Ayahs 77:41–42متقیوں کا انعام:
اس یوم الفصل میں مجرموں کا جو فیصلہ ہو گا وہ اوپر کی آیات میں بیان ہوا کہ وہ ایک ایسی آگ کی طرف بھیجے جائیں گے جس کا دھواں ان کو ہر طرف سے گھیر لے گا۔ ان کے مقابل میں ان متقیوں کا انعام و اکرام بیان ہو رہا ہے کہ وہ سایوں، چشموں اور اپنی پسند کے میووں میں ہوں گے۔ اس اسلوب بیان میں جب نعمتوں کا بیان ہوتا ہے تو اس سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ یہ نعمتیں ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گی۔ قرآن میں بھی یہ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے اور کلام عرب میں بھی اس کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔
Ayah 77:43یہ ان کو خوش خبری دی جائے گی کہ اب چین سے کھاؤ پیو۔ تمہارا یہ کھانا پینا راس آنے والا اور ہر غل و غش سے پاک ہو گا۔ یہ تمہارے ان اعمال کا صلہ ہے جو تم نے دنیا میں کیے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ ناشکروں نے دنیا میں جو کھایا پیا وہ ان کے لیے آخرت میں راس آنے والا نہیں بنے گا بلکہ وہ ان کے لیے تباہی کا سبب ہو گا اس لیے کہ انھوں نے اس کھانے پینے کا حق نہیں ادا کیا لیکن تمہارا یہاں کھانا پینا راس آنے والا بنے گا اس لیے کہ تم اپنے حقوق و فرائض سے سبکدوش ہو کر آئے ہو۔
’ہَنِیْئًا‘ کے معنی راس آنے اور سازگار ہونے کے ہیں۔ یہ مفعول سے حال پڑا ہوا ہے جو فعل سابق سے مفہوم ہو رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے: ’فَکُلُوۡہُ ہَنِیْئًا مَّرِیْئًا‘ (النساء ۴: ۴) جس میں ذوالحال واضح ہے۔ ذوالحال سے حال پڑنا عربی زبان میں معروف ہے۔ مثلاً مسافر کے لیے کہتے ہیں: راشد امھدیا۔
Ayah 77:44یہ آیت اوپر کی آیت ۱۸ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ وہاں فرمایا ہے:
’کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ‘
(ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں)
یہاں اس کے مقابل میں فرمایا کہ ہم خوب کاروں کو اسی طرح دیا کرتے ہیں۔ لفظ ’مُحْسِنٌ‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔
Ayah 77:45یہ آیت ترجیع ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔ ایک طرف تو خوب کاروں کے لیے یہ عیش جاوداں ہو گا، دوسری طرف منکرین اس عذاب میں جھونکے جائیں گے، جس کی تفصیل اوپر بیان ہوئی۔ تصور کیجیے اس بُعد کا جو دونوں کے درمیان ہو گا! جب آمنے سامنے یہ دونوں انجام نمایاں ہوں گے تب اپنی بدبختی کا ان لوگوں کو صحیح اندازہ ہو گا جنھوں نے عیش دنیا پر ریجھ کر اس کے انعام کا اندازہ نہیں کیا۔
Ayah 77:46قریش کے لیڈروں کو براہ راست خطاب:
یہ آخر میں قریش کے لیڈروں سے خطاب ہے۔ اوپر جو باتیں فرمائی گئی ہیں اگرچہ وہ بھی انہی کے لیے فرمائی گئی ہیں لیکن وہ اصولی رنگ میں ہیں۔ یہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے آگاہ کیا ہے کہ اس دنیا میں جو عیش تم کو حاصل ہے اس سے اس مغالطہ میں نہ رہو کہ آخرت ہوئی تو یہی کچھ تمہیں وہاں بھی حاصل ہو گا۔ تمہارا یہ عیش چند روزہ ہے۔ آخرت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے لیے خوب کار بننا ضروری ہے اور تم ہو نابکار۔ مجرموں کو وہی ملے گا جس کی تفصیل سنا دی گئی۔
Ayah 77:47’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘۔ یہ آیت ترجیع ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے کہ نابکاروں کے لیے اس دن بڑی تباہی ہے جس کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔
Ayah 77:48ان کو تنبیہ کرنے کے بعد پھر خطاب کی جگہ غائب کا اسلوب آ گیا جس میں ان کو ملامت ہے کہ یہ بدبخت لوگ اپنی موجودہ رفاہیت کو اس بات کی دلیل تو بنائے بیٹھے ہیں کہ آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان کے لیے عیش ہی عیش ہے لیکن جب ان کو اس عیش و رفاہیت کا حق ادا کرنے کے لیے خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جاتی ہے تو نہیں جھکتے بلکہ اکڑتے ہیں۔ ’رکوع‘ سے یہاں نماز کی تعبیر فرمائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا سب سے اعلیٰ مظہر اور کبر و غرور کی سب سے بڑی قامع ہے۔
Ayah 77:49اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کا موقع بالکل واضح ہے کہ جو برخود غلط اپنا فرض ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کی آرزوئیں پوری ہونے والی نہیں ہیں۔ وہ دن آئے گا کہ یہ دیکھیں گے کہ وہاں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے۔
یہاں وہ بات بھی یاد رکھیے جو سورۂ قلم میں گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن اس طرح کے مستکبرین سجدہ کرنے کے لیے بلائے جائیں گے لیکن انھوں نے دنیا کی زندگی میں سجدہ نہیں کیا اس وجہ سے اس دن بھی وہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔ یہ چیز ثابت کر دے گی کہ یہ بھی مستکبرین میں سے ہیں اس وجہ سے یہ اسی سزا کے مستحق ہیں جو مستکبرین کے لیے خاص ہے۔
Ayah 77:50منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت:
یہ ان منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت اور ان کے ایمان سے مایوسی کا اظہار ہے کہ جب یہ اس انذار پر ایمان نہیں لا رہے ہیں جس کو قرآن اتنے واضح دلائل کے ساتھ سنا رہا ہے تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے! مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی چیز حسن استدلال میں قرآن سے بڑھ کر ہو سکتی نہ حسن بیان اور قوت تاثیر و تسخیر میں، تو جب یہ ان کی عقلوں اور ان کے دلوں پر اثر انداز نہ ہو سکا تو اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے جو اثر انداز ہو سکے گی؟ یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ ان کا مرض لاعلاج ہے۔ یہ دلیل اور بیان سے سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ اس وقت مانیں گے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن اس وقت کا ماننا بے سود ہو گا۔
’بَعْدَہٗ‘ کا مطلب بعض لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اس دن کے آ جانے کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ ان کے نزدیک مدّعا یہ ہے کہ اس انذار پر ایمان لانے کا نفع ہے تو آج ہے، جب وہ دن آ جائے گا تو اس دن ایما ن لائے تو کیا، نہ لائے تو کیا، اس وقت تو سب ہی ایمان لائیں گے لیکن اس سے کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔ اگرچہ اس تاویل کا بھی احتمال ہے لیکن قرآن کے نظائر سے زیادہ واضح تائید اسی تاویل کی نکلتی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:
’فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللَّہِ وَآیَاتِہِ یُؤْمِنُونَ‘ (الجاثیہ ۴۵: ۶)
(اور اللہ اور اس کی آیات سے بڑھ کر اور کون سی چیز ہو سکتی ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے)۔
احتمال اگرچہ دونوں ہی تاویلوں کی صحت کا ہے اور اصل مدعا میں بھی کچھ زیادہ بُعد نہیں ہے لیکن اس تاویل میں وسعت زیادہ ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ او سع واحکم۔