76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا،1۔

1۔ یعنی انسان اپنی پیدائش سے قبل جبکہ بحیثیت انسان معدوم تھا۔ ھل، یہاں بالاتفاق قد کے معنی میں ہے یعنی ضرور یا یقیناً ۔ ھل بمعنی قد (کشاف) ھل اتی بمعنی قد وبذلک فسر قولہ تعالیٰ ھل اتی علی الانسان الخ (مغنی۔ عن ابن عباس ؓ والکسائی والفراء) وعن سیبویہ ان ھل بمعنی قد (معنی)
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا مخلوط نطفہ سے کہ ہم اسے آزمائیں، سو ہم نے اسے سنتا دیکھتا بنایا،2۔

2۔ یعنی صاحب عقل بنایا اور ایسی ہیئت اور صفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں احکام کا مکلف بننے کی قابلیت ہو، (آیت) ” نطفۃ امشاج “۔ یہ اختلاط وامتزاج ممکن ہے کہ مراد و عورت کے مادوں کی ترکیب کے لحاظ سے ہو اور ہوسکتا ہے کہ خود منی ہی کے اجزائے ترکیبی کے لحا ظ سے ہو۔ فالاکثرون علی انہ اختلاط نفطۃ الرجل بنطفۃ المرأۃ (کبیر) ذلک عبارۃ عما جعلہ اللہ تعالیٰ بالنطفۃ من القوی المختلفۃ (راغب) یہ بیان عام خلقت انسانی کا ہوا اور اس طرح کے بیانات قرآن مجید میں ہمیشہ صرف عمومی حیثیت رکھتے ہیں، اس سے یہ استدلال کرنا کہ کسی بھی انسان کی خلقت بجز معروف و متعارف طریقہ کے ہو ہی نہیں سکتی تمامتر سطحیت وبے مغزی ہے۔ (آیت) ” سمیعا بصیرا “۔ علم ومعرفت کے لئے حواس میں بڑا دخل آنکھ اور کان ہی کو ہے اس لئے صراحت سے نام انہیں دو قوتوں کا لیا گیا۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم ہی نے اس کو راستہ بتایا (پھر) یا تو وہ شکر گزار (ہوا) اور یا کافر (ہوگیا) ،3۔

3۔ یعنی وہ اب بتائے ہوئے راستہ پر یا تو چلایانہ چلا۔ اگر چلا تو مومن وشکر گزرا ٹھہرا، چلا تو کافر اور ناشکرا نکلا، یہیں سے معلوم ہوا کہ اسباب و حالات اور قوتیں اللہ نے خلق فرمائیں اور اختیار وصرف ہمت انسان کی رائے پر چھوڑا۔ (آیت) ” ان ھدینہ السبیل “۔ یعنی ہم نے انہیں احکام کا مکلف بنایا۔
Ayahs 76:4–6

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم ہی نے کافروں کیلئے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے ،

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بیشک نیک لوگ ایسے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی ،

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یعنی اسے چشمہ سے جس سے اللہ کے (خاص) بندے پئیں گے جسے وہ بہاتے ہوئے لئے جائیں گے،4۔

4۔ (جہاں چاہیں گے) اسے اہل جنت کی ایک کرامت سمجھئے یا جنت کی خصوصیت مقامی کہ جنت کی نہریں، ندیاں سب ان کے تابع اور ان کے حکم کی مسخر ہوں گی۔ (آیت) ” کافورا “۔ کافور کے بےاتنہاء فوائد اس دنیا میں بھی اطباء کو مسلم ہیں، اور پھر وہ کافور تو جنت کا کافور ہوگا۔ اس کی خوبیوں کا کیا پوچھنا یہاں یہ خوب خیال رہے کہ دنیا کی جس چیز سے بھی جنت کی کسی نعمت کو تشیبہ دی جاتی ہے وہ تشبیہ اس چیز کی صرف حسن و خوبی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ کسی ضرر یا قبح کے لحاظ سے دنیا کے کافور میں اگر کچھ مضرتیں ہوں بھی تو جنت کے کافور پر ان کا کیا اثر، ٹھیک اس طرح جیسے دنیا کی شراب کے سکر وفتور عقل کا مطلق کوئی اثر شراب جنت کی لذت و سرور پر نہیں۔ (آیت) ” عباد اللہ “۔ اضافت تشریفی یا تخصیصی ہے اور مراد اہل بہشت ہیں۔ المقربون من عباد اللہ (ابن کثیر) قال ابن عباس اولیاء اللہ (معالم)
Ayahs 76:7–8

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ واجبات کو پورا کرتے رہتے اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی ،

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھانا کھلاتے رہتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور غریبوں کو اللہ کی محبت سے،5۔

5۔ غرض یہ کہ مالی عبادتوں میں بھی اخلاص کامل ملحوظ رکھتے ہیں۔ ) (آیت) ” یوفون بالنذر “۔ نذر ہر وہ عبادت ہے جو اپنے اوپر واجب کرلی جائے خواہ بالکل اپنی طرف سے خواہ اس لئے کہ اس کا حکم ہی ہو۔ المراد بالنذر ھھنا کل مایوجب علی سواء وجب بایجاب اللہ و جمیع الطاعات (کبیر) (آیت) ” یوفون ..... مستطیرا “۔ یعنی عبادتوں کی ادائی میں پورا اخلاص برتتے ہیں، اور اپنی ذمہ داری اور پرسش آخرت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ مستطیرا “۔ وہ چیز ہے جو خوب پھیلے ہوئے اور خوب گھیرے ہوئے ہو۔ (آیت) ” علی حبہ “۔ ضمیر ہ بھی اللہ کی جانب ہے یعنی حق تعالیٰ کی محبت میں حق تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے۔ اطعاما کائنا علی حبہ تعالیٰ ولو جھہ سبحانہ وابتغاء مرضاتہ والیہ ذھب الفضیل بن عیاض وابو سلیمان الدارانی (روح) (آیت) ” اسیرا “۔ مسکین ویتیم تو اس وقت مسلمانوں میں بھی تھے لیکن (آیت) ” اسیر “۔ تو نزول آیت کے وقت بہرحال مشرکین ہی تھے۔ قال قتادۃ کا اسیرھم یومئذن المشرک (جصاص) وعن الحسن قال کانوا مشرکین (جصاص) والاظھر الاسیر المشرک لان المسلم المسجون لایسمی اسیرا علی الاطلاق (جصاص) قال ابن عباس وقتادۃ والحسن انہ الا سیر من المشرکین (کبیر) یعنی اسراء الکفار (بیضاوی) اور اس سے یہ نکلا کہ غیر مسلم اسیروں کی بھی امداد واعانت موجب اجر آخرت ہے گوبعض فقہاء نے اس میں قیدیں لگا دی ہیں۔ فقیہ دلیل علی ان اطعام الاساری وان کان من اھل الشرک حسن ویرجی ثوابہ (معالم۔ روح) (آیت) ” ویطعمون الطعام “۔ محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ خلقت کے ساتھ حسن سلوک کی ساری ہی صورتیں آیت میں شامل ہیں جس کی ایک اہم فرد کھانا کھلانا بھی ہے۔ واطعام الطعام کنایۃ عن الاحسان الی المحتاجین والمواساۃ معھم بای وجہ کان وان لم یکن ذلک بالطعام بعینہ (کبیر) اقول وھذا یدل علی ان المراد من قولہ انما نطعمکم لیس ھو الاطعام فقط بل جمیع انواع المواساۃ من الطعام والکسوۃ (کبیر) فکانہ ینفعونہ بوجوہ المنافع (روح)
Ayahs 76:9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم تو تم کو بس اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے کھانا کھلاتے ہیں، اور نہ تم سے (اس کا) عوض چاہیں اور نہ شکریہ ،

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم تو اپنے پروردگار کی طرف سے اندیشہ رکھتے ہیں ایک سخت اور تلخ دن کا،6۔

6۔ (اور ہم یہ اعمال اس لئے بجالاتے ہیں کہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہیں) یہ آیتیں مسلسل اسی تاکید اخلاص کیلئے چلی آتی ہیں۔ اس قسم کی آیتیں ان تمامی غیر محقق صوفیہ کی تردید کے لئے کافی ہیں۔ جنہوں نے خوف آخرت سے کسی عمل کے کرنے کو خلاف اخلاص سمجھا ہے۔
Ayahs 76:11–14

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو اللہ ان کو اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا ،

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر (وثبات) کے صلہ میں انہیں جنت اور ریشمی لباس دے گا ،

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

اس حال کہ کہ وہ وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں تپش پائیں گے اور نہ سردی ،

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے ان کے بالکل اختیار میں ہوں گے،7۔

7۔ (کہ ہر وقت ہر طرح بلامشقت حاصل ہوسکیں گے) قرآن کے مخاطبین اول یاد رہے کہ عرب تھے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کی ضرورت تھی کہ جنت کی نعمتوں، لذتوں، راحتوں کی ایک ایک تفصیل ان کے مذاق کے مطابق بیان کی جائے، کلام اس سے ان کے لئے خاص طور پر مؤثر ہوگیا تھا۔ مخاطبین اول کے فہم و مذاق کی رعایت خصوصیت کے ساتھ رکھنا بلاغت کلام اور فن خطابت دونوں کے اصول اعلی میں داخل ہے۔
Ayahs 76:15–16

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان کے پاس لائے جائیں گے چاندی کے برتن اور گلاس جو شیشے کے ہوں گے ،

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

) اور وہ) شیشے چاندی کے ہوں گے جنہیں بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا،8۔

8۔ یعنی پینے والوں کی ٹھیک خواہش کے مطابق (آیت) ” قواریرا من فضۃ “۔ چاندی کے شیشے کے معنی یہ ہیں۔ سفیدی چاندی کیسی ہوگی اور شفافی شیشہ کی سی۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان میں انہیں ایسا جام (شراب) پلایا جائے گا جس میں آمیزش زنجییل کی ہوگی،9۔

9۔ زنجبیل کے طبی فوائد آج بھی کافور ہی کے منافع کی طرح دنیا کی ہر طب میں مسلم ومشہور ہیں اور پھر وہ تو دنیا کی نہیں، جنت کی زنجبیل ہوگی۔ (آیت) ” یسقون “۔ میں اکرام وتعظیم کا پہلو اہل جنت کے لئے (آیت) ” یشربون “۔ سے بھی زیادہ ہے۔
Ayahs 76:18–19

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یعنی ایسے چشمے سے جو وہاں ہوگا اور اس کا نام سلسبیل ہوگا،

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہمیشہ لڑکے رہنے والے لڑکے آمد رفت رکھیں گے، اگر تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں،10۔

10۔ (موتی تو رنگ کی صفائی کے لحاظ سے اور بکھرے ہوئے یوں کہ ہر وقت چلتے پھرتے رہیں گے) (آیت) ” یطوف ..... مخلدون “۔ یہ بطور خادم کے چیزیں لے لے کر ہر وقت آتے جاتے رہیں گے۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے،11۔

11۔ یعنی وہاں کا ہر ہر سامان اسی افراد، اسی ریل پیل کے ساتھ ہوگا۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (جنتیوں) پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دیبز ریشم کے کپڑے بھی اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا،12۔

12۔ ایسا پاکیزہ ولطیف مشروب، جو دوسروں کو بھی پاک ولطیف بنا دے گا۔ (آیت) ” سندس خضرواستبرق “۔ ہر دو قسم کے لباس ریشمین الگ الگ لطف ولذت دیں گے۔ (آیت) ” ثیاب ...... فضۃ “۔ ہر موطن کا مقتضاجداگانہ ہوتا ہے۔ ریشم اور زیور اس دنیا میں مردوں کے لئے بعض مفاسد کی بناء پر ممنوع ومعیوب ہے۔ جن کی فضا میں وہ سارے مفاسدغیر موجود ہوں گے۔ (آیت) ” وسقھم ربھم “۔ اہل جنت کے اعزاز واکرام کی ترتیب اس سورت میں دیکھتے آئیے۔ پہلے ارشاد ہوا (آیت) ” یشربون “۔ یعنی وہ خود وہاں پییں گے۔ پھر وارد ہوا (آیت) ” یسقون “۔ (بصیغہ مجہول) یعنی انہیں پلایا جائے گا۔ پلانے والے مجہول رہے، چاہے فرشتے ہوں یا جنت کے کوئی دوسرے خدام ہوں۔ اب کی ارشاد ہورہا ہے۔ کہ (آیت) ” وسقھم ربھم “۔ ساقی براہ راستہ باری تعالیٰ ہوگی، کیا ٹھکانا ہے اس اعزاز واکرام کا۔ (آیت) ” شرابا “۔ شراب عربی میں ہر مشروب (پینے والی چیز) کو کہتے ہیں۔ وکل مائع ماء کان اوغیرہ (راغب) اس سے ذہن اردو کے لفظ شراب اور اس کے گندے، نشیلے مفہوم کی طرف کہیں منتقل نہ ہوجائے۔ (آیت) ” طھورا “۔ صیغہ مبالغہ ہے یعنی ایسا مشروب جو نہ صرف نہایت پاک وپاکیزہ ہے بلکہ پاکیزہ گر بھی ہے۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی،13۔

13۔ (جو تم دنیا میں طاعات الہی میں کرتے رہتے تھے) یہ اہل جنت سے ان کے مزید اکرام و اعزاز کے طور پر کہا جائے گا۔
Ayahs 76:23–24

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم ہی نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے ،

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر مستقل رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آئیے،14۔

14۔ (کہ ان میں سے کسی کی ترغیب یا فرمائش پر دعوت وتبلیغ کا سلسلہ کسی طرح بند کردیں (آیت) ” انا ..... تنزیلا “۔ اور اس تدریجی تنزیل میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اسے تھوڑا ہی تھوڑا کرکے امت تک بسہولت پہنچاتے رہے۔ اور انہیں بھی قبول کرنے میں آسانی رہے۔ (آیت) ” فاصبر لحکم ربک “۔ اور انہیں احکام الہی میں ایک بڑا فریضہ تبلیغ و دعوت کا ہے۔
Ayahs 76:25–26

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا نام صبح وشام لیتے رہئے ،

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے بھی کسی حصہ میں اسے سجدہ کیا کیجئے اور اس کی تسبیح رات کے بڑے حصہ میں کیا کیجئے،15۔

15۔ یعنی شروع رات میں نماز فرض اور آخر میں تہجد کا اہتمام رکھیے (آیت) ” وسبحہ لیلا طویلا “۔ یعنی رات میں دیرتک تہجد میں لگے رہئے وتھجد لہ تعالیٰ قطعا من الیل طویلا (روح) (آیت) ” فاسجدلہ “۔ سجود۔ سے یہاں کنایہ اصل صلاۃ کی طرف ہے۔ فاسجد اے فصل (بیضاوی، روح) السجود مجاز عن الصلوۃ بذکر الجزء وارادۃ الکل (روح)
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ تو بس دنیا سے دل لگائے ہوئے ہیں، اور اپنے آگے (آنے والے) ایک بھاری دن کو (بالکل) چھوڑے ہوئے ہیں،16۔

16۔ یہاں تم لامذہبوں کی اصلی ذہینت (سائیکالوجی) بےنقاب کردی ہے، کہ عمق اور دور بینی سے یہ کورے ہوتے ہیں، صرف حاضر پرست یا ” آج “ پرست ہوتے ہیں، ان کی عقلیں سطحی اور ان کے فیصلہ تمامتر سرسری ہوتے ہیں، یہ محض حواس پرست اور ہوا پرست ہوتے ہیں، عقل ودور اندیشی سے انہیں دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ (آیت) ” یوما ثقیلا “۔ وہ دن جو کافروں اور منکروں پر بہت ہی بھاری ہوگا۔ (آیت) ” العاجلۃ “۔ سے مراد دنای اور اس کی ساری آنی فانی لذتیں ہیں۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ہی نے انہیں پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور ہم ہی جب چاہیں انہیں جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں،17۔

17۔ یعنی ان کی خلقت اور ان کی ترکیب حکیمانہ دونوں سے قدرت الہی بالکل ظاہر ہے، پھر بعث میں کون امر ایسا دشوار ہے کہ اس پر قدرت نہ ہو ؟ (آیت) ” واذا شئنا “۔ الخ سے مراد یہ بھی لی گئی ہے کہ ہم جب چاہیں گے ان کے امثال واشباہ بدل دیں گے، انہیں مار کر پھر سے جلائیں گے اور عالم برزخ وآخرت میں لے جائیں گے جہاں ان کی صورتیں ان کے اعمال ہی کی مماثل ہوں گی، اہل جہنم حسب اعمال قبیحہ اور اہل جنت حسب مقدار اعمال حسنہ، قبح اور حسن کے درجہ پر ظاہر کردیئے جائیں گے۔
Ayahs 76:29–30

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ (بیان نصیحت ہے، سو جو کوئی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے ،

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم چاہ بھی تو بس وہی سکتے ہو جو اللہ چاہے، بیشک اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،18۔

18۔ (اس لئے اس کی مشیت بھی ہمیشہ علم اور حکمت ہی پر مبنی ہوتی ہے) (آیت) ” فمن شآء اتخذ الی ربہ سبیلا “۔ اور اس راہ ہدایت کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے ارادہ واختیار سے صحیح کام لے۔ (آیت) ” وما ..... اللہ “۔ یعنی یہ بشری ارادہ بھی حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی کے ماتحت ہی ہوتا ہے، اس سے الگ اور بےنیاز نہیں۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے،19۔

19۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم سے مراد سیاق میں حسب محاورۂ قرآنی کافرہی ہیں، جنہوں نے اپنے ارادہ واختیار سے صحیح کام ہی نہ لیا۔ اے الکافرین (مدارک) اے المشرکین (معالم) وھم الکافرون (جلالین) (آیت) ” یدخل ..... رحمتہ “۔ اور رحمت میں داخل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا سینہ ایمان واسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔