Al-Insaan 76:5

Al-Insaan · from ayah 5

76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا ۟ۚاِنَّ الۡاَبۡرَارَ يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوۡرًا‌ۚ‏

جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the righteous will drink from a cup [of wine] whose mixture is of Kafur,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:5

نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک نیک لوگ ایسے جام سے مشروبات پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک مخلص اِطاعت گزار (شرابِ طہور کے) ایسے جام پئیں گے جس میں (خوشبو، رنگت اور لذت بڑھانے کے لئے) کافور کی آمیزش ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پییں گے جس میں کافور ملا ہوا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیک لوگ شراب کے ایسے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں ‘ وفادار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) نیک لوگ وہاں ایسی شراب کے جام پی رہے ہوں گے جس کی آمیزش کافور سے ہوگی

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک نیک لوگ ایسے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا نیکوکار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں کافور کی ملونی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نیک لوگ ہیں وہ ایسی شراب پئیں گے جس میں کافور ملا ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

The virtuous shall drink from a cup tempered with camphor water.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, the righteous will have a drink from a goblet, blended with (a drink from) Camphor

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, the righteous will have a drink from a goblet, blended with (a drink from) Camphor

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the Abrar (righteous believers) shall drink of a cup mixed with Kafur.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the righteous shall drink of a cup whereof the mixture is of Kafur,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the righteous will drink from a cup [of wine] whose mixture is of Kafur,

— Saheeh International

The virtuous ones will drink from a cup containing camphor

— Muhammad Sarwar

Surely the righteous shall drink of a cup the admixture of which is camphor

— Muhammad Habib Shakir

Verily the pious shall drink of a cup whereof the admixture is like Unto camphor.

— Abdul Majid Daryabadi

As to the Righteous, they shall drink of a Cup (of Wine) mixed with Kafur,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–12

زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 6 اصل میں لفظ ابرار استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی اطاعت کا حق ادا کیا ہو، اس کے عائد کیے ہوئے فرائض بجا لائے ہوں، اور اس کے منع کیے ہوئے افعال سے اجتناب کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

اس کے بعد تخلیق انسانی کی ابتداء کا بیان اس طرح فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاج یعنی ہم نے پیدا کیا انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے امشاج، مشج یا مشیج کی جمع ہے جس کے معنے مخلوط کے آتے ہیں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاص اربعہ یعنی خن، بلغم، سودا، صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔ ہر انسان کی تخلیق میں دنیا بھر کے اجزاء اور ذرات کی شمولیت۔ اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاط اربعہ مذکورہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز نلکوں اور خطوں کے اجزاء آب و ہوا وغیرہ کے ذریعہ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک انسان کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شکرگزاروں کو انعام: یہ کافروں کے مقابل میں شاکر بندوں کے صلہ کا بیان ہوا ہے اور ان کو ’ابرار‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ ’برّ‘ کی اصل روح ایفائے عہد و ذمہ ہے اور لفظ ’شکر‘ کی اصل حیثیت نعمت کے حق کو پہچاننا اور اس کو ادا کرنا ہے۔ ان دونوں میں واضح قدر مشترک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی نعمتوں کا حق پہچانتے اور اس کو ادا کرتے ہیں وہی دراصل اس کے وفادار بندے ہیں۔ لفظ ’کَأْسٌ‘ کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہ ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں معنوں میں آتا ہے۔ ’مِزَاجٌ‘ کے معنی ملونی کے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اوقات لذت،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

ان الابرار .................................... تفجیرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

6 یعنی جام شراب پئیں گے جس میں تھوڑا سا کافور ملایا جائے گا۔ یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب و مخصوص بندوں کو ملے گا۔ شاید اس کو ٹھنڈا، خوشبودار، مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے۔ 7 یعنی وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرف کو اس کی نالی بہنے لگے گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا اصل منبع حضور ﷺ پر نور محمد رسول اللہ ﷺ کے قصر میں ہوگا۔ وہاں سے سب انبیاء و مومنین کے مکانوں تک اس کی نالیاں پہنچائی جائیں گی۔ واللہ اعلم۔ آگے ابرار کی خصلتیں بیان فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

آیت 5{ اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوْرًا۔ } ”یقینا نیکوکار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں کافور کی ملونی ہوگی۔“ ایک طرف کفار و مشرکین زنجیروں اور طوقوں میں جکڑے جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے تو دوسری طرف اللہ کے فرمانبردار اور نیکوکار بندے جنت کی نعمتوں میں داد عیش دے رہے ہوں گے۔ جنت میں انہیں آبِ کافور کی آمیزش والی شراب طہور بھی پیش کی جائے گی۔ آگے اس چشمہ کافور کی مزید وضاحت ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7 ان کے مقابلہ میں اس دارالامتحان میں کامیاب ہونے والوں یا اللہ کے فرمانبرداروں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو سب سے پہلی نعمت تو یہ ملے گی کہ ان کے پینے کو ٹھنڈا، میٹھا، سفید رنگ کا خوشبودار اور مفرح قلب مشروب ملے گا۔ اور یہ مشروب اس افراط سے مہیا کیا جائے گا کہ جہاں کوئی موجود ہوگا اس مشروب کی نالیاں وہیں تک پہنچا دی جائیں گی وہ خود بھی جب ایسی خواہش کریں گے تو اس مشروب کی نالیاں وہاں پہنچ جائیں گی اس مشروب کی رنگت، ٹھنڈک اور خوشبو ایسی ہوگی جیسے اس میں کافور ملا دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–6

4۔ (جہاں چاہیں گے) اسے اہل جنت کی ایک کرامت سمجھئے یا جنت کی خصوصیت مقامی کہ جنت کی نہریں، ندیاں سب ان کے تابع اور ان کے حکم کی مسخر ہوں گی۔ (آیت) ” کافورا “۔ کافور کے بےاتنہاء فوائد اس دنیا میں بھی اطباء کو مسلم ہیں، اور پھر وہ کافور تو جنت کا کافور ہوگا۔ اس کی خوبیوں کا کیا پوچھنا یہاں یہ خوب خیال رہے کہ دنیا کی جس چیز سے بھی جنت کی کسی نعمت کو تشیبہ دی جاتی ہے وہ تشبیہ اس چیز کی صرف حسن و خوبی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ کسی ضرر یا قبح کے لحاظ سے دنیا کے کافور میں اگر کچھ مضرتیں ہوں بھی تو جنت کے کافور پر ان کا کیا اثر، ٹھیک اس طرح جیسے دنیا کی شراب کے سکر وفتور عقل کا مطلق کوئی اثر شراب جنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–7

ان الابرار یشربون، پہلی آیتوں میں اشقیاء کا ذکر تھا اب ان کے مقابلہ میں سعداء کا ذکر ہے، کاس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو، کافور ایک ٹھنڈی اور مخصوص خوشبو کی حامل شئی ہوتی ہے اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو شام جان کو معطر کرنے والی ہوجاتی ہے۔ یوفون بالنذر الخ، یعنی صرف ایک اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں اور نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لئے اور … سے پورا کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ نذر ماننے کی چند شرائط : مسئلہ : نذر ماننے کی چند شرائط ہیں، اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز ہو معصیت نہ ہو، اگر کسی شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الابرار یشربون . ابرار۔ بَرٌّ کی جمع ہے جیسے ارباب ‘ ربٌّ کی یا بارٌّ کی جمع ہے جیسے اشھار ‘ شاھد کی۔ ابرار سے مراد ہیں وہ اہل ایمان جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کے فرمانبردار ہیں۔ برٌّ مصدر ہے۔ برٌّ کا معنی ہے اچھا سلوک اور خیر ‘ اطاعت اور بھلائی میں وسعت (قاموس) یہ تمام اوصاف مؤمنوں کے ہیں۔ من کاس . جوہری نے صحاح میں کہا : کاس ‘ شربت (پانی وغیرہ) سے بھرے ہوئے برتن کو کہا جاتا ہے اور شربت کے خالی برتن کو بھی کاس کہتے ہیں ‘ دونوں طرح اس لفظ کا استعمال ہے۔ کاسٌ خال بھی کہا جاتا ہے اور شربت کاسًا اور شربت کاسًا طیبۃً بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے پیالہ پیا۔ یعنی شربت سے بھرا ہوا میں نے پاکیزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) ہم نے ابو جہل وغیرہ کے لیے دوزخ میں بیڑیاں اور آگ تیار کر رکھی ہے اور سچے ایمان دار جنت میں اسے جام شراب سے شرابیں پیئیں گے جس میں کافور شامل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان الابرار یشربون من کاس…:”الابرار“”بار“ یا ”بر“ کی جمع ہے، نیکی کرنے والے۔ ”کاس“ وہ برتن جس سے پیا جائے۔ عام طور پر ”کاس“ کا لفظ اس برتن پر بولتے ہیں جس میں شراب موجود ہو۔”مزاج“ آمیزش، بلونی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لئے مشروب میں ملائی جائے۔ ”کا فوراً“ ایک خوشبو دار پودا، اس پودے سے نکلنے اور حاصل ہونے والی خوشبو جو تاثیر میں نہایت ٹھنڈی ہوتی ہے۔ (2) کفار کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ کا ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ شربا کے ایسے جام پئیں گے جن میں کافور کی آمیزش ہوگی، یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کے بجائے انہیں ایسی شراب ملے گی جس میں ٹھنڈی تاثیر اور خوشبو دار کافور کی آمیزش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان الابرار یشربون من کاس کان۔۔۔ تا۔۔۔ تفجیرا۔ ان الابرار یشربون من کاس۔ ابرار سے مراد اہل صدق ہیں جس کا واحد بر ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکم کی اطاعت کرے ایک قول یہ کیا گیا ہے برسے مراد موحد ہے ابرار، بار کی جمع ہے جس طرح شاہد کی جمع اشھاد آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ بر کی جمع ہے جس طرح نہر کی جمع انہار آتی ہے صحاح میں ہے بر کی جمع ابرابر ہے اور بار کی جمع بررہ ہے جملہ بولا جاتا ہے، فلان یبر خالقہ ویتبررہ۔ یعنی وہ اپنے خالق کی اطاعت کرتا ہے۔ الام برۃ بولدھا۔ ماں اپنے بچے کے ساتھ نیکی کرتی ہے، حضرت ابن عمر نے رسول اللہ سے روایت نقل کی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کا نام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

36۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الابرار یشربون من کأس کان مزاجہا کافورا۔ بیشک نیک لوگ ایسی شراب کے پیالے پئیں گے جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی یعنی کافور کی آمیزش ہوگی۔ آیت عینا یشرب بہا عباد اللہ یفجرونہا تفجیرا وہ ایک چشمہ ہوگا جس میں اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور اس کو آسانی سے بہا کرلے جائیں گے۔ پھر فرمایا اس کو بہا کرلے جائیں گے جہاں وہ چاہیں گے۔ 37۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجہا کافورا۔ کے بارے میں روایت کیا یعنی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے کافور کو ملادیا جائے گا۔ اور ان کے لیے مشک کی مہر لگادی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ : بیشک نیک لوگ پئیں گے ] [مِنْ كَاْسٍ : ایک ایسے جام سے ] [كَان مِزَاجُهَا : جس کی آمیزش ] [كَافُوْرًا : کافور ہے ] م ز ج (ن) مَزْجًا پینے کی چیز میں کچھ ملانا جیسے شراب میں پانی ملانا۔ مِزَاجٌ جو چیز ملائی جائے۔ ملاوٹ۔ آمیزش۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

کافروں کے عذاب اور اہل ایمان کے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات کا تذکرہ یہ انیس آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے زنجیریں ہیں اور طوق ہیں اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی ان چیزوں کا ذکر ہے۔ دیکھو سورة ٴ یٰسین رکوع نمبر 1 اور سورة الحاقۃ رکوع نمبر 1، اس کے بعد کی آیت میں نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور ان کی ماکولات اور مشروبات اور مرغوبات اور ظروف کا تذکرہ فرمایا ہے یہ چیزیں انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کے بدلہ میں بطور انعام دی جائیں گی۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے ایسے جام سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور چند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5:۔ ” ان الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور نیک بندوں کو ایسے خوشذائقہ مشروب کے ساغر پیش کیے جائیں گے جن میں عرق کافور کی آمیزش ہوگی جس سے اس کی فرحت افزا قوت، اس کی خوشبو اور برودت میں اضافہ ہوجائیگا۔ ” عینا یشرب “ یہ کافورا سے بدل ہے یعنی کافور جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کی آمیزش سے اللہ کے بندے جنت کے مشروبات کا لطف اٹھائیں گے اور وہ جہاں چاہیں گے نہایت آسانی سے اس کا چشمہ خود جاری کرلیں گے۔ یجرونھا اجراء سہلا حیث شاء وا من منازلہم وقصورھم (مظہری ج 10 ص 150) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُہَا كَافُوْرًا۝ 5 ۚ برَّ البَرُّ خلاف البحر، وتصوّر منه التوسع فاشتق منه البِرُّ ، أي : التوسع في فعل الخیر، وينسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ تارة نحو : إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] ، وإلى العبد تارة، فيقال : بَرَّ العبد ربه، أي : توسّع في طاعته، فمن اللہ تعالیٰ الثواب، ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان : ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُاللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا۔ (الدہر : 5، 6) (بیشک نیک لوگ ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ ) شکرگزاروں کا انعام گزشتہ آیت میں کافروں کی سزا کو ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندوں پر انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اور شکرگزار بندوں کو ابرار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ابرار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ایمان کی صورت میں جو عہدوپیمان کرچکے ہیں اس کے ادا کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : کفر کرنے والوں کے مقابلے میں شکر کرنے والوں کا انعام۔ جن لوگوں نے سمع وبصر اور عقل و فکر سے کام لیا اور اپنے خالق کی پہچان کی اور اس کے حکم کی پیروی کرتے رہے وہ اپنے خالق کے ہاں نیکوکار تصور ہوں گے، انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں پینے کے لیے صاف، پاکیزہ پانی، دودھ، شہد اور شراب دی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور اس میں کسی قسم کا نشہ اور فطور نہیں ہوگا۔ جنت میں شراب کا ایک چشمہ ہوگا جس سے جنتی اپنی مرضی سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال کرلے جائیں گے، ان سے جنتی شراب حاصل کریں گے اور نوش جاں کریں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنتی کدالوں کے ذریعے نالیاں کھود کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ابرار کا بدلہ : 5 : اور فرمایا اِنَّ الْاَبْرَارَ (جو نیک ہیں) ابرارجمع برٌّ کی ہے۔ یا بارٌّ کی جیسے رب وارباب وشاہد و اشہاد۔ بَرَّ جو ایمان میں سچا ہو یا جو باطن میں شر کو نہیں چھپاتے اور چیونٹی تک کو بھی دکھ نہیں دے۔ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ (وہ ایسے جام شراب سے پیویں گے) کاس سے کاس خمر، شراب کے جام، یہاں نفس خمر کو کاس کہہ دیا۔ ایک قول یہ ہے الک اس شیشے کا گلاس جب اس میں شراب ہو۔ کاَنَ مِزَاجُھَا (اس کی آمیزش) کَافُوْرًا (کافور کی ہوگی) کافور کا پانی کیونکہ کافور جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ جس کے پانی کی سفیدی کافور جیسی ہے اور اسی طرح کی خوشبو اور ٹھنڈک۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” پھر دونوں فریقوں کے لئے جو ہے اس کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” انا اعتدنا للکافرین سلاسل “ یعنی جہنم میں۔ اہل مدینہ، کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے ” سلاسلا “ اور ” قواریر قواریر “ الف کے ساتھ پڑھا ہے وقف میں اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے ان تمام میں وصل کی صورت میں اور حمزہ اور یعقوب نے بغیر الف کے وقف کی صورت میں اور بغیر تنوین کے ان میں وصل کی صورت میں پڑھا ہے اور ابن کثیر (رح) نے ” قواریر “ پہلا وقف میں الف کے ساتھ اور وصل میں تنوین کے ساتھ اور ” سلاسل “ اور ” قواریر “ دوسرا بغیر الف اور بغیر تنوین کے اور ابو عمرو، ابن عامر اور حفص رحمہم اللہ نے ” سلاسلا “ اور پہلا قواریرا وقف کی صورت میں الف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–12

4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(الْاَبْرَارَ ) رہے نیک لوگ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل نیک ہیں کیونکہ ان کے اندر اللہ کی معرفت، اس کی محبت اور اخلاق جمیلہ ہیں۔ پس اس سبب سے ان کے اعمال بھی نیک ہیں انہوں نے ان کو نیک اعمال میں استعمال کیا ہے۔ (يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ ) ایسے جام سے پئیں گے۔ یعنی شراب سے انتہائی لذیذ مشروب جس میں کافور ملایا گیا ہوگا تاکہ وہ اس مشروب کو ٹھنڈا کرکے اس کی حدت کو توڑ دے۔ یہ کافور انتہائی لذیذ ہوگا ہر قسم کے تکدر اور ملاوٹ سے پاک ہوگا جو دنیا کے کافور میں موجود ہوتی ہے ہر وہ آفت جو ان اسما میں ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ جن میں ہوں گے جبکہ اس قسم کے اسما دنیا میں بھی ہیں تو وہ آفت آخرت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

8 منکرین کیلئے ہولناک عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکرین کیلئے ہم نے بڑی ہولناک زنجیریں، اور بڑے ہی بھاری بھرکم طوق تیار کر رکھے ہیں، اور ایک انتہائی ہولناک دہکتی بھڑکتی آگ بھی۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کا لازمی نتیجہ جزا و سزا ہے۔ اس لئے فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے کافروں کیلئے ہولناک زنجیریں، بھاری طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے، کہ انہوں نے اس دنیا میں اپنے آپ کو خود ہی رسم و رواج کی جکڑ بندیوں اور عادات و تقالید کے پھندوں میں پھنسا کر حق سے محروم کردیا تھا، اور خود کو خواہشات نفس کے جحیم کے حوالے کردیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:5) الابرار : نیک لوگ۔ یر، یار کی جمع (باب ضرب، سمع) مصدر۔ بمعنی نیک ہونا۔ راست باز ہوتا۔ بر (باب نصر، ضرب) اچھا سلوک کرنا۔ اطاعت کرنا۔ البر بحر کی ضد ہے۔ (اور اس کے معنی خشکی کے ہیں) پھر وسعت معنی کے لحاظ سے اس سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ہے جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنا کے ہیں اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر والرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے ۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ (یعنی بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی) ۔ چناچہ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوتے ہیں اور جب اس کی نسبت بندہ کی طرف ہو تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 5) یعنی وہ اچھے لوگ جو اپنے ایمان میں مخلص تھے اور اللہ کے تابعدار بندے، وہ جنت میں شراب ناب کے پیالے پلائے جائیں گے وہ شراب جس میں کافور بہشتی ملایاجائے گا، یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب ومخصوص بندوں کو ملے گا شائد اس کو ٹھنڈا خوشبودار اور مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے ، آگے فرمایا کہ وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرح نہریں چلنے لگیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–6

[4] '' راہ دکھانے '' سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :۔ (ا) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔ (ب) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو انسان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–9

کوائف جنت 2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) بے شک جو لوگ نیک ہیں اور ایسے جام شراب سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

ف 2۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں مکلف بننے کی قابلیت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(بیشک ابرار کا طبقہ) تو (یہ لوگ پیئیں گے اس جام سے جس میں آمیزش کافور کی ہے ) ۔ یعنی اسے جنت کے کافور سے ملا کر بنائیں گے تاکہ ٹھنڈی ، اور خوشبو اور شیریں ہو۔ اور بعضوں نے کہا کہ جنت میں ایک پانی کا چشمہ خوشبو دار اور سفید ہے جیسے کہ کافور ، تو کافور سے ہمرنگ ہونے کے سبب سے اس کا نام کافور رکھ دیا۔ اور اسی قول کی تائید کرتا ہے یہ کہ کافور کا بدل لایا گیا ہے کہ وہ ۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

Neither we were there, nor was there any demand from us. It is only Your mercy that listened to what we never said. Verse [ 2] describes the inception of human creation thus: اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (We have created man from a mixed sperm-drop __76:2). The word amshaj is the plural of mashj or mashj which means a 'mixture'. Here obviously it refers to the male and female gametes according to most commentators, but some commentators say, as cited in Ruh-ul-Ma` ni, that amshaj refers to the four fluids of the body [ blood, phlegm, choler and melancholy ] of which…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The word abrar as used in the original implies the people who have done full justice to their Lord's obedience, have carried out the duties enjoined by Him and abstained from the things forbidden by Him.

Read the full tafseer →