Explained with ayahs 4–12
زنجیریں طوق اور شعلے
یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الدَّهْر 5
یعنی ہم نے اسے محض علم و عقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ شکر کا راستہ کونسا ہے اور کفر کا راستہ کونسا، اور اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمہ دار وہ خود ہو۔ سورة بلد میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وھدینہ النجدین۔ " اور ہم نے اسے دونوں راستے (یعنی خیر و شر کے راستے) نمایاں کر کے بتا دیے "۔ اور سورة شمس میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے و نفس و ما سوھا فالھمھا فجورھا و تقوھا، " اور قسم ہے (انسان کے) نفس کو اور اس ذات کی جس نے اسے (تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ) استوار کیا، پھر اس کا فجور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اس کے بعد تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان اس طرح فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاج یعنی ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے امشاج، مشج یا مشیج کی جمع ہے جس کے معنے مخلوط کے آتے ہیں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاص اربعہ یعنی خن، بلغم، سودا، صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔
ہر انسان کی تخلیق میں دنیا بھر کے اجزاء اور ذرات کی شمولیت۔
اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاط اربعہ مذکورہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز نلکوں اور خطوں کے اجزاء آب و ہوا وغیرہ کے ذریعہ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک انسان کے…
Read the full tafseer →خیر اور شر میں امتیاز کا لازمی نتیجہ:
یہ خیر اور شر میں امتیاز بخشے جانے کا لازمی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر و کفر دونوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت بخشی ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو انعام سے نوازے جو شکرگزاری کی راہ اختیار کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو کفر کی راہ چلیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس صلاحیت کا دیا جانا لاحاصل رہا درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کی شان حکمت سے یہ بعید ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔
کافروں کو سزا: فرمایا کہ چونکہ ہم نے انسان کو شکر اور کفر کا امتیاز بخشا ہے اس وجہ سے ہمارے ہاں شاکر اور کافر دونوں یکساں نہیں ہوں گے بلکہ ہم ان کے ساتھ الگ الگ…
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
1: یعنی مرد اور عورت کے ملے جلے اجزاء سے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →انا اعتدنا ........................................ سعیرا
” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کررکھی ہے “۔ زنجریں ان کے پاﺅں میں ہوں گی ، طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ، یہ لوگ زنجیروں میں بندھے ہوئے اور ہتھ کڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم میں گرائے جائیں گے۔ لیکن اس مختصر ذکر کے بعد اب جنت کی نعمتوں کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ اور قدرے تفصیل کے ساتھ۔
Read the full tafseer →5 یعنی جو لوگ رسم و رواج اور اوہام و ظنون کی زنجیروں میں جکڑے رہے اور غیر اللہ کی حکومت و اقتدار کے طوق اپنے گلوں سے نہ نکال سکے۔ بلکہ حق و حاملین حق کے خلاف دشمنی اور لڑائی کی آگ بھڑکانے میں عمریں گزار دیں، کبھی بھول کر اللہ کی نعمتوں کو یاد نہ کیا۔ نہ اس کی سچی فرمانبرداری کا خیال دل میں لائے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں دوزخ کے طوق و سلاسل اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 5{ اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوْرًا۔ } ”یقینا نیکوکار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں کافور کی ملونی ہوگی۔“
ایک طرف کفار و مشرکین زنجیروں اور طوقوں میں جکڑے جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے تو دوسری طرف اللہ کے فرمانبردار اور نیکوکار بندے جنت کی نعمتوں میں داد عیش دے رہے ہوں گے۔ جنت میں انہیں آبِ کافور کی آمیزش والی شراب طہور بھی پیش کی جائے گی۔ آگے اس چشمہ کافور کی مزید وضاحت ہے :
Read the full tafseer →6 امتحان کا وقت ہر انسان کی موت تک ہے یا جو لوگ اس امتحان میں فیل ہوجائیں گے ان کی اخروی زندگی انتہائی تلخ ہوگی اور یہ دنیا کی زندگی جس قدر آزادانہ اور عیش و آرام میں گزار کر مریں گے اسی نسبت سے انہیں عذاب بھی دیئے جائیں گے۔ پابند زنجیر و سلاسل کرکے اور گلے میں طوق ڈال کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ (جہاں چاہیں گے) اسے اہل جنت کی ایک کرامت سمجھئے یا جنت کی خصوصیت مقامی کہ جنت کی نہریں، ندیاں سب ان کے تابع اور ان کے حکم کی مسخر ہوں گی۔ (آیت) ” کافورا “۔ کافور کے بےاتنہاء فوائد اس دنیا میں بھی اطباء کو مسلم ہیں، اور پھر وہ کافور تو جنت کا کافور ہوگا۔ اس کی خوبیوں کا کیا پوچھنا یہاں یہ خوب خیال رہے کہ دنیا کی جس چیز سے بھی جنت کی کسی نعمت کو تشیبہ دی جاتی ہے وہ تشبیہ اس چیز کی صرف حسن و خوبی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ کسی ضرر یا قبح کے لحاظ سے دنیا کے کافور میں اگر کچھ مضرتیں ہوں بھی تو جنت کے کافور پر ان کا کیا اثر، ٹھیک اس طرح جیسے دنیا کی شراب کے سکر وفتور عقل کا مطلق کوئی اثر شراب جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک انسان (یعنی) آدم پر، زمانہ میں ایسا وقت (یعنی) چالیس سال بھی گزرا ہے کہ وہ اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا (بلکہ) وہ اس زمانہ میں ایک ناقابل ذکر مٹی کا پتلا تھا، یا انسان سے جنس انسان مراد ہے، اور حین سے مدت حمل مراد ہے، بیشک ہم نے انسانوں کو مرد اور عورت (یعنی) حال یہ کہ ہم اس کو اہل بنا کر آزمانے والے تھے، اسی لئے ہم نے اس کو شنوا اور بینا بنایا، ہم نے اس کو راہ دکھائی (یعنی) رسول بھیج کر اس کے لئے راہ ہدایت واضح فرمائی، اب خواہ وہ شکر گزار مومن بنے، یا ناشکرا دونوں مفعول سے حال ہیں یعنی اس کی حالت شکر یا حالت کفر…
Read the full tafseer →انا اعتدنا للکفرین سسلسلا واغللا و سعرا . زنجیریں ہاتھوں میں ‘ طوق گردنوں میں اور بہت بھڑکتی
ہوئی آگ کافروں کے لیے ہم نے تیار کر رکھی ہے۔ یہ پورا جملہ اور اس کے بعد والا جملہ ان الابرار یشربون .... دونوں جملے مستانفہ ہیں۔ شکر گزاروں اور ناشکروں کو کیا ملے گا ؟ یہ ایک سوال پیدا ہوتا تھا اس کا جواب ان جملوں میں دے دیا۔ کافروں کا ذکر تو شاکروں کے بعد کیا تھا ‘ مگر ان کی سزا کا تذکرہ مؤمنوں کی جزاء سے پہلے کیا کیونکہ عذاب سے تخویف ‘ نصیحت پذیری کے لیے (بشارت سے) زیادہ مفید ہوتی ہے۔ پھر اہل ایمان کے تذکرہ سے کلام کا آغاز اور انہی کے کلام پر ذکر کا خاتمہ یوں بھی بہت اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4۔ 5) ہم نے ابو جہل وغیرہ کے لیے دوزخ میں بیڑیاں اور آگ تیار کر رکھی ہے اور سچے ایمان دار جنت میں اسے جام شراب سے شرابیں پیئیں گے جس میں کافور شامل ہوگا۔
Read the full tafseer →(ان اعتدنا للکفرین…:”سلسلا“ کی جمع ہے، زنجیریں۔ ”اغلاً“ ”غل“ کی جمع ہے، طوق۔ انسان کی پیدائش کی ابتدا اور راہ حق کی طرف اس کی رہنمائی ذکر کرنے کے بعد ہدایت قبول کرنے سے انکار کرنے والوں کا اور نیک لوگوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ہم نے کفار کے لئے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ کفار کے لئے اغلال اور سلاسل کا ذکر سورة حاقہ (30 تا 33) اور سورة مومن (69 تا 72) میں دیکھیے۔
Read the full tafseer →انا اعتدنا للکافرین سلسلا واغلالا وسعیر۔
دونوں فریقوں (ناشکری کرنے والے، شکر گزار) کی حالت کو بیان کیا اللہ تعالیٰ نے عقلاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اوامر کو بجالائیں جن کا انہیں حکم دیا گیا، انہیں مکلف بنایا اور انہیں ان امور پر قادر بنایا جو انکار کرے اس کے لیے عتاب ہے اور جو اس کی وحدانیت کو تسلیم کرے اور شکر بجالائے اس کے لیے ثواب ہے، السلاسل سے مراد جہنم کی بیڑیاں ہیں ہر بیڑ کی لمبائی سترہزارگز ہے جس طرح سورة الحاقہ میں گزرچکا ہے۔ نافع، کسائی، اور ابوبکر نے عاصم سے اور ہشام نے ابن عامر سے سلاسلا تنوین کے ساتھ نقل کیا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے تنوین کے بغیر پڑھا ہے۔ قنبل اور ابن کثیر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
32۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل میں السبیل سے مراد ہے ہدایت۔
33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینہ السبیل سے مراد ہے بدبختی اور سعادت مندی
34۔ ابن المنذر نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل سے مراد ہے خیر اور شر۔
35۔ احمد وابن المنذر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں زبان کھول لیتا ہے اور جب وہ اس کے بارے میں زبان کھولتا ہے تو چاہے وہ شکر گزار بنے یا چاہے تو ناشکری کرے۔ (روایت ضعیف ہے۔ مسند احمد…
Read the full tafseer →[انآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ : بیشک ہم نے تیار کیا کافروں کے لیے ] [سَلٰسِلَا۟ وَاَغْلٰلًا وَّسَعِيْرًا : زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
کافروں کے عذاب اور اہل ایمان کے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات کا تذکرہ
یہ انیس آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے زنجیریں ہیں اور طوق ہیں اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی ان چیزوں کا ذکر ہے۔ دیکھو سورة ٴ یٰسین رکوع نمبر 1 اور سورة الحاقۃ رکوع نمبر 1، اس کے بعد کی آیت میں نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور ان کی ماکولات اور مشروبات اور مرغوبات اور ظروف کا تذکرہ فرمایا ہے یہ چیزیں انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کے بدلہ میں بطور انعام دی جائیں گی۔
ارشاد فرمایا کہ نیک بندے ایسے جام سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔
(ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…
Read the full tafseer →4:۔ ” انا اعتدنا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ہم نے منکرین کے لیے بیڑیاں، طوق اور بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ قیامت کے دن ہم ان کو پابہ زنجیر کر کے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ جکڑ کر جہنم کے بھڑکتے شعلوں میں پھینک دیں گے۔ اس مختصر تخویف کے بعد طویل بشارت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَلٰسِلَا۟ وَاَغْلٰلًا وَّسَعِيْرًا 4
عد ( اعداد)
والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…
Read the full tafseer →اِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سِلٰسِلاَ ْ وَاَغْلٰلاً وَّسَعِیْرًا۔ (الدہر : 4)
(کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔ )
غلط انتخاب کا نتیجہ
گزشتہ آیت میں فرمایا گیا کہ ہم نے انسانوں کو خیر و شر کی تمیز دینے کے بعد صحیح راستے کی ہدایت دے دی۔ اپنے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کے ذریعے ان پر پوری طرح یہ حقیقت واشگاف کردی کہ صحیح راستہ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے اور غلط راستہ کفر کرنا ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ دونوں راستوں میں جو چاہو اختیار کرلو۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ چونکہ دونوں راستے یکساں نہیں ہیں، ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ تو یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفر اختیار کرنے والوں کی سزا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے، سننے اور سوچنے کی اس قدر صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، اپنے وجود اور قرآن مجید پر معمولی سا غور کرلے تو انسان کبھی کفر کا راستہ اختیار نہ کرے، انسان اسی وقت ہی کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ راہنمائی اور اس کی قدر توں اور نعمتوں پر غور نہیں کرتا، یہی غفلت اس کے جہنم جانے کا سبب بنے۔ اس لیے جب جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کس وجہ سے جہنم میں داخل کیے گئے تو وہ اس بات کا اقرار اور اظہار کریں گے کہ کاش ! ہم سننے اور عقل کرنے والے ہوتے تو جہنم میں داخل نہ…
Read the full tafseer →کفار کا انجام :
4 : ربط : جب فریقین کا ذکر کیا تو ان کے پیچھے جو ان کے لئے تیار کیا گیا اس کو ذکر کیا۔ اِنَّآ اَعْتَدْ نَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَا (ہم نے کافروں کیلئے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں) سلاسل جمع سلسلہ کی ہے۔
قراءت : حفص نے بلا تنوین پڑھا ہے۔ اسی طرح مکی، ابو عمرو، حمزہ نے بھی مگر دیگر قراء نے مناسبت کی خاطر تنوین پڑھی ہے۔ وَاَغْلٰـلًا وَّ سَعِیْرًا (طوق اور آتش سوزاں) چونکہ یہ دونوں تنوین کے ساتھ ہیں تو ان کی مناسبت سے سلاسلًا پڑھا گیا۔ کیونکہ غیر منصرف کو مناسبت کی وجہ سے منصرف پڑھنا جائز ہے۔ اغلال جمعغُلّ کی ہے۔ سعیرًا بڑھکتی آگ۔
Read the full tafseer →3 ۔” انا ھدیناہ السبیل “ یعنی ہم نے اس کے لئے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے راستے کو بیان کیا اور ہم نے اس کو خیر و شر کے راستہ کی معرفت دی۔ ” اماشاکر اواماکفورا “ یا مومن نیک بخت یا کا فرید بخت ہے اور کہا گیا ہے کلام کا معنی جزاء ہے۔ یعنی ہم نے اس کے لئے راستے کو بیان کردیا، اگر وہ شکر کرے یا کفر کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…
Read the full tafseer →پھر اللہ نے جزا کے لحاظ سے دونوں فریقوں کا ذکر کیا تو فرمایا جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں (سَلٰسِلَا۟) جہنم کی آگ کی زنجیریں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے (ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ۔ الحاقہ 32) پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔ (وَاَغْلٰلًا) اور طوق۔ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔ (وَّسَعِيْرًا) یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلاڈالے گی جیسا کہ اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8 منکرین کیلئے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکرین کیلئے ہم نے بڑی ہولناک زنجیریں، اور بڑے ہی بھاری بھرکم طوق تیار کر رکھے ہیں، اور ایک انتہائی ہولناک دہکتی بھڑکتی آگ بھی۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کا لازمی نتیجہ جزا و سزا ہے۔ اس لئے فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے کافروں کیلئے ہولناک زنجیریں، بھاری طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے، کہ انہوں نے اس دنیا میں اپنے آپ کو خود ہی رسم و رواج کی جکڑ بندیوں اور عادات و تقالید کے پھندوں میں پھنسا کر حق سے محروم کردیا تھا، اور خود کو خواہشات نفس کے جحیم کے حوالے کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
انسان کی اصلیت اور اس کا کردار
تشریح : ان چار آیات میں رب رحمن و رحیم نے انسان کی حیثیت کردار مقصد ذمہ داریاں پیدائش عمل مرتبہ پھر انجام اور نتیجہ سب کچھ بیان کردیا ہے۔ یہی تو قرآن کی معقولیت جامعیت نفاست اور بےمثل ہونے کی دلیلیں ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے اور سائنسدانوں کی تحقیقات اور قرآن کا بیان یہی ثابت کر رہا ہے کہ پہلے کائنات بنائی گئیـ اور پھر انسان کا ظہور ہوا۔ جو کہ واضح الفاظ میں بیان کیا جاچکا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا پھر حوا کو اور پھر دونوں کو جنت میں جگہ ملی۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی شیطان نے بھی اپنی گدی سنبھال لی کہ قیامت تک انسان کو گمراہ کرے گا۔ لہٰذا اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة الدھر۔
آیات 1 تا 22۔
اسرار ومعارف۔
انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔
تخلیق انسانی۔
پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔
پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4 یعنی عقل اور سمجھ بھی دی اور اس کی طرف پیغمبر ﷺ بھی بھیجے جنہوں نے اس پر شکر گزاری اور ناشکری کے راستے واضح کردیئے اور دونوں پر چلنے کے انجام سے خبردار کردیا۔
Read the full tafseer →(76:4) اعتدنا ماضی جمع متکلم اعتاد (افعال) مصدر ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ سلسلا : سلسلۃ کی جمع ہے زنجیریں۔ بعض کے نزدیک یہ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہے اور یہ قائم مقام دو اسباب منع صرف کے ہے۔ اسی لئے غیر منصرف ہے اور بدیں وجہ اس پر تنوین نہیں آئی۔
اغلالا : غل کی جمع ۔ طوق۔ ہتھکڑیاں۔ غل اس شے کو کہتے ہیں جس سے قید کیا جائے اور اس میں اعضا باندھ دئیے جائیں۔
سعیرا دھکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر سے جس کے معنی آگ بھڑکانے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔
سلسلا واغلالا : وسعیرا منصوب بوجہ مفعول فعل اعتدنا کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
لغات القرآن۔
الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔
تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…
Read the full tafseer →(ف 4) فرمایا کہ کافروں کے پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق، جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی ہوئی آگ میں اس طوق و زنجیر میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
[4] '' راہ دکھانے '' سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :۔
(ا) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔
(ب) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
کوائف جنت
2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…
Read the full tafseer →(4) بلا شبہ ہم نے منکرین حق کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔ یعنی دین حق کے منکر اور پیغمبروں کے راستے کو نظر انداز کرنے والوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا کہ زنجیروں سے باندھ کر گھسیٹے جائیں گے اور طوق گردنوں میں ڈال کر ہاتھوں کو گردن سے باندھ دیا جائے گا اور پھر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے جیسا کہ سورة حاقہ میں گزر چکا ہے اور سورة مومن میں فرمایا اذا الا غلال فی اعناقھم والسلاسل یسبحون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ف 2۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں مکلف بننے کی قابلیت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(بیشک) دلیلیں قائم کرکے اور آیتیں نازل کر کے (ہم نے ہدایت کی اسے) سیدھے (راستے کی ، کہ) اب (یا) مومن سعید ہو کر (شکر گزار) ہو (اور یا ) کافر شقی ہو کر (ناشکرا) سب کو معلوم رہنا چاہیے کہ (بیشک ہم نے تیار کررکھا ہے کافروں کے لیے زنجیریں) جن میں باندھ کر کافروں کو دوزخ میں کھینچیں گے (اور طوق) کہ ان کے گلوں میں ڈالیں گے (اور بھڑکتی آگ) جس میں ہمیشہ جلا کریں گے۔ ان کافروں کے برعکس۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
Neither we were there, nor was there any demand from us. It is only Your mercy that listened to what we never said.
Verse [ 2] describes the inception of human creation thus:
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (We have created man from a mixed sperm-drop __76:2). The word amshaj is the plural of mashj or mashj which means a 'mixture'. Here obviously it refers to the male and female gametes according to most commentators, but some commentators say, as cited in Ruh-ul-Ma` ni, that amshaj refers to the four fluids of the body [ blood, phlegm, choler and melancholy ] of which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 That is, "We did not just leave him to himself after giving him the powers of knowledge and reason, but We also guided him so that he knows which is the path of gratefulness and which of ungratefulness, so that whichever path he chooses in his later life, he himself is responsible for it. In Surah Al-Balad, the same subject has been expressed, thus "And We showed him both the conspicuous ways (of good and evil) ." And in Surah Ash-Shams, thus "By the human self, and by Him Who balanced it (with all the external and internal powers) , then inspired it with its wickedness and its piety " When…
Read the full tafseer →