76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 76:1–6

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

ضرور انسان پر ایک ایسا زمانہ بھی آیا ہے کہ اس کا کہیں کچھ بھی ذکر نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو منی کے ایک لچھے سے بنایا کہ اس کو آزمائیں سو اس کو سنتا دیکھتا کردیا۔

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو رستہ دکھا دیا پھر کچھ شکرگزار اور کچھ کافر ہورہے

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

(مگر) ہم نے بھی کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ ایسا پیالہ پئیں گے کہ جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

(ایک خاص) چشمہ سے اللہ کے نیک بندے پئیں گے (اور خوب) لونڈھائیں بہائیں گے۔

ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ للمفردو نظیرہ مرتبۃ اشعار ای قطع مکسرۃ وثوب اخلاق۔ نبتلیہ فی موضع الحال ای خلقناہ مبتلین لہ یعنی مریدین ابتلائـہ۔ فاماشاکراً ورماکفورا فی انتصابھما اقوال الاول شاکراوکفورا حالان من الہاء فے ہدیناہ السبیل اے ہدیناہ السبیل حالتے کونہ شاکرا وکفورا (والثانی) انتصابھا باضمار کان و التقدیر سواء کان شاکرا او کان کفورا (الثالث) معناہ انا ھدیناہ السبیل لیکون اما شاکرا واما کفورا واماعلی ھذا القول کقول القائل قد نصحت لک ان شئت فاقبل و ان شئت فاترک (والقول الرابع) ھوا لمطابق لمذہب اھل السنۃ ان تکون امافی ھذہ الآیۃ کا نافی قولہ امایعذبھم وامایتوب علیھم۔ والتقدیر انا ھدیناہ السبیل ثم جعلناہ تارۃ شاکرا وتارۃ کافرا۔ اما عند الجمہور بکسر الھمزہ فھی عندالکوفیین کماحکاہ مکی ان شرطیۃ زیدت بعدھا ماللتاکید ای بینالہ الطریق ان شکروان کفر۔ واختارہ الفراء ولایجوز عندالبصریین لان ان الشرطیۃ لا تدخل علی الاسماء الاان یقدر بعدھا فعل ولایصح ھھنا اضمار الفعل لانہ لایلزم رفع شاکرا وکفورا۔ فتاتل وقرأ ابوالسماک وابوالعجاج بالفتح فعلیٰ ھذا فھی اما عاطفۃ فی نعۃ بعض العرب اوھی التنصیلیہ۔ جو ابھا مقد سلاسل عندالبعض منصرف لان مثل ھذہ الجموع تشبیہ الاحادلانھم قالواصواحبات یوسف فلما جمعوہ جمع الاحاد المنصرفۃ جعلوھا فی حکمھا فصر فوھاد عندالبعض غیرمنصرف لکونہ صیغۃ منتہٰی الجموع والسلاسل جمع سلسلۃ والاغلال جمع غل واما الحاق الالف فی الوقف فھوکالحاقھا فی قولہٰ الظنونا والرسوا ولا الابرار فی الصحاح جع البرالابرار و جمع البار البرارۃ کان مزاجھا کافورا الجملۃ فی محل جرصفۃ لکاسٍ عینا ان قلت الکافوراسم النھر فی الجنۃ کان عینا بدلامنہ وان شئت قلت نصہ علی الاختصاص والتقدیر واعنی عینا وان قلت الکافور علی معناوالمستمعل فیہ فکان عیناً بدلاً من محل کاس علی حذف مضاف کانہ قیل یشربون خمراخمرعین ثم حذف المضاف و اقیم المضاف الیہ مقامہ وقیل نصب عینا باضمار فعل یفسرہ مابعدہ ای یشربون عینا یشرب بھا الجملۃ صفۃ لعینا وقیل الباء زائدۃ وقیل یشرب بمعنی یتلذذبفجرونھا صفۃ اخریٰ لعینا۔ تفسیر : اس سورة کا نام اسی کے الفاظ کی وجہ سے سورة دہر اور سورة انسان اور سورة ھل اتیٰ اور سورة امشاج بھی ہے۔ اس کے نزول میں علماء کا اختلاف ہے۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ و مقاتل و کلبی ; کہتے ہیں مکہ میں نازل ہوئی اور اسی طرف بیضاوی وزمخشری گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ بعض نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انانحن نزلنا علیک القرآن تنزیلاً سے آخر تک تو قطعی مکی ہے اور باقی میں احتمال ہے کہ مدینہ میں نازل ہوئی یا مکہ میں اور آیت یوفون بالنذر جو بعض اہل بیت کرام کی مدح میں بیان کی گئی ہے اس بات کا قرینہ ہے کہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ مناسبت : مناسبت اس کی پہلی سورة قیامہ سے یہ ہے کہ اس میں دو فریق کا معاملہ ذکر تھا جو قیامت میں پیش آئے گا ایک وہ کہ جن کے منہ روشن ہوں گے اور دوسرے وہ کہ جن کے منہ سیاہ ہوں گے۔ تتمہ کے طور پر اس سورة میں فریق اول کے اور بھی حالات بیان کئے گئے اور یہ بھی ہے کہ سورة قیامہ میں صرف قیامت اور نفس لوامہ کی قسم سے ابتدائِ کلام تھی یہاں قیامت پر انسان کے حادث ہونے سے استدلال ہے اور یہ بھی ہے کہ ان سورتوں میں اکثر یہی مسائل زیربحث ہیں۔ (1) خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کاملہ کا ثبوت۔ (2) قیامت کا برپا ہونا اور وہاں کے حالات۔ (3) انسان کی ابتداء و انتہا اور اس کے اس جہان میں آنے کی وجہ۔ (4) انسان کے اسباب سعادت و شقاوت کہ یہ چیزیں ہیں کہ جن سے اس کو سعادت یعنی وہاں کی حیات جاودانی اور سلطنت ابدی نصیب ہوگی اور یہ وہ باتیں ہیں کہ جن کے سبب یہ شقی ہو کر جہنم کے عمیق گڑھے میں زنجیروں میں باندھ کر اوندھے منہ ہمیشہ کے لیے ڈالا جائے گا۔ پھر ان مسائل کو عجب انداز میں بیان کیا ہے اور عجب دلکش طرز سے بلالحاظ تقدیم و تاخیر یکے بعد دیگر پراثر الفاظ اور روح کو جنبش دینے والے فقرات میں بیان فرمایا ہے اور ہر ایک بحث پر دوسرے مسئلہ کا لحاظ رہا ہے یعنی اگر اس بیان اور کلام کے ایک پہلو میں ایک مسئلہ کا ثبوت ہے تو دوسرے پہلو میں دوسرے کا۔ اگر خدا پاک کسی مفسر کی روح پر وہی فیضان مصطفوی ڈالے تو وہ ان مطالب کی تفسیر کرسکتا ہے اور اسی لیے قرآن کو دریائے بےکنار کہا جاتا ہے اور اس کا ظہر بطن اور ہر حد کا مطلع بیان کیا گیا ہے۔ مطالب : سورة قیامہ میں بھی انہیں مسائل پر انہیں طرزوں میں بحث تھی۔ اس سورة میں بھی اور اس کے بعد کی سورة میں بھی علی ہذا القیاس اور اسی لیے باہم لفظی بھی بہت کچھ مناسبتیں پیدا ہیں۔ جو شخص اس رمز پر واقف ہوگا اس کو ہر قسم کی روایات سے ایک خاص شان نزول تلاش کرنے کی حاجت نہ ہوگی۔ کس لیے کہ ان مسائل کی ضرورت ہی سبب نزول ہے۔ اور آیات میں انسانی نیک و بدفطرت کا فوٹو کھینچا جایا کرتا ہے۔ عام لوگ اس کو کھینچ تان کر کے رطب ویابس روایات کے ذریعہ سے ایک شخص کا قصہ یا واقعہ بنا دیتے ہیں جس کا جس کی طرف رجحان ہوا اور جو ان کے برائی کے لیے جھنڈے پر چڑھ گیا۔ انسان کی ابتدا : فقال ھل اتیٰ علی الانسان حین من الدھرلم یکن شیئا مذکورا کہ بیشک انسان پر ایک ایسا زمانہ بھی گزر گیا ہے کہ اس کا کوئی ذکر بھی نہیں تھا۔ شیئا سے وجود فی الخارج کی نفی کردی گئی کس لیے کہ متبادرمعنی شے کہ جبکہ اس کو وجود ذہنی اور لفظی کی قیود سے مبرا رکھا جائے تو موجود فی الخارج کے ہیں اور مذکورا وجود لفظی اور ذہنی کی نفی کرتا ہے کہ انسان کا وجود نہ کسی کے ذہن میں تھا نہ کسی کی زبان پر تھا۔ اور جب اس قید کو بھی ملحوظ کر کے نفی کردی گئی تو وجود ذہنی اور وجود لفظی کی نفی دلالت مطابقی سے اور خارجی وجود کی نفی دلالت تضمنی سے سمجھی جائے گی مگر اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ علم الٰہی میں بھی انسان کا وجود نہ تھا کس لیے کہ علم الٰہی کا مرتبہ بالاتر ہے۔ حاصل یہ کہ انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ اس وقت نہ یہ دنیا میں موجود تھا نہ اہل دنیا میں اس کا تذکرہ تھا کوئی حضرت کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ دہریوں کا اعتقاد اور اس کا ابطال : اس کا ثبوت کہ نسل انسان ایک وقت دنیا پر نہ تھی اور اس کی پیدائش کی ایک ابتداء ہے اہل کتاب کے نزدیک مسلم ہے کیونکہ ان کے ہاں آفرینش انسان کا زمانہ اب تک تخمیناً سات ہزار برس کا ہے اور اس بات کا نصف دنیا سے زائد کو یقین ہے۔ اہل ہندو اہل پارس اگرچہ لاکھوں برس کی تعداد بیان کرتے ہیں مگر پھر بھی ایک ابتداء معلوم ہوتی ہے البتہ حکمائِ یونان اور دیگر فلاسفہ ہر نوع کو قدیم زمانی کہتے ہیں علی سبیل البدلیۃ اس کے افراد کو قدیم زمانی مانتے ہیں خصوصاً دہریہ۔ اس فرقہ کا یہ اعتقاد ہے کہ جو کچھ تجددات و انقلابات جہان میں ہو رہے ہیں سب گردش زمان اور اوضاع فلکیہ و تاثیرات سیارات سے ہوتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں بعض ان اوضاع میں سے رات دن میں بعض مہینے میں بعض فصل میں بعض ایک برس میں بعض قرانات میں متبدل ہوجاتے ہیں اور بعض بہت دراز زمانہ میں اکوارو ادوار کہتے ہیں اس سے انقلابات عظیمہ اور انواع مختلفہ پیدا ہوتے ہیں۔ آبادیاں جنگل اور جنگل آبادی خشکی دریا اور دریا خشک جنگل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح بنی آدم اوردیگر انواع حیوانات پیدا ہوتے ہیں اور جو پیدا تھے مٹ جاتے ہیں اور ایک نوع بدل کر دوسری نوع بن جاتی ہے۔ انسانوں سے بندر اور بندروں سے انسان ترقی کر کے ہوجاتے ہیں۔ ان کے عقول کی حق سبحانہ ٗ کی طرف رسائی نہیں ہوتی۔ ان کے مذہب کا ابطال صرف ایک اس بات سے ہوسکتا ہے کہ نسل انسانی کا ایک زمانہ میں بالکل نہ پایا جانا حال کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا ہے۔ حال کے محققوں نے کوہ ہمالیہ کی بلند چوٹیوں پر پتھروں میں سیپیاں اور گھونگھے دیکھے ہیں جس سے علم جو الجی کے واقف کاروں کو کامل یقین ہے کہ کسی زمانہ میں تمام ہندوستان سمندر کا سطح تھا اور سمندر کا پانی ان چوٹیوں کے اوپر تک تھا پھر گھٹتے گھٹتے یہ زمین کھل گئی۔ پھر جب کوہ ہمالیہ کی چوٹیاں سمندر کے پانی میں غرق تھیں تو پھر مساحت اور ارتفاع کے لحاظ سے قیاس ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسا نہ تھا جو پانی سے ڈھکا ہوا نہ ہو پھر جب ایسا ہوگا تو نسل انسانی کا زمین پر قطعاً وجود نہ ہوگا اور اسی طرح سیاحوں کو اور ملکوں کے پہاڑوں پر بھی سمندر کے نشان معلوم ہوئے ہیں۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ نسل انسانی ایک زمانہ میں دنیا پر نہ تھی تو ثابت ہوگیا کہ ان چیزوں کا پیدا کرنا دہر اور اس کے کسی وضع کا مقتضٰی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت سے ہے 1 ؎۔ اگر یوں کہیں کہ ممکن ہے کہ اس سے پہلے نسل انسانی تھی اور مدتوں رہ کر نیست ہوگئی پھر باردیگر پھیلی اور اسی طرح پھر نیست ہوگی اور پھر زمین پر آباد ہوگی اور یہی تسلسل رہے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے نسل انسانی کا وجود ہونا کس دلیل سے معلوم ہوا ؟ کیا اس سے پہلے کے کچھ آثار باقیہ پائے گئے یا قواعد زیچ و تقویم سے معلوم ہوا یا کسی دیکھنے والے مخبر صادق نے خبر دی ؟ پھر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو محض عقلی ڈھکوسلا اور وسوسہ شیطانی ہے۔ شیئامذکورا کا لفظ ان سب باتوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ انسان سے مراد نوع نہیں بلکہ ہر ایک انسان تب مطلب صاف ہے۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ کی ذات کا ثبوت دہریوں کا رد ہے اور نیز توحید کا بھی ثبوت ہے کس لیے کہ جمیع افراد انسانیہ حادث ہیں ان کو کارخانہ قدرت اور قضاء و قدر میں کچھ دخل نہیں اور نیز دوسرے پہلو میں قیامت کا بھی ثبوت ہے کہ ہم باردیگر پھر نیست کرنے پر قادر ہیں اور حشر میں پھر زندہ کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ فائدہ : دھر زمانہ دراز حین اس کا ایک ٹکڑا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ابن آدم مجھے گالیاں دیا کرتا ہے، جب وہ دہر کو گالیاں دیا کرتا ہے۔ میں ہوں دہر میرے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات دن کو پلٹتا ہوں۔ متفق علیہ۔ یعنی دہر کی طرف اس کا حوادث کو منسوب کرنا بےعقلی ہے۔ وہ دہر کیا کرتا ہے جو کچھ کرتا ہوں میں ہی کرتا ہوں۔ انجام کار دہریہ بھی جب اس سے دہر کی حقیقت دریافت کیا جائے تو اللہ جل جلالہ ٗ کی طرف آرہتا ہے۔ صرف لفظوں کا فرق رہ جاتا ہے یہی اس کی گمراہی ہے کہ پھر بھی وہ حق سبحانہ ٗ کا انکار کرتا ہے اور مادی و طبعی لوگوں کا بھی اسی کے قریب قریب مذہب ہے۔ وہ دہر کی جگہ مادہ کو پیٹا کرتے ہیں۔ نئے فلسفہ نے آج کل یورپ میں دہریت اور الحاد اور مادیت کا دریا بہا رکھا ہے ان کے کہربائی تجربات ان کی آنکھوں پر حجاب ہو رہے ہیں۔ اس اندھیری رات میں ادھر ادھر ٹکریں مارتے پھرتے ہیں۔ 1 ؎ کیونکہ ان کے نزدیک قدم مقتضائے دہر ہے اور وہ باطل ہوگیا۔ 12 منہ اس کے بعد نسل انسانی پھیلنے کا طریقہ بتلاتا ہے جو خاص اسی کے قبضہ و تصرف کی بات ہے۔ فقال اناخلقنا الانسان من نطفۃ امشاج کہ اور کسی نے نہیں بلکہ خود ہم نے انسان کو منی کے لچھے سے پیدا کردیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش پیچھے کی سورتوں میں بیان ہوچکی کہ ان کو مٹی سے بنایا اس لیے ان کا ذکر چھوڑ دیا گیا۔ مقصود نسل انسانی کا پھیلانا بتانا ہے گرچہ مبداء ان کا آدم ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل قطرہ منی سے شروع ہوتی ہے۔ منی کو امشاج چیپ اور لچھ کہتے ہیں۔ انسان کی حقیقت بیان کرتا ہے کہ آپ جو زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور خدا کا انکار کر کے کہیں دہر کو کہیں مادہ کو خالق کہتے ہیں آپ کو علم و شعور ہی کیا ہے۔ آپ پہلے اپنی اصل کو تو بیان کر دیجئے کہ وہ منی جس میں چیپ تھا اور وہ نرومادہ کی منی رحم میں مل کر لچھ سا ہوگیا تھا وہ کون کون سی غذائوں کے کھانے سے بنی تھی اور رحم میں اس پر کس کس وقت کیا کیا تغیرات پیدا ہوئے تھے اور اس سے پہلے آپ کیا تھے آپ کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ پھر جب آپ کو ان باتوں کا علم نہیں تو آپ کس اعتماد پر دہر اور مادہ کو خالق کہتے ہیں ؟ اور اگر کوئی بھی خالق نہیں تو پھر آپ خودبخود کیونکر بتدریج بن گئے۔ فعل بغیر فاعل کے اور حادث بغیر محدث کے کیونکر ہوگیا ؟ اور یہ بھی اشارہ ہے کہ یہی نطفہ کا لچھ تو ہے جس میں انسان کی تمام قوتیں اور اعضاء ودیعت ہیں۔ بھلا اب کوئی بتلا تو دے کہ نطفہ کے کون سے جز میں سے کون سی قوت اور کون سا عضو ودیعت رکھا گیا ہے ؟ اور یہ بھی کہ آپ ایسی حقیر اور ناپاک چیز سے بنے ہیں جو کپڑے پر لگے تو دھوئی جائے پھر یہ غرور یہ باتیں ؟ اب انسان کے دنیا میں پھیلانے اور پیدا کرنے کا راز بھی بتلاتا ہے۔ نبتلیہ کہ ہم اس کو آزمائیں کہ دنیا کی اندھیری میں کیا کرتا ہے اور ہماری طرف بھی متوجہ ہوتا ہے یا لذات و شہوات ہی پر فریفتہ رہتا ہے اور اسی لیے فجعلناہ سمیعاً بصیراً اس کو ہم نے سننے دیکھنے والا بھی کردیا۔ کان دیے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی باتیں سن کر ایمان لائے، اگلے مشرکوں کے حالات اور ان کی آفات سن کر عبرت کرے، ان بیہودہ کاموں سے بچے۔ آنکھ دی ہیں کہ آیات قدرت دیکھ کر ایمان لائے، برے بھلے کو دیکھے اور امتیاز کرے لوگوں کے غلط افسانوں ہی پر اڑا نہ رہے۔ دنیا کی رواروی اور اس کی بےثباتی دیکھ کر اپنے چلنے کی بھی فکر کرے۔ فائدہ : انسان کمبخت بڑی مصیبت میں ہے لذات و شہوات دنیا اس کے کانوں کو پھر آنکھوں کو اندھا کر کے اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں عقل سلیم دارآخرت کی طرف کھینچ رہی ہے ملہم غیبی پڑا پکار رہا ہے کہ او نادان ! ادھر نہ جا آگے جہنم کا عمیق گڑھا ہے۔ ادھر بیماری، فکرِمعاش، موت احباب و اقارب، رنج و الم اور بھی کھائے جاتے ہیں اور مہلت تھوڑی ؎ فکرِمعاش عشق بتاں یاد رفتگاں اس اتنی سی زیست پر کوئی کیا کیا کرے اسی لیے بعض حضرات اکابر نے یہ کہہ دیا کہ کاش ہم اسی حالت میں رہتے کہ شیئاً مذکورا نہ ہوتے۔ اس آزمائش کی پھر تشریح کرتا ہے۔ اناھدیناہ السبیل کہ ہم نے انسان کو کان آنکھ دے کر بری بھلی سب راہیں دکھا دیں اور بتا دیں کہ یہ برا رستہ ہے وہ دیکھ سیدھا جہنم کو جاتا ہے اور یہ رستہ سیدھا جنت کو جاتا ہے اور تجھے دونوں پر چلنے کا قضاء وقدر نے اختیار دیا ہے۔ فاما شاکراً واماکفورا پھر کچھ شاکر ہوگئے، جنت کی راہ پر چلے گئے اور کچھ کافر ناشکر ہوگئے جہنم کی راہ پر چلے۔ یا یوں کہو کہ اب تو خواہ شاکر ہو یا کافر پر یہ بھی یاد رہے اناجعلنا للکافرین سلاسل واغلالاوسعیرا کہ ہم نے کافروں، ناشکروں کے لیے زنجیریں اور طوق کان اور آنکھ کی ناشکری اور ان کو اچھے کاموں میں استعمال نہ کرنے پر اور دہکتی آگ، دل اور عقل کو راہ راست پر کام نہ لانے پر تیار کر رکھی ہے۔ ذرا مرنے کی دیر ہے اور جو شاکر ہیں وہی ابرار ہیں کس لیے کہ شکر منعم کے احسان کا بدلہ ہاتھ سے ‘ پائوں سے ‘ دل سے ‘ ادا کرنے کو کہتے ہیں اور اسی کا نام نیکی ہے۔ اس میں مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی ‘ خیرات ‘ صدقات ‘ ہمدردی بھی آگئی کیونکہ نعمتوں کے بدلہ کی اس کو کیا حاجت ہے ؟ اس کی مخلوق کی حاجت براری اس کے قائم مقام ہے اور اسی لیے آیا ہے کہ جو کوئی فقیر مسکین حاجت مند کو دیتا ہے یا کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو گویا ہماری عبادت کرتا ہے اور ہم کو دیتا ہے اور نماز و عبادت و ذکر بھی آگیا کس لیے کہ جان و تن کو اسی کی طرف جھکانا اس نعمت کا بدلہ ہے اور بری باتوں سے پرہیز بھی آگیا کس لیے کہ جو کام کرتا ہے درحقیقت وہ ان اعضاء اور دل کی قدردانی نہیں کرتا پھر ان نیکیوں کے لیے آخرت میں کیا ہے ؟ فرماتا ہے ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجہا کافورا کہ نیکوں کو جنت میں شراب طہور کا وہ پیالہ پینے کو ملے گا جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی یا اس کا مزاج کافوری ہوگا۔ کوئی گرمی اور سوزش نہ ہوگی تاکہ حشر کی گرمی سب دور ہوجائے۔ ان آیات میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں منکر زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں کسی کے گلے میں محبت زر کی زنجیر ہے، کسی کے زن و فرزند کی، کوئی باغ اور کھیتی اور تعمیر مکانات کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے ‘ کوئی ملک گیری کی زنجیر میں پابند ہے۔ الغرض 1 ؎ علائقِ دنیا کی زنجیریں ان کے لیے تیار ہیں تازیست ان سے چھٹکارا نہیں کہ ذرا بھی معرفت و عبادت کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ اور ان کے گلوں میں طوق بھی پڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے گلے میں نوکری کا طوق ہے کہ امیروں اور بادشاہوں کی خدمت اور حاضر باشی سے دم بھر کی مہلت نہیں۔ کسی کے گلے میں شراب اور فاحشہ عورتوں کی محبت کا طوق پڑا ہوا ہے۔ کسی کے گلے میں دنیا طلبی اور حب جاہ و مال کا طوق ہے جو ایک دم بھی اس کو خدا کی طرف پھرنے اور متوجہ ہونے نہیں دیتا اور ان کے لیے دہکتی آگ بھی تیار ہے وہ کیا ؟ عداوت و حسد کی آگ ناکامی کی آگ حرس و شہوت کی آگ یا فوائدِ متوہمہ کے فوت ہوجانے کی آگ۔ یہ آگ ہر وقت دل میں جلتی رہتی ہے۔ محبتِ الٰہی اور رغبت دارآخرت کو وہاں گنجائش نہیں ہوتی۔ مرنے کے بعد بھی یہی زنجیر اور یہی طوق اور یہی آگ جہنم میں توے کی بڑی زنجیر اور گراں بار طوق اور دہکتی آگ ہوجائے گی۔ جس طرح یہاں چھٹکارا نہ تھا وہاں بھی ان سے رستگاری نہ ہوگی۔ برخلاف ابرار و اہل ایمان کے کہ ان کو شراب محبت الٰہی کا پیالہ پلایا جاتا ہے جس میں کافور کا اثر ہے جس سے وہ باوجود علائقِ دنیاویہ کے سب سے آزاد رہتے ہیں ان کے دلوں سے یہ آگ سرد کردی جاتی ہے۔ یہی پیالہ جنت میں شراب طہور کی شکل میں متشکل ہو کر سامنے آئے گا اور اس پیالہ ہی پر بس نہیں بلکہ عینا یشرب بہا عباد اللہ۔ وہ اللہ کے نیک بندے ایک چشمہ کو پئیں گے یعنی ان کے لیے چشمہ تیار ہے جو جاری ہے کبھی بند نہیں ہوتا، نہ اس میں کمی ہوتی ہے نہ ہوگی اور نہ صرف پئیں گے بلکہ یفجر ونہا تفجیراً کہ اس کو بہائیں گے جس طرح سے چاہیں گے کام میں لائیں گے۔ دنیا میں جو نہ صرف ایک ہی جام پیتے ہیں بلکہ چشمہ محبت الٰہی سے پیتے اور اس کو بہاتے اور ان کے ہر کام میں اور ہر بات میں اور ہر شان میں محبت الٰہی کا نشہ ہے وہ وہاں چشمہ ٔ کافور 2 ؎ کا بھی اسی طرح دل کھول کر استعمال کریں گے اور وہ کافور یہ دنیا کا کافور نہیں بلکہ وہ ایک دوسری چیز ہے جس کو اس کافور سے کسی خاص خاصیت میں مناسبت ہے۔ سردی اور سپید تقویت دل و دماغ ہیں 1 ؎ ان آیات میں انسان کا انجام اور آخرت کا بیان ہے۔ 2 ؎ سبحان اللہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو کیا ہی کافوری شراب کا پیالہ بلکہ چشمہ پلایا گیا کہ اس کے نشہ میں دنیا سردتھی اور پھر اس کو کیسا بہایا جس کی نالیاں ہند اور چین اور ترکستان ادھر بربر کے خشک میدانوں تک گئیں اور وہاں بھی لاکھوں کو مست و بےخود کردیا۔ پھر انہوں نے ساقی بن کر ایسا پلایا کہ جس کا نشہ اب تک نہیں اترا ان کے مزارات مقدسہ سے اب تک وہی مستی کی بو آتی ہے اور کفار کا زنجیروں اور طوق اور دہکتی آگ میں گرفتار ہونا ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 76:7–14

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

(ابرار وہ ہیں) جو نذر پوری کرتے ہیں (رح) اور اس دن سے ڈرتے ہیں کہ جس کا شر پھیل پڑے گا

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور وہ اس کی محبت پر فقیر اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلایا کرتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں) ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو خاص اللہ کے لیے نہ ہم کو تم سے بدلا پانا مقصود ہے نہ شکرگزاری۔

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب سے ایک اداس (اور) ہولناک دن سے ڈرتے ہیں

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر ان کو اللہ اس روز کے شر سے بھی محفوظ رکھے گا اور ان کے سامنے تازگی اور خوشی لائے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاکیں دے گا

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہاں چھپر کھٹوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے نہ وہاں دھوپ دیکھیں گے نہ سردی اور ان کے سائے ان پر جھکے پڑتے ہوں گے

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور پھلوں کے گچھے بہت ہی پاس اٹک رہے ہوں گے۔

ترکیب : یوفون جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار النذر فی اللغۃ الایجاب والمر ادھنا ما اوجب اللہ علی العباد اوما اوحب العبد و علی نفسہ من فعل الخیرات و ترک المنکرات والوفاء الاتیان بما اوجب۔ المستطیر اسم الفاعل من باب الاستفعال ماخوذ من الطیران العرب تقول استطار الحریق اذا انتشرویطمعون الجملۃ معطوفۃ علیٰ سابقۃ انما نطعمکم الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال بتقدیر القول ای قائلین انما الخ عبوساً تعبس وتکلح فیہ وجوہ الناس من شدتہ وھولہ فالمعنیٰ انہ ذوعبوس القمطریر اشد مایکون فی الایام واطولہ فی البلاء قال مجاہدان العبوس بالشفتین والقمطریر بالجہتہ والحاجبین۔ متکئین حال من ھم فی جزاہم والعامل جزیٰ الارائک جمع اریکۃ وھی بیت یزیّن بالثیاب والاسرۃ والستطور لایرون الجملۃ فی محل نصب علی الحال من مفعول جزاھم اومن الضمیر فی متکئین فعلی الاول حال متراوفۃ وعلی الثانی متداخلۃ۔ اوصفۃ اخریٰ الجنۃ۔ ودانیہ من الدنوبمعنی القرب قرء الجمہور بالنصب عطف علی ماقبلھا حال مثلھا اوصفۃ لمحذوف معطوف علی جنۃٍ ۔ وقریٔ بالرفع علی انہ خبرو المبتدء ظلالھا والجملۃ فی خیرالحال والمعنی لایرون فیہا شمسا ولازمہریرا والحال ان ظلالھا دانیۃ۔ وعلی تقدیر النصب ظلالھا مبتدء علیھم الخبرو ذللت الجملۃ حال من دانیۃ اومعطوفۃ علی دانیۃ وعلی تقدیر رفع دانیۃ علی جملۃ اسمیۃ والقطوف جمع قطف بالکسر وھوالعنقود۔ خوشہ۔ تفسیر : یہاں سے ان ابرار کے اوصاف و حالات بیان فرماتا ہے جن کے سبب وہ ابرار کئے گئے۔ (1) یوفون بالنذر کہ وہ نذر پوری کیا کرتے ہیں۔ نذر پیمان (ومنہ نذرت للہ کذا النذر بالضم والکسر) (صراح) وفا پورا کرنا۔ قتادہ و مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی عبادت وطاعت کے ہیں لغوی اور شرعی معنی کے لحاظ سے اس میں مفسرین کے تین قول ہیں۔ (اول) نذرشرعی کہ بندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کو اپنے اوپر واجب کرلے کہ میں اللہ کے لیے یوں کروں گا یا یہ کام نہ کروں گا۔ اب عام ہے کہ یہ نذر کسی آنے والی مراد کے حاصل ہونے یا بلا کے دفاع ہونے پر کی ہو جیسا کہ عام دستور ہے یا نہیں مگر اس قسم کی نذر کی بابت پیغمبر خدا ﷺ نے فرما دیا ہے۔ لاتنذروا فان النذر لاتغنی من القدر شیئا وانما یستخرج بہ من البخیل۔ (متفق علیہ) ۔ کہ نذر نہ مانا کرو کس لیے کہ تقدیرِ الٰہی کو نذر ماننا کچھ ٹال نہیں سکتا جو ہونا ہے ہو کر رہے گا، ہزار نذر مانا کرو بلکہ اس حیلہ سے بخیل کا مال خدا پاک باہر نکلوا دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ جو بغیر نذر مانے کچھ بھی للہ نہ دیتا ہو اور وہ نذر کو تقدیرِ الٰہی کے پلٹنے کا وسیلہ بنائے۔ یہ اس بخیل کے مال صرف ہونے کا سبب ہے۔ نذرممنوع کاموں میں بھی جو اس کی قدرت نہ ہوں نہ ماننی چاہیے۔ کیونکہ مسلم نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ مصیبت میں اور جن کاموں کے کرنے کی قدرت نہیں رکھتا نذر کا پورا کرنا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں اس قسم کی نذر کو پورا نہ کرے مگر کفارہ لازم ہوگا کیونکہ ابودائود و ترمذی نے روایت کی ہے کہ لانذرفی معصیۃ اللہ و کفارتہ کفارۃ الیمین اور اسی طرح ابن ماجہ و ابودائود نے یہ جملہ بھی نقل کیا ہے، من نذر نذراً لایطیقہ فکفارتہ یمین 1 ؎۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں یہ نذر دراصل نذر نہیں کفارہ واجب نہیں نہ اس کو پورا کرے۔ 1 ؎ یمین خدا کے نام یا صفات کی قسم کھانا کہ ایسا کروں گا یا نہ کروں گا اور نذر بغیر قسم کے کوئی کام واجب کرلینا کہ تین روزے اللہ کے لیے رکھوں گا یا صدقہ اس قدر کروں گا وغیرہ۔ اگر برے کاموں کی بابت یاغیرمقدور کی بابت نہیں تو وفا کرنا لازم ہے ورنہ گنہگار ہوگا۔ اور ترک میں کفارہ ہے دس مسکینوں کو کھانا یا کپڑا دینا یا بردہ آزاد کرنا ورنہ تین روزے رکھنا۔ 12 منہ باقی اور سب نذروں کا پورا کرنا واجب ہے کس لیے کہ اللہ تعالیٰ ابرار کی شان میں فرماتا ہے۔ یوفون بالنذر اور ایک جگہ یوں فرمایا ہے۔ ولیوفوا نذورھم کہ اپنی نذریں پوری کرو۔ پھر جو اپنی مانی نذر کے پورا کرنے میں آمادہ ہے وہ خدا پاک کے واجب کردہ احکام و عبادت پر بدرجہ اولیٰ سرگرم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت میں نذر سے مراد واجبات ہیں۔ عام ہے کہ ازخودبندہ نے اپنے اوپر واجب کرلیے ہوں یا خدا تعالیٰ نے واجب کئے۔ تیسرا قول کلبی کا ہے کہ نذر سے مراد عہد ہے عہد وفا کرنے کی قرآن میں تاکید ہے عام ہے کہ باہمی جائز عہد ہو یا خدا تعالیٰ کا عہد جو نبیوں کی معرفت بندھا ہے شریعت و احکام کی بجاآوری کا۔ (2) یخافون یوماً کان شرہ مستطیراً کہ وہ اس دن کے شر سے بھی ڈرا کرتے ہیں کہ جس کا شر پھیل پڑے گا۔ گرمی اور سردی کا جس طرح دنیا میں ایک عام اثر ہوتا ہے اسی طرح قیامت کا شر اور اس کا ہول اور دنیا کے زیروزبر ہونے کا حادثہ اور پھر نفخ صور اور اس کے بعد قبروں سے نکلنے کا حادثہ ایک عام وحشت انگیز حادثہ ہوگا۔ وہ ابرار اس دن کے حادثہ عظیمہ سے ڈرا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس دن کی تیاری میں نذریں پوری کرتے ہیں اور اپنے جان و مال کو انہوں نے دنیا میں نذر اللہ کردیا ہے اس لیے ویطمعون الطعام کھانا کھلاتے ہیں۔ علی حبہ محض اللہ ہی کی محبت سے نہ ریاکاری اور شہرت کے لیے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ باوجودیکہ اس کھانے کی ان کو رغبت و محبت ہوتی اور حاجت دامن گیر ہوتی ہے اس پر بھی وہ کھلا دیتے ہیں کس کو ؟ مسکینا فقیر کو ویتیماً یتم کو واسیرا قیدی کو۔ اگلے زمانہ میں قیدیوں کو شاہی خزانہ سے کھانا نہیں ملتا تھا وہ اپنی محنت مزدوری کر کے کھاتے ہیں۔ اس میں ان پر سختی گزرتی تھی، فاقہ کشی پر فاقہ کشی ہوتی تھی اس لیے ان کا کھلانا بھی اس حالت بےکسی میں بڑا عمدہ کام تھا۔ بعض علماء کہتے ہیں اسیر سے مراد وہ بےبس لوگ ہیں جو خود کوئی کام نہیں کرسکتے یا وہ لڑکے اور عورتیں اور غلام ہیں جو ظالموں کے پنجے میں گرفتار ہیں اور ان کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔ بیچارے ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اس میں بےزبان جانور بھی داخل ہیں جو ایسے موذیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہیں اور دانہ پانی نہیں ملتا اور ان پر اپنا کچھ احسان بھی نہیں جتلاتے بلکہ یہ کہتے ہیں انما نطعکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزائً و لاشکورا کہ ہم تو خالص اللہ کے لیے تمہیں کھانا کھلاتے ہیں کہ وہ خوش ہوجائے اپنی مخلوق پر رحم کرنے سے نہ ہم کو تم سے اس کا بدلہ مقصود ہے نہ یہ کہ تم شکرگزاری کرو ہماری تعریف و مدح کرتے پھرو اور یہ بھی کہتے ہیں انانخاف من ربنا یوماً عبوساً قمطریرا کہ ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس دن کے عذاب سے جو نہایت سخت اور دشوار گزار ہوگا اس روز کے لیے یہ ذخیرہ جمع کرتے ہیں۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ اللہ کے نیک بندے یہ باتیں ہر مسکین و یتیم و اسیر کے سامنے زبان سے کہتے ہوں بلکہ ممکن ہے کہ زبان حال سے کہتے ہوں اور ان کے دل میں یہ مضمون ہو اور ان کی اس نیت اور حسن اخلاص کو خدا پاک ان کے قول سے تعبیر کرتا ہو اور ایسا ہوتا ہے اور یہی قول ہے۔ یوفون بالنذر سے لے کر یہاں تک کی آیات کے بارے میں ابن مردویہ نے ایک طویل قصہ نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حسنین ؓ کی بیماری میں نذرمانی تھی کہ تین روزے رکھوں گا۔ جب صاحبزادوں کو شفا ہوئی اور روزے رکھنے شروع کئے اور کھانے کے لیے بہزار دقت شمعون خیبری یہودی غلہ فروش سے کچھ لا کر روٹیاں پکائیں، شام کو افطار کر کے جب کھانے بیٹھے اور آپ کے سامنے حضرت فاطمہ ؓ اور آپ کی لونڈی فضہ بھی روزہ دار تھیں تو ایک مسکین نے سوال کیا۔ پانچوں روٹی اس کو اٹھا دیں۔ اس پر یہ آیات ان کی مدح میں نازل ہوئیں۔ یہ ممکن ہے کس لیے کہ حضرت اہل بیت کرام ایسے ہی تھے مگر اول تو اس روایت کی صحت میں کلام ہے دوم اول سے آخر تک سلسلہ وار عموماً ہر انسان کی بابت کلام چلا آرہا ہے، تخصیص کسی کی نہیں۔ ہاں اس عموم میں حضرات اہل بیت کرام بدرجہ اولیٰ شریک ہیں۔ (تفسیر کبیر) ۔ اس کے بعد ان ابرار کی جزائے خیر کا ذکر کرتا ہے۔ فقال فوقھم اللہ شرذلک الیوم کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس روز کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ ان پر کوئی مصیبت اور آفت اس روز نہ آئے گی۔ اور نہ صرف یہی بات کہ ان کو شر سے بچا کر نعمتوں سے محروم رکھے گا بلکہ ولقھم نضرۃ وسرورا ان کو فرحت اور خوشی عطا کرے گا اور دیدارِ الٰہی کی فرحت سے شادمان ہوں گے۔ یہ جنت روحانی تھی اس کے بعد جنت جسمانی کا ذکر کرتا ہے۔ وجزاھم بماصبرواجنۃً و حریراً کہ ان کے صبر کے بدلے میں جو نذر کے وفا کرنے اور اسیروں اور یتیموں اور فقیروں کے کھلانے میں تکالیف برداشت کرتے تھے جنت دے گا اور اس میں ریشمی لباس پہننے کو ملے گا۔ اور نہ یہی کہ صرف ایسے کپڑے اور خوشی ملے گی بلکہ ان کے رہنے کے لیے اور بیٹھنے اور سونے کے لیے متکئین فیہا علی الارائک چھپر کھٹ اور طلائی پلنگ ملیں گے جن پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ لایرون فیہا شمساً ولازمہریرا جنت میں نہ دھوپ دیکھیں گے کس لیے کہ وہاں عرش کا سایہ ہوگا۔ آفتاب کی روشنی کی وہاں حاجت نہ ہوگی اور نہ وہاں سردی ہوگی ایک معتدل موسم ہوگا جو بہت ہی پربہار موسم ہوگا۔ نہ خزاں کا ڈر نہ برسات کی کیچڑ نہ مچھر نہ پسو، نہ گرمی نہ سردی۔ دنیا میں جو نہایت پربہار موسم باغوں میں ہوا کرتا ہے اور جو عمدہ ملکوں میں ہوتا ہے یہ وہاں کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے۔ ودانیۃً علیہم ظلالہا اور جنت کے سائے ان پر جھکے ہوں گے گرچہ وہاں آفتاب نہ ہوگا اور نہ اس کی دھوپ مگر اور اجرام نورانیہ بھی پرتو افگن ہوتے ہیں کبھی طبیعت انسانی ہمیشہ یکساں حالت سے گھبرا جاتی ہے اس لیے کبھی اس کے تبدل و تغیر میں سرور پاتا ہے اس واسطے ان کے لیے بڑے دراز سائے ہوں گے جن کے نیچے تختوں پر تکیہ لگا کر بیٹھیں گے اور آپس میں باتیں کریں گے اور دنیا کے تذکرے بھی آئیں گے اور بےثمر درختوں کے سائے نہ ہوں گے بلکہ وذللت قطوفہا تذلیلا ان کے پھل ان کے بس میں ہوں گے۔ سایوں کے ساتھ پھل بھی جھکے ہوئے ہوں گے جن کے لینے اور توڑنے میں کوئی دقت نہ ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کی ہر ایک صفت نیک ان کے لیے ایک نعمت بن کر سامنے آئے گی۔ ان کی فرحت و خوشی ان کے دل غمناک اور اندوہگیں کے خوف و خطر کا نتیجہ ہے وہاں ان میں اس کے بدلے خوشی بھر دی جائے گی اور ان کے صبر کی تپش اور خدا کی راہ میں سختیاں اٹھانے کا ثمرہ جنت اور نرم لباس ہے اور وہ خود خدا کے آگے جھکے ہوئے تھے وہاں جنت میں درخت میوہ دار ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ میوے ان کے اعمال صالحہ و معارفِ الٰہیہ اور اس کے شوق و مواعید ہیں۔
Ayahs 76:15–22

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشے کے آبخوروں کا دور چل رہا ہوگا

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی چاندی کے ‘ شیشے جو ایک خاص انداز پر ڈھالے گئے ہوں گے

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو پیالہ پلایا جائے گا کہ جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

وہاں اس چشمہ میں سے بھی پئیں گے کہ جس کا نام سلسبیل ہوگا

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس سدا رہنے والے لڑکے (خادم) گھومتے ہوں گے۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

جب (اے مخاطب ! ) تو ان لوگوں کو دیکھے گا ان کو خیال کرے گا بکھرے ہوئے موتی ہیں (صفائی اور خوبصورتی میں)

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اور جب تو (وہاں کی نعمتیں) دیکھے گا تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازوسامان نظر آئے گا۔ ان (جنتیوں) پر سبز ریشمی باریک اور دبیز کپڑے ہوں گے اور چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو شراب طہور پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

(کہا جائے گا) یہ تمہارے (نیک اعمال کا) بدلہ ہے اور کوششیں مقبول ہوئیں۔

ترکیب : انیۃ جمع انا ککساء واکسیۃ وغطاً واغطیۃ والاصل آء ینۃ بھمزتین الاولی مزیدۃ للجمع والثانیۃ فاء والکلمۃ فقلبت الثانیۃ الفاء من فضۃ بیان لانیۃ واکواب جمع کو ب وھوالکوزالکبیر (کوزہ بےدستہ۔ سراح) عطف علی آنیۃ کانت قوار یرالجملۃ صفۃ لاکواب والقواریر جمع قارورۃ (شیشہ) قراء نافع والکسائی قواریراً بالتنوین فی الموضعین مع الوصل ومع الوقف بالالف کسلا سلا وقرء حمزۃ بعدم التنوین فیہا وعدم الوقف بالالف بصیغۃ منتھی الجموع والثانی بدل من الاول۔ وقریٔ برفع الثانی علی تقدیرھی قوار برقدروھا صفۃ لقواریر عینا منصوب علی انھا بدل من کأس واذارایت ثم ثم فی موضع النصب علی الظرف یعنی فی الجنۃ وفی مفعول رایت اختلاف قیل مقدروقیل لاعالیھم قرء نافع وحمزہ بسکون الیاء وکسرالھاء علی انہ خبرمقدم وثیاب مبتداء موخر وقرء الباقون بفتح الیاء وضم الھا لتحرک ماقبلھا علی انہ ظرف کانہ قیل فوقھم ثیاب فنصبہ علی الظرفیۃ۔ وقیل نصب علیھم علی الحال امامن ھم فی قولہ یطوف علیہم اومن الولدان ای اذارایتھم حسبتھم لؤ لؤاً منثورا فی حال علو الثیاب ابدانھم والجملۃ صفۃٌ اخریٰ لولدان وقریٔ علیھم خضرٍ بالرفع لغت لثیابٍ وبالجر نعت لسندس لکونہ اسم جنت واستبرق بالرفع عطفاً علی ثیاب وحلواعطف علیٰ یطوف علیھم۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے بیان سابق کا کہ جنت میں جنتیوں کے لیے کھانے پینے کا بھی شاہانہ سامان ہوگا صرف میوئوں ہی پر بس نہ ہوگی برتن اور آبخورے اور لوٹے وغیرہ ظروف چاندی کے ہوں گے مگر چاندی جیسی چمک اور صفائی آئینہ جیسی ہوگی۔ شیشہ دنیا میں مٹی کے مادہ سے ہوتا ہے وہاں کے شیشے کا مادہ چاندی ہوگا۔ ایسی چیز دنیا میں کسی کے پاس نہیں کہ مادہ تو چاندی ہو اور صفائی میں شیشہ ہو اور پھر وہ برتن بےڈول نہ ہوں گے بلکہ قدروھا تقدیر ایک عجیب صنعت اور انداز سے بنائے اور ڈھالے جائیں گے اور ہر ایک برتن میں وقت حاجت کی رعایت ہوگی جس قدر پانی اور کھانا مطلوب ہو اور جس موقع کے لیے ہو اتنا ہی اس میں آئے۔ اور سونے کے بھی برتن ہوں گے جیسا کہ سورة زخرف میں آیا ہے یطاف علیہم بصحافٍ من ذھب ٍ واکواب ہر موقع اور محل کے مناسب کہیں طلائی کہیں نقرئی برتن ہوں گے اور یطاف میں اشارہ ہے کہ کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر اوقات انہیں برتنوں کی آمدو ورفت رہے گی، خادمان پر یرولائیں گے لے جائیں گے، عیش و نشاط کا ایک تار بندھا رہے گا۔ ان کے صبر کا بدلہ ہے جو دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں نہ کھاتے تھے اور فقیرانہ گزر کرتے تھے اور ایسے لذیذ کھانوں کے بعد یا ساتھ کھانا جلد ہضم ہونے کے لیے ویسقون فیہا کا سا کأن مزاجہا زنجبیلا ان کو ایک ایسی عمدہ چیز کا پیالہ پلایا جائے گا کہ جس کا مزاج اور کیفیت یا آمیزش سونٹھ کی ہوگی تاکہ حرارت عزیزی جوش میں آئے اور عیش و نشاط کا لطف تازہ ہو۔ اور شوق دیدارِ الٰہی بڑھے تاکہ شوق کے بعد جو چیز ملے اس کی قدر اور لذت زیادہ ہو۔ اول مرتبہ کا فوری شراب کا پیالہ پلایا جانا فرمایا تھا کہ حشر کی گرمی اور ہموم و غموم کی تپش بالکل جاتی رہے بعد شراب زنجبیل کا پلایا جانا فرمایا کہ ایک دوسری گرمی پیدا ہو جو لذات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے کس لیے کہ جب انسان کی اصل گرمی کم ہوجاتی ہے تو پھر نہ ہضم جید ہوتا ہے نہ کسی مہ جبین کے وصال کا شوق باقی رہتا ہے نہ دل میں چونچلے اور اچھل کود کی امنگ رہتی ہے۔ ایک مٹی کا بےحس ڈھیر رہ جاتا ہے جیسا کہ بڑھاپے میں ہوتا ہے۔ مگر وہ زنجبیل دنیا کی زنجبیل نہیں کہ جس میں سوزش اور کسی قدر مضرت ہو بلکہ عینا فیہا تسمیٰ سلسبیلا وہ جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔ سل سبیل کے معنی ہیں پوچھ رستہ۔ اس میں اشارہ ہے کہ اس کو پی کر شوق بڑھے گا اور ساقی سے محبوب کا رستہ پوچھے گا۔ یہ دنیا میں شراب شوق الٰہی اور اس کی گرمی کا اثر ہے جو خاصان خدا کو نصیب تھا۔ اور اس شراب کو اور ان لذیذ نعمتوں کو کون لائیں لے جائیں گے ؟ ویطوف علیہم ولدان ٌ مخلدون لڑکے جن کا لڑکپن ہمیشہ باقی رہے گا، جوان بوڑھے نہ ہوں گے، ہمیشہ اسی حالت پر رہیں گے۔ لڑکوں میں ایک شوخی شرارت ترت پھرت اور بھولا پن ہوتا ہے۔ ایسی نشاط کی مجلسوں میں ان کا کھانے پلانے میں کام کرنا عجب لطف دیتا ہے اور نیز وہ ان کے خلوت خانوں میں ان کی محبوب بیبیوں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے میں آجاسکتے ہیں ناگوار نہیں معلوم ہوتے نہ وہ عورت ہوتے ہیں اس لیے نہ مرد کو ان کا آنا برا معلوم ہوتا ہے۔ نہ عورت کو برخلاف جوان مرد و عورت کے اذارأ یتم حسبتھم لوء لوء اً منثورا وہ ایسے حسین اور پرنور ہوں گے کہ ان کو خدمت میں ادھر ادھر آتے جاتے ‘ کھڑے بیٹھے جو کوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ گویا لڑی کے موتی بکھر گئے ہوں۔ موتی تو اس لیے کہ وہ ایسے خوبصورت ہوں گے اور بکھرے ہوئے اس لیے کہ وہ کاروبار میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہوں گے ان کے حسن اور ہر نے پھرنے کی بکھرے ہوئے موتیوں کے ساتھ نہایت عمدہ تشبیہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ نعمتیں بیان کیں طلائی برتن وغیرہ کچھ انہیں پر موقوف نہیں بلکہ واذارایت ثم رایت نعیماً وملکا کبیرا کہ جب تو دیکھنے والے جنت میں نظر کرے گا تو ہزاروں نعمتیں اور بڑی سلطنت اور شاہانہ تکلفات و تجملات دیکھے گا۔ جو دنیا میں عمدہ باغات اور سنگ مرمر کے طلائی اور جواہرات کے کام کئے ہوئے مکانات اور بڑے بڑے عیش و نشاط کے سامان اور بہاریں بڑے بڑے بادشاہوں کو حاصل ہیں وہ لاکھواں حصہ بھی وہاں کی نعمتوں کا نہیں جو ایک ادنیٰ سے شخص کو جنت میں ملیں گی۔ اب ان کی پوشاکوں کا حال بیان فرماتا ہے علیھم ثیاب سندس کہ ان کے اوپر خلعت کے طور پر چمکنے والے اور صاف ریشم کے مہین کپڑے خضرسبز رنگ کے ہوں گے کہ ان کی سرسبزی کی دلیل ہو۔ واستبرق اور ریشم کے دبیز کپڑے بھی ہوں گے۔ کاشانی مخمل وغیرہ جس طرح دنیا میں ہے یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ شاہانہ لباس ہوگا۔ یہ ان کے صفات حمیدہ ہیں جو اس روز لباس بن کر ظہور کریں گے۔ لفظ عالیہم میں اسی طرف اشارہ ہے۔ کنگن پہنائے جانے کی وجہ : وحلوا اسا ورمن فضۃ اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سورة کہف میں ہے یحلون فیہا من اس اور من ذھب کہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، ممکن ہے کہ کسی کو سونے کے ‘ کسی کو چاندی کے ہر ایک کی رغبت یا مرتبے کے لحاظ سے یا کسی کو ایک وقت چاندی کے دوسرے وقت سونے کے پہنائے جائیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ چاندی کے خادمان جنت کے کنگن ہوں گے اور حلوا کی ضمیر انہیں کی طرف ہے اور اہل جنت کے سونے کے۔ سوال : زیور عورت کی زینت ہے مرد کے لیے عیب ہے پھر جنت میں پہنائے جانے کی کیا وجہ ؟ جواب : اس کے جواب میں علماء کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ کہ دراصل یہ چاندی اور سونے کا زیور وہاں کے خادموں اور عورتوں کو پہنایا جائے گا مگر لفظ میں جانب تذکیر کو غلبہ دے کر مذکر کے صیغے اس لیے لائے گئے کہ ان کی عورتوں اور خادموں کو پہنانا انہیں کی خوشنودی کا باعث ہے گویا ان کو پہنایا گیا۔ (2) یہ کہ مشرقی ملکوں میں قدیم رواج ہے کہ سردار کے ہاتھ میں چاندی یا سونے کا کڑا یا کنگن ڈالا جاتا ہے کہ چاندی سونا اس کے ہاتھ میں ہے گویا یہ سرداری کی علامت ہے جیسا کہ مہذب ملکوں میں تمغہ۔ پس اسی قسم کا یہ بھی جنت میں ان کی سرداری کا تمغہ ہوگا نہ زینت کے لیے زیور۔ (3) یہ کہ یہ کنایہ ہے ان کے ان انوار برکات سے جو دنیا میں انہوں نے ان متبرک ہاتھوں سے نیک اعمال کئے تھے۔ یہ ان کی روشنی اور نور ہوگا جو ہاتھ میں کنگن معلوم ہوگا۔ شراب طہور : وسقاھم ربھم شراباً طہوراً اور ان کا رب انہیں شراب طہور پلائے گا۔ طہور کہ جس میں نہ نشہ ہے نہ سرور اور نہ خمار۔ لافیھا غول و لاھم عنہا ینزفون وہ ان سب قباحتوں سے پاک ہوگی۔ اہل دل کہتے ہیں شراب طہور کنایہ ہے شراب وصال سے کہ ان کو وہاں اس معشوق و محبوب حقیقی کا بےکیف وصال نصیب ہوگا جس کے نشہ میں وہ ابدالآبادمسرور رہیں گے۔ نعمائِ جسمانیہ کے بعد نعمائِ روحانیہ کا ذکر کیا کہ اس کے آگے وہ سب ہیچ ہیں۔ اور سقاھم ربھم میں سقا کو ربہم کی طرف منسوب کرنے میں جو کچھ لطف ہے وہ اہل دل پر مخفی نہیں کہ وہ خود اپنے دست مبارک سے یہ جامِ مئے بھر بھر کر پلائیں گے پھر اس کے آگے اور کیا نعمت ہوگی ؟ اہل ظواہر کہتے ہیں خادم پلائیں گے مگر وہ اسی کے حکم سے پلائیں گے اس لیے ان کا پلانا گویا خود اسی کا پلانا ہے۔ اہل جنت سے کہا جائے گا ان ہذاکان لکم جزاء کہ یہ تھی تمہاری جزا اور تمہاری دنیاوی کوششوں ایمان اور عمل صالح اور محبت الٰہی کا بدلہ جو تمہارے لیے تیار تھا اس میں اطمینان دلایا جاتا ہے کہ تمہاری نیکی اور پرہیزگاری رائیگاں نہ جائے گی جیسا کہ منکر کہتے ہیں بلکہ اس کا بدلہ تیار ہے تمہارے مر کر وہاں جانے کی دیر ہے وکان سعیکم مشکورا اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی اس کی قدردانی کی گئی اکارت نہیں گئی برخلاف بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کی بیکار کوشش کے کہ وہ ان کا آگ کے آگے سر جھکانا ‘ ٹھنڈے پانیوں میں نہانا ‘ بتوں کے لیے نذرونیاز کرنا ‘ آگ میں جل مرنا ‘ گوشت اور نعمائِ الٰہیہ کو چھوڑنا ‘ نکاح نہ کر کے تجرد میں گدائی کر کے گزر کرنا سب رائیگاں جائے گا بلکہ اس بت پرستی اور مخالفت رسول پر اور الٹا عذاب ہوگا، محنت برباد گناہ لازم کیونکہ وہ محنت تعلیم شیطانی خدا سے روکنے والی تھی۔
Ayahs 76:23–26

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم نے ہی آپ پر قرآن ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پھر آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیا کریں اور ان میں سے کسی بدکار اور ناشکر کا کہا نہ مانا کریں

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کیا کریں

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کچھ رات سے اس کے لیے نماز بھی پڑھا کریں اور بڑی رات سے اس کی تسبیح کیا کرو۔

ترکیب : انانحن نزلنا مبتداء اوخبر۔ وقال الزجاج اوھھنا اولہ من الواولانھا بدل علی ان کل واحد اھل ٌ ان لایطاع بخلاف الواولانھا تدل علی ان لایطاع کلاھما وجازان یطاع احد ھما وقال الفراء او بمعنی لاکانہ قال ولاکفورا بکرۃ من اول النہار الی الزوال والاصیل من الزوال الی الغروب وھما منصوبان علی انھما ظرفان لاذکر ومن اللیل من للتبعیض والفاء دالۃ علی معنی الشرطیۃ والتقدیر مھما یکن من شیء فصل من اللیل اے فی اللیل لیلاً منصوب علیٰ انہ ظرف کسبحہ۔ تفسیر : اس سورة کی ابتداء میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آدمی معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں لایا گیا ایک قطرہ منی سے بنایا گیا جس میں اس کی تمام قوتیں اور کل ظاہر ہونے والے اوصاف و حالات ودیعت رکھے گئے تھے جس کی طرف لفظ امشاج میں اشارہ تھا اور یہ بیکار اور عبث نہیں عالم ہستی میں لایا گیا بلکہ امتحان اور آزمائش کے لیے لنبتلیہ اور اس امتحان میں پورا نکلنے کے اسباب (کان، آنکھ، عقل) بھی اس کو عطا ہوئے اور عقل زیادہ کارآمد تھی اس لیے اس کو جداگانہ ذکر کیا۔ انا ھدیناہ السبیل پھر اس امتحان میں کچھ کامل (شاکر) کچھ ناقص (ناشکر) نکلے۔ پھر ناقصوں کی سزا مختصر سے الفاظ میں بیان کرکے کاملوں کی جزاء حیات جاودانی اور وہاں کے عیش و نشاط بڑی تفصیل سے بیان فرمائے تاکہ معلوم ہو کہ رحمت کا پلہ جھکا ہوا ہے۔ اس کے بعد کاملوں کو چند باتوں سے جو مضر ہیں منع کرنا چاہتا ہے اور چند نافع چیزوں کے عمل میں لانے کی وہ ناصح مشفق تاکید فرماتا ہے مگر اس مشقت عمل کی آسانی کے لیے اول تو جزاء و سزا دار آخرت کی بیان فرما دی تھی۔ دوم اور بھی آنحضرت ﷺ اور آپ کی پاکباز جماعت کو اطمینان دلاتا ہے تاکہ بڑے فراخ حوصلہ اور اطمینان قلب سے عمل کریں۔ انانحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا کہ لوگوں کی آسانی کے لیے خود ہم نے اے محمد ﷺ تجھ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔ یہ محمد ﷺ نے ازخود نہیں بنا لیاے نہ یہ جن کا قول ہے نہ کسی کاہن کا۔ وہ ناقص جو اس میں شبہ کرتے ہیں اور اس کے بیان دارآخرت پر تمسخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کس نے دیکھا ہے کیا ان کا یہ وسوسہ شیطانی جو راہ سعادت کا روڑا ہے ٹھیک ہے یا ہمارا فرمانا جو ہم رب العالمین ‘ علام الغیوب ہو کر اس میں تاکید سے کہتے ہیں کہ بیشک ہم نے قرآن نازل کیا ہے بےکھٹکے تم پر اس عمل کرو۔ اس کے وعدوں کے موافق ضرور حیات جاودانی پاؤ گے اور مخالفت سے جہنم کے تاریک گڑھے میں جاؤ گے۔ فاصبرلحکم ربک پس اے محمد ﷺ اور اس کی جماعت اپنے رب کے حکم کی پابندی کر۔ یا اس حکم ربی کا انتظار کر جو تمہارے غلبہ کے لیے چلا آتا ہے اس کی راہ دیکھو آپ معلوم ہوجائے گا کہ قرآن کس نے بھیجا ہے ؟ اس کے بعد دو باتوں سے منع فرماتا ہے اور دونوں کو ایک ہی جملہ میں جمع کرتا ہے۔ فقال ولاتطع منہم آثمًا اوکفورًا کہ تو ان میں سے کسی گنہگار بدکار کا کہنا نہ مان نہ کسی ناشکر کا۔ آثم گنہگار ہر گناہ کے مرتکب کو آثم کہتے ہیں خواہ صغیرہ خواہ کبیرہ خواہ شرک خواہ کفر اور کفورا ان میں سے خالص گنہگار کو کہتے ہیں جو ناشکر ہو ہر کفورآثم ہے مگر ہر آثم کفور نہیں۔ پھر بعض علماء کہتے ہیں اس میں کسی کی خصوصیت نہیں کوئی ہو بعض کہتے ہیں آثم سے ولید کی طرف اور کفور سے عتبہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں دونوں کا مصداق ایک شخص مراد ہے یعنی ابوجہل۔ ان لوگوں کی اطاعت دینی باتوں میں ممنوع ہے کس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں۔ دنیا کے طالب ہیں۔ فائدہ : یہاں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کفار و مشرکین کی فرمانبرداری و جان نثاری اسلامی احکام کے مقابلے میں سخت ممنوع ہے بلکہ کفر کے قریب ہے۔
Ayahs 76:27–31

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ جلد آنے والی (دنیا) کو پسند کرتے ہیں اور بھاری دن کو اپنے پس پشت پھینک رہے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ان کو ہم نے پیدا کیا اور ان کی گرہ مضبوط باندھی اور ہم جب چاہیں ان جیسے ان کے بدلے اور لے آسکتے ہیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو ایک نصیحت ہے پھر جو چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا رستہ اختیار کرلے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم جب ہی چاہو گے جبکہ اللہ چاہے گا کیونکہ وہ سب کچھ جانتا (اور بڑا) حکمت والا ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے تو اس نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ترکیب : یذرون معطوف علیٰ یحبون وکلاء ھما خبران یوما مفعول یذرون وراء ھم ظرف لہ اذاشئنا شرط ومفعول شئنا محذوف یدل علیہ الجواب وھوبدلنا الاان یشاء اللہ ای الاوقت مشیۃ اللہ والافی حال مشیۃ اللہ والظالمین منصوب بفعل محذوف یفسرہ ما بعدہ ای اعد۔ تفسیر : اس کے بعد تین چیزوں کا حکم دیتا ہے۔ فقال واذاکراسم ربک بکرۃ واصیلاً کہ صبح و شام اپنے رب کا نام لیا کرو۔ (2) ومن اللیل فاسجدلہ اور رات میں اس کو سجدہ کیا کرو۔ (3) وسبحہ لیلاً طویلاً اور بڑی رات سے اس کی تسبیح اور تقدیس کیا کر۔ ان آیات میں مفسرین کے دو قول ہیں : اول یہ کہ ان آیات میں نماز پڑھنا مراد ہے۔ بکرۃ سے صبح کی نماز اور اصیلاً سے ظہر و عصر کی نماز اور من اللیل فاسجدلہ سے مغرب و عشاء مراد ہے اور سبحہ لیلًا طویلا سے تہجد۔ دوم یہ کہ اس وقت نماز پنجگانہ فرض نہ ہوئی تھی۔ تہجد کی نماز اور رات میں عبادت کرنا تھا۔ ان آیات میں مقصود ہر حال میں عبادت کی ترغیب ہے جیسا کہ اس آیت میں یا ایھا الذین آمنوا اذکروا اللہ ذکر اکثیر واسبحوہ بکرۃ واصیلاً اور تسبیح و تہلیل ‘ دعا و استغفار و سجود ہی اس وقت کی نماز تھی۔ اوقات مخصوصہ میں عام مفسرین کے نزدیک مراد نماز پنجگانہ اور تہجد ہے۔ تہجد گو امت کے لیے فرض نہ ہو مگر مسنون ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے اس کے پڑھنے کا حکم تھا اس لیے بلفظ امر تعبیر کیا گیا۔ لیلاً طویلاً میں اشارہ ہے کہ تمام رات سونے اور عیش و نشاط ہی کے لیے نہیں بلکہ اس کا بڑا حصہ یادالٰہی کے لیے بھی ہونا چاہیے اور کچھ نہ ہو تو پچھلی تہائی رات کو تو اٹھ کر دربارِ الٰہی میں حاضر ہو نہ کہ دن چڑھے تک مدبروں کی طرح بستر پر کروٹیں لیا کرے۔ فائدہ : یہاں خدا تعالیٰ نام یاد کرنا بتلاتا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عقول بشریہ کو اس کی صفات تک رسائی ہے مگر اس کی حقیقت ذات تک رسائی نہیں۔ انہیں اسماء وصفات سے اس کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اسی کو کبھی اذکر ربک سے تعبیر کیا اور کبھی واذکرربک فی نفسک سے اور کبھی واذکراسم ربک سے۔ اوقات مخصوصہ میں خدا پاک کی عبادت کرنا ‘ تسبیح و تہلیل میں مصروف ہونا ‘ دعا مانگنا ‘ گریہ وزاری کرنا وغیرہ جن کا حکم دیا گیا تھا بقولہ واذکراسم ربک بکرۃ واصیلاً الخ انہیں لوگوں کا کام ہے جو دارآخرت کے قائل ہیں اس لیے وہاں کے لیے یہ توشہ ساتھ لیتے ہیں اور دارآخرت کا یقین ہی ہے جو انسان کو اس طرف ابھارتا ہے برخلاف کفار و مشرکین کے کہ وہ ادھر متوجہ نہیں ہوتے نہ ان کو اس عبادت و شب بیداری میں کچھ حلاوت ملتی ہے کس لیے کہ ان ھؤلاء یحبون العاجلّہ ویذرون وراء ھم یوماً ثقیلاً یہ تو دنیا اور اس کی لذات و شہوات پر فریفتہ ہیں۔ شب و روز مال و زر ‘ زن و فرزند اسباب دنیا کے جمع کرنے میں مصروف ہیں انہیں باتوں میں ان کو مزہ اور حلاوت معلوم ہوتی ہے، انہیں کاموں کو کام سمجھتے ہیں اور انہی چیزوں میں کامیابی حاصل کرنے کو خوش نصیبی اور فوز عظیم جانتے ہیں اور دارآخرت کو چھوڑے بیٹھے ہیں۔ اول تو اس کا یقین ہی نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس کے لیے تدابیر نہیں نہ کوشش ہے نہ دل میں رغبت ہے نہ طبیعت میں میلان اور ان دونوں حالتوں میں دارآخرت کو (جو بڑا بھاری اور مصیبت ناک دن ہے مصائب کی وجہ سے) چھوڑنا اور پیچھے پھینک دینا ہے۔ اور ان کا یہ عذر ( کہ ہم میں دارآخرت کی قدرت نہیں کاروبار دنیا سے مہلت نہیں، نماز پنجگانہ خصوصاً صبح اور عشاء اور تہجد بھلا ہم سے کیونکر ادا ہوسکتی ہے وہ سونے کا وقت ہے) محض غلط ہے کس لیے کہ نحن خلقناھم وشددنا اسرھم ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے بنیاد جسم کو مضبوط کیا ہے۔ ہٹے کٹے ہیں، نیک و بد نفع و نقصان کی سمجھ بوجھ ہے۔ بدبخت اکثر اپنی کمزوری اور ناچاری کا عذر کیا کرتے ہیں اور وہ دراصل ان کی سستی اور کاہلی سے ہوتی ہے ان کے جواب میں یہ آیت ہے۔ مگر بعض بدنصیب ازلی ہوتے ہیں، نیک کام کیسا ہی آسان ہو ان کو پہاڑ معلوم ہوتا ہے اور برا کام کیسا ہی مشکل ہو ان پر آسان ہوتا ہے۔ ناچ تماشے میں رات بھر جاگیں، آنکھ نہ جھپکیں، عبادتِ الٰہی میں دو گھڑی بھی بیٹھ نہ سکیں۔ یہ آیت ان کے سرشت کا بھی حال بیان کرتی ہے کہ یہ بدبخت عاجلہ دنیا اور اس کے عیش و نشاط ‘ لذات و شہوات کو پسند کرتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں کس لیے کہ ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ان کی سرشت بد سے ہم خوب واقف ہیں وشددنا اسرھم اور ان کی قوت شہوانیہ کو قوی کردیتا ہے کتوں اور خنزیروں جیسی قوت بہیمیہ ان میں بہت رکھی گئی ہے۔ رات دن چرنے اور جفتی کرنے کے سوا انجام کار کے سوچنے اور فکر کرنے کی ان میں قابلیت ہی نہیں اور جو کچھ ہے تو مہلت نہیں اولئک کالانعام بل ھم اضل۔ فذرھم یاکلوا ویتمتعواکماتا کل الانعام والنار مثنوی ً لہم ایسے ناپاک اور زمین کو اپنے گھنائونے کاموں سے گندہ کرنے والے اپنے قیام و دوام کا دعویٰ نہ کریں اور نہ اس مہلت چند روزہ پر نازاں ہوں کس لیے کہ واذاشئنا بدلنا امثالہم تبدیلا ہم جب چاہیں ان کو مٹا کر ویسے ہی (شکل و صورت و قوت میں) اور لوگ پیدا کرسکتے ہیں اور ایسا ہی کرتے بھی ہیں قوم نوح برباد ہو کر اور قومیں پیدا ہوئیں۔ ہر صدی پر بلکہ پچاس برس کے بعد دوسرا ہی نقشہ جم جاتا ہے۔ پہلوں میں سے صدی دو صدی کے بعد انسان تو کیا ان کے استعمال کے جانور بلکہ اکثر مکانات بھی نہیں رہتے۔ اس قرن کی کشتی بھری ہوئی عدم کے عمیق گڑھوں میں پڑی ہوتی ہے اور دوسرے لوگ بستے ہوتے ہیں اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کے بدلے اے پیغمبر ! اور لوگ ہم تیرے لیے پیدا کرسکتے ہیں چناچہ عتبہ کے بدلے اس کے بیٹے حذیفہ کو اور ولید کے بدلے اس کے بیٹے خالد کو معین دین بنا دیا۔ امثالھم کے بعض مفسرین نے اشکالہم کے معنی بھی لیے ہیں تب یہ معنی ہوں گے کہ ہم جب چاہیں ان کی صورت بدل دیں، مسخ کردیں یا فراغدستی اوراقبال سے خواری اور ذلت کی حالت میں کردیں جس سے ان کی وہ صورت بدل جائے، ڈرتے رہنا چاہیے۔ پھر یہ قریش اس بات پر مغرور نہ ہوں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے اقارب اور اہل وطن ہیں جب ہم نے اس کو قبول نہ کیا تو اور کوئی کیا قبول کرے گا کس لیے کہ ھذہ تذکرۃ یہ آیات پندونصیحت ہیں کوئی برادری کا حصہ بخرا نہیں کہ آنحضرت ﷺ خواہ مخواہ تمہارے سمجھانے کے لیے مجبور ہوں۔ فمن شاء اتخذالی ربہ سبیلاً ۔ پھر جو کوئی ہو عرب یا عجم ‘ قریب یا بعید جو چاہے ان آیات سے اپنے رب تک پہنچنے اور اس کی مہمان سرا جنت میں حیات جاودانی حاصل کرنے کا رستہ اختیار کرلے۔ خدا تعالیٰ تمام جہاں اور تمام قوموں کا خدا ہے اس کا دین بھی سب کے لیے برابر ہے سب کے لیے اس کی رحمت کی راہیں کشادہ ہیں۔ بنی اسرائیل و بنی اسماعیل کی کوئی خصوصیت نہیں۔ مگر یہ جاننا بھی درحقیقت اے بندگان خدا ! تمہارے بس میں نہیں وماتشائون الاان یشاء اللہ تم جب ہی چاہ سکتے ہو کہ جب اللہ بھی چاہے اور فائدہ توفیق تمہیں ادھر کھینچ کرلے چلے۔ ہرچند قوت وقدرت ہر ایک میں رکھی ہے تاکہ دارامتحان کا معاملہ معطل نہ ہو لیکن محرک اسی کی توفیق ہے۔ ان اللہ کان علیما حکیماً یدخل من یشاء فی رحمتہ بیشک اللہ خبردار حکمت والا ہے جس میں صلاحیت اور نور ازلی دیکھتا ہے اس کو اپنی رحمت یعنی راہ راست پر لاتا ہے ‘ دین حق سمجھاتا ہے۔ ورنہ بڑے بڑے عاقل ‘ ہوشیار ‘ پُر فن ‘ پُر گو مالدار خوبصورت یوں ہی وادی ضلالت میں ٹکرا ٹکرا کر مرگئے اور جہنم کے عمیق گڑھے میں جا پڑے اور غریب کم مایہ کو کھینچ لیا۔ اس میں قریش پر تعریض ہے کہ تم نے کیا دین حق کو قبول نہیں کیا دین حق نے تم کو ردی جان کر پھینک دیا اور تمہاری سرکشی اور بدکاری کی ناپاکی نے بارگاہ قدس میں آنے کے قابل نہ رکھا۔ اس پر بھی بس نہیں یہ تو دنیا میں تمہارے نامعقول اور مردود ہونے کی وجہ سے ہے مگر آخرت میں والظالمین اعدلہم عذابا الیماً ظالموں کے لیے اس نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے مرنے کی دیر ہے۔ سورة کی ابتداء اس بات سے تھی کہ انسان پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ جس میں نیست و نابود تھا پھر اس کو اس قادر مطلق نے منی کے قطرے سے پیدا کیا اور عقل و حواس دیے۔ پھر جس نے ان عقل و حواس سے کام لیا اپنی ابتداء و انتہا کو سوچا راہ راست اختیار کی ‘ وہ سعادت کی کرسی پر بیٹھا ‘ دارِآخرت میں حیات جاودانی اور سلطنت کا مالک بنا اور جس نے ان سے کام نہ لیا لہو ولعب ‘ لذات و شہوات میں غرق ہوا اور انبیاء (علیہم السلام) کا مقابل ہوا اس کے لیے عذاب الیم تیار رکھا ہے۔ ابتدائِ کلام کو انتہائِ کلام سے کمال ارتباط ہے اور یہ کمال درجہ کی بلاغت ہے۔ اگر یہی سورة مبارکہ بغور تامل دیکھی جائے تو انسان کی ہدایت کے لیے اعتقادیات سے لے کر عملیات تک کامل رہبر ہے جس میں دارآخرت کی ترغیب روح کو اس جہان کی نعمتیں بیان فرما کر کامل تشویق اور بدکاروں، سرکشوں، منکروں کو وہاں کے مصائب یاد دلا کر تخویف دلائی گئی ہے اور اصول حسنات نماز و خیرات بھی تعلیم فرمائے گئے ہیں۔ ان تمام مقاصد کا جب کوئی خدا ترس طبیعت دل پر نقشہ جمائے تو فوراً ایک نورانیت پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہ مطالب عالیہ کس کس دلکش عبارت میں بیان کئے گئے نہ کوئی شاعرانہ مبالغہ ہے نہ شہوات برانگخیۃ کرنے والے شاعرانہ خیالات ہیں۔