Ayah 77:1عذاب کے شدنی ہونے پر شہادت:
’مُرْسَلَاتِ‘ کے معنی چھوڑی ہوئی کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس سے ملائکہ کو بھی مراد لیا ہے لیکن بعد کی صفات، جیسا کہ واضح ہو گا، اس سے ابا کرتی ہیں۔ اس خیال کی بنیاد صرف اس غلط فہمی پر ہے کہ یہاں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور عام خیال کے مطابق قسم کسی مقدس چیز کی ہونی چاہیے اس وجہ سے انھوں نے ’مُرْسَلَاتِ‘ سے فرشتوں کو مراد لیا۔ لیکن ہم جگہ جگہ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بیشتر شہادت یعنی دعوے پر دلیل کی نوعیت کی ہیں۔ یہ قسم بھی اسی نوع کی ہے۔ جس طرح سورۂ ذاریات میں ہواؤں کی قسم عذاب اور جزا و سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے اسی طرح یہ قسم بھی وعدۂ عذاب و قیامت کے شدنی ہونے پر کھائی گئی ہے۔
لفظ ’عُرْفٌ‘ گھوڑے کی ایال کے بالوں کے لیے آتا ہے جو پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس معنی کے لیے یہ ایک معروف لفظ ہے۔ امرؤ القیس کا مشہور شعر ہے:
نمش باعراف الجیاد اکفنا
اذا نحن قمنا عن شواء مضھّبٖ
(جب ہم شکار کا کچا پکا گوشت کھا کر اٹھتے تو گھوڑوں کی ایال میں اپنے ہاتھ پونچھ لیتے)
گھوڑوں کی ایال پکڑ کر ان کو روکا بھی جا سکتا ہے اور اس کو چھوڑ کر ان کو جولانی کے لیے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ آیت میں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور ان کے آزاد کرنے کو ان کی ایال چھوڑنے سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر نہایت بلیغ ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہوائیں نہ خودکار ہیں نہ خودمختار بلکہ ان کی پیشانی خدا کی مٹھی میں ہے۔ جب وہ چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ فرمایا ہے:
’مَا مِنْ دَآبَّۃٍ إِلاَّ ہُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا‘ (ہود ۱۱: ۵۶)
(نہیں ہے کوئی جاندار مگر وہ اس کی پیشانی کے بال کو پکڑے ہوئے ہے)۔
Ayah 77:2’عَصْفٌ‘ کے معنی بگٹٹ اور اندھا دھند چلنے کے ہیں۔ فرمایا ہے:
’حَتّٰی إِذَا کُنتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْْنَ بِہِم بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَفَرِحُوۡا بِہَا جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِن کُلِّ مَکَانٍ‘ (یونس ۱۰: ۲۲)
(یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو لے کر چلتی ہیں موافق ہوا کے ساتھ اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں دفعۃً نمودار ہو جاتی ہے بادتند اور ان کو گھیر لیتی ہیں موجیں ہر جانب سے)۔
یہ ان ہواؤں کا دوسرا مرحلہ بیان ہوا ہے کہ چھوڑے جانے کے بعد وہ بگٹٹ ہو کر اندھا دھند چلنے لگتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو تند ہو کر بالآخر طوفان اور عذاب بن جاتی ہیں اور قوم کی قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان کے عجائب تصرفات کی تاریخ قرآن میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے اور آج بھی ان کی تباہ کاریوں کے تجربات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 77:3ابر رحمت والی ہوائیں:
’نَشْرٌ‘ کے معنی پھیلانے، چھینٹنے، ابھارنے، اگانے کے ہیں۔ یہ لفظ ان تمام معانی میں، قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو ابر رحمت لاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان میں ’نشر‘ کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ یہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر ان کو فضا میں پھیلاتی ہیں، پھر اپنے رب کی رحمت کو چھینٹتی اور نباتات لگا کر زمین کو سرسبز و شاداب بناتی ہیں۔ فرمایا ہے:
’وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوۡا وَیَنۡشُرُ رَحْمَتَہٗ‘ (الشوریٰ ۴۲: ۲۸)
(اور وہی ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ اسے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت)۔
اوپر کی قسم تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طوفانی ہواؤں کی ہے اور یہ قسم ابررحمت والی ہواؤں کی ہے جن پر زندگی کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔
یہاں زبان کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ ’عَاصِفَاتِ‘ کو ’اَلْمُرْسَلَاتِ‘ پر ’ف‘ کے ساتھ عطف کر کے اس کی تدریجی ترقی کو واضح کر دیا۔ اس کے برخلاف اس آیت میں حرف عطف ’و‘ آیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سابق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل وصف ہے۔
Ayah 77:4ہوائیں خود مختار نہیں بلکہ مسخّر ہیں:
یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے یعنی یہ ہوائی فرق و امتیاز کرتی ہیں۔ کبھی بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں کبھی ان کو اڑا کر لے جاتی ہیں۔ ایک علاقہ کو جل تھل کر دیتی ہیں، دوسرے کو تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ خود کار و خود مختار نہیں بلکہ ایک بالا تر قوت کے تابع فرمان ہیں۔ یہ فرق و امتیاز چونکہ ’نشر‘ کے ذریعہ سے اور اس کے بعد نمایاں ہوتا ہے اس وجہ سے عطف ’ف‘ کے ذریعہ سے ہوا۔
Ayah 77:5ہواؤں کی یاددہانی:
یعنی بارش کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں پر یاددہانی بھی اتارتی ہیں۔
بارش جن باتوں کی تذکیر کرتی ہے وہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں اور ان کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں چند نمایاں پہلو ذہن میں تازہ کر لیجیے۔
o یہ آسمان و زمین میں توافق کے پہلو سے توحید اور اللہ ہی کی شکرگزاری کی یاددہانی کرتی ہے۔
o اس کے اندر خدا کی ربوبیت کی جو شان ہے وہ خدا کے آگے مسؤلیت کی یاددہانی کرتی ہے۔
o مردہ زمین کو زندہ کر کے یہ بعث اور حشر و نشر کی یاددہانی کرتی ہے۔
o کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے عذاب بن کر یہ خدا کے اختیار مطلق اور اس کے عذاب و ثواب کی یاددہانی کرتی ہے۔
Ayah 77:6یہ مقصد بیان ہوا ہے ان کرشموں کا جو ہواؤں کے تصرفات سے ہر انسان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کرشمے اللہ تعالیٰ لوگوں پر اتمام حجت یا ان کو بیدار کرنے کے لیے دکھاتا ہے۔ ’اَوْ‘ یہاں تقسیم کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سورۂ اعراف میں مصلحین کے ایک گروہ کا قول نقل ہوا ہے جس سے اس ’عُذْرٌ‘ اور ’نُذْرٌ‘ کی وضاحت ہوتی ہے:
وَإِذَ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوْمًا نِ اللہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا قَالُوۡا مَعْذِرَۃً إِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ (الاعراف ۷: ۱۶۴)
’’اور جب کہ ان سے ایک گروہ نے کہا کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ جن کو اللہ تعالیٰ یا تو ہلاک کر دینے والا ہے یا ایک سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے حضور معذرت کے لیے اور اس لیے بھی کہ شاید وہ ڈریں۔‘‘
یعنی یہ لوگ اگر ہماری نصیحت نہ مانیں گے تو ہم اپنے فرض نصیحت سے سبکدوش ہو جائیں گے، ہم پر کوئی ذمہ داری عند اللہ باقی نہیں رہے گی۔ پھر ذمہ داری ان کی ہو گی اور یہ قیامت کے دن اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر نہ پیش کر سکیں گے اور اگر ہماری بات مان کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بن گئے تو یہی مقصود ہے۔ یہ چیز ان کے لیے بھی باعث برکت و رحمت ہو گی اور ہمارے لیے بھی۔
Ayah 77:7قسموں کا مقصود:
یہ مذکورہ قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کے رہے گی۔ ’تُوْعَدُوْنَ‘ یہاں عام ہے، اس میں وعدہ اور ’وعید‘ دونوں شامل ہے لیکن یہ سورہ، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، انذار کی ہے اس وجہ سے یہاں وعید کا پہلو غالب ہے۔ یعنی جس عذاب اور قیامت سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ اٹل ہے، اس سے تمہیں سابقہ پیش آ کے رہے گا۔
عذاب اور قیامت پر ہواؤں کے تصرفات کی شہادت گوناگوں پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ ذاریات کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب اور قیامت کے مکذبین کو ہواؤں کے تصرفات کی طرف توجہ دلا کر متنبہ فرمایا ہے کہ اپنی قوت و سطوت پر زیادہ ناز نہ فرماؤ۔ اللہ عذاب لانا چاہے تو اسے کوئی بڑا اہتمام نہیں کرنا ہے۔ جس ہوا کی لائی ہوئی بارش سے جیتے ہو اسی کے پیچ ذرا ڈھیلے چھوڑ دے تو چشم زدن میں تمہاری ہستی کا نام و نشان ہی مٹ جائے۔ اس دنیا میں کتنی ہی قومیں گزری ہیں جن کو ہوا ہی نے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔
Ayah 77:8قیامت کی ہلچل کی تصویر:
ان آیتوں میں قیامت کی ہلچل کی تصویر ہے کہ اس دن اس کائنات کی وہ چیزیں جو بہت عظیم، بڑی ہی پرشوکت اور بالکل غیر فانی اور لازوال نظر آتی ہیں اور جن کو دیکھ کر تم گمان کرتے ہو کہ بھلا ان کو ان کی جگہ سے کون ہلا سکتا ہے وہ بالکل بے نشان اور بے حقیقت ہو کے رہ جائیں گی۔ ہواؤں کے لائے ہوئے طوفانوں سے بڑے بڑے شہروں، محلوں اور قلعوں کو جس طرح بے نشان ہوتے دیکھا ہے اسی طرح اس دن ایسی ہلچل برپا ہو گی کہ ستارے بے نشان ہو جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور زمین کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔
’طمس‘ کے معنی کسی چیز کو مٹا دینے اور بے نشان کر دینے کے ہیں۔ فرمایا ہے:
’مِّنْ قَبْلِ أَنْ نَّطْمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰی أَدْبَارِہَا‘ (النساء ۴: ۴۷)
(قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور ان کو ان کے پیچھے پھیر دیں)۔
’فَإِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتْ‘ کے معنی ہوں گے، پس جب کہ ستارے بے نور اور بے نشان کر دیے جائیں گے۔ یہی بات دوسرے مقام میں ’وَإِذَا النُّجُوۡمُ انْکَدَرَتْ‘ (التکویر ۸۱: ۲) اور ’وَإِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۲) کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔
Ayah 77:9’وَإِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ‘۔ یعنی یہ آسمان جس میں کہیں کسی شگاف اور دراڑ کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی، جو بالکل ٹھوس اور محکم نظر آتا ہے قیامت کے دن پھٹ جائے گا۔ قرآن کے دوسرے مقام میں فرمایا ہے: ’وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ اَبْوَابًا‘ (اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے دروازے بن کے رہ جائے گا)۔ سورۂ انفطار میں فرمایا ہے:
’إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۱)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن آسمان پاش پاش ہو جائے گا)۔
Ayah 77:10’وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘۔ ’نَسْفٌ‘ کے معنی ریزہ ریزہ کر دینے، پیس دینے، پراگندہ کر دینے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ متعدد مقامات میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
’وَانْظُرْ إِلٰٓی إِلٰہِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَّنُحَرِّقَنَّہُ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہُ فِی الْیَمِّ نَسْفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۹۷)
(اور اپنے اس دیوتا کو، جس پر تو معتکف رہا ہے، دیکھ، ہم اس کو جلائیں گے پھر اس کو ریزی ریزہ کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے)۔
خود پہاڑوں سے متعلق، منکرین قیامت کے سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے:
’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنۡسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا ۵ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۰۵-۱۰۶)
(اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو، میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا اور زمین کو صفا چٹ چھوڑ دے گا)۔
بعض مقامات میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ تودۂ ریگ (کثیب مھیل) اور شراب کے مانند ہو جائیں گے۔
اوپر کی دو آیتوں میں آسمان کا حشر بیان ہوا تھا، اس آیت میں زمین پر جو کچھ گزرے گی اس کی طرف اشارہ ہے۔ زمین کی چیزوں میں، استحکام اور وسعت و عظمت کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اونچا درجہ پہاڑوں ہی کا ہے۔ چنانچہ کفار قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ سوال بھی کرتے کہ قیامت آئے گی تو ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا ان کو بھی وہ توڑ پھوڑ دے گی! یہاں پہاڑوں کا انجام بیان کر کے گویا اس پوری زمین کا حشر بیان کر دیا کہ جب پہاڑوں پر، جن کو لوگ اٹل خیال کرتے ہیں یہ گزرے گی تو دوسری چیزوں کا جو حال ہو گا اس کے بیان کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 77:11رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری:
یہ اس اصل ہولناکی کا بیان ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر کی ہولناکیاں بیان ہوئی ہیں یعنی اس دن رسولوں کے لیے وقت مقرر ہو گا۔ ان کے لیے وقت مقرر کرنے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ ایک مقررہ وقت پر وہ دربار الٰہی میں حاضر ہو کر اپنی قوموں کی موجودگی میں یہ بتائیں کہ جس فریضۂ انذار پر وہ مامور کیے گئے تھے وہ انھوں نے انجام دیا یا نہیں؟ اگر انجام دیا تو قوموں نے ان کو کیا جواب دیا؟ قرآن کے دوسرے مقامات میں رسولوں کے اس مقصد کے لیے جمع اور بارگاہ الٰہی میں ان کی قوموں کے رویہ سے متعلق سوال کیے جانے اور ان کے گواہی دینے کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے۔ سورۂ مائدہ کی آیت ۱۰۹ ’یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوۡا لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنۡتَ عَلاَّمُ الْغُیُوۡبِ‘ کے تحت ہم اس کی تفصیل پیش کر چکے ہیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ رسولوں کی حاضری کے لیے بھی وقت مقرر فرمائے گا اور ان کی قوموں کی حاضری کے لیے بھی سمن جاری ہو گا۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ اعراف کی آیت ۶-۷ کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
فیصلہ کے دن کی اہمیت: ’اُقِّتَتْ‘ دراصل ’وُقِّتَتْ‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ عربی زبان میں الفاظ کے اندر اس طرح کا تصرف ہو جایا کرتا ہے۔ ’الرُّسُلُ اُقِّتَتْ‘ کے معنی ہوں گے رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ یہ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح کہتے ہیں ’الغنی خادمًا‘ یعنی ’ابغ لی خادمًا‘۔
Ayahs 77:12–13جب اس دن کے ذکر تک بات پہنچ گئی تو اس کی عظمت و ہیبت کے بیان کے لیے یہ سوال مخاطبوں کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ سمجھے کہ کس عظیم دن پر ہم نے ان رسولوں کی پیشی کو ٹالا ہے! اس کے بعد خود ہی جواب دیا ہے کہ نہ جانتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ’لِیَوْمِ الْفَصْلِ‘ فیصلہ کے دن پر ٹالا ہے یعنی وہ دن ہماری عدالت کا دن ہو گا۔
Ayah 77:14یہ اسلوب کلام، جگہ جگہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی عظمت و ہیبت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ جس طرح ’لِأَیِّ یَوْمٍ أُجِّلَتْ‘ کے سوال سے اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح اس سوال سے اس دن کے فیصلہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا اس کی عظمت دو بار یاد دلا دی گئی۔
Ayah 77:15یہ اس دن کے فیصلہ کے نتیجے کا بیان ہے کہ اس دن ان لوگوں کی تباہی ہے جو اس کے جھٹلانے والے بنے رہے!
زبان کا ایک اسلوب: یہ آیت، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، اس سورہ میں بار بار آئے گی اور ہر جگہ اپنے ماسبق سے گہرے ربط کے باوصف، اس کی حیثیت بالکل مستقل ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو اس شرط کا جواب قرار دیا ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔ اگر یہ جواب شرط کے محل میں ہوتی تو اس پر ’ف‘ آنی تھی (الّا آنکہ جواب جملہ فعلیہ یا ظرفیہ ہو) مثلاً فرمایا ہے: ’فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۵ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیْرٌ‘ (المدثر ۷۴: ۸-۹) دوسرے مقام میں ہے: ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا ۵ وَتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا ۵ فَوَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘ (الطور ۵۲: ۹-۱۱) اس قاعدے کی وضاحت ہم نے اس لیے ضروری سمجھی کہ اس جملہ کو جواب شرط مان کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کی تاویل صحیح نہیں ہو گی۔ آگے اس کے مواقع پر اس کی وضاحت ان شاء اللہ ہو جائے گی۔ یہاں جواب شرط محذوف ہے جس طرح ’إِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۵ وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۵ یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلَاقِیْہِ‘ (الانشقاق ۸۴: ۱-۶) میں محذوف ہے۔ جواب کے محذوف ہونے ہی کی وجہ سے یہ آیت اتنے گوناگوں پہلوؤں کی جامع بن گئی ہے کہ اس سورہ کے تقریباً ہر پیرے کے بعد یہ آئی ہے اور ہر جگہ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
Ayah 77:16دعوے کی تائید میں آفاقی شواہد:
یہ اسی دعوے کی تائید میں جو ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ (۷) کے الفاظ میں اوپر مذکور ہوا، تاریخ کے آفاقی شواہد کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اگلوں کو ہلاک کیا اور انہی کے پیچھے ان کے بعد والوں کو بھی لگاتے رہے؟ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ قوم نوح، عاد اور ثمود اور ان کے بعد آنے والی ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل سے قرآن میں بیان ہوئی ہیں مثلاً قوم لوط، مدین اور قوم فرعون وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب تاریخ مسلسل اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جن قوموں نے رسولوں اور ان کے انذار کی تکذیب کی ہم نے ان کو ہلاک کر دیا تو آخر انہی کی روش پر چلنے والے آج کے مجرموں کے باب میں ہماری سنت کیوں بدل جائے گی!
Ayah 77:17’ثُمَّ نُتْبِعُہُمُ الْآخِرِیْنَ‘۔ میں میرے نزدیک فعل ناقص محذوف ہے۔ اس حذف کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگلوں کے بعد ان کی روش کی تقلید کرنے والے پچھلوں کو بھی ہم برابر ان کے پیچھے لگاتے رہے ہیں۔ سنت الٰہی کا یہ تسلسل اس بات کی دلیل ہے کہ اس متواتر سنت میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی پہلے ہوا ہے اور یہی آئندہ ہو گا اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جس فیصلہ کے دن یعنی آخرت سے لوگوں کو ڈرایا ہے وہ بھی لازماً ظہور میں آ کے رہے گا۔
Ayah 77:18’کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ‘۔ اگرچہ یہ ایک کلیہ بیان ہوا ہے کہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور ایسا ہی کریں گے لیکن اس میں خاص طور پر قریش کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم یہی معاملہ ان کے ساتھ بھی کریں گے۔ اگر یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے اور قیامت کے دن جو حشر تمام مجرموں کا ہو گا وہی حشر ان کا بھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔
Ayah 77:19اس کے بعد وہی ترجیع والی آیت ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے لفظ ’وَیْلٌ‘ نے یہاں عذاب کی ان تمام قسموں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جن سے مجرموں کو اس دن سابقہ پیش آئے گا اور جن کی تفصیل قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک مختصر لفظ ہے لیکن اس کے اختصار و ابہام کے اندر جو ہولناکی مضمر ہے وہ بڑی سے بڑی تفصیل کے اندر بھی نہیں سما سکتی۔
Ayah 77:20ایک انفسی دلیل:
اوپر کی دلیل آفاقی تھی۔ اسی دعوے پر انسان کی خلقت سے یہ انفسی دلیل پیش کی گئی ہے۔ انسان کی خلقت سے قرآن نے قیامت پر متعدد پہلوؤں سے دلیل قائم کی ہے۔ مثلاً
o مٹی اور پانی کی ایک بوند سے اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر امکان بعث اور امکان حشر و نشر کو ثابت کیا ہے۔
o اس کی خلقت کے اندر خدا کی قدرت، حکمت اور صنعت گری کے جو شواہد نمایاں ہیں ان سے جزا اور سزا کے لازم ہونے پر استدلال کیا ہے۔
o انسان کی پرورش کے لیے اس نے جو اہتمام فرمایا ہے اس سے بھی جزا اور سزا کے لزوم پر دلیل قائم کی ہے۔
o انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی جو صفت ودیعت فرمائی ہے اس سے ایک روز عدل کے لازمی ہونے پر دلیل پیش کی ہے۔
یہ مطالب یوں تو پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر قریب ہی کی دو سورتوں۔۔۔ القیٰمۃ اور الدہر۔۔۔ کے مطالب پر آپ ایک نظر ڈال لیں تو ان تمام نکات کے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔
منکریں قیامت کے شبہ کا جواب: ’أَلَمْ نَخْلُقۡکُّم مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیْنٍ ۵ فَجَعَلْنَاہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ‘۔ یہ منکرین قیامت کے اس شبہ کا جواب ہے جو مرکھپ اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق وہ ظاہر کرتے۔ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے حقیر پانی کی ایک بوند سے تم کو پیدا کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا تو جب تم خود اپنے وجود کے اندر علانیہ مشاہدہ کرتے ہو کہ تمہارے خالق نے حقیر پانی کی ایک بوند کو انسان بنا کے کھڑا کر دیا تو تمہارے مرکھپ جانے کے بعد اگر وہ تمہیں ازسرنو پیدا کرنا چاہے تو یہ کام اس کے لیے کیوں ناممکن یا مشکل ہو جائے گا۔ پہلی بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار!
’مَہِیْنٌ‘ کے معنی حقیر و ناچیز کے ہیں۔ اس صفت کے لانے سے مقصود ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی ایسے میٹریل سے نہیں ہوئی ہے جو نادر الوجود یا کمیاب ہو کہ اس کو دوبارہ پیدا کرنا ناممکن یا دشوار ہو جائے۔ وہ ایک بے قیمت اور حقیر چیز سے پیدا ہوا ہے جس کا نہایت وافر ذخیرہ قدرت کے پاس موجود ہے۔ دوسرے اس سے خالق کی عظیم و بے نہایت قدرت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک بوند کو انسان بنا دے سکتا ہے اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
Ayah 77:21’فَجَعَلْنَاہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ‘۔ یہ ان حیرت انگیز تصرفات کی طرف اشارہ ہے جو اس حقیر قطرے کو گہر بنانے پر قدرت صرف کرتی ہے۔ فرمایا کہ ہم اس کو ایک محفوظ و مامون جائے قرار میں رکھواتے ہیں۔ ’قَرَارٌ‘ سکون اور جائے سکون دونوں معنوں میں آتا ہے۔ یہاں یہ جائے قرار کے معنی میں ہے اور اشارہ اس سے رحم کی طرف ہے جس کو قدرت نے خاص اسی مقصد کے لیے ایک گوشۂ مامون بنایا ہے۔ لفظ ’مَکِیْنٌ‘ جب جگہ کی صفت کے لیے آتا ہے تو اس سے ایسی جگہ مراد ہوتی ہے جو اندیشوں، خطرات اور مداخلت غیر مطلوب سے بالکل محفوظ و مامون ہو۔
Ayah 77:22’اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ‘۔ یعنی ایک معین وقت تک ہم اس کو ایک محفوظ گوشہ میں رکھواتے ہیں تاکہ جو صلاحیتیں اس کے اندر پیدا کرنی مقصود ہیں وہ اپنے لیے جگہ بنا لیں۔ پھر یہ ہماری ہی قدرت و حکمت ہے کہ اس مدت معین کے بعد اس کو اس گوشۂ مامون سے باہر لاتے ہیں۔
Ayah 77:23’فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوۡنَ‘۔ میرے نزدیک اس میں پہلا لفظ ’قدر‘ سے ہے اور دوسرا قدرت سے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عجائب قدرت کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلا کر فرمایا کہ دیکھ لو، انسان کی پیدائش میں ہم نے اپنے کیا کیا کرشمے دکھائے ہیں اور ہم کتنی اعلیٰ اور برتر قدرت رکھنے والے ہیں! مطلب یہ ہے کہ جب ہماری قدرت کی یہ اعلیٰ شانیں انسان کی خلقت میں ظاہر ہیں تو ہم اس کو دوبارہ پیدا کرنا چاہیں گے تو اس سے کیوں عاجز رہ جائیں گے!
Ayah 77:24اس کے بعد آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع یہ ہے کہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر جو شبہات وارد کیے جا رہے ہیں ان کی تردید کے لیے تو خود ان کی خلقت ہی کافی ہے۔ ایک دن وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور وہ دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہی خرابی کا دن ہو گا۔ سورۂ صافات میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے:
فَإِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِذَا ہُمْ یَنۡظُرُوۡنَ ۵ وَقَالُوۡا یَا وَیْلَنَا ہٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۵ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنۡتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ (الصافات ۳۷: ۱۹-۲۱)
’’وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی کہ دفعۃً وہ تاکنے لگیں گے۔ کہیں گے ہائے ہماری بدبختی! یہ تو جزا کا دن آ گیا! ہاں یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔‘‘
Ayah 77:25پرورش کا اہتمام جزا و سزا کی دلیل ہے:
یہ اسی یوم الفصل پر اس اہتمام ربوبیت سے دلیل قائم فرمائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کے لیے اس دنیا میں کر رکھا ہے۔ یہ دلیل قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے اور ہم ہر جگہ اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کے لیے جو اہتمام فرمایا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے زمین و آسمان کو جس طرح مسخر کر کے اس کی خدمت میں لگا رکھا ہے اس کا لازمی اور بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ غیر مسؤل اور شتر بے مہار بنا کر نہ چھوڑے رکھا جائے بلکہ ایک ایسا دن بھی آئے جس میں اس سے پرسش ہو کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ پھر جس نے ادا کیا ہو وہ انعام پائے اور جس نے ان کو طغیان و فساد کا ذریعہ بنایا ہو وہ اس کفران نعمت کی سزا بھگتے۔
’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ کِفَاتًا ۵ اَحْیَآءً وَأَمْوَاتًا‘۔ ’کفت‘ کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ عربی میں ’فِعَالٌ‘ کا وزن اس چیز کے لیے بھی آتا ہے جس سے فعل انجام پذیر ہو اس وجہ سے ’کِفَات‘ کے معنی جمع کر لینے والی کے ہوں گے۔ اسی معنی کے اعتبار سے اس میں فاعل کی قوت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے بعد مفعول لانا جائز ہوا۔
یہ ربوبیت اور احاطہ کے دو گونہ پہلوؤں سے معاد اور روز جزا و سزا کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ ربوبیت سے استدلال زیادہ وضاحت سے آگے والی سورہ میں ہے جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہے:
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۵ وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجًا ۵ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا ۵ وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ لِبَاسًا ۵ وَجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ۵ وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا ۵ وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَہَّاجًا ۵ وَأَنۡزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآءً ثَجَّاجًا ۵ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَنَبَاتًا ۵ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ۵ إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا (النبا ۷۸: ۶-۱۷)
’’کیا ہم نے زمیں کو گہوارہ نہیں بنایا، پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا، اور تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا، تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا، رات کو پردہ پوش اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا اور تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے اور ایک روشن چراغ نہیں بنایا اور بدلیوں سے دھڑ دھڑاتا پانی نہیں برسایا تاکہ اس سے اگائیں غلے اور نباتات اور گھنے باغ؟ بے شک یہ چیزیں شاہد ہیں کہ فیصلہ کا دن مقرر ہے۔‘‘
احاطہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہاں ’اَحْیَآء‘ کے ساتھ ’اَمْوَاتًا‘ کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی یہ زمین جس طرح اپنی آغوش میں تمام زندوں کو لیے ہوئے ہے اسی طرح تمام مردوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جو مرتے ہیں وہ اس کے حدود سے کہیں باہر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی کے اندر دفن ہوتے ہیں۔ قدرت ان کو اسی زمین کی تحویل میں بطور امانت دے دیتی ہے جس کے گہوارے میں وہ پیدا ہوتے اور پلتے ہیں۔ یہ اہتمام قدرت نے اسی لیے فرمایا ہے کہ جب لوگوں کو جمع کرنے کا وقت آئے تو وہ زمین کو حکم دے کہ جو کچھ اس کی تحویل میں ہے اس کو حاضر کرے اور وہ فوراً اس حکم کی تعمیل کرے گی۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۳-۴)
(اور جب کہ زمین تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اس کو باہر نکال کر فارغ ہو جائے گی)۔
اسی بات کی طرف اشارہ سورۂ زلزال میں ’وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اَثْقَالَھَا‘ (۲) کے الفاظ سے فرمایا ہے۔ ان آیات سے اس حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ جو مرتا ہے وہ کہیں ناپید نہیں ہو جاتا ہے بلکہ زمین کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کو اسی زمین سے، جس سے اس کو پیدا کیا، پھر اٹھا کھڑا کرے گا۔ چنانچہ سورۂ طٰہٰ میں فرمایا ہے:
’مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی‘ (۵۵)
(اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم پھر تم کو لوٹا دیتے ہیں اور پھر اسی سے تم کو دوسری بار نکالیں گے)۔
ان تمام آیات پر تدبر کی نظر ڈالیے تو ایک اور واضح تر حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ انسان اصلاً زمین ہی کے رحم سے پیدا ہوا ہے اور جب وہ مرتا اور دفن ہوتا ہے تو گویا مرتا نہیں بلکہ اسی رحم میں واپس لوٹا دیا جاتا ہے جس سے پیدا ہوا ہے تو جب اس کا پہلی بار پیدا ہونا کسی کے نزدیک کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے تو اس کا دوسری بار پیدا ہونا کیوں تعجب انگیز ہو جب کہ بطن زمین میں اس کا تخم موجود ہے۔
Ayah 77:26’اَحْیَآءً وَأَمْوَاتًا‘۔ ’کفت‘ کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ عربی میں ’فِعَالٌ‘ کا وزن اس چیز کے لیے بھی آتا ہے جس سے فعل انجام پذیر ہو اس وجہ سے ’کِفَات‘ کے معنی جمع کر لینے والی کے ہوں گے۔ اسی معنی کے اعتبار سے اس میں فاعل کی قوت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے بعد مفعول لانا جائز ہوا۔
یہ ربوبیت اور احاطہ کے دو گونہ پہلوؤں سے معاد اور روز جزا و سزا کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ ربوبیت سے استدلال زیادہ وضاحت سے آگے والی سورہ میں ہے جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہے:
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۵ وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجًا ۵ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا ۵ وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ لِبَاسًا ۵ وَجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ۵ وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا ۵ وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَہَّاجًا ۵ وَأَنۡزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآءً ثَجَّاجًا ۵ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَنَبَاتًا ۵ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ۵ إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا (النبا ۷۸: ۶-۱۷)
’’کیا ہم نے زمیں کو گہوارہ نہیں بنایا، پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا، اور تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا، تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا، رات کو پردہ پوش اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا اور تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے اور ایک روشن چراغ نہیں بنایا اور بدلیوں سے دھڑ دھڑاتا پانی نہیں برسایا تاکہ اس سے اگائیں غلے اور نباتات اور گھنے باغ؟ بے شک یہ چیزیں شاہد ہیں کہ فیصلہ کا دن مقرر ہے۔‘‘
احاطہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہاں ’اَحْیَآء‘ کے ساتھ ’اَمْوَاتًا‘ کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی یہ زمین جس طرح اپنی آغوش میں تمام زندوں کو لیے ہوئے ہے اسی طرح تمام مردوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جو مرتے ہیں وہ اس کے حدود سے کہیں باہر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی کے اندر دفن ہوتے ہیں۔ قدرت ان کو اسی زمین کی تحویل میں بطور امانت دے دیتی ہے جس کے گہوارے میں وہ پیدا ہوتے اور پلتے ہیں۔ یہ اہتمام قدرت نے اسی لیے فرمایا ہے کہ جب لوگوں کو جمع کرنے کا وقت آئے تو وہ زمین کو حکم دے کہ جو کچھ اس کی تحویل میں ہے اس کو حاضر کرے اور وہ فوراً اس حکم کی تعمیل کرے گی۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۳-۴)
(اور جب کہ زمین تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اس کو باہر نکال کر فارغ ہو جائے گی)۔
اسی بات کی طرف اشارہ سورۂ زلزال میں ’وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اَثْقَالَھَا‘ (۲) کے الفاظ سے فرمایا ہے۔ ان آیات سے اس حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ جو مرتا ہے وہ کہیں ناپید نہیں ہو جاتا ہے بلکہ زمین کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کو اسی زمین سے، جس سے اس کو پیدا کیا، پھر اٹھا کھڑا کرے گا۔ چنانچہ سورۂ طٰہٰ میں فرمایا ہے:
’مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی‘ (۵۵)
(اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم پھر تم کو لوٹا دیتے ہیں اور پھر اسی سے تم کو دوسری بار نکالیں گے)۔
ان تمام آیات پر تدبر کی نظر ڈالیے تو ایک اور واضح تر حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ انسان اصلاً زمین ہی کے رحم سے پیدا ہوا ہے اور جب وہ مرتا اور دفن ہوتا ہے تو گویا مرتا نہیں بلکہ اسی رحم میں واپس لوٹا دیا جاتا ہے جس سے پیدا ہوا ہے تو جب اس کا پہلی بار پیدا ہونا کسی کے نزدیک کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے تو اس کا دوسری بار پیدا ہونا کیوں تعجب انگیز ہو جب کہ بطن زمین میں اس کا تخم موجود ہے۔
Ayah 77:27’وَجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَیْنَاکُم مَّآءً فُرَاتًا‘۔ یہ اسی ربوبیت کے مضمون سے متعلق ہے جو ’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ کِفَاتًا‘ میں بیان ہوا ہے۔ قرآن کی متعدد آیات میں یہ اشارہ موجود ہے کہ انسان کی رہائش و پرورش کے لیے زمین کو گہوارہ بنانے میں پہاڑوں کے وجود کو بڑا دخل ہے۔ اوپر سورۂ نبا کی جس آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے اس میں بھی فرمایا ہے کہ
’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا‘ (کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو گہوارا بنایا ہے اور اس گہوارے کو متوازن رکھنے کے لیے اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں؟) دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’وَأَلْقٰی فِی الْأَرْضِ رَوَاسِیَ أَن تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (لقمان ۳۱: ۱۰) (اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی جانب کو لڑھک جائے)۔ پہاڑوں کے ایک اور نفع کی طرف بھی اشارہ فرمایا جو ربوبیت کے پہلو سے بڑی اہمیت رکھنے والا ہے۔ وہ یہ کہ ان پہاڑوں کی بلندی ہواؤں اور بادلوں کو کنٹرول کرنے اور پانی کے قدرتی ذخائر جمع کرنے میں بڑی مؤثر ہے۔ انسان شیریں پانی کا محتاج ہے اور یہ نعمت مہیا کرنے کے لیے قدرت نے یہ اونچے پہاڑ بنائے ہیں جو اسی کے بنانے کے ہیں کوئی دوسرا ان کو بنانے پر قادر نہیں ہے۔ اس طرح کلام درجہ بدرجہ ایک یوم الفصل اور روز جزا و سزا کے ثبوت تک خود پہنچ گیا۔ اس بات کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ الفاظ میں بھی اس کو بیان کیا جائے۔
Ayah 77:28اس طرح کلام درجہ بدرجہ ایک یوم الفصل اور روز جزا و سزا کے ثبوت تک خود پہنچ گیا۔ اس بات کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ الفاظ میں بھی اس کو بیان کیا جائے۔ چنانچہ اس کے ذکر کو حذف کر کے ترجیع والی آیت سامنے رکھ دی۔ فرمایا: ’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘ یعنی جو لوگ خدا کی ربوبیت اور اس کے احاطۂ قدرت کے اتنے بدیہی شواہد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کے دن سے نچنت اور اس کو جھٹلانے والے بنے ہوئے ہیں اس دن ان کی تباہی ہے۔
Ayah 77:29قیامت کی تصویر آنکھوں کے سامنے:
اوپر والی آیت میں آپ نے دیکھا کہ اس فیصلہ کے دن کا مشاہدہ آفاق و انفس کے آثار و شواہد کے اندر کرایا گیا ہے۔ اب چند آیتوں میں اس کی تصویر سامنے رکھ دی گئی ہے تاکہ جو چیز نگاہوں سے اوجھل ہے اس کا مشاہدہ ایک حاضر و مشہور چیز کی طرح منکرین کر لیں۔ چنانچہ اسلوب کلام ایسا اختیار فرمایا ہے گویا وہ چیز سامنے موجود ہے اور ان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اب تک جس چیز کو جھٹلاتے رہے ہیں اس کی طرف چلیں اور اس کا مزا چکھیں۔ فرمایا کہ چلو اس چیز کی طرف جس کو اب تک جھٹلاتے رہے ہو۔
Ayah 77:30’اِلٰی مَا کُنتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ‘ کے الفاظ میں جو ہولناک چیز چھپی ہوئی تھی یہ اس سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ان تین شاخوں والے سایہ کی طرف چلو۔ ’ظِلُّ‘ کے معنی تو سایہ کے ہیں لیکن یہاں ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف سایہ نہیں بلکہ دھوئیں کا سایہ ہے۔ سورۂ واقعہ آیات ۴۳-۴۴ میں فرمایا ہے:
’وَظِلٍّ مِّنۡ یَحْمُوۡمٍ ۵ لَّا بَارِدٍ وَلَا کَرِیْمٍ‘
(اور سیاہ دھوئیں کا سایہ، نہ ٹھنڈا نہ نفع بخش)۔
دھوئیں کے اس سائے کی صفت: ’ذِیْ ثَلَاثِ شُعَبٍ‘ آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دھواں ان کے آگے تمام سمتوں میں پھیلا ہوا ہو گا، صرف وہی سمت اس کی آفت سے محفوظ ہو گی جس سے یہ مکذبین، جیسا کہ لفظ ’اِنْطَلِقُوْا‘ سے واضح ہے ، کھدیڑ دیے جائیں گے جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے بعد ان کے لیے دھواں ہی دھواں ہو گا۔
اس ٹکڑے کی تاویل میں بعض اصحاب علم نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کفر کی بنیادی خصلتیں تین ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ سے غفلت؛
(۲) مخلوق سے بے پروائی؛
(۳) روز جزا کا انکار۔
انہی تین خصلتوں کے مطابق عذاب کی تین شاخیں ان کی طرف بڑھیں گی اور ان کو چھا لیں گی۔ یہ نکتہ لطیف ہے لیکن یہ تینوں خصلتیں باہم دگر لازم و ملزوم بھی ہیں اور یہ تمام کفار میں مشترک بھی نہیں۔ ان کی بنیاد پر کفار کی الگ تھلگ درجہ بندی کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ سمتیں بہرحال چار ہی ہوتی ہیں تو جب وہ اس سمت سے نکال دیے جائیں گے جو اس دھوئیں کے عذاب سے محفوظ ہو گی تو تین سمتیں بچ رہتی ہیں اور یہ تینوں اس دھوئیں کے احاطہ میں ہوں گی۔ گویا اس کے بعد وہ ہر طرف سے دھوئیں کے عذاب میں ہوں گے۔
Ayah 77:31یہ برسر موقع ایک مغالطہ کو رفع کیا ہے جو لفظ ’ظِلُّ‘ سے پیدا ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اس سایہ میں نہ چھاؤں ہو گی نہ شعلوں کی لپٹ سے بچاؤ کرنے والا بنے گا۔ یہی بات ذرا مختلف الفاظ میں سورۂ واقعہ کی اس آیت میں فرمائی گئی ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے۔ فرمایا ہے:
’وَظِلٍّ مِّنۡ یَحْمُوۡمٍ ۵ لَّا بَارِدٍ وَلَا کَرِیْمٍ‘
(سیاہ دھوئیں جن کا سایہ، نہ ٹھنڈا نہ فیض بخش)
گویا دھوئیں کے اذیت بخش پہلو تو اس کے اندر سارے ہوں گے لیکن نفع بخش پہلو، جن کی توقع ہو سکتی تھی، ان کی نفی کر دی گئی۔
Ayah 77:32’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہ آگ ہے جو دھوئیں کے ذکر سے بطور اس کے لازم کے مفہوم ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہ گنبد کے برابر چنگاریاں اور شعلے پھینک رہی ہو گی۔ ’قصر‘ کی قراء ت اور معنی میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے لیکن ہم نے اپنی اس کتاب میں ہر جگہ متواتر قراء ت ہی کو ترجیح دی ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ محل اور گنبد ہی کے معنی میں ہے اور یہ نہایت عمدہ تشبیہ ہے آگ کے کسی بڑے الاؤ سے اٹھتے شعلوں کی۔ یہ تشبیہ شعلوں کے پھیلاؤ، ان کی بلندی اور ان کے رنگ کی دی گئی ہے۔ محل بالعموم بلند جگہوں پر بنائے جاتے ہیں۔ دور سے دیکھیے تو وہ چمکتے ہوئے نظر آئیں گے اور اوپر کا رنگ نیچے کے رنگ سے مختلف ہو گا۔
Ayah 77:33یہاں ضمیر کا مرجع ’شرر‘ ہے اور رعایت لفظ کی کی گئی ہے۔ ’شرر‘ اسم صفت ہے۔ مذکر، مؤنث واحد اور جمع سب کے لیے اس کا استعمال یکساں ہوتا ہے۔ یہاں یہ جمع کے مفہوم میں ہے اس لیے کہ اس کی تشبیہ ’جمالۃ صُفر‘ سے دی گئی ہے۔ ’جمالۃ‘ اونٹوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ یہ تشبیہ شعلوں اور چنگاریوں کے رنگ اور ان کی بڑائی دونوں کو نمایاں کر رہی ہے۔ ’صفرۃ‘ (زردی) کی قید اس لیے لگائی ہے کہ دھوئیں کی آڑ سے شعلوں کا منظر ملگجے زرد رنگ کے اونٹوں کے رنگ سے بالکل مشابہ ہوتا ہے۔
Ayah 77:34آگے وہی آیت ترجیع ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ جس دن اس ہولناک منظر سے سابقہ پیش آئے گا اس دن ان تکذیب کرنے والوں کی تباہی ہے۔
Ayah 77:35مجرموں کی بے بسی کی تصویر: روز قیامت کی ہولناکی کی تصویر کے بعد یہ مجرموں کی بے بسی اور درماندگی کی تصویر ہے کہ آج تو قیامت کی تکذیب میں ہر ایک آگے بڑھ بڑھ کر طلاقت لسانی کا ثبوت دے رہا ہے لیکن اس دن سب کی زبانیں گنگ ہوں گی، کسی کے منہ سے بات نہ نکلے گی۔ آگے کی سورہ میں، جو اس کی مثنیٰ ہے، فرمایا ہے:
’لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا‘ (النبا ۷۸: ۳۷)
(اس دن مجرمین اس سے خطاب نہ کر سکیں گے)۔
قرآن میں یہ تصریح بھی ہے کہ اس دن مجرموں کے مونہوں پر مہر کر دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ ان کے اعضاء کو ناطق بنا دے گا جو ان کے تمام جرائم کی گواہی دیں گے۔
Ayah 77:36’وَلَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوۡنَ‘۔ یعنی نہ تو وہ خود زبان کھولنے کی جرأت کریں گے اور نہ ان کو یہ اجازت ملے گی کہ ان کے پاس کوئی عذر ہو تو اس کو پیش کریں۔
Ayah 77:37’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ ان کی اس بے بسی کے بیان کے بعد وہی آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ جب حال یہ ہو کہ نہ وہ خود کوئی بات زبان سے نکالنے میں پہل کر سکیں گے اور نہ ان کو کوئی عذر پیش کرنے کی اجازت ہی ملے گی تو ہلاکی اور تباہی کے سوا ان کے لیے کیا چیز باقی رہی!
Ayah 77:38یہ ان مجرموں کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد ہو گا کہ تم جس یوم الفصل کی تکذیب کرتے رہے تھے آج اس کی عدالت تمہارا فیصلہ سنانے کے لیے قائم ہو گئی۔ دیکھ لو، ہم نے تم کو بھی جمع کر لیا اور تمہارے اگلوں کو بھی۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کفار جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ بھی کہتے کہ جب قیامت آئے گی تو اس دن ہمارے آباء و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟ وہ اس طنزیہ سوال سے قیامت کو ناممکن سے ناممکن تر ثابت کرنا چاہتے کہ بھلا یہ بات کس طرح تصور کی جا سکتی ہے کہ ہمارے تمام اسلاف بھی ایک دن قبروں سے اٹھائے جائیں گے! ان کے اسی سوال کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ ’جَمَعْنَاکُمْ وَالْأَوَّلِیْنَ‘ ہم نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ کر دکھایا، تم بھی ہمارے سامنے موجود ہو اور تمہارے اگلے بھی!
Ayah 77:39’فَإِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوۡنِ‘۔ یعنی دنیا میں تو تم نے ہمارے رسول کو شکست دینے کے لیے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ اگر کوئی اور چال باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی آزما دیکھو۔ یہاں تمہارے اگلے پچھلے سب موجود ہیں۔ اگر وہ مدد کریں تو ان کی مدد بھی حاصل کرو۔
یہاں اس امر پر نگاہ رہے کہ رسول کے انذار کی تکذیب کے لیے کفار نے جو کوششیں کیں ان کو اللہ تعالیٰ نے ’کَیْدٌ‘ یعنی چال سے تعبیر فرمایا۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم بار بار واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اس راہ میں ان کی ساری بھاگ دوڑ محض اپنی سیادت کو بچانے کے لیے تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پیغمبر ﷺ کی بات حق ہے لیکن اپنی نفس پرستی اور انانیت کے سبب سے اس کے قبول کرنے پر وہ تیار نہیں ہوئے بلکہ طرح طرح کے شبہات و اعتراضات ایجاد کر کے اپنے عوام کو انھوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ جو کر رہے ہیں دلیل کے ساتھ کر رہے ہیں اور ان کا مقصود اپنے آبائی دین کا تحفظ ہے۔ حالانکہ یہ محض ان کی چال تھی۔
Ayah 77:40’وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ آگے وہی آیت ترجیع ہے جو اوپر ہر پیرے کے بعد آئی ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مطالبہ کے بعد، جو مذکور ہوا، ان کی بے بسی ان پر بالکل واضح ہو جائے گی اور وہ اس تباہی سے دوچار ہوں گے جو اس تکذیب کے نتیجہ میں ان کے سامنے آئے گی اور جو بہت بڑی تباہی ہو گی۔