76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک ! انسان پر ایک ایسا وقت آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

1۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انسان مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة ہل اتی علی الانسان مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن الضریس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الانسان مدینہ میں نازل ہوئی۔ لا الہ الا اللہ کے اقرار پر جنت کا وعدہ 4۔ طبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حبشہ سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو اس کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوال کر اور پوچھ تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! تم ہم پر فضیلت دئیے گئے۔ رنگ میں شکل و صورت اور نبوت میں۔ آپ بتائیے اگر میں اس پر ایمان لے آؤں۔ اور میں اس طرح عمل کروں جیسے آپ کرتے ہیں کیا میں آپ کے ساتھ جنت میں ہوجاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ جنت میں سیاہ آدمی کی سفیدی ایک ہزار سال کے فاصلے سے دیکھی جائے گی پھر فرمایا جس نے کہا لا الہ الا اللہ۔ تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور جس نے کہا ” سبحان اللہ وبحمدہ “ تو اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور پھر آپ پر یہ سورة نازل ہوئی آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر سے آیت وملکا کبیرا تک۔ تو حبشی نے کہا اور میری آنکھ البتہ وہی دیکھے گی جو آپ کی جنت میں دیکھے گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ پس وہ بیمار ہوا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھوں مبارک سے اسے قبر میں اتارتے ہوئے دیکھا۔ 5۔ احمد نے الزہد میں محمد بن مزرط (رح) سے روایت کیا کہ مجھے ایک ثقہ آدمی نے بیان کیا کہ ایک سیاہ رنگ والے آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے تسبیح اور تہلیل کے بارے میں سوال کیا۔ تو عمر بن خطاب ؓ نے اس سے فرمایا ٹھہر جا تو نے رسول اللہ ﷺ پر سوالات کی کثرت کردی۔ تو اس نے جواب دیا اے عمر ! رک جا۔ تو یہ سورت۔ آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر لم یکن شیئا مذکورا۔ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہویء۔ یہاں تک کہ جب آپ جنت کے ذکر پر پہنچے۔ تو اس سیاہ رنگ والے آدمی نے لمبی آہ بھری اور اس کی جان نکل گئی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ آدمی جنت کی طرف شوق کرتے ہوئے مرگیا۔ جنت کے شوق میں جان نکلنا 6۔ ابن وہب نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سورت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر پڑھی۔ اور ہی سورة آپ پر جب نازل کی گئی تو ایک سیاہ رنگ والا آدمی آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب آپ جنت کی صفات والی آیات پر پہنچے تو اس آدمی نے ایک لمبی آہ بھری اور اس کی جان نکل گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے ساتھی کی جان جنت کی طرف شوق سے نکل گئی۔ 7۔ الحاکم وصححہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سورت آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر پڑھی۔ یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا پھر فرمایا بیشک میں وہ دیکھتا جو تم نہیں دیکھتے۔ اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چڑچڑایا۔ اور اس کے لیے حق ہے کہ وہ چڑچڑائے۔ چار انگلیوں کے برابر اس میں کوئی جگہ خالی نہیں۔ مگر کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے لیے سجدہ نہ کر رہا ہو۔ اللہ کی قسم ! اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑے ہنستے اور زیادہ روتے اور تم عورتوں کے ساتھ بستروں پر لطف اندوز نہ ہوئے۔ اور البتہ تم پہاڑوں کی جانب پناہ لینے کے لیے نکل جاتے۔ 8۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی انسان پر ضرور ایک ایسا وقت بھی آیا ہے۔ آیت لم یکن شیئا مذکورا جبکہ یہ کوئی قابل شے نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ انسان یہاں نیا پیدا کیا گیا اور انسان کے سوا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق کے بارے میں نہیں جانتا جس کی تخلیق اس کے بعد ہو۔ 9۔ ابن المبارک وابو عبید فی فضائلہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو آیت اہل اتی علی الانسان حین من الدہر لم یکن شیئا مذکورا پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کاش یہ مکمل ہوتی۔ 10۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو یہ آت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر لم یکن شیئا مذکور اتلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا اے کاش یہ مکمل ہوتی اور پھر آپ کو اس قول کے بارے میں عتاب کیا گیا۔ تو آپ نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور فرمایا کاش کہ میں اس طرح ہوتا۔ 11۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک مخلوق میں آدم (علیہ السلام) کو سب سے آخر میں پیدا کیا گیا۔ 12۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ل اتی علی الانسان کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے ہر انسان مراد ہے۔ 13۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ زمانے میں ایک ایسا وقت تھا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ہل اتی علی النسان حین من الدہر لم یکن شیئا مذکورا۔ اللہ کی قسم وہ نہیں جانتا اس پر کتنا وقت گزرا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا فرمادیا۔ 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت آیت ہل اتی علی الانسان حین من الدہر لم یکن شیئا مذکورا کی تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا تیری عزت کی قسم ! اے میرے رب تو نے اس کو سننے والا۔ دیکھنے والا بنایا اور اسے زندگی اور موت عطا فرمائی۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا اس طر پر کہ ہم اس کو مکلف بنائی سو ہم نے اس کو سننے والا بنادیا

نطفہ قرار پانے کی مدت 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم کوئی حدیث تمہارے پاس لاتے ہیں تو ہم اس کی تصدیق کتاب اللہ میں سے لاتے ہیں کہ نطفہ رحم میں چالیس روز تک قرار پذیر رہتا ہے پھر وہ چالیس روز تک لقہ جما ہوا خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر وہ چالیس روز تک مضغہ گوشت کا لوتھڑا کی صورت میں رہتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ایک فرشتے کو نازل کر کے فرماتے ہیں اس کے لیے لکھ دو وہ عرض کرتا ہے کیا لکھوں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کے لیے لکھ دو شقی ہونا یا سعید ہونا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا اور اس کا رزق کیا ہوگا اس کی عمر کتنی ہوگی اور اس کی موت کب آئے گی۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو حکم فرماتے ہیں جو چاہتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ سب کچھ لکھ دیتا ہے۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ بیشک ہم نے انسان کو ایک مرکب بوند سے پیدا کیا ہم اس کی آزمائش کرنا چاہتے تھے پڑھی۔ پھر عبداللہ ؓ نے فرمایا امشاج سے اس کی آیتیں مراد ہیں۔ 16۔ سعید بن منصوروابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت امشاج سے مراد ہے آنتیں۔ 17۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت من نطفۃ امشاج کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے مرد اور عورت کے پانی کا نکلنا اور ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہونا۔ 18۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت من نطفۃ امشاج کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے مرد اور عورت کے پانی کا نکلنا اور ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہونا۔ 19۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن رزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت من نطفۃ امشاج کے بارے میں بتائیے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے مرد اور عورت کے پانی کا آپس میں ملنا جب وہ رحم میں واقع ہوں۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابو ذویب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ وہ کہتا ہے کان الریش والفوقین منہ خلال النصل خالطہ مشیح ترجمہ : گویا کہ تیر اور اس کے دونوں کنارے اور نیزے کا سوراخ سب اس کے خون میں لت پت ہیں۔ 20۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مرد کا پانی عورت کے پانی کے ساتھ ملا تو یہ خلقت کا باعث بن گیا۔ 21۔ عبد بن حمید نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ جب مرد کا پانی اور عورت کا پانی آپس میں اکٹھا ہوتا ہے تو یہ امشاج یعنی ملنا ہے۔ 22۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب پانی اور خون مل جائیں تو یہ امشاج ہے پھر علقمہ اور پھر مضغہ بن جاتا ہے۔ 23۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس نطفہ سے پیدا کیا گیا جو خون سے مل گیا۔ اور وہ خون حیض کا خون ہے جب عورت حاملہ ہوجائے تو حیض ختم ہوجاتا ہے۔ 24۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من نطفۃ امشاج سے مراد ہے مختلف رنگوں والا۔ نطفہ۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) آیت من نطفۃ امشاج کے کے بارے میں روایت کیا کہ مرد کا نطفہ سفید اور سرخ ہوتا ہے اور عورت کا نطفہ سبز اور سرخ ہوتا ہے۔ 26۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ امشاج وہ ہے جو پیشاب کے فورا بعد نکلتا ہے جیسے کمان کی تانت کا کاٹنا وغیرہ اور اسی سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ 27۔ ابن المنذر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ امشاج سے وہ رگیں مراد ہیں جو نطفہ میں ہوتی ہیں۔ 28۔ فریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من نطفۃ امشاج سے مراد ہے مخلوق کے رنگ۔ 29۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک ہم نے انسان کو مختلف مراحل میں پیدا فرمایا کبھی نطفلہ تھا کبھی جما ہوا خون تھا کبھی گوشت کا لوتھڑا تھا اور کبھی ہڈی تھا آیت فکسونا العظم لحما۔ پھر ہم ہڈیوں کو گوشت پہنچاتے ہیں اور وہ زیادہ قوت والا ہوجاتا ہے ہڈیوں کو گوشت احسن الخلقین سو اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اسے ان چیزوں سے باخبر کیا جو اس نے اس کے لیے پیدا فرمائیں اور جو کچھ اس کے مابین تھا اس سے بھی باخبر کیا تاکہ اس کے ذرعہ اس کو آزمائے تاکہ وہ جان لے کس طرح اس کا شکر کرتا ہے اور اس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ سب کچھ بیان فرمادیا جو چیزیں اس کے لیے حلال کی گئیں اور جو اس پر حرام کی گئیں۔ پھر فرمایا انا ہدینٰہ السبیل اما شاکرا بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا یا یا تو وہ شکر گزار ہے اللہ کی نعمتوں کا آیت واما کفورا یا وہ ناشکرا ہے ان نعمتوں کا۔ 30۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ امشاج میں ہڈیاں اور پٹھے اور آنتیں مرد کی طرف سے ہوتی ہیں اور گوشت اور خون اور بال عورت کی طرف سے ہوتے ہیں۔ 31۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ امشاج میں سے ناخن، ہڈی اور پٹھے مرد سے اور گوشت اور بال عورت کے پانی سے بنتے ہیں۔
Ayahs 76:3–4

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو راستہ دکھایا تو وہ شکر گزار ہوگیا یا ناشکرا ہوگیا

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

32۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل میں السبیل سے مراد ہے ہدایت۔ 33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینہ السبیل سے مراد ہے بدبختی اور سعادت مندی 34۔ ابن المنذر نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ انا ہدینٰہ السبیل سے مراد ہے خیر اور شر۔ 35۔ احمد وابن المنذر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں زبان کھول لیتا ہے اور جب وہ اس کے بارے میں زبان کھولتا ہے تو چاہے وہ شکر گزار بنے یا چاہے تو ناشکری کرے۔ (روایت ضعیف ہے۔ مسند احمد 14805)
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الابرار یشربون من کأس کان مزاجہا کافورا۔ بیشک نیک لوگ ایسی شراب کے پیالے پئیں گے جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی یعنی کافور کی آمیزش ہوگی۔ آیت عینا یشرب بہا عباد اللہ یفجرونہا تفجیرا وہ ایک چشمہ ہوگا جس میں اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور اس کو آسانی سے بہا کرلے جائیں گے۔ پھر فرمایا اس کو بہا کرلے جائیں گے جہاں وہ چاہیں گے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجہا کافورا۔ کے بارے میں روایت کیا یعنی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے کافور کو ملادیا جائے گا۔ اور ان کے لیے مشک کی مہر لگادی جائے گی۔ آیت عینا یشرب بہا عباد اللہ یفجرونہا تفجیرا۔ یعنی ان کا پانی انتہائی مفید اور نفع بخش ہوگا جس کو آسانی سے بہا کرلے جائیں گے جہاں وہ چاہیں گے۔ 38۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کان مزاجہا یعنی اس کا ذائقہ آیت یفجرونہا تفجیرا سے مراد ہے کہ وہ نہر میں ہیں جن کو وہ بہا کرلے جائیں گے جہاں وہ چاہیں گے۔ 39۔ عبد بن حمید نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت ومن کاس کان مزاجہا۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یعنی ایسے چشمہ سے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے جس کو وہ بہا کرلے جائیں گے

40۔ عبداللہ بن احمد نے الزوائد الزہد میں ابن شوذب (رح) سے آیت یفجرنہا تفجیرا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے پاس سونے کی چھڑیاں ہوں گی کہ ان کے ذریعہ اسے بہائیں گے تو وہ ان چھڑیوں کے پیچھے پیچھے چلتا جائے گا۔ 41۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوفون بالنذر وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں۔ یعنی وہ پورا کرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت وعبا دت نماز، زکوۃ، حج اور عمرہ اور جو کچھ ان پر فرض کیا گیا ان کو پوری طرح ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ابرار رکھا ہے۔ اور فرمایا یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا۔ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی مصیبت ہر جگہ پھیلی ہوئی ہوگی۔ یعنی اس دن کا شر اللہ کے لیے یعنی اللہ کے حکم سے پھیل جائے گی یہاں تک کہ آسمانوں اور زمین کو بھر دے گا۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

وہ لوگ نذر کو پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی

42۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوفون بالنذر سے مراد ہے کہ جب وہ اللہ کے حق میں نذر مانتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ 43۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوفون “ سے مراد ہے کہ ہر وہی نذر جو شکر کے لیے ہو اسے وہ پورا کرتے ہیں۔ نذر پوری کرنا واجب ہے 44۔ عبدالرزاق فی المصنف اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنی جان کو ذبح کردوں نبی اکرم ﷺ کسی کام میں مشغول ہوگئی اور اس سے اعراض فرمایا کہ وہ آدمی چلا گیا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو نذر کو پورا کرتے ہیں آیت ویخافون یوم کان شرہ مستطیرا اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر ہر جگہ پھیلا ہوا ہوگا تو سو اونٹنیوں کی قربانی کردے۔ 45۔ ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ بدر سے قیدی لائے تو مہاجرین میں سات صحابہ کرام نے بدر کے مشرکین قیدیوں پر خرچ کیا۔ ان میں ابو بکر، عمر، علی زبیر، عبدالرحمن، سعد اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ تھے۔ انصار نے کہا ہم نے ان کو اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے قتل کیا۔ اور تم ان کو نفقہ اور خرچہ دے رہے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انیس آیات نازل فرمائیں۔ آیت ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجہا کافورا۔ سے لے کر آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا۔ تک۔ 46۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کان شرہ مستطیرا سے مراد ہے پھیلنے والا۔
Ayahs 76:8–9

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت کی وجہ سے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویطعمون الطعام علی حبہ اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلانے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اس کی خواہش رکھتے ہیں آیت واسیرا اس سے قیدی مراد ہیں آیت انما نطعمکم لوجہ اللہ۔ ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں وہ خاص اللہ کے لیے ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ بات ان پر صحابہ ؓ نے نہیں کہی جب انہوں نے ان مشرکین کو کھلایا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ان کے دلوں کی کیفیت اور اس پر ان کی تعریف فرمائی تاکہ اس میں رغبت کرنے والا مزید رغبت کرے۔ 2۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن مردویہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس وقت مشرکین قیدی تھے جس وقت یہ آیت نازل ہوئی آیت ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا۔ اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں مسکین کو یتیم کو اور قیدی کو۔ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں حکم فرمایا کہ ان سے اچھا سلوک کرو اور وہ اس دن مشرک تھے۔ اللہ کی قسم تیرا مسلمان بھائی کی عزت اور اس کا حق تجھ پر اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 4۔ ابو عبید فی غریب الحدیث اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ” واسیرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سوائے مشرکین کے اور کوئی قیدی نہیں تھا۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ اہل اسلام کو قید نہیں کرتے تھے لیکن مشرک قیدیوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تو ان کو فدیہ کے لیے قید کرتے تھے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ ان کی اصلاح کے حکم فرماتے تھے۔ 6۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے ” واسیرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد مشرک قیدی ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) ” واسیرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ عربوں نے ہند اور دوسرے علاقوں سے اور قیدی نہیں بنائے اور جب وہ روک لیے جائیں اور قید کرلیے جائیں تو تم پر لازم ہے کہ ان کو کھلاؤ اور خوب سیراب کرو یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا جائے یا فدیہ ادا کریں۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے ابو زرین (رح) سے روایت کیا کہ میں شقیق بن سلمہ (رح) کے ساتھ تھا ان کے پاس سے مشرکین میں سے قیدی گزرے تو انہوں نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ان پر صدقہ کروں پھر یہ آیت پڑھی آیت ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا۔ 9۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر اور عطا رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا سے وہ قیدی مراد ہیں جو اہل قبلہ میں سے اور اس کے علاوہ میں سے ہوں۔ 10۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول مسکینا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے فقیر ” ویتیما “ سے مراد ہے جس کا باپ نہ ہو ” واسیرا “ سے مراد ہے غلام اور قیدی۔ 11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ویطعمون الطعام علی حبہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت علی ابن ابی طالب ؓ اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 12۔ ابن سعد نے ام الاسود مریۃ الربیع بن خیثم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ربیع (رح) شکر کو کھانا پسند فرماتے تھے۔ اچانک ایک سائل آیا تو شکر اس کو دیدی۔ میں نے کہا وہ شکر کو کیا کرے گا۔ اس کے لیے روٹی بہتر ہے تو انہوں نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت ویطعمون الطعام علی حبہ۔ اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے رب کی طرف سے ایسے سخت دن کا اندیشہ رکھتے ہیں جو بہت ہی تلخ ہوگا

13۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوما عبوسا اداس دن یعنی تنگ دن۔ قمطریرا ہولناک یعنی لمبادن۔ 14۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عبوسا قمطریرا سے مراد ہے وہ شخص جو اپنی آنکھوں کے درمیان سلوٹیں بنالیتا ہے۔ 15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قمطریرا سے مراد ہے وہ آدمی جو اپنی آنکھوں کے درمیان اور اپنے چہرے پر سلوٹیں بنا یتا ہے۔ 16۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوما عبوسا قمطریرا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا درد کی شدت کی وجہ سے جس کا چہرہ منقبض ہوجاتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا، وہ کہتا ہے۔ ولا یوم الحسار وکان یوما عبوسا فی الشدائد قمطریرا ترجمہ : وہ دن حسرت کا دن نہ تھا وہ دن ترش اور سختیوں میں حد درجہ سخت تھا۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا زمہریرا۔ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اسی طرح جنت والوں کو سورج کی گرمی نہ پہنچے گی جو ان کو تکلیف دے اور نہ ٹھنڈک پہنچے گی۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا وہ کہتے ہیں۔ برھومۃ الخلق مثل التیق لم تر شمسا ولا زمہریرا ترجمہ : مخلوق کا تھوڑا سا وقت عتیق انتہائی عمدہ کی مثل ہے کہ نہ اسے گرمی کا احساس ہوتا ہے اور ہن ہی سردی کا 17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یوم عبوسا قمطریرا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ دن مراد ہے جس میں زندگی تنگ ہوجائے گی شدت کی وجہ سے۔ 18۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یوما “ سے مراد ہے قیامت کا دن ” عبوسا “ سے مراد ہے جس کے دونوں ہونٹ خشک ہوجائیں۔ ” قمطریرا “ سے مراد ہے کہ تنگی اور تکلیف کی وجہ سے چہرے سکڑ جائیں گے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے کے درمیان کی جگہ کا سکڑ جانا یعنی چہرے اور پیشانی پر بل ڈالنا۔
Ayahs 76:11–12

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو اللہ انہیں اس دن کی سختی سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انہوں نے جو صبر کیا اس کے بدلہ میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا

19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا اور ان کے سامنے تازگی اور خوشی لائے گا یعنی تازگی ہوگی ان کے چہروں میں اور خوشی ہوگی ان کے سینوں میں۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت ولقہم نضرۃ وسرورا یعنی ان کے چہروں میں تازگی عطا فرمادے گا۔ ” وسرورا “ اور ان کے سینوں اور دلوں میں خوشی ڈال دے گا۔ 21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقہم نضرۃ وسرورا سے مراد ہے کہ ان کے چہروں میں تازگی اور ان کے دلوں میں وشی عطا فرمادے گا۔ آیت وجزہم بما سبروا وجنۃ وحریرا۔ اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی پوشاکیں گے گا اور صبر، دو صبر ہیں ایک صبر اللہ کی اطاعت پر ہیں۔ اور دوسرا صبر اللہ کی نافرمانی سے بچنے پر۔ آیت متکئین فیہا علی الارائک۔ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ ایسے پلنگوں پر ہوں گے جو دلہن کے لیے آراستہ کمروں میں بچھائے جاتے ہیں آیت لایرون فیہا شمسا ولا زمہریرا۔ نہ وہاں دھوپ دیکھیں گے اور نہ سردی فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ جانتے ہیں کہ گرمی کی شدت تکلیف دیتی ہے اور سردی کی شدت بھی تکلیف دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے اجتماعی عذاب سے محفوظ رکھیں گے۔ پھر فرمایا اور ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہر سال میں وہ دو بار سانس لینے کی اجازت دی۔ سو گرمی کی شدت اس کی گرمی سے ہے۔ اور سردی کی شدت اس کی سردی سے ہے۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ اس میں مسہریوں پر تکیے لگائے ہوں گے نہ وہاں دھوپ محسوس کریں گے اور نہ ٹھنڈک

22۔ عبد الرزاق وابن مردویہ نے زہری (رح) سے آیت لا یرون فیہا شمسا ولا زمہریرا کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے ابو سلمہ ؓ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم نے اپنے رب کی طرف شکایت کی۔ اور کہا اے میر رب ! میرا بعض حصہ بعض کو کھائے جا رہا ہے۔ تو میں سانس لوں گی۔ تو اس کے لیے ہر سال دو مرتبہ سانس مقرر کردئیے۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں پس سردی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی ٹھنڈک کے سبب ہے اور گرمی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی گرمی میں سے ہے۔ جہنم کے دو سانس 23۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والترمذی وابن مردویہ نے طرق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی۔ اور کہا اے میرے رب ! میرا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے تو اسکے لیے دو سانس مقرر کردئیے گئے۔ ایک سانس سردی کے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں۔ سو سردی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی ٹھنڈک میں سے ہے اور اسی طرح گرمی کی شدت جو تم پاتے ہو وہ جہنم کی گرمی میں سے ہے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت زمہریرا سے مراد ہے قطع کردینے والی سردی۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمہریرا سے سخت سردی مراد ہے۔ 26۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ” زمہریرا “ عذاب میں سے ایک قسم ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لا یذوقون فیہا بردا ولاشرابا (النباء آیت 24) کہ دوزخی نہیں چکھیں گے ٹھنڈک کو اور نہ پینے کو۔ 27۔ بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابو سعید خدری یا ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب سخت گرم دن ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنی سمع وبصر کو آسمان والوں اور زمین کے رہنے والوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں جب بندہ کہتا ہے آیت لا الہ الا اللہ آج کے دن کتنی سخت گرمی ہے اے اللہ ! مجھے جہنم کی آگ سے پناہ دے۔ اللہ عزوجل جہنم سے فرماتے ہیں کہ میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تیری گرمی سے مجھ سے پناہ مانگی ہے اور میں تجھ کو گواہی بناتا ہوں کہ میں نے اس کو پناہ دے دی اور جب شدید سردی کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی سمع وبصر کو آسمان اور زمین والوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جب بندہ کہتا ہے لا الہ الا اللہ آج کے دن کتنی سخت سردی ہے۔ اے اللہ ! مجھے جہنم کی سردی سے پناہ دے۔ تو اللہ تعلیٰ جہنم سے فرمائیں گے۔ بلاشبہ میرے بندوں میں سے ایک بندے نے مجھ سے تیری سردی سے پناہ مانگی ہے۔ اور میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کو پناہ دیدی۔ صحابہ ؓ نے پوچھا جہنم کی ٹھنڈک کیا ہے ؟ کعب ؓ سے فرمایا یہ ایک ایسا گھر ہے جس میں کافروں کو ڈالا جائے گا تو اس کی سردی کی شدت سے اس کے جسم کا بعض حصہ اس کے بعض سے الگ ہوجائے گا۔ روایت میں راج عن ابی الہیثم دونوں راوی ضعیف ہے۔ 28۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنت معتدل ہے نہ اس میں سخت گرمی ہوگی اور نہ سخت سردی۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور ان پر اس کے سائے قریب ہوں گے اور اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے

29۔ فریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد بن السری وعبد بن حمید وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہر وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے البعث میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آتی ودانیۃ علیہم ظللہا اور اوپر اس کے سائے جھک رہے ہوں گے۔ یعنی قریب ہوں گے آیت وذللت قطوفہا تذلیلا۔ اور پھلوں کے گوشے بہت ہی قریب لٹک رہے ہوں گے کہ جنت واے، جنت کے پھلوں میں سے کھائیں گے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے اور جس حال پر وہ چاہیں گے کھاسکیں گے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ ان کے گچھے جھک جائیں گے۔ اور وہ لوگ ان میں سے جس کیفیت پر چاہیں گے کھائیں گے۔ 30۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وذللت قطوفہا تذلیلا اس سے مراد ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے پھلوں کو پالیں گے۔ اٹھنا نہیں پڑے گا۔ 31۔ عبد بن حمیدنے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وذللت قطوفہا تذلیلا یعنی پھلوں کے گچھوں کو قریب کردیا جائے گا اور وہ ان کو حاصل کرسکیں گے اس حال میں کہ وہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ 32۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وذللت قطوفہا تذلیلا سے مراد ہے کہ وہ ان کے قریب کردئیے جائیں گے کہ وہ اس کو لے سکیں گے اگر اہل جنت میں سے کوئی کھڑا ہوگا تو اس کی مقدار وہ گچھا بھی بلند ہوجائے گا۔ اور اگر کوئی بیٹھا ہوا ہوگا تو وہ نیچے لٹک جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کو پالے گا۔ اور اگر کوئی لیٹا ہوا ہوگا تو وہ مزید نیچے لٹک جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کو پالے گا۔ اور ان کے جھکے ہونے سے یہی مراد ہے۔ جنت کی زمین چاندی کی ہوگی 33۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت کے غلمان کہیں گے۔ ہم کہاں سے تیرے لیے پھل توڑلائیں ؟ ہم کہاں سے تجھ کو پلائیں۔ 34۔ ابن ابی شیبہ و سعید بن منصور وابن المنذر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔ اور اس کے درختوں کے سونے اور چاندی کے ہیں۔ اور اس کی شاخیں موتی اور زبرجد اور چاندی کی ہیں اور پھل ان کے درمیان ہے جو شخص اس کو کھڑے ہو کر کھائے گا۔ اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جو شخص اس کو یٹ کر کھائے گا۔ اس کو بھی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جو شخص بیٹھ کر کھائے گا۔ اس کو بھی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ آیت وذللت قطوفہا تذلیلا اور اس کے خوشے قریب لٹک رہے ہوں گے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے اگر وہ کھڑا ہوگا تو یہ پھل اس قدر اوپر اٹھ جائے گا اور اگر وہ بیٹھا ہوا ہوگا تو یہ پھل لٹک جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کو پالے گا اور اگر وہ لیٹا ہوا ہوگا تو نیچے لٹک جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کو پالے گا اور اس جھکے ہونے کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 76:15

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جائیں گے اور آبخورے جو شیشے چاند کے ہوں گے

35۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویطاف علیہم بانیۃ من فضۃ اور ان پر چاندی کے برتن کا دور چل رہا ہوگا یعنی چاندی کی سفیدی میں شیشے کی صفائی ہوگی۔ آتی قدروھا تقدیرا جو ایک خاص انداز سے ڈھالے گئے ہوں گے۔ جو قوم کی رائے ہوگی اسی قدر ان کو بھرا جائے گا۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

وہ شیشے کے ہو گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز میں بھرا ہوگا

36۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت قدروہا قاف کے رفع کے ساتھ۔ 37۔ حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو قاف کے نصب کے ساتھ پڑھا۔ 38۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی فی البعث العوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چاندی کے برتن ہوں گے اور اس کی صفائی۔ شیشوں کی صفائی کی طرح ہوگی۔ آیت قدروہا تقدیرا۔ جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز میں بھرا ہوگا یعنی ان کو بھرنے کے لیے اندازہ لگایا گیا۔ جنت کے شیشے چاندی کی طرح سفید ہوں گے 39۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والبیہقی فی البعث عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر دنیا کی چاندی میں کچھ چاندی لی جائے۔ اور اس کو اتنا کو ٹا جائے یہاں تک کہ وہ مکھی کے پر کی طح بن جائے تو پھر بھی اس کے اندر سے پانی دکھائی نہیں دیتا لیکن جنت کے شیشے چاندی کی طرح سفید ہوں گے جس میں شیشیے کی طرح صفائی ہوگی۔ 40۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں کوئی چیز نہیں مگر اس کے مشابہ دنیا میں تم کو دی گئی۔ سوائے چاندی کی قسم کے شیشوں کے۔ 41۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اگر دنیا والے اس کام پر جمع ہوجائیں گے کہ وہ چاندی کے ایسے برتن بنائیں کہ جو چیز اس میں ہو وہ باہر سے دکھائی دے جیسے شیشیے کے برتن میں دکھائی دیتی ہے تو اس پر قادر نہ ہوں گے۔ 42۔ فریابی نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت قدروہا تقدیرا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ان کو زوں کو ان کی خواہش کی مقدار کے مطابق بھر کرلے آئیں گے جو نہ سیرابی کی مقدار سے زیادہ ہوگی اور نہ کم ہوگی یعنی کوئی چیز خواہش سے زیادہ ہوگی اور نہ اس کے بعد کسی چیز کی خواہش ہوگی۔ 43۔ ابن ابی شیبہ وہناد وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ باٰنیۃ سے مراد ہے پیالے۔ اور واکواب سے مراد ہے کٹورے اور ان کا اندازہ اس طرح سے ہوگا کہ وہ اتنے لبریز ہوں گے کہ چھلک جائیں اور نہ ہی خاص انداز سے کم ہوں گے۔ 44۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قدروہا تقدیرا یعنی ان برتنوں کو اہل جنت کے سیراب کرنے کے لیے مشروبات سے اندازے کے ساتھ بھرنا ہے۔ 45۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت قواریرا من فضۃ۔ شیشے چاندی کے ہوں گے یعنی ان کی صفائی شیشے کی صفائی کی طرح ہوگی حالانکہ وہ چاندی سے بنے ہوں گے۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور اس میں انہیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

46۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کان مزاجہا زنجبیلا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی یعنی ان کے لیے سونٹھ ملائی جائے گی۔ 47۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت کان مزاجہا زنجبیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے لیے وہ چیز زیادہ پسندیدہ کرے گا جو وہ دنیا میں پیا کرتے تھے اس لیے ان کی طرف اسی طرح کی چیز لائی جائے گی۔
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یعنی ایسے چشمہ سے جس کا نام سلسبیل ہوگا

48۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار چشمے جنت میں ہی : دو چشمے عرش کے نیچے سے بہتے ہیں ان میں ایک کا اللہ تعالیٰ نے اس طرح ذکر فرمایا آیت یفجرونہا تفجیرا اس کو آسانی سے بہا کرلے جائیں گے اور دوسرا زنجبیل ہے اور دو کے بارے میں فرمایا آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہوں گے ان میں سے ایک کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سلسبیل کے نام سے فرمایا اور دوسرا تسنیم ہے۔ روایت مرسل ضعیف السند ہے۔ 49۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وہناد وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا۔ وہ وہاں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ یعنی جس کا بہاؤ بہت تیز ہے۔ 50۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت عینا فیہا تسمی سلسبیل سے مراد ہے شراب کا چشمہ۔ 51۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت تسمی سلسبیلا سے مراد ہے کہ سلسبیل بڑی روانی کے ساتھ بہتا ہے۔ 52۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) نے آیت عینا فیہا تسمی سلسبیلا کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں اتنی نرمی اور روانی ہے۔ اور وہ اس کو جہاں چاہیں گے بہاکر لے جائیں گے۔ اور فرمایا آیت حسبتہم لؤلؤا منثورا۔ تو خیال کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یعنی ان کی خوبصورتی کی وجہ سے۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اے مخاطب ! اگر تو انہیں دیکھے تو یوں سمجھے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں

53۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ مومن اپنے بستر پر ہوگا اچانک ایک چیز کو دیکھے گا تو وہ اس کی طرف چل پڑے گا۔ تو وہ کہنا شروع کرے گا یہ موتی ہیں جبکہ وہ ایک حالت پر رہنے والے لڑکے ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان فرمایا اور وہ یہ آیت ہے آیت اذا رأیتہم حسبتہم لؤلؤا منثورا۔ جب تو ان کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے گی

قیامت کے روز سب سے پہلے قبر سے نکلنا۔ 54۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے نکلنے والا ہوں جب لوگ نکلیں گے۔ اور میں ان کا قائد ہوں گا جب وہ چلیں اور میں ان کا خطیب ہوں گا جب وہ خاموش ہوں گے اور عزت و کرامت اور چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور آدم (علیہ السلام) اور اس کے علاوہ اور لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے کوئی فخر نہیں اور ان پر ایک ہزار خادم گشت کریں گے اور اتنے خوبصورت ہوں گے گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے یا موتی ہیں بکھرے ہوئے۔ 55۔ ابن المبارک وہناد وعبد بن حمید والبیہقی نے البعث میں ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے درجہ کے لحاظ سے ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جس کے سامنے ایک ہزار خادم اس کی خدمت کے لیے دوڑ رہے ہوں گے ہر ایک ایسے عمل پر ہوگا جس پر اس کا ساتھی نہیں ہوگا۔ 56۔ الحاکم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اہل جنت کی سواریوں کا ذکر فرمایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت واذا رأیت نعیما وملکا کبیرا اور جب تو وہاں دیکھے گا تو نعمت اور بڑی سلطنت دیکھے گا۔ 57۔ عبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے مجاہد (رح) سے آیت واذا رأیت ثم رأیت نعیما وملکا کبیرا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے فرشتوں کی اجازت مراد ہے کہ وہ ان پر بغیر اجازت داخل نہیں ہوں گے۔ 58۔ ابن جریر نے سفیان (رح) آیت ملکا کبیرا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بت پہنچی کہ فرشتے ان پر داخل ہونے کے لیے اجازت لیں گے۔ 59۔ ابن وہب نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے رتبہ کے لحاظ سے ادنی جنتی وہ ہے جو ہزاروں ایک ہی حالت پر رہنے والے بچوں میں سے خدام کے ساتھ سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہوگا اور اس گھوڑے کے سونے کے پر ہوں گے پھر یہ آیت پڑھی آیت واذا رأیت ثم ررأیت نعیما وملکا کبیر۔ روایت مرسل ضعیف السند ہے۔ 60۔ عبد بن حمی دوابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں تشیرف لائے کہ آپ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر آرام فرما تھے جس کے نشان آپ کے پہلوں میں ظاہر تھے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت عمر ؓ رونے لگے۔ آپ نے پوچھا تو کیوں روتا ہے۔ عمر ؓ نے عرض کیا مجھے کسریٰ اور اس کی بادشاہی اور قیصر اور اس کی بادشاہی اور حبشہ اور اس کی بادشاہی یاد آگئی۔ کہ وہ کتنے آرام و آسائش میں رہتے ہیں۔ اور آپ اللہ کے رسول ہو کر ایک کھجور کی چٹائی پر آرام فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت واذا رأیت ثم رأیت نعیما وملکا کبیرا۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائی جائیں گے اور ان کا رب انہیں شراب طہور پلائے گا

61۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت علیہم ثیاب سندس خضر ان پر سبز ریشم کے کپڑے ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ سبز ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس کے رہنے والوں کے اکثر کپڑے سبز ہوں گے۔ 62۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا پاکیزہ شراب ان پینے کی چیزوں میں سے ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 63۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا ان اشربہ میں ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اہل جنت کا کھانا پینا 64۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وسقہم ربہم شرابا طہورا۔ اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے۔ یعنی جب اہل جنت کھانے میں سے اور پینے میں سے کھایا پی چکے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو ان کو پاکیزہ شراب کی طرف بلایا جائے گا اور اس کو پئیں گے تو وہ ان کو پاک کردے گی۔ اور جو کچھ انہوں نے کھایا اور پیا تھا وہ مشک کی خوشبو کی ہوا کے ساتھ ان کے چمڑوں سے بہہ جائے گا اور اس کے سبب ان کے پیٹ چھوٹے اور بدلے ہوجائیں گے۔ 65۔ ہناد وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے اس آیت وسقہم ربہم شرابا طہور ا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے اعضاء سے مشک کی خوشبو کی طرح ایک پسینہ بہے گا اور سارا کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔
Ayahs 76:22–23

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری کوشش کی قدر دانی کی گئی ہے

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آپ پر قرآن اتارا تھوڑا تھوڑا کر کے

66۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اہل جنت میں سے ہر آدمی کے لیے اہل دنیا میں سے سو آدمیوں کے برابر شہوت تقسیم کی جائے گی۔ اور ان کا کھانا اور ان کی حرص بھی اتنے ہی افراد کے برابر ان کے لیے ہوگی۔ جب وہ کھائے گا تو پاکیزہ شراب سے خوب سیراب ہوگا اور اس کے جسم میں سے مشک کی طرح خوشبودار پسینہ نکلے گا۔ پھر اس کی شہوت اور خواہش لوٹ آئے گی۔ 67۔ عبدالرزاق وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکان سعیکم مشکورا اور تمہاری کوشش مقبول ہوگی۔ یعنی یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی کوشش اور محنت کی قدردانی فرمائی۔
Ayahs 76:24–26

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو آپ پروردگار کے حکم پر جمے رہیے اور ان میں سے کسی فاسق کافر کی بات نہ مانے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح شام اپنے رب کا نام ذکر کیجیے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے حصہ میں اس کو سجدہ کیجیے اور رات کو بڑی دیر تک اس کی تسبیح کیجیے

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع منہم اٰثما او کفورا اور ان میں سے کسی بدکار یا ناشکرے کا کہا نا مانا کریں۔ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت اللہ کے دشمن ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابو جہل نے کہا جب نبی مکرم ﷺ پر نماز فرض ہوئی اور اس دن آپ مکہ میں تھے اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ضرور آپ کی گردن کو پاؤں سے روند ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت ولاتطع منہم اٰثما اوکفورا۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ جلدی والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن چھوڑ بیٹھے ہیں

3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) آیت اٰثما او کفورا کے بارے میں روایت کیا کہ ابوجہل کہتا تھا اگر میں نے محمد ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو میں ضرور اس کی گردن کو روند دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بات ماننے سے آپ کو روک دیا۔ اور آیت یوماثقیلا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے انتہائی مشکل اور شدید دن۔
Ayahs 76:28–29

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ہی نے انہیں پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ مضبوط بنائے اور ہم جب چاہیں ان کے جیسے لوگ بدل دیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بلاشبہ یہ نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے

4۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم اور ان کے جوڑ بند مضبوط کردئیے یعنی ان کی خلقت کو مضبوط کردیا۔ 5۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہیں جوڑ۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اشرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کردئیے۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وشددنا اسرہم سے مراد ہے کہ ہم نے ان کی خلقت کو مضبوط کردیا اور فرمایا آیت ان ہذہ تذکرۃ بیشک یہ ایک نصیحت ہے سے مراد ہے کہ یہ سورة ایک نصیحت ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 76:30–31

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور اللہ کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں چاہ سکتے۔ بلاشبہ اللہ علیم ہے، حکیم ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرمائے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کیا ہے

قولہ تعالیٰ آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ۔ قدریہ پر لعنت کرنا 9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے۔ حالانکہ اس نے کی ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ قدریہ پر لعنت کرے حالانکہ اس نے ان پر لعنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے حالانکہ اس نے اس پر کی ہے ؟ اور نہ انہوں نے ایسا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہ انہوں نے اس طرح قبول کیا جیسے فرشتوں نے کہا۔ اور انہوں نے ایسا نہیں کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے انبیاء (علیہم السلام) نے کہا اور نہ انہوں نے ایسا کیا جیسے جنت والوں نے کہا اور انہوں نے ایسا نہیں کیا جیسے دوزخ والوں نے کہا اور انہوں نے ایسا نہیں کیا جیسے شیطان نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ۔ اور تم جب ہی چاہو گے جب اللہ چاہے گا۔ اور فرشتوں نے کہا آیت لا علم لنا الا ماعلمتنا (البقرہ آیت 32) ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایا ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) نے نوح ﷺ کے قصہ میں فرمایا آیت ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویک (ھود آیت 24) اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہ دے گی خواہ میں کتنی ہی نصیحت کرنا چاہوں اگر اللہ کو تمہیں گمراہ رکھنا ہی منظور ہے۔ اور جنت والوں نے کہا آیت وما کنا لنہتدی لو لا ان ہدانا اللہ (الاعراف آیت 43) اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتا اور دوزخ والوں نے کہا آیت ربنا غلب علینا شقوتنا (المومنون 106) اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتا اور دوزخ والوں نے کہا آیت ربنا غلبت علینا شقوتنا (المومنون 106) اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی۔ اور شیطان نے کہا آیت رب بما اغویتنی (الحجر آیت 39) ۔ اے میرے رب جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب کے طریق سے سالم سے روایت کیا اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرماتے ہو وہ چیز جو آنے والی ہے قریب ہے اس کے لیے کوئی بعید نہیں ہے جو آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ جلدی نہیں فرماتے۔ کسی ایک کی جلدی کی وجہ سے۔ وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا جو لوگ چاہتے ہیں لوگ کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ایک کام کا ارادہ فرماتے ہیں۔ وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اگرچہ لوگ ناپسند کریں، نہیں ہے کوئی دور کرنے والی جس کو اللہ تعالیٰ قریب کردیں اور نہیں ہے کوئی قریب کرنے والی جس کو اللہ تعالیٰ دور کردیں۔ کوئی چیز نہی ہوسکتی اللہ کی اجازت کے بغیر۔