Al-Insaan 76:2

Al-Insaan · from ayah 2

76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ۖۗ— نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا ۟اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ اَمۡشَاجٍۖ نَّبۡتَلِيۡهِ فَجَعَلۡنٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا

ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We created man from a sperm-drop mixture that We may try him; and We made him hearing and seeing.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:2

ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اِس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے اس طرح پیدا کیا کہ اسے آزمائیں۔ پھر اسے ایسا بنایا کہ وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جانچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا فرمایا جسے ہم (تولّد تک ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف) پلٹتے اور جانچتے رہتے ہیں، پس ہم نے اسے (ترتیب سے) سننے والا (پھر) دیکھنے والا بنایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انسان کو (مرد اور عورت کے) مخلوط نطفہ سے پیدا کیا جسے ہم الٹ پلٹ کرتے رہے پھر اسے سننے اور دیکھنے والا بنادیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے انسان کو پیدا کیا پانی کی ایک مخلوط بوند سے۔ اس کو الٹتے پلٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو دیکھنے سننے والا بنا دیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے تاکہ ہم (مکلف بنا کر) اس کی آزمائش کریں سو (اس غرض کے لئے) ہم نے اس کو بنایا سننے والا دیکھنے والا

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا مخلوط نطفہ سے کہ ہم اسے آزمائیں سو ہم نے اسے سنتا دیکھتا بنایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا دیکھنے والا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily We created man out of a drop of intermingled sperm so that We might try him, and We therefore endowed him with hearing and sight.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have created man from a mixed sperm-drop to put him to a test; then We made him able to hear, able to see.

— Muhammad Taqi Usmani

We have created man from a mixed sperm-drop to put him to a test; then We made him able to hear, able to see.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have created man from Nutfah Amshaj, in order to try him, so, We made him hearer and seer.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We create man from a drop of thickened fluid to test him; so We make him hearing, knowing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We created man from a sperm-drop mixture that We may try him; and We made him hearing and seeing.

— Saheeh International

We created the human being from the union of sperm and egg to test him. We gave him hearing and vision.

— Muhammad Sarwar

Surely We have created man from a small life-germ uniting (itself): We mean to try him, so We have made him hearing, seeing.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We created man from a sperm of mixtures, that We might prove him, wherefore We made him hearing, seeing.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We created Man from a drop of mingled sperm, in order to try him: So We gave him (the gifts), of Hearing and Sight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 3 یہ ہے دنیا میں انسان، اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد تخلیق یہیں پورا ہوجائے اور قانون فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہوجائے۔ نیز یہ دنیا اس کے لیے نہ دار العذاب ہے، جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں، نہ دار الجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں، نہ چراگاہ اور تفرگاہ ہے، جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں اور نہ رزم گاہ، جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیرو سمجھتے ہیں، بلکہ دراصل یہ اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ وہ جس چیز کو عمر سمجھتا ہے حقیقت میں وہ امتحان کا وقت ہے جو اسے یہاں دیا گیا ہے۔ دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

اس کے بعد تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان اس طرح فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاج یعنی ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے امشاج، مشج یا مشیج کی جمع ہے جس کے معنے مخلوط کے آتے ہیں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاص اربعہ یعنی خن، بلغم، سودا، صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔ ہر انسان کی تخلیق میں دنیا بھر کے اجزاء اور ذرات کی شمولیت۔ اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاط اربعہ مذکورہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز نلکوں اور خطوں کے اجزاء آب و ہوا وغیرہ کے ذریعہ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک انسان کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انسان کو مزید غور کی دعوت: اوپر کی آیت میں انسان کے اس تاریک ماضی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو زندگی کے نقطۂ آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی پیدائش کے ان مختلف اطوار کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن کا ہر پہلو اس کے سامنے ہے اور جو اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کی طرف اوپر والی آیت اشارہ کر رہی ہے کہ انسان پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوتا ہے، اسی بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر قدرت اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سننے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے انسان کی شکل اختیار کر لیتی ہے؛ انسان غور کرے کہ جس خدا نے پانی کی ایک بوند پر اتنے عجیب کرشمے دکھائے ہیں کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ 2۔ 2 یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا انکاری دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کرسکے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا خلقنا ............................ بصیرا (2:76) ” ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا “۔ امشاج کے معنی ہیں مخلوط۔ یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جب مرد کا خلیہ عورت کے ہیضے میں داخل ہوکر اس کے ساتھ خلط ہوجاتا ہے اور اس میں مرد اور عورت کی موروثی خصوصیات کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے ، جن کو علمائے حیاتیات ” جینز “ کہتے ہیں۔ یہ وہ خصائص ہیں جو جنس انسانی کو دوسرے زندہ اجناس سے ممیز کرتے ہیں ، پھر اس کے ذریعہ خاندانی موروثی خصائص بھی بچے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور انسانی نطفہ انسانی جنین کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی مرد اور عورت کے دورنگے پانی سے پیدا کیا۔ (تنبیہ) " امشاج " کے معنی مخلوط کے ہیں۔ نطفہ جن غذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہیں اس لیے عورت کے پانی قطع نظر کر کے بھی اس کو " امشاج " کہہ سکتے ہیں۔ 3 یعنی نطفہ سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑابنایا۔ اسی طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ میں پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا۔ گویا اور سب اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں (تنبیہ) " نبتلیہ " کے معنی اکثر مفسرین نے امتحان و آزمائش کے لیے ہیں۔ یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ } ”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے“ موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ مرد کی طرف سے spermatozoon اور ماں کی طرف سے ovum ملتے ہیں تو zygote وجود میں آتا ہے۔ لیکنظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ”اَمْشَاج“ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہوگا۔ گویا قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 یعنی باپ کا نطفہ الگ تھا، ماں کا الگ، ان دونوں نطفوں کے ملاپ سے ماں کے رحم میں حمل قرار پایا۔ پھر ہم نے اس مخلوط نطفہ کو ایک ہی حالت میں پڑا نہیں رہنے دیا۔ ورنہ وہ وہیں گل سڑ جاتا۔ بلکہ ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے اور رحم مادر میں اس نطفہ کو کئی اطوار سے گزار کر اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنادیا۔ 3 انسان کی دوسرے جانداروں پر کیا فضیلت ہے ؟:۔ انسان کے علاوہ جتنی بھی جاندار مخلوق ہے۔ تقریباً سب ہی سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی ہیں۔ لیکن سمیع اور بصیر نہیں ہیں۔ سمیع اور بصیر صرف انسان ہے۔ اور یہی چیزیں انسان کے لئے علم کے حصول کے سب سے بڑے ذرائع ہیں۔ انسان اشیاء کو دیکھ کر اور بعض آوازیں سن کر ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی صاحب عقل بنایا اور ایسی ہیئت اور صفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں احکام کا مکلف بننے کی قابلیت ہو، (آیت) ” نطفۃ امشاج “۔ یہ اختلاط وامتزاج ممکن ہے کہ مراد و عورت کے مادوں کی ترکیب کے لحاظ سے ہو اور ہوسکتا ہے کہ خود منی ہی کے اجزائے ترکیبی کے لحا ظ سے ہو۔ فالاکثرون علی انہ اختلاط نفطۃ الرجل بنطفۃ المرأۃ (کبیر) ذلک عبارۃ عما جعلہ اللہ تعالیٰ بالنطفۃ من القوی المختلفۃ (راغب) یہ بیان عام خلقت انسانی کا ہوا اور اس طرح کے بیانات قرآن مجید میں ہمیشہ صرف عمومی حیثیت رکھتے ہیں، اس سے یہ استدلال کرنا کہ کسی بھی انسان کی خلقت بجز معروف و متعارف طریقہ کے ہو ہی نہیں سکتی تمامتر سطحیت وبے مغزی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک انسان (یعنی) آدم پر، زمانہ میں ایسا وقت (یعنی) چالیس سال بھی گزرا ہے کہ وہ اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا (بلکہ) وہ اس زمانہ میں ایک ناقابل ذکر مٹی کا پتلا تھا، یا انسان سے جنس انسان مراد ہے، اور حین سے مدت حمل مراد ہے، بیشک ہم نے انسانوں کو مرد اور عورت (یعنی) حال یہ کہ ہم اس کو اہل بنا کر آزمانے والے تھے، اسی لئے ہم نے اس کو شنوا اور بینا بنایا، ہم نے اس کو راہ دکھائی (یعنی) رسول بھیج کر اس کے لئے راہ ہدایت واضح فرمائی، اب خواہ وہ شکر گزار مومن بنے، یا ناشکرا دونوں مفعول سے حال ہیں یعنی اس کی حالت شکر یا حالت کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا خلقنا الانسان . اگر انسان سے مراد آدم ہو تو اس جگہ اولاد آدم مراد ہوگی۔ ورنہ مطلقاً آدمی کوئی ہو (علاوہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے) ۔ من نطفۃ امشاج . امشاج جمع ہے مَشِیْجٌ یا مَشْجٌ مفرد ہے۔ یہ لفظ مَشَجَ الشئ سے ماخوذ ہے مشج مخلوط کردیا گیا امشاج کو نطفہ کی صفت اس لیے بنایا کہ نطفہ میں مرد اور عورت کا پانی مخلوط ہوتا ہے اور ہر نطفہ اجزاء ‘ خو اص اور رقت و توام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ امشاج مفرد ہے ‘ اس کا معنی ہے مخلوط یعنی مرد اور عورت کے پانی کا مخلوط مجموعہ اس صورت میں امشاج بروزج اعشار ہوگا۔ برمۃ اعشارٌ۔ دس آدمیوں سے اٹھنے کے قابل پتھر کی دیگ۔ قتادہ نے کہا : امشاجٌ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے اولاد آدم کو حضرت آدم اور حوا سے پیدا کیا یا یہ کہ مختلف مخلوط نطفہ سے پیدا کیا، کیونکہ مرد کی منی سفید گاڑھی ہوتی ہے اور عورت کی منی زردی مائل اور پتلی ہوتی ہے اور بچہ دونوں کی منی سے پیدا ہوتا ہے اس طور پر کہ ہم سختی اور فراخی سے یا یہ کہ نیکی اور برائی کے ذریعے سے آزمائیں پھر ہم نے اس کو قوت سماعت عطا کی تاکہ حق و ہدایت کی بات سنے اور بینائی عطا کی تاکہ حق و ہدایت کو دیکھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج : یعنی انسان کی پیدائش صرف مرد یا صرف عورت کے نطفہ سے نہیں ہوئی بلکہ دونوں کے ملے جلے نطفہ سے ہوئی ہے، کیونکہ دونوں کے ملنے ہی سے حمل منعقد ہوتا ہے۔ ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان ماء الرجل غلیظ ابیض وماء المراۃ رقیق اصفر فمن ابھما علا او سبق یکون من ہالشبہ) (مسلم، الحیض ، باب وجوب الغسل علی المراۃ…: 311)”مرد کا پ انی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو غلاب آجائے یا سبقت کر جائے اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔“ (2) نبتلیہ : ہم اسے آزماتے ہیں، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج : بغیر کسی اختلاف کے یہاں انسا سے مراد ابن آدم ہے نطفہ سے مراد ایسا پانی ہے جسکو ٹپکایا جاتا ہے وہ مٹی ہے برتن میں جو تھوڑا سا پانی ہوا کرتا ہے اسے نطفہ کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ اپنے نفس کو عتاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : مالی اراک تکرھین الجنۃ، ھل انت الا نطفۃ فی شئۃ۔ کیا وجہ ہے میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو جنت کو ناپسند کرتا ہے تو تو محض مشکیرہ کا ایک قطرہ ہے۔ نطۃ کی جمع نطف اور نطاف ہے امشاج کا معنی اخلاط ہے اس کا واحد مشج اور مشیج ہے جس طرح خدن اور خدین ہے۔ کہتے ہیں، مشجت ھذا بھذا یعنی میں نے اس کو اس کے ساتھ ملایا اس کا اسم مفعول کا صیغہ ممشوج اور مشیج آتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

نطفہ قرار پانے کی مدت 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم کوئی حدیث تمہارے پاس لاتے ہیں تو ہم اس کی تصدیق کتاب اللہ میں سے لاتے ہیں کہ نطفہ رحم میں چالیس روز تک قرار پذیر رہتا ہے پھر وہ چالیس روز تک لقہ جما ہوا خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر وہ چالیس روز تک مضغہ گوشت کا لوتھڑا کی صورت میں رہتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ایک فرشتے کو نازل کر کے فرماتے ہیں اس کے لیے لکھ دو وہ عرض کرتا ہے کیا لکھوں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کے لیے لکھ دو شقی ہونا یا سعید ہونا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا اور اس کا رزق کیا ہوگا اس کی عمر کتنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انا خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو ] [مِنْ نُّطْفَةٍ : ایک ایسی بوند سے جو ] [اَمْشَاجٍ : ملی جلی چیزوں سے تھی ] [نَّبْتَلِيْهِ : ہم (رحم مادر میں) الٹتے پلٹتے رہے اس (انسان) کو ] [فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا : پھر ہم نے بنایا اس کو سننے والا دیکھنے والا ] م ش ج [مَشْجًا : (ن) ] خلط ملط کرنا۔ ملانا۔ مَشِیْجٌ ج اَمْشَاجٌ مخلوط۔ ملا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔ نوٹ 2: مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ میں لفظ اَمْشَاجٍ جمع ہے مَشِیْجٌ کی (جبکہ نُطْفَۃٍ واحد ہے) اس کے معنی ملی جلی اور مخلوط چیز کے ہیں۔ اَمْشَاجٍ اگرچہ جمع ہے لیکن یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے والا سننے والا بنایا اسے صحیح راستہ بتایا، انسانوں میں شاکر بھی ہیں کافر بھی ہیں یہاں سے سورة الدھر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الانسان بھی ہے اس کے پہلے رکوع میں انسان کی ابتدائی آفرینش بتائی ہے اس کے بعد انسان کی دو قسمیں بتائیں ایک شکر گزار اور ایک ناشکرا اس کے بعد ناشکروں کا عذاب اور شکر گزاروں کے انعامات بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو صبر کرنے اور ذکر کرنے اور راتوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور دنیا داروں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑا دن چھوڑ رکھا ہے۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” ھل اتی “ ھل یہاں باتفاق مفسرین تاکید کے لیے بمعنی قد اتفقوا علی ان ھل ھہنا وفی قولہ تعالیٰ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ بمعنی قد (کبیر ج 8 ص 384) ۔ یہاں حشر و نشر پر بطور دلیل انسان کی پیدائش کو بطور نمونہ پیش کیا گیا۔ ہر انسان پر طویل عرصی ایسا آچکا ہے کہ اس عرصہ میں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ ” انا خلقنا الانسان “ امشاج مفرد ہے، جمع نہیں جیسا کہ اس کی بناء سے وہم ہوتا ہے کیونکہ وہ نفۃ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ برمۃ اعشار، ثوب اخلاق اور ارض سباسب اور امشاج کے معنی ہیں۔ مختلط یعنی باہم ملا جلا چونکہ انسان ماں باپ کے نطفوں کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے اس لیے نطفہ کو امشاج سے متصف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ۝ 0 ۤ ۖ نَّبْتَلِيْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۝ 2 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ صلے ق نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا۔ (الدہر : 2) (ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا، اس کو الٹتے پلٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو دیکھنے سننے والا بنادیا۔ ) انسان کو مزید غور کی دعوت انسان کو ناقابلِ ذکر حالت اور بےقدر و قیمت حیثیت سے نکال کر جن مراحل سے گزارتے ہوئے ایک بالا قامت شخصیت کی حیثیت سے پیدا کیا، اس آیت کریمہ میں ان میں سے چند مراحل کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور امشاج سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ امشاج، مشج اور مشیج کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ملی جلی اور مخلوط چیز۔ یہ اگرچہ جمع ہے لیکن ان الفاظ میں سے ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : القیامہ کے آخر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا اور پھر نر اور مادہ کی صورت میں جوڑے بنا دئیے، دنیا میں انسان کا وجود نطفہ سے پہلے نہیں ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی ابتداء میں یوں کیا گیا ہے کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ زمانے میں اس کا ذکر تک موجود نہیں تھا پھر ” اللہ تعالیٰ “ نے اسے انسان کی شکل میں پیدا فرمایا۔ سورۃ الدھر کی ابتدا میں ” ھَلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر سوال کیا ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا دور گزرا ہے کہ جب اس کا ذکر تک نہیں تھا اس دور سے مراد تین ادوار ہوسکتے ہیں۔ 1۔ تخلیق آدم سے پہلے کا دور۔ 2۔ انسان کی تخلیق کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (ہم نے اس کو پیدا کیا) اولاد آدم۔ ایک قول یہ ہے اول بھی انسان سے مراد اولاد آدم ہے۔ اور حین من الدھر سے اس صورت میں مراد اس کا ماں کے پیٹ میں ٹھہرنے کا زمانہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں میں قابل ذکر شئی بن گیا۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ (ملے جلے نطفے سے) یہ صفت ہے نمبر 2۔ اس سے بدل ہے۔ یعنی نطفہ سے جیسا کہ من نطفۃ ] النحل : 4[ اس میں دونوں پانی مل گئے۔ اور مشج اور مزج کا ایک معنی ہوا۔ اور نطفۃ امشاج یہ بُرمَۃُ اعشارٌ (پتھر کی دیگ جس کو دس آدمی اٹھائیں) کی طرح ہے۔ یہ لفظ مفرد ہے جمع نہیں اسی لئے یہ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ نَّبْتَلِیْہِ (اس طور پر ہے کہ ہم اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” ھل اتی “ تحقیق آیا ہے۔ ” علی الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) پر۔ ” حین من الدھر “ چالیس سال اور وہ مٹی گارے سے جو مکہ اور طائف کے درمیان ڈالا ہوا تھا روح پھونکے جانے سے پہلے۔ ” لم یکن شیئا مذکورا “ نہ ذکر کیا جاتا اور نہ پہچانا جاتا اور نہ یہ معلوم تھا کہ اس کا نام کیا ہے اور نہ وہ جو اس سے مراد ہے۔ مراد یہ ہے وہ شے تھا لیکن قابل ذکر نہ تھا اور یہ اس وقت جب اس کو مٹی سے پیدا کیا اس میں روح پھونکنے سے پہلے۔ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو سنا جو یہ آیت پڑھ رہا تھا ” لم یکن شیئا مذکورا “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کاش کہ وہ مکمل ہوجائے۔ مراد یہ تھی کاش کہ وہ اس پر باقی رہے جس پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ لم یکن شیئا مذکورا کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا وجود اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں تو تھا لیکن آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کچھ تذکرہ ظاہر نہیں تھا۔ اوپر صحیح 2 ؎ حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے جب تک اس بچہ کی زبان کھلتی ہے اور بات چیت کرنی سیکھتا ہے اس وقت تک اسی فطرت اسلامی کی حالت پر رہتا ہے اور بعد اس کے ہر ایک امت کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کی ہدایت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہے اگر اس بچہ کے ماں باپ نیک راستہ پر نہ ہوئے تو پھر وہ بچہ ماں باپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

اس سورة مبارکہ میں اللہ نے انسان کے ابتدائی اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں چناچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور ویہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردہ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا (مِنْ نُّطْفَةٍ ) نطفہ مخلوط سے، یعنی حقییر اور گندے پانی سے بنایا (نبتلیہ) ہم اس کے ذریعے اس کو آزماتے ہیں تاک ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 نطفۃ امشاج کا معنی و مطلب ؟: امشاج جمع ہے مشج اور مشیج کی جس کے معنی ملی جلی چیز کے آتے ہیں۔ اور یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد کی صفت واقع ہوتے ہیں۔ سو انسان کی تخلیق ایک ملے جلے نطفے سے ہوتی ہے جو کہ ایک طرف تو مخلوط ہوتا ہے مرد اور عورت دونوں کے مادہ تولید سے ‘ دوسری طرف اس میں اختلاط و امتزاج ہوتا ہے طرح طرح کی غذاؤں دواؤں اور عناصر وغیرہ کا، اور یہ سب کچھ ایسے پر حکمت طریقے سے ہوتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، اور اس طور پر کہ جس ماں کے بطن میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اس کو بھی اس کی کوئی خبر تک نہیں ہوتی امشاج کے بارے میں جیسا کہ ابھی گزرا بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

انسان کی اصلیت اور اس کا کردار تشریح : ان چار آیات میں رب رحمن و رحیم نے انسان کی حیثیت کردار مقصد ذمہ داریاں پیدائش عمل مرتبہ پھر انجام اور نتیجہ سب کچھ بیان کردیا ہے۔ یہی تو قرآن کی معقولیت جامعیت نفاست اور بےمثل ہونے کی دلیلیں ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے اور سائنسدانوں کی تحقیقات اور قرآن کا بیان یہی ثابت کر رہا ہے کہ پہلے کائنات بنائی گئیـ اور پھر انسان کا ظہور ہوا۔ جو کہ واضح الفاظ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا پھر حوا کو اور پھر دونوں کو جنت میں جگہ ملی۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی شیطان نے بھی اپنی گدی سنبھال لی کہ قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا۔ لہٰذا اس نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 شرعی احکام دے کر آیا ان سے انکار کرکے کفروشرک کی راہ اختیار کرتا ہے یا ایمان لا کر نیک عمل کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:2) نطفۃ امشاج ، موصوف و صفت نطفۃ قطرہ منی۔ امشاج ۔ یمشج مشج (باب نصر) بمعنی ملانا۔ خلط ملط کرنا سے مشتق ہے۔ امشاج بمعنی مخلوط یہ جمع لیا گیا ہے کہ اس میں مردو عورت کا نطفہ (پانی) مخلوط ہوتا ہے۔ اور ہر نطفہ اجزاء ، خواص، عقت، قوام کے لحاظ سے مختلف و منفرد ہوتا ہے۔ نبتلیہ : مضارع جمع متکلم ابتلاء (افتعال) مصدر سے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ ہم اس کی آزمائش کریں۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یہ خلقنا کے فاعل سے حال ہے والمراد مریدین ابتلائہ واختبارہ بالامر والنھی (مدارک التنزیل، روح المعانی) اور مراد ہماری اس کی آزمائش اور امتحان اوامرو نواہی کا مکلف بنانے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) فرمایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور مرد اور عورت دونوں کی منی سے کیونکہ عورت کی منی بھی اندر ہی اندر عورت کے رحم میں گرتی ہے پھر کبھی فم رحم سے خارج ہوکرضائع ہوجاتی ہے اور کبھی اندر ہی رہ جاتی ہے یامخلوط کے معنی یہ ہیں کہ نطفہ جن غذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہے غرض اس کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا ہے جو اجزا مختلفہ سے مرکب ہے۔ (ف 2) یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرونہی کا مخاطب بناکرامتحان لیاجائے اور دیکھاجائے کہ کہاں تک رب کے احکام کی تعمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے اسی لیے اس کو سننے دیکھنے اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئیں جن پر تکلیف شرعی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] ایک مخلوط نطفے سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے مرکب نطفوں سے مل کر ہوئی ہے۔ [3] یعنی نطفے سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ اس طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اسے ہوش گوش رکھنے والی ہستی بنادیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

اپنی حقیقت کی طرف دیکھو 2: انسان جو کبر و غرور کا پیکر بن جاتا ہے ۔ اور یہ سمجھتا ہے ۔ کہ میں اب دنیا میں کسی شخصیت کا محتاج نہیں ہوں ۔ اس کی اصل حقیقت کی جانب متوجہ فرمایا ہے ۔ آج جو یہ بغض وعناد کا مظاہر کرتا ہے ۔ اور حق وصداقت کی آواز کو سن کر اکڑا ہوا گزرجاتا ہے اسے معلوم بھی ہے ۔ کہ اس کی پیدائش میں کن عناصر کو دخل ہے ؟ کیا یہ وہی انسان نہیں ہے جس کو ایک ناپاک قطرہ آب سے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور جو اس کا سمجھ بوجھ اور شمع بصر کی قوتیں دے رکھی ہیں تو اس لئے کہ اس کو مکلف بنائیں ۔ مگر یہ ہے ۔ کہ ان کا غلط اور ناجائز استعمال کرتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) ہم نے انسان کو ایک ایسے نطفے سے بنایا جو اجزائے مختلفہ سے مخلوط اور مرکب تھا اور اس طور پر اور اس حال میں بنایا کہ ہم اس کی آزمائش کریں لہٰذا ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے جو تقریر اوپر کی ہے اس سے اس آیت کا خطاب خوف واضح ہوسکتا ہے مخلوط سے مراد یا تو عورت اور مرد کے نطفے کا اختلاط ہے یا یہ مطلب کہ نطفہ ہر حصہ جسم کا خلاصہ ہے اس لئے اس کو مخلوط فرمایا کیونکہ وہ نطفہ تمام انسانی جسم کا ست ہے یا اس وجہ سے مختلف کھیت اور باغ کی مٹی کا نچوڑ ہے من سلالۃ من طین اس لئے مختلف اجزا سے مرکب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں امشاج یعنی ملایا ہوا کئی چیز سے عنی منی مرد کی اور عورت کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

ف 2۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں مکلف بننے کی قابلیت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(بیشک ہم نے پیدا فرمایا انسان کو ملے جلے قطرہ سے) ۔ چونکہ مرد اور عورت کی منی مختلف الاجزاء ہے رقت اور قوام اور خاصیت میں اس وجہ سے نطفہ جو مفرد ہے اس کی صفت جمع لائی گئی۔۔ یا اس سے رنگ مراد ہیں اس واسطے کہ مرد کی منی سفید ہوتی ہے اور عورت کی زرد اور دونوں اکٹھا ہونے کے بعد سبز ہوجاتی ہے ۔ یا۔۔۔ امشاج اطوار کے معنی میں ہے یعنی نطفہ تھکا ہوجاتا ہے ، پھر لوتھڑا ہوجاتا ہے آخر خلقت تک۔ اور بہر تقدیر انسان کو ہم نے پیدا کیا تا (کہ) امر و نہی سے (آزمائیں اسے ، تو بنا دیا ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا) تاکہ دلیلیں دیکھے اور آیتیں سنے۔۔۔ اور ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

Neither we were there, nor was there any demand from us. It is only Your mercy that listened to what we never said. Verse [ 2] describes the inception of human creation thus: اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (We have created man from a mixed sperm-drop __76:2). The word amshaj is the plural of mashj or mashj which means a 'mixture'. Here obviously it refers to the male and female gametes according to most commentators, but some commentators say, as cited in Ruh-ul-Ma` ni, that amshaj refers to the four fluids of the body [ blood, phlegm, choler and melancholy ] of which…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 "From a mixed sperm-drop": from the intermingling of the male sperm with the female ovum and not separately from the sperm and the ovum. 3 This shows man's real position in the world and the position of the world for man. He is not like the trees and animals that the object of his creation be fulfilled on the earth itself, and he should die and perish here after he has played his appointed role over a period of time according to the law of nature. Furthermore, this world is neither a place of punishment for him, as the monks think, nor a place of rewards as the believers of the law of…

Read the full tafseer →