76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی1

1 بیشک انسان پر ایک وقت گزر چکا ہے۔ جب اس کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفہ کی شکل میں آیا۔ وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے2 ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کردیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والاف 3

2 یعنی مرد اور عورت کے دورنگے پانی سے پیدا کیا۔ (تنبیہ) " امشاج " کے معنی مخلوط کے ہیں۔ نطفہ جن غذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہیں اس لیے عورت کے پانی قطع نظر کر کے بھی اس کو " امشاج " کہہ سکتے ہیں۔ 3 یعنی نطفہ سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑابنایا۔ اسی طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ میں پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا۔ گویا اور سب اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں (تنبیہ) " نبتلیہ " کے معنی اکثر مفسرین نے امتحان و آزمائش کے لیے ہیں۔ یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرو نہی کا مخاطب بناکر امتحان لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کہاں تک مالک کے احکام کی تکمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے اسی لئے اسکو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئی ہیں جن پر تکلیف شرعی کا مدار ہے
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو سجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے4

4 یعنی اولاً اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے، پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سمجھائی جس کا مقتضی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ پر چلتے لیکن گردو پیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے تیار کر رکھی ہیں منکروں کے واسطے زنجیریں اور طوق اور آگ دہکتی5

5 یعنی جو لوگ رسم و رواج اور اوہام و ظنون کی زنجیروں میں جکڑے رہے اور غیر اللہ کی حکومت و اقتدار کے طوق اپنے گلوں سے نہ نکال سکے۔ بلکہ حق و حاملین حق کے خلاف دشمنی اور لڑائی کی آگ بھڑکانے میں عمریں گزار دیں، کبھی بھول کر اللہ کی نعمتوں کو یاد نہ کیا۔ نہ اس کی سچی فرمانبرداری کا خیال دل میں لائے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں دوزخ کے طوق و سلاسل اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayahs 76:5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

البتہ نیک لوگ پیتے ہیں پیالہ جس کی ملونی ہے کافور

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں بندے اللہ کے6 چلاتے ہیں وہ اس کی نالیاں7

6 یعنی جام شراب پئیں گے جس میں تھوڑا سا کافور ملایا جائے گا۔ یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب و مخصوص بندوں کو ملے گا۔ شاید اس کو ٹھنڈا، خوشبودار، مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے۔ 7 یعنی وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرف کو اس کی نالی بہنے لگے گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا اصل منبع حضور ﷺ پر نور محمد رسول اللہ ﷺ کے قصر میں ہوگا۔ وہاں سے سب انبیاء و مومنین کے مکانوں تک اس کی نالیاں پہنچائی جائیں گی۔ واللہ اعلم۔ آگے ابرار کی خصلتیں بیان فرمائی ہیں۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

پورا کرتے ہیں منت کو8 اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ اس کی برائی پھیل پڑے گی9

8 یعنی جو منت مانی ہو اسے پورا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب خود اپنی لازم کی ہوئی چیز کو پورا کریں گے تو اللہ کی لازم کی ہوئی باتوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ 9 یعنی اس دن کی سختی اور برائی درجہ بدرجہ سب کو عام ہوگی۔ کوئی شخص بالکلیہ محفوظ نہ رہے گا۔ " الا من شاء اللہ "
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو10

10 یعنی اللہ کی محبت کے جوش میں اپنا کھانا باوجود خواہش اور احتیاج کے نہایت شوق اور خلوص سے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ (تنبیہ) قیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر۔ حدیث میں ہے کہ " بدر " کے قیدیوں کے متعلق حضور ﷺ نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چناچہ صحابہ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر لفظ " اسیر " میں ذرا توسع کرلیا جائے تب تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل ہوسکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہیں۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم جو تم کو کھلاتے ہیں سو خالص اللہ کی خوشی چاہنے کو نہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری11

11 یہ کھلانے والے زبان حال سے کہتے ہیں اور کہیں مصلحت ہو تو زبان قال سے بھی کہہ سکتے ہیں۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ایک دن اداسی والے کی سختی سے12

12 یعنی کیوں نہ کھلائیں اور کھلانے کے بعد کیونکر بدلہ یا شکریہ کے امید وار رہیں جبکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصّہ سے چیں بہ چیں ہوگا ہم تو اخلاص کے ساتھ کھلانے پلانے کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں۔ مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر مارا جائے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر بچا لیا ان کو اللہ نے برائی سے اس دن کی اور ملا دی ان کو تازگی اور خوش وقتی1

1 یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے۔ اللہ نے اس سے محفوظ و مامون رکھا۔ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیا۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور بدلہ دیا ان کو ان کے صبر پر باغ اور پوشاک ریشمی2

2 یعنی ازبسکہ یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے اور طاعت پر جمے رہے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور لباس ہائے فاخرہ مرحمت فرمائے۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھیں اس میں تختوں کے اوپر3 نہیں دیکھتے وہاں دھوپ اور نہ ٹھر4

3 بادشاہوں کی طرح۔ 4 یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہوگا نہ گرمی کی تکلیف نہ سردی کی۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور جھٹک رہیں ان پر اس کی چھائیں اور پست کر رکھے ہیں اس کے گچھے لٹکا کر5

5 یعنی درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے ایسی طرح لٹکے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے، لیٹے بےتکلف چن سکے (تنبیہ) شاید درختوں کی شاخوں کو یہاں ظلال سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی، کوئی دوسری قسم کا نور تو وہاں ضرور ہوگا۔ اس کے سایہ میں بہشتی تفنن تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 76:15–16

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور لوگ لیے پھرتے ہیں ان کے پاس برتن چاندی کے اور آب خورے جو ہو رہے ہیں شیشے کے

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے ہیں چاندی کے6 ناپ رکھا ہے ان کا ناپ7

6 یعنی آبخورے اصل میں چاندی کے بنے ہوں گے نہایت سفید، بےداغ اور فرحت بخش، لیکن صاف و شفاف اور چمکدار ہونے میں شیشے کی طرح معلوم ہوں گے۔ ان کے اندر کی چیز باہر سے صاف نظر آئے گی۔ 7 یعنی جنتی کو جس قدر پینے کی خواہش ہوگی ٹھیک اس کے اندازے کے موافق بھرے ہوں گے کہ نہ کمی رہے نہ بچے۔ یا بہشتیوں نے اپنے دل سے جیسا اندازہ کرلیا ہوگا بلا کم وکاست اسی کے موافق آئیں گے۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو وہاں پلاتے ہیں پیالے جس کی ملونی ہے سونٹھ8

8 یعنی ایک جام شراب وہ تھا جس کی ملونی کافور ہے۔ دوسرا وہ ہوگا۔ جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ مگر یہ دنیا کی سونٹھ نہ سمجھے وہ ایک چشمہ ہے۔ جنت میں جس کو سلسبیل کہتے ہیں۔ سونٹھ کی تاثیر گرم ہے اور وہ حرارت غریزیہ میں انتعاش پیدا کرتی ہے۔ عرب کے لوگ اس کو بہت پسند کرتے تھے۔ بہرحال کسی خاص مناسبت سے اس چشمہ کو زنجبیل کا چشمہ کہتے ہیں۔ ابرار کے پیالہ میں اس کی تھوڑی سی آمیزش کی جائے گی۔ اصل میں وہ چشمہ بڑے عالی مقام مقربین کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے اس میں اس کا نام کہتے ہیں سلسبیل9

9 اس نام کے معنی ہیں پانی صاف بہتا ہوا۔ کذا فی الموضح۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور پھرتے ہیں ان کے پاس لڑکے سدا رہنے والے10 جب تو ان کو دیکھے خیال کرے کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے11

10 یعنی ہمیشہ لڑکے رہیں گے یا جنتیوں سے کبھی چھینے نہ جائیں گے۔ 11 یعنی اپنے حسن وجمال صفائی اور آب و تاب میں ادھرا دھر پھرتے ہوئے ایسے خوش منظر معلوم ہوں گے گویا بہت سے چمکدار خوبصورت موتی زمین پر بکھیر دیے گئے۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی12

12 یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے، کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنیٰ ترین جتنی کو نصیب ہوگی۔ رَزَقْنَا اللہ مِنْہَا بمنہٖ وَفَضْلہٖ ۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اوپر کی پوشاک ان کی کپڑے ہیں باریک ریشم کے سبز اور گاڑھے13 اور ان کو پہنائے جائیں گے کنگن چاندی کے14 اور پلائے ان کو ان کا رب شراب جو پاک کرے دل کو15

13 یعنی باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم کے لباس جنتیوں کو ملیں گے۔ 14 اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ دوسری جگہ سونے کے بیان کیے گئے ہیں۔ ممکن ہے یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں، کسی کو وہ۔ یا کبھی یہ کبھی وہ۔ 15 یعنی سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا، جس میں نہ نجاست ہوگی نہ کدورت، نہ سرگرائی، نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے، پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ ہے تمہارا بدلہ اور کمائی تمہاری ٹھکانے لگی16

16 یعنی مزید اعزازو اکرام اور تطییب قلوب کے لیے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ اور محنت ٹھکانے لگی۔ اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔
Ayahs 76:23–24

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم نے اتارا تجھ پر قرآن سہج سہج اتارنا

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو تو انتظار کر اپنے رب کے حکم کا1 اور کہنا مت مان ان میں سے کسی گناہ گار کا یا ناشکر کا2

1 تاکہ آپ ﷺ کا دل مضبوط رہے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ اپنے نیک و بد کو سمجھ لیں۔ اور معلوم کرلیں کہ جنت کن اعمال کی بدولت ملتی ہے۔ اگر اس طرح سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور اپنی ضدو عناد ہی پر قائم رہیں تو آپ ﷺ اپنے پروردگار کے حکم پر برابر جمے رہیے۔ اور آخری فیصلہ کا انتظار کیجیے۔ 2 عتبہ اور ولید وغیرہ کفار قریش آپ ﷺ کو دنیاوی لالچ دے کر اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر چاہتے تھے کہ فرض تبلیغ و دعوت سے باز رکھیں۔ اللہ نے متنبہ فرما دیا۔ کہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کی بات نہ مانیں۔ کیونکہ کسی گنہگار فاسق یا ناشکر کافر کا کہنا ماننے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایسے شریروں اور بدبختوں کی بات پر کان دھرنا نہیں چاہیے۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور لیتا رہ نام اپنے رب کا صبح اور شام3

3 یعنی ہمہ وقت اس کو یاد رکھو خصوصاً ان دو وقتوں میں سب خرخشوں کا علاج یہی ذکر خدا ہے۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کسی وقت رات کو سجدہ کر اس کو4 اور پاکی بول اس کی بڑی رات تک5

4 یعنی نماز پڑھ، شاید مغرب و عشاء مراد ہو یا تہجد۔ 5 اگر " وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَہ،" سے تہجد مراد لیا جائے تو یہاں تسبیح ہے اس کے معنیٰ متبادل مراد لیں گے۔ یعنی شب کو تہجد کے علاوہ بہت زیادہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہیے اور اگر پہلے مغرب و عشاء مراد تھی تو یہاں تسبیح سے تہجد مراد لے سکتے ہیں۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں جلدی ملنے والے کو اور چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو6

6 یعنی یہ لوگ جو آپ ﷺ کی نصیحت و ہدایت قبول نہیں کرتے اس کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے اسی کو یہ چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں۔ بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ گئے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کر دے گا ؟ آگے اس کا جواب دیا ہے۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو بنایا اور مضبوط کیا ان کو جوڑ بندی کو اور جب ہم چاہیں بدل لائیں ان جیسے لوگ بدل کر7

7 یعنی اول پیدا ہم نے کیا اور سب جوڑ بند درست کیے۔ آج ہماری وہ قدرت سلب نہیں ہوگئی۔ ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستی کو ختم کر کے دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کردیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ نہ مانیں گے تو ہم قادر ہیں کہ جب چاہیں ان کی جگہ دوسرے ایسے ہی آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش نہ ہوں گے۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے پھر جو کوئی چاہے کر رکھے اپنے رب تک راہ8

8 یعنی جبرو زور سے منوا دینا آپ کا کام نہیں، قرآن کے ذریعہ نصیحت کر دیجئے۔ آگے ہر ایک کو اختیار ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی خوشنودی تک پہنچنے کا راستہ بنا رکھے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہو گے مگر جو چاہے اللہ بیشک اللہ ہے سب کچھ جاننے والا حکمتوں والاف 9

9 یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہے بدون نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بندہ کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے وہ جانتا ہے کہ کس کی استعداد و قابلیت کس قسم کی ہے اسی کے موافق اس کی مشیت کام کرتی ہے۔ پھر وہ جس کو اپنی مشیت سے راہ راست پر لائے، اور جس کو گمراہی میں پڑا چھوڑ دے عین صواب و حکمت ہے۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

داخل کرلے جس کو چاہے اپنی رحمت میں10 اور جو گناہ گار ہیں تیار ہے ان کے واسطے عذاب دردناک

10 یعنی جن کی استعداد اچھی ہوگی ان کو نیکی پر چلنے کی توفیق دے گا۔ اور اپنی رحمت و فضل کا مستوجب بنائے گا،