشک اے میرے ربّ ! انسان پر ایک ایسا وقت گزرا کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ‘ نہ اس کی ذات تھی ‘ نہ نشان ‘ نہ شہود ‘ نہ وجود پھر اس دور کے بعد اگر تو چاہتا ہے تو وہ تیری ہی حیات سے زندہ اور تیری ہی بقاء سے باقی اور تیرے ہی اخلاق سے موصوف بالخلق ہوجاتا ہے بلکہ تیری مہربانی اور قدرت سے وہ عین فنا کی حالت میں بھی باقی بن جاتا ہے اور عین بقاء کی حالت میں تجھ سے جدا نہیں ہوتا۔
حضرت مجدد صاحب (رح) کا مذکورہ بالا قول پھر اگر تو چاہتا ہے تو وہ ہوجاتا ہے ٗگویا حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْر کی تفسیر ہے من الدھر میں من ابتدائیہ ہے اور الدھر کا شمار اللہ کے ناموں میں کیا جاتا ہے۔ صاحب قاموس نے یہی لکھا ہے۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے مجھے ابن آدم دکھ دیتا ہے ‘ دہر کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں ہی دہر ہوں ‘ میرے ہی ہاتھوں میں امر ہے۔ رات دن کی لوٹ پلٹ میں ہی کرتا ہوں (گویا اللہ کی طرف سے انسان پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ وہ ناقابل ذکر ہوجاتا ہے) ۔
Ayah 76:2انا خلقنا الانسان . اگر انسان سے مراد آدم ہو تو اس جگہ اولاد آدم مراد ہوگی۔ ورنہ مطلقاً آدمی کوئی ہو (علاوہ
حضرت آدم (علیہ السلام) کے) ۔
من نطفۃ امشاج . امشاج جمع ہے مَشِیْجٌ یا مَشْجٌ مفرد ہے۔ یہ لفظ مَشَجَ الشئ سے ماخوذ ہے مشج
مخلوط کردیا گیا امشاج کو نطفہ کی صفت اس لیے بنایا کہ نطفہ میں مرد اور عورت کا پانی مخلوط ہوتا ہے اور ہر نطفہ اجزاء ‘ خو اص اور رقت و توام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔
بعض نے کہا کہ امشاج مفرد ہے ‘ اس کا معنی ہے مخلوط یعنی مرد اور عورت کے پانی کا مخلوط مجموعہ اس صورت میں امشاج بروزج اعشار ہوگا۔
برمۃ اعشارٌ۔ دس آدمیوں سے اٹھنے کے قابل پتھر کی دیگ۔ قتادہ نے کہا : امشاجٌ کا معنی ہے اطوار (اور مضاف محذوف ہے) یعنی مختلف طور والا نطفہ کیونکہ نطفہ ہی علقہ بنتا ہے پھر مضغہ بنتا ہے پھر تکمیل تخلیق تک مختلف اطوار سے گزرتا ہے۔
نبتلیہ . یہ الانسان کی حالت کا اظہار ہے لفظ ابتلاء (آزمائش) سے مجازاً مراد ہے۔ حال کی تبدیلی اور ایک حال سے
دوسرے حال کی طرف انتقال یا حال مقدرہ ہے یعنی ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے اس کی آزمائش کا اندازہ کرتے ہوئے بنایا۔
فجعلنہ سمیعا بصیرا . اسی لیے ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنایا تاکہ دلائل کو سنے اور قدرت کی
نشانیاں دیکھنے کی اس میں استطاعت ہو۔ امتحان اصل علت ہے اور سمیع وبصیر بنانا مثل نتیجہ کے ہے اسی لیے فاء عاطفہ اس پر داخل کی گئی ہے اور خَلَقْنَا پر عطف کیا گیا۔
Ayah 76:3انا ھدینہ السبیل . ہم نے اسکے لیے راستہ کھول دیا یعنی پیغمبر بھیج کر ‘ کتابیں اتار کر اور (انفسی و آفاقی)
دلائل قائم کر کے ‘ اللہ کے قرب ‘ اللہ کی خوشنودی اور اللہ کی جنت تک پہنچنے کا راستہ انسان کے لیے کھول دیا۔ ہدایت سے اس جگہ مراد ہے راستہ دکھانا ‘ مقصود تک پہنچانا مراد نہیں ہے اس کے برخلاف آیت : اھدنا الصراط المستقیم میں مقصد تک پہنچانا مراد ہے۔
اما شاکرا و اما کفورا . شاکرا اور کفورا ‘ ھدینہ کی ضمیر۔ ہ۔ سے حال ہیں۔ یعنی نسان یا ہماری ہدایت
کا شکر گزرا ہوگا اور اس کو قبول کرلے گا یا کفران نعمت اور ناشکری کرے گا۔ دونوں باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی بعض لوگوں نے السبیل سے حال قرار دیا ہے۔ یعنی ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا یا شکر گزاری یا ناشکری کا راستہ۔ راستہ کو شاکر یا کافر کہنا مجازی طور پر ہے اس تردید (یا شکر یا کفر) کا تعلق ہدایت سے نہیں ‘ راستے تو دونوں دکھائے ‘ شکر کی حالت بھی بتائی اور ناشکری کی بھی (ایسا نہیں کہ کسی کو ایک اور کسی کو دوسری دکھائی ہو) بلکہ تردید کا تعلق راستہ سے ہے ‘ راستہ یا شکر کا ہے یا ناشکری کا۔
بعض لوگوں نے تردید کا تعلق ہدایت سے سمجھ کر شبہ کیا تھا کہ حق کے راستہ کو حق دکھانا اور باطل کے راستہ کو باطل بتانا باہم لازم و ملزوم ہے۔ اس صورت میں تردید کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔
تردید کا مفہوم تو یہ ہوگا کہ ہم نے شکر اور ناشکری دونوں میں سے ایک راستہ بتادیا دوسرا نہیں بتایا اور انسان اس پر چل نکلا یا باطل کا راستہ دکھا دیا اور انسان اس پر چل دیا۔ اس توضیح پر لازم آئے گا کہ بعض انسان کی تقدیری تخلیق باطل راستہ چلنے پر ہوئی ہے۔
ہم نے جو السبیل سے شاکرًا اور کفورًا کو حال قرار دیا ہے اس پر مذکورہ بالا سوال وارد نہیں ہوتا (کیونکہ اللہ نے انسان کو راستہ تو دونوں دکھائے لیکن راستہ کی دو قسمیں ہیں یا شکر کا یا ناشکری کا۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کلام شرطیہ ہے اِمَّا مرکب ہے اِنْ (شرطیہ) اور مَا (زائد) سے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ انسان شاکر ہو یا کافر بہرحال ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا اور کوئی عذر اس کے لیے باقی نہیں رکھا۔
کافر (اسم فاعل ‘ ناشکرا) کی جگہ کفور (مبالغہ ‘ بڑا ناشکرا) استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر شکر گزار (کامل شکر گزار نہیں ہوتا) کسی نہ کسی قسم کی ناشکری اس میں ضرور پائی جاتی ہے تو اب اسکے مقابل بڑا ناشکرا ہوسکتا ہے (کچھ ناشکرا تو وہ خود بھی ہے) یا صرف فواصل آیات کی رعایت سے کفورًا فرمایا۔ جملہ انا ھدینٰہ السبیل مستانفہ ہے۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کردیا اور اسکو سمیع ‘ بصیر بنا دیا تو پھر انسان نے کیا کیا ‘ اور خدا نے اسکے ساتھ کیا کیا ‘ اس موہومی سوال کو دور کرنے کیلئے انا ھدینٰہ فرمایا۔
Ayah 76:4انا اعتدنا للکفرین سسلسلا واغللا و سعرا . زنجیریں ہاتھوں میں ‘ طوق گردنوں میں اور بہت بھڑکتی
ہوئی آگ کافروں کے لیے ہم نے تیار کر رکھی ہے۔ یہ پورا جملہ اور اس کے بعد والا جملہ ان الابرار یشربون .... دونوں جملے مستانفہ ہیں۔ شکر گزاروں اور ناشکروں کو کیا ملے گا ؟ یہ ایک سوال پیدا ہوتا تھا اس کا جواب ان جملوں میں دے دیا۔ کافروں کا ذکر تو شاکروں کے بعد کیا تھا ‘ مگر ان کی سزا کا تذکرہ مؤمنوں کی جزاء سے پہلے کیا کیونکہ عذاب سے تخویف ‘ نصیحت پذیری کے لیے (بشارت سے) زیادہ مفید ہوتی ہے۔ پھر اہل ایمان کے تذکرہ سے کلام کا آغاز اور انہی کے کلام پر ذکر کا خاتمہ یوں بھی بہت اچھا ہے۔
Ayah 76:5ان الابرار یشربون . ابرار۔ بَرٌّ کی جمع ہے جیسے ارباب ‘ ربٌّ کی یا بارٌّ کی جمع ہے جیسے اشھار ‘ شاھد کی۔
ابرار سے مراد ہیں وہ اہل ایمان جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کے فرمانبردار ہیں۔ برٌّ مصدر ہے۔ برٌّ کا معنی ہے اچھا سلوک اور خیر ‘ اطاعت اور بھلائی میں وسعت (قاموس) یہ تمام اوصاف مؤمنوں کے ہیں۔
من کاس . جوہری نے صحاح میں کہا : کاس ‘ شربت (پانی وغیرہ) سے بھرے ہوئے برتن کو کہا جاتا ہے اور شربت
کے خالی برتن کو بھی کاس کہتے ہیں ‘ دونوں طرح اس لفظ کا استعمال ہے۔ کاسٌ خال بھی کہا جاتا ہے اور شربت کاسًا اور شربت کاسًا طیبۃً بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے پیالہ پیا۔ یعنی شربت سے بھرا ہوا میں نے پاکیزہ پیالہ پیا یعنی پاکیزہ شربت۔
قاموس میں ہے کاس پینے کا برتن یا پینے کا برتن بشرطیکہ اس میں پینے کی چیز موجود ہو پینے کی کوئی چیز ہو کوئی تخصیص نہیں ‘ نہ شراب کی ‘ نہ شہد کی ‘ نہ دودھ کی ‘ نہ پانی کی۔ شاید آیت میں برتن مراد ہے اور مِن ابتدائیہ ہے یعنی ابرار پینے کی چیزیں پینے کے برتن سے پئیں گے۔ شراب ‘ شہد ‘ دودھ ‘ پانی کچھ بھی ہو یہ بھی احتمال ہے کہ پینے کی چیز مراد ہو خواہ حقیقتاً یا بطور مجاز جیسے ظرف بول کر مظروف مراد ہوتا ہے۔ جری النھر میں نہر سے پانی مراد ہوتا ہے۔ اس وقت من کاسٍ میں مِنْ زائد ہوگا یا تبعیضیہ (کچھ شربت) یا بیانہ (کیا پئیں گے ‘ شربت) یہ بھی ممکن ہے کہ مشروب سے بھرا ہوا برتن مراد ہو اور من ابتدائیہ ہو۔
کان مزاجھا . مزاج ملائی جانے والی چیز ضمیر کاس کی طرف راجع ہے۔ ملائی جانے والی چیز کاس کے ساتھ حقیقتاً مخلوط
ہوگی اگر کاس بمعنی مشروب ہو یا مجازاً مخلوط ہوگی اگر کاس سے برتن مراد ہو یعنی برتن کے اندر والے مشروب کے ساتھ ملی ہوئی چیز۔ جیسے اذا نزل السماء بارض قوم رعینا یعنی کسی قوم کی زمین پر جب مینہ برستا تو ہم اس کو یعنی اس سے پیدا ہونے والی گھاس کو چراتے ہیں۔
کافورا . قتادہ نے کہا : اہل جنت کے لیے کافور شربت میں ملایا جائے گا اور مشک کی مہر لگائی جائے گی۔ عکرمہ
نے کہا چکھنے میں اس کی خوشبو کافور کی طرح ہوگی جیسے آیت : حتی اذا جعلہ نارًا میں کنارٍ (آگ کی طرح) مراد ہے (یعنی عکرمہ کے نزدیک کافور شربت میں آمیختہ نہ ہوگا بلکہ کافور اً منصوب بحذف حرف جر ہے یعنی کافور کی طرح پیتے وقت خوشبو ہوگی) ۔ کلبی نے کہا : جنت کے ایک چشمہ کا نام کافور ہے جیسے آیت : و مزاجہ من تسنیم آئی ہے۔ تسنیم ایک چشمہ کا نام ہے۔
Ayah 76:6عینا . یہ کافور سے بدل ہے بشرطیکہ کافور کو چشمہ کا نام قرار دیا جائے۔ یا من کاس کے محل (مفعول) سے
بدل ہے اور مضاف مجذوف سے مراد یہ ہے کہ جنتی جام پئیں گے ‘ یعنی چشمہ کا پانی یا اختصاص کی وجہ سے عینًا منصوب ہے یا کوئی فعل مدح محذوف ہے اس کا مفعول ہے یا کوئی ایسا فعل محذوف ہے جس کی تفسیر آئندہ فعل کر رہا ہے۔
یشرب بھا . بھا مفعول ہے باء زائد ہے ‘ اس کو پئیں گے یا یشرب لذت کے معنی کو متضمن ہے اور یلتذُّ کے
مفعول پر باء آتی ہے اس لیے یشرب کے مفعول پر بھی باء لائی گئی یا ممزوجًا محذوف ہے۔ بِھَا اس سے متعلق ہے یا باء من ابتدائیہ کے معنی میں ہے ‘ اس سے پئیں گے۔
عباد اللہ . اللہ کے پرستار جنہوں نے خالص اطاعت کے ساتھ اللہ کی عبادت کی۔
یفجرونھا تفجیرا . یعنی اللہ کے پرستار جنت کے اندر اپنے مکانوں اور محلات میں جہاں چاہیں گے آسانی
کے ساتھ اس چشمہ (کی شاخ) کو بہا کرلے جائیں گے۔ عبداللہ بن احمد نے کتاب الزہد میں ابن شوذب کا قول نقل کیا ہے کہ اہل جنت کے پاس سونے کی ٹہنیاں ہوں گی ‘ ان ٹہنیوں کی مدد سے چشمہ کا پانی جہاں چاہیں گے لے جائیں گے۔ پانی ان کے حکم کے تابع ہوگا۔
Ayah 76:7یوفون بالنذر . یہ جملہ مستانفہ ہے (گویا یہ) جواب ہے ایک فرضی سوال کا کہ ابرار کو ایسا ثواب کیوں ملے گا
ابرابر کے کیا اوصاف ہیں ‘ اس صورت میں یہ ابرار کی تعریف ہو جائیگی کہ وہ فرائض ادا کرتے ہیں ‘ اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ ممنوعات سے پرہیز کرتے ہیں ‘ بندوں پر رحم کرتے ہیں اور مرضی مولیٰ کی طلب میں خلوص کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں ‘ یہ ابرار کے اوصاف ہیں اور یہ مرتبہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب نفس کو فنا کردیا گیا ہو اور بری خصلتیں دور ہوگئی ہوں۔ رہے اہل قرب تو انکے اوصاف ان سے بھی اونچے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یوفون سے کلام سابق کی علت بیان کی گئی ہو۔ ابرار پر بہشت میں انعامات مذکورہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں وہ نذر پوری کرتے تھے ‘ الخ نذر کا لغوی معنی ہے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا ‘ صحاح۔ اور جب ابرار غیر واجب (مستحب) امور کو اپنے اوپر واجب کرتے اور ان کو ادا کرتے ہیں تو نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج ‘ عمرہ ‘ جہاد اور دو سرے فرائض الٰہیہ تو بدرجۂ اولیٰ ادا کرتے ہی ہیں۔ شاید قتادہ کے قول کا یہی مطلب ہے۔ قتادہ نے آیت کی تشریح میں کہا تھا کہ اللہ نے جو فرائض ان پر مقرر فرمائے ہیں ‘ نماز ‘ زکوٰۃ ‘ حج ‘ عمرہ وغیرہ ان کو وہ ادا کرتے ہیں۔
فصل : وجوب کا بیان
جب نذر کا معنی ہے غیر واجب کو اپنے اوپر واجب بنا لینا ‘ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نذر کے انعقاد کے لیے دو شرطیں ضروری ہیں : 1) جس چیز کی نذر مانی جائے وہ طاعت ہو (معصیت نہ ہو) اگر طاعت نہ ہوگی تو اس قابل نہ ہوگی کہ اس کو واجب بنایا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : نذر وہی ہوتی ہے جو خالص مرضی مولیٰ کے لیے ہو۔ یہ حدیث امام احمد (رح) نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت سے بیان کی ہے۔ 2) پہلے سے اللہ کی طرف سے واجب کردہ نہ ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دو شرطیں اور بھی ہیں :
1) وہ عبادت مقصودہ ہو (اس لیے عبادت غیر مقصودہ جیسے وضوء ‘ طہارت جسم للصلٰوۃ کی نذر صحیح نہیں) ‘ 2) اس قسم کا کوئی دوسرا واجب اللہ کی طرف سے موجود ہو۔ جمہور کے نزدیک یہ دونوں شرطیں ضروری نہیں۔ دیکھو اعتکاف کی نذر کے درست ہونے پر اجماع ہے باوجودیکہ اعتکاف خود عبادت مقصودہ نہیں ہے بلکہ اس کا عبادت ہونا نماز کے انتظار کے لیے ہے ‘ بجائے خود یہ عبادت نہیں (مسجد میں مقیم رہنا ‘ بجائے خود کوئی عبادت نہیں) پھر کسی قسم کا دوسرا اعتکاف اللہ کی طرف سے واجب بھی نہیں (امام صاحب کی قائم کردہ دونوں شرطیں اعتکاف نذر میں مفقود ہیں) ۔ اسی لیے امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ نذر کی وجہ سے اس عبادت کا وجوب ہوجاتا ہے جو پہلے (اللہ کی طرف سے) واجب نہ تھی ‘ جیسے مریض کی عیادت ‘ جنازہ کے ساتھ جانا ‘ سلام علیک ‘ وجوب نذر کی تعمیم پر حضرت عائشہ ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے ‘ فرمایا : جس نے اللہ کی اطاعت کی منت مانی ‘ اس کو اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی ‘ اس کو نافرمانی نہ کرنی چاہیے۔ (بخاری)
طحاوی نے اس روایت میں اتنی بیشی نقل کی ہے کہ (نافرمانی کرنے کی نذر پوری نہ کرے بلکہ) کفارۂ قسم ادا کرے۔ ابن عطاء نے کہا : طحاوی کی روایت میں جو یہ بیشی ہے اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے (معلوم نہیں ‘ حضور ﷺ نے یہ زائد الفاظ فرمائے تھے یا راوی کی طرف سے بیشی ہے) ۔
مسئلہ اگر کسی نے نذر اطاعت کی ‘ مگر نذر کو بعض (غیر ضروری) شرطوں کے ساتھ مشروط کردیا تو نذر کا ایفاء واجب ہوجائے گا اور شرطیں لغو قرار پائیں گی (ان کی تکمیل واجب نہ ہوگی) جیسے کسی نے نذر مانی کہ کسی خاص جگہ نماز پڑھوں گا یا روزہ میں کھڑارہوں گا۔
اس صورت میں ادائے صوم و صلوٰۃ واجب ہوگی اور ہر حال میں یہ نذر پوری ہوجائے گی ‘ اس پر اجماع ہے
لیکن امام ابویوسف (رح) اور امام شافعی (رح) وغیرہ کے نزدیک اگر مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہو تو کسی دوسری مسجد میں پڑھنے سے نذر پوری نہ ہوگی اور اگر مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) یا مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تو مسجد حرام میں پڑھنے سے یہ نذر پوری ہوجائے گی۔ غرض کم فضیلت والی مسجد میں نماز پڑھنے سے اس نماز کی نذر پوری نہ ہوگی ‘ جو زیادہ فضیلت والی مسجد میں لازم کی گئی ہو۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر صورت میں ہر جگہ نماز پڑھنے سے نذر پوری ہوجائے گی۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ ﷺ کو فتح مکہ نصیب فرما دے گا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسی جگہ پڑھ لو۔ اس شخص نے دوسری بار یا تیسری بار وہی گزارش کی۔ آخر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جانو ‘ تمہارا حال (یعنی تم کو اختیار ہے جو چاہو کر ‘ یہاں پڑھو یا وہاں) ‘ واللہ اعلم۔ (ابوداؤد ‘ دارمی)
اسی حدیث کی بناء پر امام صاحب (رح) نے شرط مکانی کو لغو قرار دیا ہے۔ امام ابو یوسف (رح) اور امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ تینوں مساجد میں سے کسی ایک مسجد کی شرط لگانے میں ثواب کی کثرت (ملحوظ) ہوتی ہے اور مقصود طاعت ہے لہٰذا یہ شرط لغو نہ ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری اس مسجد میں نماز علاوہ مسجد حرام کے دوسری مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔ (بخاری و مسلم)
حضرت انس ؓ کی روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : آدمی کی اپنے گھر میں نماز ایک نماز کا اجر رکھتی ہے اور محلہ کی مسجد میں 25 نمازوں کا اور جامع مسجد میں پانچ سو نمازوں کا اور مسجد اقصیٰ میں ہزار نمازوں کا اور میری مسجد میں پچاس ہزار نمازوں کا اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نمازوں کا۔ (ابن ماجہ)
(یہ تفضیلی درجات) فرض نمازوں کے لیے ہیں ‘ نوافل کا یہ حکم نہیں ہے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علاوہ فرض کے (باقی دوسری) نماز آدمی کے لیے اپنے گھر میں میری مسجد میں پڑھنے سے بہتر ہے۔ (ابوداؤد ‘ ترمذی)
علاوہ طاعت کے دوسری شرائط کے لغو ہونے پر حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ دفعتہ ایک شخص دھوپ میں کھڑا نظر آیا۔ اس کے متعلق کیفیت دریافت فرمائی۔ ابو اسرائیل نے عرض کیا : اس نے منت مانی ہے کہ نہ بیٹھے گا ‘ نہ سایہ میں جائے گا ‘ نہ بات کرے گا اور اسی طرح روزہ پورا کرے گا۔ فرمایا : اس کو حکم دو ‘ بات کرے ‘ سایہ میں جائے ‘ بیٹھ جائے اور روزہ پورا کرے۔ (ابوداؤد ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان) بخاری کی روایت میں دھوپ کا ذکر نہیں ہے۔ امام مالک (رح) نے اس حدیث کو مؤطا میں مرسل ذکر کیا ہے۔ اس روایت میں ہے اس کو حکم دو کہ طاعت خداوندی کو پورا کرے اور جو معصیت ہے اس کو ترک کر دے۔ امام مالک (رح) نے بیان کیا ہم کو یہ بات نہیں پہنچی کہ حضور ﷺ نے کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا ہو۔ امام شافعی (رح) نے بھی یہ حدیث بیان کی جس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کفارہ کا حکم نہیں دیا۔ البتہ بیہقی نے بوساطت محمد بن کریب حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے ‘ اس میں کفارہ کا حکم ہے مگر محمد بن کریب ضعیف الروایۃ ہے۔
مسئلہ اگر واجب نذر ادا نہ کرسکے تو قضاء واجب ہے۔ نذر کی مثل ادا کرے خواہ مثل حقیقی ہو یا حکمی جیسے نماز نذر کے عوض نماز ‘ صوم نذر کے عوض صوم اور شیخ فانی (پیر ضعیف) ہر صوم نذر کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ اگر کسی نے پیدل حج کرنے کی منت مانی اور کسی عذر کی وجہ سے سوار ہوگیا تو جمہور کے نزدیک اس کو ایک جانور کی قربانی پیش کرنی چاہیے۔ صحیح روایت سے امام حنیفہ (رح) کا بھی یہی مسلک ثابت ہے۔ اصل روایت میں امام صاحب (رح) کا قول یہ آیا تھا کہ پیدل حج کی نذر ماننے والے پر پیدل جانا واجب ہی نہیں ہے۔ اس لیے اگر سوار ہوجائے تو قربانی واجب نہیں کیونکہ حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے حضرت عقبہ ؓ نے کہا : میری بہن نے برہنہ سر ‘ ننگے پاؤں ‘ پیدل کعبہ کو جانے کی منت مانی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی طرف تشریف لائے اور فرمایا : اس کی کیا کیفیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس نے ننگے سر ‘ ننگے پاؤں ‘ پیدل کعبہ کو جانے کی نذر مانی ہے۔ فرمایا : اس کو حکم دو ‘ سوار ہوجائے اور سر ڈھانک لے۔ (بخاری و مسلم)
حضرت انس ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی اپنے دو لڑکوں کے درمیان دونوں کے سہارے سے جا رہا ہے ‘ وجہ دریافت فرمائی ‘ جواب ملا اس نے پیادہ جانے کی نذر مانی ہے ‘ فرمایا : اللہ کو اس کو عذاب دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے اس کو سوار ہوجانے کا حکم دیا۔ (متفق علیہ) ہم (جمہور کی طرف سے) کہتے ہیں عقبہ بن عامر کی روایت کو ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ میری بہن نے کعبہ تک پیادہ جانے کی منت مانی تھی مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کو سوار ہونے اور ایک قربانی کرنے کا حکم دیا۔
سنن ابی داؤد ہی میں زید بن عباس ؓ کی روایت سے یہ الفاظ آئے ہیں کہ عقبہ بن عامر کی بہن نے نذر مانی تھی کہ پیدل حج کو جائے گی اور اس میں اس کی طاقت نہیں تھی تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : یقیناً اللہ کو تیری بہن کے پیدل چلنے کی پرواہ نہیں ‘ وہ سوار ہوجائے اور ایک اونٹ کی قربانی دے۔ طحاوی نے بھی اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر کی روایت اچھی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ ان تصریحات سے ظاہر ہوگیا کہ صحیحین کی روایات میں اختصار ہے ‘ ہماری نقل کردہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ قربانی کیلئے اونٹ ہی مخصوص ہے۔ عبدالرزاق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جس نے کعبہ کو پیدل جانے کی منت مانی ہو تو اس کو پیدل چلنا چاہیے ‘ اگر تھک جائے تو سو ار ہوجائے اور اونٹ کی قربانی دے۔ ابن عمرو ‘ ابن عباس ‘ قتادہ اور حسن بصری (رح) کے بھی ایسے ہی اقوال منقول ہیں۔
مسئلہ اگر کسی نے گناہ کی نذر مانی یا ایسے امر مباح کی منت مانی جو طاعت نہیں ہوسکتا تو اس کو پورا کرنا واجب نہیں اور بالاجماع وہ نذر درست نہ ہوگی۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک کلام لغو ہوجائے گا اور جمہور کے نزدیک نذر نہیں ہوگی لیکن کلام بھی لغو نہ ہوگا بلکہ قسم کے حکم میں آجائے گا۔ جہاں تک ہو سکے صحیح العقل کے کلام کو لغویت سے محفوظ رکھا جائے ‘ نذر کے لفظوں میں چونکہ پختہ تاکید ہوتی ہے۔ اللہ کا نام ذکر کیا جاتا ہے اس لیے کلام لفظاً قسم بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور معنیً بھی وہ قسم ہوسکتا ہے کیونکہ جس چیز کی منت کو واجب بنایا ہے لامحالہ اس کی ضد کو حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا جمہور کے نزدیک اس قسم کو توڑنا اور نذر معصیت کی صورت میں کفارۂ (قسم) دینا واجب ہے ‘ مگر نذر مباح کی صورت میں اختیار ہے نذر کو پورا کرے یا توڑ کر کفارہ ادا کرے۔ جمہور کے قول کو ثابت کرنے والی مختلف احادیث میں ‘ ایک حدیث حضرت عقبہ بن عامر ؓ والی ہے کہ کفارۂ نذر (وہی ہے جو) کفارۂ قسم ہے۔ (مسلم)
حضرت عمران بن حصین ؓ کی حدیث مرفوع ہے کہ معصیت خدا کی کوئی نذر (جائز) نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ نسائی ‘ حاکم ‘ بیہقی۔ اس روایت کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور یہ راوی قوی نہیں۔ حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث دوسرے طریقوں سے بھی منقول ہے ‘ جن کی اسناد صحیح ہے مگر ہے معلول۔ امام احمد اور اصحاب السنن اور بیہقی نے بوساطت زہری از ابو سلمہ از ابوہریرہ ؓ بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے مگر یہ سلسلہ منقطع ہے۔ ابو سلمہ ؓ نے ابوہریرہ ؓ سے سماعت نہیں کی۔ اصحاب السنن نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی نقل کی ‘ لیکن اس سلسلہ میں سلیمان بن ارقم ہے جو متروک ہے۔ دار قطنی نے حضرت عائشہ ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ جس نے معصیت خدا کی منت اپنے اوپر لازم کی ‘ اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ اس سند میں غالب بن عبداللہ متروک ہے۔ ابو داؤد نے کریب کی وساطت سے جو حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے اس کی اسناد حسن ہے لیکن نووی نے لکھا ہے کہ معصیت خدا کی کوئی نذر (درست) نہیں ‘ اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ باتفاق علماء حدیث یہ حدیث ضعیف ہے۔ حافظ نے کہا کہ طحاوی نے اس حدیث کو صحیح مانا ہے اور ابو علی بن سکن نے بھی۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے معین نذر مانی اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے گناہ کی منت مانی اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی منت مانی جس کو ادا کرنے کی اس میں طاقت نہیں ‘ اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے قابل برداشت نذر مانی تو اس کو پورا کرے۔ (ابوداؤد ‘ ابن ماجہ) حضرت ثابت بن ضحاک کی روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی خاص مقام پر (ایک روایت میں اس مقام کا نام بوانہ آیا ہے) اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے (دریافت) فرمایا۔ کیا جاہلیت کے دور میں وہاں کسی بت کی پوجا ہوتی تھی ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : کیا جاہلیت والوں کا کوئی خوشی کا میلا لگتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : نہیں۔ فرمایا : تو اپنی نذر پوری کر۔ (ابوداؤد) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ عمرو بن شعیب نے اپنے باپ اور دادا کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اسی کی طرح ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت بھی لکھی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایسی چیز کی نذر مانی ہو جو نہ طاعت ہے ‘ نہ معصیت تو اس کو پورا کرنا جائز ہے۔ عمرو بن شعیب ؓ کے باپ نے دادا کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے منت مانی تھی کہ آپ کے سر پر دف بجاؤں گی۔ اس کی مراد یہ تھی کہ آپ کی تشریف آوری پر (آپ ﷺ کے سامنے دف بجاؤں گی) حضور ﷺ نے فرمایا : اپنی منت پوری کرلے۔ یہ حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے۔ شاید یہ واقعہ دف بجانے کی حرمت سے پہلے کا تھا۔
نذر معلق بالشرط ‘ بوقت تحقق شرط ‘ نذر قطعی کے حکم میں ہے۔ ظاہر روایت میں امام اعظم (رح) کا یہی قول ہے اور ابو یوسف کا بھی یہی مسلک ہے اور امام شافعی (رح) کا قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے۔ امام مالک بھی اسی کے قائل ہیں مگر انہوں نے (ایک صورت میں اس کے خلاف) کہا ہے کہ اگر کسی نے نذر مشروط کی صورت میں کل مال خیرات کرنے کی منت مانی اور شرط واقع ہوگئی تو (کَل مال خیرات کرنا ضروری نہیں ‘ صرف) ایک تہائی مال خیرات کرنا لازم ہے باقی جو صورت بھی ہو ہر حالت میں جو منت مانی ہے اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ امام اعظم (رح) نے قول مذکور سے رجوع کرلیا تھا اور فرمایا تھا کہ نذر معلق اگر پوری کرلے تو خیر ورنہ کفارۂ قسم ادا کرنا کافی ہے۔ یہی امام محمد (رح) کا قول ہے۔ صاحب ہدایہ اور دوسرے محققین حنفیہ نے کہا ہے کہ کفارۂ قسم امام صاحب (رح) کے نزدیک اس شرط کے وقت کافی ہوگا جس شرط کا تحقق وہ چاہتا نہ ہو ‘ مثلاً یوں کہے کہ اگر میں گھر کے اندر جاؤں یا فلاں شخص سے بات کروں یا فلاں کام کروں تو مجھ پر ایک حج یا ایک سال کے روزے لازم ہیں ‘ اس نذر کو نذر حاج کہا جاتا ہے لیکن اگر شرط ایسی ہے جس کا وقوع وہ خود چاہتا ہے (اور وہ شرط واقع ہوگئی) تو نذر پوری کرنی لازم ہے۔ مثلاً یوں کہا کہ اگر فلاں غائب شخص آجائے یا میرا دشمن مرجائے یا میرا فلاں کام ہوجائے یا میری بیوی کے لڑکا پیدا ہو تو مجھ پر یہ چیز لازم ہے ‘ تو اس صورت میں لامحالہ اس پر وہی چیز ادا کرنی لازم ہوگی جو اس نے مانی ہے ‘ اس نذر کا نام نذر تبرء ہے ‘ اسی تفصیل کے امام احمد بھی قائل ہیں اور ظاہر ترین روایت میں امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول آیا ہے۔ امام شافعی (رح) کا ایک تیسرا قول بھی ایک روایت میں آیا ہے جو ایک روایت میں امام احمد (رح) کی طرف بھی منسوب ہے کہ نذر حاج میں کفارۂ قسم ہی واجب ہے ‘ مانی ہوئی منت ادا کرنی جائز نہیں۔
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ دو انصاری بھائی کسی میراث کے مشترکاً وارث ہوئے ‘ ایک نے دو سرے سے تقسیم کی خواہش کی۔ اس نے جواب دیا اگر تو نے دوبارہ تقیسم کے لیے کہا تو میرا کل مال کعبہ کے منافع کے لیے ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں۔ اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے کلام کر۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ حضور ﷺ فرما رہے تھے کہ تم پر نہ کوئی قسم پڑے گی ‘ نہ نذر (اگر) خدا کی نافرمانی یا قطع رشتہ داری یا ایسی چیز کے متعلق ہو جس کے تم مالک نہ ہو۔ (ابوداؤد)
مسئلہ جس نے خارج از طاقت عبادت کی نذرمانی تو کفارہ دینا جائز ہے۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک کفارہ لازم نہ ہوگا ‘ صرف اللہ سے استغفار کرے۔
ہماری دلیل حضرت ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس نے خارج از طاقت چیز کی منت مانی ‘ اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ہے۔ حضرت عقبہ ؓ کی بہن کے قصہ میں بھی آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تیری بہن کے پیدل چلنے کی سخت تھکان سے خدا کو کچھ فائدہ نہیں ‘ وہ سوار ہوجائے اور سوار ہو کر حج کو جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ (ابوداؤد) عبداللہ بن مالک ؓ نے کہا کہ حضرت عقبہ بن عامر نے بیان کیا کہ میری بہن نے برہنہ سر ‘ پیدل چل کر حج کو جانے کی منت مانی تھی ‘ اس کا تذکرہ حضور ﷺ کے سامنے آیا۔ ارشاد فرمایا : اپنی بہن سے کہہ دے کہ سر پر اوڑھنی اوڑھے ‘ سوار ہو اور تین روزے رکھے۔ (ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی ‘ طحاوی)
اختلاف احادیث کو دور کرنے کی توجیہ یہ ہے کہ شاید حضور ﷺ نے کفارہ کا حکم اس وقت دیا جب آپ ﷺ کو معلوم ہوگیا کہ وہ عورت نذر پوری کرنے سے عاجز ہے ‘ واللہ اعلم۔
و یخافون یوما کان شرہ یعنی اس کی برائی ‘ صحاح میں ہے شر وہ چیز ہے جس سے روگردانی کی جاتی ہے (یعنی قابل نفرت چیز) ۔
مستطیرا . بہت زیادہ پھیلی ہوئی۔ اِسْتَطَارَ الْحَرِیْقُ آگ بہت پھیل گئی۔ اِسْتَطَارَ الْفَجْرُ صبح کی روشنی خوب پھیل گئی۔ مقاتل نے کہا : روز قیامت کی شر آسمانوں میں پھیل گئی تو آسمان پھٹ جائیں گے۔ ستارے جھڑ جائیں گے ‘ چاند سورج بےنور ہوجائیں گے۔ ملائکہ پر خوف طاری ہوجائے گا اور زمین پر شر پھیلے گی تو پہاڑ خاک ہو کر اڑ جائیں گے ‘ پانی خشک ہوجائے گا ‘ رُوئے زمین پر جو پہاڑی یا عمارت ہوگی ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس آیت میں مؤمنوں کے عقیدہ کی خوبی اور گناہوں سے پرہیز رکھنے کا اظہار ہے جس طرح آیت : یوفون بالنذر میں اہل ایمان کی ادائیگی فرض کا اظہار تھا۔
Ayah 76:8و یطعمون الطعام . اس میں اشارہ ہے اس امر کی جانب کہ مؤمن اللہ کے بندوں پر مہربانی کرتے
ہیں ‘ رضائے مولیٰ کے حصول کے لیے خلوص کے ساتھ نفل (غیر لازم) نیکیاں کرتے ہیں۔
علی حبہ . اللہ کی محبت میں یا کھانے کی محبت اور حاجت کے باوجود۔
مسکینا و یتیما واسیرا . ابن منذر نے ابن جریج کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل اسلام کو قید نہیں
کرتے تھے (اس لیے آیت میں مسلمان قیدی مراد نہیں) بلکہ اس آیت کا نزول ان مشرکوں کے سلسلہ میں ہوا تھا جن کو مسلمان قید کرلیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان مشرک قیدیوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے تھے۔ قتادہ کا بھی یہی قول ہے لیکن مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اسیرًا سے مراد مسلمان قیدی ہے ‘ اوّل الذکر قول زیادہ واضح ہے ‘ بعض کے نزدیک اسیر سے مراد ہے باندی ‘ غلام۔ بعض کے نزدیک عورت مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو ضعیفوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو ‘ مملوک اور عورت۔ (رواہ ابن عساکر)
ابو عمرو نے حضرت امّ سلمہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ نماز اور اپنے مملوک کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ (رواہ الخطیب) بخاری نے ادب میں حضرت علی ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ اپنے مملوکوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔
بغوی کی روایت میں ہے کہ عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کے شان نزول کے متعلق علماء میں اختلاف ہے ‘ مقاتل کا بیان ہے کہ اس کا نزول ایک انصاری کے متعلق ہوا تھا ‘ جس نے ایک ہی دن میں مسکین کو بھی کھانا کھلایا تھا اور یتیم کو بھی اور قیدی کو بھی۔
مجاہد اور عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حق میں ہوا۔ حضرت علی ؓ نے ایک یہودی کی مزدوری کر کے کچھ جو حاصل کیے اور ان میں سے ایک تہائی پیس کر گھر والوں کے کھانے کے لیے کچھ کھانا تیار کیا ‘ جونہی کھانا پک کر تیار ہوا ‘ ایک مسکین نے آکر سوال کیا۔ گھر والوں نے وہ کھانا اس کو دے دیا۔ دوبارہ پھر ایک تہائی جو پکائے گئے ‘ کھانا پک کر تیار ہوا تو ایک یتیم نے آکر سوال کیا ‘ گھر والوں نے وہ کھانا اس کو کھلا دیا۔ تیسری بار جو کو پکایا اور پک کر تیار ہوا تو ایک مشرک قیدی آگیا اور سوال کیا ‘ گھر والوں نے وہ کھانا اس کو دے دیا اور سب اس روز بھوکے رہے۔
ثعلبی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ (ایک بار) حضرت حسن ؓ اور حسین ؓ بیمار ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور (حضرت علی ؓ سے) فرمایا : ابو الحسن ! اگر تم اپنے بچوں (کی صحت) کے لیے نذر مان لو (تو بہتر ہے) حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت فضہ ؓ نے نذر مان لی کہ اگر ان دونوں کو صحت ہوگئی تو ہم تین روزے رکھیں گے (حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی خادمہ کا نام فضہ تھا) چناچہ دونوں صحت یاب ہوگئے مگر اس روز ان حضرات کے پاس کچھ کھانے کو نہیں تھا۔ حضرت علی ؓ نے شمعون خیبری (یہودی) سے تین صاع (تقریباً 14 سیر) جو قرض لیے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے ایک صاع جو کا آٹا پیسا اور پانچ روٹیاں پکا کر گھر والوں کے سامنے روزہ افطار کرنے کے لیے رکھ دیں ‘ اتنے میں ایک مسکین آکر کھڑا ہوگیا۔ گھر والوں نے اس کو اپنے اوپر ترجیح دی اور روٹیاں اس کو دے دیں ‘ خود پانی کے سوا کچھ نہیں چکھا اور رات یونہی گزار دی اور صبح کو روزے رکھ لیے۔ شام ہوئی تو گزشتہ دن کی طرح کھانا پکا کر سامنے رکھا ہی تھا کہ ایک یتیم آگیا ‘ سب کھانا اس کو دے دیا اور رات یونہی فاقہ سے گزار دی اور صبح کو روزے رکھ لیے۔ شام کو پھر کھانا پکا کر سامنے رکھا ہی تھا کہ تیسری مرتبہ ایک قیدی آکھڑا ہوا اور گھر والوں نے حسب سابق اس کے ساتھ برتاؤ کیا۔ اس پر جبرئیل ( علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے اور کہا : محمد ﷺ ! یہ لو اللہ نے تمہارے اہل بیت کے معاملہ میں تم کو مبارکباد دی ہے۔ حکیم ترمذی نے کہا : یہ مفصل حدیث سوائے بیوقوف اور جاہل کے کسی کے لیے تسکین بخش نہیں۔ ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ اس کا موضوع ہونا ناقابل شک ہے۔ سیوطی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ سورت مکی ہے اور حضرت فاطمہ ؓ سے حضرت علی ؓ کا نکاح ہجرت سے دو سال بعد ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں یہ اعتراض تو مقاتل اور مجاہد وعطاء کے قول پر بھی ہوتا ہے کیونکہ کسی انصاری کے حق میں اگر آیت کا نزول قرار دیا جائے تو آیت کا مدنی ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح حضرت علی کا کسی یہودی کی مزدوری کر کے کچھ جو حاصل کرنا بھی مدینہ ہی میں ہوسکتا ہے۔ مکہ میں یہودی ہی نہیں تھے بلکہ نفس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مدنی ہو ‘ کیونکہ قیدی مدینہ میں ہی تھے مکہ میں تو نہ جہاد تھا ‘ نہ کسی مشرک قیدی کا وجود۔ پس ظاہر یہی ہے کہ اس سورت کا کچھ حصہ مدنی ہے خواہ بعض حصہ مکی ہو۔ اگر کل سورت کو مکی قرار دیا جائے تو آیت میں پیشین گوئی ہوگی اور ہجرت کے بعد مسلمانوں کو پیش آنے والے واقعہ کی اطلاع بطور اخبار غیب کے قرار دی جائیگی۔
Ayah 76:9انما نطعمکم . یطعمون کی ضمیر کی حالت کا اظہار ہے۔ یعنی وہ اس قول کو کہنے کی حالت میں کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ
قول تو واقعی وہ زبان سے کہتے تھے یا زبان حال گویا تھی۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا : ان لوگوں نے اپنی زبانوں سے یہ الفاظ نہیں کہے تھے مگر انکے دل کی حالت سے اللہ واقف تھا (اور دل سے ضرور انہوں نے یہ بات کہی تھی) اس قلبی قول ہی کی اللہ نے تعریف فرمائی ہے۔
لوجہ اللہ . لفظ وجہ زائد ہے ‘ مراد ہے اللہ واسطے۔ اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں۔
لا نرید منکم جزاء . جسمانی اور مالی بدلہ۔
ولا شکورا . شکور ‘ دخول ‘ جروح ‘ قبول۔ سب مصدر ہیں ‘ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ
خیرات کا کچھ مال کسی کے گھر بھیجتی تھیں ‘ پھر واپسی کے بعد قاصد سے پوچھتی تھیں ‘ ان گھر والوں نے کیا کہا ؟ اگر قاصد کہتا کہ آپ کے لیے دعا کی تھی تو امّ المؤمنین بھی ان کو ویسی ہی دعا دیتی تھیں تاکہ خیرات خالص اللہ واسطے باقی رہے (یعنی اجر آخرت کے لیے باقی رہے دنیوی کوئی اجر اس سے حاصل نہ ہو ‘ یہاں تک کہ اس کے عوض کلمۂ دعائیہ بھی نہ ملے) ۔
Ayah 76:10انا نخاف من ربنا . اطعام کی پہلی علت لوجہ اللہ تھی اور یہ دوسری علت ہے گویا حرف عطف اور حرف جر کو
حذف کر کے لوجہ اللہ پر عطف کردیا گیا ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : نطعمکم طمعًا و خوفًا من اللہ۔ یعنی اللہ کی خوشنودی اور ثواب کی طلب میں اور اللہ کے عذاب و غضب کے خوف سے ہم تم کو کھانا کھلاتے ہیں۔ من ربّنا کا معنی ہے : من عذاب ربّنا یعنی ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
یوما عبوسا قمطریرا . اس دن کے عذاب سے جو عبوس اور قمطریر ہوگا۔ عبوس ‘ ترشرو ‘ تیوری پر بل ڈالا ہوا
آدمی۔ یہ یوم کی صفت مجازاً ہے جیسے نھارہ صائمٌ۔ اس کا دن روزہ دار ہے یعنی وہ دن میں روزہ دار ہے (پس دن کے تیوری پر بل پڑنے کا معنی ہوا کہ اس دن غم و رنج کی وجہ سے سب لوگ ترش رو ہوں گے) قمطریر ‘ سخت ترش رو۔ کلبی کا یہی قول ہے۔ اخفش نے کہا سب سے زیادہ سخت اور طویل دن۔ قاموس میں ہے قمطریر کا معنی ہے شدید۔ اِقْمَطَرَّ ۔ شدید ہوگیا۔ اِقْمَطَرَّ نَفْسُہٗ ۔ اس نے ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کی۔
Ayah 76:11فوقھم اللہ . فاء سببی ہے یعنی ابرار چونکہ اللہ سے ڈرتے اور عذاب آفریں اعمال سے بچتے تھے اسلئے اللہ نے انکو محفوظ رکھا
واقعہ اگرچہ مستقبل سے تعلق رکھتا ہے (آئندہ ہوگا) مگر یقینی الوقوع ہے اسلئے مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغہ سے کردی۔ (گویا ایسا ہوگیا)
شر ذلک الیوم . شر سے مراد مکروہات۔
ولقھم . اور بجائے ترشروئی (اور بدنمائی) کے ان کو عطا فرمائے گا۔
نضرۃ و سرورا . چہرہ کا حسن اور دل کی خوشی۔
Ayah 76:12و جزاھم . اللہ خود ان کو جزا دے گا ‘ دوسرے سے جزا نہیں طلب کی جائے گی۔
بما صبروا . ان کے صبر کرنے کی ‘ یعنی اللہ کی اطاعت پر اور گناہوں سے پرہیز کرنے پر اور مسکین کو کھانا کھلانے کے وقت اپنی بھوک پر اور جہاد میں شہید ہونے پر اور خیرات دیتے وقت خود دکھ اٹھانے پر صبر کے بدلہ میں اللہ انکو عطا فرمائے گا۔
جنۃ و حریرا . جنت جس میں وہ داخل ہوں گے اور ریشمی لباس جو ان کو پہنایا جائے گا۔
Ayah 76:13متکئین فیھا علی الارائک . متکئین حال ہے یعنی جنت کے اندر مسہریوں پر وہ تکیے لگائے ہوں گے۔
ارائک۔ پردہ والی مسہریاں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صرف پلنگ ‘ بغیر پردے اور چھتری کے اور صرف چھتری۔ پردہ بغیر پلنگ کے ارائک نہیں کہلاتا ‘ پلنگ مع چھتری اور پردہ کے ہو تو ارائک کہلاتا ہے۔ (بیہقی)
لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا . قاموس میں ہے زمھریر چاند کی سخت سردی۔ ازمھرت الکواکبُ ۔ ستارے چمکنے لگے۔ زمہریر سے مراد سخت سردی اور شمس سے مراد سخت گرمی ہے یعنی جنت کے اندر نہ گرمی ہوگی نہ سردی بلکہ ہمیشہ معتدل ہوا رہے گی۔
ابن مبارک نے بیان کیا اور عبداللہ بن احمد نے بھی زوائد میں تخریج کی ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جنت سکون بخش ہے ‘ نہ اس میں گرمی ہے نہ سردی ‘ یا زمہریر سے مراد ہے چاند یا چمکتے ستارے۔ اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ جنت خود روشن ہے۔ نورِ رب سے منور ہے ‘ اس کو نہ سورج کی ضرورت ہے ‘ نہ چاند کی۔ شعیب بن جیحان نے بیان کیا۔ میں ابو العالیہ رباحی کے ساتھ سورج نکلنے سے پہلے باہر نکلا۔ ابو العالیہ نے فرمایا : جنت کی اسی طرح صفت کی جاتی ہے ‘ پھر آیت : وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ پڑھی۔ (بیہقی)
میں کہتا ہوں کہ ابو العالیہ کی مراد نور صبح سے جنت کی تشبیہ دینا نہیں ہے ‘ صبح کا نور تو ضعیف ہوتا ہے جس میں تاریکی مخلوط ہوتی ہے بلکہ اس امر میں تشبیہ دینی مقصود ہے کہ (جس طرح) صبح کی روشنی پھیلتی جاتی ہے ‘ منقطع نہیں ہوتی (اسی طرح جنت کی روشنی رو بترقی ہوگی ‘ منقطع نہیں ہوگی) ۔ 1
Ayah 76:14ودانیۃ . یعنی قرب ‘ اس کا عطف متکئین پر ہے یا لا یرون کے محل پر یعنی وہ قریب ہی دیکھیں گے یا جنۃً پر عطف ہے
اور موصوف محذوف ہے یعنی ایک اور جنت اللہ عطا فرمائے گا۔ جس کے سائے قریب ہوں گے (گویا دو جنتیں عطا فرمائی جائیں گی) جیسا کہ ایک اور آیت میں آیا ہے : ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن۔ لیکن یہ مؤخر الذکر تاویل ضعیف ہے کیونکہ اس توجیہ کا اقتضاء ہے کہ پہلی جنت کے سائے قریب نہ ہوں ‘ تقسیم شرکت کے منافی ہے۔
علیھم ظللھا . یعنی ان سے جنت کے سائے قریب ہوں گے۔
و ذللت قطوفھا تذلیلا . ذُلِّلَتْ ظِلٰلُھَا سے حال ہے یا دانِیَۃً پر معطوف ہے۔ جیسے : فالق الاصباح
و جعل الیل سکنًا میں جعل کا عطف فالق پر ہے یا دانیۃً کے ذوالحال سے حال ہے اور ذوالحال کی طرف راجع ہونے والی ضمیر محذوف ہے یعنی ذُلِّلَتْ لَھُمْ ۔ قطوف سے مراد ہیں پھل ‘ یعنی جنت کے پھل بڑے سہل الحصول ہوں گے ‘ اہل جنت جس طرح چاہیں
......
1 ممکن ہے کہ نور صبح سے تشبیہ انبساط کے علاوہ اس وجہ سے بھی ہو کہ صبح کی روشنی میں نہ تکلیف دہ سری ہوتی ہے نہ ناگوار گرمی بلکہ ایک خوشگوار فرحت آفریں اہتزازی کیفیت معلوم ہوتی ہے ‘ واللہ اعلم۔
گے ‘ توڑیں گے۔ کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ جنتی جنت کے پھل جس طرح چاہیں گے (توڑ کر کھائیں گے ‘ کھڑے ہو کر ‘ بیٹھ کر ‘ لیٹ کر) ۔ (بیہقی اور سعید بن منصور)
Ayah 76:15و یطاف علیھم باینیۃ من فضۃ واکواب . اکواب بغیر دستے کے آفتابے ‘ ہناد نے مجاہد کا یہی قول نقل کیا ہے۔
کانت قواریرا . کانت اگر فعل تام ہوگا تو قواریرا وکو حال کہا جائے گا یعنی وہ کوزے بنے ہوئے ہیں اور مثل
بلور کے ہیں اور کانت کو اگر فعل ناقص کہا جائے تو قواریر اس کی خبر ہوگا ‘ یعنی وہ کوزے صفائی میں بلوری جام کی طرح ہیں۔ ابن جریر نے بسند عوفی حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ چاندی کے برتن ہیں جن کی صفائی شیشوں کی طرح ہے۔ سعید بن مسعود بن عبدالرزاق نے اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ اگر دنیا کی چاندی لے کر تم اسکا باریک ورق مکھی کے پر کی طرح بھی بنا لو تب بھی دوسری طرف کا پانی اس میں سے نظر نہیں آئیگا ‘ لیکن جنت کے برتن کی سفیدی مثل چاندی کے اور صفائی شیشوں کی طرح ہوگی۔
Ayah 76:16قواریرا من فضۃ . اول قواریر سے بدل ہے۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنت
میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ تم کو دنیا میں اس کے مشابہ چیز نہیں دی گئی ہو۔ جنت کے قواریر فضّہ کے مشابہ دنیوی قواریر ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اللہ نے ہر قوم کے بلوری برتن انہی کے ملک کی مٹی سے پیدا کیے اور جنت کی زمین چاندی کی ہے اس لیے وہاں کی چاندی کے بلوری برتن ہوں گے ‘ جن سے اہل جنت پئیں گے۔
قدروھا تقدیرا . یعنی اہل جنت کی سیرابی کے اندازہ کے مطابق پلانے والے خادم (غلمان) کو زوں کی
مقدارمقرر کرلیں گے ‘ نہ سیرابی کی ضرورت سے مقدار زیادہ ہوگی نہ کم۔
فریابی نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول نقل کیا ہے شیخ اجل مولانا یعقوب کرخی (رح) نے فرمایا : شاید اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ ارواح میں معرفت الٰہی کی جتنی استعداد ہوگی اسی کے مقدار کے موافق کو زوں کی مقدار ہوگی۔ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ تقدیر اکواب کا یہ معنی ہے کہ وہ نہ اتنے لبریز ہوں گے کہ چھلک جائیں نہ کناروں سے کم ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اہل جنت خود اپنے دلوں میں ایک اندازہ مقرر کرلیں گے اور ان کے اندازہ کے موافق کوزے ان کے سامنے آئیں گے یا یہ معنی ہے کہ نیک اعمال کے اندازہ کے موافق کوزے ان کو ملیں گے۔
Ayah 76:17و یسقون فیھا کا سا . یطاف علیھم پر عطف ہے کاسًا سے مراد یا حقیقتاً مشروب ہے یا کاس بول کر مشروب مجازاً مراد لیا گیا ہے جیسے جری النہر ‘ نہر جاری ہوگئی ‘ یعنی پانی۔
کان مزاجھا زنجبیلا . یہ کاْس کی صفت ہے۔ سونٹھ کی آمیزش والی شراب۔ عرب کے ذوق کے لیے بہت لذیر ہوتی تھی ‘ اللہ نے بھی (انہی کے ذوق کے اعتبار سے) وعدہ فرمایا۔
حضرت ابن عباس۔ نے فرمایا : اللہ نے جنت کی جن چیزوں کا تذکرہ قرآن میں کیا ہے اور جو نام ذکر کیے ہیں ‘ ان کی مثال دنیا میں نہیں ‘ بعض کا قول ہے کہ زنجیل جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے جس کے پانی میں سونٹھ کا مزہ ہوگا۔ قتادہ نے کہا : جنتی چشمہ کا پانی اہل قربت کو بغیر آمیزش کے ملے گا اور باقی اہل جنت کو آمیزش کے بعد۔
میں کہتا ہوں کہ اللہ نے کاسًا کان مزاجھا کافورًا بھی فرمایا اور کاسًا کان فراجھا زنجبیلًا بھی فرمایا۔ یہ اختلاف پینے والوں کی طبعی خواہش کے پیش نظر ہوگا۔ گرم مزاج والوں کو مشروب کی خنکی پسند ہوتی ہے۔ ان کو ایسی شراب مرغوب ہوتی ہے جس میں کافور کی آمیزش ہو اور سرد مزاج والوں کو گرم مشروب پسند ہوتا ہے ‘ اس لیے ان کو ایسا مشروب مرغوب ہوتا ہے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو۔ ہر شخص کی رغبت خاطر جدا جدا ہے۔
Ayah 76:18عینا فیھا . اگر زنجیل کو چشمہ کا نام کہا جائے تو عینًا اس سے بدل ہوگا ورنہ کاْسًا سے بدل ہوگا اور مضاف محذوف ہوگا
یعنی مشروب عین۔
تسمی سلسبیلا . اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے ‘ جو مشروب آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جائے اور خوشگوار ہو وہ سلسبیل ہے۔ سَلْسَلَ ‘ سَلسالاً اور سَلْسَبِیْلاً (آسانی اور خوشگواری کے ساتھ حلق میں اتر گیا) بعض لوگوں کا قول ہے کہ سلسبیل میں باء زائد ہے (اصل لفظ میں سلسبیل یعنی پانچ حرف ہیں) زجاج نے سلسبیل کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہل جنت اس (چشمہ) کو جدھر چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔ وہ ان کی مرضی کا تابع ہوگا ‘ اس لیے اس کو سلسبیل کہا گیا ہے۔ مقاتل اور ابو العالیہ نے کہا کہ وہ چشمہ اہل جنت کے راستہ میں اور ان کے گھروں میں رواں ہوگا ‘ زیر عرش سے جنت عدن کے اندر سے پھوٹ کر نکلے گا اور جنت والوں تک پہنچے گا۔ جنت کی شراب میں کافور کی خنکی ‘ سونٹھ کا مزہ اور مشک کی خوشبو ہوگی۔
Ayah 76:19و یطوف علیھم ولدان . ولدان ‘ غلمان جن کو اہل جنت کی خدمت کے لیے اللہ پیدا کرے گا یا
کافروں کے نابالغ بچے جن کو اہل جنت کا خادم بنایا جائے گا۔
مخلدون یعنی نہ مریں گے نہ بوڑھے ہوں گے۔
اذا رایتھم حسبتھم لولوا منثورا . غلمان ‘ اہل جنت کی خدمت کے لیے منتشر ہوں گے اور منتشر
موتیوں کی طرح دکھائی دیں گے۔ غلمان کی صف بندی وجہ تشبیہ نہیں ورنہ پروئے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی جاتی ‘ ابن مبارک اور ہناد اور بیہقی نے حضرت ابن عمرکا قول نقل کیا ہے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جس کی خدمت میں ایک ہزار خادم لگے ہوں گے اور ہر خادم کا کام دوسرے خادم کے کام سے جدا ہوگا ‘ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے کم درجہ کے جنتی کے سر کے پیچھے دس ہزار خادم (خدمت کے لیے) کھڑے ہوں گے ‘ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا سب سے کم مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جس کے پاس خدمت کے لیے صبح و شام پانچ ہزار خادم آئیں گے اور ہر خادم کے پاس (کھلانے پلانے کے لیے) ایسا برتن ہوگا جو دو سرے خادم کے پاس نہ ہوگا ‘ واللہ اعلم۔
ابن المنذر نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت حضور ﷺ کھجور کی ٹہنیوں کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور پہلو پر نشان پڑگئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ رو دیئے۔ ارشاد فرمایا : کیوں روتے ہو ؟ حضرت عمر ؓ نے کسریٰ اور اس کی حکومت ‘ ہُرمز اور اس کی حکومت ‘ شاہ حبشہ اور اس کی حکومت کا ذکر کیا اور عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور کھجور کی ٹہنیوں کی چٹائی پر تشریف فرما ہیں ‘ فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت۔ اس پر اللہ نے مندرجۂ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Ayah 76:20واذا رایت . رأیت فعل متعدی قائم مقام لازم کے ہے ‘ فعل محذوف ہے۔
ثم . وہاں یعنی جنت میں۔ یہ رأیت کا ظرف مکان ہے۔
رایت نعیما و ملکا کبیرا . (نعیمًا میں تنوین تکثیر ہے یعنی) بڑی راحت ‘ حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث
پہلے گزر چکی ہے کہ کم ترین مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات کو ‘ بیویوں کو ‘ خادموں کو اور تختوں (مسہریوں) کو ہزار برس (اور ایک روایت میں ہے دو ہزار برس) کی راہ کی مسافت سے دیکھے گا اور اس کو (اپنی حدود کا) آخری کنارہ اسی طرح نظر آئے گا جس طرح قریب ترین حصہ نظر آئے گا۔ ملکًا کبیرًا کی تشریح میں کہا گیا ہے ‘ لازوال حکومت ہوگی۔ فرشتے آکر سلام کریں گے اور باریابی کی اجازت کے خواستگار ہوں گے۔ جنت کے اندر اہل جنت کو وہ سب کچھ ملے گا جو ان کی خواہش ہوگی۔ ربِّ جلیل کو بھی دیکھیں گے۔