Al-Insaan 76:6

Al-Insaan · from ayah 6

76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا ۟عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ يُفَجِّرُوۡنَهَا تَفۡجِيۡرًا

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

A spring of which the [righteous] servants of Allah will drink; they will make it gush forth in force [and abundance].

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Insaan

All translations of 76:6

یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں لیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو ایک چشمہ ہے۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (جدھر چاہیں)

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ مشروبات ایک ایسے چشمے کے ہوں گے جو اللہ کے (نیک) بندوں کے پینے کے لیے مخصوص ہے، وہ اسے (جہاں چاہیں گے) آسانی سے بہا کرلے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(کافور جنت کا) ایک چشمہ ہے جس سے (خاص) بندگانِ خدا (یعنی اَولیاء اللہ) پیا کریں گے (اور) جہاں چاہیں گے (دوسروں کو پلانے کے لئے) اسے چھوٹی چھوٹی نہروں کی شکل میں بہا کر (بھی) لے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پییں گے، وہ اسے بہا کرلے جائیں گے، خوب بہاکر لے جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پیئیں گے اور اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ جدھر جدھر چاہیں گے ‘

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ ایک ایسا عظیم الشان چشمہ ہوگا جس سے (مزے لے لے کر) پی رہے ہوں گے اللہ کے خاص بندے وہ اسے (جدھر چاہیں گے محض اپنے اشاروں سے) بہا لے جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی اسے چشمہ سے جس سے اللہ کے (خاص) بندے پئیں گے جسے وہ بہاتے ہوئے لئے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے بندے پئیں گے اور اس میں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال لیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This will be a gushing spring wherefrom Allah's servants shall drink wine, a spring from which they will take out channels wherever they wish.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that will be a spring from which Allah‘s servants will drink, making it flow (wherever they wish) profusely.

— Muhammad Taqi Usmani

that will be a spring from which Allah‘s servants will drink, making it flow (wherever they wish) profusely.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A spring wherefrom the servants of Allah will drink, causing it to gush forth abundantly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A spring wherefrom the slaves of Allah drink, making it gush forth abundantly,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A spring of which the [righteous] servants of Allah will drink; they will make it gush forth in force [and abundance].

— Saheeh International

which flows from a spring from which the servants of God will drink.

— Muhammad Sarwar

A fountain from which the servants of Allah shall drink; they make it to flow a (goodly) flowing forth.

— Muhammad Habib Shakir

From a fountain whence the bondmen of Allah will drink, causing it to gush abundantly.

— Abdul Majid Daryabadi

A Fountain where the Devotees of Allah do drink, making it flow in unstinted abundance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 76:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–12

زنجیریں طوق اور شعلے یہاں اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے لئے زنجیریں طوق اور شعلوں والی بھڑکتی ہوئی تیز آگ تیار ہے، جیسے اور جگہ ہے اذالاغلال فی اعنافھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں ہوں گی اور یہ حمیم میں گھسیٹے جائیں گے پھر جہنم میں جلائے جائیں گے، ان بدنصیبوں کی سزا کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہیں وہ جام پلائے جائیں گے جن کا مشروب کا فور نامی نہر کے پانی کا ہوگا، ذائقہ بھی اعلیٰ ، خوشبو بھی عمدہ اور فائدہ بھی بہتر کا فور کی سی ٹھنڈک اور سونٹھ کی سو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدَّهْر 7 یعنی وہ کافور ملا ہوا پانی نہ ہوگا بلکہ ایسا قدرتی چشمہ ہوگا جس کے پانی کی صفائی اور ٹھنڈک اور خوشبو کافور سے ملتی جلتی ہوگی۔ سورة الدَّهْر 8 عباد اللہ (اللہ کے بندے) یا عبادالرحمن (رحمن کے بندے) کے الفاظ اگرچہ لغوی طور پر تمام انسانوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، کیونکہ سب ہی خدا کے بندے ہیں، لیکن قرآن میں جہاں بھی یہ الفاظ آئے ہیں ان سے نیک بندے ہی مراد ہیں۔ گو یا کہ بد لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو بندگی سے خارج کر رکھا ہو، اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے اسم گرامی کی طرف منسوب کرتے ہوئے عباد اللہ یا عبدالرحمن کے معزز خطاب سے نوازے۔ سورة الدَّهْر 9 یہ مطلب نہیں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللہ لفظ عینا ترکیب نحوی میں کافوراً کا بدل بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں یہ متعین ہوجاتا ہے کہ آیت مذکورہ میں کافور سے مراد چشمہ جنت ہے اور عباد اللہ سے مراد وہی اللہ کے نیک بندے ہیں جن کا ذکر پہلے ابرار کے عنوان سے کیا گیا ہے اور اگر عینا کو من کاس سے بدل قرار دیں تو یہ کسی دوسرے چشمہ اور پانی کا بیان ہے اور اس صورت میں عباد اللہ سے مردا اہل جنت کی کوئی دوسری جماعت ہے جو ابرار سے کم درجہ میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لبِ جُو مے نوشی کا اہتمام: ’یَشْرَبُ بِہَا‘ میں ’ب‘ میرے نزدیک ظرفیہ ہے جس طرح ’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘ اور ’یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ‘ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چشمہ اللہ کے خاص بندوں کی بزم مے نوشی کے لیے مخصوص ہو گا۔ ’عباد اللہ‘ سے مراد وہی ابرار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ انہی کو یہ خاص شرف حاصل ہو گا کہ ان کی مے نوشی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخصوص چشمہ کا بھی اہتمام فرمائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مے نوشی اور لبِ جُو میں بڑی مناسبت ہے۔ ’یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیْرًا‘۔ ’تَفْجِیْرٌ‘ کے معنی کسی چشمہ کی بہت سی شاخیں نکال نکال کر ان کے جال بچھا دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس چشمہ پر پہنچنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں نہیں ہوگی، بلکہ چشمہ ہوگا، یعنی ختم ہونے والی نہیں ہوگی۔ 6۔ 2 یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–13

2: اللہ تعالیٰ جنتیوں کو یہ اختیار عطا فرمائیں گے کہ وہ اس چشمے کو جہاں چاہیں لے جاسکیں گے، جس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اسی نہر کی شاخیں آسانی سے جہاں چاہیں نکال لیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جس جگہ چاہیں زمین سے وہ چشمہ جاری کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

ان الابرار .................................... تفجیرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

6 یعنی جام شراب پئیں گے جس میں تھوڑا سا کافور ملایا جائے گا۔ یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب و مخصوص بندوں کو ملے گا۔ شاید اس کو ٹھنڈا، خوشبودار، مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے۔ 7 یعنی وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرف کو اس کی نالی بہنے لگے گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا اصل منبع حضور ﷺ پر نور محمد رسول اللہ ﷺ کے قصر میں ہوگا۔ وہاں سے سب انبیاء و مومنین کے مکانوں تک اس کی نالیاں پہنچائی جائیں گی۔ واللہ اعلم۔ آگے ابرار کی خصلتیں بیان فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 6{ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَہَا تَفْجِیْرًا۔ } ”یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لے جائیں گے۔“ یعنی اگر وہ چاہیں گے تو اس چشمے میں سے اپنی مرضی سے نہریں نکال کر اپنے اپنے علاقے کی طرف لے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7 ان کے مقابلہ میں اس دارالامتحان میں کامیاب ہونے والوں یا اللہ کے فرمانبرداروں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو سب سے پہلی نعمت تو یہ ملے گی کہ ان کے پینے کو ٹھنڈا، میٹھا، سفید رنگ کا خوشبودار اور مفرح قلب مشروب ملے گا۔ اور یہ مشروب اس افراط سے مہیا کیا جائے گا کہ جہاں کوئی موجود ہوگا اس مشروب کی نالیاں وہیں تک پہنچا دی جائیں گی وہ خود بھی جب ایسی خواہش کریں گے تو اس مشروب کی نالیاں وہاں پہنچ جائیں گی اس مشروب کی رنگت، ٹھنڈک اور خوشبو ایسی ہوگی جیسے اس میں کافور ملا دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–6

4۔ (جہاں چاہیں گے) اسے اہل جنت کی ایک کرامت سمجھئے یا جنت کی خصوصیت مقامی کہ جنت کی نہریں، ندیاں سب ان کے تابع اور ان کے حکم کی مسخر ہوں گی۔ (آیت) ” کافورا “۔ کافور کے بےاتنہاء فوائد اس دنیا میں بھی اطباء کو مسلم ہیں، اور پھر وہ کافور تو جنت کا کافور ہوگا۔ اس کی خوبیوں کا کیا پوچھنا یہاں یہ خوب خیال رہے کہ دنیا کی جس چیز سے بھی جنت کی کسی نعمت کو تشیبہ دی جاتی ہے وہ تشبیہ اس چیز کی صرف حسن و خوبی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ کسی ضرر یا قبح کے لحاظ سے دنیا کے کافور میں اگر کچھ مضرتیں ہوں بھی تو جنت کے کافور پر ان کا کیا اثر، ٹھیک اس طرح جیسے دنیا کی شراب کے سکر وفتور عقل کا مطلق کوئی اثر شراب جنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–7

ان الابرار یشربون، پہلی آیتوں میں اشقیاء کا ذکر تھا اب ان کے مقابلہ میں سعداء کا ذکر ہے، کاس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو، کافور ایک ٹھنڈی اور مخصوص خوشبو کی حامل شئی ہوتی ہے اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو شام جان کو معطر کرنے والی ہوجاتی ہے۔ یوفون بالنذر الخ، یعنی صرف ایک اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں اور نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لئے اور … سے پورا کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ نذر ماننے کی چند شرائط : مسئلہ : نذر ماننے کی چند شرائط ہیں، اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز ہو معصیت نہ ہو، اگر کسی شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عینا . یہ کافور سے بدل ہے بشرطیکہ کافور کو چشمہ کا نام قرار دیا جائے۔ یا من کاس کے محل (مفعول) سے بدل ہے اور مضاف مجذوف سے مراد یہ ہے کہ جنتی جام پئیں گے ‘ یعنی چشمہ کا پانی یا اختصاص کی وجہ سے عینًا منصوب ہے یا کوئی فعل مدح محذوف ہے اس کا مفعول ہے یا کوئی ایسا فعل محذوف ہے جس کی تفسیر آئندہ فعل کر رہا ہے۔ یشرب بھا . بھا مفعول ہے باء زائد ہے ‘ اس کو پئیں گے یا یشرب لذت کے معنی کو متضمن ہے اور یلتذُّ کے مفعول پر باء آتی ہے اس لیے یشرب کے مفعول پر بھی باء لائی گئی یا ممزوجًا محذوف ہے۔ بِھَا اس سے متعلق ہے یا باء من ابتدائیہ کے معنی میں ہے ‘ اس سے پئیں گے۔ عباد اللہ . اللہ کے پرستار جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یعنی ایسے چشمنے سے جس سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور اس میں ملائیں گے یا یہ کہ کافور کے چشمے کو جنت میں اپنے محلات وغیرہ میں جہاں چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(عینا یشرب بھا عباد اللہ …:”اگرچہ سب لوگ ہی اللہ کے بندے ہیں مگر یہاں مراد اللہ کے خاص بندے ہیں، جیسا کہ ”عبادالرحمن“ (رحمان کے بندے) ،”ناقۃ اللہ“ (اللہ کی اونٹنی) اور ”بیت اللہ“ (اللہ کا گھر) میں خصوصیت پیدا ہوگئی ہ۔ یعنی اللہ کے یہ خصا بندے ابرار کافور کی آمیزش والا شراب کا جو جام پئیں گے وہ ایک جام ہی نہیں ہوگا بلکہ کافور کی آمیزش والا ایک چشمہ ہوگا جس سے مومن جہاں چاہے گا شاخ نکال کرلے جائے گا۔ بعض مفسرین نے ”الابرار“ اور ”عباد اللہ“ کو الگ الگ قرار دے کر یہ معنی کیا ہے کہ ابرار یعنی نیک لوگوں کو پلائے جانے والے شراب کے جام میں کافور نامی چشمے میں سے کچھ ملاوٹ ہوگی، جس طرح کسی کے شربت میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

عینا یشرب بھاعباد اللہ۔ فراء نے کہا، کافور جنت میں پانی کے ایک چشمہ کا نام ہے عینا کافور سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ کاس کے محل سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مزاجھا کی ضمیر سے بدل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ بطور مدحن منصوب ہے جس طرح ایک آدمی کا ذکر کیا جاتا ہے، تو تو کہتا ہے، العاقل للبیب، یعنی تم نے عقل مند دانا آدمی کا ذکر کیا یہ اعنی فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے وہ چشمہ سے پانی پیتے ہیں۔ کافور کو قافور بھی کہتے ہیں کافور سے مراد کھجور کے گابھے کا پردہ ہے اسی طرح کفری ہے یہ اصمعی نے کہا : وہ ہرن جس سے کستوری حاصل کی جاتی ہے وہ پاکیزہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

40۔ عبداللہ بن احمد نے الزوائد الزہد میں ابن شوذب (رح) سے آیت یفجرنہا تفجیرا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے پاس سونے کی چھڑیاں ہوں گی کہ ان کے ذریعہ اسے بہائیں گے تو وہ ان چھڑیوں کے پیچھے پیچھے چلتا جائے گا۔ 41۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوفون بالنذر وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں۔ یعنی وہ پورا کرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت وعبا دت نماز، زکوۃ، حج اور عمرہ اور جو کچھ ان پر فرض کیا گیا ان کو پوری طرح ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ابرار رکھا ہے۔ اور فرمایا یوفون بالنذر ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا۔ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَيْنًا : جو ایک چشمہ ہے ] [يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ : پئیں گے جس سے اللہ کے بندے ] [يُفَجِّرُوْنَهَا : وہ لوگ جاری کریں گے اس کو ] [تَفْجِيْرًا : جیسے جاری کرنے کا حق ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا 006﴾ لفظ عینًا کیوں منصوب ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہاں لفظ اعنی محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ حضرات جو جام پئیں گے وہ ایک ایسے چشمہ سے بھرا جائے گا جسے وہ لوگ بہا کرلے جائیں گے یعنی وہ چشمہ ان کی مرضی کے مطابق بہتا ہوگا اپنے منزلوں اور محلات میں جیسے چاہیں گے جہاں چاہیں گے اسے جاری کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–22

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5:۔ ” ان الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور نیک بندوں کو ایسے خوشذائقہ مشروب کے ساغر پیش کیے جائیں گے جن میں عرق کافور کی آمیزش ہوگی جس سے اس کی فرحت افزا قوت، اس کی خوشبو اور برودت میں اضافہ ہوجائیگا۔ ” عینا یشرب “ یہ کافورا سے بدل ہے یعنی کافور جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کی آمیزش سے اللہ کے بندے جنت کے مشروبات کا لطف اٹھائیں گے اور وہ جہاں چاہیں گے نہایت آسانی سے اس کا چشمہ خود جاری کرلیں گے۔ یجرونھا اجراء سہلا حیث شاء وا من منازلہم وقصورھم (مظہری ج 10 ص 150) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللہِ يُفَجِّرُوْنَہَا تَفْجِيْرًا۝ 6 عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : ھل ھنا عناالقراء والکسائی وسیبویہ وابوعبیدہ بمعنی قد کمافی قولہ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وکقولہ (علیہ السلام) ھل بلغت۔ وقال مکی بمعنی الاستفہام التقریری والاول اقوٰی من الدھر بیان لحین اوصفۃ لم یکن الخ محلہ النصب علی الحال من الانسان وقیل محلہ الرفع علی انہ صفۃ لحین امشاج بدل اوصفۃ من نطفۃ قیلھی جمع مشج او مشیج کعدل و شریف جمعھا اعدال و اشراف۔ والمشج فی اللغۃ الخلط یقال مشج یمشج مشجا اذاخلط انما وقع الجمع صفۃ لمفردلانہ فی معنی الجمع لان النطفۃ ماخوذۃ من اشیاء مختلفۃ اوجعل کل جزء من النطفۃ نطفۃ والمراد نطفۃ الرجل ونطفۃ المراۃ۔ وقال صاحب الکشاف الامشاج لفظ مفرو و لیس بجمع بدلیل انہ دقع صفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا۔ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُاللّٰہِ یُفَجِّرُوْنَھَا تَفْجِیْرًا۔ (الدہر : 5، 6) (بیشک نیک لوگ ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔ اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ ) شکرگزاروں کا انعام گزشتہ آیت میں کافروں کی سزا کو ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندوں پر انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اور شکرگزار بندوں کو ابرار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ابرار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ایمان کی صورت میں جو عہدوپیمان کرچکے ہیں اس کے ادا کرنے والے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : کفر کرنے والوں کے مقابلے میں شکر کرنے والوں کا انعام۔ جن لوگوں نے سمع وبصر اور عقل و فکر سے کام لیا اور اپنے خالق کی پہچان کی اور اس کے حکم کی پیروی کرتے رہے وہ اپنے خالق کے ہاں نیکوکار تصور ہوں گے، انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں پینے کے لیے صاف، پاکیزہ پانی، دودھ، شہد اور شراب دی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور اس میں کسی قسم کا نشہ اور فطور نہیں ہوگا۔ جنت میں شراب کا ایک چشمہ ہوگا جس سے جنتی اپنی مرضی سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال کرلے جائیں گے، ان سے جنتی شراب حاصل کریں گے اور نوش جاں کریں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنتی کدالوں کے ذریعے نالیاں کھود کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : عَیْنًا : یہ کافورکا بدل ہے۔ یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰہِ (ایسے چشمے سے جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے پئیں گے) بامن کے معنی میں ہے اس سے پئیں گے نمبر 2۔ باء زائدہ ہے۔ نمبر 3۔ یشرب بھا کا معنی یتلذذبھا اس سے لذت حاصل کریں گے۔ نمبر 4۔ یشرب بھا یروٰی بھا کے معنی میں ہے ان کو اس سے سیراب کیا جائے گا۔ پہلے لفظ مِنؔ لائے اور پھر حرف باء لائے۔ کیونکہ جام سے انکے پینے کی ابتداء ہوگی اور پہلی غایت ہے۔ باقی چشمہ تو اس کے پانی کو وہ ملاکر پئیں گے تو گویا اس طرح فرمایا یشرب عباد اللہ بھا الخمر۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس سے شراب پئیں گے۔ یُفَجِّرُ وْنَھَا (جس کو وہ بہا کرلے جائینگے) اپنے مکانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ان الابرار “ یعنی مومنین جو اپنے ایمان میں سچے اور اپنے رب کی اطاعت کرنے والے ہیں، اس کا واحد ” بار “ ہے جیسے شاہد اور اشہاد۔ ناصر اور انصار اور ” بر “ بھی جیسے نھر اور انھار۔ ” یشربون “ آخرت میں۔ ” من کاس “ اس میں شراب ہوگی۔ ” کان مزاجھا کافورا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو کافور کے ساتھ ملایا جائے گا اور کستوری کی مہر لگائی گئی ہوگی۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں مزاجھا اس کا ذائقہ اور اہل معانی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ وہ اپنی سفیدی اور عمدہ خوشبو اور ٹھنڈک میں کافور کی طرح ہوگی۔ اس لئے کہ کافور پیا نہیں جاتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے قول ” حتی اذا جعلہ نارا “ کی طرح ہے یعنی کنار اور یہ مجاہد،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–12

4۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ ) وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے یعنی وہ لذیذ شراب، جو وہ پئیں گے انہیں اس کے ختم ہونے کا خوف نہیں ہوگا بلکہ اس کا ایسا مادہ ہوگا جو کبھی منقطع نہ ہوگا یہ ہمیشہ جاری رہنے اور بہنے والا چشمہ ہوگا۔ اللہ کے بندے جہاں چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہاں سے نہریں نکال لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو ان کو خوبصورت باغات کی طرف موڑ لیں گے یا بارونق باغیچوں کی طرف لے جائیں گے اگر وہ چاہیں گے تو محلات کی جوانب اور آراستہ گھروں کی طرف بہالے جائیں گے یا وہ خوبصورت جہات میں ہے جس جہت میں بھی چاہیں گے ان نہروں کو لے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 اہل جنت کے اوصاف و اعمال کا ذکر وبیان : سو یہاں سے ان اوصاف و اعمال کو بیان فرمایا گیا ہے جو جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ جن میں سب سے پہلا وصف و عمل بیان فرمایا گیا وہ ہے ایفاء نذر۔ سو ارشاد فرمایا گیا جو پورا کرتے ہیں اپنی نذروں کو۔ نذر سے یہاں پر مراد مطلق واجبات ہیں، خواہ وہ اللہ کی طرف واجب ہوں یا اس نے خود ہی اپنے ذمے واجب کئے ہوں، کیونکہ نذر کے اصل معنی ایجاب ہی کے آتے ہیں (خازن، صفوہ، وغیرہ) سو اس میں تمام ہی فرائض و واجبات آگئے جیسے نماز روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ۔ اور اس میں بلاغت کا یہ پہلو کارفرما ہے کہ جب وہ اپنے اوپر اپنی خود کی عائد کردہ اور واجب کردہ نذروں کی ادائیگی کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–22

اچھے لوگوں کے لیے خوش خبریاں تشریح :۔ سب سے پہلے اس خاص چشمے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے پانی کی یہ خاصیتیں ہوں گی صاف ٹھنڈا اور خوشبودار ہوگا۔ یہ کہاں ہوگا اور کون اس کو پئیں گے ؟ تو جواب ہے کہ یہ جنت میں ہوگا اور اس کو صرف وہ لوگ پی سکیں گے جو اللہ کے مقبول نیک متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ دنیا کی زندگی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق گزاری ہوگی یہاں کچھ چند ایک احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ نذریں پوری کرنا جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے نذر نیاز دینا۔ دونوں کا مقصد انتہائی خلوص نیک نیتی اور بھلائی و اصلاح امن و سلامتی اور رضائے الٰہی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ حدیث میں نذر کی وضاحت یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة الدھر۔ آیات 1 تا 22۔ اسرار ومعارف۔ انسان پر ایسا زمانہ بھی گزرا ہے کہ اس کا کوئی ذکر تک نہ تھا تخلیق آدم (علیہ السلام) سے قبل بھی اور ہر انسان پر اس کی پیدائش سے قبل بھی ایسا دور ہوتا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا حتی کہ کوئی اس کی بات تک نہیں کرتا۔ تخلیق انسانی۔ پھرہم نے اسے ایسے نطفے سے بنایا جو کئی طرح کا آمیزہ ہے کفار کا خیال کہ انسان مر کے بکھر جاتا ہے یہاں اس طرح رد فرمایا کہ پیدا ہونے سے پہلے وہ بہت زیادہ بکھرا ہوا ہوتا ہے اور کہاں کہاں سے ذرات کو چیزوں اور اجناس کا روپ دے کر ایک آدمی تک پہنچاتا ہے پھر اس سے وہ ذرات جو آنے والے کے لیے ہیں الگ کرکے نطفہ بنادیتا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی وہ ان کے اختیار میں ہوگا، وہ جدھر اور جیسے چاہیں گے اس کی نالیاں بہنے لگیں گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(76:6) عینا بعض کے نزدیک کافور بہشت میں ایک چشمے کا نام ہے اس صورت میں عینا ، کافورا سے بدل ہے۔ اس صورت میں مطلب ہوگا :۔ کہ وہ مشروب جو ابرار لوگ بہشت میں پئیں گے اس میں چشمہ کافور کا شربت بھی شامل ہوگا۔ یشرب بھا۔ اس کی تشریح میں علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقمطراز ہیں۔ باء زائدہ ہے۔ اس کو پئیں گے۔ یا۔ یشرب لذت کے معنی کو متضمن ہے اور یلتذ کے مفعول پر ب آتی ہے اس لئے یشرب کے مفعول پر بھی ب لائی گئی ہے۔ یا ممزوجا محذوف ہے بھا اس سے متعلق ہے۔ یا ۔ باء ابتدائیہ کے معنی میں ہے اس سے پئیں گے ۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر یشرب کا فاعل ، جسے اللہ کے بندے پئیں گے۔ یفجرونھا تفجیرا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–22

لغات القرآن۔ الدھر۔ زمانہ۔ مذکور۔ قابل ذکر۔ امشاج۔ ملی جلی چیزں۔ اغلال۔ طوق۔ مستطیر۔ پھیلائی گئی۔ اسیر۔ قیدی۔ عبوس۔ بگڑے ہوئے چہرے۔ قمطریر۔ مصیبت والے۔ قطوف۔ پھل۔ قواریر۔ شیشے کے برتن۔ زنجبیل۔ کافور۔ ولدان۔ کم عمرلڑکے۔ مخلدون۔ ہمیشہ رہنے والے۔ لولو منثورا۔ بکھرے ہوئے موتی۔ سندس۔ باریک ریشم۔ خضر۔ سبز۔ استبرق۔ دبیز ریشم۔ حلوا۔ پہنائے جائیں گے۔ تشریح : کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں ان میں سب سے عمدہ، افضل اور بہترین سانچوں میں ڈھال کر جس مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے وہ انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو انسانوں میں سے منتخب کرکے ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 5) یعنی وہ اچھے لوگ جو اپنے ایمان میں مخلص تھے اور اللہ کے تابعدار بندے، وہ جنت میں شراب ناب کے پیالے پلائے جائیں گے وہ شراب جس میں کافور بہشتی ملایاجائے گا، یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب ومخصوص بندوں کو ملے گا شائد اس کو ٹھنڈا خوشبودار اور مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے ، آگے فرمایا کہ وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرح نہریں چلنے لگیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–6

[4] '' راہ دکھانے '' سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر :۔ (ا) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔ (ب) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو انسان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–9

کوائف جنت 2: کو ائی جنت کے متعلق اصولی یہ سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ یہ بقول حضرت ابن عباس کے محض اسماء ہیں جن کی حقیقت سے ہم آگاہ ہیں ۔ فلا تعلم نفس ماعق الھم من فوق اعین دانہ وہاں جو اہتمام ہے ۔ جو حسن ہے جو کمال ہے ۔ اور فیوض ہیں ۔ ان کو نہ زبان علم سے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ بشری طات ہے ۔ کہ ان کے الفاظ کو منتخب کرسکے ۔ مختصر الفاظ میں ساری جنت کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ خدا خوش ہے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو خوش کرنا چاہتا ہے ۔ اور جب وہ خوش ہو ۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ جس نے ستاروں کو اور نجوم وکواکب کو بنایا ہے ۔ جس نے چاند کو روشنی بخشی ہے اور آفات کو ضیاء جس نے پھولوں میں خوشبورکھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے پئیں گے اور وہ خاص بندے اس چشمے کو جہاں چاہیں گے بہا کر لیجائیں گے۔ یعنی شراب کا مزہ بڑھانے کے لئے اس میں کافور کی ملونی ہوگی تاکہ لذت خوشبہ، خنکی اور تفریح میں زیادتی ہوجائے یہ دنیا کا کافور نہ ہوگا بلکہ سفیدی اور خوشبو وغیرہ کی وجہ سے اس کو کافور فرمایا ہے ورنہ یہ تو ایک چشمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقرب بندوں کے پینے کے لئے ہے اور یہ چشمہ ان خاص بندوں کے تابع ہوگا وہ جہاں چاہیں گے اس کو بہا کرلے جائیں گے، ان مقربین کے ہاتھ میں سونے کی چھڑیاں ہوں گی ان سے اشارہکریں گے اور جس طرف اشارہ کریں گے اسی طرف سے اس کی ایک نالی جاری ہوجائے گی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

ف 2۔ مطلب یہ کہ ہم نے ایسی ہیات وصفات کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں مکلف بننے کی قابلیت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 6–7

(ایک چشمہ ہے پیتے رہیں گے اس میں اللہ تعالیٰ ) (کے بندے بہا کرلے جائیں گے اپنے یہاں) یعنی جہاں چاہیں گے اسے بآسانی بہا لے جائیں گے۔ جہاں چلنے کو کہیں گے وہ چشمہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ ان ابرار کی شان یہ ہے کہ (وہ پوری کریں منت کو) ۔ یہ آیت کریمہ خاص طور پر حضرت علی کی شان میں نازل فرمائی گئی۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ تفسیروں میں ہے کہ حضرت رسالت مآب حضرت علی کے گھر تشریف لائے ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو بیمار دیکھا ، تو حضرت علی اور حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ کچھ نذر کرو تاکہ تمہارے فرزند صحت پائیں۔ انہوں نے نذر کی کہ تین روز روزہ رکھیں گے۔ حق تعالیٰ نے حسنین کو شفا بخشی اور حضرت علی اور حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ (that will be a spring from which Allah's slaves will drink...76:6). Grammatically, ` ainan (spring) is a complement [ badal ] to kaf ran which explains Kf r. Given this construction, it becomes certain that fur is the name of a spring. However, if the word ` ainan is taken as an explanation to ka's (goblet), the meaning would be that the goblet will contain a drink from a spring specified for Allah's slaves. In this case, it is also possible that the term 'Allah's slaves' refers to a category other than 'Abrar' (Righteous).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, it will not be camphor-mixed water but a natural fountain, the purity, coolness and agreeable odour of whose water will resemble camphor. 8 Although the words 'ibad Allah (servants of Allah) , or `ibad ar-Rehman (servants of Rehman) , can be used for all then literally, for every human being is God's servant, yet wherever these words occur in the Qur'an they only imply the righteous men. In other words, the wicked ones who have excused themselves from Allah's servitude do not deserve that AIIah should honour them with the honourable title of ibad-Allah or ibad ar-Rehman,…

Read the full tafseer →