76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

آدم پر چالیس سال کا ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جبکہ ان کا پتلا بنا ہوا تھا کہ ان کو کسی چیز کی خبر نہ تھی اور کس غرض سے وہ بنائے گئے اس کی خبر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو نہ تھی۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

اور ہم نے اولاد آدم کو حضرت آدم اور حوا سے پیدا کیا یا یہ کہ مختلف مخلوط نطفہ سے پیدا کیا، کیونکہ مرد کی منی سفید گاڑھی ہوتی ہے اور عورت کی منی زردی مائل اور پتلی ہوتی ہے اور بچہ دونوں کی منی سے پیدا ہوتا ہے اس طور پر کہ ہم سختی اور فراخی سے یا یہ کہ نیکی اور برائی کے ذریعے سے آزمائیں پھر ہم نے اس کو قوت سماعت عطا کی تاکہ حق و ہدایت کی بات سنے اور بینائی عطا کی تاکہ حق و ہدایت کو دیکھے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

(اور) اسے راستہ بھی دکھایا (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا

ہم نے اس کو ایمان و کفر کا اور نیکی و برائی کا راستہ بتلا دیا یا تو وہ شکر گزار مومن ہوگیا یا ناشکرا کافر یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو شکر گزاروں یا ناشکروں کا راستہ دکھلا دیا۔
Ayahs 76:4–5

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیکوکار ہیں وہ ایسا مشروب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

(4۔ 5) ہم نے ابو جہل وغیرہ کے لیے دوزخ میں بیڑیاں اور آگ تیار کر رکھی ہے اور سچے ایمان دار جنت میں اسے جام شراب سے شرابیں پیئیں گے جس میں کافور شامل ہوگا۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے

یعنی ایسے چشمنے سے جس سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور اس میں ملائیں گے یا یہ کہ کافور کے چشمے کو جنت میں اپنے محلات وغیرہ میں جہاں چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔
Ayahs 76:7–8

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

(7۔ 8) آگے ان نیک لوگوں کی صفات مذکور ہیں جن پر وہ دنیاوی زندگی میں کار بند تھے کہ وہ لوگ عہد اور قسموں کو یا یہ کہ فرائض کو پورا کرتے اور ایسے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور وہ لوگ کھانے کی کمی اور اس کی خواہش کے باوجود غریب مسلمانوں اور یتیم اور مسلمان قیدیوں کو خواہ کافروں کے قبضہ میں ہوں یا جیل میں کھانا کھلاتے ہیں۔ شان نزول : وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (الخ) ابن منذر نے ابن جریر سے وَّاَسِيْرًا کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم مسلمانوں میں سے کسی کو قید نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہ آیت کافروں کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کافر عذاب میں ان کو قید کرلیا کرتے تھے تو رسول اکرم ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Ayahs 76:9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکر گزاری کے (طلبگار)

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو (چہروں کو) کری المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کردینے والا ہے)

(9۔ 10) اور یوں کہتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں اگرچہ ان حضرات نے زبان سے یہ الفاظ نہیں کہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سچائی کی بنا پر اس چیز کا ذکر کردیا نہ ہم تم سے اس کا فعلی بدلہ چاہیں اور نہ زبانی شکریہ۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت دن کے عذاب کا اور اس کے تلخ ہونے کا اندیشہ رکھتے ہیں۔
Ayahs 76:11–12

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو خدا انکو اس دن کی سختی سے بچا لے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

(11۔ 12) سو اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھے گا اور ان کو چہروں کی اور دلوں کی فرحت و خوشی عطا کرے گا اور دنیا میں جو انہوں نے فقر و تنگیوں پر صبر کیا، اس کے صلہ میں جنت دے گا۔
Ayahs 76:13–14

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

ان سے (ثمر دار شاخیں اور) انکے سائے قریب ہونگے اور میوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے

(13۔ 14) اس حالت میں کہ وہ جنت میں مسہریوں پر آرام و عزت سے تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے کہ ہر طرح لے سکیں گے۔
Ayahs 76:15–17

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

(15۔ 17) اور ان کی خدمت میں چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے کے ہوں گے وہ غلمان جنت کے ہاتھوں میں ہوں گے، یا یہ کہ جن کو مناسب انداز سے بھرا ہوگا کہ نہ کم ہوں گے نہ زیادہ اور جنت میں ان کو ایسا جام شراب پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔
Ayahs 76:18–20

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

(18۔ 20) یعنی ایسے چشمے سے جو جنت میں ہوگا جس کا نام وہاں سلسبیل ہوگا اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے ہوں گے جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اگر محمد آپ ان کو دیکھ لیں تو سمجھیں کہ صفائی میں موتی ہیں بکھر گئے یا یہ کہ ان کی اس قدر کثرت ہوگی اگر آپ جنت کو دیکھ لیں تو ہمیشہ کی بڑی نعمت نظر آئے وہاں ان کے پاس کوئی بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہوگا۔ شان نزول : وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس نے آپ کو پہلو پر نشان بنا دیے تھے یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق روئے، آپ نے ان سے ان کے رونے کا سبب پوچھا، حضڑت عمر نے کہا کہ مجھے کسری اور اس کی بادشاہت اور ہرمزد اور اس کا ملک اور حبشہ کا بادشاہ اور اس کی بادشاہت یا آئی اور آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ایک کھجور کی چٹائی پر آرام فرما ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا اور ہمارے لیے آخرت ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اے مخاطب اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔
Ayahs 76:21–22

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا کے سبز اور اطلس کے کپڑے ہونگے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انکو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

(21۔ 22) اور ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور ان پر چاندی کے قباء ہوں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا کہ اس میں میل اور کھوٹ نہ ہوگا یہ جو کچھ مذکور ہوا تمہارا صلہ ہے اور تمہارے اعمال مقبول ہوئے۔
Ayahs 76:23–26

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بدعمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بڑی رات تک اسکے آگے سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آیئے۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں

یہ کفار مکہ تو صرف دنیا کے لیے کوشش کرتے ہیں اور آنے والے ایک بھاری دن کی تیاری کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے مفاصل کو مضبوط بنایا اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے انہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

ہم نے ہی ان مکہ والوں کو پیدا کیا اور ان کو مضبوط بنایا اور جب چاہیں تو ہم ان کو ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ان ہی جیسے بہترین عبادت گزار آدمی پیدا کردیں۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصحیت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

یہ سورت اللہ کی طرف سے نصیحت ہے سو جو شخص چاہے وحدانیت اختیار کر کے اپنے رب کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو بیشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے

اور تم بغیر اللہ کی مرضی کے کوئی بات کفر و ایمان نیکی و برائی کی نہیں چاہ سکتی اور جو تم نیکی و برائی چاہو اس سے اللہ تعالیٰ واقف اور حکمت والا ہے۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کیلئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

کہ تم بغیر اس کی مشیت کے کسی چیز کو اختیار نہیں کرسکتے جو دین اسلام کا اہل ہوتا ہے وہ اس سے سرفرازی عطا کرتا ہے اور کافروں کے لیے اس نے آخرت میں قریب ہی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔