76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک دور ایسا نہیں گزرا جب کہ اس کا کوئی نام (و نشان) بھی نہ تھا ؟

1 انسان کیلئے خود اپنے وجود میں غور و فکر کی دعوت : سو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے استفہامیہ اسلوب بیان میں اڑشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان پر ایک ایسا دور نہیں گزرا جب یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ؟ سو یہ استفہام تقریر اور تفریع کیلئے ہے یعنی یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس سے انکار کی کسی کو گنجائش نہیں، اس طرح اس سوال و استفہام سے مخاطب کے ضمیر کو جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ جس قادر مطلق اور واہب مطلق نے تم کو عدم محض سے نکال کر خلعت وجود سے نوازا، اور اس طرح طرح کی نعمتوں سے تمہیں سرفراز فرمایا اس سے تم کس طرح سرکشی اور بغاوت کا معاملہ کرتے ہو ؟ عام طور پر حضرات مفسرین و مترجمین یہاں پر فرما دیتے ہیں کہ یہاں پر ھل بالاتفاق قد کے معنی میں ہے ‘ لیکن شوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو قد کی بجائے ھل سے تعبیر کیوں فرمایا گیا ؟ سو یہ اس لئے ہے کہ ھل کے استفہام سے اس معنی و مفہوم میں جو زور پیدا ہوتا ہے وہ قد کی تاکید سے نہیں پیدا ہوسکتا اس لئے ہم نے عام ترجموں کے برعکس یہاں پر اس کا ترجمہ استفہام ہی سے کیا ہے معنی تو بہرحال تاکید ہی کا ہے جو کہ قد کا مفاد ہے، لیکن زیادہ زور بلاغت اور قوت کلام کے ساتھ والحمدللہ۔ سو " ھل " کے اس استفہام سے انسان کے ضمیر پر دستک دی گئی تاکہ وہ غفلت و لاپرواہی سے چونک کر اپنے بارے میں غور و فکر سے کام لے اور راہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرے۔ 2 دھر کا معنی و مطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک حصہ ایسا نہیں گزرا۔ کیونکر دھر کا اطلق دراصل ہوتا ہی اس زمانے پر ہے جس کی نہ ابتدا معلوم ہو نہ انتھاء الزمان الممتد اللامحدود (صفوۃ البیان ‘ المراغی وغیرہ) سو اس طویل اور لامتناہی زمانے میں ایک مدت تو ایسی گزری جبکہ بنی نؤع انسان ہی کا کوئی وجود نہیں تھا ‘ پھر ایک زمانہ آیا کہ انسان نام کی ایک نوع کے وجود کا آغاز کردیا گیا، پھر اسی زمانے کے اندر ایک وقت ایسا آیا جبکہ ہر ہر شخص کے وجود میں لانے کی ابتداء کی گئی۔ سو اس میں انسان کے غور و فکر کیلئے بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے کہ آخر وہ کون قادر مطلق اور حکیم مطلق ہے جو انسان کو اس قدر حکمت اور قدرت سے پیدا کرتا اور اس کو وجود بخشتا ہے۔ اس کا اس انسان پر کیا حق ہے ؟ اور اس کے اس حق کے ادا کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ اور اس انسان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ وباللہ التوفیق مایحب مایرید۔ 3 وجود انسان قدرت کا ایک ععظیم الشان مرقع عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان پر ایک ایسا دور نہیں گزرا جبکہ اس کا کوئی نام و نشان بھی نہ تھا۔ اور استفہام جیسا کہ اوپر بھی بیان ہوا تقریری ہے، یعنی ہاں یقینی طور پر اس انسان کا ایک دور ایسا گزرا ہے جبکہ اس کا کوئی نام و نشان بھی نہ تھا کہ ایک زمانہ دراز تک جیسا کہ ماہرین ارضیات (جیالوجی والوں) کا کہنا ہے کہ اس زمین پر کسی طرح کی زندگی ہی ممکن نہ تھی ‘ یہ کرئہ ارضی جب کرئہ شمسی سے الگ ہوا تو یہ اس قدر گرم اور اتنا ملتہب تھا کہ اس پر کسی طرح کی زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں تھا ‘ پھر صدیوں بعد جب رفتہ رفتہ ٹھنڈا ہو کر یہ کرئہ ارض زندگی کے قابل ہوا ‘ تو اس پر زندگی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے، اور اس کے کہیں بعد جاکر حضرت انسان اس پر نمودار ہوا، اور پھر بڑھتا پھیلتا گیا اور یہ زمین آباد ہوتی گئی، اور اس کیلئے بھی اسے کئی ادوار سے گزرنا پڑا۔ ایک زمانہ اس نے رحم مادر کے اندر مختلف حالات میں لوٹتے پوٹتے گزارا، اس سے پہلے یہ صلب پدر میں اس سے پہلے خون میں اور اس سے پہلے مختلف غذاؤں اور عناصر کی شکل میں، پتہ نہیں کہاں کہاں اور کس کس طرح یہ ادلتا بدلتا رہا، یہاں تک کہ یہ کامل انسان اور اس کائنات کا مخدوم ومطاع بن کر اللہ کی اس دھرتی پر آموجود ہوا، اور پھر اس پر دندناتا پھرنے لگا اور یہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا " فسبحانہ من الہ سمیع بصیر قادر قیوم جل و علا شانہ " سو اس ارشاد اور اس سوال و استفہام سے انسان کو دعوت غور و فکر دی گئی ہے، اور اس کے قلب و ضمیر اور نظام عقل و فکر کو جھنجھوڑا گیا ہے، کہ یہ انسان اس بارہ سوچے اور غور و فکر سے کام لے کہ اسے مختلف مراحل سے گزار کر اس کو خلعت وجود کی اس نعمت سے کس نے نوازا ؟ اور عقل و فکر کی ان عظیم الشان قوتوں سے اس کو کس نے سرفراز ومالا مال کیا ؟ اور قدرت نے اس پر اتنا اہتمام کیوں صرف فرمایا ؟ اس کو ان صلاحیتوں سے کیوں نوازا ؟ کیا یہ سب کچھ محض اس لئے کیا گیا کہ یہ کھائے پیے اور ایک دن یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائے ؟ کیا اس پر اس کی ان قوتوں اور صلاحیتوں سے متعلق کوئی ذمہ داری نہیں عائد ہوتی ؟ اور کیا اس سے ان کے بارے میں کوئی پوچھ نہیں ہوگی ؟ جس نے اس کو یہ سب کچھ بخشا ہے ‘ کیا اس کا اس پر کوئی حق عائد نہیں ہوتا ؟ اللھم ربنا فھذہ نوا صینا بین یدیک اللھم فخذنا بھا الی ماتحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ولا تکلنا الی انفسنا طرفۃ عین، یا ذالجلال والاکرام، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے تاکہ ہم (مکلف بنا کر) اس کی آزمائش کریں سو (اس غرض کے لئے) ہم نے اس کو بنایا سننے والا دیکھنے والا

4 نطفۃ امشاج کا معنی و مطلب ؟: امشاج جمع ہے مشج اور مشیج کی جس کے معنی ملی جلی چیز کے آتے ہیں۔ اور یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد کی صفت واقع ہوتے ہیں۔ سو انسان کی تخلیق ایک ملے جلے نطفے سے ہوتی ہے جو کہ ایک طرف تو مخلوط ہوتا ہے مرد اور عورت دونوں کے مادہ تولید سے ‘ دوسری طرف اس میں اختلاط و امتزاج ہوتا ہے طرح طرح کی غذاؤں دواؤں اور عناصر وغیرہ کا، اور یہ سب کچھ ایسے پر حکمت طریقے سے ہوتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، اور اس طور پر کہ جس ماں کے بطن میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اس کو بھی اس کی کوئی خبر تک نہیں ہوتی امشاج کے بارے میں جیسا کہ ابھی گزرا بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ جمع ہے مشج کی، جیسے اسباب جمع ہے سبب کی یا یہ جمع ہے مشج کی جیسے اکتف جمع ہے کتف کی، یا یہ جمع ہے مشیج کی جیسے انصار جمع ہے نصیر کی، جبکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اگرچہ ظاہری اعتبار سے جمع کی شکل پر ہے، لیکن یہ جمع نہیں مفرد ہے، کیونکہ یہ یہاں پر نطفہ کی صفت واقع ہوا ہے، جو کہ مفرد ہے، سو یہ ایسے ہی جیسا کہ کہا جاتا ہے برمۃ اعشار ثوب اخلاق اور ارض سباسب وغیرہ (المحاسن ‘ الجواہر وغیرہ) سو مختلف مزاج کی اشیاء کو اس اعتدال و توازن کے ساتھ باہم یکجا کردینا حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ سو انسان ذرا سوچے اور خود اپنی ذات میں جھانک کر دیکھے کہ ایک بےقدرے پانی۔ مامہین۔ کی ایک حقیر بوند سے اس کی اس پر حکمت تخلیق کا آغاز کس نے کیا ؟ اور ان مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر اس کو اس حد تک کس نے پہنچایا ؟ وہ کیسا قادر و حکیم اور رحیم و کریم ہے، اور اس کا اس انسان پر کیا حق ہے ؟ کیا اس نے اس کو یونہی عبث و بیکار پیدا کیا ہے ؟ کیا اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کے بارے میں اس انسان سے کوئی پرسش اور پوچھ نہیں ہوگی ؟ اور نہیں ہونی چاہیے ؟ اور کیا جس نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا اور اس کو نیست سے ہست کیا وہ اس کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین۔ 5 انسانی تخلیق کی غرض وغایت ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا تاکہ ہم اس کی آزمائش کریں۔ پس " نبتلیہ " کا جملہ حال واقع ہوا ہے اور اس کا مطلب اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ای خلقناہ مبتلین لہ ای مریدین ابتلاہ لاعبثا ولا سدیی۔ یعنی " اس کو ابتلاء و آزمائش کیلئے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ عبث و بیکار " (محاسن التاویل وغیرہ) سو اس ارشاد میں فرمایا گیا کہ ہم نے اس کی آزمائش کرنی ہے تاکہ آزمائش میں پورا اترنے پر اس کو ابدی سعادتوں اور عنایتوں سے بہرہ ور کریں، اپنے لطف و کرم سے، اور ناکامی کی صورت میں یہ اپنے کئے کا بھگتان بھگتے اور ہمیشہ کیلئے بھگتا رہے، والعیاذ باللہ العظیم، کہ اس مخلوق کی پیدائش سے ہماری کوئی غرض وابستہ نہیں، بلکہ ہم اپنے بندوں پر کرم کرنا اور ان کو طرح طرح کی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازنا چاہتے ہیں، جیسا شاعر نے اس بارے کہا اور خوب کہا ۔ من نہ کردم خلق تا سودے کنم۔ ولے تابر بندگاں جو دے کنم۔ یعنی ہم نے اپنی مخلوق کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ہم اس سے کوئی نفع کمائیں اور فائدہ اٹھائیں، بلکہ ہم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ اپنے بندوں پر کرم کریں، اور ان کو اپنی گونا گوں عنایات سے نوازیں " فایک نسال اللھم ان تجعلنا من الشاکرین لک والحامدین، ومن الفالحین الفائزین بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین، و یا اکرم الاکرمین " سو انسان اس دنیا میں ہمیشہ رہنے اور مزے کرنے کیلئے نہیں آیا، جیسا کہ مادہ پرستوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم حیوانوں کی طرح کھاپی کر، اور مزے اٹھا کر یونہی مر مٹ جائیں گے اور بس، اور نہ ہی یہ کوئی دارالعذاب ہے، جیسا کہ راہب اور جوگی قسم کے لوگ سمجھتے ہیں، اور نہ ہی کوئی یہ دارالجزاء ہے جیسا کہ تناسخ اور آواگوں کے قائل لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے، اور نہ ہی یہ کوئی رزمگاہ ہے جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیروکاروں نے سمجھ رکھا ہے ‘ بلکہ یہ دنیا دراصل انسان کیلئے دارالامتحان اور ابتلاء و آزمائش کا گھر ہے، عمر رواں کی جو فرصت محدود اس کو دی گئی ہے وہ دراصل اس کے امتحان کا پیریڈ ہے، اور اس امتحان میں کامیابی کے نتیجے میں اس کو آخرت کی دائمی زندگی میں حقیقی بادشاہی کے عظیم الشان اور بےمثال انعام سے نوازا جائے گا، اللہ نصیب فرمائے آمین، اور اس میں ناکامی کی صورت میں والعیاذ باللہ، اس کو وہاں کے عذاب مقیم میں مبتلا ہونا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد بلکہ آیت کریمہ کے اس چھوٹے سے جملے میں انسان کے مقصد وجود اور اس کائنات میں اس کی حیثیت کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ والحمدللہ جل و علا۔ 6 انسان کیلئے سمع و بصر کی قوتوں کی نوازش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو سمع و بصر کی قوتوں سے نوازا۔ تاکہ اس طرح یہ ہماری آیات تنزیلیہ کو سن کر اور آیات تکوینیہ کو دیکھ کر سبق لے سکے اور عبرت حاصل کرسکے اور صحیح راہ کو اپناسکے۔ پس سننے دیکھنے سے مراد محض ظاہری حواس سے دیکھنا سننا نہیں کہ اس طرح تو جانور بھی دیکھتا سنتا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ سننا اور دیکھنا ہے، جس میں غور و فکر کرکے انسان صحیح نتیجے پر پہنچے اور راہ حق و صواب کو اپنائے، پس سائنسدان جو کہ اپنی کا وشوں سے طرح طرح کے انکشافات کرتے اور کائنات کے راز ہائے بستہ معلوم کرتے ہیں، وہ اگرچہ حق اور حقیقت تک نہیں پہنچتے اور ان چیزوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک تک رسائی حاصل نہیں کرتے، تو یہ سب کچھ محنت و مشقت، کدو کا وش، اور حیرت انگیز ایجادات و انکشافات کا سلسلہ ان کیلئے الٹا ثقل تقیل اور وبال وبیل بنے گا اور یہ ان کے خلاف حجت بنے گا کہ یہ سب حیرت انگیز انکشافات کرنے کے باوجود یہ لوگ یہ نہیں سوچتے اور اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ جس کے کشف و انکشافات کے درپے تم لوگ ہو اس کو بنایا اور پیدا کس نے کیا ؟ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے ؟ واہ رے ناکامیٔ بشر سارے جہاں کی تجھ کو خبر پر، اپنے جہاں سے بیخبر ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو سمع و بصر کے قوائے علم و ادراک سے نوازنا حضرت حق جل مجدہ، کی ایک عظیم الشان عنایت اور بےمثال نواز ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا ہے، اور سمیع وبصیر انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی ایک نہایت جامع تعبیر ہے، انہی صفات کی بناء پر اور انہی کے فیض سے انسان کے اندر خیر و شر کے درمیان ٰرق وتمیز کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور وہ اس قابل ٹھہرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا امتحان کرے کہ وہ خیر کی راہ کو اپنا کر خدا کا شکر گزار بنٹا ہے، اور اس کے نتیجے میں اس کے انعام کا مستحق ٹھہرتا ہے، یا شر کی راہ کو اپناکر ناشکرا اور کافر نعمت بنٹا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے عقاب و عذاب کا مستوجب ٹھہرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو راستہ بتادیا (پھر اس کی مرضی) خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا2

7 انسان کیلئے نور حق و ہدایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے اس کو راستہ دکھایا۔ یعنی صرف عقل و فکر کی روشنی بخشنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کو وحی اور ہدایت کی روشنی سے بھی سرفراز فرمایا، کہ تنہا عقل کی روشنی منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے کافی نہیں، بلکہ وحی اور ہدایت کی روشنی کے بغیر محض عقل و خرد کی روشنی تو انسان کو بسا اوقات اور بھی زیادہ ورطہ حیرت و ضلالت میں پھنشا دیتی ہے، سو جس طرح ظاہری راستہ معلوم کرنے کیلئے آنکھوں کی روشنی کے ساتھ ساتھ سورج وغیرہ کی کسی بیرونی روشنی کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، اسی طرح حق کے ادراک اور اس تک رسائی اور اس سے سرفرازی کیلئے عقل و فکر کے ساتھ ساتھ وحی کی روشنی بھی ضروری اور انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہونا ممکن نہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی بناء پر ہم نے انسان کو عقل و فکر کی عظیم الشان روشنی سے نؤازا اور وحی کے عظیم الشان نور سے بھی سرفراز فرمایا۔ پس جنہوں نے عقل و فکر کی روشنی کے ساتھ ساتھ ہدایت و وحی کی روشنی کو بھی اپنایا وہ نور علی نور کا مصداق بن کر انسانی ترقی کی معراج کو پہنچ گئے، اور ایسے اور اس حد تک اونچے چلے گئے کہ حاملین عرش فرشتے بھی ان کیلئے دعائیں کرتے ہیں، جیسا کہ سورة مومن کی آیات نمبر 7 تا 9 میں اس کی تصریح فرمائی گئی، اور تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ سو ایسے خوش نصیب لوگ ہوتے تو خاکی ہیں، اور رہتے فرش زمین پر ہیں، لیکن وہ ہوتے ایسی عظیم اور بےمثال شان کے مالک ہیں کہ اللہ کی نوری مخلوق اور اس کے حاملین عرش بھی ان کیلئے ایسی عظیم الشان اور پاکیزہ دعائیں کرتے ہیں جبکہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے ایسے اوندھے اور اندھے ہوجاتے ہیں کہ اسفل السافلین یعنی سب نیچوں سے نیچ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور ایسے اور اس حد تک کہ وہ اپنے خالق حقیقی کی عبادت و بنڈگی کے مشرف سے محروم ہو کر اپنی ہی جیسی مخلوق، بلکہ اس سے بھی رذیل چیزوں کی بندگی و پوجا میں لگ کر اپنی تحقیر و تذلیل اور ہلاکت و بربادی کا سامان خود کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 76:4–5

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لئے بڑی ہولناک زنجیریں بھاری طوق اور ایک بڑی ہی (خوفناک اور) دہکتی آگ

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

(اس کے برعکس) نیک لوگ وہاں ایسی شراب کے جام پی رہے ہوں گے جس کی آمیزش کافور سے ہوگی

8 منکرین کیلئے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکرین کیلئے ہم نے بڑی ہولناک زنجیریں، اور بڑے ہی بھاری بھرکم طوق تیار کر رکھے ہیں، اور ایک انتہائی ہولناک دہکتی بھڑکتی آگ بھی۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کا لازمی نتیجہ جزا و سزا ہے۔ اس لئے فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے کافروں کیلئے ہولناک زنجیریں، بھاری طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے، کہ انہوں نے اس دنیا میں اپنے آپ کو خود ہی رسم و رواج کی جکڑ بندیوں اور عادات و تقالید کے پھندوں میں پھنسا کر حق سے محروم کردیا تھا، اور خود کو خواہشات نفس کے جحیم کے حوالے کردیا تھا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کے لازمی نتیجہ کو واضح فرما دیا گیا، کہ کفر و انکار کی سزا ان لوگوں کو ایسی اور ایسی ملے گی ۔ اور منکرین جن جکڑ بندیوں میں آج بند، اور پھنسے ہوئے ہیں قیامت کے کشف حقائق کے اس جہاں میں وہ سب کچھ ان کے سامنے آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے ‘ آمین۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک ایسا عظیم الشان چشمہ ہوگا جس سے (مزے لے لے کر) پی رہے ہوں گے اللہ کے خاص بندے وہ اسے (جدھر چاہیں گے محض اپنے اشاروں سے) بہا لے جائیں گے

10 اہل جنت کے اوصاف و اعمال کا ذکر وبیان : سو یہاں سے ان اوصاف و اعمال کو بیان فرمایا گیا ہے جو جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ جن میں سب سے پہلا وصف و عمل بیان فرمایا گیا وہ ہے ایفاء نذر۔ سو ارشاد فرمایا گیا جو پورا کرتے ہیں اپنی نذروں کو۔ نذر سے یہاں پر مراد مطلق واجبات ہیں، خواہ وہ اللہ کی طرف واجب ہوں یا اس نے خود ہی اپنے ذمے واجب کئے ہوں، کیونکہ نذر کے اصل معنی ایجاب ہی کے آتے ہیں (خازن، صفوہ، وغیرہ) سو اس میں تمام ہی فرائض و واجبات آگئے جیسے نماز روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ۔ اور اس میں بلاغت کا یہ پہلو کارفرما ہے کہ جب وہ اپنے اوپر اپنی خود کی عائد کردہ اور واجب کردہ نذروں کی ادائیگی کا اس قدر اہتمام کرتے ہیں تو اللہ پاک کے واجب کردہ احکام کی ادائیگی کا اہتمام بطریق اولیٰ کریں گے (ابن کثیر، مراغی، مدارک، وغیرہ) بہرکیف اس سے ان وفادار بنڈوں (ابرار) کے اوصاف میں سے ایفاء نذر کے وصف کو سب سے پہلے اور بطور خاص نمایاں کرکے بیان فرمایا گیا ہے جس سے اس کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

وہ جو (آج دنیا میں) پورا کرتے ہیں اپنی نذروں1 کو اور وہ ڈرتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوگی

11 اہل جنت کا دوسرا بڑا وصف و عمل، خوف آخرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڈرتے رہے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ آسمان و زمین ہر حصے پر پھیلی اور چھائی ہوگی، قالہ قتادہ ؓ (طبری وغیرہ) والعیاذ باللہ الذی لا الٰہ غیرہ سو اس سے ان بندگان خدا کے اندیشہ آخرت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ اس دن کے عذاب ‘ اس کی گرفت و پکڑ، اور اس کی سختی و شدت سے ڈرتے رہتے ہیں، کہ اس کی ہولناکی اور شدت بڑی ہی سخت ہوگی اس دن چھوٹے بڑے، امیر و غریب، حاکم و محکوم، اور عابد و معبود سب ہی کو اس کے ہول سے واسطہ پڑے گا، اور اس سے صرف وہی لوگ محظوظ رہ سکیں گے جن کو اللہ ہی محفوظ رکھے گا۔ سو خوف آخرت ایک عظیم الشان وصف و عمل ہے اور یہ انسان کے قلب و باطن کا ایک ایسا مخفی واعظ اور مؤثر زاجر ہے جس سے انسان کی زندگی کی خؤد بخود اور اس کے انڈر سے اصلاح ہوتی رہتی ہے، اور اس کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ یہ اہم اور بنیادی حقیقت موجود رہتی ہے، کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، کوئی مجھے اچھا کہے یا برا، اس کی مجھے کوئی پروا نہیں، کیونکہ مجھے میرا وہ خالق ومالک بہرحال دیکھ رہا ہے جس کے حضور مجھے قیامت کے اس یوم عظیم اور یوم حساب میں حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور کا پھل پانا ہے۔ اس طرح خوف آخرت کے احساس و یقین سے انسان کی اصلاح خود بخود ہوتی رہتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ‘ آمین۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین یتیم اور قیدی کو

12 اہل جنت کا تیسرا بڑا وصف و عمل، اطعام طعام : سو اہل جنت کو جنت کا مستحق بنانے والے اعمال و اوصاف کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ان کا تیسرا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر۔ " حبہ " کی ضمیر کے مرجع میں تین احتمال ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر ایک علیحدہ، مستقل اور صحیح مطلب بنتا ہے، ایک یہ کہ اس کا مرجع الطعام ہو جو کہ اس کا اقرب مذکور ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس کھانے کے محبوب اور مرغوب ہونے کے باوجود اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اور اسی کو صحیح حدیث میں افضل صدقہ قرار دیا گیا ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل اور بہتر صدقہ وہ ہے جو تم اپنی صحت کی حالت میں، اور اپنے لالچ کے وقت میں کرو، جب کہ تم کو مالداری کی محبت ورغبت ہو اور تنگدستی و محتاجی کا خوف و ڈر " ان تصدق و انت صحیح شجیع تامل الغنی وتخشی الفقر " اور جیسا کہ خود قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا : " لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون "۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کا مرجع وہ اطعام ہو جو کہ یطعمون کے لفظ سے مفہوم ہو رہا ہے، یعنی وہ لوگ اپنی خوشی ورغبت اور شوق و محبت سے یہ کھانآ کھلاتے ہیں، نہ کہ مجبوراً اور بادل نخواستہ، اور اللہ پاک کے یہاں قدر و قیمت اسی عمل کی ہے جو کہ اپنی رضا ورغبت اور دلی شوق سے ہو نہ کہ مجبوری و بددلی سے، والعیاذ باللہ اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ اس کا مرجع اللہ ہو، جل جلالہ یعنی وہ محض اللہ پاک کی رضا جوئی اور خوشنودی کی خاطر یہ عمل کرتے ہیں " فسبحانہ ما اجمل وما احسن وما اجمع واعظم کلامہ " بہرکیف اس سے ان بندگان خدا کے اس رویئے کو اجاگر فرمایا گیا ہے، جو وہ خلق خدا کے ساتھ رکھتے ہیں جو کہ ہمدردی، ایثار اور خدمت کا رویہ ہے۔ اور یہی رویہ مطلوب اور اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب ہے۔ نہ کہ وہ رویہ جو کہ دوسروں کے خون چوسنے اور ان کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی بنیاد پر مبنی ہو جس طرح کہ سود خور، قمار باز اور بےرحم دنیا پرستوں کے یہاں پایا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ دین حنیف یہ سکھاتا ہے کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ اور اس کی برادری ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے محبوب انسان وہ ہے جو اس کی برادری کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ الخلق عیال اللہ فاحب الخلق من احسن الی عیالہ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ 13 اطعام طعام کی اہمیت اور ایک من گھڑت قصے کی تردید و تغلیط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین، یتیم اور اسیر کو۔ عام اس سے کہ وہ مسلمان ہو یا کافر، جنگ میں پکڑا گیا ہو، یا کسی حق میں محبوس ہو (معارف وغیرہ) یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اس میں صرف کھانا کھلانا ہی مراد نہیں، بلکہ ہر طرح کا احسان اور ہر ضرورت کی تکمیل اس میں داخل ہے، کھانے کا ذکر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ یہ سب سے بڑی ضرورت اور سب سے اہم مقصود ہے، (المراغی وغیرہ) حضرت مجاہد اور ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے ایک مرتبہ حضرات حسنین کریمین ؓ کی صحت یابی کیلئے نذر مانی کہ اگر ان کو شفاء مل گئی تو ہم تین روزے رکھیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جب ان دونوں کو صحت مل گئی تو ان دونوں حضرات نے نذر کے وہ تین روزے رکھنے شروع کیے تو پہلے روز عین افطاری کے وقت ایک مسکین ان کے در پر آگیا، تو انہوں نے وہ کھانا اٹھا کر اس کو دے دیا اور خود اسی طرح رات گزاری، دوسرے روز عین افطار کے وقت ایک یتیم سوالی آگیا تو انہوں نے اپنا کھانا اٹھا کر اس کو دے دیا اور خود اسی طرح سو رہے، اسی طرح تیسرے روز ایک قیدی آگیا تو اس روز کا کھانا اس کو دے دیا اور خود ایسے ہی سو رہے، اور پانی پی کر رات گزار دیتے رہے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، (جامع البیان وغیرہ) یہ قصہ اگرچہ مکارم اخلاق کے لحاظ سے ایک نادر نمونہ پیش کرتا ہے، لیکن یہ قصہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف نامعقول، اور ناقابل قبول ہے، اول اس لیے کہ سند اور ثبوت کے اعتبار سے یہ بہت کمزور بلکہ موضوع ہے، اس کو سب سے پہلے واقدی نے اپنی تفسیر البسیط میں بیان کیا پھر یہ آگے نقل در نقل ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ یہ رازی اور زمخشری جیسے محققین کی کتابوں میں بھی جگہ پا گیا، اور کسی نے اس کے بارے میں یہ سوچنے کی اور دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی، کہ سند و ثبوت کی کمزوری کے علاوہ یہ قصہ عقل و درایت کے ترازو پر بھی کس طرح اترسکتا ہے، اور یہ تک نہ سوچا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ لگاتار تین دن تک ایسے تین شخص آتے رہے اور عین اسی ترتیب کے مطابق آتے رہے جس کا ذکر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے یعنی پہلے روز مسکین، دوسرے روز یتیم، اور تیسرے روز قیدی اور وہ بھی عین افطار کے وقت، اور وہ بھی ایسے نفلی روزوں میں جو کہ صرف اسی گھرانے میں رکھے جا رہے تھے، جس کا دوسروں کو بالعموم کوئی اتہ پتہ بھی نہیں ہوتا۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ سوالی تو ایک آتا ہے مگر اس کو گھر کے پانچ آدمیوں کا سب کھانا اٹھا کر دے دیا جاتا ہے، یعنی حضرات حسنین کریمین، ان کے والدین ماجدین، اور ان کی باندی فضہ کا آخر یہ کیوں نہ کیا گیا کہ ایسے ایک سوالی کو ایک ہی شخص کا کھانا دے دیا جاتا، اور باقی چار کا کھانا وہ خود پانچوں حضرات مل کر کھالیتے، پھر تیسری بات یہ کہ حضرت حسنین کریمین جیسے دو چھوٹے اور معصوم بچے، جو کئی روز کے بخار اور بیماری سے اٹھے ہوں، ان کے ایسے عاقل اور زیرک والدین نے سب کھانا سوالی کو دے کر ان دونوں کو بھوکا رکھنا کیسے گوارا کرلیا، اور پھر قیدی کو تو اسلامی حکومت میں اس طرح کبھی چھوڑا ہی نہیں جاتا تھا کہ وہ بھیک مانگنے لوگوں کے دروازے پر جائے، وہ اگر حکومت کے پاس ہوگا تو اس کے اخراجات بیت المال سے پورے کئے جائیں گے، اور اگر کسی شخص کی تحویل میں ہوگا تو اس کے اخراجات کی ذمہ داری اسی شخض پر ہوگی، سو ان تمام وجوہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ایک من گھڑت قصہ ہے جو دجال قسم کے لوگوں کے دجل و تبلیس کا نتیجہ اور ان کی ایجادات و اختراعات میں سے ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور وہ دل میں یا زبان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں محض اللہ کے لئے کھلا رہے ہیں تم سے نہ کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں نہ کوئی شکریہ

14 اطعام طعام محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ کھانا بھی کھاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو تمہیں محض اللہ کیلئے کھلاتے ہیں۔ تم سے نہ کسی طرح کا کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی شکریہ ۔ پس اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے سوا ہمارا کوئی بھی اور مطلب نہیں، تم لوگوں سے ہم کسی طرح کی کوئی جزا اور بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کسی قسم کا کوئی شکریہ، یہ بات ایسے لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں تاکہ اخلاص پر دھیان رہے اور کسی طرح کی دوسری کسی غرض کا کوئی شائبہ اس میں شامل نہ ہوجائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زبان شے بھی اس کا اظہار کردیں، تاکہ اگلے اس بارہ مطمئن ہوجائیں کہ ہم نے اس پر کسی طڑح کا کوئی بدلہ نہیں دینا، اور اس سے وہ بار احسان کے احساس سے سبکدوش ہوجائیں، اور دونوں صورتیں یکجا بھی ہوسکتی ہیں، مقصد بہرحال یہی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہی مطلوب ہے، اس کے سوا کوئی بھی بات ہمارے پیش نظر نہیں۔ اور مومن صادق کی شان یہی ہوتی ہے اور یہی ہونی چاہیے کہ اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہی کے لیے ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ وھو الہادی الی سواء السبیل۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہمیں تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت ڈر لگا رہتا ہے جو بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہوگا

15 یوم قیامت کا خوف و ڈر ‘ اصلاح احوال کی اصل بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بندگان صدق و صفا کہتے ہیں کہ تم تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت خوف رکھتے ہو جو کہ بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہوگا۔ سو وہ دن بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت اور تلخ دن ہوگا، اور اتنا سخت اور اس قدر تلخ اور ہولناک کہ اس کی شدت کی وجہ سے مجرموں کے چہرے بگڑ کر کچھ کے کچھ ہوجائیں گے، چناچہ عکرمہ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس روز کافر کا حال یہ ہوگا کہ اس کا پسینہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان تارکول کی طرح بہہ رہا ہوگا، پس سا دن کے عبوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس میں موجود لوگوں کا حال ایسا اور بہت برا ہوگا، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے وہ نہارہ صائم، ابن عباس کہتے ہیں کہ عبوس سے مراد ہے تنک و ترشرد اور قمطریر سے مراد ہے طویل، سو ان دونوں وصفوں کے جمع ہوجانے سے اس دن کی شدت اور سختی اور زیادہ بڑھ جائے گی، اور اس قدر کہ اس کا پورا تصور وبیان بھی اس جہاں میں ممکن نہیں، (ابن کثیر، جامع البیان، مدارک، محاسن وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم۔ عبور کے معنی ترش رو کے آتے ہیں اور قمطریر اس کی تاکید ہے جس کو اس مضمون کی شدت کے اظہار کیلئے فرمایا گیا ہے۔ سو وہ دن ایسا ترش مزاج اور سخت دن ہوگا کہ اس میں کوئی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ ہر کسی کو اس روز اپنی ہی پڑی ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " لکل امری منہم یومئذ شان یغنیہ " (عبس :37) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ‘ آمین۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو (ان کی اس فرمانبرداری و اخلاص مندی کے طفیل) اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہوگا ان کو اس دن کے شر سے اور ان کو نواز دیا ہوگا (اپنے کرم سے) ایک عظیم الشان تازگی اور سرور (شادمانی) سے

16 اہل ایمان کے صلہ و بدلہ کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان خصال و اعمال کے صلے اور بدلے میں اہل ایمان کو اس روز ایک عظیم الشان تروتازگی اور سرور و مسرت سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور یہ سب کچھ اگرچہ ان کو آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جو اس دنیا کے بعد آأے گا اور خدا ہی جانے وہ کب کتنے زمانے کے بعد آئے گا، مگر اس کو تعبیر فرمایا گیا ہے، ماضی کے صیغوں کے ساتھ، اس کے تحقق وقوع اور نہایت یقینی ہونے کی بناء پر، جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے، یعنی آخرت کے اس جہاں میں وقوع پذیر ہونے والا یہ سب کچھ اور وہاں کی ان نعمتوں کا ملنا اس قدر قطعی اور اتنا یقینی ہے کہ گویا کہ یہ سب کچھ ہوچکا ہے، نیز اس تازگی و سرور کا پورا تحقق تو اگرچہ آخرت میں ہی ہوگا مگر اللہ پاک اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اپنے مومن بندوں کو جنت کی اس عظیم الشان نعمت کا کچھ حصہ و اثر اس دنیا میں بھی کس نہ کسی درجے میں عنایت فرما دیتا ہے، جس سے ان کے دلوں میں سرور و اطمینان ہوتا ہے، اور ان کے چہروں مہروں پر ایک خاص رونق و نورانیت، اللہ نصیب فرمائے آمین، بہرکیف یہ حضرات چونکہ اپنے صدق ایمان و یقین کی بناء پر اپنی دنیاوی زندگی میں اس کی وقتی اور عارضی لذتوں میں مست و مگن ہونے کی بجائے اس یوم عبوس و قمطریر سے ڈرتے رہے، اور اس کی آفتوں اور ہولناکیوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کی خاطر اپنا محبوب مال اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کرتے رہے، اس لیے ان کا رب غفور و شکور ان کو اپنے فضل و کرم سے اس یوم عظیم و شدید کی تلخیوں اور سختیوں سے محفوظ رکھے گا، اور اس روز جبکہ دوسرے لوگوں کے چہرے اترے اور بگڑے ہوئے ہوں گے، ان خوش نصیبوں کے چہرے ہشاش بشاش اور تروتازہ ہوں گے، اللہ نضیب فرمائے آمین ثم آمین۔ یارب العالمین۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کو سرفراز فرما دیا ہوگا اس نے (اپنی رحمت و عنایت سے) عظیم الشان جنت اور ریشمی لباس سے اس بناء پر کہ انہوں نے (زندگی بھر) صبر سے کام لیا (راہ حق و صواب پر)

17 راہ حق پر صبر و استقامت کا صلہ و بدلہ جنت اور اس کی نعیم مقیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا رب ان کو جنت اور ریشمی لباس سے نؤازے گا ۔ اس بناء پر کہ انہوں نے صبر و استقامت سے کام لیا اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو وہ زندگی بھر اس راہ حق و صواب پر قائم اور ثابت قدم رہے، اور اسی کے مطابق وہ تمام طاعات و عبادات بجا لاتے رہے، اور معاصی وذنوب سے اپنے مقدور کی حد تک بچتے رہے، اور مشکلات و مصائب پر صبر و ضبط سے کام لیتے رہے سو راہ حق صواب پر صبر و ثبات اور پختگی و استقامت فلاح و نجات کی شہ کلید ہے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو مومن کی پوری زندگی ہی از اول تا آخر صبر و ثبات اور اخلاص و استقامت ہی کی زندگی ہوتی ہے، وہ از اول تا آخر اسی فکر و کوشش میں ہوتا ہے کہ ہر اس بات سے چبے جس سے اس کے رب نے اس کو روکا ہے، اور ہر مرحلے اور ہر موڑ پر وہ ان حدود وقیود کی پابندی کرے، جو اس نے اس کیلئے مقرر فرمائی ہیں، اور وہ اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لائے، کہ یہ سب کچھ اس کے ایمان و یقین اور اس کی شان عبدیت و بندگی کا تقاضا ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے، آمین۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

اس جنت میں یہ لوگ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے (اس پرکیف منظر میں کہ) نہ وہ وہاں پر دھوپ (کی سختی) دیکھیں گے اور نہ جاڑے کی ٹھر

18 اہل جنت کے آرام و راحت کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر یہ اونچی اونچی مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ جو نشانی و علامت ہوگی ان کی دلی راحت و سکون اور عزت و آرام کی، اللہ پاک نصیب فرمائے آمین، سو یہ خوش نصیب گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے بالکل محفوظ جنت کے ان عالیشان تختوں پر بےمثال سکون و اطمینان کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں سورج کی حدت و شدت ہوگی اور نہ زمہریر کی ٹھر اور سردی، بلکہ نہایت خوشگوار و پربہار اور معتدل موسم ہوگا، دھوپ کی تپش، خزاں کی نحوست اور زمہریر کے آزار سے ان کو کبھی سابقہ پیش نہیں آئے گا، اللہ نصیب فرمائے آمین۔ سو انہوں نے چونکہ دنیاوی زندگی کو راہ حق و ہدایت پر استقامت کے ساتھ گزارا ہوگا اور اس سلسلے میں طرح طرح کی تکلیفوں اور صبر آزما حالات کا مقابلہ کیا ہوگا اس لئے ان کو حضرت واہب مطلق کی جانب سے ان عظیم الشان و بےمثال نعمتوں اور اس عظیم الشان سکون و اطمینان سے نوازا جائے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے، آمین۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

جھکے پڑے ہوں گے ان پر وہاں کے (درختوں کے) سائے اور پوری طرح ان کے بس (اور اختیار) میں کردیا گیا ہوگا وہاں کے پھلوں کو

19 اہل جنت کے سایوں اور ان کے پھلوں کی کیفیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جھکے ہوئے ہوں گے ان پر جنت کے سائے اور پوری طرح ان کے اختیار میں کردیا گیا ہوگا وہاں کے پھلوں کو۔ تاکہ یہ ان کو لیٹے بیٹھے جس طرح چاہیں لے سکیں، بلکہ مجاہد سے مروی ہے کہ جب جنتی کھڑا ہوگا تو وہ اسی حساب سے دور ہوجائیں گے، اور جب بیٹھے گا یا لیٹے گا تو وہ اسی انداز سے اس کے قریب ہوجائیں گے، پس نہ کسی دوری کا کوئی سوال ہوگا اور نہ کسی کانٹے وغیرہ کا کوئی خطرہ (ابن کثیر و مراغی وغیرہ) اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ سبحان اللہ، کیا کہنے جنت کی نعمتوں اور حضرت واہب مطلق کی عنایتوں کے جل جلالہ و عم نوالہ کے۔ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ بہرکیف وہاں کی کیفیت یہ ہوگی کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کیلئے ان کو کسی قسم کی کدوکاوش کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس سے سرفراز فرمائے، آمین۔
Ayah 76:15

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

ان کے آگے گردش میں لائے جا رہے ہوں گے عظیم الشان برتن چاندی کے اور ایسے عظیم الشان پیالے جو کہ شیشے کے ہوں گے

20 ان کی ہمہ وقتی خدمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے گردش میں لائے جا رہے ہوں گے وہاں کے عظیم الشان برتن۔ یعنی خدام ان برتنوں کے اندر کھانے پینے کی مختلف اشیاء لئے ان کے آگے پیچھے پھر رہے ہوں گے، جس طرح کہ دنیا میں ہوتا ہے اور آج کل یہ Service کے نام سے مشہور و معروف ہے ‘ لیکن وہاں کی ہر چیز اور ہر نعمت دنیاوی اشیاء اور نعمتوں سے کہیں بڑھ کر عمدہ اور اعلیٰ و افضل ہوگی۔ اور اس قدر کہ ان میں اشتراک اسمی کے سوا کوئی چیز مشترک نہ ہوگی، کما قال ابن عباس ؓ کل ما فی الآخرۃ لیس منہ فی الدنیا الا الاسامی اللھم انی اسئلک الجنۃ ونعیمھا وما یقرب الیھا اعوذبک من النار وجحیمھا وما یقرب الیھا برحمتک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے ان کی ہمہ وقتی خدمت کی کیف کو اجاگر فرمایا گیا، جو ایسی عظیم الشان اور بےمثال خدمت ہوگی جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں ہوسکتی، اللہ نصیب فرمائے، آمین۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی وہ جو چاندی کے ہوں گے اور ان کو ساقیوں نے پورے پورے اندازے سے بھرا ہوگا

21 اہل جنت کے برتن منفرد و بےمثال : سو اس سے اہل جنت کے برتنوں کی ایک منفرد اور بےمثال خوبی کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ اہل جنت کو ملنے والی ایک خاص نعمت ہوگی، جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، کہ ان کے وہ برتن اپنی سفیدی اور رنگت میں تو چاندی کی طرح ہوں گے، مگر صفائی اور شفافیت میں شیشے کی طرح، جس سے ان کے اندر کی چیز باہر سے نظر آتی ہوگی، چناچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنت کی ہر نعمت کی نظیر کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا کے انڈر موجود ہے، سوائے چاندی کے ان برتنوں کے جو شیشے کی طرح ہوں گے، کہ دنیا میں ان کی کوئی نظیر و مثال موجود نہیں (خازن، ابن کثیر، مراغی، معارف وغیرہ) بہرکیف وہاں کے بےمثال خدام ان بےمثال برتنوں کو ضرورت و حاجت کے مطابق نہایت سلیقے اور احترام کے ساتھ اہل جنت کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے سامنے چاندی کے برتنوں اور شیشے کے پیالوں کو گردش میں لایا جا رہا ہوگا۔ اور شیشہ بھی ایسا ہوگا جو چاندی ہی کے جوہر سے بنا ہوگا۔ جعلنا اللہ من اہلہا بمحض منہ وکرمہ وہم ارحم الراحمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے، آمین۔ 22 خدام جنت کے بےمثال حسن سلیقہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان برتنوں کو ساقیوں نے پورے اندازے کے ساتھ بھرا ہوگا۔ نہ ضرورت سے کم نہ اس سے زیادہ۔ تاکہ نہ برتنوں میں کچھ بچنے پائے اور نہ ہی مزید کچھ مانگنے کی ضرورت پیش آئے سبحان اللہ کیسی عظیم شان ہوگی جنت اور اس کے باسیوں کی، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یارب العالمین، بہرکیف اس سے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ وہ ظروف و اوانی اور برتن و پیالے مختلف شکلوں اور پیمانوں اور الگ الگ اندازوں کے بنے ہوں گے، اور خدام نے ان کو نہایت قرینے اور حسن سلیقہ سے بھرا ہوگا، اور ان کو الگ الگ خانوں میں نہایت عمدگی سے سجا رکھا ہوگا، تاکہ وہ ان کو حالات، اوقات اور ضرورت کے مطابق مطلوب شئے کی مناسبت سے ان کو پیش کرسکیں، تقدیر کا لفظ ان سب ہی معافی کو شامل ہے۔ سو وہاں پر ہر طرف راحت ہی راحت کا سامان ہوگا، اللہ نصیب فرمائے، آمین۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور انکو وہاں پر پلائے جا رہے ہوں گے شراب کے ایسے جام (پرکیف) جن کی آمیزش سونٹھ کی ہوگی

23 اہل جنت کیلئے ایک اور عظیم الشان مشروب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر شراب کے ایسے جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش سونٹھ کی ہوگی۔ یعنی ایک ایسے چشمے کی جن کو وہاں پر سلسبیل کہا جائے گا۔ یعنی دنیا کی طرح وہاں سونٹھ کو پیس کر پانی میں ملانے کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ وہاں پر ایک ایسا عظیم الشان قدرتی چشمہ ہوگا جس میں سونٹھ کی خوشبو اور اس کی تاثیر تو موجود ہوگی مگر اس کی ترشی اس میں نہ ہوگی، جیسا کہ جنت کی نعمتوں کی خآصیت ہے کہ ان میں خوبی تو ہر ایک موجود ہوگی، مگر کسی طرح کا کوئی عجیب نہیں ہوگا اللھم شرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین بہرکیف اوپر ان کیلئے چشمہ کافور کا ذکر ہوا تھا اور اب یہ ان کیلئے ایک اور چشمے کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ‘ جس کو سلسبیل کہا جائے گا۔ سو یہ بھی جنت کے چشموں میں سے ایک عظیم الشان چشمہ ہوگا۔ جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر شر سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یعنی ایک ایسے عظیم الشان چشمے سے (ان کی یہ تواضع کی جائے گی) جس کا نام وہاں پر سلسبیل ہوگا

24 ۔ اہل جنت کے لیے چشمہ سلسبیل کی بشارت کا ذکر وبیان : ۔ سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت کو ایک اور خاص چشمے سے نوازا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔ اس کے لذیذ اور خوشگوار ہونے کی وجہ سے، کیونکہ عرب ایسے پانی کو جو کہ لذیذ اور خوشگوار ہو سلسل سلسال اور سلسبیل کہتے ہیں، (مراغی، مدارک، صفوہ وغیرہ) بہر کیف یہ ایک اور عظیم الشان چشمہ و گا جس سے حق تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کو نوازا جائے گا جس کا نام سلسبیل ہوگا، جس کے معنی زجاج کے نزدیک رواں دواں کے ہیں، جو اس کی روانی کے اعتبار سے رکھا گیا ہے، جو کہ اس کے گوناگوں اوصاف میں سے صرف ایک وصف ہے، باقی اس کی اصل اور پوری حقیقت تو وہیں معلوم ہو سکے گی، اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ بہرکیف چشمہ زنجیل جس کو سلسبیل کہا جائے گا جنت کے عظیم الشان اور بےمثال چشموں میں سے ایک ہوگا اور ناموں کے بارے میں حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ ان میں ان کی لغوی مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا اور نام ادنی مناسبت کے اعتبار سے بھی رکھے جاتے ہیں اور خاص کر جنت اور دوزخ کی حقائق کا تو مسئلہ ہی الگ ہے۔ ان کے بارے میں جتنے بھی نام قرآن حکیم میں ذکر فرمائے گئے ہیں انکے مسمیات کے اصل حقائق کا اس دنیا میں جاننا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ ہمارے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناموں سے آگاہ فرما دیا ان کی حقیقت انشاء اللہ وہیں جا کر معلوم ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے جب تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ موتی ہیں جن کو بکھیر دیا گیا ہے

25 ۔ خدام اہل جنت کی ایک منفرد خصوصیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ اہل جنت کے خادموں کی ایک منفرد خاصیت ہوگی کہ وہ ہمیشہ ایک ہی حال میں رہیں گے نہ وہ بوڑھے ہوں گے نہ کمزور اور نہ ان میں کوئی تبدیلی آئے گی (خازن، مدارک، جامع، مراغی اور صفوہ وغیرہ) اور لفظ مخلدوں کا عموم ان سب ہی خصال وصفات کو شامل و محیط ہے، پس ان کی عمدہ صفات ہمیشہ کے لئے اور دائمی ہو نگی، سو جنت کی دوسری تمام نعمتوں کی طرح وہاں کے یہ خادم بھی بےمثال ہوں گے اللہ نصیب فرمائے۔ آمین بہرکیف اس سے اہل جنت کے خادموں اور ان کے آگے جا مہائے شراب پیش کرنے والے لڑکوں کے اس خاص وصف کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ یہ ہمیشہ لڑکے اور ایک ہی سن و سال کے ہوں گے جس کی وجہ سے یہ خدمت میں نہایت چاق و چوبند اور چست و سرگرم رہیں گے اور ان کی یہ مستعدی ہمیشہ برقرار رہے گی اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر لگے رہنے کے نتیجے میں یہ ان کے مزاج، ان کی عادات اور ان کے اذواق، سے اچھی طرح آگاہ اور واقف بھی ہوں گے، اور دمت کے لئے یہی دو باتیں اہم اور بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ یعنی مستعدی و پھرتی اور مزاج شناسی۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے انشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور یہ دونوں صفتیں ان کے اندر موجود ہوگی، والحمد للہ جل وعلی 26 ۔ خدام اہل جنت کے بےمثال حسن و جمال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسے ہوں گے جیس موتی جن کو بکھیر دیا گیا ہو۔ فرش پر کہ صاف ستھرے فرش پر پھیلے بکھرے موتیوں کا حسن و جمال اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ سو اس سے اہل جنت کے ان خدام کے بےمثال حسن و جمال، ان کی خوبی و کمال اور ان کی طہارت و نظامت کی تصویر پیش فرما دی گئی، یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ خدمت کے سلسلہ میں بنیادی طور پر دو باتوں کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، ایک چستی و پھرتی اور دوسری چیز ہے تجربہ و مزاج شناسی، نئے اور نوجوان خادم میں و چشتی اور مستعدی تو ہوسکتی ہے لیکن اس میں تجربہ اور مزاج شناسی کا فقدان ہوتا ہے اور اس کے برعکس بوڑھے خادم میں تجربہ تو ہوتا ہے لیکن اس میں قوت اور مستعدی ختم ہوجاتی ہے، سو اہل جنت کے ان خادموں میں یہ دونوں باتیں بدرجہ تمام و کمال موجود ہونگی اور ان دونوں پر مستزاد تیسری صفت یہ کہ ہو خوبصورتی میں بھی امتیازی شان کے مالک ہوں گے کہ گویا کے بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے تو دیکھو گے کہ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہیں اور ایک (بےمثل اور) عظیم الشان سلطنت

27 ۔ نعیم جنت کی عظمت و وسعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر تم جب دیکھو گے تو تم کو وہاں پر نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم الشان بادشاہی کی جلوہ گری نظر آئے گی اور ایسی عظیم الشان سلطنت و بادشاہی کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر و مثال تو کیا ہوتی اس کا تصور ادراک بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی عقل و فکر جتنا بھی زور لگائے گی وہ اس دنیا ہی کی کسی حکومت و بادشاہی کا تصور کرسکے گی اور بس جب کہ ہواں کی اس سلطنت و بادشاہی کا عالم یہ ہوگا جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے وارد و منقول ہے کہ دوزخ سے نکلنے والا آخری شخص جب جنت میں داخل ہوگا تو اس سے کہا جائے گا جاؤ تمہارے لئے پوری دنیا اور اس کے دس گنا کے برابر اور بھی نعمت اور بادشاہی ہے، نیز فرمایا کہ جنت میں ادنیٰ یعنی سب سے کم درجے کے شخص کی سلطنت و بادشاہی کا یہ عالم ہوگا کہ وہ ایک ہزار برس کی مسافت تک پھیلی ہوگی، مگر اس کے باوجود وہ اس کے آخری کنارے کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہوگا جس طرح کہ اس کے نزدیک کے حصے دیکھے گا، (روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، خازن، صفوہ اور مدارک وغیرہ) سبحان اللہ کیا کہنے اس واہب مطلق کی شان کرم اور اس کی بخشش وعطاء کے، اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے آمین۔
Ayahs 76:21–22

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدن) پر سبز رنگ کے (عظیم الشان) کپڑے ہوں گے باریک اور موٹے ریشم کے اور (مزید عظمت شان سے نواز نے کے لئے) ان کو کنگن پہنائے گئے ہوں گے چاندی کے اور ان کو پلائے گا ان کا رب ایک نہایت ہی عظیم الشان پاکیزہ مشروب

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

(اور انکے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ) بلاشبہ یہ صلہ ہے تمہارا (زندگی بھر کے کئے کرائے کا) اور ٹھکانے لگی تمہاری (عمر بھر کی) محنت1

28 ۔ اہل جنت کے لباس و پوشاک کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے اوپر کپڑے ہوں گے سبز رنغ کے باریک اور موٹے ریشم کے۔ اور مزید برآں یہ کہ ان کو کنگن پہنا دیئے جائیں گے چاندی کے، دوسرے مقام پر سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے " یحلون فیھا من اساور من ذھب الآیۃ (الکہف 31) سو کبھی یہ پہنیں گے اور کبھی وہ یا دونوں ہی پہنیں گے، یا کچھ کو اس اعزاز سے نوازا جائے گا اور کچھ کو اس سے، کلمات کریمہ کا عموم ان سب ہی مفاہیم و مطالب کو شامل ہے " والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ " اس لئے اس کے ذکر سے یہ بتایا کہ ان کو وہاں پر شاہانہ لباس سے نوازا جائیگا ‘ کیونکہ انسان وہی کچھ سمجھ اور جان سکتا ہے جو اس نے اس دنیا میں دیکھا یا سنا ہوگا ‘ ورنہ اس کی اصل حقیقت وہیں کھل سکے گی، اللہ نصیب فرمائے آمین۔ 29 اہل جنت کیلئے شراب سے طہور سرفرازی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کا رب ان کو شراب طہور پلائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ جو ہر طرح کے شوائب و اقذار اور ان سے پاک و صاف ہوگا اور جو ان کے بواطن و نفوس کو ہر طرح کے غل و غش اور حقد و حسد وغیرہ رذایل سے پاک و صاف کردے گا، حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جنت کے دروازے پر دو خاص چشمے ہوں گے، جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے، تو ان کو قدرت کی طرف سے الہام ہوگا جس کی بناء پر وہ ان دو میں سے ایک چشمے سے پانی پئیں گے، جس سے ان کے بواطن و نفوس ہو طرح کے غل و غش، اور حقد و حسد کے تمام رذائل سے پاک ہوجائیں گے، اور دوسرے سے وہ غسل کریں گے، جس سے جنت کی نعمتوں کی تروتازگی ان کے چہروں پر نمایاں ہوجائے گی، سو اللہ پاک نے ان کے اسی حال ظاہر اور جمال باطن کا یہاں ذکر فرمایا ہے، (ابن کثیر، خازن، قرطبی، مراغی اور مدارک وغیرہ) بہرکیف اسلوب کام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ابرار درجہ بدرجہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائیں گے کہ ان کا رب کریم ان کو خود ایسے شراب طہور کے جام پلائے گا، جس کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ سو ان خوش نصیبوں کا یہ ایک اور خاص اور منفرد اعزاز ہوگا جس سے ان کو وہاں پر نوازا جائے گا کہ ان کا رب ان کو خود وہاں پر شراب طہور پلائے گا۔ اللھم اجعلنا منہم بمحض منک وکرمک یا ذوالجلال والاکرام۔ یامن لاحد لجودہ وکرمہ و ہو ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن (اے پیغمبر اپنی خاص عنایت سے) تھوڑا تھوڑا کر کے

30 قرآن حکیم کو نہایت اہتمام کے ساتھ نازل کرنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس قرآن کو ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر تھوڑا تھوڑا کرکے (اے پیغمبر ﷺ ! ) ۔ قسط وار تئیس سال کے طویل عرصے میں، تاکہ آپ کیلئے اس کا سمجھنا، سمجھانا، سیکھنا، سکھانا، اور آگے پہنچانا آسان ہو اور تاکہ یہ طریقہ آپ ﷺ کیلئے تسکین قلب اور تقویت و تبثیت باطن کا ذریعہ بنے، سو یہ طریقہ ہماری حکمت کا عین مقتضیٰ ہے، اس پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کی اپنی کوڑ مغزی اور کوتاہ فہمی کا نتیجہ ہے، والعیاذ باللہ ‘ چناچہ دوسرے قمام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا " وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ کذالک لنثبت بہ فؤادک و رتلناہ ترتیلا " (الفرقان۔ 32) پس نہ تو آپ ﷺ نے۔ اے پیغمبر۔ اس قرآن کو از خود اپنے جی سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور نہ ہی آپ ﷺ نے اس بارہ کوئی درخواست کرکے یہ قرآن ہم سے نازل کروایا ہے، بلکہ یہ سب کچھ ہم نے ازخود اپنی رحمت بےپایاں سے اور اپنے بندوں کے بھلے کیلئے کیا ہے۔ پس اس کی پیش کردہ صداقتوں اور اس کے بیان کردہ حقائق کو ثابت کرنا اور ان کو لوگوں کے سامنے پیش کردینا نہ تو آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بس میں بلکہ یہ سب کچھ ہمارے ہی ذمے اور ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ کیونکہ یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے یہ قرآن آپ ﷺ پر اتارا اور اس اہتمام کے ساتھ اتارا۔ ان علینا جمعہ و قرآن ہ، ثم ان علینا بیانہ " (القیامۃ :17 ۔ 18) ۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم کے مطابق اور (کسی بھی قیمت پر) بات نہیں ماننا ان میں سے کسی بھی بدکار یا منکر حق کی2

31 صبر و استقامت کو اپنائے رکھنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر ﷺ کو خظاب کرکے ارشاد فرمایا گیا۔ پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیں اپنے رب کے حکم کیلئے۔ اور ان ناہنجاروں کا معاملہ اسی وحدہ لاشریک کے سپرد کردیں۔ وہ ان سے ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق خود نبٹ لے گا ‘ اس کا اس بارہ جب اور جو بھی حکم و فیصلہ ہوگا وہی بہتر ہوگا، سو آپ ﷺ اسی کے تابع اور اسی کے منتظر رہیں، اور اسی کیلئے صبر و برداشت سے کام لیں، سلوات اللہ وسلامہ علیہ، یہاں پر فاصبر کے بعد چونکہ ل کا صلہ آگیا ہے اس لئے یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں پر یہ انتظار کے معنی کو متضمن ہے، مطلب یہ کہ جب آپ ﷺ نے یہ کتاب مانگ کر اپنے اوپر نازل نہیں کروائی تو آپ ﷺ کو ان لوگوں کے اعتراضات اور مطالبات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ ﷺ کے ذمے تو صرف بلاغ کی ذمہ داری ہے اور بس۔ پس وہ ادا کرتے رہو ‘ اور ان نابکاروں کا معاملہ ہم پر چھوڑ دو ، اور اس بارہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو، وہ ٹھیک وقت پر انکا پورا حساب چکا دے گا سبحانہ و تعالیٰ ۔ ان کا معاملہ ہم پر ہی چھوڑ دو ۔ ہم ان سے خود ہی نمٹ لیں گے۔ جیسا دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " فذرنی ومن یکذ بھذا الحدیث، سنستدرجہم من حیث لایعلمون، واملی لہم ان کیدی متین " (القلم :42 ۔ 45) ۔ سو راہ حق پر صبر و استقامت ایک اہم مطلوب اور بنیادی مطالبہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ 32 حق کے مقابلے میں کسی کی بھی بات نہ ماننے کی ہدایت : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کسی بھی بدکار یا منکر حق کی بات کبھی نہیں ماننی۔ پس یہ لوگ اگر آپ ﷺ کو تبلیغ دین سے ‘ یا دین کے کسی حکم سے روکنا چاہیں تو ان کی بات کبھی نہیں ماننا بلکہ جو دین آپ 4 پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو جوں کا توں اور بدوں کسی کم وکاست کے آگے پہنچا دیں ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " بلغ مآ انزل الیک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس " (المائدہ :67) ۔ اور بھروسہ بہرحال اللہ ہی پر رکھیں، وہ آپ کو کافی ہے وتوکل علی اللہ روایات میں ہے کہ یہ آیت کریمہ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو دعوت حق سے روکنے اور تبلیغ حق سے باز رکھنے کیلئے بڑے بڑے لالچ دیئے اور بڑی بڑی پیشکشیں کیں عتبہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ اس کام کو چھوڑ دیں تو میں آپ ﷺ کی اپنی بیٹی سے شادی کردوں گا، اور اس کو بغیر مہر کے آپ کے ساتھ روانبہ کردوں گا، اور ولید نے کہا کہ میں آپ ﷺ کو اتنا مال دوں گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ اور مدارک وغیرہ) ۔ مگر حکم بہرحال عام ہے اور ایسے ہر کافر و مشکر کو شامل ہے جو راہ حق سے روکے۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل باطل کے یہاں ضمیر کی خریدو فروخت کیلئے عورت اور دولت ہی کے دو ہتھیار ایسے رہے ہیں جن سے انہوں نے ہمیشہ راہ حق کو روکنے کی کوشش کی، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان میں سے کسی بھی آثم یا کفور کی بات نہیں ماننی۔ اور نہ ان میں سے کسی کی کسی بات کی پروا کرنی ہے۔ کہ اصل چیز بہرحال حق اور صرف حق ہے۔ اسی کی پیروی کرنی ہے اور اسی کی دعوت دینی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ‘ آمین۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور یاد کرتے رہا کرو تم نام اپنے رب کا صبح و شام (یعنی ہر وقت)

33 حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر و استقامت کے حصول کا ذریعہ ذکر خداوندی ہے۔ سو ارشاد خداوندی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے رب کے نام کو یاد کرتے رہا کرو صبح و شام۔ یعنی ہر وقت اور ہر حال میں، کہ اس کا ذکر مطہر اور اس کی یاد دلشاد تقویت قلب اور تسلیہ خاطر کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہے، اور ذکر خداوندی کی سب سے بڑی جامع اور مؤثر شکل اقامت صلوِٰۃ ہے، اس لئے نماز کو خاص طور پر اور ہر حال میں قائم رکھئے گا چناچہ بکرۃ (صبح) کے لفظ سے نماز فجر کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ اور اصیلا (شام) سے ظہر عصر کی طرف ‘ کیونکہ اصیل کا اطلاق سورج ڈھلنے سے لے کر غروب آفتاب تک کے وقت پر ہوتا ہے۔ اور ومن اللیل سے مغرب اور عشاء کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ اور رات کے ایک بڑے حصے میں اس کی تسبیح کرتے رہیے (وسبحہ لیلا طویلا) سے تہجد کی طرف ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک الایتہ " نیز جیسا کہ سورة مزمل کے شروع میں اس بارہ حکم و ارشاد فرمایا گیا، بہرکیف صبر و صلوٰۃ (صبر اور نماز) ہی دو بڑے ذریعے ہیں جن کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے " واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ الایۃ (البقرہ :45) ۔ (ابن کثیر ‘ مراغی ‘ صفوہ ‘ مدارک اور خازن وغیرہ) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید۔