Ayah 76:1استفہامیہ اسلوب کی بلاغتیں:
’ہَلْ‘ کے معنی مفسرین نے استفہام کے بجائے عام طور پر ’قَدْ‘ کے لیے ہیں۔ لیکن کلام عرب میں اس معنی کے لیے مجھے کوئی نظیر نہیں ملی۔ بعض مثالیں جو اس معنی کی شہادت کے طور پر پیش کی گئی ہیں ان پر میں نے غور کر لیا ہے۔ میرے نزدیک ان میں بھی ’ہَلْ‘ استفہام ہی کے لیے ہے۔ البتہ استفہام جس طرح ہماری زبان میں مختلف معانی کے لیے آتا ہے اسی طرح عربی میں بھی اس کے مختلف مفہوم ہوتے ہیں۔ ان سب کی وضاحت کے لیے یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت۔ پچھلی سورتوں میں اس کے بعض پہلو زیربحث آ چکے ہیں اور بعض کے لیے آگے کی سورتوں میں موزوں مواقع آئیں گے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ استفہام کا ایک بلیغ موقع استعمال وہ بھی ہے جب مخاطب سے کسی ایسی بات کا اقرار کرانا ہو جس کی نوعیت ہو تو ایک بدیہی حقیقت کی لیکن مخاطب اس کو تسلیم کرنے کے باوجود عملاً اس سے منحرف ہو۔ مثال سے یوں سمجھیے کہ کوئی ماں اپنے نافرمان بیٹے سے یوں کہے کہ ’کیا تجھے یاد نہیں کہ تو ایک مضغۂ گوشت کی صورت میں میری گود میں ڈالا گیا تھا، میں نے اپنا خون دودھ بنا کر تجھ کو پلایا اور پال پوس کر جوان کیا!‘
اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ محض ایک سادہ خبریہ جملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر بہت سے معانی مضمر ہیں۔ مثلاً
o اس میں بیٹے کو ایک عظیم حق کی یاددہانی ہے جو اس پر عائد ہوتا ہے اور جس سے اس کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کا رویہ اس کے منافی ہے۔
o اس میں ملامت، غصہ، رنج اور اظہار حسرت کے بھی گوناگوں پہلو ہیں۔
o اس میں نہایت مبنی برحقیقت گلہ و شکوہ بھی ہے اور نہایت مؤثر اپیل بھی۔
یہ سارے مفہوم اس استفہام ہی سے پیدا ہوتے ہیں جو اس جملہ کے اندر ہے۔ اگر اس کو الگ کر کے جملہ کو سادہ خبریہ اسلوب میں کر دیجیے تو یہ تمام معانی ہوا ہو جائیں گے۔ بالکل یہی حال زیربحث آیت کا بھی ہے۔ اس میں جو ’ہَلْ‘ ہے اس کے اندر بہت سے معانی مضمر ہیں جو آگے مضمون کے تدریجی ارتقا سے کھلیں گے۔ اگر اس کو آپ ’قَدْ‘ سے بدل دیں تو یہ آیت ان مطالب کی تمہید کے لیے بالکل ناموزوں ہو جائے گی جو آگے آ رہے ہیں۔
معلقات کے ایک قصیدے کا مطلع ہے:
ھل غمادر الشعراء من متردم
ام ھل عرفت الدار بعد توھمٖ
(کیا شاعروں نے شاعری میں کوئی خلا چھوڑ دیا تھا یا تجسس کے بعد تم نے منزل جاناں کا سراغ پا لیا ہے!!)
یہ ایک بہترین مطلع ہے اور اس کا سارا حسن اس کے خاص قسم کے اسفہامیہ اسلوب میں مضمر ہے۔ اگر اس ’ہَلْ‘ کو ’قَدْ‘ سے بدل دیجیے تو یہ حسن بالکل غائب ہو جائے گا۔ شاعر خود اپنے آپ کو مخاطب کر کے پوچھ رہا ہے کہ آج یہ قصیدہ کہنے کا ولولہ دل میں کیوں ابھرا ہے؟ کیا شاعری میں خلا رہ گیا تھا جس کو آج بھر دینے کا ارادہ ہے یا منزل جاناں کے آثار نے آتش عشق بھڑکا دی ہے جس کا حق ادا کرنا ہے! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ہیں۔ شاعری میں بھی ایک بہت بڑا خلا رہ گیا تھا جس کو اس قصیدے سے پورا کرنا ہے اور منزل جاناں کے سراغ کا مضمون بھی اب تک کے شاعروں کی ساری خوں فشانیوں اور مضمون آفرینیوں کے باوجود ہنوز تشنہ ہی تھا، آج اس کا بھی حق ادا کر دینا ہے۔
یہاں اس مطلع کے محاسن کی وضاحت مقصود نہیں ہے، دکھانا صرف یہ ہے کہ اسلوب اور اسلوب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ باعتبار وزن تو یہ شعر لفظ ’قَدْ‘ سے بھی پورا ہو جاتا لیکن معنی کے اعتبار سے ظاہر ہے کہ اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہ رہ جاتی۔
آیت زیربحث کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قیامت اور جزا و سزا کے منکر تھے۔ ان کو مخاطب کر کے قرآن نے یہ سوال ان کے سامنے رکھا ہے کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا بھی گزرا ہے جب اس کا وجود کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا بلکہ وہ پانی، کیچڑ، مٹی کے اندر رینگنے والی ایک حقیر مخلوق تھا۔ لیکن اسی حقیر مخلوق کو قدرت نے مختلف مراحل سے گزارا اور اس کی صلاحیتوں کو تربیت دے کر ایسے مرتبہ پر پہنچا دیا کہ وہ تمام مخلوقات سے اعلیٰ و اشرف بن گیا! اس سوال سے مقصود انسان کی قوت فکر کو حرکت میں لانا ہے کہ وہ سوچے کہ آخر قدرت نے اس پر یہ اہتمام کیوں صرف فرمایا؟ اس کو ان اعلیٰ صلاحیتوں سے کیوں نوازا؟ کیا محض اس لیے کہ وہ کھائے پیے اور ایک دن ختم ہو جائے! کیا ان صلاحیتوں سے متعلق اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ کیا جس نے اس اہتمام سے اس کو وجود بخشا اس کا کوئی حق اس پر قائم نہیں ہوتا؟ یہ سوالات اس شخص کے اندر پیدا ہونے چاہییں جو اپنے وجود پر غور کرے۔
اپنا وجود انسان سے سب سے زیادہ قریب بھی ہے اور اس کی ہر چیز انسان کو دعوت فکر بھی دیتی ہے۔ آیت کے استفہامیہ اسلوب نے اس حسن فکر کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ انسان کی نظروں سے خدا اوجھل ہے تو اس کا اپنا وجود تو اوجھل نہیں ہے، وہ خود اپنے اندر خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے عدل و رحمت کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ غور کرے تو یہ حقیقت بھی اس پر روشن ہو جائے گی کہ ہر چند اس نے قیامت ابھی دیکھی نہیں لیکن خود اس کے نفس کے اندر قیامت کے شواہد اور اس کے دلائل اتنے واضح ہیں کہ وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا بشرطیکہ وہ بالکل ہٹ دھرم اور کج رو نہ ہو۔
Ayah 76:2انسان کو مزید غور کی دعوت:
اوپر کی آیت میں انسان کے اس تاریک ماضی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو زندگی کے نقطۂ آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی پیدائش کے ان مختلف اطوار کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن کا ہر پہلو اس کے سامنے ہے اور جو اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کی طرف اوپر والی آیت اشارہ کر رہی ہے کہ انسان پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوتا ہے، اسی بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر قدرت اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سننے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے انسان کی شکل اختیار کر لیتی ہے؛ انسان غور کرے کہ جس خدا نے پانی کی ایک بوند پر اتنے عجیب کرشمے دکھائے ہیں کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا اور پھر اس بات پر بھی غور کرے کہ جس خدائے علیم و حکیم نے پانی کے ایک حقیر قطرے کو سمع و بصر کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا اور اس کو خیر و شر اور شکر و کفر میں امتیاز بخشا، کیا اس نے یہ ایک کارعبث کیا ہے کہ وہ بازپرس اور جزا و سزا کا کوئی دن نہیں لائے گا۔
’مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ‘ میں لفظ ’امشاج‘ جمع ہے ’مشج‘ اور ’مشیج‘ کی۔ اس کے معنی ملی جلی اور مخلوط چیز کے ہیں۔ ’امشاج‘ اگرچہ جمع ہے لیکن یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوصف مفرد الفاظ کی صفت کے طور پر آتے ہیں۔ نطفہ کے مخلوط ہونے سے اس کا مختلف قویٰ و عناصر سے مرکب ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور مرد و عورت کے نطفوں کا امتزاج بھی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جہاں مختلف عناصر اور متضاد طبائع اور مزاجوں کا امتزاج ہو وہاں ان کے اندر ایسا اعتدال و توازن برقرار رکھنا کہ پیش نظر مقصد کے مطابق صالح نتیجہ برآمد ہو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ یہ کام ایک حکیم و قدیر کی نگرانی میں ہو۔ کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر اس طرح کے حکیمانہ کام کا وقوع ممکن نہیں ہے۔
لفظ ’ابتلاء‘ کا مفہوم: ’نَبْتَلِیْہِ‘ کو عام طور پر لوگوں نے بیان علت کے مفہوم میں لیا ہے۔ یعنی ہم نے انسان کو آزمانے کے لیے پیدا کیا۔ لیکن یہ علت کے مفہوم میں ہوتا تو اس پر لام علت آنا تھا حالانکہ یہ حال کی صورت میں ہے اور حال کا مفہوم علت کے مفہوم سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حال ہی کے مفہوم میں ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ درجہ بدرجہ اس کو مختلف اطوار و مراحل سے گزارتے ہوئے ایک سمیع و بصیر مخلوق کے درجے تک پہنچا دیا۔
’ابتلاء‘ کے معنی لغت میں جانچنے پرکھنے کے ہیں۔ آدمی جب کسی چیز کو جانچتا ہے تو اس کو مختلف پہلوؤں سے الٹ پلٹ اور ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے۔ یہیں سے اس کے اندر ایک طور سے گزار کر دوسرے طور میں لے جانے کا مفہوم بھی پیدا ہو گیا۔ یہاں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ اصحاب تاویل میں سے بھی بعض لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
انسان کی خلقت کے مختلف مراحل: انسان کی تخلیق جن اطوار و مراحل سے گزر کر مرتبہ تکمیل تک پہنچی ہے ان کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ ہم بعض مثالیں پیش کرتے ہیں:
یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنْتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْأَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰی أَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوۡا أَشُدَّکُمْ (الحج ۲۲: ۵)
’’اے لوگو، اگر تم مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے باب میں شک میں ہو تو اس بات پر غور کرو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی ایک بوند سے پھر خون کی ایک پھٹکی سے پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، کوئی تمام اور کوئی ناتمام، تاکہ ہم تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح ظاہر کر دیں۔ پھر ہم رحموں میں ٹھہراتے ہیں جتنا چاہتے ہیں ایک مدت معین تک پھر ہم تم کو بچے کی صورت میں باہر لاتے ہیں پھر ہم تم کو پروان چڑھاتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔‘‘
انہی اطوار و مراحل کی تفصیل سورۂ مومنون میں یوں آئی ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ (المومنون ۲۳: ۱۲-۱۴)
’’اور ہم نے انسان کو پیدا کیا مٹی کے جوہر سے پھر ہم نے اس کو رکھا پانی کی ایک بوند کی صورت میں ایک محفوظ ٹھکانے میں۔ پھر ہم نے پانی کی اس بوند کو خون کی پھٹکی کی شکل دی پھر خون کی پھٹکی کو مضغۂ گوشت بنایا پھر گوشت میں ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل ہی دوسری مخلوق کی صورت میں لا کھڑا کر دیا۔ پس بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والے، کی۔‘‘
ان آیات میں جن اطوار و مراحل کی تفصیل ہے انہی کی طرف بالاجمال آیت زیربحث میں اشارہ فرمایا ہے اور انہی مراحل سے درجہ بدرجہ گزارنے کے لیے لفظ ’نَبْتَلِیْہِ‘ آیا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس قطرے کو گہر ہونے تک بہت سے مرحلے طے کرنے پڑے ہیں اور ہر مرحلہ میں قدرت نے اس کو اچھی طرح جانچا پرکھا ہے کہ جس دور میں جو صلاحیت اس کے اندر پیدا ہونی چاہیے وہ پیدا ہو گئی یا نہیں!
’فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا‘ یہ اس تمام اہتمام و تدبر کا خلاصہ سامنے رکھا ہے کہ یا تو انسان پانی، مٹی، کیچڑ اور نطفہ کی شکل میں بالکل ’لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا‘ (ناقابل ذکر چیز) کا مصداق تھا یا وہ دور آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سمع و بصر کی اعلیٰ صفات سے متصف ہستی بنا دیا۔ سورۂ مومنون کی محولہ بالا آیت میں اسی چیز کی طرف ’ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔
’سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ‘۔ انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ انہی صفات کے فیض سے انسان کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس کا امتحان کرے کہ وہ خیر کی راہ اختیار کر کے اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا شر کی راہ اختیار کر کے ناشکرا اور کافر نعمت بن جاتا ہے۔ پھر اس سے لازماً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ جو اپنے سمع و بصر کی صلاحیتوں کی قدر کریں وہ اس کا صلہ پائیں اور جو ان کی ناقدری کریں وہ اس کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس سارے اہتمام کا مقصد کیا جو انسان کی پیدائش کے لیے قدرت نے کیا!؎
Ayah 76:3سمع و بصر کا ثمرہ: یہ انسان کو سمیع و بصیر بنانے کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ پھر ہم نے اس کو راہ سجھا دی۔ ’راہ سجھانے‘ سے مراد یہ ہے کہ اس کو نیکی اور بدی کی راہ سجھا دی، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:
’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (البلد ۹: ۱۰)
(اور ہم نے اس کو دونوں راہیں سجھا دیں)
سورۂ شمس میں فرمایا ہے:
’فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۸)
(پس اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری الہام کر دی)
ان دونوں راہوں کے سجھا دیے جانے کے سبب سے انسان خود اپنے اوپر خیر اور شر کا گواہ بن گیا اور اس کے پاس بدی کی راہ اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ اس حقیقت کی طرف سابق سورہ میں یوں اشارہ فرمایا ہے:
’بَلِ الْإِنۡسَانُ عَلَی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیٰمۃ ۷۵: ۱۴-۱۵)
(بلکہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔
اختیار کی نعمت: ’اِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوْرًا‘۔ یہ انسان کے اختیار و ارادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکی و بدی کا امتیاز دے کر اس کو اختیار بخشا ہے کہ وہ چاہے تو نیکی کی راہ اختیار کرے، چاہے تو بدی کی راہ چلے۔ اگر نیکی کی راہ اختیار کرے گا تو وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے گا اور اس کا انعام پائے گا اور اگر بدی کی راہ اپنائے گا تو وہ ناشکرا بنے گا اور اس کی سزا بھگتے گا۔
Ayah 76:4خیر اور شر میں امتیاز کا لازمی نتیجہ:
یہ خیر اور شر میں امتیاز بخشے جانے کا لازمی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر و کفر دونوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت بخشی ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو انعام سے نوازے جو شکرگزاری کی راہ اختیار کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو کفر کی راہ چلیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس صلاحیت کا دیا جانا لاحاصل رہا درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کی شان حکمت سے یہ بعید ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے۔
کافروں کو سزا: فرمایا کہ چونکہ ہم نے انسان کو شکر اور کفر کا امتیاز بخشا ہے اس وجہ سے ہمارے ہاں شاکر اور کافر دونوں یکساں نہیں ہوں گے بلکہ ہم ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ کریں گے۔ ناشکروں کے لیے ہم نے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ان کے پاؤں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی، گردنوں میں آہنی طوق ڈالے جائیں گے اور پھر ان کو گھسیٹ کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
Ayah 76:5شکرگزاروں کو انعام:
یہ کافروں کے مقابل میں شاکر بندوں کے صلہ کا بیان ہوا ہے اور ان کو ’ابرار‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ ’برّ‘ کی اصل روح ایفائے عہد و ذمہ ہے اور لفظ ’شکر‘ کی اصل حیثیت نعمت کے حق کو پہچاننا اور اس کو ادا کرنا ہے۔ ان دونوں میں واضح قدر مشترک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی نعمتوں کا حق پہچانتے اور اس کو ادا کرتے ہیں وہی دراصل اس کے وفادار بندے ہیں۔
لفظ ’کَأْسٌ‘ کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں معنوں میں آتا ہے۔
’مِزَاجٌ‘ کے معنی ملونی کے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اوقات لذت، خوشبو یا ان کے مزاج میں اعتدال پیدا کرنے کے لیے بعض چیزیں ان کے استعمال کے وقت ملائی جاتی ہیں۔ شراب میں بھی اس طرح کی ملونیوں اور بعض دوسرے لوازم کا ذکر عرب شعراء کرتے ہیں۔ اہل جنت کی شراب میں یہ ملونی چشمۂ کافور کے آب زلال کی ہو گی۔
’کَافُوْرٌ‘ سے مراد یہاں معروف کافور نہیں ہے۔ قرآن نے خود وضاحت فرما دی ہے کہ یہ جنت کا ایک چشمہ ہے جس کے کنارے بیٹھ کر اللہ کے خاص بندے شراب نوش کریں گے اور اس چشمہ کے پانی کی ملونی سے اس کے کیف و سرور کو دوچند کریں گے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا نام کافور کیوں رکھا گیا ہے تو ناموں سے متعلق اس طرح کا سوال اگرچہ پیدا نہیں ہوتا تاہم ذہن اس طرف جاتا ضرور ہے کہ اسم اور مسمّٰی میں کوئی مناسبت ہو گی۔ یہ مناسبت کس نوع کی ہے؟ اس کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت اسی دن اور انھی خاص بندوں پر کھلے گی جن کو اس سے بہرہ مند ہونے کی سعادت حاصل ہو گی۔
Ayah 76:6لبِ جُو مے نوشی کا اہتمام:
’یَشْرَبُ بِہَا‘ میں ’ب‘ میرے نزدیک ظرفیہ ہے جس طرح ’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ اور ’یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ‘ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چشمہ اللہ کے خاص بندوں کی بزم مے نوشی کے لیے مخصوص ہو گا۔ ’عباد اللہ‘ سے مراد وہی ابرار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ انہی کو یہ خاص شرف حاصل ہو گا کہ ان کی مے نوشی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخصوص چشمہ کا بھی اہتمام فرمائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مے نوشی اور لبِ جُو میں بڑی مناسبت ہے۔
’یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیْرًا‘۔ ’تَفْجِیْرٌ‘ کے معنی کسی چشمہ کی بہت سی شاخیں نکال نکال کر ان کے جال بچھا دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس چشمہ پر پہنچنے کے لیے اہل جنت کو کوئی شدِّر حال نہیں کرنا پڑے گا بلکہ جو جہاں چاہے گا اس کی شاخیں نکال لے گا اور اس کی لذتوں اور اس کی سیر سے بغیر کسی زحمت سفر کے خوش وقت اور شاد کام ہو گا۔
Ayah 76:7ابرار کے وہ اعمال جن کے صلہ میں ان کو یہ سرفرازی حاصل ہو گی: یہ ان کے وہ اوصاف و اعمال بیان ہو رہے ہیں جن کے سبب سے ان کو رب کریم کی طرف سے یہ سرفرازی بخشی جائے گی۔
کوئی نیک کام کرنے کا عہد کر لینے کو ’نذر‘ کہتے ہیں۔ ان وفادار بندوں (ابرار) کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ جو لوگ ان نذروں کے پورے کرنے کا بھی اہتمام رکھیں گے جو انھوں نے بطور خود اپنے اوپر واجب کی ہوں ان سے نیکیوں کے بدرجۂ اولیٰ اہتمام کی توقع ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہیں۔ ہمارے مفسرین نے اس لفظ کے مفہوم کو وسیع کر کے تمام نیکیوں پر حاوی کر دیا ہے، خواہ بندے نے اپنے اوپر وہ ازخود عائد کی ہوں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہوں۔ لیکن یہ اس لفظ کے حقیقی مفہوم سے تجاوز ہے۔
اسلام سے پہلے نذر کی اہمیت: یہاں یہ امر یاد رکھیے کہ ’نذر‘ کی اہمیت سابق ادیان میں بھی بہت رہی ہے اور عرب جاہلیت میں بھی اس کا بڑا اہتمام تھا۔ جو لوگ کوئی نیکی کا کام کرنا چاہتے، خواہ وہ حج و عمرہ کے قسم کی ہو یا قربانی و انفاق کے نوع کی، وہ اس کی نذر مانتے اور اہتمام سے اپنی نذر پوری کرتے۔ عربوں کے اندر اس کی وجہ زیادہ تر ان کی امیت تھی۔ دین کے طریقے ان کو واضح طور پر معلوم نہیں تھے اس وجہ سے ان کے اندر کے نیک لوگ نذروں کے ذریعہ سے اس خلا کو بھرتے۔ اسلام کے آ جانے کے بعد جب شریعت کے تمام اصول و فروع لوگوں کو معلوم ہو گئے تو اس کا دائرہ محدود ہو گیا۔ وہ نذریں جو مشرکانہ نوعیت کی تھیں وہ تو بالکل ختم کر دی گئیں۔ جو نذریں تکلیف مالایطاق نوعیت کی تھیں وہ بھی یا تو ممنوع قرار پا گئیں یا ان کی اصلاح کر دی گئی۔ یہ سورہ چونکہ اس دور کی ہے جب شریعت کے احکام و آداب لوگوں کو تفصیل سے معلوم نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے اس میں اس کا ذکر خاص اہمیت سے ہوا۔ بعد میں جب شریعت کا پورا میثاق نازل ہو گیا تو اس کا دائرہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہایت محدود ہو گیا۔
خوف آخرت: ’وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْرًا‘۔ ’مُسْتَطِیْرٌ‘ کے معنی عام اور ہمہ گیر کے ہیں۔ یہ ان کے اندیشۂ آخرت کا بیان ہے کہ وہ ہمیشہ اس دن کی پکڑ سے ڈرتے رہے ہیں جس کی آفت عام و ہمہ گیر ہو گی۔ یعنی اس دن بڑے اور چھوٹے، امیر اور غریب، راعی اور رعایا یہاں تک کہ عابد اور معبود سب کو اس کے ہول سے سابقہ پیش آئے گا۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
Ayah 76:8غریبوں کی خدمت:
یہ خلق کے ساتھ ان کے رویہ کا بیان ہے کہ وہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کی ضرورتیں، خود اپنی ضرورتیں نظرانداز کر کے پوری کرتے ہیں۔ لفظ ’اِطْعَامٌ‘ محدود معنی میں نہیں ہے۔ زندگی کی دوسری ناگزیر ضروریات کا اہتمام بھی اس میں شامل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع: ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع عام طور پر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ وہ مسکینوں اور یتیموں کو اللہ کی محبت میں کھلاتے پہناتے ہیں۔ اگرچہ قاعدہ زبان کی رو سے اس میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن شواہد قرآن کے پہلو سے میں ان لوگوں کے قول کو ترجیح دیتا ہوں جو اس کا مرجع ’طعام‘ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی ضرورت پر مسکینوں اور یتیموں کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس قول کو ترجیح دینے کے مختلف وجوہ ہیں:
ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ابرار کا کردار بیان ہو رہا ہے اور ’بر‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی وفاداری کا مقام حاصل کرنے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ کرے جو اس کو خود عزیز ہو۔ خواہ اس وجہ سے عزیز ہو کہ وہ بذات خود قیمتی ہے یا اس وجہ سے کہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ‘ (آل عمران ۳: ۹۲)
(تم اللہ کی وفاداری کا درجہ نہیں حاصل کر سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو)۔
یہی حقیقت دوسرے لفظوں میں یوں واضح فرمائی گئی ہے:
’وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ‘ (الحشر ۵۹: ۹)
(اور وہ اپنے اوپر غریبوں اور مسکینوں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں)۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ابرار کا صلہ آگے آیت ۱۲ میں بدیں الفاظ میں بیان ہوا ہے:
’وَجَزَاہُم بِمَا صَبَرُوۡا جَنَّۃً وَحَرِیْرًا‘
(اور ان کو اللہ نے ان کے صبر کے صلہ میں جنت اور حریر سے نوازا)۔
یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے صبر کے کردار کو واضح کرنے والی واحد چیز یہی ہے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کو خود ضرورت مند ہونے کے باوجود کھلاتے پہناتے رہے ہیں۔ اگر ’عَلٰٰی حُبِّہٖ‘ کی تاویل اس سے مختلف کر دی جائے تو یہاں ان کے صبر کے کردار کو واضح کرنے والی کوئی چیز نہیں رہ جاتی حالانکہ کلام اس کا مقتضی ہے۔ اس وضاحت نے ’عَلٰی حُبِّہٖ‘ کے ضمیر کا مرجع خود متعین کر دیا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ جو انفاق عزیز و مطلوب مال میں سے، خود اپنی ضرورت کو قربان کر کے ہوتا ہے، درحقیقت وہی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہوتا ہے۔ اس پہلو سے خدا کی محبت کا مضمون خود اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
اس آیت میں مسکین و یتیم کے ساتھ اسیر کا ذکر زمانۂ نزول کے حالات کے اعتبار سے ہوا ہے۔ اس زمانہ میں کسی جرم یا مطالبہ میں گرفتار قیدی عموماً اپنی مایحتاج لوگوں سے سوال کر کے پوری کرتے تھے۔ قاضی ابویوسفؒ کے بیان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عباسیوں کے زمانے تک یہی حال رہا ہے۔ اب جیل کے نظام میں بڑی تبدیلیاں ہو گئی ہیں اس وجہ سے اس انفاق کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی لیکن اب بھی قیدیوں اور ان کے متعلقین کی امداد کی ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں انفاق اسی حکم میں ہو گا۔
Ayah 76:9انفاق صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے: یہ ان کے اس انفاق کے باطنی محرک کا بیان ہے کہ وہ جس کی مدد کرتے ہیں نہ اس سے اپنے اس انفاق کا کوئی معاوضہ چاہتے نہ اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ وہ ان کا ممنون احسان اور شکرگزار ہو بلکہ وہ صرف اپنے رب کی رضا جوئی اور آخرت کے خوف سے ایسا کرتے تھے۔
Ayah 76:10یوم آخرت کی صفت یہاں ’عَبُوس‘ اور ’قَمْطَرِیْر‘ آئی ہے۔ ’عَبُوس‘ کے معنی ترش رو اور روکھے پھیکے کے ہیں۔ ’قَمْطَرِیْر‘ اسی مضمون کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید آیا ہے یعنی وہ دن ایسا اکھڑ، اکل کُھرا اور ترش مزاج ہو گا کہ اس میں کوئی بھی کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن سابقہ ہر ایک کو اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ خدا کی رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہو گی جنھوں نے اس کی رضا جوئی میں مسکینوں اور یتیموں کی سرپرستی اور ہمدردی کی ہو گی اور اپنی ضروریات نظر انداز کر کے ان کی احتیاج پوری کرنے پر اپنا مال صرف کیا ہو گا۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات وہ قولاً ہر اس شخص سے کہیں بھی جس کی مدد کریں بلکہ یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ان کے انفاق کے باطنی محرک کی تعبیر ہے کہ وہ جن حاجت مندوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں صرف للہ وفی اللہ خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آخرت کے خوف کے سوا کوئی اور غرض ان کے سامنے نہیں ہوتی۔
Ayah 76:11یہ ان کا صلہ بیان ہوا کہ چونکہ وہ اس ’عبوس‘ اور ’قمطریر‘ دن سے اندیشہ ناک رہے اور اس کی آفتوں سے محفوظ رہنے کے لیے اپنا محبوب مال انھوں نے خرچ کیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی آفتوں سے محفوظ رکھے گا اور اس دن جب سب کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے ان کے چہرے ہشاش بشاش اور مسرور ہوں گے۔
Ayah 76:12صبر کی صفت کا صلہ:
اور چونکہ انھوں نے صبر کیا اس وجہ سے ان کو جنت اور حریر کا صلہ عطا ہوگا۔ ’بِمَا صَبَرُوْا‘ سے اشارہ ان کے اس صبر کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر ’وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ خود بھوکے ہوتے ہوئے اپنے آگے کی رکابی دوسرے بھوکے کے آگے وہی سرکائے گا جس کے اندر صبر کی صفت ہو گی۔
’جنّت‘ ان کو اس لیے ملے گی کہ اس کے پھل کھائیں اور اس کے عیش دوام سے بہرہ مند ہوں اور ’حریر‘ اس لیے کہ اس کے لباس پہنیں۔ مکان، غذا اور لباس تینوں چیزیں اس کے اندر آ گئیں۔
Ayah 76:13’سورج‘ اور ’زَمْھَرِیْر‘ نہ دیکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ، جنت کے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ ان کے سورج میں روشنی اور قوت بخشی تو ہو گی مگر اس میں حدت و تمازت نہ ہو گی۔ اسی طرح وہاں کا موسم ہمیشہ خوش گوار، معتدل اور پربہار رہے گا، خزاں کی نحوست اور باد زمہریر کے آزار سے ان کو کبھی سابقہ نہیں پیش آئے گا۔
Ayah 76:14یعنی ان کے باغوں کے سائے ان کے سروں پر پھیلے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے اس طرح نکل رہے ہوں گے کہ بالکل ان کی دسترس کے اندر ہوں گے۔ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی کاوش نہیں کرنی پڑے گی۔
Ayah 76:15یعنی ان کے سامنے ہر وقت چاندی کے ظروف اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے اور یہ شیشہ بھی دیکھنے میں شیشہ ہو گا، حقیقت میں یہ بھی چاندی ہی کے جوہر سے بنا ہو گا۔
Ayah 76:16لفظ ’تقدیر‘ کا مفہوم:
’قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا‘۔ یعنی یہ ظروف اور پیالے مختلف شکلوں، مختلف پیمانوں اور الگ الگ اندازوں کے بنے ہوں گے اور خدام نے ان کو نہایت قرینہ اور حسن سلیقہ سے الگ الگ خانوں میں سجا کر رکھا ہو گا تاکہ حالات، وقت، ضرورت اور مطلوب شے کی مناسبت سے جس قسم کے سیٹ کی ضرورت ہو، پیش کر سکیں۔ لفظ ’تقدیر‘ ان تمام معانی پر حاوی ہے۔ اردو میں مجھے کوئی لفظ ایسا نہ مل سکا جو ان تمام کا احاطہ کر سکے۔
Ayah 76:17’زنجبیل‘ اور ’سلسبیل‘:
اوپر چشمۂ کافور کا ذکر ہوا۔ یہ ایک دوسرے چشمہ کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ اس میں ایک اور شراب بھی ان کو پلائی جائے گی جس میں چشمۂ زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے جس کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ ناموں سے متعلق ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ ان میں مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ’زنجبیل‘ کے مشہور معنی تو سونٹھ کے ہیں لیکن نام بادنیٰ مناسبت بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ جنت اور دوزخ کی کتنی ہی چیزوں کے نام قرآن میں مذکور ہیں لیکن ان ناموں سے ان کے مسمّٰی کی حقیقت کا صحیح علم ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہ بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔
Ayah 76:18ان شاء اللہ ایک دن ان کی حقیقت بھی معلوم ہو جائے گی۔ اس چشمہ کا دوسرا نام ’سلسبیل‘ ہے۔ زجاج کے نزدیک اس کے معنی رواں دواں کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نام بھی محض اس کی روانی کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جواس کے گوناگوں اوصاف میں سے صرف ایک ہے۔
Ayah 76:19غلمان اور ان کے اوصاف:
یہ ان کی خدمت اور ان کے آگے جام پیش کرنے والے غلمان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ غلمان ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ’مخلّد‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس وصف کے ذکر سے مقصود دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ایک اس بات کی طرف کہ نوخیز چھوکرے ہوں گے اس وجہ سے خدمت میں نہایت چاق و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے جس سے ان کی مستعدی بھی برابر قائم رہے گی اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر رہنے کے سبب سے ان کے مزاج، عادت اور ذوق سے بھی اچھی طرح آشنا ہوں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حسن خدمت میں تجربہ کو بڑا دخل ہے۔ بوڑھے خادم میں تجربہ ہوتا ہے لیکن اس کی مستعدی ختم ہو جاتی ہے۔ نئے خادم میں مستعدی ہو سکتی ہے لیکن تجربہ اور ذوق سے ناآشنائی کے سبب سے آقا کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اہل جنت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے خدام مہیا کیے ہیں جن کی ہر خوبی دائمی ہو گی۔
’اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا‘۔ یہ ان کے جمال، ان کی نظافت، ان کی خوش ادائی اور ان کی خوش لباسی کی تصویر ہے کہ جب تم ان کو دیکھو گے تو یہ گمان کرو گے کہ گویا ہر طرف موتی بکھرے ہوئے ہیں۔
Ayah 76:20یعنی جب دیکھو گے اور جہاں دیکھو گے وہیں ایک عظیم نعمت اور ایک عظیم بادشاہی کا جلوہ نظر آئے گا۔ گویا ہر قدم پر ع
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست
Ayah 76:21اہل جنت کا لباس:
’عَالِیَ‘ میرے نزدیک حال کے محل میں ہے اور مراد اس سے اہل جنت کے بالائی کپڑے۔۔۔ عبا اور قبا وغیرہ۔۔۔ ہیں۔
ان کے بالائی جامے سبز سندس اور استبرق کے ہوں گے۔ سندس اور استبرق ایران کے بنے ہوئے مشہور ریشمی کپڑوں کے نام تھے۔ بعض لوگوں نے ان دونوں کے درمیان باریک اور دبیز کا فرق کیا ہے لیکن یہ تحقیق غیر ضروری ہے۔ یہاں مراد جنت کے سندس اور استبرق ہیں جن کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اہل عرب، ایران اور مصر ہی کے تمدن سے اس زمانہ میں زیادہ آشنا تھے اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کی تمثیل کے لیے زیادہ تر انہی کی تمدنی چیزوں کے نام مستعار لیے گئے۔ اس دور کے سلاطین سندس اور استبرق کی عبائیں زیب تن کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جن کے اوپر کے جامے سندس اور استبرق کے ہوں گے ان کے زیریں جامے اور بھی نرم و نازک ہوں گے۔ یہاں اہل جنت کے بالائی لباس کا تصور دے کر بات ختم کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے قیاس کر لو کہ اور وہ کیا کچھ پہنیں گے۔
اہل جنت کے ذوق کا لحاظ: ’وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ‘۔ اس زمانے کے سلاطین سونے اور چاندی کے کنگن بھی پہنتے تھے۔ فرمایا کہ ان کو چاندی کے کنگن بھی پہنائے جائیں گے۔ یہاں چاندی کے کنگنوں کا ذکر ہے۔ سورۂ کہف میں سونے کے کنگنوں کا ذکر ہے:
’یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ‘ (۳۱)
(وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سندس کے سبز لباس)۔
بعینہٖ یہی بات سورۂ حج آیت ۲۳ اور سورۂ فاطر آیت ۳۳ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ تنوع کے اظہار کے لیے ہے کہ اہل جنت جب چاہیں گے سونے کے کنگن پہنیں گے اور جن کا جی چاہے گا چاندی کے پہنیں گے۔ تنوع پسندی اور اختلاف مذاق ایک فطری چیز ہے جنت میں ہر شخص کے ذوق اور اس کے انتخاب کا پورا لحاظ ہوگا۔ ’لَہُمْ مَّا یَشَآءُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۳۵) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
مفسرین نے عام طور پر یہی توجیہ کی ہے لیکن میرا ذہن ایک اور طرف بھی جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اہل جنت کے مراتب میں، جیسا کہ سورۂ واقعہ میں تفصیل سے آپ پڑھ چکے ہیں، فرق ہو گا۔ ایک گروہ سابقون اولون اور مقربین کا ہو گا۔ دوسرا طبقہ اصحاب یمین کا۔ ان دونوں طبقوں کی جنتوں اور نعمتوں میں فرق ایک قدرتی امر ہے۔ قرآن نے اس فرق کو واضح بھی کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس فرق کی بنا پر قرآن نے کہیں سونے کا ذکر کیا اور کہیں چاندی کا۔
ایک خاص نکتہ: ’وَسَقّٰھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا‘۔ اس ٹکڑے میں بھی ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ اوپر آیت ۵ میں ارشاد ہے:
’اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا‘
(اللہ کے وفادار بندے ایک ایسی شراب میں سے پئیں گے جس میں چشمۂ کافور کی ملونی ہو گی)
اس کے بعد آیت 17 میں فرمایا:
’وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلًا‘
(اور وہ اس میں ایک ایسا جام پلائے جائیں گے جس مین چشمۂ زنجبیل کی ملونی ہو گی)
اور یہاں ارشاد ہوا کہ
’وَسَقٰھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا‘
(اور ان کا پروردگار ان کو ایک شراب طہور پلائے گا)۔
عربیت کا ذوق رکھنے والے آسانی سے اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں جو ان تینوں اسلوبوں۔۔۔ ’یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ‘، ’یُسْقَوْنَ کَاْسًا‘، ’سَقٰھُمْ رَبُّھُمْ‘۔۔۔ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرق کیوں ہے؟ میرے نزدیک یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ یہ ابرار درجہ بدرجہ قرب الٰہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائیں گے کہ خود رب کریم ان کو شراب طہور کا جام پلائے گا! یہ شراب طہور کیا ہے؟ اس کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا اس وجہ سے اس کے لیے قرآن نے کوئی اس طرح کا تمثیلی اسلوب اختیار نہیں کیا جس طرح کا اسلوب اوپر چشمۂ کافور اور چشمۂ زنجبیل کے لیے اختیار فرمایا۔ اس کو صرف رب کریم ہی جانتا ہے۔ کبھی کبھی میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ اس مشک بو، مہربند شراب خالص کی طرف اشارہ ہے جو مقربین کے لیے خاص ہے اور جس کا ذکر سورۂ مطففین میں نہایت اہتمام سے بدیں الفاظ ہوا ہے:
یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ.(المطففین ۸۶: ۲۵-۲۸)
’’اور وہ مہربند شراب خالص کے جام پلائے جائیں گے۔ اس کی مہر مشک کی ہو گی اور یہ ہے ایسی چیز کہ اس کی طلب میں طالبین باہم دگر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اس میں ملونی چشمۂ تسنیم کی ہو گی۔ یہ ایک چشمہ ہے جس پر مقربین خاص مے نوشی کریں گے۔‘‘
Ayah 76:22رب کریم کی طرف سے داد:
یعنی یہ سب کچھ پا کر پروردگار کی طرف سے ان کو یہ داد بھی ملے گی کہ یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہے، اللہ کے نزدیک تمہاری سعی مقبول ٹھہری! اس کے لیے تمہیں کسی دوسرے کی سعی و سفارش کا ممنون احسان نہیں ہونا پڑا۔ اس میں ان لوگوں پر ایک تعریض بھی ہے جو اپنے مزعومہ دیوتاؤں کی سفارشوں کے بل پر جزا اور سزا سے غافل رہے حالانکہ وقت پر ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آئے گا۔
Ayah 76:23نبی صلعم کو صبر اور انتظار کی تلقین:
جس محل میں سورۂ قیامہ میں آیت: ’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘ (۱۶) آئی ہے بعینہٖ اسی محل میں اور اسی مقصد سے اس سورہ میں یہ آیت ہے۔ یعنی منکرین اور مومنین کا انجام بیان کرنے کے بعد نبی ﷺ کو صبر اور انتظار کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کیے جاؤ اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ ان لوگوں کے سامنے وہ سب کچھ آ کے رہے گا جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا ہے۔
’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ تَنزِیْلاً‘۔ یعنی یہ قرآن نہ تم نے اپنے جی سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور نہ اس کو تم نے ہم سے مانگ پر اپنے اوپر نازل کرایا ہے کہ اس کی پیش کردہ صداقتوں اور حقیقتوں کو ثابت کرنے اور لوگوں کو ان کے دکھا دینے کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہو بلکہ یہ ہم ہیں جنھوں نے نہایت اہتمام سے اس کو تمہارے اوپر نازل کیا ہے۔ ’اِنَّا نَحْنُ‘ کے الفاظ میں جس زور اور جس عظمت و جلالت کا اظہار ہے اس پر نظر رہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے یہ قرآن تم پر اتارا ہے تو لوگوں کی مخالفتوں اور ان کی ژاژخائیوں کی پروا تم کیوں کرو! ان سے نمٹنے کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے اور ہم سب سے نمٹ لینے کے لیے تنہا کافی ہیں۔
لفظ ’تَنۡزِیْل‘ جس اہتمام کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ قرآن نہ تو کسی سائل کی درخواست ہے اور نہ یہ کوئی ہوائی بات ہے کہ ان لوگوں کی مخالفت سے یہ ہوا میں اڑ جائے بلکہ یہ نہایت اہتمام سے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب ہے جس کی ہر بات پوری ہو کے رہے گی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayah 76:24’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا أَوْ کَفُوْرًا‘۔ ’فَاصْبِرْ‘ کے بعد ’ل‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ انتظار کے مضمون پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب تم نے مانگ کر اپنے اوپر نہیں اتروائی ہے تو لوگوں کے اعتراضات و مطالبات سے تم کیوں پریشان ہو۔ تمہارے اوپر بلاغ کی ذمہ داری ہے وہ ادا کرتے رہو اور رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ ان نابکاروں اور ناہنجاروں کی ذرا پروا نہ کرو جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو وہ عذاب دکھا دیا جائے جس سے قرآن ان کو ڈرا رہا ہے۔ لفظ ’اطاعت‘ یہاں پروا کرنے کے معنی میں ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ آیت: ’کَلَّا لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ‘ (العلق ۹۶: ۱۹) میں بھی یہ اس معنی میں آیا ہے۔
’آثم‘ اور ’کفور‘ کی تحقیق: ’اٰثِمًا أَوْ کَفُوْرًا‘۔ اوپر آیات ۳ میں ’شاکر‘ اور ’کفور‘ کے الفاظ گزر چکے ہیں۔ وہاں فرمایا ہے کہ
’إِنَّا ہَدَیْْنَاہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوْرًا‘
(ہم نے انسان کو راہ دکھا دی ہے، چاہے وہ شکرگزار بنے یا ناشکرا)۔
یہاں ’شاکر‘ کے ضد کی حیثیت سے لفظ ’اٰثِم‘ آیا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہ لفظ حقوق تلف کرنے والے کے لیے آتا ہے۔ حقوق دو طرح کے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد، حقوق العباد تلف کرنے والوں کے لیے معروف لفظ ’اٰثِم‘ ہے اور حقوق اللہ نہ ادا کرنے والے کے لیے معروف ’کفور‘ ہے۔ اگرچہ یہ دونوں صفتیں لازم و ملزوم سی ہیں، جو حقوق العباد کا منکر ہو گا وہ حقوق اللہ ادا کرنے والا بھی نہیں بن سکتا، تاہم اشخاص کے رجحانات و میلانات کے اعتبار سے یہ بیماری ان کے اندر ذرا مختلف شکلوں میں نمایاں ہوتی ہے۔ بعض کے اندر خست، بخالت اور طمع مال، قساوت قلب پیدا کر دیتی ہے جو ان کو نیکی کا دشمن بنا دیتی ہے۔ بعض کے اندار انانیت، خود پرستی اور استکبار پیدا ہو جاتا ہے جو ان کو حق کے آگے جھکنے نہیں دیتا۔ قریش کے اندر ان دونوں کرداروں کے نمونہ علی الترتیب ابولہب اور ابوجہل تھے۔ ان دونوں طرح کے کرداروں کو سامنے رکھ کر یہاں ’وَلَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا أَوْ کَفُوْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ تمہارے مخالفوں میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ یا تو وہ طمع دنیا کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں اس وجہ سے تمہارے دشمن ہیں یا ان کے سروں پر انانیت کا بھوت سوار ہے جو ان کو حق کے آگے جھکنے نہیں دے رہا ہے اور یہ دونوں ہی قسم کے لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی باتوں کو کوئی اہمیت دی جائے۔ ان کا مرض لا علاج ہے۔
Ayahs 76:25–26صبر کا نسخہ:
اوپر جس صبر کی تلقین فرمائی ہے یہ اس کا نسخہ بتایا ہے کہ صبح و شام اپنے رب کے نام کو یاد رکھو۔ صبح و شام احاطۂ وقت کے مفہوم میں بھی بولے جاتے ہیں اور لفظ ’ذکر‘ یہاں عام ہے جو نماز اور ذکر دوام دونوں پر شامل ہے۔ ’وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلاً‘ کے الفاظ سے تہجد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ خاص طور پر سورۂ مزمل کی تفسیر میں اس کے تمام اطراف زیربحث آئے ہیں۔
Ayah 76:27مخالفین کی اصل بیماری:
یہ نبی ﷺ کی تسلی کے لیے آپ کے مخالفین کی اصل بیماری کا پتا دیا ہے کہ یہ لوگ تمہارے انذار پر جو شبہات وارد کر رہے ہیں یہ محض اصل حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی سخن سازی ہے۔ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ اس دنیا کی لذت عاجل کے پرستار ہیں۔ آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ خواہ آخرت کا دن کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو اپنی اس دنیا پرستی کو چھپائے رکھنے کے لیے وہ قیامت پر بعض بناوٹی قسم کے شبہات کا اظہار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ تاثر دے سکیں کہ یہ لوگ تمہاری بات جو نہیں مان رہے ہیں تو اس کا سبب محض ضد اور انانیت نہیں بلکہ اس کے کچھ وجوہ ہیں۔
Ayah 76:28مخالفین کو دھمکی اور ان کے شبہ کا جواب:
یہ ان مخالفین کے لیے دھمکی بھی ہے اور اس میں قیامت پر ان کے سب سے بڑے شبہ کا جواب بھی ہے۔ ان کا سب سے بڑا شبہ، جو قرآن میں باربار نقل ہوا ہے، یہی تھا کہ مرنے اور مٹی میں رَل مِل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں! فرمایا کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ بند اور رگ پٹھے مضبوط کیے تو جب ہم ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے اور اس سے وہ انکار نہیں کر سکتے تو ہم جب چاہیں گے پھر ان کے رگ پٹھے ازسرنو مضبوط کر کے ان کو اٹھا کھڑا کریں گے۔ جب پہلی بار ہم کو اس کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو وہی کام ہمارے لیے دوبارہ کیوں مشکل ہو جائے گا۔
’شدّ سرًا‘ کے معنی ہڈیوں اور اعصاب کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنے کے ہیں۔ ’بَدَّلْنَا أَمْثَالَہُمْ‘ میں جس مثلیت کی طرف اشارہ ہے اس سے مراد یہی جوڑ بند ازسرنو درست کرنے میں مشیت ہے۔
Ayah 76:29آگاہی اور اعلان بے نیازی:
یہ ان لوگوں سے اظہار بے نیازی ہے کہ یہ آگاہی جو سنائی جا رہی ہے محض ان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے سنائی جا رہی ہے۔ اس میں نہ اللہ کا کوئی نفع ہے اور نہ رسول کی کوئی ذاتی غرض اس میں مضمر ہے۔ جس کا جی چاہے اس کو قبول کر کے اپنے رب کی راہ اختیار کرے ورنہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ کتاب آگاہ کر رہی ہے۔
Ayahs 76:30–31توفیق ایمان کے باب میں سنت الٰہی:
یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے توفیق ایمان کے باب میں مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر سے کام لیتے اور خیر و شر، حق و باطل کے درمیان امتیاز کی اس صلاحیت کی قدر کرتے ہیں جو اس نے ان کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور جس کی طرف آیات ۲-۳ میں اشارہ فرمایا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی یہ صلاحیتیں ضائع کر کے اندھے بہرے بن جاتے ہیں تو ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے لیے خدا نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور اس جہنم میں وہ اس وجہ سے پڑیں گے کہ انھوں نے اپنے اوپر خود ظلم کر کے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنایا۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔