Explained with ayahs 1–3
اے انسان اپنے فرائض پہچان
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الدَّهْر 5
یعنی ہم نے اسے محض علم و عقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ شکر کا راستہ کونسا ہے اور کفر کا راستہ کونسا، اور اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمہ دار وہ خود ہو۔ سورة بلد میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وھدینہ النجدین۔ " اور ہم نے اسے دونوں راستے (یعنی خیر و شر کے راستے) نمایاں کر کے بتا دیے "۔ اور سورة شمس میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے و نفس و ما سوھا فالھمھا فجورھا و تقوھا، " اور قسم ہے (انسان کے) نفس کو اور اس ذات کی جس نے اسے (تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ) استوار کیا، پھر اس کا فجور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اس کے بعد تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان اس طرح فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاج یعنی ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے امشاج، مشج یا مشیج کی جمع ہے جس کے معنے مخلوط کے آتے ہیں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاص اربعہ یعنی خن، بلغم، سودا، صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔
ہر انسان کی تخلیق میں دنیا بھر کے اجزاء اور ذرات کی شمولیت۔
اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاط اربعہ مذکورہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز نلکوں اور خطوں کے اجزاء آب و ہوا وغیرہ کے ذریعہ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک انسان کے…
Read the full tafseer →سمع و بصر کا ثمرہ: یہ انسان کو سمیع و بصیر بنانے کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ پھر ہم نے اس کو راہ سجھا دی۔ ’راہ سجھانے‘ سے مراد یہ ہے کہ اس کو نیکی اور بدی کی راہ سجھا دی، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:
’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (البلد ۹: ۱۰)
(اور ہم نے اس کو دونوں راہیں سجھا دیں)
سورۂ شمس میں فرمایا ہے:
’فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۸)
(پس اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری الہام کر دی)
ان دونوں راہوں کے سجھا دیے جانے کے سبب سے انسان خود اپنے اوپر خیر اور شر کا گواہ بن گیا اور اس کے پاس بدی کی راہ اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ اس حقیقت کی طرف سابق سورہ میں یوں…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
1: یعنی مرد اور عورت کے ملے جلے اجزاء سے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →انا ھدینہ ............................ کفورا (3:76) ” اور ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ یہاں اللہ نے راہ ہدایت کی تعبیر شکر نعمت سے کی ہے۔ کیونکہ جب کسی کو ہدایت عطا کردی جاتی ہے تو اس کے پردہ شعور پر سب سے پہلے شکر کا احساس نمودار ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت عطا کرکے ایک قابل ذکر چیز بنایا۔ پھر اسے سمع وبصر کرکے دوسرے حیوانات سے ممتاز کیا اور یوں وہ علم ومعرفت پر قادر ہوا ، پھر اسے ازروئے فطرت اور بذریعہ انبیاء ہدایت عطا فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا کہ وہ راہ ہدایت اختیار کرکے مشکور بنے یا راہ ضلالت اختیار…
Read the full tafseer →4 یعنی اولاً اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے، پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سمجھائی جس کا مقتضی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ پر چلتے لیکن گردو پیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ } ”ہم نے اس کو راہ سجھا دی“
اس سے مراد ”ایمان“ سے متعلق وہ شعور یا وہ ہدایت اور راہنمائی ہے جو ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یعنی انسان اندھا اور بہرہ پیدا نہیں ہوا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی طور پر بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جسمانی حواس بھی دیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے روح کی بصیرت بھی عطا کی ہے۔
{ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ } ”اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘ چاہے ناشکرا ہوکر۔“
اب ظاہر ہے جس انداز اور طریقے سے انسان زندگی گزارے گا ‘ اسی کے مطابق آخرت میں اس کو بدلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →4 انسان کی ہدایت کے لیے کون کون سے ذرائع اللہ نے بنائے ہیں ؟:۔ راہ دکھانے کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مثلاً :
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عہدالست سے تعبیر فرمایا ہے۔
2۔ ہر انسان میں برے اور بھلے کی تمیز رکھ دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگتا ہے۔
3۔ انسان جب مصائب میں گھر جاتا ہے تو غیر شعوری اور اضطراری طور پر اس کی نگاہیں اپنے خالق کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ فریاد کے لیے اسے پکارنے لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے…
Read the full tafseer →3۔ یعنی وہ اب بتائے ہوئے راستہ پر یا تو چلایانہ چلا۔ اگر چلا تو مومن وشکر گزرا ٹھہرا، چلا تو کافر اور ناشکرا نکلا، یہیں سے معلوم ہوا کہ اسباب و حالات اور قوتیں اللہ نے خلق فرمائیں اور اختیار وصرف ہمت انسان کی رائے پر چھوڑا۔ (آیت) ” ان ھدینہ السبیل “۔ یعنی ہم نے انہیں احکام کا مکلف بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک انسان (یعنی) آدم پر، زمانہ میں ایسا وقت (یعنی) چالیس سال بھی گزرا ہے کہ وہ اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا (بلکہ) وہ اس زمانہ میں ایک ناقابل ذکر مٹی کا پتلا تھا، یا انسان سے جنس انسان مراد ہے، اور حین سے مدت حمل مراد ہے، بیشک ہم نے انسانوں کو مرد اور عورت (یعنی) حال یہ کہ ہم اس کو اہل بنا کر آزمانے والے تھے، اسی لئے ہم نے اس کو شنوا اور بینا بنایا، ہم نے اس کو راہ دکھائی (یعنی) رسول بھیج کر اس کے لئے راہ ہدایت واضح فرمائی، اب خواہ وہ شکر گزار مومن بنے، یا ناشکرا دونوں مفعول سے حال ہیں یعنی اس کی حالت شکر یا حالت کفر…
Read the full tafseer →انا ھدینہ السبیل . ہم نے اسکے لیے راستہ کھول دیا یعنی پیغمبر بھیج کر ‘ کتابیں اتار کر اور (انفسی و آفاقی)
دلائل قائم کر کے ‘ اللہ کے قرب ‘ اللہ کی خوشنودی اور اللہ کی جنت تک پہنچنے کا راستہ انسان کے لیے کھول دیا۔ ہدایت سے اس جگہ مراد ہے راستہ دکھانا ‘ مقصود تک پہنچانا مراد نہیں ہے اس کے برخلاف آیت : اھدنا الصراط المستقیم میں مقصد تک پہنچانا مراد ہے۔
اما شاکرا و اما کفورا . شاکرا اور کفورا ‘ ھدینہ کی ضمیر۔ ہ۔ سے حال ہیں۔ یعنی نسان یا ہماری ہدایت
کا شکر گزرا ہوگا اور اس کو قبول کرلے گا یا کفران نعمت اور ناشکری کرے گا۔ دونوں باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی بعض لوگوں نے السبیل سے حال قرار دیا ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →ہم نے اس کو ایمان و کفر کا اور نیکی و برائی کا راستہ بتلا دیا یا تو وہ شکر گزار مومن ہوگیا یا ناشکرا کافر یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو شکر گزاروں یا ناشکروں کا راستہ دکھلا دیا۔
Read the full tafseer →(1) انا ھدینہ السبیل : یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اور عقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لئے معروف صبح نے پہچانے) اور برے کام منکر (نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء ؑ کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔
(2) اما شاکراً و اما کفوراً : سمع و بصر، عقل و فہم، فطرت انسانی اور انبیاء ؑ کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لئے صحیح راستہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اسے راستے پر چل کر اس کی…
Read the full tafseer →انا ھدینہ السبیل۔ ہم نے اس کے لیے واضح کیا اور ہم نے رسول مبعوث کرکے اس کو ہدایت وگمراہی اور خیر وشر کے راستوں کی پہچان کرائی، پس وہ ایمان لایا اور کفر کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وھدینہ النجدین۔ البلد) اور ہم نے دونوں راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کی، ضحاک اور ابوصالح اور سدی نے کہا، یہاں سبیل سے مراد اس کا رحم سے نکلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے منافع اور مضرتیں ہیں جن کی طرف وہ طبعی اور کمال عقل کی بنا پر ہدایت پاتا ہے۔
اما شاکرا واما کفورا۔ ان دونوں میں سے جو بھی کرے ہم نے اس کے لیے واضح کردیا ہے، کو فیوں نے کہا : یہاں ان شرطیہ ہے اور مازائد ہے یعنی ہم نے اس کے لیے راستہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
32۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل میں السبیل سے مراد ہے ہدایت۔
33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینہ السبیل سے مراد ہے بدبختی اور سعادت مندی
34۔ ابن المنذر نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل سے مراد ہے خیر اور شر۔
35۔ احمد وابن المنذر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں زبان کھول لیتا ہے اور جب وہ اس کے بارے میں زبان کھولتا ہے تو چاہے وہ شکر گزار بنے یا چاہے تو ناشکری کرے۔ (روایت ضعیف ہے۔ مسند احمد…
Read the full tafseer →[انا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ : بیشک ہم سجھا دیا اس کو یہ راستہ ] [اِمَا شَاكِرًا وَّاِمَا كَفُوْرًا : (اب) چاہے شکر کرنے والا ہو اور چاہے ناشکری کرنے والا ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے والا سننے والا بنایا اسے صحیح راستہ بتایا، انسانوں میں شاکر بھی ہیں کافر بھی ہیں
یہاں سے سورة الدھر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الانسان بھی ہے اس کے پہلے رکوع میں انسان کی ابتدائی آفرینش بتائی ہے اس کے بعد انسان کی دو قسمیں بتائیں ایک شکر گزار اور ایک ناشکرا اس کے بعد ناشکروں کا عذاب اور شکر گزاروں کے انعامات بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو صبر کرنے اور ذکر کرنے اور راتوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور دنیا داروں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑا دن چھوڑ رکھا ہے۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →3:۔ ” اناھدیناہ “ شاکرا اور کفورا، ھدیناہ میں ضمیر منصوب سے حال ہیں۔ ہم نے انسان کو خواہ شاکر (مومن) ہو یا کفور (کافر) ہر حال میں سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ عقل و تمییز بھی عطا کی پھر دلائل کائنات کی کتاب اس کے سامنے کھول کر رکھدی کہ اس میں غور و فکر کر کے حق بات سمجھنے کی کوشش کرے اور پھر ساتھ ہی اپنے پیغمبروں کو ہدایات دے کر ان کے پاس بھیجدیا تاکہ وہ ان کو سمجھائیں اور ان کو اللہ کی راہ دکھائیں اب ان کی مرضی شاکر بنیں یا کفور۔
Read the full tafseer →اِنَّا ہَدَيْنٰہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا 3
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی،
وهو المعنيّ بقوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…
Read the full tafseer →اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ (الدہر : 3)
(ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔ )
انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت
انسان کو زندگی گزارنے اور دنیا و عقبیٰ کے بارے میں صحیح فیصلے کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ محسوسات سے فائدہ اٹھانے کے لیے حواس عطا کیے، اور حواس سے نتائج اخذ کرنے اور استنباط اور استنتاج کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جوہرِعقل سے نوازا۔ لیکن انسان کی کتنی ضرورتیں ایسی ہیں جو حواس اور عقل سے پوری نہیں ہوتیں۔ عقل سے انسان یہ تو جان سکتا ہے کہ میرا کوئی نہ کوئی خالق ہے، اس کائنات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : القیامہ کے آخر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا اور پھر نر اور مادہ کی صورت میں جوڑے بنا دئیے، دنیا میں انسان کا وجود نطفہ سے پہلے نہیں ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی ابتداء میں یوں کیا گیا ہے کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ زمانے میں اس کا ذکر تک موجود نہیں تھا پھر ” اللہ تعالیٰ “ نے اسے انسان کی شکل میں پیدا فرمایا۔
سورۃ الدھر کی ابتدا میں ” ھَلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر سوال کیا ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا دور گزرا ہے کہ جب اس کا ذکر تک نہیں تھا اس دور سے مراد تین ادوار ہوسکتے ہیں۔
1۔ تخلیق آدم سے پہلے کا دور۔ 2۔ انسان کی تخلیق کا…
Read the full tafseer →دو راستے :
3 : اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ (ہم نے اس کو راستہ بتلایا) ہم نے اس کے سامنے ہدایت کا راستہ عقل و سمع کے دلائل سے واضح کردیا۔ اِمَّا شَاکِرًا (یا تو وہ شکر گزار ہوگیا) ایمان لا کر وَّ اِمَّا کَفُوْرًا (یا نا شکرا ہوگیا) کفر اختیار کر کے۔ یہ دونوں ھدیناہ کی ضمیر سے حال ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے ان شکر اَوْکفر فقد ھدیناہ السبیل فی الحالین اگرچہ وہ شکر اختیار کرے یا کفر ہم نے تو دونوں حالتوں میں اس کی راہنمائی راستہ کی طرف کردی ہے۔
نمبر 2 : السبیل سے حال ہے۔ ہم نے اس کو راستہ کی پہچان کر ادی۔ اس حال میں کہ وہ شکرگزاری والا راستہ ہو یا ناشکری والا۔ اس صورت میں السبیل کی صفت کفرو شکر…
Read the full tafseer →2 ۔” انا خلقنا الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو۔ ” من نطفۃ “ یعنی مرد اور عورت کی منی سے۔ ” امشاج “ ملے جلے۔ اس کا واحد مشج اور مشیج ہے جیسے خدن وخدین۔
امشاج کی تفسیر میں ائمہ کرام کے مختلف اقوال
ابن عباس ؓ ، حسن ، مجاہد اور ربیع رحمہم اللہ فرماتے ہیں یعنی آدمی کا پانی اور عورت کا پانی رحم میں ملتے ہیں تو ان دونوں سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پس آدمی کا پانی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی زرد پتلا ہے۔ پس ان دونوں میں سے جو دوسرے پر غالب ہوجائے تو بچہ اس کے مشابہ ہوگا اور جو پٹھے اور ہڈیاں ہیں تو وہ مرد کے نطفہ سے بنتے ہیں اور گوشت ، خون اور بال عورت کے پانی سے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں امشاج سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ لم یکن شیئا مذکورا کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا وجود اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں تو تھا لیکن آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کچھ تذکرہ ظاہر نہیں تھا۔ اوپر صحیح 2 ؎ حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے جب تک اس بچہ کی زبان کھلتی ہے اور بات چیت کرنی سیکھتا ہے اس وقت تک اسی فطرت اسلامی کی حالت پر رہتا ہے اور بعد اس کے ہر ایک امت کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کی ہدایت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہے اگر اس بچہ کے ماں باپ نیک راستہ پر نہ ہوئے تو پھر وہ بچہ ماں باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة مبارکہ میں اللہ نے انسان کے ابتدائی اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں چناچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور ویہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردہ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا (مِنْ نُّطْفَةٍ ) نطفہ مخلوط سے، یعنی حقییر اور گندے پانی سے بنایا (نبتلیہ) ہم اس کے ذریعے اس کو آزماتے ہیں تاک ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے اور اس…
Read the full tafseer →7 انسان کیلئے نور حق و ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے اس کو راستہ دکھایا۔ یعنی صرف عقل و فکر کی روشنی بخشنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کو وحی اور ہدایت کی روشنی سے بھی سرفراز فرمایا، کہ تنہا عقل کی روشنی منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے کافی نہیں، بلکہ وحی اور ہدایت کی روشنی کے بغیر محض عقل و خرد کی روشنی تو انسان کو بسا اوقات اور بھی زیادہ ورطہ حیرت و ضلالت میں پھنشا دیتی ہے، سو جس طرح ظاہری راستہ معلوم کرنے کیلئے آنکھوں کی روشنی کے ساتھ ساتھ سورج وغیرہ کی کسی بیرونی روشنی کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، اسی طرح حق کے ادراک اور اس تک رسائی اور اس سے سرفرازی کیلئے عقل و فکر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
انسان کی اصلیت اور اس کا کردار
تشریح : ان چار آیات میں رب رحمن و رحیم نے انسان کی حیثیت کردار مقصد ذمہ داریاں پیدائش عمل مرتبہ پھر انجام اور نتیجہ سب کچھ بیان کردیا ہے۔ یہی تو قرآن کی معقولیت جامعیت نفاست اور بےمثل ہونے کی دلیلیں ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے اور سائنسدانوں کی تحقیقات اور قرآن کا بیان یہی ثابت کر رہا ہے کہ پہلے کائنات بنائی گئیـ اور پھر انسان کا ظہور ہوا۔ جو کہ واضح الفاظ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا پھر حوا کو اور پھر دونوں کو جنت میں جگہ ملی۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی شیطان نے بھی اپنی گدی سنبھال لی کہ قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا۔ لہٰذا اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4 یعنی عقل اور سمجھ بھی دی اور اس کی طرف پیغمبر ﷺ بھی بھیجے جنہوں نے اس پر شکر گزاری اور ناشکری کے راستے واضح کردیئے اور دونوں پر چلنے کے انجام سے خبردار کردیا۔
Read the full tafseer →(76:3) انا ھدینہ ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر بمعنی ہدایت یاب کرنا۔ راستہ بتادینا۔ ہدایت کرنا۔ بھلائی برائی کے حصول کے فطری راستے بتادینا۔ یہاں اس کا مطلب ہے ہم نے اس کو حق کا راستہ بتادیا۔
ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔
السبیل : منصوب بوجہ مفعول ھدینا کے۔ والسبیل الطریق السوی سیدھا راستہ، راہ حق۔
اما شاکرا واما کفورا : اما بمعنی اگر ، یا۔ شاکر اشکر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ شکر گراز، احسان مند۔
کفورا۔ کفران مصدر سے مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر۔ بڑا ناشکرا۔ بڑا احسان فراموش۔
شاکرا اور کفورا کے متعدد اقوال ہیں :۔
(1) دونوں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر سے حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →(ف 3) فرمایا کہ ہم نے مخلوق کو ایک سیدھاراستہ بتایا ایک مضمون توحید اور اطاعت کا اپنے تمام پیغمبروں کے ذریعہ سے پہنچایا ایسی کتابیں نازل کیں جن میں شک کے قابل کوئی بات نہ تھی اور ایسے رسول بھیجے جن کی رسالت صاف طور پر اپنی صداقت کا آئینہ تھے مگر پھر بھی مخلوق کی دوقسم کی ہوگی۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا یعنی مومن سعید، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کو کوشی پر کمر باندھ لی، یعنی کافرشقی آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[4] '' راہ دکھانے '' سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :۔
(ا) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔
(ب) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو انسان…
Read the full tafseer →عموم فیضان
2: یعنی جس اللہ کا آفتاب ساری دنیاکور روشن کرتا ہے ۔ جس طرح اس کا ابرسیت وبلند زمین کے ہر حصہ پر برستا ہے ۔ اور جس طرح ہوا ہے پتنے اور نفس نفس کت پہنچتی ہے ۔ اسی طرح جہاں تک نظام رشدوہدایت کا تعلق ہے ۔ وہ سب کے لئے عام ہے ۔ اس میں چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کی کوئی تمیز نہیں ۔ ہر طبقے اور ہر نوع کا انسان اس کی برکات سے بہرہ مند ہوسکتا ہے ۔ نبوت آفات سارے افق انسانیت پر چمکتا ہے ۔ اور وحی والہام کی بارش ہر خطہ اراضی پر برابر ہوتی ہے ۔ اور اسی طرح فیوض و انعامات کی ہوائیں ہر شخص کے قلب و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں ۔ اب یہ ان لوگوں کا کام ہے ۔ اور ان کا اپنا فرض ہے کہ اس سے استفادہ کریں…
Read the full tafseer →(3) ہم نے اس کو راستہ بتادیا یا وہ شکر کرنے والا ہے اور یا ناسپاس اور کفر کرنے والا ہے۔ سبیل سے مراد یا تو طریقہ حق ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے یہ کہ حق و باطل اور بھلائی برائی کا راستہ دکھادیا اور کتابیں نازل کرکے اور رسول بھیج کر یہ بات بتادی کہ نجات کا راستہ یہ اور ہلاکت کی راہ یہ ہے۔
مطلب یہ ہے کہ احکام کا مخاطب بنایا اس کے بعد یہ انسان یا تو شکرگزار ہوگیا یعنی موحد مومن اللہ کی اطاعت بجا لانے والا ہوا اور ناسپاس یعنی مشرک اور کافر شقی ہوگیا بہرحال دوراستوں میں تقسیم ہوگیا آگے دونوں کے انجام کا ذکر فرمایا صحیح راہ اختیار کرنے والوں کی تعداد چونکہ کم تھی اس لئے ان کو شاکر فرمایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں مکلف بننے کی قابلیت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(بیشک) دلیلیں قائم کرکے اور آیتیں نازل کر کے (ہم نے ہدایت کی اسے) سیدھے (راستے کی ، کہ) اب (یا) مومن سعید ہو کر (شکر گزار) ہو (اور یا ) کافر شقی ہو کر (ناشکرا) سب کو معلوم رہنا چاہیے کہ (بیشک ہم نے تیار کررکھا ہے کافروں کے لیے زنجیریں) جن میں باندھ کر کافروں کو دوزخ میں کھینچیں گے (اور طوق) کہ ان کے گلوں میں ڈالیں گے (اور بھڑکتی آگ) جس میں ہمیشہ جلا کریں گے۔ ان کافروں کے برعکس۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
Neither we were there, nor was there any demand from us. It is only Your mercy that listened to what we never said.
Verse [ 2] describes the inception of human creation thus:
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (We have created man from a mixed sperm-drop __76:2). The word amshaj is the plural of mashj or mashj which means a 'mixture'. Here obviously it refers to the male and female gametes according to most commentators, but some commentators say, as cited in Ruh-ul-Ma` ni, that amshaj refers to the four fluids of the body [ blood, phlegm, choler and melancholy ] of which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 That is, "We did not just leave him to himself after giving him the powers of knowledge and reason, but We also guided him so that he knows which is the path of gratefulness and which of ungratefulness, so that whichever path he chooses in his later life, he himself is responsible for it. In Surah Al-Balad, the same subject has been expressed, thus "And We showed him both the conspicuous ways (of good and evil) ." And in Surah Ash-Shams, thus "By the human self, and by Him Who balanced it (with all the external and internal powers) , then inspired it with its wickedness and its piety " When…
Read the full tafseer →